Hear Fellowship With My Family Episode 1 (Audio MP3)

View FWMF episode 1 as a PDF file

سبق نمبر1 صفحہ نمبر1

"جماعت المومنین یعنی کلیسیا"

ندیم: ﴿چیزیں گرِنے کی آوازیں﴾۔ پروین کیا بات ہے؟بہت تیز جار ہی ہو چیزیںبھی گرِ رہی ہیں۔

پروین: ندیم فکر مت کرو۔ جب کوئی شخص خوش ہوتا ہے تو ایسا ہوتا ہے ۔ میں یقین نہیں کر سکتی کہ آج ہمارا خواب پورا ہونے والا ہے

ندیم : پروین تُم بالکل سہی کہہ رہی ہو۔ میں بھی بہت خوش ہوں۔ میرا بھی ہمیشہ یہ خواب رہاہے کہ ایک دِن ہم اپنے گھر میں کلیسیائ شروع کریں گے ۔ اور یہ خواب آج پورا ہونے کو ہے جب ہم پہلی عبادت شروع کریں گے۔

پروین: ندیم میرا یقین کرو۔ میں بہت خوش ہوں ۔ آج تو میرے ساتھ کام کرنے والے بھی یہ کہہ رہے تھے کہ میں بہت خوش ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔درواز کھلتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناصر: ہیلوابو کیسے ہیں۔ امی کیسی ہیں؟

پروین: ناصربیٹا ہم ٹھیک ہیں۔

ندیم: ناصر ! آج کالج کیسا رہا؟

ناصر: ابو خُدا کی تعریف ہو ۔ بہت اچھا رہا۔﴿pause﴾ابو، کل آپ بتا رہے تھے کہ کو ئی خاص بات ہو رہی ہے ابو وہ کیا بات ہے؟

ندیم : ہاں بیٹا! وہ خاص بات ہے۔ کیونکہ تمہاری امی اور میں ہمیشہ اِس کے بار ے میں خواب دیکھتے رہے ہیں۔

ناصر: ابوکیا ہے وہ بات ؟ میں بے تا ب ہو رہا ہوں۔

ندیم : بیٹا آج پہلی بار جماعت یعنی کلیسیائ ہمارے گھر میں اکٹھی ہو گی ۔

ناصر: سچ مُچ۔ یہ تو واقعی حیرانی کی بات ہے ۔ آپ نے کتنی بار میرے ساتھ اِس کا ذِکر کیا تھا ۔ ابو،کیا صرف ہم ہی ہوں گے یا کوئی اور بھی آ رہا ہے؟

ندیم : تمہارے انکل زیدی بھی ہمارے ساتھ ہونگے۔

ناصر: زیدی صاحب ؟میں اُن سے بہت پیار کرتا ہوں۔ابو کیا یہی وجہ تھی کہ آپ دونوں مل کر بہت دُعا کر رہے تھے۔

ندیم: ہاں بیٹا ! ہم اِسی بات کے لئے دُعا کر رہے تھے۔ اور آج یہ بات ہمارے سامنے حقیقت بن کر آگئی ہے ۔

پروین: اور بیٹا ! ہم ہر ہفتے ملا کریں گے ۔ ندیم ! کیا میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔

ندیم : ہاںپروین۔ ہم ہرہفتے اِسی وقت مِلا کریں گے۔ہم کتاب ِ مقدس بائبل میں سے بہت سی باتوں کے بارے میں سیکھیں گے۔اور ہم جانیں گے کہ کس طرح اِنہیں اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال کرنا ہے۔ ہم کچھ درخواستوں کیلئے دعابھی کیا کریں گے۔ ﴿دورازے کی گھنٹی﴾

سبق نمبر1 صفحہ نمبر2

ندیم : یہ ضرورزیدی صاحب ہونگے۔ ناصر ۔ دروازہ کھولو۔

ناصر: اچھا ابو(pause) ﴿دروازہ کھُلتا ہے﴾ (off mic)زیدی صاحب اندر آ جائیں۔(coming on mic) انکل آپ کیسے ہیں۔

زیدی: ﴿مائیک کی طرف آتے ہوئے ﴾میں ٹھیک ہوں ناصر ۔ تمہارا کیا حال ہے۔

ناصر: میں بھی ٹھیک ہوںانکل

ندیم: آئیے زیدی صاحب، تشریف رکھیں

زیدی: ﴿بیٹھتے ہوئے﴾شکریہ ندیم صاحب،پروین بہن آپ کیسی ہیں؟

پروین: میں ٹھیک ہوں۔ خُدا کی تعریف ہو۔ آپ کیسے ہیں اور آپ کی بیوی نایئلہ کا کیا حال ہے۔

زیدی: وہ بالکل ٹھیک ہے۔اورندیم صاحب آپ کا کیا حال ہے۔

ندیم : میں بالکل ٹھیک ہوں۔ زیدی بھائی۔خدا کا شکر ہو۔آپ وقت پر آگئے۔

زیدی: ندیم ۔ شاید میں اپنے دوسرے کاموں میں وقت کی اتنی پابندی نہیںکرتا لیکن اِس کام کیلئے وقت کا پابند رہونگا۔ کیونکہ میں بھی بہت عرصے سے اِس وقت کا انتظار کررہا تھا۔

ندیم: تو کیوں نہ ہم شروع کریں۔

پروین: کیوں نہیں ! ضرور شروع کرتے ہیں۔ مگر پہلے چائے نہ ہو جائے؟

ناصر: امّی میں چائے لے کر آتا ہوں۔

ندیم: اور اِس سے پہلے کہ ہم شروع کریں۔ چائے پیتے ہیں اور یہ گیت سنتے ہیں ۔

﴿ٹیپ سے گیت سُنایا جاتا ہے۔ دل میں میرے آمسیحا۔ترو فینہ﴾

پروین : زیدی بھائی یہ بسکٹ بھی لیں۔

زیدی: شکریہ ۔پروین بہن۔﴿گیت ختم ہوتا ہے﴾

ندیم : آئیے ہم اپنی جماعت کی پہلی عبادت شروع کریں۔ ہم گیت گاتے اور اپنے خُداوند کے نام کی حمد کرتے ہوئے اُس سے کہیں کہ ہماری اِس عبادت پر حُکمرانی کرے اور توفیق بخشے کہ ہم اُن کا موں سے لطف اندوز ہوں جو ہم اکٹھے ہو کر کرنے والے ہیں۔ ہم گیت گا ئیں گے۔﴿بادشاہوں کا بادشاہ ہے﴾ناصر آپ ہار مونیم بجائیں۔

سبق نمبر1 صفحہ نمبر3

ناصر: ٹھیک ہے ابو۔

تمام: ﴿ گاتے ہوئے﴾ ﴿بادشاہوں کا بادشاہ ہے﴾

ندیم: آئیں ہم سب دعا کریں۔خُدا وند تیرا شکرہو ۔ تُو عظیم خُدا ہے ۔اے خُدا میں تُجھے جلال دیتا ہوں۔ اوراپنی آج کی عبادت کے لئے تیرا شکر کرتا ہوں۔ ہماری کلیسیائ یعنی اِس جماعت کے لئے تیرا شکرہو۔ جو ابھی شروع ہوئی ہے۔خُداوند تیرا شکرہو۔ کیونکہ تُو نے ہمارا خواب پورا کر دیا ہے۔ اور تیرا شُکرہو کہ تُو ہمارے درمیان ہے۔ ہمیں برکت دے۔ عیسیٰ المسیح کے نام میں آمین۔

تمام: سب مل کر ۔آمین۔

ناصر: ابو میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔

ندیم: ہاںناصر! پو چھو

ناصر: ابو ! کلیسیا یعنی جماعت کا مطلب کیا ہے؟ کیا کِسی گھر میں کلیسیائ ہو سکتی ہے۔

ندیم: یہ بہت اچھا سوال ہے لیکن اِس کا جواب دینے سے پہلے کیوں نہ ہم لفظ "کلیسیائ "کی تعریف سن لیں کون بتائے گاکلیسیائ کیا ہوتی ہے۔

پروین: میں بتاتی ہوں کلیسیا لوگوں کی وہ جماعت ہے جو عیسیٰ مسیح کے نام میں جمع ہوں اور جِن کا مقصدعیسیٰ مسیح کے نام کوعزت ہو ۔

ندیم: پروین بالکل ٹھیک۔ لفظ کلیسیائ یونانی زبان کے لفظ اِکلیسزیائ سے نکلا ہے۔ جِس کے معانی ہیں ، "لوگوں کا گروہ"۔ اِس لئے کلیسیایا جماعت اُن لوگوں کا گروہ ہے جو عیسیٰ مسیح کے نام پر اکٹھے ہوں۔ کِسی بھی جگہ اور کِسی بھی وقت۔ اور اُن کا مقصد عیسیٰ مسیح کے نام کوعزت دیناہوتا ہے۔ جب ہم اِس کی تعریف کو سمجھ لیں گے تو ہمارے لئے یہ سمجھنا بہت آسان ہو گاکہ وہ لوگ جو عیسیٰ مسیح کے نام میں دُعا کرنے اور گیت گانے کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں۔ "کلیسیائ یا جماعت المومنین" کہلاتے ہیں۔

ناصر: ابو!یہ تعریف مُجھے نئی لگتی ہے۔ میرا مطلب ہے کِسی نے کبھی کِسی گھر میں کلیسیائی عبادت کے بارے میں نہیں سُنا ۔ابو آپ کا کیا خیال ہے؟

ندیم: کون کہتا ہے۔ناصرکتابِ مقدس بائبل کھولیے اور رومیوں کا خط نکالیں اور اُس کے سولہویں باب کی تیسری سے پانچویں آیت تک پڑھیں۔

ناصر: میں پڑھتا ہوں﴿ صفحہ الٹنے کی آواز﴾۔ تیسری آیت میں لکھا ہے۔ "پرسِکلہ اور اکولہ سے میرا سلام کہو۔ وہ مسیح یسوع میں میرے ہم خِدمت ہیں" اور پانچویں آیت کہتی ہے اور اُس کلیسیائ سے بھی سلام کہو جو اُن کے گھر میں ہے۔

سبق نمبر1 صفحہ نمبر4

ندیم: ناصریہی سب کُچھ نہیں ۔ اعمال کے دوسرے باب کی چھیالیسویں آیت بھی د یکھیں ﴿صفحہ الٹنے کی آواز﴾یہاں عیسیٰ مسیح کے شاگردوں کے بارے میں لکھا ہے ۔اور ہر روز ایک دِل ہو کر ہیکل میں جمع ہُوا کرتے تھے۔ "اور گھروں میں روٹی توڑ کر خوشی اور سادہ دِلی سے کھانا کھایا کرتے تھے۔اور خُدا کی حمد کرتے اور سب لوگوں کو عزیز تھے"۔

ندیم: جو آپ نے ابھی کہا ، اِس سے ہم سمجھتے ہیں عیسیٰ مسیح کے شاگردوں کے پاس مِلنے کے لئے خاص جگہ نہ تھی۔ بعض اوقات وہ ہیکل یعنی خاص عبادت گاہ میں مِلتے تھے۔ اور کِسی دوسرے وقت میں وہ کِسی گھر میں مِلتے تھے۔ مُجھے یاد ہے کہ وہ ایک دفعہ بی بی مریم کے گھر میں مِلے جو حضرت یوحنا مرقس کی ماںتھیں۔ کیونکہ وہ حضرت پطرس کے لئے دُعا کر رہے تھے جبکہ وہ قید میںتھے۔

ندیم: ہاںپروین۔ اور میرا یہ بھی خیال ہے کہ عیسیٰ مسیح خاص جگہوں میں اپنے شاگردوں سے نہیں مِلتے تھے ۔ وہ اُنہیں دور درا ز

جگہوںمیں لے جاتے تھے اور بعض اوقات وہ بالا خانے میں مِلتے تھے۔ اور جِس رات وہ پکڑوائے گئے وہ اُن سے زیتون کے پہاڑ پر مِل رہے تھے ۔ پس کلیسیائ یا جماعت المومنین کیلئے کوئی جگہ یا وقت مقرر نہیں ہے۔

ناصر: لیکن ابو ہماری تعداد تواتنی کم ہے کہ ہم اِسے کلیسیائ نہیں کہہ سکتے ۔

ندیم: ناصر سب سے اہم چیز کلیسیا کیلئے تعداد نہیں۔ بلکہ عیسیٰ مسیح کا اُن کے بیچ ہونا ضروری ہے۔ کیا یہ سہی نہیں؟

ناصر: ہاں یہ سب سے اہم شرط ہے اور آپ یقیناََ جانتے ہیں کہ جہاں دو یا تین شخص اُن کے نام پر اکٹھے ہوں۔ وہاں وہ موجود ہوتے ہیں۔ یہ بڑی خاص سچائی ہے جسے ہم پورے طور پر سمجھ نہیں سکتے۔

ندیم: ناصرآپ نے ٹھیک کہاعیسیٰ مسیح حضرت متی کی معرفت لکھی گی انجیل اُس کے اٹھارہویں باب کی بیسویں آیت میں یوں فرماتے ہیں "جہاں دو یا تین میرے نام پر اکٹھے ہیں وہاں میں اُن کے بیچ میں ہوں۔

پروین: واہ۔ خُدا وند کو اپنی پوری شان کے ساتھ اپنے درمیان اِس عبادت میں پانا بہت بڑا اعز از ہے۔ میں چاہوںگی کہ ہم گائیں۔

﴿تیری حضوری کا بادل زور سے برسے﴾

ندیم: آئیں اِس گیت کو اکٹھے گائیں۔

تمام لوگ: گیت ﴿ تیری حضوری کا بادل زور سے برسے﴾

ندیم: زیدی صاحب آپ دعا کریں۔

زیدی : اچھا ندیم بھائی ۔ہم دعا کریں۔اے عیسیٰ مسیح !ہم تجھے جلال دیتے ہیں کیونکہ تُو پوری شان کے ساتھ ہمارے درمیان ہے ۔سچ مچ ہمارے لئے یہ اعزاز کی بات ہے۔ ہم تیری اطاعت قبول کرتے ہیں ۔ یہ وقت ہم تجھے پیش کرتے ہیں اورتیرا نور دیکھنے کے منتظر ہیں۔

سبق نمبر1 صفحہ نمبر5

سب: آمین یعنی جماعت

ندیم: شکرے زیدی بھائی !اب آئیں ہم کلیسیائ کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں۔آپ سب جانتے ہیں کہ کلیسیائ ہمارے خُداوند کا گھر اور ہیکل یعنی عبادت کی خاص جگہ بھی ہے۔عیسیٰ مسیح کے رسول حضرت پولوس کہتے ہیں ، کہ ہم خُدا کا مقدس ہیں۔ اِس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ہم کلیسیایعنی مقدس جماعت ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے دل و دماغ میں یہ خیال کوٹ کوٹ کر بھر جائے کہ ہم کلیسیائ ہیں۔ اور دوزخ کے دروازے عیسیٰ مسیح کی کلیسیائ کو برباد نہیں کرسکتے ۔

ناصر: تو ابوکیا جب میں یہ کہتا ہوں۔"میں چرچ جا رہا ہوں"۔ اِس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ میں ایمانداروں کے ساتھ اپنے خُداوند کی عبادت کے لئے جا رہا ہوں۔ کیا یہ ٹھیک ہے؟

ندیم: ہاں ناصر ۔ یہ سچ ہے اور میں خوش ہوں کہ خُداوندنے ہمارے لئے یہ ظاہر کیا اور واضح کر دیا ۔

زیدی: ندیم بھائی میں محسوس کررہاہوں کہ کوئی ہے جواس وقت بہت غصے میں ہے۔

ندیم: زیدی بھائی آپ کا مطلب شیطان سے ہے؟

زیدی : ہاں ندیم ، شیطان نہیں چاہتا کہ ہم یہ جان جائیں کہ ہم کلیسیایعنی عیسیٰ مسیح کے سچے پیروکاروں کی جماعت ہیںوہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ ہم عیسیٰ مسیح کے اختیار سے اُس پر غالب آئیں اور کلیسیائ کی تعداد بڑھے۔

پروین: لیکن بہت جلد ایسا ہوگا۔ خُداوند روز بروزاپنی کلیسیائ بڑھائے گا ۔ ہم ہر روز دُعا مانگیں گے کہ خُدا اپنی بادشاہت میں زیادہ سے زیادہایسے لوگ لائے جو شیطان کی بادشاہت کو چھوڑکر کلیسیائ کے طور پر رہیں ۔

ندیم: ہاں پروین یقیناََ ایسا ہو گا۔ میں اُن باتوں کو زیر بحث لانا چاہتا ہوں۔جو ہمیںاُس وقت کرنی چا ہئیںجب ہم ایک کلیسیایا جماعت کے طور پر مِلتے ہیں۔آئیں کتابِ مقدس بائبل میں سے اعمال کی کتاب کے دوسرے باب کی بیالیسویں آیت سے پڑھنا شروع کریں۔ ﴿صفحہ اُلٹنے کی آواز﴾

اعمال 2 باب 42آیت میں لکھا ہے۔"اور رسولوں سے تعلیم پانے اور رفاقت رکھنے میں اور روٹی توڑنے اور دُعا کرنے میں مشغول رہے"۔اور آیت نمبر47میں لکھا ہے "اور خُدا کی حمد کرتے اور سب لوگوںکو عزیز تھے"۔آپ کے خیال مے یہ باتیں کیا ہیں؟

زیدی: ندیم بھائی !یہاں بہت سادہ اور صاف بات ہے جو ایماندار کیا کرتے تھے جب وہ مِلتے تھے۔ وہ۔ "خُدا کی حمدکرتے تھے"۔ اِسلئے جب ہم بھی اکٹھے ہوں اہم ترین باتوں میں سے ایک جو ہمیں کرنی چاہیے وہ یہ ہے کہ خُدا کی حمد کریں کیونکہ جب ہم حمد کرتے ہیں۔ہم خدا کی لامحدود صفتوں کا بیان اور اُس کی کلیسیائ کا اعلان کرتے ہیں۔

سبق نمبر1 صفحہ نمبر6

ندیم: بالکل ٹھیک اور زیدی صاحب ،ایک اور چیز جو ہمیں کرنی چاہیے۔ و ہ رسولوں کی تعلیم پانا ہے۔

ناصر: لیکن ابوہم کِس طرح یہ کر سکتے ہیں۔

ندیم: ناصر،سادہ سی بات ہے ۔ جب ہم کتاب ِ مقدس بائبل سے پیرا گراف پڑھتے ہیںہمیں چاہیے کہ سیکھنے کے لئے اِس پیراگراف پر غور وخوص کریںکہ کِس طرح اِسے اپنی زندگی میںلاگو کر سکتے ہیں۔

پروین: ندیم ایک اور کام ہے جو کلیسیائ کیا کرتی تھی۔ وہ دُعا ہے ۔ جب ہم مختلف موضوعات کے بارے میں خُدا سے باتیں کرتے ہیں یا اُس سے کُچھ خاص چیزیں مانگتے ہیں یہ دُعا ہے ۔ کتا بِ مقدس بائبل میں لکھا ہے، "اگر دو ایماندار کِسی بات پر متفق ہوں تو خُدا اُن کی دُعائوں کا جواب دیتا ہے"۔ دُعا ہمارے اور خُدا کے درمیان تعلق ہے ۔ دُعا کے وسیلے سے ہم خُدا سے ساری چیزوں کے بارے میں بات چیت کر سکتے ہیں جِن کا تعلق عیسیٰ مسیح سے ہوتا ہے جو کلیسیائ کا سر ہے ۔

ناصر: ابو میں نے دیکھا ہے کہ جب آپ اعمال کی کتاب میں سے آیت پڑھ رہے تھے تو آپ نے لفظ رفاقت کاذِکر کیا تھا ۔ کتاب ِ مقدس بائبل کی اِس سے کیا مراد ہے۔

ندیم: ناصر رفاقت وہ وقت ہے جب ہم اپنے تجربات ایک د وسرے کو بتاتے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے دُعا کرتے ہیں۔ ہم اُن اچھی باتوں میں دوسروں کوبھی شریک کرتے ہیں جو خُداوند ہماری زندگیوں میں کر رہا ہوتا ہے۔

ناصر: بیشک کلیسیائی زندگی ایک عظیم زندگی ہے۔

پروین: اور بائبل مقدس ہمیں سِکھاتی ہے کہ وہ سب جو ایمان لاتے تھے اپنی ساری چیزوں میں ایک دوسرے کو شریک کرتے تھے۔ کتاب ِ مقدس بائبل اعمال کی کتاب کے تیسرے باب میں ہم پڑھتے ہیں کہ کوئی محتاج نہ تھا ۔ کیونکہ وہ سب ایک دوسرے کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہوئے ایک بدن کی طرح رہ رہے تھے۔

زیدی: ندیم صاحب میں بہت خوش ہوں ہم نے ایک کلیسیائ کی طرح مِلنا شروع کر دیا ہے۔

ندیم: ﴿زیدی صاحب ﴾میں بھی خوش ہوں۔کیوں نہ وہی گیت ایک بار پھر سنیں جو شروع میں سنا تھا۔ "دل میں میرے آمسیحا"۔

زیدی: ضرور ضرور

﴿ٹیپ کی آواز﴾گیت

ندیم: بہت خوبصورت گیت ہے۔زیدی بھائی اِس سے پیشتر کہ ہم اِس عبادت کو ختم کریں ۔کیوں نہ دعا کر لی جائے۔

زیدی: ندیم بھائی میں چاہوں گا کہ میری بیوی نایئلہ کے لئے ہم مل کر دعا کریںتا کہ وہ عیسیٰ مسیح کو اور ابدی زندگی کو جان جائے ۔ جب وہ ایسا کرے گی تو میری خوشی کی انتہا نہ ہوگی۔

سبق نمبر1 صفحہ نمبر7

ندیم: زیدی صاحب ہمارا خدا ہماری دُعائیں سُنتا ہے وہ ضرورآپ کی بیوی نایئلہ کے لئے ہماری اِس دُعا کو سُنے گا۔پروین آ پ نایئلہ کیلئے دعاکریں۔

پروین : اے خدا! ہم سب مل کر تیری منت کرتے ہیں کہ تو نایئلہ کواپنی پہچان بخش دے۔ اُسے نئی زندگی عطا کر، عیسیٰ مسیح کے نام میں تمام لوگ: آمین۔

﴿دل میں میرے آمسیحاmusic ﴾