Hear Fellowship With My Family Episode 3 (Audio MP3)

View FWMF episode 3 as a PDF file

سبق نمبر3 صفحہ نمبر1

"خدا چرواہا"

ندیم: 12، 13، 14، 15ہزار۔ خُدایا تیرا شُکرہو ۔پروین کیا آپ اندازہ کر سکتی ہیں کہ سارے خرچ نکال کر جو پچھلے مہینے ہم نے کئے تھے ، ابھی ہمارے پاس 15ہزار روپے ہیں۔

پروین: ہاں مُجھ یقین ہے۔ میں نے بھی پانچ ہزار روپے بچائے ہیں ۔دراصل میں توقع کر رہی تھی کہ آپ مُجھے مہینے کے درمیان میں بتائیں گے کہ ہمارا دیوالیہ نِکل گیاہے ۔کیونکہ ہم نے بہت سی رقم خرچ کر دی تھی اورپھر اپنے دوستوں میں سے تین کو کُچھ رقم قرض بھی دی تھی۔

ندیم: میں نہیں جانتا کہ یہ کیسے ہُوالیکن میںمحسوس کرتا ہوں کہ ہماری کمائی میں برکت تھی۔ کیا تمہیں یاد ہے کہ چھ یا سات ماہ پہلے ہمارے پاس کافی پیسے نہ تھے۔ اورہم اپنے دوستوں سے ادھار کیا کرتے تھے اور پھر بعد میں فکر ہوتی تھی کہ وہ واپس بھی کرنے ہیں۔ لیکن اب ہم اپنے دوستوں کی مدد کر رہے ہیں ۔

پروین: خُداکا شکر ہو۔ خُدا ہماری سب ضرورتیں پوری کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ ہماراچوہان ہے اور ہم نے اُس پر بھروسہ کیاہے ۔ خُدا نے مالی طور ہر ہمیں برکت دی ہے اور یہ اچھی بات ہے کیونکہ ہمارے بیٹے ناصر کو کُچھ پیسوں کی ضرورت تھی ، یونیورسٹی میںدینے کے لئے۔

ندیم: تم ٹھیک کہتی ہو ۔ اُس نے پچھلے تین ماہ سے ہمیں پیسوں کے لیے نہیں کہا ۔

پروین: شاید وہ شرما رہا ہے ۔ اُس سے بات تو کریں۔کمرے میں ہے۔

ندیم: وہ کمرے میں کیا کر رہا ہے۔﴿آواز دے کر﴾ناصر!

ناصر: ﴿اپنے کمرے کے اندر سے جواب دیتے ہوئے﴾ ۔ جی ابو جی

ندیم: تم اندر کیا کر رہے ہو؟

ناصر: میںکپڑے تبدیل کررہا ہوں ہماری ایک میٹنگ ہے۔

ندیم: کپڑے تبدیل کر کے میرے پاس آئو۔

ناصر: آیا ابو جی !﴿ما یئک پر آتے ہوئے﴾ جی ابوجی کے بات ہے؟

ندیم: تمہاری یونیورسٹی کیسی جا رہی ہے۔

ناصر: خدا کا شکر ہے۔بہت اچھی۔

ندیم: پیسے ویسے تو نہیں چاہے تمہیں۔

سبق نمبر3 صفحہ نمبر2

ناصر: نہیں ابو!پیسے آپ نے مُجھے دے تھے وہ کافی تھے۔ بلکہ میں نے کُچھ بچا بھی لئے ہیں۔

پروین: اِس کا مطلب ہے تمہیں پیسو ں کی ضرورت نہیںہے۔

ناصر: نہیں امی!بلکہ میں نے تو یہ نیا سو ٹیرا ور کتا ب بھی خریدی ہے اور اپنے دوست اکبرکو کُچھ پیسے اُدھا ربھی دئیے ہیں۔پھر بھی پانچ سو کو نوٹ بچ گیا ہے۔

پروین: اِس کامطلب ہے کہ اب بھی تمہارے پاس پیسے ہیں۔

ناصر: جی ہاں۔لیکن آپ حیران کیو ں ہیں؟

ندیم: تمہاری امی اورمیںکر رہے تھے کہ پچھلے تین ماہ سے ہمارے پاس بہت پیسے ہیں ۔

ناصر: بیشک۔ میںبھی محسوس کرتا ہوںکہ خدا نے مالی طور پر ہمیں بہت برکت دی ہے۔

﴿دروازے کی گھنٹی بجتی ہے﴾

ناصر: ابو زید ی صاحب ہو نگے۔ میں دروازہ کھولتا ہوں ۔﴿وقفہ ۔دروازہ کھلنے کی آواز﴾ زیدی انکل آئیں تشریف لائیں۔ آپ ہی کا انتظار تھا۔

زیدی: ناصر کیسے ہو۔ندیم صاحب آپ کیسے ہیں۔پروین بہن ! آپ کا کیا حال ہے؟

ناصر: ٹھیک ہوں۔

ندیم: زیدی صاحب میں ٹھیک ہوں ۔آپ کا کیا حال ہے؟

زیدی : سب ٹھیک ہے۔آج بہت سی خوبصورت باتیں آپ کے ساتھ ہونگی۔

پروین: ہمارے پاس بھی آپکوبتا نے کے لئے بہت کُچھ ہے۔ہم ابھی اِس کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ناصر چائے تیار ہے۔ ے آئو ذرا۔

ناصر: ٹھیک ہے امی۔

ندیم : خدا کا شکر ہو ۔آج ایک عظیم دن ہے ۔

پروین: زیدی بھائی ۔یہ کیک لیں اور بتائیں کیسا بنا ہے۔ میں نے خود بنایا ہے۔

زیدی: ﴿کھاتے ہوئے﴾ پروین بہن بہت لذید ہے۔

ناصر: امی ،میرا تو دل کرتا ہے سارا کھا جائوں۔

سبق نمبر3 صفحہ نمبر3

ندیم : چائے بھی مزیدار ہے۔ تو زیدی صاحب کیوں نہ ہم اپنی اِس عبادتت کو شروع کریں۔پلیز آپ گیت گا نے میں ہماری را ہنمائی کریں۔

زیدی: ٹھیک ہے۔آئو ہم اپنی ساری فکریں اپنے خُداوند پر ڈال دیں ۔ اور گیت گائیں ’’حمد تیری مسیحا گاتے ہیں ہم سب تو ہی سر بلند ہے مسیحا‘‘

تمام: گاتے ہوئے۔

ندیم : زیدی بھائی آپ کے آنے سے پہلے پروین اور میں اپنی زندگیوں میں اور اپنے روپے پیسے میں خدا کی برکت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے ۔ ہم یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ہماری زندگیاں کتنی زیادہ بدل گئیں ہیں جب سے ہم نے خُدا کے بارے میں جو ہمارا چرواہا ہے جو ہماری سب ضرورتوں کو پورا کرتاہے ، ایک وعظ سُناہے ۔ میں چاہوں گا اِس وعظ کے بارے میںآپ سے باتیں کروں۔ موضوع ہے ، "خُدا ہماری زندگیوں کا چرواہا ہے"۔ وہ نہ صرف ہماری مالی ضرورتیں پوری کرتا ہے بلکہ ہر قسم کی دوسری ضرورتیں بھی۔

ناصر: ابو ابھی کتاب مقد س با ئبل میں سے 23زبور کی پہلی آ یت میرے ذہن میں آئی ہے وہاں لکھاہے۔"خُدا وندمیرا چوپان ہے،مُجھے کمی نہ ہو گی"۔ کیونکہ خُدا ہمارا چوپان ہے۔اِ س لئے ہمیں جسمانی طور پر یا بدنی طور پر کِسی چیز کی کمی نہ ہوگی۔

ندیم: یہ سچ ہے۔ ناصرہم بائبل مقدس میں پڑھتے ہیں کہ خُدا کا نام یہوواہ یری ہے اور اِس کا مطلب ہے ، "خُدا ہماری ضرورتیں دیکھتا ہے اور اِنہیں پوری کرتا ہے"۔

پروین: میں عیسیٰ مسیح کے شاگردوں کے بارے میںسوچتی ہوں۔ جب وہ سمندر کے درمیان میں تھے۔ اُنہیں سکون اور حفاظت کی ضرورت تھی۔ عیسیٰ مسیح اُن کے درمیان کھڑے ہوئے اور سمندر کو ڈانٹ دیا۔ سمندر ساکن ہو گیا اور یوں اُنہوںنے سکون اور حفاظت محسوس کی۔

ندیم: یہ سچ ہے خداوندعیسیٰ مسیح ہماری ضرورتیں پوری کر سکتے ہیں۔لیکن آج میںخاص طور سے مالی ضرورتوں پربات چیت کرنا چاہتا ہوں کیونکہ یہ بہت اہم بات ہے اوراِس سے ہم بہت غیر محفو ظ ہوتے ہیں۔

زیدی: ندیم بھائی میرے ذہن میں ایک سوال ہے۔

ندیم: جی پوچھئے۔

زیدی: خُدا نے ہم سب کو امیر کیوںنہیں پید ا کیا۔ اِس طرح ہمیں کِسی چیز کی ضرورت نہ ہوتی۔

ندیم: زیدی بھائی !جب خُدا نے حضرت آدم اوربی بی حوا کو پید ا کیا ۔ اُنہیںکِسی چیز کی ضرورت نہ تھی۔ بائبل مقدس میں دولت کے سہی سبق نمبر3 صفحہ نمبر4

معنی یہی ہیں۔ اُنہیں کِسی چیز کی ضرورت نہ تھی لیکن اُنہیں اپنی زندگیو ں میںخُدا کے مقصد کو پورا کر نا تھا۔

زیدی : پھربعد میں کیا ہُوا؟

ندیم: جب حضرت آدم اوربی بی حوا نے گناہ کیا اور خُدا کی فرمانبرداری نہ کی۔ خُدا نے اُنہیں باغِ عدن سے باہر نکال دیا۔ حضرت آدم کے گناہ کی وجہ سے خُد انے زمین پر لعنت کی۔ اور اِس طرح دنیا میں غربت داخل ہوئی۔ اور آدمیوں نے کھانا ور نقدی حاصل کرنے کے لئے کام کرنا شروع کیا ۔ ہم کتاب مقدس بائبل میں پیدائش کی کتاب 3باب17آیت میں اِس کے متعلق پڑھتے ہیں۔ لیکن عیسیٰ مسیح نے صلیب پر ساری دنیاکی غربت کو اُٹھا لیا۔ کانٹوں کا تاج اُس کی سخت محنت کی علامت تھی۔

زیدی: ندیم بھائی کیا کانٹوں کا تاجاِس بات کی علامت تھی کہ عیسیٰ مسیح غربت کی لعنت کو مِٹا دیں گے؟ کیا آپ اِس کی وضاحت کر سکتے ہیں؟

ندیم: زیدی بھائی ! کلام ِپاک میں پیدائش3باب17تاور18میںخدا تعالیٰ نے حضرت آدم سے کہا ،"زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی تو اپنی زندگی کے تمام ایام محنت کی روٹی کھائے گا ۔یہ تیرے لیے کانٹے اور اونٹ کٹارے اُگائے گی اور اُس نے اُسے یہ بھی کہا تو اپنے مُنہ کے پسینے کی روٹی کھائے گا"۔

اِس کامطلب ہے کہ حضرت آدم محنت کریں گے اور دُکھ اُٹھائیں گے لیکن زمین اُنہیں برکت نہ دے گی۔ یہ اُنہیںکانٹے اور اونٹ کٹارے دے گی۔ اب کیونکہ حضرت آدم نے گناہ کیا جس وجہ سے کانٹوں کا تاج عیسیٰ مسیح کے سر پر رکھا گیا ہمیں یہ دِکھانے کے لیے کہ اُنہوں نے دنیا کی ساری غربت اُٹھالی ہے۔ اور ہمیں برکت دی۔ اِس طرح ہم اُس پہلی جگہ پر آتے ہیں جِس سے حضرت آدم لطف اندوز ہو رہے تھے۔ وہ خُدا کی فرمانبرداری کر رہے تھے اور اُس کی تعریف کر رہے تھے۔ یوں خُدا ہماری سب ضرورتیں پوری کرے گا۔

زیدی: میںنے پہلی بارسنا ہے کہ کانٹوں کے تاجکا مطلب اور مقصد کیاہے جو عیسیٰ المسیح کے سرپر رکھا گیا وہ غربت کی لعنت مٹا نے کیلئے تھا۔ خُدا کی حمد ہو۔

پروین: اب میں سمجھی ہوں کہ عیسیٰ المسیح نے ہمیں متی رسول کی معرفت لکھی گئی انجیل اُس کے چھٹے باب کی اکتسیویںآیت میں کیوں کہا، " پس فکر نہ کرو کہ ہم کیا کھائیں گے یا ہم کیا پئیں گے کیونکہ غیر قومیں اِس کے پیچھے بھاگتی ہیں اور تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تمہیں اُن کی ضرورت ہے۔ مگر پہلے اُس کی بادشاہت اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مِل جائیںگی"۔ اِس کا مطلب ہے کہ جب میں اپنی زندگی میں خُدا کے مقصد کوپورا کرونگا تو خُد ا میری سب ضرورتیں پوری کرے گا۔

ناصر: تو امّی کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ مُجھے کام نہیں کرنا چاہیے اور خُدا میری سب ضرورتیں پوری کرے گا۔

سبق نمبر3 صفحہ نمبر5

پروین: ناصر میرا مطلب یہ نہیں ۔ہمیں بہت محنت کرنی چاہیے اور اپنا کام لگن سے کرنا چاہیے۔ اِس طرح جیسے خُداوند کے لیے کر رہے ہیں ۔ بائبل مقدس بتاتی ہے ،"جو کام کرتے ہو یہ جان کر کرو کہ خُداوند کے لیے کرتے ہو نہ کہ آدمیوں کے لیے"۔

ندیم: پروین شکریہ۔ناصر ایک بات بتائو تمہارے خیال میں اِس دولت سے کیسے لطف اندوز ہواجا سکتا ہیںجو ہمیں عیسیٰ المسیح میں حاصل ہے۔

ناصر: ابومیرا خیال ہے ہمیں خُدا پر ایمان رکھنا چاہیے کہ وہ ہماری ساری ضرورتیں پوری کرے گا ۔اور وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے ۔

ندیم: ہاں ناصر۔ حضرت پولوس رسول کتابِ مقدس بائبل میں عبرانیوں کے خط کے تیرہویں باب کی پا نچویں اور چھٹی آیت میں کہتے ہیں، "زر کی دوستی سے خالی رہو اور جو کُچھ تمہارے پاس ہے اُسی پر قناعت کرو کیونکہ اُس نے خود فرمایا ہے کہ میں تُجھ سے ہرگز دستبردار نہ ہونگا اور کبھی تُجھے نہ چھوڑونگا۔ اِس واسطے ہم دلیری کے ساتھ کہتے ہیں کہ خُداوند میرا مددگار ہے۔ میں خوف نہ کرونگا۔ انسان میرا کیا کرے گا"۔کیا آپ میں سے کوئی اور اِس کے تعلق سے کچھ کہنا چا ہتا ہے۔

زیدی : میںاِس نقطے کو وضاحت کرنا چاہتا ہو ں ۔ کہ جب اِس زندگی میں میرا مقصد خدا کی خِدمت اور اُس کی عبادت کرناہو گا۔ پھر وہ میری ساری ضرورتیں پوری کرے گا ۔ بالکل اِسی طرح جیسے بہن پروین نے کہا،"لیکن پہلے تم اُس کی بادشاہت اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ ساری چیزیں بھی تمہیں مِل جائیں گی"۔

ندیم: زیدی صاحب۔ بالکل ٹھیک ۔کوئی اور اِس کے تعلق سے کچھ اور کہنا چاہتا ہے۔

پروین: میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ دنیاوی برکات کی پوشید چابی خُدا کے لیے دینا ہے۔

ندیم: شاباش پروین۔ میر ی زندگی میں بھی برکات کی وجہ دینا ہے۔ اِسی لئے عیسیٰ المسیح نے فرمایا ،"دو تو تم کو دیا جائے گا"۔ جب میں دیتا ہوں تو خُدا مُجھے اورزیادہ دیتا ہے۔

زیدی : ندیم بھائی مُجھے ابھی 1کتا ب ِ مقدس بائبل میں سے سلاطین کے سترہویں باب میں سے ایلیا ہ نبی کے زمانے کی ایک خوبصورت کہانی یاد آ ئی ہے۔ جب تین سال تک بارش نہ ہوئی تو قحط پڑ گیا۔ ایک دِن خُدا نے حضرت ایلیاہ کو ایک جگہ جس کا نام صاریت ہے،جانے کو کہا اور بتایا کہ ایک بیوہ اُسے کھانا کھِلائے گی ۔ وہ وہاںگئے اور اُس بیوہ سے کہا مُجھے کھانا کھلا۔ لیکن اُس نے اُن سے کہا۔ میرے پاس تو تھوڑا سا آٹا اور کچھ تیل ہے ۔میں اپنے بیٹے کے ساتھ کھانے کے لئے ایک روٹی بنائوں گی اورپھر مر جائیںگے۔ مردِ خُدا نے اُس سے کہا ڈرو مت۔ پہلے مجھے کھانا کھلا ۔ جب بیوہ نے نبی کا حُکم مانا تو ایک معجزہ ہو گیا۔

ناصر: انکل زیدی، کیا ہوا؟

زیدی: جب تک زمین پر بارش نہ ہوئی۔آٹا اور تیل ختم نہ ہوئے۔

سبق نمبر3 صفحہ نمبر6

ندیم: ناصریہ ایک سچی کہانی ہے۔ اُس عورت نے جوکچھ اُس کے پاس تھا اِسکے باوجودکہ اُسے اِس کی اشد ضرورت تھی دے دیا۔ اِس وجہ سے اُسے بہت برکت مِلی۔ بعض اوقات ہم سوچتے ہیںکہ ہمیں ہمیشہ اپنے بچے کچے میں سے دینا چاہیے۔ایساہر گزنہیںہونا چاہیے۔ جب ہم اُس تھوڑے میںسے جوہمارے پاس ہے دیتے ہیں تو ہمیں خدا سے برکت حاصل ہوتی ہے جِس نے فرمایا، "دو تو تمہیں دیا جائے گا"۔

پروین: ندیم میں اِس بات پر زور دوں گی کہ ہمیںیہ نہیں سوچنا چاہئے کہ کتنا دیا ہے، ہمیں اپنی ضرورتوں کو ایک طرف رکھ کر دینا چاہئے۔ یہی وجہ ہے عیسیٰ المسیح نے اُس عورت کی تعریف کی جِس نے جو کُچھ اُس کے پاس تھا وہ دے دیا۔ بے شک جو اُس نے دیا وہ اُس رقم سے بہت ہی کم تھاجو دوسروں نے دی۔مگر عیسیٰ المسیح نے کہا کہ اُس نے زیادہ دیا کیونکہ دوسروں نے اپنے بچے کچے میںسے دیا تھا ۔

ناصر: ابو کیا میںبھی کُچھ دینے کے بارے میںکہہ سکتا ہوں۔

ندیم: کیوں نہیں !

ناصر: میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اتنا زیادہ دینا چاہیے جتنا ہم دے سکتے ہیں۔جب ہم دیں گے تو خدا بھی ہمیں دے گا۔ بائبل مقدس کہتی ہے اگر تم تھوڑا بوئو گے تو تھوڑا کاٹوگے۔ اگر تم زیادہ بوئوگے تو زیادہ کاٹوگے۔

پروین : اور ہمیں دینا بھی خوشی سے چاہیے ۔ جب ہم دیں تو خوش ہوں۔ پریشان نہ ہوں۔ بائبل مقدس کہتی ہے ،"خُدا اُن سے محبت کرتا ہے جو خوشی سے دیتے ہیں"۔

زیدی: ندیم بھائی !ہم دینے کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں کہ کِس طرح خُدا ہماری ضرورتیں پوری کر سکتا ہے۔ میرے پاس گواہی ہے۔ کسی کو دینے کیلئے مجھے تقر یباً چار ہزار روپے کی اچد ضرورت تھی۔ لیکن میرے پاس صرف ایک ہزار تھے۔

زیدی: میں نے عیسیٰ المسیح سے دُعا کرنا شروع کی کہ اے عیسیٰ المسیح میری اِس ضرورت کو پورا کر ۔ دوسرے دِن میرا ایک دوست میرے پاس ہزار روپیہ مانگنے کے لئے آیا۔ کیونکہ اُس کا باپ بیمار تھا اور اُسے اپنے باپ کو ہسپتال لے جانا تھا۔اب اگرچہ مُجھے اِس رقم کی ضرورت تھی جو میرے پاس تھی۔مگر میں نے وہ رقم اُسے دے دی۔ اور خداوند پر بھروسہ کیا کہ وہ میری ضرورت پوری کرے گا۔ وہ دن آگیا جس دن کا وعدہ میں نے اُس شخص سے کیا ہوا تھا جس کے میں نے چار ہزار دینے تھے ۔ اور میں اب بھی خُدا سے پیسوں کے لیے دُعا کر رہا تھا۔ میں نے کہا ۔ اے خُدا تُو اپنے سب وعدوں میںسچاہے۔ تو نے میری سب ضرورتیں پوری کرنے کا وعدہ کیا ۔ ندیم صاحب ! اُس وقت سے دو گھنٹے پہلے جس کا میں نے وعدہ کیا ہوا تھامیرا ایک دوست آ گیا۔ اور مُجھے کہا میں دعا کر رہا تھا اور مجھے محسوس ہُوا کہ خُدا مُجھے تمہیں کُچھ رقم دینے کو کہہ رہا ہے۔اور اُس نے اپنے جیب سے چار ہزار روپے نکال کر مجھے دے

سبق نمبر3 صفحہ نمبر7

دیئے۔

ندیم: دیکھا زیدی بھائی! خدا کس طرح سے ہماری ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔

ناصر: ابو میرا ایک سوال ہے۔دہ یکی یعنی دسویں حصے اور ہدہے نذارنے دینے میں کیا فرق ہے۔

ندیم: ناصرہدہے نذارنے۔ دینا کُچھ اور ہے ۔ اور دہ یکی یا دسواں حصہ کچھ اور۔دہ یکی خُدا کی طرف سے حُکم ہے اور ہمیںخدا کا حُکم ماننا چاہیے۔ کتابِ مقدس بائبل میں ملاکی کی کتا ب اُس کے تیسرے باب کی دسویں آیت میں لکھا ہے"پوری دہ یکی ذخیرہ خانے میںلائو"۔پرانے وقتوںمیں بادشاہ اپنے لوگوں کی آمدنی کا دسواں حصہ لیتے تھے کیونکہ وہ اُنکے بادشاہ تھے ۔ جب ہم خداوند کو اپنی آمدنی کا دسواں حصہ دیتے ہیں، ہم اعلان کرتے ہیں کہ خدا ہمارا بادشاہ ہے۔ اور وہ اِس وجہ سے ہمیںبرکت دے رہا ہے۔ آ ئیں ! اِس آیت کا بقی حصہ بھی دیکھتے ہیں ۔ناصر دسویں آیت پڑھ دو۔

ناصر: ابو یہاں لکھا ہے ﴿ملاکی 3:10﴾ پوری دہ یکی ذخیرہ خانہ میں لائو تا کہ میرے گھر میں خوراک ہو اور اِسی سے میرا امتحان کرو رب الافواج فرماتا ہے کہ میں تُم پر آسمان کے دریچوں کو کھول کر برکت برساتا ہوں کہ نہیں یہاں تک کہ تمہارے پاس اُس کے لئے جگہ نہ رہے۔

ندیم: جی ہاں! اِس کا مطلب ہے کہ اُس دہ یکی کی وجہ سے دیتے ہیں جو ہم خُداوند کو دیتے ہیں ، خُدا آسمان کو کھولے گا اور ہم پر دولت کی بارش کو کثرت سے بانل فرمائے گا۔ اب چونکہ ہماری جماعت کا وقت ختم ہونے والاہے ۔ آئیں ہم دعا کے ساتھ آج کی جماعت کو ختم کریں۔

’’اے عیسیٰ المسیح ہم تیرا شکر کرتے ہیں۔ تو ہمارا اچھا چرواہاہے ۔ تو ہماری ساری ضرورتوں کا خیال رکھتا ہے۔ ہمیں تو فیق عطا کر کہ ہم صرف اور صرف تجھ پر ہی بھروسہ رکھیں۔

سب: آمین۔