Hear Fellowship With My Family Episode 4 (Audio MP3)

View FWMF episode 4 as a PDF file

سبق نمبر4 صفحہ نمبر1

معافی

﴿پروگرام گلی میں لڑائی کے شور سے شروع ہوتا ہے﴾

ندیم: یہ ہمارا پڑوسی جمال ہے جو اپنے بھائی سے لڑ رہا ہے۔

یہ ہمیشہ لڑ تے رہتے ہیں۔پروین، کیا آپ یہ کھڑکی بند کر دیں گی۔

پروین: ٹھیک ہے ندیم۔ عجیب بات ہے اُن کی ماں ہمیشہ اُنہیں سِکھا یا کرتی تھی جو اُنہیں مارے وہ اُسے ماریں۔ میں نے کئی بار اُس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اُسے اپنے بچوں کو دوسروں سے نفرت کرنا نہیں سِکھانا چاہیے۔ اگر وہ اپنے دوستوں سے نفرت کریں گے تو کل وہ اپنے بھائی سے بھی نفرت کریں گے۔ آج یہ بات سچ ہو گئی ہے کہ دونوں بھائی ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں اور لڑتے رہتے ہیں۔

ندیم: پروین۔ میں محسوس کرتا ہوں ۔اب ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہمیں اِس خاندان کے لئے مل کر دعا کرنی چا ہئے کہ خداوند اُن میں نفرت کی بجائے محبت پیدا کرے۔

پروین: آمین۔ تو پھر آئیں ابھی دعا کرتے ہیں ۔آپ راہنمائی کریں۔

ندیم: بڑی محبت کرنے والے ہمارے عظیم خُدا ۔ ہم تُجھ سے اپنے دوست جمال اور اُس کے خاندان کے لئے دُعا کرتے ہیں کہ تُو اپنی محبت اُن پر ظاہر کراور ساری نفرت کو دُور کرے جوشیطان کی طرف سے ہے ۔ اے خدا،ہم دل سے چاہتے ہیں کہ تیری محبت اُن کے دلوں میں چمکے۔عیسیٰ المسیح کے نام میں مانگتے ہیں ۔ آمین۔ پروین! کیا تمہیں معلوم ہے کہ دوسروں سے محبت کرنا اوراُنہیں معاف کرنا کتنا مشکل ہے یہ بات ہمیں کتابِ مقدس بائبل میں سے جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم کس طرح دوسروں سے محبت اور اُنہیں معاف کرسکتے ہیں۔

ناصر: ﴿ چلاتے ہوئے﴾﴿coming﴾ابو یہ کیا ہوا،امّی یہ کیا ہے۔

ندیم: کیابات ہے ناصر؟

پروین: بیٹا کیا ہوا، ہمیں بھی تو کچھ بتائیں۔

ناصر: ابو میں جمال اور اُس کے بھائی سے تنگ آ چُکا ہوں ۔روز لڑتے رہتے ہیں ۔پڑھنے بھی نہیں دیتے۔ میرا تودل کرتا ہے، نیچے جا کر زور زور سے اُن کے ساتھ چیخوں۔ اوربتائوں کہ یہ گلی صرف اُن ہی کی نہیں ہے۔

ندیم: ناصر ۔ ہوش کرو۔ جِس طرح تُم بات کر رہے ہو ٹھیک نہیں۔ ابھی تو تم صرف ناراض ہو رہے ہو۔ بعد میں نفرت کرنے لگو گے۔

ناصر: ابو یہ میری برداشت سے باہر ہے۔ میرا سر چکرانے لگا ہے۔ سچ پو چھیں تو مجھے اُن سے نفرت ہوگئی ہے۔

سبق نمبر4 صفحہ نمبر2

ندیم: ناصر اِس سے پہلے کہ ہم اپنی بات چیت جاری رکھیں۔ آئوہم دعا کریں۔ کتابِ مقدس بائبل سے پیار کریں اور خود خداوند عیسیٰ مسیح نے کہا۔ اپنے دشمنوں سے پیار کرو۔ بے شک جمال اور اُس کے گھرانے کی وجہ سے تمہیں ذہنی پریشانی ہوئی ہے۔ مگر اِس کا مطلب یہ نہیں کہ تُم اُن سے نفرت کرنے لگو۔ عیسیٰ المسیح سے معافی مانگواور کہو کہ وہ اِس نفرت کو تمہارے دل میں سے نکال دیں۔

ناصر: ابو ۔ لیکن

ندیم: لیکن ویکن کچھ نہیں۔ اگر اِس وقت تُم نے اِس تنبیہ کو نظر انداز کیا۔ تو کبھی بھی اِس پر غالب نہ آسکو گے۔کیونکہ نفرت تم پر غالب آ چکی ہو گی۔

ناصر: ٹھیک ہے ابو۔ اے خداوند ،میں اس نفرت کے لئے دل سے معافی مانگتا ہوںجو میرے اندر جمال اور اُس کے خاندان کے لئے پیدا ہوئی ہے۔ میںعیسیٰ مسیح کے خون کی قدرت کے و سیلے سے تُجھ سے معافی مانگتاہوں۔ خُداوند میں چاہتا ہوں کہ میرے دل میں اُن کیلئے محبت بھر دے۔ میں جمال اور اُس کے خاندان والوں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں،اُن میں بھی اپنی محبت بھر دے اُنہیں بڑی برکت دے۔ عیسیٰ المسیح کے نام میں۔آمین۔

﴿دروازے کی گھنٹی بج رہی ہے﴾

ناصر: ابو میں جاتا ہوں یہ تو ضرور زیدی صاحب ہونگے۔﴿pauseدروازہ کھلتا ہے﴾ زیدی صاحب خوش آمدید ۔آئیں اندر چلیں ﴿دروازہ بند ہوتا ہے﴾

زیدی: ﴿آتے ہوئے﴾ شکریہ ناصر ۔کیا حال ہے تمہارا

ندیم ،پروین: زیدی صاحب۔ خوش آمدید۔

زیدی : ندیم بھائی شکریہ! پروین بہن شکریہ! یقین جانیں میں آپ کی گلی کو دور سے ہی پہچان لیتا ہوں ۔ کیونکہ چنخ و پکار ی آواز یں صرف آپ ہی کی گلی سے آتی ہیں۔

ندیم : زیدی بھائی ایسا نہ کہیں۔ ہم نے ابھی دُعا کی ہے کہ خُدا اِس خاندان میں اپنی محبت پیدا کرے اور اِنہیں برکت دے۔

زیدی : آمین۔ خُدا کرے ایسا ہی ہو۔

پروین : لیجئے گرما گرم چائے پیجئے۔﴿ چائے انڈ ہلنے کی آواز﴾

ندیم: زیدی بھائی کو بسکٹ بھی دیں۔

سبق نمبر4 صفحہ نمبر3

ندیم: لیجئے زیدی صاحب ! چائے بھی پئیں اور یہ گیت بھی سنیں۔

زیدی: شکریہ ندیم بھائی۔

﴿گیت: جہاں بھی دو یا تین﴾

ندیم: یہ بالکل سچ ہے ،اور ہمارا ایمان ہے کہ عیسیٰ مسیح ہمارے درمیان موجود ہیں۔ میں چاہوں گا کہ آج ہم اپنی جمات کی عبادت خداوند کے نام کی تعریف کرتے ہوئے شروع کریں۔ ہم سب مل کر گائیںگے۔﴿بادشاہوں کا بادشاہ﴾

تمام لوگ: گیت۔﴿بادشاہوں کا بادشاہ﴾

ندیم: آمین۔ زیدی بھائی ! ویسے تو میں آج دعا کے بارے میں بات چیت کرنا چاہتا تھا لیکن اِس لڑائی کے بعد جو گلی میں ہو رہی تھی میں نے ارادہ تبدیل کر لیا ہے۔اب ہم معافی کے بارے میں بات کریںگے۔ یہ سب سے مشکل بات جب کوئی اپنے اردگرد کے لوگوں سے نفرت کرے ۔ جب میں جوانوں کی لڑائی کے بارے میںیا کِسی کو جان سے ماردینے کے بارے میں۔ خباروں میں پڑھتا ہوں مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ شیطان کے کاموں میں سے ایک کام یہ بھی ہے کہ لوگوں میں نفرت پیدا کرے۔ اِس لئے میں چاہوں گا کہ ہم آج محبت اور معافی کے بارے میں تبادلہ ٔ خیال کریں اور محبت کرنا سیکھیں اور ایک دوسرے سے مسیح کی محبت کا اظہارکریں۔

زیدی: ندیم بھائی، یہ بہت ضروری مضمون ہے۔ چند دِن پہلے میں دُعا کر رہا تھا کہ خُدالوگوں کے دِلوں میں اپنی محبت ڈالے اور اپنی محبت سے اُن پر حکمرانی کرے۔

ندیم: لیکن زیدی بھائی، اِسے ہوتا دیکھنے کے لئے لوگوں کو معاف کرنا سیکھنا چاہیے۔

پروین: میں متی رسول کی معرفت لکھی گئی انجیل اُس کے اٹھارہویں باب کی آیات 23سے35آپ کے ساتھ پڑھنا چاہتی ہوں۔ کتابِ مقدس بائبل میں سے یہ حوالہ نکالیں اور میرے ساتھ دل میں پڑھیں۔

میں اونچی آواز سے پڑھوںگی۔’’ پس آسمان کی بادشاہی اُس بادشاہ کی مانند ہے جِس نے اپنے نوکروں سے حساب لینا چاہا۔ اور

جب حساب لینے لگا تو اُس کے سامنے ایک قرضدار حاضر کیا گیا جِس پر اُس کے دس ہزار توڑے آتے تھے۔ مگر چونکہ اُس کے پاس ادا کرنے کو کُچھ نہ تھا اِس لئے اُس کے مالک نے حکم دیا کہ یہ اور اِس کے بیوی بچے اور جو کُچھ اِس کا ہے سب بیچا جائے اور قرض وصول کر لیا جائے۔ پس نوکر نے گِر کر اُسے سجدہ کیا اور کہا اے خُداوند مُجھے مہلت دے میں تیرا سار ا قرض ادا کروں گا۔ اُس نوکر کے مالک نے ترس کاکھا کر اُسے چھوڑ دیا۔ اور اُس کا قرض بخش دیا۔جب وہ نوکر باہر نکلا تو اُس کے ہمخدمتوں میں ایک

سبق نمبر4 صفحہ نمبر4

اُس کو مِلا جِس پر اُس کے 100دینار آتے تھے۔ اُس نے اُس کو پکڑ کراُسکا گلا گھونٹا اور کہا جو میرا آتا ہے ادا کر دے ۔ پس اُسکے ہمخدمت نے اُس کے سامنے گِر کر اُس کی منت کی اور کہا مُجھے مہلت دے ۔ میں تُجھے ادا کر دونگا۔ اُس نے نہ مانا بلکہ جا کر اُسے قید خانے میں ڈال دیا کہ جب تک قرض ادا نہ کرے قید رہے۔ پس اُس کے ہمخدمت یہ حال دیکھ کر بہت غمگین ہوئے اور آ کر اپنے مالک کو سب کُچھ جو ہُوا تھا سُنا دیا ۔ اِ س پر اُس کے مالک نے اُسے پاس بُلا کر اُسے کہا ، اے شریر نوکر! میں نے وہ سارا قرض تُجھے اِس لئے بخش دیا کہ تُو نے میری منت کی تھی ۔ کیا تُجھے لازم نہ تھا کہ جیسا میں نے تُجھ پر رحم کیا تُو بھی اپنے ہمخدمت پر رحم کرتا؟ اور اُس کے مالک نے خفا ہو کر اُس کو جلاد وں کے حوالے کیا کہ جب تک تمام قرض ادا نہ کر دے قید رہے۔ میرا آسمانی باپ بھی تمہارے ساتھ اِسی طرح کرے گا اگر تُم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کو دِل سے معاف نہ کرے۔

ندیم !میں چاہوں گی کہ ہم اِس نوکر کے اور اُس کے مالک کے رویے پر نظر کریں۔ اور کِس طرح مالک نے نوکر کا قرض معاف کردیا۔ جو تقریباََ چھ کروڑ پاکستانی روپے بنتا تھا ۔لیکن چونکہ نوکر نے اِس کی دِل سے قدر نہ کی جو اُس کے مالک نے اُس کے لئے کیا۔وہ اپنے ہمخدمت نوکر کے ساتھ وہی کُچھ نہ کرسکا۔ بلکہ اُسے سارا قرض ادا کرنے کو کہا۔ جو مقابلتاََ بہت ہی کم رقم یعنی تقریباََ پچتہر ہزار روپے بنتا تھا۔

ناصر: او، امّی۔ یہ نوکر کس قدر بُرا ہے۔ وہ کِس طرح اپنے دوست کے چھوٹے سے قرض کو نہ معاف کرسکا۔ جبکہ اُس کے مالک نے اُس کی بہت بڑی رقم کو معاف کر دیا۔ جوکُچھ اُس کے ساتھ ہُوا وہ سچ مُچ اُس کا حقدار ہے۔

پروین: ناصر اُس نوکر کا جلدی سے فیصلہ نہ دو۔

زیدی: پروین بہن۔ جو ناصر نے کہا ۔ میں اُس سے اتفاق کرتا ہوں ۔ وہ نوکر قید کا ہی حقدار ہے ۔

پروین: زیدی بھائی! میں نے کہا تھا کہ ہم جلد بازی میں اُس نوکر کے خلاف کوئی فیصلہ نہ دیں۔اکثر اوقات ہم بھی اُس کی مانند ہوتے ہیں۔

ناصر: کیا ہم بھی اُس کی طرح ہوتے ہیں؟کیسے؟

پروین : دیکھونہ خداوند عیسیٰ مسیح ہمارے گناہ معاف کرتے ہیں ۔ جو ہم کرتے ہیں ۔مگر ہم اُن قصوروں کو جو دوسرے ہمارے خلاف کرتے ہیں معاف نہیں کرتے۔

ندیم: پروینسچ کہہ رہی ہیں۔خداوند عیسیٰ مسیح اپنی محبت کے وسیلے روز ہمارے بیشمار گناہ معاف کرتے ہیں لیکن ہم دوسروں کو معاف کرنے میں ٹال مٹول کرتے ہیں۔ اور جونہی کوئی ہماراگناہ کرتا ہے ہم ناراض ہو جا تے ہیں اور بات نفرت تک بڑھ جاتی ہے۔

سبق نمبر4 صفحہ نمبر5

آج ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کِس طرح دوسروں کی خطائیں معاف کرنی ہیں اور کِس طرح اُنہیں اپنی محبت دِکھاتی جا سکتی ہے۔

ناصر: ابو میں آپ سے متفق ہوں لیکن بعض اوقات معافی کام نہیں کرتی۔

ندیم: وہ کیسے ناصر؟

ناصر: مثال کے طو ر پر ۔ کالج میں میرا ایک دوست ہے جِسے میں بہت محبت کرتا تھا اور ہم اکٹھے مطالعہ کیا کرتے تھے۔ ایک دِن اُس نے میرے سب دوستوں کے سامنے میری بے عزتی کر دی ۔حالانکہ میںنے اُس کے ساتھ کوئی غلط بات نہیںکی تھی۔مجھے آج تک اِس کا افسوس ہے۔میں ایسے شخص کو کیسے معاف کر سکتا ہوں۔

ندیم: یہ ایک اہم سوال ہے۔ ہم اُن کو جو ہمیں دُکھ پہنچاتے ہیں کِس طرح سچ مُچ معاف کر سکتے ہیں۔

زیدی: ندیم بھائی۔ کیا میں اِس سوال کا جواب دے سکتا ہوں؟

ندیم: کیوں نہیں۔

زیدی: ہماری زندگیوں میں پیروی کے لئے سب سے بڑی مثال خُداوند عیسیٰ مسیح ہیں، ساری حمداُن ہی کو ملے۔بائبل مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ خُداوند عیسیٰ مسیح کِس طرح قصبوں او ر دیہاتوں کے گرد تمام لوگوں کے ساتھ، بھلائی کرتے اور اُن کی بیماریوں سے اُنہیں شفائ دیتے پھرے۔ لیکن وہ سب وہی لوگ تھے جنہوں نے پیلاطوس سے کہا کہ عیسیٰ مسیح کو چوروں کی طرح صلیب دی جائے۔

ندیم: بالکل ٹھیک ۔ جوعیسیٰ مسیح نے کیا ہے ہمارے لیے سب سے بڑی مثال ہے۔ ناصر تمہارے خیال میںعیسیٰ مسیح نے کیسا محسوس کیا جب اُنہوںنے اُن لوگوں کواُنہیں صلیب دینے کے لئے پکارتے سُنا جِن کی اُنہوںنے ساری زندگی خِدمت کی تھی۔کیا تمہارا خیال ہے کہ اُن سے نیکی کرنے کا اُنہیں افسوس ہُوا ۔ ہم برہم ہو جاتے ہیں اور اپنے اُس دوست کے لئے دِل میں منفی سوچ رکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ جِس نے ہمیں دُکھ دیابے شک ہم اُس کی حمایت کرتے ہیں۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ صلیب پر مرنے سے پہلے عیسیٰ مسیح نے کیا کہا۔ اُنہوں نے ایک بہت مشہور کلمہ کہا۔ اے باپ اِنہیں معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں۔ عیسیٰ مسیح نے اُن کے لئے باپ سے معافی طلب کرنے سے پہلے مرنے سے انکار کر دیا۔

پروین: بائبل مقدس ہمیں ایک اور بر گذیدہ شخص کے بارے میں بتاتی ہے جِنہوں نے عیسیٰ مسیح کو نمونے کے طور پر لیا۔ اُن کا نام حضرت استفنس ہے۔ جب لوگ اُنہیں سنگسار کر رہے تھے تو اُنہوں نے بالکل اپنے آقا عیسیٰ مسیح کی طرح کیا۔ اُنہوںنے خُدا باپ کی سبق نمبر4 صفحہ نمبر6

طرف آنکھیں اُٹھائیں اور کہا،"خُداوند یہ قصور اِن کے ذمے نہ لگا"۔

زیدی: پروین بہن ! مُجھے حضرت یوسف کی کہانی بھی یاد ہے۔اُس سارے نقصان کے باوجود جو اُن کے بھائیوں نے اُنہیں پہنچایا ۔ اُنہوںنے اُنہیں خوراک دی جو اُن کی ضرورت تھی اور اِس طرح اُنہیں قحط اور موت سے بچالیا۔

ندیم: زیدی بھائی !جِس طرح میں نے پہلے ذِکر کیا تھا۔ معاف نہ کرناابلیس کے کاموں میں سے ایک ہے۔ وہ ہم میں ایسے خیالات ڈالتا ہے جوہمیں تنگ کرتے ہیں۔ وہ ہم میں نفرت بڑھاتا ہے۔ نفرت مذاہمت میں بدلتی ہے ، مذاہمت خواہش میں ، خواہش انتقام میں اور انتقام جان سے مارنے چوری کرنے اور دوسرے کاموں کی طرف راغب کرتا ہے۔

ناصر: ابو میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کیونکہ شیطان مختلف خیالوں سے مُجھ پر حملہ کر رہا ہے۔ مثال کے طور پرکہ اگر میرا دوست نہ آئے اور اُس دُکھ کے لئے جو اُس نے مُجھے پہنچایا معافی نہ مانگے میں اُس سے ہر قسم کا رشتہ توڑ دوں گا۔

ندیم: ناصر سُنو۔ اگر ہم نے خُداوندعیسیٰ مسیح کو نمونے کے طور پر لیا ہے۔ تو پھر ہمیں دوسروںکو اُسی طرح معاف کرنا ہے جیسے اُنہوں نے دوسروں کو معاف کیا تھا۔ خُداوند عیسیٰ مسیح نے ہمیں کوئی قیمت ادا کئے بغیر معاف کیا ہے۔ پس دوسروں کے لئے ہماری معافی بھی مفت ہونی چاہیے۔ اُن سے کِسی ادائیگی کی توقع نہیں کرنی چاہئے، نہ ہی ہمیں تو قع کرنی چاہئے کہ کوئی آکر معافی مانگے۔

ناصر: بالکل ٹھیک۔ میں محسوس کرتا ہوں عیسیٰ مسیح مجھے ابھار رہے ہیں کہ جا کر اپنے دوست سے اور اپنے پڑوسی جمال سے محبت دِکھائوں۔

ندیم: کیا آپ کو معلوم ہے کہ دوسروں کو معاف کرنے سے ہم اُن پر خداوند عیسیٰ مسیح کو اور اُن کی تعلیم کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور ہم اپنے وسیلے سے اُن کو خُداوند کو جلال دینے کی طر ف لے جاتے ہیں۔

زیدی: میں آپ کو بتا نا چا ہتا ہوں کہ کچھ عر صے سے میرے ساتھ کیا ہوا۔ آپ سب جانتے ہیں کہ جب میں عیسیٰ مسیح پر ایمان لایاتو میرا خاندان میرے خلاف تھا ۔میرے خاندان والے ہمیشہ میرے لئے بہت سے مسئلے پیدا کرتے تھے۔ اُنہوں نے مُجھے گھر سے باہرنکا ل دیا۔ ایک مرتبہ جب میں گلی میں جا رہا تھا میرا سب سے چھوٹا بھائی مُجھ سے مِلا ۔اُس نے میرے ساتھ ہاتھ مِلانے یا سلام کرنے سے انکار کر دیا اور حقارت سے میری طرف دیکھا۔ اور چلا گیا۔

ناصر: اوہو۔ اِس طرح کا سلوک تو برداشت سے باہر ہوتا ہے؟

زیدی: ناصر آپ نے ٹھیک کہا ۔ شروع میں مُجھے بہت مشکل لگا اور رونا آتا تھا۔ اور اُن سے قطع تعلقی کا فیصلہ کرنے کو جی چاہتا تھا لیکن جب میں نے نوکر اور مالک کی کہانی پڑھی۔ جوپروین بہن نے ہمیں ابھی سُنائی تھی ، میں نے محسوس کیا کہ خُداوند عیسیٰ مسیح نے میرے کتنے زیادہ قصور معاف کئے۔ تو کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اُس خطا کو جو میرے بھائی نے کی، معاف نہ کر وں۔ اُسی وقت میں اپنے

سبق نمبر4 صفحہ نمبر7

بھائی سے بے پناہ محبت سے بھر گیا۔ اور میں نے اُسے بُلانے کا فیصلہ کیا۔ میں نے پکار کر کہا ۔ "مت سوچو میں تم سے ناراض ہوں میں تم سے محبت کرتا ہوں اور خواہ کُچھ بھی ہو تم ہمیشہ میرے بھائی رہوگے۔ لیکن میں نے دیکھا دوسری طرف خاموشی تھی۔

ناصر: انکل زیدی !اُسے رُکنا چاہیے تھا۔

زیدی: میرا بھی یہی خیال تھا۔ لیکن پھر میں نے کُچھ رونے کی آواز سُنی۔ میرے بھائی نے جوکچھ کیا تھا اُس کے لئے رو رہا تھا وہ میرے نزدیک آیا اور اُس نے میرے ساتھ باتیں کرنا شروع کیں۔ اور کہنے لگا عیسیٰ مسیح کی تعلیم کتنی خوبصورت ہے۔ اُس وقت سے اُس نے عیسیٰ مسیح کے بارے سیکھنا شروع کر دیا۔ لیکن ابھی تک اُس نے حتمی وعدہ نہیں کیا۔

ندیم: خُداوندکا شکر ہو۔ بہت لوگ شاید خیال کریں کہ ایسی معافی ایک قسم کی کمزوری ہے لیکن حقیقت میں اِس معافی میں قوت ہے۔ صرف ایک مضبوط آدمی ہی معاف کر سکتا ہے ۔ میں کُچھ اور بھی کہنا چاہتا ہوںکہ معاف نہ کرنے کا نتیجہ بدنی درد ہوتا ہے۔

ناصر: بدنی درد؟

ندیم: ہاں ناصر ،میرے ایک دوست کو معدے میں سخت درد تھا۔ اُس نے مختلف ڈاکٹر سے مشورہ کیا۔ معا ئنے کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ معدہ کا یہ درد اُسے ذہنی پر یشاینوں کی وجہ سے ہے۔

پروین: ہاں۔ میںبھی جانتی ہوں کہ بہت سی بیماریاں بدنی وجوہات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

ندیم: میرا دوست اِسی حالت میں رہا جب تک اپنے ایک ہم ایمان دوست سے نہ مِلا۔ جِس نے اُسے بتایا کہ اُس کے درد کی وجہ کسی کو معاف نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔ جِس نے اُسے نقصان پہنچایا ہے۔ وہ اکٹھے بیٹھ گئے اورایماندار دوست نے اُس شخص کے لئے دُعا کی۔ اے عیسیٰ مسیح میرے دوست کے نہ معاف کرنے کے گناہ کو معاف فرما۔ اور اُس وقت سے لے کر آج تک اِس دوست کو کبھی درد نہیںہُوا۔خداوند کی تعریف ہو۔

آئیں اب ہم سب دعا کریں اور اپنے اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور دیکھیں، کیاکُچھ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں دُکھ دیا ہے یا ہمیں رنجیدہ کیاہے۔اور ہم نے اُنہیں معاف نہیں کیا۔آئیے باری باری دعا کریں ۔ اور معافی مانگیں اور کہیں عیسیٰ مسیح کا لہو ہمیںمعاف کرے اور صاف کرے اور اُن دوستوں کے لئے معافی مانگیں جنہوںنے ہمیں نقصان پہنچایا ہے۔

پروین: اے عیسیٰ مسیح میں اپنی سہیلی جو میرے ساتھ کام کرتی ہے ، اُس دُکھ کے لئے جو اُس نے پچھلے ہفتے مُجھے دیا ، اُسے معاف کرتی ہوں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔ آمین۔

ناصر: خُداوند میںاپنے دوست کے لیے دُعا کرتا ہوں اور اُسے معاف کرتا ہوں کہ جس نے سب دوستوں کے سامنے میری بے عزتی

سبق نمبر4 صفحہ نمبر8

کی۔ میں پورے دِل سے اُسے معاف کرتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ میں اُس سے بہت محبت کرتا ہوں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔آمین۔

ندیم: زیدی بھائی !خُداوند نے ایک اہم مضمون کے بار ے میں بات کی ہے جو سچ مچ ہماری زندگیوں کے لئے بہت ضروری ہے ۔ آئیے آنے والے ہفتے کے دوران ہم خُداوند کے بارے میں زیادہ غور کرتے رہیں۔اور دوسروں کو معاف کرنا سیکھتے رہیں۔

ناصر: ابو کیا ہم اِسی جگہ مِلیں گے؟

ندیم: ہاں ناصر۔ اِسی جگہ۔یہیں ۔ آئیے ہم کھڑے ہو جائیں۔ اور دعا کریں۔

ندیم: زیدی بھائی !آپ شکر گزاری کی دُعا کے ساتھ آج کی عبادت ختم کریں گے۔

زیدی: اے ہمارے خدا! ہم تیرے پاک کلام کے لئے جو تُو نے آج ہمیں دیا ، تیرا شکر کرتے ہیں۔ ہم دُعا کرتے ہیں کہ اگلے ہفتے کے دوران ندیم ، پروین، ناصر اور میں اپنی زندگیوں سے تیری کامل مرضی پوری کریںعیسیٰ مسیح کے نام میں۔ آمین۔