Hear Fellowship With My Family Episode 5 (Audio MP3)

View FWMF episode 5 as a PDF file

سبق نمبر5 صفحہ نمبر1

دُعا

﴿گھڑی پانچ بجا رہی ہے﴾

پروین: ندیم پانچ بج چُکے ہیں۔ میری بہن شمیم کِسی بھی وقت یہاں ہو گی۔

ندیم: پروین میں بہت خوش ہوں ۔ میں نے بہت مُدت سے اُسے نہیں دیکھا۔

پروین: وہ بھی بہت خوش ہو گی جب ہم سب کو دیکھے گی۔

زیدی: پروین بہن ، جِس طرح آپ اُس کے بارے میں باتیں کررہے ہیں۔ میرے دِل میں بھی اُسے دیکھنے کی خواہش پیدا ہوگئی ہے۔آپ لوگوں نے مُجھے آج جلدی آنے کو کہا تھا۔ تاکہ اُسے مل سکوں۔ وہ کتنی دیر ملک باہررہی ہے۔

پروین: زیدی بھائی ،وہ تین سال مُلک سے باہر رہی ہے۔ وہ انگلستان میں تعلیم حاصل کر رہی تھی۔

﴿دروازے پر گھنٹی بجتی ہے﴾

ناصر: امّی لگتا ہے انٹی شمیم آگئی ہیں ۔میں دروازہ کھولتا ہوں۔

پروین: ناصر میں بھی آتی ہوں۔﴿pause﴾ ﴿ دروازہ کھولتا ہے﴾ او شمیم بہن کیسی ہو۔ تمہیں دیکھنے کو تو میں ترس گئی ہوں، بہت بے چین رہی ہوں۔

شمیم: پروین بہن، میں بھی تمہارے بغیر بہت بے چین رہی ہوں۔ندیم بھائی، آپ کیسے ہیں؟

ندیم: میں ٹھیک ہوں شمیم ۔ آپ کا کیاحال ہے؟ ہم تمہاری غیر موجودگی کو بہت محسوس کرتے تھے۔

شمیم: شکریہ بھائی ۔ میں ٹھیک ہوں ۔ ناصر تمہارا کیا حال ہے؟

ناصر : انٹی میں بھی ٹھیک ہوں۔

شمیم: اور آپ یقینا زیدی صاحب ہوں گے۔

زیدی: آپ کو کیسے پتہ ہے؟

شمیم: میں آپ کو جانتی ہوں ۔ مُجھے یقین نہیں آ رہا۔ میں یہاں آپ کے ساتھ ہوں ۔ اور آپ کی جماعت کی اِس عبادت میںشریک ہو رہی ہوں۔

زیدی: شمیم بہن ۔ آپ کو ہماری کلیسیائی عبادت کا کیسے علم ہُوا؟

شمیم: اُسی طرح جیسے میں آپ کا نام جانتی ہوں۔ دراصل میری بہن پروین اور بھائی ندیم نے خط لکھ کر مجھے سب کچھ بتا دیا تھا ۔ وہ اِس قدر جوش میں تھے کہ میں آنے اور آپ سب سے ملنے کو بے تاب ہوگئی۔

سبق نمبر5 صفحہ نمبر2

پروین: شمیم آپ ضرور تھک گئی ہونگی۔ کمرے میں جائو۔ کچھ دیر آرام کرلو۔ تمہارے آنے پر ہم اپنی عبادت شروع کریں گے۔

شمیم : آپ کی چائے ختم ہونے سے پہلے میں یہاں ہونگی۔

زیدی: بہت خوب ۔آپ یہ بھی جانتی ہیں کہ ہم چائے پیتے ہیں۔

ناصر: انکل زیدی،امّی نے ساری تفصیل بتائی ہوئی ہے۔

شمیم : میں جلدی واپس آتی ہوں۔

تمام لوگ:ٹھیک ہے۔

ندیم: زیدی بھائی، جب تک ہم چائے پیتے اور شمیم بہن کا انتظار کرتے ہیں ،کیوں نہ ایک گیت سن لیا جائے؟

زیدی: اچھا خیال ہے ۔

ندیم: تو آئیے یہ گیت سنتے ہیں۔﴿گیت:چائے اور برینوں کی آوازیں﴾

شمیم: لیجئے میں حاضر ہوں۔

ندیم: آج ہم بہت خوش ہیں کیونکہ ہماری جماعت میں ایک نیا ممبر آیا ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، اتفا قیہ طور پر ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوئیں۔ پروین اور میں اِن کیلئے دعا کرتے رہے ہیں۔ یہ ہماری دعائوں کا جواب ہے اور آج ہماری گفتگو کا موضوع بھی دعا ہے۔

شمیم: مُجھے اِس موضوع کے متعلق سیکھنے کی بہت ضرورت ہے میں بہت دُعا نہیں کرتی تیسرے یا چوتھے روز ایک بار دُعا کرلیتی ہوں۔

ندیم: یہی وجہ ہے کہ آپ میں ہمیں بتاتی رہیں تھیں کہ آپ کی روحانی زندگی کمزور ہے۔ اِس موضوع پر بحث کرنا ہم سب کے لئے اچھا ہوگا۔ لیکن آئیے! پہلے خُداوند کی ستائش کریں۔ پروین ، کیا آپ ستائش میں ہماری رہنمائی کریں گی۔

منال: کیوں نہیں ، آئیں ہم سب مل کر گائیں۔

گیت:

تمام لوگ:گاتے ہوئے۔

ندیم: آئیں ہم دعا کریں۔ زیدی صاحب آپ راہنمائی کریں۔

زیدی: اے خُداوند میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ آج تُو ہمارے درمیان موجود ہے۔ حمد و ثنا کے اِس وقت کے لئے تیرا شکر کرتا ہوںکیونکہ ہم نے تیری حضوری کا لطف اُٹھا یا ہے۔ اے خُداوندہمیں برکت دے۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں آمین۔

تمام لوگ:آمین

سبق نمبر5 صفحہ نمبر3

ندیم: آمین۔ آج زیدی صاحبدعا کے موضوع پرروشنی ڈالیں گے۔ وہ سارا ہفتہ تیاری کرتے رہے ہیں۔ زیدی صاحب ، شروع کریں۔

زیدی: ندیم بھائی شکریہ۔میں آپ کو بتاناچاہتا ہوں کہ پہلی چیز جو ہمیں کو دُعا کے بارے میں جاننی چاہیے وہ دُعا کی تعریف ہے۔ کیا آپ میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ دعا کیاہے؟

پروین : دُعا وہ راستہ ہے جِس سے ہم خدا تعالیٰ سے باتیں کرتے ہیں۔

ناصر: زیدی انکل ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ دُعا خُدا کے ساتھ ایسا تعلق ہے ۔ جس میں ہم نہ صرف اُس کے ساتھ باتیں کرتے ہیںبلکہ وہ بھی اپنے پاک روح کے وسیلے سے ہم سے باتیں کرتا ہے۔

زیدی: یہ سب درست ہے۔ دُعا خدا اور ہمارے درمیان وہ ذریعہ ہے جِس میں وہ ہمارے ساتھ باتیں کرتا ہے اور ہم اُس کے ساتھ باتیں کرتے ہیں۔اور دُعا نہ صرف ایک موضوع ہے جِس کے بارے میںہمیں علم ہونا چاہیے ۔ بلکہ یہ ایک طرزِ زندگی ہے جِس کی ہمیں پیروی کرنی چاہیے۔ ہم کتاب ِ مقدس بائبل سے جانتے ہیں کہ دُعا خُدا اور اُس کے لوگوں کے درمیان ایک بہت لازمی رابطہ تھا ۔

شمیم: زیدی بھائی میں نے ایک بار سیموائیل نبی کے بارے میںپڑھا تھا ۔ جب کبھی کوئی اُن لوگوں سے غلط کام ہو جا تا وہ اُنہیں ایک جگہ جمع کرتے اور اُن کے لیے دُعا مانگتے تھے ۔ یہ بات اُن کے الفاظ سے ظاہر ہے جو کتا ب ِ مقدس بائبل میں پہلے سیموائیل کی کتاب میں درج ہے۔ جب اُنہوںنے کہا، "اسرائیل کے سب لوگوں کو جمع کرو اور خُداوند سے اُن کے لیے دُعا کرونگا"۔ خُدا اُن کی سب دُعائوں کا جواب دیا کرتا تھا ۔

زیدی: بالکل، جیسے شمیم بہن نے کہا۔حضرت سیموائیل خُدا کے آدمیوں میں سے ایک تھے جن کی زندگی دُعا پر مرکوز تھی ۔ ہمارے لیے دوسری مثال عیسیٰ مسیح خود ہیں جو لگاتار دعا کرتے رہتے تھے ۔ کتابِ مقدس بائبل ہمیں حضرت لوقا کی معرفت لکھی گئی انجیل ، اُس کے چھٹے با ب کی بارہویںآیت میں بتاتی ہے کہ یسوع مسیح پہاڑپر دُعا مانگنے کے لئے جایا کرتے تھے ۔ اُنہیں علم تھا کہ دُعا کرنا کتنا اہم ہے۔ اِس لیے وہ ساری رات دُعا کرتے تھے۔ اِس کا مطلب ہے کہ چھ گھنٹے سے بھی زیادہ دُعا کرتے تھے۔ جب اُن کا پیارا دوست لعزر مر گیا۔اُنہوں نے حضرت یوحنا کی معر فت لکھی گئی انجیل اُس کے گیارہویںبا ب کی اکتا لسیویں آیت کے مطا بق دعا کی۔ ناصر ! کیا آپ ہمارے لیے یہ آیت پڑھیں گے۔

ناصر: ﴿آیت تلاش کرتے ہوئے﴾ پھر یسوع یعنی عیسیٰ مسیح نے اوپر نگاہ کی اور کہا، اے باپ میں شکر کرتا ہوں کہ تُو نے میری سُنی ہے ۔ مُجھے معلوم تھا کہ تُو ہمیشہ میری سُنتا ہے لیکن یہ بات میں نے لوگوں کے فائدے کے لئے کہی جو یہاں کھڑے ہیں۔

سبق نمبر5 صفحہ نمبر4

زیدی: دیکھو عیسیٰ مسیح بھی اِس موقع پر دعا کررہے تھے اُنہوں نے دوسرے موقعوں پر بھی دعا کی۔

ندیم: زیدی بھائی ، جب عیسیٰ مسیح صلیب پر مر رہے تھے۔ اُنہوں نے اُن کے لیے جنہوںنے اُن کے ساتھ بُرا سلوک کیا، دُعا کی۔ اُنہوں نے کہا، اے باپ اِنہیںمعاف کر کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ کیاکرتے ہیں۔

زیدی: جی ہاں!ہم اِس سے سیکھتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح ہمیں سِکھانا چاہتے تھے کہ دُعا مانگنا کتنا اہم ہے۔

پروین: دُعا کے بارے میں مُجھے ابھی ایک بات یاد آئی ہے۔یہ بات آپ کو متی رسول کی معر فت لکھی گئی انجیل اُس کے چھٹے باب کی چھٹی آیت میں ملے گی ،"جب دُعا مانگو تو اپنی کوٹھری میں جائو ، دروازہ بند کرو اور اپنے باپ سے جو پوشیدگی میں ہے دُعا کرو"۔اِس آیت میں ہم دُعا کرنے کے لیے ایک اہم ترین شرط دیکھتے ہیں۔ جب عیسیٰ نے کہا ، "دروازہ بند کرو"۔اِس کا مطلب کمرے کا دروازہ بند کرنا نہیں تھا ۔ بلکہ اِس کا مطلب اپنے دماغ اور خیالات کے دروازے بند کرنا تھا ۔ دوسرے لفظوں میں مُجھے اِرد گرد کی چیزوں کے بارے میں بھول جانا چاہیے، کیونکہ یہ مجھے دعا پر پوری توجہ نہ دینے دیں گے۔

زیدی: پروین بہن یہ سچ ہے کہ جب میں دُعا کرنا چاہتا ہوں تو اہم ترین بات دُعا پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

شمیم: لیکن اکثر ہم نہیں جانتے کہ کیا کہیں یا کیا دعا کریں ۔

زیدی: شمیم بہن ، عیسیٰ مسیح نے ہمیں بائبل مقدس میں حضرت لوقا کی معر فت لکھی گئی انجیل اس کے گیا رہویں باب کی پہلی آیت میں یہ سکھایا ہے۔ کہ دُعا کیسے مانگنی ہے۔ آئیں ہم اِس آیت کو پڑھیں ۔ ناصر آپ پڑھنے میں راہنمائی کریں ۔﴿ورق الٹنے کی آواز﴾

ناصر: یہاں لکھا ہے ،اے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو ۔ ہمارے روز کی روٹی آج ہمیں دے ۔ ہمارے قصور معاف کر کہ ہم بھی اپنے قصوروارں کو معاف کرتے ہیں۔ ہمیں آزمائش میں نہ لا بلکہ بُرائی سے بچا کیونکہ بادشاہت ، قدرت اور جلال تیرے ہی ہیں۔ آمین۔

زیدی: خُداوند عیسیٰ مسیح نے ، ہمیں دُعا کرنا سِکھانے کے لئے۔یہ دعا کہی ۔ کہ کس طرح ترتیب سے باتیں کہتی ہیں۔

پروین: ترتیب سے باتیں کرنے سے آپ کا کیا مطلب ہے؟

زیدی: دیکھئے جب ہم اِس دُعا کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ مختلف حصوں میں تقسیم ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی ایک وقت میں ایک حصہ دہرائے۔ پہلا حصہ میں کہونگا ، "اے ہمارے باپ، تو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے"۔کیا آپ نے دیکھا اُنہوںنے اپنی دُعا کیسے شروع کی۔

ناصر: انکل میرا خیال ہے وہ لفظ ہے "تیرا نام پاک مانا جائے"تعریف کا لفظ ہے۔

زیدی: بالکل ٹھیک مُجھے اپنی دُعا خُدا کی تعریف کرنے سے شروع کرنی چاہیے۔ اُس کا شکر کرتے ہوئے اور اُس کے خوبصورت

سبق نمبر5 صفحہ نمبر5

کاموں پر غور کرتے ہوئے۔ مُجھے اُس کی تعریف کرنی چاہیے ۔ اب دعا کا دوسرا حصہ کون پڑھے گا۔

شمیم: میں پڑھوں گی۔

زیدی: پڑھیے شمیم بہن۔

شمیم: تیری مرضی جیسے آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔ زیدی بھائی اِن الفاظ سے میں یہ سمجھتی ہوں کہ خدا سے کہوں کہ وہ زمین پر حکومت کرے ۔ جِس طرح وہ آسمان پر حکومت کر رہا ہے ۔وہ ہمارے دماغوں اور دِلوںپر بھی حکومت کرے تاکہ ہم عیسیٰ مسیح کی برکات حاصل کر سکیں۔

پروین: زیدی بھائی، کیا میں تیسرا حصہ پڑھوں۔

زیدی: جی پروین بہن۔

پروین: لکھا ہے ،ہمارے روز کی روٹی آج ہمیں دے۔ اِس کا مطلب ہے ، مُجھے اپنی جسمانی ضرورتوں کے لیے دعا مانگی چاہئے۔ یہاں میںنے دیکھاہے کہ عیسیٰ مسیح ہمیں یہ سکھا رہے ہیں، کہ دل سے اُن پر اعتماد کریں۔اُنہوں نے کہا، ہمیں ہر روز دے۔ یہ نہیں کہا، "ہمیں ہر ماہ دے"۔وہ ہمیں سِکھا رہے ہیں کہ جو ہماری آج کی ضرورت ہے ، خُدا ہمیں دے سکتا ہے ۔ اورجو ہماری کل کی ضرورت ہے وہ بھی ہمیں دے سکتا ہے ۔

زیدی: جی ہاں! اور وہ ہمیں سکھانا چاہتے ہیں کہ روحانی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ جسمانی ضرورتوں کیلئے بھی ہمیں دعا مانگنی چاہئے۔

ندیم: زیدی بھائی، میں چوتھے حصے کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

زیدی: ٹھیک ہے ندیم بھائی۔

ندیم: چوتھا حصہ بتاتا ہے ، ہمارے قصور معاف کر ۔عیسیٰ مسیح نے یہاں معافی کا ذِکر ہمیںیہ بتانے کے لئے کیا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اپنے قصوروں، اورگناہوں کے بارے سوچتے رہنا چاہئے۔ ہمارے گناہ شاید ہمیں دُعا سے دور رکھ سکتے ہیں ۔ اگرہم ہمیشہ محسوس کریں ہم گنہگار ہیں ۔ ہم خدا کی حمد نہیں کرسکتے۔

شمیم : بالکل یہی کچھ میرے ساتھ ہو رہا ہے ۔ جب میں اپنے گناہوں کو یاد کرتی ہوں تو دعا نہیں کرسکتی۔

زیدی: ناصرآپ نے ابھی تک کُچھ نہیں کہا۔ کیاآپ خُداوند کی دُعا کے پانچویں حصے کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔

ناصر: جی ہاں،جب ہم دُعا کے بارے میں پڑھ رہے تھے تو میں اِس بات کے بارے میں سوچ رہا تھا، ہمیں آزمائش میں نہ لا۔انکل سچا ایماندار جو ہے نہ وہ گناہوں سے بھاگتا ہے۔ کیونکہ شیطانہر وقت اُسے اپنے جال میں پھنسانے کے لئے تیار رہتاہے۔ کتابِ مقدس بائبل میں حضرت یعقوب اپنے خط کے چوتھے باب کی ساتویں آیت میں اِس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں شیطان

سبق نمبر5 صفحہ نمبر6

کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا۔

زیدی: جی ہاں ،اور ابھی ایک نقطہ اورہے میں اِس کے بارے میں بات کرونگا۔ وہ نکتہ یہ ہے ،کیونکہ قدرت ، جلال اور حکومت تیرے ہیں۔ آمین۔اِس کا مطلب ہے کہ جِس طرح میں نے دُعا شروع کی تھی اُسی طرح ختم کروں۔ میں نے خُدا کی حمد سے دعا شروع کی اور مُجھے اُس کی حمد ہی سے ختم کرنی چاہیے۔ آئیے اُن سب نقطوں کو پھر سے دہرائیں۔نمبر1خدا کی ستائش کرنا۔ نمبر2خُدا کی بادشاہی مانگنا۔ نمبر3جسمانی ضرورتوں کیلئے دعا مانگنا۔نمبر 4۔معافی ، توبہ اور شیطان سے مقابلہ کرنا۔ نمبر5حمد سے ختم کرنا۔

ناصر: انکل ، میں نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ہماری دعا کو مختلف حصوں میں تقسیم ہونا چاہئے۔

شمیم: میںہمیشہ خُداوند کی دُعا کہا کرتی تھی لیکن اِن نقاط کے بارے میں کبھی خیال نہیںکیا تھا ۔

زیدی: خُدا کی تعریف ہو۔ بہرحال دُعائیہ زندگی کھانے اور پینے کی طرح اثر رکھتی ہے۔

ناصر: کھانے اور پینے کی طرح ؟آپ کا اِس سے کیا مطلب ہے۔

زیدی: کوئی کھائے پئے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟

ناصر: نہیں۔

مجدی: اگر ہم بائبل مقدس نہ پڑھیں اور دُعا نہ مانگیں تو ہماری روحانی زندگی کمزور ہو جائے گی ۔ دُعا ہماری زندگی تبدیل کر سکتی ہے۔ پہلی چیز جو دُعا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ میرے بار ے میں مُجھے صحیح علم دیتی ہے۔ جب میں دُعا کے وسیلے خُدا سے التماس کرتا ہوں تو میں خود کو ایسے دیکھتا ہوں جیسے خُدا مُجھے دیکھتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں وہ مُجھ سے بہت پیار کرتا ہے ۔میں اپنے گناہوں اور کمزوریوں کو بھی دیکھتا ہوں ۔ جب میں اپنے گناہوں کو دیکھتا ہوں میں اپنا طرزِ زندگی تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتا ہوں تاکہ میں اور گناہ نہ کروں۔ مثال کے طور پرجب میںآپ کے چہرے پر دھوپ کا عکس ڈالنے کے لئے آئینہ استعمال کرتا ہوں تو کیا ہوتاہے؟

ناصر: چہرہ سورج کی طرح چمکنے لگتا ہے۔

زیدی: دُعا بھی ہماری زندگیوں میں ایسا ہی کرتی ہے ۔ جب ہم خُدا کے آگے کھڑے ہوتے ہیں تو اُس کی روشنی ہم پر اور ہماری زندگی پر پڑتی ہے اور ہماری زندگی مکمل طور پر تبدیل ہوجاتی ہے۔

ندیم: زیدی بھائی ، کچھ آئیتںمیرے ذہن میں آرہی ہیں۔جو اِس بات کی حمایت کرتی ہیں جو آپ نے ابھی کہی۔ مثال کے طور پر زبور36باب9آیت میں لکھاہے، "ہم تیرے نور میںنور کو دیکھتے ہیں"۔جب آپ نے آئینے کا ذکر کیا ، مُجھے 2 کرنتھیوں3باب18آیت کی ایک اور بات یاد آئی۔ "مگر جب ہمارے سب کے بے نقاب چہروں سے خُداوند کا جلال

سبق نمبر5 صفحہ نمبر7

منعکس ہوتا ہے جِس طرح آئینے میں تو اُس خُداوند کے وسیلے سے جو روح ہے ہم اُسی جلالی صورت میں درجہ بدرجہ بدلتے جاتے ہیں"۔اِس کا مطلب ہے جب ہم دُعا مانگتے ہیں ہم عیسیٰ مسیح کو دیکھتے ہیں ۔ اور ہم اُن کی طرح تبدیل ہو جائیں گے۔

زیدی: بالکلندیم بھائی، جو دُعا کے بارے میں کہاگیا ہے۔ میں اُسے دہرانا چاہتا ہوں۔دُعا مُجھے میرے بارے میںصحیح علم دیتی ہے۔ یہ تبدیل ہونے میں میری مدد کرتی ہے۔ یہ ہماریارد گردکے لوگوں کو بھی تبدل کرتی ہے کیونکہ ہم خُد ا کے نزدیک ہوتے ہیں۔ ہمارے دِل بدل جاتے ہیں اور خُدا دُنیا کو اُس طور پر جِس سے اُسے جلال مِلتا ہے ، بدل سکتا ہے۔

شمیم: اورخُدا ہماری دُعائوں کا جواب دیتا ہے کیونکہ عیسیٰ مسیح نے کہا،"اگر تُم مُجھ میںقائم رہو اور میری باتیں تم میں قائم رہیں تو جو چاہو مانگو تمہارے لئے ہو جائے گا۔

پروین: میں دُعا کی قدرت کے بارے میں آپ کوایک کہانی سُناناچاہتی ہوں کہ کِس طرح اِس سے معجزے ہوتے ہیں۔ وہ چیزیں جو ہم ناممکن خیال کرتے ہیں دُعا کے وسیلے ممکن ہو جاتی ہیں۔میری ایک سہیلی کاباپ بہت بیمار تھا ڈاکٹر جِس نے اُس کا معائنہ کیا کہا، وہ چند گھنٹوں کے بعد مر جائے گا ۔ میری سہیلی جانتی تھی کہ خُدا اُس کی دُعا کا جواب دے گا۔ پس اُس نے اپنے باپ کے لیے دُعا مانگنا شروع کر دی کیونکہ وہ اُس سے بہت محبت کرتی تھی۔ اُس کا ایمان تھا خُدا اُسے شفائ دیگا۔ اُس نے ساری رات دُعا کی اور ایک معجزہ ہُوااور اُس کے باپ کی صحت بہتر ہونے لگی۔ جب ڈاکٹر اگلی صبح آیا تو اُس آدمی کو دیکھ کر حیران ہو گیا کہ وہ ابھی تک زندہ ہے اور باتیں کر رہا ہے ۔ جب اُس کو معلوم ہوا کہ یہ کیسے ہُوا تو اُس نے اپنی پوری رپورٹ میں لِکھا اگرچہ یہ آدی طبی طور پر مر رہا تھا اِس کی بیٹی کی دُعا نے اسے شفائ دے دی۔

زیدی: پروین بہن، یہ ایک بڑا معجزہ ہے۔ میرا خیال ہے ہم نے یہ موضوع ختم کر لیا ہے۔ لیکن آئیے ہم کچھ عملی مسائل پر بات چیت کریں۔

ناصر: کیوں نہ ہم ہر صبح جب ہم جاگتے ہیں۔اِدعا مانگنا شروع کریں صبح کے وقت ہمیں تھکاوٹ نہیں ہوتی اور ہمارے دماغ تازہ ہوتے ہیں۔ اگر ہم رات کو دیر سے دُعا کرتے ہیں تو شاید ہم تھکے ہوتے ہیں اور نیند آتی ہے۔

زیدی: بہت اچھی رائے ہے۔ آئیے! ہم صبح ساڑھے چھ بجے اُٹھا کریں اور دُعا کیاکریں۔ ہم آدھ گھنٹہ دُعا کیا کریں گے۔

ندیم: زیدی بھائی ،یہ تو بہت جلدی ہے ۔ لیکن میں اتنی جلدی دُعا کے لئے ۔ اُٹھنے کو تیار ہوں۔

تمام لوگ: ہم سب تیار ہیں۔

پروین: ہم سب متفق ہیں کہ کب دُعا کرنی ہے۔ اورہر شخص کو دُعا کے لئے علحیدہ جگہ تلاش کرنی چاہیے جہاں پر وہ صرف دُعا پر توجہ کر سکے۔

ندیم: جی ہاں زیدی صاحب اِن دلچسپ باتوںکے لیے شکریہ۔ خُدا آپ کو برکت دے۔ آئیے ہم سب اپنے دِلوں کو خُدا کے حضور

سبق نمبر5 صفحہ نمبر8

کھولیں اور دُعا کریں۔ اُسے کہیں ہمیں دُعا کرنا سِکھا۔شمیم بہن کیا آپ دعا میں راہنمائی کریں گی۔

شمیم: کیوں نہیں۔ خُداوند ہم شکر گزار ہیں تیرا دِل ہمیشہ ہمارے لیے کھُلا رہتا ہے۔ مہربانی کر کے خداوند ہمیں دُعا مانگنا سِکھاکیونکہ

قدر ت اور جلال ہمیشہ تیرے ہیں۔ آمین۔

ندیم: کیا آپ میں سے کوئی اِس کے علاوہ کُچھ اورکہنا چاہتا ہے۔

پروین: میں کہنا چاہتی ہوں ۔

ندیم: جی پروین ۔

پروین: میری سہیلی کی امی بہت بیمار ہیں اُن کی کمر میں شدید درد ہے کیوں نہ ہم خُدا سے دُعا کریںکہ اُسے شفائ دے۔

ندیم: پروین آپ دعا کریں۔

پروین: اے خُداوند ہم تیرے نام کو سر بلند کرتے اور تُجھے جلال دیتے ہیں۔ہم اقرار کرتے ہیں تُو ہمارا شافی ہے اِس وقت ہم اپنی سہیلی کی امی کی شفائ کے لیے تُجھ سے منت کرتے ہیں ۔اپنا ہاتھ بڑھا اور عیسیٰ مسیح کے نام سے اُسے شفائ دے۔بائبل مقدس میں لِکھا ہے کہ ہم تیرے مار کھانے سے شفائ پاتے ہیں۔ ہم اُس کے سارے درد کو لیتے ہیں اور تُجھ پر ڈالتے ہیں ۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں آمین۔

سب: آمین۔