Hear Fellowship With My Family Episode 6 (Audio MP3)

View FWMF episode 6 as a PDF file

سبق نمبر6 صفحہ نمبر1

"الٰہی شفائ"

چھ بجے ہیں

ناصر: ابو یہ بڑی عجیب بات ہے۔

ندیم: ناصر تم ٹھیک کہتے ہو۔زیدی صاحب پہلی مرتبہ لیٹ ہوئے ہیں۔

پروین: ندیم آپ اُنہیں ٹیلیفون کیوں نہیں کرتے؟

ندیم: پروین میں نے کئی بارفون کیا ہے مگرکوئی فون ہی نہیں اُٹھاتا۔

شمیم: ندیم بھائی !ہو سکتا ہے وہ کہیں اور چلے گئے ہوں۔

ندیم: نہیں شمیم زیدی صاحب کہیں اور نہیں جائیں گے ۔اُنہیں پتہ ہے آج جماعت یہاں اکٹھی ہو رہی ہے۔

﴿ٹیلی فون کی گھنٹی بجتی ہے﴾

ندیم: ناصر جلد ی کرو۔فون اٹھائو ۔ ہو سکتا ہے زیدی صاحب ہی ہوں۔

ناصر: ٹھیک ہے ابو ۔ ہیلو۔ جی انکل زیدی آپ کیسے ہیں۔ ہم تو فکر مند تھے ۔آپ کہا ہیں۔ابو! زیدی صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

ندیم: ہیلو۔جی جی ! زیدی صاحب کیسے ہیں آپ ۔ ٹھیک ہے ۔ہم ابھی آپ سے مِلنے آ رہے ہیں ۔آدھ گھنٹے میں آپ کے پاس ہونگے۔ فکرنہ کریں ۔ آپ کی سلامتی ہو۔

شمیم: ندیم کے بات ہے؟

ندیم: زیدی صاحب بہت بیمار ہیں ابھی ابھی ڈاکٹر کے پاس سے آئے ہیں ۔

پروین: ڈاکٹر نے کیا بتا یا ہے؟

ندیم: اُنہیں گُردے کا درد ہے ۔

شمیم: اوہو۔ وہ بہت پریشان ہوں گے۔ ہمیں اُن کے پاس جانا چاہئے۔

ندیم: اُنہوں نے درخواست کی ہے کہ ہم اُن کے گھر جا کر اُن کیلئے دعا کریں۔ہم آج اپنی کلیسیائی عبادت اُن کے گھر پر کریں گے۔

سب: ٹھیک ہے،ضرور جانا چاہئے۔چلتے ہیں۔

ناصر: میں گاڑی سٹارٹ کرتا ہوں۔﴿گاڑی سٹارٹ کی آواز﴾

﴿ ایک کار کا دروازہ کھلتا ہے اور بند ہوتا ہے﴾

سبق نمبر6 صفحہ نمبر2

ندیم: ﴿درواذہ کھلتا ہے﴾ پروین آپ اور شمیم پچھلی سیٹ پر بیٹھ جائیں۔ مےَں ناصر کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ جاتا ہوں۔

پروین، شمیم: ٹھیک ہے ﴿ دروازہ بند ہوتا ہے۔ گاڑی چلتی ہے﴾

ندیم: ناصرتم گاڑی احیتا طسے چلائو ۔ ہم سب دعا کریں گے کہ عیسیٰ مسیح ہمیں خیریت سے زیدی صاحب کے گھر لے جائیں۔آئیے خُداوند کے نام کی حمد کریں اور قدر ت اور ایمان سے بھر جائیں تا کہ زیدی بھائی شفائ پائیں۔

ناصر: ابو،میرے پاس ٹیپ پر ایک گیت ہے ۔ اور یہ الٰہی شفائ کے بارے میں ہے۔

ندیم: بہت خوب ۔ لگائویہ گیت ۔ ﴿گیت۔تیرا لہو تیرا لہو﴾

ناصر: یہ رہا اُن کا گھر ۔ ﴿ گاڑی رکتی ہے۔ دروازہ کھلتا ہے﴾

ندیم: آئیے چلیں ۔

سب: ٹھیک ہے۔﴿Pause،دروازے کی گھنٹی﴾

زیدی: ﴿تھکا ہُوا﴾ آئو آئو ، بھائیو بہنو۔

پروین: زیدی صاحب ۔ کیا حال ہے؟

شمیم: ہم آپ کے بارے میں بہت فکر مند تھے۔

زیدی: میں خوش ہوں آپ آئے ہیں ۔ میں چاہتا ہوں آپ میرے لئے دُعا کریں۔

ندیم: زیدی بھائی !ہم نہ صرف آپ کے لئے دُعا کریں گے بلکہ آج ہماری کلیسیائی عبادت بھی آپ کے گھر ہوگی۔

زیدی: بہت شکریہ ۔ میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے ۔

پروین: نائیلہ کہاں ہے؟

زیدی: وہ اپنی امی سے مِلنے گئی ہیں۔

شمیم: ہم اُن سے مِلنا چاہتے تھے۔پلیزاُنہیں بتا ئیے گا ۔

زیدی: ضرور

ندیم: زیدی صاحب ،اب بتائیے ۔ آپ کو ہُواکیا؟

زیدی: کل میری طبعیت بہت خراب تھی ۔میں ڈاکٹر کے پاس گیا ۔ اُس نے مُجھے کُچھ ٹیسٹ کروانے کو کہا اور رپورٹ دیکھ کر میں حیران ہو گیا ۔ ڈکٹر صاحب نے بتایا کہ میرے گردے کا مسئلہ ہے۔

تمام لوگ:سو یہ آپ کو گردے کی تکلیف ہے۔ ہماری دُعا ہے خُدا آپ کو صحت بخشے۔

سبق نمبر6 صفحہ نمبر3

پروین: زیدی بھائی ،کیا میں آپ کے لیے کوئی گرم چیز تیار کروں؟

زیدی: پروین بہن۔ افسوس ! میں آپ کے لیے چائے تیارنہیں کر سکتا۔مہربانی سے آپ چائے بنا لیں۔

شمیم: پروین میں آپ کی مددکرتی ہوں۔

﴿چائے تیار کرتے ہوئے﴾

پروین: یہ لیںچائے تیار ہے۔

تمام لوگ:پروین آپکا شکریہ۔

ناصر: انکل آپکو گردے کی تکلیف سے تو بڑ ا مسئلہ ہو گا ۔

زیدی: ٹھیک کہتے ہو۔ یقین نہیںآتا ، میں ٹھیک ہوںگا یا نہیں۔

سمیر: نہیں نہیں زیدی بھائی، یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے، جتنا شیطان آپ کو دکھا رہا ہے۔

زیدی: ڈاکٹر نے کہا تھا مجھے گردے کا مسئلہ ہے۔اور یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔

ندیم: زیدی ،جب ہم جانتے ہیں کہ ہمارا خُدا ہمیں شفائ دے سکتا ہے ۔ تو ہم کیوں نہیں یقین کرتے ۔ آئو ہم اپنی عبادت زیدی صاحب کے لیے دُعا سے شروع کریں تاکہ خُدا اُنہیں شفائ دے۔ پروین ! کیا آپ دُعا میں ہماری رہنمائی کریں گی۔

پروین: کیوں نہیں، آئیے ہم اپنے دِلوں سے خُداوند کوجلال دیں۔ اے عیسیٰ مسیح ہم اپنے بھائی زیدی کے لیے آپ کاشکر کرتے ہیں۔ ہمیں اعتماد ہے کہ آپ کی شفائ کامل شفائ ہے ۔اِسلئے ہم منت کرتے ہیں کہ اپنے نام کو جلال دینے کیلئے ہمارے بھائی زیدی کو شفائ دے ۔آپ کی صلیب سے اُنہیں کو شفائ دینے کے لیے قوت نِکلے۔ آمین۔

سب: آمین۔

ندیم: بھائیو،بہنو عیسیٰ مسیح نے ہماری دُعائیں سُنی ہیں اور جلد ہی ہم اِس کا نتیجہ دیکھیں گے۔ آئیے ہم خُداوند کے نام کی تعریف کرنا شروع کریں۔ شمیم! مہربانی کر کے ستائش میں ہماری مدد کریں۔

شمیم: ناصر آپ ہار مونیم بجائیں۔ ہم گائیں گے لہو لہو یسوع کا لہو کا لہو۔

ناصر: ٹھیک ہے ۔

تمام لوگ: ﴿ گیت:۔ لہو لہو یسوع کا لہو﴾

سبق نمبر6 صفحہ نمبر4

ندیم: خُدا کی حمد ہو۔ میں شفا کی قدرت کو محسوس کر رہا ہوں۔

پروین: مُجھے بھی یہی محسوس ہوتا ہے ۔

زیدی: خُدا کی تعریف ہو ۔ میں بہتر محسوس کررہا ہوں ۔ جب آپ گیت گا رہے تھے۔مجھے ایسا لگ رہا تھا ، میرا درد دار بھاگ رہا ہے۔

شمیم: خُدا کی حمد ہو۔

پروین: خُدا وند تیرا شکر ہو ۔

ناصر: ہماراخُدا بیشک ہمارا شافی ہے۔

ندیم: زیدی بھائی، جب ہمارا دعا کیلئے آپ کی طرف آنے کا پر وگرام بنا۔ میں نے اپنی ڈائیری کھولی اور اُس پر ایک نظر ڈالی جہاں میں نے بہت سے موضوعات لِکھے ہوئے ہیں۔ اُن میں سے ایک الٰہی شفائ کے بارے میں ہے۔ کیوں نہ ہم آج اِسی موضوع پربات چیت کریں۔

شمیم: بہت اچھا خیال ہے۔ میںاس مضمون کے متعلق جاننا چاہتی تھی ۔

ندیم: شمیم جب ہم بات چیت کرتے ہیں نئی باتیں بھی سیکھتے ہیں۔ اِ اچھا، کون بتائے گا کہ اِس بیماری کا سبب کیا ہے۔

ناصر: اِس بیماری کا سبب؟ اورکیا بیماری کا کوئی سبب ہوتا ہے ۔

ندیم: بیشک۔ اِس کا سبب ہوتا ہے ۔ میں آپ کو بتا تا ہوں۔ اِس کا ذکر پیدائش کی کتاب اُس کے دوسرے باب کی سولہویں اور سترہویں آیت میں ملتا ہے۔ ناصر مہربانی کر کے یہ دو آیتیں پڑھ دو۔

ناصر: ﴿پڑھنے کے لئے بائبل تلاش کرتے ہوئے﴾اور خُداوند خُدا نے آدم کو حُکم دیا اور کہا ، تو باغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جِس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو" مرا"

ندیم: ہم سب یہ کہانی جانتے ہیں کہ کِس طرح شیطان نے حضرت آدم اوربی بی حوا سے جھوٹ بولا اور اُنہوں نے ممنوعہ درخت کا پھل کھاکر خُدا کی حکم عدولی کی۔ اورانسان کو موت کی سزا ہوئی ۔ اِس میں موت ایک روحانی موت ہے۔ خُدا نے حضرت آدم اوربی بی حوا کو عدن سے باہر بھیج دیا اور اُس وقت سے انسانوں نے بیمار رہنا اور کمزور رہنا شروع کر دیا اور پھر جسمانی موت مرنے لگے۔ جب حضرت آدم خُدا کی حضوری میں تھے تو وہ الٰہی شفائ کی حضوری میں تھے لیکن اب وہ شیطان کی حضوری میں چلے گئے جو ہم سے نفرت کرتا ہے۔ اور جو سب بیماریوں کی جڑ ہے۔

پروین: تمہارا مطلب ہے کیونکہ انسان نے خُدا کی نافرمانی کی۔اِس لئے دنیا میں بیماریاں داخل ہونا شروع ہوگئیں۔

سبق نمبر6 صفحہ نمبر5

ندیم: ہاں پروین۔ خُدا کی نافرمانی گناہ ہے۔ جب کوئی شخص خُدا کی فرمانبرداری کر رہا ہوتا ہے تو وہ اُس کی حفاظت میں ہوتا ہے۔ جب وہ خُدا کی نافرمانی کرتا ہے تو گناہ کرتا ہے اور پھر اُس کی حفاظت میں نہیں رہتا۔ شیطان کا اُس پر قبضہ ہوتا ہے اور بیماریاں اُس کو گھیر لیتی ہیں۔

شمیم: اچھا۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ مسیح نے اُ س عورت سے جِسے اُنہوں نے کنویں پر شفائ دی کہا، " جا اور پھر گناہ نہ کرنا ۔ ''

ندیم: ہاں شمیم۔ اُس کی بیماری کا سبب گناہ تھا ۔ بہرحال بیماری کا سبب ہمیشہ گناہ نہیں ہوتا ۔ لیکن بائبل مقدس ہمیں سِکھاتی ہے کہ شیطان کے پاس بُری روحیں ہیں جِن کا کام لوگوں کو بیمارکرناہے۔

ناصر: جی ابو،اُس عورت کی طرح جِس کی کمر جھکی ہوئی تھی۔ اورایک بُری روح اٹھارہ سال سے اُسے قبضے میں لئے ہوئے تھی۔

ندیم: بالکل ناصرمیرا خیال ہے یہ کہانی لوقا 13باب میںہے۔اِس کا مطلب ہے کہ اُس کی بیماری کا سبب ایک بُری روح تھی جِس نے اٹھارہ سال سے اُسے باندھ رکھا تھا ۔ لیکن عیسیٰ مسیح نے اُسے شفائ دی اور بدروح کو نکال دیا ۔

زیدی : میں سمجھتا ہوں جب میںخُد ا کے کلام کونہیں مانتامیںشیطان کو موقع دیتا ہوں کہ وہ مُجھے بیماریوں سے مارے ۔ مُجھے ہمیشہ عیسیٰ مسیح کی حفاظت میں رہنے کے لئے خُدا کے کلا م کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔

ندیم: اورخُدا ہمیشہ اپنے وعدوں پر قائم رہتا ہے۔ اُس نے پرانے عہد نامے میںحضرت موسیٰ سے وعدہ کیا۔ خروج کی کتاب اُس کے پندرہویں باب کی چھبیسویںآیت میں یہ وعدہ درج ہے۔ زیدی بھائی مہربانی سے پڑھیں جو خد ا نے حضرت موسیٰ سے کہا۔

زیدی: یہاں لکھا ہے،" اگر تم احتیاط سے خداوند اپنے خدا کی آواز سُنو اور جو اُس کی نگاہ میں ٹھیک ہے وہی کرو ۔ اگر تُم اُس کے حکموں کی طرف توجہ دو اور اُس کے سب حکموں کو مانو تو میں تم پر کوئی مصر کی بیماری نہیں لائونگا کیونکہ میں خُداوند ہوں جو تُجھے شفائ دیتا ہوں۔

ندیم: جب ہم کتاب ِ مقدس بائبل میں سے خُدا کے لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ خُدا کی حفاظت میں تھے اور اُنہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا ۔

شمیم: لیکن میں نے ایک بار پڑھا کہ خُدا نے زہریلے سانپ بھیجے اور اُن میں سے بہتوں کو ہلاک کر دیا۔ آپ کِس طرح کہتے ہیں کہ خُدا اُنہیں بچاتا تھا۔

سمیر: اگر آپ دھیان سے خروج کی کتاب اُس کا اکیس باب اور چار سے 9آیت پڑھیں ۔ آپ دیکھیں گے کہ لو گ اُس وقت خُدا کی فرمانبرداری نہیں کر رہے تھے۔ وہ سارا وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے ۔ اِس طرح وہ خُدا کی حفاظت میں نہ تھے۔ اور ابلیس کے لیے اُن کو زہریلے سانپوں سے مارنا آسان تھا ۔ سانپ وہاں ہر وقت تھے لیکن وہ اُن تک پہنچنے کی جرأت نہ کرتے تھے کیونکہ وہ خُدا کی حفاظت میں تھے جب اُنہوںنے شکایتیں کرنا شروع کر دیں ۔ سانپوں نے اُن پر حملہ کردیا۔

سبق نمبر6 صفحہ نمبر6

ناصر: ابو،کیا خُدا نے اِس بارے میں کُچھ نہ کیا؟

ندیم: بیشک۔ اُس نے کیا۔ خُدا محبت ہے۔ جب وہ خدا کے آگے چلائے کہ اُن کی مدد کرے تو اُس نے حضرت موسیٰ سے کہا ، پیتل کا ایک سانپ بنا۔ ہر کوئی جو اُس سانپ پر نظر کرتا تھا زہر سے بچ جاتا تھا۔ اوربہت سے لوگ شفائ پا گئے۔

پروین: بہرحال وہ پیتل کاسانپ عیسیٰ مسیح کی علامت تھا۔

زیدی: ایک پیتل کا سانپ عیسیٰ مسیح کی علامت کیسے ہو سکتا ہے پروین بہن؟

پروین: حضرت یوحنا کی معرفت لکھی گئی انجیل میں عیسیٰ مسیح نے نیکدیمس سے کہا، جیسے موسیٰ نے بیابان میں سانپ کواونچے پر چڑھایا ایسے ہی ضرور ہے کہ ابنِ آدم بھی اونچے پر چڑھایا جائے تا کہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہمیشہ کی زندگی پائے۔عیسیٰ مسیح صلیب پر اپنی موت کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ کہہ رہے تھے کہ جو عیسیٰ مسیح کو صلیب پر دیکھے گا اُن کی طرح بچ جائے گا جنہوں نے سانپ کو دیکھا۔ جوعیسیٰ مسیح کو دیکھتے ہیں جسمانی اورروحانی طور پر شفائ پاتے ہیں۔

زیدی: میرا خیال ہے کہ عیسیٰ مسیح صرف ہمیں ہمارے گناہوں سے بچانے کے لئے صلیب پر مُوئے۔ آپ کیسے کہتے ہیں کہ وہ ہمیں شفائ بھی دے سکتے ہیں۔

ندیم: زیدی بھائی ،حضرت یسعیاہ کی کتاب اُس کے تریپن باب کی چوتھی آیت میں ایک پیش گوئی ہے۔ جو عیسیٰ مسیح کے بارے میں ہے۔ آیت کہتی ہے " اُس نے ہماری کمزوریاں اُٹھا لیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا "۔

شمیم: لیکن یہاں وتو غم اور دکھ کے بارے میں بات ہو رہی ہے نہ کہ بیماریوں کے بارے میں۔

ندیم: شمیم ،عبرانی میں لفظ غم کا مطلب ہے بیماریاں اور لفظ دُکھ بھی اُس دُکھ کو بیان کرتا ہے جو بیماری سے ہوتا ہے۔

شمیم: پھر اِس کو ہم اس طرح بھی پڑھ سکتے ہیں اُس نے ہماری بیماریاں لے لیں۔ اور ہمارے دُکھوں کو اُٹھایاجو اِن بیماریوں سے پیدا ہوتے ہیں۔

ندیم: جی ہاں ! آئیے ذرا متی رسول کی معرفت لکھی گئی انجیل اُس کے اٹھا رہویں باب کی سولہویں اور سترہویں آیت کو پڑھتے ہیں۔ پروین آپ پڑھیں۔

پروین: جب شام ہوئی تو بہت سے جِن میں بدروحیں تھیں اُس کے پاس لائے گئے اور اُس نے اُن کو زبان ہی سے کہہ کر نکال دیا۔ اور سب بیماروں کو شفائ دی تاکہ جو یسعیاہ نبی کی معرفت کہا گیا تھا پورا ہوکہ اُس نے آپ ہماری کمزوریاں لے لیں اور بیماریاں اُٹھا لیں۔

ناصر: آپ کا مطلب ہے کہ عیسیٰ مسیح نے صلیب پر ہمارے گناہوں کو اور بیماریوں کو بھی اُٹھا لیا؟

سبق نمبر6 صفحہ نمبر7

ندیم: نہ صرف یہ بلکہ تم جانتے ہو کہ صلیب دئیے جانے سے پہلے عیسیٰ مسیح کو کوڑے مارے گئے ۔ حضرت پطرس شاگردوں میں سے ایک تھے ۔ وہ اپنے پہلے خط کے دوسرے باب کی چھبیس آیت میں کہتے ہیں،"اُس کے مار کھانے سے ہم نے شفائ پائی۔ اُن کوڑوں سے یہ زخم لگے۔ ہر بار جب اُنہیں کوڑے لگے اُنہیں بہت تکلیف ہوئی "۔وہ کہہ رہے تھے ،"میرے بچے دُکھ اُٹھائیں گے اور اُنہیں درد ہو گا "۔ اُن کی جگہ میں یہ دُکھ اُٹھاتا ہوں۔ اُنہوں نے ہمارے دُکھ اُٹھانے کے لیے اِس قدر دُکھ سہا ۔میں پھر یہ آیت پڑھتا ہوں۔ اُس کے مار کھانے سے ہم نے شفائ پائی۔آپ کی شفائ کا راززیدی صاحب یہ ہے جِس پر آپ ایمان لائے ہیں کہ عیسیٰ مسیح نے آپ کی جگہ دُکھ سہا اورآپ کے درد برداشت کیے۔

زیدی: میںاقرار کرتا ہوں۔

ندیم: ہر کوئی جو ایمان لاتا ہے کہ اُس کی بیماری اُٹھانے کے لیے عیسیٰ مسیح نے دکھ سہا وہ شفائ پائے گا۔

پروین: میںملاکی کی کتاب میں سے تیسرے باب کی دوسری آیت پڑھنا چاہتی ہوں، لکھا ہے، "جو میرے نام کا خوف رکھتے ہیں اُن سب کے لئے راستبازی کا آفتاب اپنی شفائ والی کرنوں کے ساتھ طلو ع ہو گا"۔ راستبازی کا آفتا ب عیسیٰ مسیح ہے جو روشنی اُن میں سے نکل رہی ہے وہ شفائ سے بھری ہے۔ سورج کو کوئی ہر صبح نکلنے سے روک نہیں سکتا اور یوں کوئی شفائ دینے والی روشنی کو جوعیسیٰ مسیح سے نکل رہی ہے روک نہیں سکتا۔

شمیم : ابھی ابھی مُجھے اُس عورت کی کہانی یاد آئی ہے جِس سے خون جاری تھا ۔ بارہ سال اُسے خون آیا اُس نے اپنی تمام رقم حکیموں اور ڈاکٹروں پر خرچ کر دی مگر آرام نہ مِلا۔ جب وہ عیسیٰ مسیح پر ایما ن لائی اور اُنہیں چھوا اُن سے شفائ دینے والی قوت نِکلی اور فوراََ اُسے شفائ مل گئی۔

زیدی: بہت خوب ۔ تو ندیم بھائی ، ہمیں شفائ پانے کیلئے کیا کرنا چاہئے؟

ندیم: پہلی بات ہمیں اپنے آپ کو جانچنا چاہئے۔

زیدی: اپنے آپ کو جانچنا چاہئے۔وہ کیوں؟

ندیم: کیونکہ ہم نے کہا کہ گناہ ایک وجہ ہے جِس سے ہم بیمار ہوتے ہیں۔ پہلے ہمیں اپنے آپ کو جانچنا ہے اور اگرہم میں کوئی گناہ ہے تو توبہ کرنی ہے ۔

زیدی: اور دوسرا قدم کیا ہے؟

ندیم: ہمیں خدا سے کہنا ہے ہمیں شفائ دے۔ بائبل مقدس میں لکھا ہے بتاتی ہے، "مانگو تو تم کو دیا جائے گا ، ڈھونڈو تو پائوگے، دروازہ کھٹکھٹائو تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا"۔

سبق نمبر6 صفحہ نمبر8

زیدی: اِس کا مطلب ہے کہ جب میں دُعا مانگوں گا ، مُجھے شفائ مِل جائے گی۔

ندیم: بیشک اُن کی طرح جنہیں عیسیٰ مسیح نے شفائ دی۔لیکن بعض اوقات ہمیں شفائ آہستہ آہستہ ملتی ہے ۔

ناصر: ابو کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ مُجھے کِسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا چاہیے اور نہ ہی دوائی لینی چاہیے؟

ندیم : نہیںنہیں، ہر گز نہیں ہے ۔ آپ کو شفائ دینے کے لئے خُدا کِسی ڈاکٹر کوبھی استعمال کر سکتا ہے۔ یہ خُدا ہی توہے جِس نے سائنسدانوں کو ہمارے علاج کے لئے علم دیا۔

شمیم: ندیم بھائی ،آپ نے میرا ذہن کھول دیا ہے۔ مین بالکل نہیں جانتی تھی ۔

ناصر: اور ابوآپ کے الفاظ سے مُجھے بہت حوصلہ مل ہے۔ مُجھے یاد ہے کہ میرا ایک دوست بہت بیمار ہے۔ میںعیسیٰ مسیح کے بارے میں اُس سے بات کرونگااور اُس کے ساتھ دُعا کرونگا۔

زیدی: میں یہ بھی آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم عیسیٰ مسیح کے بارے میںباتیں کر رہے تھے سچائی میرے اندر چمکنا شروع ہو گئی۔

مجھے یقین ہے۔عیسیٰ مسیح کے زخم مُجھے شفائ دے سکتے ہیں۔ مجھے اب کوئی ڈر نہیں رہا۔

تمام لوگ:زیدی صاحب مبارک ہو۔ خُدا کی حمد ہو۔

زیدی: میں بہت خوش ہوں۔ آج کی کلیسیائی عبادت بہت اچھی تھی۔

ندیم: ہماری اگلیعبادت ، اگلے ہفتے اِسی وقت ہمارے گھر پر ہوگی۔ اور ہم بائبل مقدس میں سے فلپیوں کے خط کا مطالعہ کریں گے۔ پڑھ کر آئیے گا۔ آئیں ہم خدا کا شکر کرتے ہوئے یہاں سے رخصت ہوں۔

تمام لوگ:آمین۔