Hear Fellowship With My Family Episode 7 (Audio MP3)

View FWMF episode 7 as a PDF file

سبق نمبر7 صفحہ نمبر1

"فلپیوںکا خط"

﴿گھنٹی کی آواز۔ دروازہ کھلتا ہے﴾

ناصر: ہیلو انکل زیدی، آئیے تشریف لائیں۔سب آہی کا انتظار کررہے ہیں۔

زیدی: شکر یہ ناصر ﴿ دروازہ بند ہوتا ہے۔ Pause﴾

ندیم: زیدی صاحب! آج آپ کا کیا حال ہے؟

زیدی: ندیم صاحبمیں بہتر ہوں۔آپ سب کا کیا حال ہے۔

سب لوگ: ٹھیک ہے،شکریہ ،خداکا شکر ہو۔

زیدی: معاف کیجئے میں تھوڑا لیٹ ہو گیا۔ راستے میں آپ کیلئے کیک لینے کیلئے رک گیا تھا۔

ناصر: انکل کیک ؟ وہ کس خوشی میں؟

زیدی: پچھلی مرتبہ آپ لوگوں نے میرے گردے کی تکلیف کیلئے دعا مانگی تھی۔اب میں بہتر محسوس کر رہا ہوں ۔میں اپنے لیبارٹری ٹسٹ لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا تھا۔ڈاکٹرحیران ہو گیا اور مُجھے بتایا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔

ندیم: آپ کیِ صحت کے لیے اور اُس معجزے کے لیے جو اُس نے آپ کی زندگی میںکیا، خُدا کی حمد ہو۔

پروین: ہمیں یقین تھا کہ خدا ہماری دعا سنے گا۔ میں پچھلے ہفتے آپ کیلئے دعا کرتی رہی ہوں۔۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو ۔

شمیم: سچ مچ اِس بات کیلئے ہمیں خداکی تعریف کرنی چاہئے۔

زیدی: جب میں ڈا کٹر کے پاس رپورٹ لے کر گیا تومیں نے اُس الٰہی طاقت کے بارے میں جو ہمارے عیسیٰ مسیح میں ہے اُسے بتایا

شمیم: ڈاکٹر نے کیا کہا؟

زیدی: اُس نے مجھ سے اس معجزے کی تفصیل پوچھی، اور میں نے کو کچھ پچھلی عبادت میں میرے لئے خدانے کیا۔ سب کچھ بتا دیا۔

شمیم: خُدا کی تعریف ہواُن سارے حلات کیلئے جو وہ اپنے جلال کے لیے استعمال کرتا ہے ۔

ناصر: ﴿چائے پیش کرتے ہوئے﴾ لیجئے جناب حاضر ہے زیدی صاحب یہ آپ کے لیے ہے ۔اور شمیم انٹی یہ آپ کے لیے۔ ابو یہ آپ کیلئے اور امّی یہ آپ کیلئے

﴿چائے انڈیلنے اور پیالوں کی آواز﴾

تمام : شکریہ۔مہربانی ۔ بہت اچھا بچہ ہے۔

ندیم: آئیںاپنی کلیسیائ کی عبادت گیت گاتے ہوئے شروع کریں۔ پروین اس گیت میں ہماری راہنمائی کریں گی۔

سبق نمبر7 صفحہ نمبر2

پروین : آئیں ہم سب مل کر گیت گائیں اور ساتھ ساتھ زیدی صاحب کی شفا کیلئے عیسیٰ مسیح کا شکریہ ادا کریں۔ہم گیت گائیں گے ۔

تعریف ہوخدا کے برے کی ،ناصر آپ ہا رمونیم بجائیں۔

ناصر: ٹھیک ہے امّی۔

تمام: ﴿گیت:۔ تعریف ہو خدا کے برے کی﴾

ندیم: آمین۔ پچھلے ہفتے ہم نے فلپیوں کے نام حضرت پولوس کے خط کا مطالعہ کرنے پراتفاق کیا تھا۔ آئیں دیکھیں ہم اِس خط سے کیا سیکھتے ہیں۔

شمیم: ندیم بھائی ، مجھے آپ کی یہ بات بہت پسند آئی ہے۔ میں بائبل مقدس کو پڑھتی ضرور تھی ، مگر جلدی جلدی۔اب زیادہ فائدہ ہوگا۔

ندیم: شمیم مُجھے یقین ہے کہ آج ہم بہت کُچھ سیکھیں گے۔ تو کون شروع کرے گا؟

پروین: ندیم میں شروع کروں ؟

ندیم: جی۔

منال: سپولوس رسول نے یہ خط سن63کے قریب لِکھا تھا ۔ اُس نے اِس خط کواُس وقت لِکھا جب وہ فلپی کی کلیسیائ کی وجہ سے جیل میں تھا ۔ بائبل کے ہر خط کا ایک پیغام یا موضو ع ہے۔ اِس خط کا موضوع 'خوشی' ہے۔

مجدی: میں نے بھی یہی بات نوٹ کی ہے ۔

منال: پولوس رسول سچی خوشی کے بھید کے بارے میں ایمانداروںکو سِکھا رہا ہے۔ پولوس کے حالات خوشی محسوس کرنے کے لئے حوصلہ افزائ نہیں تھے کیونکہ وہ جیل میں فیصلہ سُننے کا انتظار کر رہا تھا ۔ وہ موت کی سزاکا سامنا کر رہا تھا۔ اِس سب کے باوجود ہم محسوس کرتے ہیں وہ کِس قدر خوش تھا ۔ اِس خط کے چاروں ابواب میں 19مرتبہ خوشی کا ذِکر ہے۔

ناصر: بہت خوب۔ 19مرتبہ!

منال: ہاں پولوس رسول ہمیں بتانا چاہتا تھا کہ سچی خوشی حالات سے نہیں بنتی ۔ ہم اندر سے خوش ہو سکتے ہیں خواہ حالات کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔

سمیر: منال آپ کا شکریہ۔یہ تعارف حیران کُن تھا ۔کون کُچھ کہنا چاہتا ہے۔

مجدی: میں کہنا چاہوں گا ۔ پولوس رسول سچی خوشی کے بھید کے طور پر خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں بتا رہا تھا ۔ خُداوند یسوع ہمارے دِلوں کو خوشی اور اطمینان سے بھر سکتا ہے۔

سبق نمبر7 صفحہ نمبر3

سمیر: اِس خوبصورت تعارف کے لیے مجدی اور منال آپ کا شکریہ۔ آئو پہلے باب کا مطالعہ شروع کریں۔ کون اِس باب کی وضاحت کرنا شروع کرے گا۔

رانیا: کیا میں شروع کروں؟

سمیر: ہاں رانیا۔

رانیا: پولوس ہمیں ایک مثال دے رہا ہے ۔ ایمانداروں اور ہمارے درمیان رابطہ کیسے ہونا چاہیے۔ اگر چہ وہ دورقید میں تھا ۔ اُس نے اُنہیں تیسری آیت میں بتایا "ہر مرتبہ جب تمہیں یاد کرتا ہوں خُدا کا شکر کرتا ہوں"۔اِس کامطلب ہے کہ وہ ہمیشہ اُنہیں یاد کرتا ہے ۔چوتھی آیت میں وہ اُن کے لیے دُعا کرتا ہے ۔ اگرچہ پولوس کو آرام کی ضرورت تھی کیونکہ وہ قید میں تھا ۔ ہم اُسے اُن کے بارے میں پوچھتے اور یاد کرتے دیکھتے ہیں۔ جب میں نے پہلی بار یہ پڑھا ۔ میں چاہتی تھی کہ ہمارا اتحاد دن بدن زیادہ مضبوط ہو گا اور ہمارے دماغ ایک دوسرے کے لیے دُعا کرتے ہوئے ایک دوسرے کے بارے سو چ میں مصروف ہونگے۔

سمیر: رانیا۔ آمین۔ کیوںنہ ہم خُدا سے د ُعا کریں۔ اُس سے درخواست کرتے ہوئے کہ ہمیں زیادہ متحد کرے۔

رانیا: خُداوند ہم منت کرتے ہیں کہ تُو ہمیں متحد کرے اور ہم ہمیشہ ایک دوسرے کی فِکر کریں۔

سمیر: کون اِس کے علاوہ کُچھ کہنا پسند کرے گا؟

ناصر: ایک آیت ہے جِس نے میری توجہ اپنی طرف کھینچی اور میں چاہوں گا کہ اِس میں شریک کروں۔ اگرچہ پولوس دُکھ اُٹھا رہا تھا اُسے سب سے زیادہ فِکر تھی کہ خوشخبری تمام لوگوں تک پھیل جائے۔ ایسے لگتا ہے جیسے وہ کہہ رہا ہو، "میرے حالات کیسے بھی ہوں کوئی چیز مُجھے خِدمت سے روک نہیں سکتی"۔جب میں نے اِس آیت کے بارے سوچا مُجھے پتہ چلا کہ بعض اوقات ہم شکایت کرتے ہیںجب ہمیں مشکل وقت کا سامنا ہو۔ پھر ہم زندگی میںاپنا مقصد بھول جاتے ہیں ۔ اپنی خِدمت اور ذمہ داری کو جو خُدانے ہمیں دی بھول جاتے ہیں۔ ہم اُداس بھی ہو جاتے ہیں ۔ پولوس رسول اپنے حالات کو نہیں دیکھتا تھا وہ بہت خوش تھا کیونکہ خُدا نے اُسے کامل خوشی دی تھی ۔ اور اِس طرح وہ اپنی خِدمت جاری رکھنے کے قابل تھا۔

سمیر: ہاں ناصر۔ پولوس رسول خوشخبری کوپھیلانے کے لیے اِن مشکل حالات کو استعمال کرنے کے قابل تھا ۔ وہ بارہویں اور تیرہویں آیت میں کہتا ہے، " بھائیوں اب میں چاہتا ہوں کہ تمہیں معلوم ہو کہ جو میرے ساتھ ہُوا ۔ سچ مُچ خوشخبری کو پھیلانے کا سبب ہُوا۔ نتیجے کے طور پر یہ واضح ہو گیا ہے پورے دفاعی گارڈ اور ہر کِسی کو کہ میں مسیح کی خاطر زنجیروں سے جکڑا ہوُا ہوں۔ مُجھے ایک اور کہانی یاد ہے کہ جب پولوس رسول اپنے دوست سیلاس کے ساتھ قید میں تھا اُنہیں بہت پیٹا گیا اور اُن کے ہاتھ اور پائوں زنجیروں سے بندھے تھے۔ اِس سب کے باوجود وہ خدا کی حمد کر رہے اور گیت گا رہے تھے۔ وہ اونچی آواز سے گا رہے تھے کہ ایک

سبق نمبر7 صفحہ نمبر4

معجزہ ظہور میں آیا۔ قید خانے کے دروازے کھُل گئے۔ قیدخانے کا داروغہ اور اُس کا سارا خاندان یسوع مسیح پر ایمان لے آیا۔ پس ہم سیکھتے ہیں کہ حالات کیسے بھی ہوں ہم خُدا کا کام کرنا نہ بھولیں۔ آئو اِس وقت کو یسوع کے جلال کے لیے استعمال کریں۔ اب کون کُچھ اور کہنا پسند کرے گا۔

مجدی: مُجھے کُچھ کہنا ہے ۔

سمیر: کہئے ! مجدی صاحب۔

مجدی: آئو ستائیسویں آیت پڑھیں۔ "اپنے آپ کو مسیح کی خوشخبری کے مطابق بنا لو"۔میں اِس آیت سے سمجھتا ہوں پولوس رسول ہمیں کہہ رہا ہے کہ مسیح کی خوشخبری کے مطابق زندگی گزاروں۔ ہمیں اپنی زندگیوں سے دیکھنا چاہیے جو بائبل سے ہم نے سیکھا ہے ۔ اِس طرح ہمارے وسیلے مسیح کے پیغام کو جانا جائے گا۔

منال: آپ نے ابھی ایک بہت خوبصورت کہانی یاد کرا دی ہے ۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے ، ایک ایماندار ایک دور کے گائوںمیں گیا جہاں لوگ یسوع کے بارے میں بتانے کے لئے انسانوںکو کھاتے تھے ۔ یہ لوگ بہت مشکل تھے۔ اِس ایماندار نے اِنہیں محبت دِکھانے تک اکتفا کی۔ وہ ڈاکٹر تھا اِس لئے اُس نے اُن کا معائنہ کرنا اور اُنہیں شفائ دینا شروع کیا۔ وہ اُنہیں کھانا اور دوائیاں بھی لا کر دیتا تھا ۔ ایک مرتبہ اُس کے مکان پر چوری ہو گئی لیکن وہ اُنہیں ہمیشہ محبت اور معافی دِکھاتا تھا ۔ وہاں لوگوں نے اُسے دیکھا کہ وہ مختلف تھا ، اُنہوںنے اُسے پوچھا وہ مختلف کیوں ہے۔ یہ اِس لیے ہے جب اُس نے اُنہیں یسوع کے بارے بتانا شروع کیا ۔ اِس وجہ سے اُس کی بدولت بہت سے لوگ مسیح کے پاس آئے اور کیونکہ وہ بائبل کے مطابق زندگی گزارتا تھا۔

سمیر: ہاں جب ہم بائبل کے مطابق زندگی گزارتے ہیںتو لوگ ہماری وجہ سے بدل جائیںگے۔ آئو ایک بار پھر دیکھیں جو ہم نے پہلے باب سے سیکھا ہے۔

1۔ میرے بھائیو بہنو کے ساتھ میرا رابطہ بہت مضبوط ہونا چاہیے۔

2۔ حالت کُچھ بھی ہو اِس سے خُداوندمیں ہماری خدمت اور خوشی رُکنی نہیں چاہیے۔

3۔ مُجھے یسوع مسیح کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے کیونکہ اِس سے میرے اردگرد کے لوگ بدل سکتے ہیں۔

رانیا: دوسرے باب کا مطالعہ کرنے پہلے کیا ہم ایک گیت گا لیں؟آئو اُن اسباق کے لئے جو ہم نے ابھی سیکھے ہیں خُدا کا شکر کریں۔

مجدی: آئو گائیں ۔"شکر گزار دِل کے ساتھ شکرادا کریں"۔

تمام: "شکر گزار دِل کے ساتھ شکرادا کرو"۔

سمیر: آئیے! دوسرا باب شروع کریں۔ کون شروع کرنا پسند کرے گا۔

سبق نمبر7 صفحہ نمبر5

منال: کیا میں شروع کروں ؟

سمیر: ہاں منال۔

منال: پولوس رسول دوسرے باب میں سادگی کے بارے میں باتیں کر رہا ہے۔ سچی خوشی اُس وقت ہوتی ہے جب آدمی دوسروں کی خِدمت کرتا ہے۔ اُس نے اُنہیں یسوع کے بارے میں ایک مثال دی۔ اور چوتھی اور پانچویں آیت میں کہتا ہے ، فلپیوں2باب4تا5آیت۔ ہر ایک اپنے ہی احوال پر نہیں بلکہ ہر ایک دوسروں کے احوال پر بھی نظر رکھے۔ ویسا ہی مزاج رکھو جیسا مسیح یسوع کا بھی تھا ۔ جب یسوع زمین پر تھا تو وہ اپنے بارے میں خیال نہیں کر رہا تھا وہ دوسروں کا خیال کر رہا تھا کیونکہ وہ دوسروں کی خِدمت کرنے آیا۔ اگرچہ وہ خُدا تھا۔ وہ آسمان سے آیا اور ہماری طرح انسان بنا ۔ وہ بہت سادہ بن گیا اور دوسروں کے بار ے میں سوچا کرتا تھا ۔ اُن کی باتیں سُنتے اور اُنہیں شفائ دیتے ہوئے وہ اُنہیں اپنی محبت دِکھا رہا تھا ۔ اُس کی محبت نے اُسے مجبور کر دیا کہ ہمیں گناہوں سے بچانے کے لئے صلیب پر قربان کر دے۔

سمیر: بالکل ہمیشہ مجھ پر اثر ہوتا ہے جب میں اِس کے بارے میں سوچتا ہوں جو مسیح نے ہمارے لیے کیاہے۔ وہ صلیب پرہمارے لیے مُوا اور اپنے خون سے ہمیں خلاصی دِلائی ہے۔ اُس نے ہمارے سارے گناہ معاف کردئیے ہیں۔ وہ سارے جلال اور ستائش کا حقدار ہے۔ آئیے اب تیسرے باب سے شروع کریں۔ کون اِس باب کے بارے میں گفتگو کرے گا۔

رانیا: کیا مُجھے کُچھ کہنے کی اجازت ہے؟

سمیر: ہاں مہربانی کر کے کہیے۔

رانیا: میں آپ کے ساتھ جو میں نے تیرہویں آیت میں سے سیکھا ، شراکت کرنا پسند کرونگی۔" میرا یہ گمان نہیں کہ پکڑ چُکا ہوں بلکہ صرف یہ کرتا ہوں کہ جو چیزیں پیچھے رہ گئیں اُن کو بھول کر آگے کی چیزوں کی طرف بڑھا ہُوا" ۔جب میں نے یہ آیت پڑھی میں نے محسوس کیا کہ ہم ہمیشہ اپنے ماضی کے تجربات اور شان پر انحصار کرتے ہیں ۔ ہم تذکرہ کرنا شروع کرتے ہیں اُس کا جو ہم نے حاصل کیا تھا اور جو ہم نے ماضی میں کیا تھا۔ بعض اوقات ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم ہر چیز جانتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے ہماری زندگیاں بڑھنا بند ہو جاتی ہیں۔ بعض اوقات ہم دوسروں سے مقابلہ شروع کرتے ہیں اور جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم اُ ن سے بہت ہیں ، ہمیں اطمینان ہو جاتا ہے۔ آج پولوس رسول ہمیں بتا رہا ہے کہ ہم کو ایک خاص سطح پر رُک نہیں جا نا چاہیے اور کہنا کہ ہم کافی جانتے ہیں ۔ پولوس رسول ایک عظیم خادم تھا اور اُس کاعلم ہمارے علم سے زیادہ تھا ۔ اِس سب کے باوجود وہ کہتا تھا کہ اُسے

اور زیادہ جاننے کی ضرورت ہے ۔خُدا اور مسیح کے بارے میں ہر چیز جو وہ جانتا تھا بہت کم تھا۔ اِس وجہ سے بہتر خِدمت کے لیے وہ خُداسے زیادہ لینا چاہتا تھا ۔

سبق نمبر7 صفحہ نمبر6

سمیر: بہت سے ایماندار اپنے پیچھے دیکھتے ہیں اور اپنے کارناموں پر شیخی مارتے ہیں۔ ہمیں جاننے کی ضرورت ہے کہ خُدا کے بارے میں کِس طرح زیادہ جاننا ہے۔ اُس کے ساتھ رابطے میں کِس طرح گہرا جانا ہے۔ ہم چوتھے باب کو ختم کرنے کے لئے کیوں آگے نہیں جاتے ۔

ناصر: کیا میں شروع کروں؟

سمیر: ہاں ناصر۔

ناصر: ابلیس ہمیشہ ہمیں پریشان رکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ ہمارے دماغوںکو مصروف رکھنا چاہتا ہے تاکہ ہم آزادی سے خُدا کی عبادت نہ کریں۔ اِس وجہ سے پولوس رسول چھٹی آیت میں کہتا ہے، "کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دُعا اور منت کے وسیلے سے شکرگزاری کے ساتھ خُدا کے سامنے پیش کی جائیں"۔پولوس رسول نہیںچاہتا کہ ہم مصروف رہیں۔ وہ چاہتا ہے ہم سارا وقت خدا کا شکر کرتے رہیں ۔جب ہم یہ کرتے ہیں تو آیت نمبر4باب7آیت ہماری زندگیوں میں پوری ہو گی۔"اور خُدا کا اطمینان جو ساری سمجھ سے باہر ہے مسیح یسوع میں تمہارے دِلوں اور خیالوںکی حفاظت کرے گا"۔

سمیر: بالکل ناصر۔ ہم خُدا سے دُعا کرتے ہیں ۔ درخواست کرتے ہوئے کہ ہماری پریشانیوں اور فِکروںکا خیال رکھے ۔ تووہ اپنے حیران کُن اطمینان سے ہمارے دِلوں کو بھر دے گا۔ اطمینان ہمیں اندرونی سکون اور اطمینان دے گا۔ اور یوں شیطان اور اُس کے منصوبوں کی فکر نہیں کریں گے۔

مجدی: میں بھی کُچھ کہنا چاہوں گا۔

سمیر: مجدی صاحب کہیے۔

مجدی: جب ہم دسویں سے تینتیسویں﴿فلپیوں4باب10تا33﴾آیات تک پڑھیں گے۔ہم دیکھتے ہیں کہ پولوس ہمیںسِکھا رہا ہے کہ کِس طرح قناعت کرنی ہے ۔ وہ ہمیں اپنی قناعت کا راز فلپیوں 4باب13آیت میں یوں بتاتا ہے۔"میں اُس کے وسیلے سے جو مُجھے قوت دیتا ہے سب کُچھ کر سکتا ہوں"۔ اُسے اِس بات کی تشویش نہ تھی کہ کیا کھائوں گا یا کیا پئوں گا یا کیا پہنوں گا ۔ اُس کی واحد فکر خوشخبری کو پھیلانا تھا۔ یہ ہے جِسطرح اُس نے مطمئن رہنا سیکھا ۔ مسیح اُس کے لیے ہر چیز بن گیا۔ وہ ہمیشہ خُدا کی نگہداشت کے وسیلے سے زندگی بسر کرتا تھا۔ اِس بات پر ایمان رکھتے ہوئے کہ وہ اُس کی سب ضرورتیں پوری کرے گا۔ خُدا کلیسیائ سے لوگوں کو پولوس کے پاس بھیجتا تھاکہ اُس کی خبرگیری کریں۔ چودھویں اور سولہویں آیت میں ہم یہ پڑھتے ہیں کہ خُدانہیں چاہتا کہ ہم کھانے پینے کے بارے میں فِکر کریں ۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اُسکی خدمت کا خیال کریں۔ اور وہ ہماری ساری ضرورتیں پوری کرے گا۔

سبق نمبر7 صفحہ نمبر7

سمیر: آمین۔ تما م اسباق کے لیے جو ہم نے سیکھے خُدا کی ستائش کریں۔ اگر ہم اِن اسباق کے مطابق زندگی گزاریں تو ہم خوش رہیں گے۔ مُجھے ابھی ابھی پرانے عہدنامے سے ایک خوبصورت آیت یاد آ گئی ہے۔ آیت کہتی ہے، " خُداوند کی خوشی تمہاری قوت ہے "۔آج خُدا ہمیں اُس کی خوشی سے بھر جانا سِکھا رہا ہے۔ کیونکہ خداوند کی خوشی ہماری قوت ہے۔ آئیے!ْ اب ہم گائیں۔

"ہم یسوع میں خوش ہیں" ۔مُجھے اجازت دیں کہ گانے سے پہلے آپ کو یاد دِلا دوں کہ ہماری اگلی میٹنگ اِسی جگہ اور اِسی وقت ہو گی۔

تمام: ہم خوش ہیں۔تم ہماری خوشی ہو۔