Hear Fellowship With My Family Episode 8 (Audio MP3)

View FWMF episode 8 as a PDF file

سبق نمبر8 صفحہ نمبر1

"مقصدِ حیات"

﴿شائقین فٹ بال میچ کا گلی میں شور اور پھر ایک گول ہونے پر بلند آوازوں سے آفرین و تحسین﴾

سمیر: ناصر کیا بات ہے۔ یہ اونچاشور کیسا ہے؟ کیا ہُوا؟

ناصر: یہ شور یہاں سے نہیں ہے۔ یہ پڑوسیوں کی طرف سے ہے۔ وہ سب ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔

سمیر: کیا کوئی خاص جشن ہے؟

ناصر: ابو ہرگز نہیں۔ یہ تو صرف فٹ بال کا کھیل ہے ۔ اَیلی ضمالیق کے خلاف کھیل رہا ہے اور اَیلی نے ایک گول کر دیا ہے۔

منال: بس یہ سارا شور ایک گول کی وجہ سے ہے۔

سمیر: لوگوں کے پاس کرنے کو کُچھ نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ وقت کِس طرح گزارنا ہے۔ تُم اِنہیں خوش یا اُداس فضول چیزوں کے لیے ہوتے دیکھتے ہو۔ اور اُن کے دِن اِس کا کُچھ احساس کئے بغیر گزر جاتے ہیں۔

ناصر: ابو کیا آپ کو معلوم ہے کہ سارے لوگ جنہیں آپ مِلتے ہیں یہاں تک کہ جوان طالب علم بھی ایک ہی مضمون کے بارے میں باتیں کرتے ہیں ۔ وہ اپنی زندگیوں کے مقاصد کونہیں جانتے۔

سمیر: یہ بہت دلچسپ مضمون ہے۔ میں چاہوں گا کہ ہم اِس بات پر اکٹھے کلیسیائی عبادت کے دوران بحث کریں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

﴿دور سے رانیا کی آواز﴾

رانیا: میں مقصدِ حیات کے بارے باتیں کرتے آپ کو سُنتی ہوں۔ کیا آج کے لئے یہ ہمارا مضمون ہو گا؟

سمیر: ہاں رانیا۔

رانیا: میں یہ سارا ہفتہ خداوند سے دُعا کرتی رہی تھی کہ مُجھے اِس مضمون کی صاف سمجھ دے کیونکہ بہت سے لوگ حیران ہوتے ہوئے مُجھ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیوں جی رہے ہیں۔

﴿دروازے کی گھنٹی بج رہی ہے﴾

منال: یہ مجدی صاحب ہونگے۔

مجدی: آج گلیاں کیوں خالی ہیں؟

سمیر: فٹ بال کا ایک کھیل ہو رہا ہے اور سب لوگ اپنے گھروںمیں اِسے ٹی وی پر دیکھ رہے ہیں۔ آپ اِنہیں وقتاََ فوقتاََ چیختے ہوئے سُنیں گے۔

مجدی: میرے خُدا! یہ سب کُچھ ایک فٹ بال میچ کی وجہ سے ہے۔

سبق نمبر8 صفحہ نمبر2

ناصر: مجدی صاحب ، ابھی ابھی ہم اِسی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ اِس طرح کی سادہ سی بات اِس حد تک لوگوں پر حاوی ہو جاتی ہے کہ وہ اپنا کا م چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے گھر میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

منال: اِسی وجہ سے آج اپنی زندگیوں کے مقصد کے بارے میں مطالعہ کرنے کا خیال کیا۔

رانیا: لیکن کلیسیائی عبادت شروع کرنے سے پہلے میں چاہونگی میرا کیک چکھیں ۔ یہ پہلا کیک ہے جو میں نے کبھی بنایا ہے۔

ناصر: اور حسبِ معمول چائے میں تیار کرونگا۔

سمیر: رانیا کے کیک لے آنے کے وقت تک ناصر چائے تیار کرتا ہے ۔ میں چاہونگا اِس لیے گیت کی کیسٹ سُنیں۔

﴿گیت:مُجھے بس تیری ضرورت ہے﴾

منال: رانیا یہ کیک تو بہت اچھا ہے۔ کوئی نہیں مانے گا کہ کیک بنانے کا یہ تمہارا پہلا موقع ہے۔

مجدی: وہ گیت سچ مچ خوبصورت ہے۔ اِسے سنتے ہوئے مُجھے محسوس ہُوا جیسے میں آسمان میں ہوں۔

سمیر: ٹھیک ہے۔ آئو آج کی میٹنگ ہمارے خداوند کے نام کے لیے دُعا اور ستائش سے شروع کریں۔ آئو خُداوند سے کہیں کہ جب ہم اِس اہم مضمون کا مطالعہ کرتے ہیں ، ہماری رہنمائی کرے۔

مجدی: ہمارے خداوند خُدا اِس کائنات کے بادشاہ ہم تیرا شُکر کرتے ہیں آج تیرے گِرد مِلنے کے موقع کے لیے تیرا شُکر کرتے ہیں۔ اے خُداوند ہم منت کرتے ہیں ہمارے ذہنوں کو روشن کر اور ہماری زندگیوں کے لیے اپنے مقصد کو عیاں کر اور ہمیں سِکھا کہ اِس مقصد کے مطابق زندگی گزاریں ۔یسوع مسیح کے نام میں۔ آمین۔آئو ہم اکٹھے وہ گیت گائیں جو کہتا ہے ۔"میرا آرام میری خوشی"۔ ﴿ہر شخص گاتا ہے﴾

سمیر: خُداوند ہم ستائش کے وقت کے لیے تیرا شُکر کرتے ہیں اور ہم منت کرتے ہیں کہ کلیسیائی میٹنگ کے باقی حصہ میں ہماری رہنمائی کر ۔ آمین۔ آپ کے خیال میں کیا وجہ تھی کہ خُدا نے انسان کو پیدا کیا۔ کیا اُس کے پیدا کرنے میں اُس کا کوئی مقصد تھا یا کِسی خاص مقصد کے بغیر ہی اُس نے یونہی اُسے پیدا کر دیا ؟

منال: سمیر کیا آپ کو پتہ ہے کہ اُن آخری دِنوں میں یہ سوال میرے ذہن میں تھا ۔ میں نے حیران ہونا شروع کیا کہ خُد ا نے ہمیں کیوں پیدا کیا ۔ اور میں نے اِس سوال کا جواب ڈھونڈنا شروع کیا جب تک میں نے پیدائش کے پہلے باب میں بائبل میں نہ پڑھا۔ پیدائش 1باب27تا28آیت۔ جو خُدا نے آدم اور حوا کو کہا جب اُس نے اُنہیں خلق کیا، "پھلو اور تعداد میں بڑھو اور زمین کو بھر دو اور محکوم کرو"۔

رانیا: کیا خُدا نے ساری زمین کو اپنے اختیار میں رکھنے کے لئے آدم اور حوا کو پیدا کیا اور اُن کی نسل کے وسیلے حکومت کرنے کے لئے۔

سبق نمبر8 صفحہ نمبر3

سمیر: ہاں۔ خُدا نے اُنہیں خلق کیا کہ وہ اور اُن کی نسل زمین پر اُس کی بادشاہت کا اعلان کریں اور خُدا کی عبادت کریں۔ اور اُس کی خُداوند یت اور بادشاہت کا اعلان کریں۔ انسان کو خلق کرنے سے خُدا کا مقصد ساری زمین کو خُدا کی حاکمیت کے نیچے لانا ہے۔

مجدی: پس آدم اور حوا کے لئے خُدا کا مقصد واضح تھا لیکن وہ اِس مقصد کو پورا کرنے میں کیوں ناکام ہوئے؟

ناصر: یہ قوت وہ کس طرح حاصل کر سکتے تھے۔

سمیر: وہ یہ طاقت خُدا کا حُکم سُننے اور ماننے سے حاصل کرتے تھے ۔ اگر اُنہوں نے ایسا کیا ہوتا تو زمین خدا کی حاکمیت کے نیچے ہوتی۔

رانیا: یہی وقت ہے کہ فردوس میں تمام درختوں کا پھل کھانے کی خُدا نے اُنہیں اجازت دی ماسوائے نیک و بد کی پہچان کے درخت سے۔ اور خُدا یقیناََ اُن سے توقع کرتا تھا کہ اُس کے حُکموں کو مانے اور اُن کی فرمانبرداری سے وہ قوت حاصل کریں جِن کے وسیلے وہ اِسے کھا کر خُدا کے مقصد کو پورا کرنے کے قابل ہو جائیں۔

سمیر: رانیا بہت خوب۔فرمانبرداری ہی وہ چابی تھی جِس کے وسیلے آدم اور حوا اپنی زندگیوں کے لیے خُدا کے مقصد کو پورا کرنے کے قابل ہو سکتے تھے۔ کون ہمیں بتا سکتا ہے کہ بعد میں کیا ہُوا؟

ناصر: بائبل ہمیں پیدائش کی کتاب کے تیسرے باب میں وضاحت کرتی ہے کہ ابلیس جو شیطان ہے فردوس میں آیا اور آدم اور حوا کو ممنوعہ درخت سے کھانے کے لیے آزمایا ۔

مجدی: اور یقیناََ گناہ یعنی نافرمانی کے گناہ نے وہ اختیار کھونے پر مجبو رکیا جِس کے وسیلے وہ اپنی تخلیق کے مقصد کو پوراکر سکتے تھے جو اُن کے وسیلے خُدا کی حاکمیت اور بادشاہت کو اُن کے وسیلے مکمل کرتا ہے۔ اور زمین کی بجائے وہ سب کُچھ جو اُس کی شان، عظمت اور جلال کا ذکر کرتا ہے۔ یہ ابلیس کے اختیار کے نیچے آ گیا۔

رانیا: یہ بہت مشکل ہے ۔ بس انسان نے زندگی کا مقصد کھو دیا ۔ کیا اِس صورتحال کا کوئی حل تھا؟ کیا یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے فتح حاصل کی۔

منال: نہیں رانیا۔ شیطان کے لیے خُدا پر غالب آنا نا ممکن ہے۔ خُدا کوکبھی شکست نہیں ہو سکتی۔ خُدا کے پاس حیران کُن منصوبہ ہے۔ جِس کے وسیلے وہ انسان سے اپنی محبت ظاہر کرتا ہے اور اُس کے لیے زندگی کا مقصد واپس حاصل کرتا ہے۔

ناصر: کیا کوئی وضاحت کر سکتا ہے کہ یہ منصوبہ کیا ہے؟

سمیر: جب شیطان جیت گیا اُسی دِن اِس منصوبے کا اعلان کر دیا گیا۔پیدائش 3باب15آیت میں بائبل میں ایک خوبصورت وعدہ ہے جو کہتا ہے کہ عورت کی نسل سے جو حوا ہے وہ پیدا ہو گا جو ابلیس کے سر کو کُچلے گا اور شیطان کی بادشاہت کو شکست دے گا۔ اور انسان کو غلامی سے آزاد کرائے گا۔ وہ خُدا کی اُمت قائم کرے گا۔ وہ زمین پر خُدا کے اختیار کو بحال کرنے کے قابل ہونگے۔

سبق نمبر8 صفحہ نمبر4

مجدی: کیا عورت کی نسل کی نبوت میں خُداوند یسوع مسیح مُراد نہیں۔

سمیر: بالکل۔ یہ نبوت تھی کہ مسیح آئے گا۔ اور شیطان کی بادشاہت کو شکست دے گا اور شیطان کی قید سے انسان کو چھڑائے گا اور زمین پر خُدا کی بادشاہی اور حکومت کو بحال کرے گا۔

رانیا: او ہاں۔ اب میںسمجھتی ہوں کہ خُداوند یسوع ہمیشہ جلال کی بادشاہت کے بارے میں باتیں کرتے تھے اور جو اُس پر ایمان لائیں گے ، زمین پر اُس کی بادشاہت پھیلائیں گے۔

ناصر: یسوع جہاں کہیں گیا وہ خُدا کی بادشاہی کے اختیار کا ہمیشہ اعلان کرتا تھا ۔ خُدا کی بادشاہت لوگوں کو ابلیس کی قید سے رہائی دیتی ہے۔ اور ابلیس کے کاموں جیسا کہ بیماری ، خوف، غم اور اِسکی بجائے وہ سب جو خُدا کی بادشاہت میں ہیں خوشی، آرام ، شفائ اور خلاصی پائیں گے۔ اس لئے پہلا مقصد جو آدم کے لیے خُدا رکھتا تھا جو زمین پر خُدا کی حکومت کا اعلان کرتا ہے یسوع مسیح کے وسیلے پورا ہُوا۔ سارا جلال اُسی کو مِلے ۔

سمیر: ویسے تم صحیح کہتے ہو یسوع مسیح اُس کام میں کامیاب ہُوا جِس کو کرنے میں آدم ناکام ہُوا لیکن قیمت بہت زیادہ تھی ۔کئی بار یسوع مسیح کو اُس کا مقصد پورا کرنے سے روکنے کی کوشش کی یہاں تک کہ اُس نے یسوع مسیح کو آزمانے کی کوشش کی۔

ناصر: اُس کو آزمانے کی کوشش کی۔ کیسے؟

سمیر: اِس آزمائش کا واقعہ متی کی انجیل کے چوتھے باب میں لِکھا ہے جہاں شیطان یسوع مسیح کو بتاتا ہے کہ وہ پوری زمین اُس کے اختیار میں کر دے گا اگر یسوع جھکے اور اُسے سجدہ کرے ۔

منال: لیکن یسوع نے اِس آزمائش کو رد کر دیا کیونکہ خدا کے ساتھ پورے اتحاد میں ہے اور صرف باپ کی مرضی پوری کرتا ہے۔

سمیر: اور جب یہ آزمائش ناکام ہو گئی ۔ شیطان نے ایک اور راستہ آزمایا ۔ یہ دُکھ اور درد کا راستہ جو مسیح کی صلیب کے ذریعے تھا ۔

منال: مسیح نے مختلف قسم کے درد برداشت کئے خُدا کی مرضی کو زمین پر پورا کرنے کے لئے۔

رانیا: میں سارا جسمانی درد جانتی ہوں جو اُسے پلایا گیا۔ اُس پر تھوکا گیا۔ شدت سے کوڑے مارے گئے۔ اُس کا خون بہایا۔ کانٹوں کا تاج صلیب اُٹھاتے ہوئے اور خود صلیب بھی ۔

ناصر: وہ درد برداشت سے باہر ہے۔ یہاں تک کہ میں نے سُنا ہے کہ وہ کیل جِن سے اُسے مصلوب کیا ، دس سینٹی میٹر لمبے تھے۔ اتنا درد کون برداشت کر سکتا تھا۔

مجدی: یہ نہ صرف بدنی درد تھا بلکہ وہاں نفسانی درد بھی تھے۔ اُس کے شاگر د اُسے چھوڑ گئے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہاں تک کہ پطرس رسول جِسے خُد ا محبت کرتا تھا اُس کا انکار کر دیا۔ وہ سب جنہیں یسوع کھلاتا تھا اور شفائ دی تھی زور زور سے چلا رہے تھے، "اِسے صلیب دو ، ،اسے صلیب دو"

سبق نمبر8 صفحہ نمبر5

سمیر: اِن سب دردوں کے باوجود یسوع اپنے اس مقصد کے لیے زندہ رہا جِن کے لیے وہ آیا تھا۔ جِس طرح وہ یوحنا کی انجیل کے 17باب میں خُدا سے دُعا کرتا ہے، "میں نے زمین پر تُجھے جلال دیا اُس کام کو مکمل کر کے جو تُو نے مُجھے کرنے کو دیا تھا "۔

ناصر: کیاآپ کو پتہ ہے کہ اب میں سمجھتا ہوں یسوع صلیب پر اونچی آواز میں چلایا، "پورا ہُوا"۔اُس کا مطلب تھا کہ اُس نے وہ کام جو وہ کرنے آیا تھا ختم کر دیا ہے اور شکست ہو گئی ہے ۔

رانیا: یہی وجہ ہے کہ یسوع نے اپنے شاگردوں کو مردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد ساری دُنیا میں جانے اور خلق کے سامنے انجیل کی منادی جو خُدا کی بنی نوع انسان سے محبت کے بارے اور قوت کے وسیلے ابلیس کے اختیار سے رہائی اور مسیح کی قیامت کا اعلان کرنے کا حُکم دیا۔ بائبل بتاتی ہے کہ خُدا نے ہمیں تاریکی کے قبضہ سے چھڑا دیا اور اپنے بیٹے کی بادشاہت میں جِسے محبت کرتا ہے ہمیں لے آیا۔ پس شاگردوں کا بڑا مقصد یہ تھا کہ یسوع کو روئے زمین پر واحد بادشاہ اور خُداوند کے طور پر تاج پہنایا جائے گا۔

ناصر: یہ پہلی بار ہے جب میری آنکھیں ایسے مضمون پر اس قدر کھل گئی ہیں جو سب سے زیادہ اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ یہی وہ مقصد ہے جو خدا ہماری زندگیوں کے لیے رکھتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے یسوع کے بارے میں بتائیں اور اُس کی محبت کااعلان کریں جِس کامطلب ہے گردونواح کی اقوام اور ساری دُنیا میں خُدا کی بادشاہت کوپھیلانا۔

سمیر: یہ مقصد نہ صرف ناصر تمہارے لیے ہے بلکہ میرے لیے اور رانیا کے لیے اور منال ، مجدی اور ہر ایک کے لیے ہے جو مسیح کے نام پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ ہر ایک ایماندار کا مقصد ، خواہش اور نشان ہونا چاہیے۔ کیا یہ ہم سب کے لیے مقصد نہیں ہے ؟

تمام: آمین۔

منال: یہی وہ مقصد ہے جِس کے لیے آنے والے تمام دِنوں میں ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں۔

سمیر: آئو ہم خُداوند کے نام کی ستائش کریں اور اُس کو بتائیں کہ ہمارے دِلوں کی خواہش ہے کہ ہمیں زمین پر اپنی بادشاہت کو پھیلانے کے لئے اور پوری انسانیت میں لے جانے کے لئے استعمال کرے۔ آئیے گائیں! "ہم تیری طرف پکارتے ہیں"۔

﴿ہر کوئی گاتا ہے﴾

رانیا: اب میں اپنی زندگی کے مقصد کو جانتی ہوں ۔ یہ مقصد عملی طور پر کیسے پورا ہو سکتا ہے۔

مجدی: اِس مقصد کو پوراکرنے کے لئے ہمیں خُداوند کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔ جیسا ہم متی13باب میں پڑھتے ہیں۔ "آسمان کی بادشاہت کھیت میں چھپے خزانے کی مانند ہے ۔ جب کِسی آدمی نے پا کر چھپا دیا اور خوشی کے مارے جا کر جو کُچھ اُس کا تھا بیچ ڈالا اور اُس کھیت کو مول لے لیا ۔ پس خُدا کی بادشاہت کو دیکھنے کے لئے مُجھے بہت کُچھ جو میرے پاس ہے یسوع کو دے دینا ہے۔ اور اپنی زندگی میں واحد بادشاہ کے طور پر تاج پہنانا ہے۔

سبق نمبر8 صفحہ نمبر6

منال: اِس میں کُچھ مضائقہ نہیںکہ کوئی چیز کتنی اہم ہے جِس کی ہمیںفِکر ہے۔ مُجھے اُسے یسوع کے ہاتھ میںرکھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر رانیا میں جانتا ہوں کہ مستقبل میں تمہاری شادی بہت زیادہ تمہارے دماغ پر قابض ہے لیکن آپ اپنی زندگی میں خُدا کی بادشاہت کو پورے طور پر ﴿عملی طور پر﴾ دیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کو خُداوند کے پاس آنا چاہیے اور اُس سے کہیں کہ مستقبل کی شادی کی بات کو اپنے ہاتھ میں لے ۔ اُسے کہیں کہ آپ کی زندگی میں اُس کا مقصد ہی حاوی ہو گا۔

رانیا: آمین۔

سمیر: نہ صرف مستقبل کی مصروفیت کا معاملہ بلکہ ہم خداوند کو چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیوں کے ہر حصے میں حکومت کرے۔ ہم اپنی زندگی میں اُسے بادشاہ بنانا چاہتے ہیں۔ ہمارا مستقبل، وقت، روپیہ، پیشہ اور خواہشات اور ہر بات پر جو ہمارے لیے اُس کے مقصد سے ہمیں دور لے جا سکتی ہے۔ مثال کے طورپر اگر اِس مقصد کی تکمیل چاہتی ہے کہ میں کِسی اور مُلک میں جائوں اور منال کو یہاں چھوڑ جائوں ۔ اگرچہ یہ مشکل ہے لیکن خداوند کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں۔

مجدی: کیا ہم خُداوند کے سب سے بڑے مقصد کے لیے جِس کے لیے خداوند نے ہمیں پیدا کیا ہے ، دُعا کریں اور اپنے آپ کو پورے طورپر اِس کے لیے دے دیں۔ اُس کے نام بادشاہت اور تمام اقوام میں منادی کے لئے ۔

تمام: آمین۔

مجدی: اے خُداوند میں تیرا شکر کرتا ہوں کیونکہ میں اپنی زندگی کے لیے تیرا مقصدآج سمجھ گیا ۔ میں اُس مقصد کے لئے جیسا چاہتا ہوں میں اپنی ساری زندگی ، مستقبل ، میرا کام اور میری زندگی بلکہ ہر چیز تیرے ہاتھوں میں رکھتا ہوں کہ تومیری زندگی کے لئے اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے اُنہیں استعمال کر سکے۔آمین۔

تمام: آمین۔

ناصر: میں اپنی زندگی تیرے ہاتھوں میں دیتا ہوں۔ تُو میرا بادشاہ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی کے لئے منصوبے بنائے ہیں اور ہمیشہ خیال کیا کہ وہ بہترین منصوبے ہیں۔ میں اِن سب کو چھوڑتا ہوں ۔ میری زندگی میں ایک نشان ہوگا ۔ زندگی کے لیے ایک مقصد جو زمین پر تیری بادشاہت کو پھیلانا ہے ۔یہ تیری خواہش ہے خُداوند میری زندگی کو لے ۔آمین۔

رانیا: خداوند میں تیرے نام کی تعظیم کرتی ہوں کیونکہ صرف تو حقیقی خُدا ہے۔ زمین پر واحد بادشاہ ہے ۔سب لوگوں کے لیے تیری بادشاہت آرام ، خوشی اور صلح ہے۔ مُجھے معاف کر کیونکہ تمام دِن میں نے تیری بادشاہت کے اعلان کے بغیر کھو دئیے ہیں۔ میری مدد کر آنے والے دِنوں میں دوسروں کو تیری بادشاہت کے بارے میں بتانے کے لئے گزاروں ۔ میں تیرے لئے جئوں گی اور اپنی زندگی میں تیرے مقصد کو پورا ہوتے دیکھنے کے لئے۔

سبق نمبر8 صفحہ نمبر7

تمام: آمین۔

منال: اے خُداوند سارا جلال تُجھے مِلے کیونکہ تُو نے اُس مقصد کو ظاہر کیا ہے جو تُو ہمارے لیے رکھتا ہے۔ جِس کے لیے تُو نے ہمیں پیدا کیا ہے ۔ اپنے فضل سے میری مدد کر کہ اُس مقصد کے لیے سب کُچھ قربان کر دوں۔

تمام: آمین۔

منال: میں محسوس کرتی ہوں جیسے میں آج پیدا ہوئی ۔ میری خواہش ہے کہ اِس ہفتے کے دوران لمبا وقت دُعا میں گزاروں ۔ خُداوند کے لیے اپنے آپ کو وقف کرتے ہوئے ، اعلان کرتے ہوئے کہ اپنی زندگیوں میں اُس کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہم تیار ہیں۔

ناصر: ہاں۔ میں ایسا کرنا چاہونگا۔

سمیر: ٹھیک ہے۔ آئو یہ ہفتہ خُداوند کے لیے مخصوصیت اور دُعا میں گزاریں۔ ہماری اگلی میٹنگ اگلے ہفتے اِسی وقت اور ہماری اِسی جگہ ہو گی۔

مجدی: بند کرنے سے پہلے ہم گائیں، "اے خُداوند کے بیٹے زمین تیری ہے"۔

﴿ہر شخص گاتا ہے﴾