Hear Fellowship With My Family Episode 9 (Audio MP3)

View FWMF episode 9 as a PDF file

سبق نمبر9 صفحہ نمبر1

"ستائش کرنا"

﴿دروازے کی گھنٹی بجتی ہے اور دروازہ کھُلتا ہے﴾

ندیم: زیدی بھائی خوش آمدید۔ اندر آئیے۔کیسے ہیں آپ؟

زیدی: شکریہ ندیم۔میں ٹھیک ہوں۔ آپ کا کیا حال ہے؟

ندیم: میں بھی ٹھیک ہوں۔

زیدی: ناصر تم کیسے ہو۔

ناصر: انکل میں ٹھیک ہوں۔

زیدی : اور شمیم آپ؟

شمیم:شکریہ میں بھی ٹھیک ہوں۔

زیدی: خُدا کی حمد ہو۔

ندیم: زیدی صاحب کیا بات ہے ؟ آپ بہت تھکے ہوئے لگ رہے ہیں سانس بھی پھولا ہوا ہے۔

زیدی: ہاںندیم۔ آج کام میں کچھ دیر لگ گئی۔آیا تو ٹیکسی میں ہوں مگر آپ کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے سانس پھول گئی ہے۔میں اس عبادت کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ پروین بہن کہاں ہے؟

ندیم: وہ ساتھ والے کمرے میں ہے۔

ناصر:انکل ،امی پچھلے تین گھنٹوں سے وہاں ہیں۔

ندیم: پچھلے تین گھنٹوں سے؟ وہ وہاں کیا کر رہی ہیں ؟

سمیر: وہ آج کے موضو ع میں رہنمائی کریں گی۔مطالعہ کر رہی ہیں۔

شمیم: یہ بڑی بات ہے۔ اُن کے آنے تک آئیں ہم کُچھ چائے پئیں۔

زیدی: یہاں آکر مجھے بڑا آرام ملتا ہے ۔میں محسوس کرتا ہوں ۔اپنے خاندان میں آگیا ہوں۔ خاص طور پر جب ہم بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں اور کھانا کھاتے ہیں۔مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک خاندان ہیں۔

شمیم: اِن کلیسیائی عبادتوں نے میری زندگی بدل دی ہے۔ جب میں گھر سے دور تھی، کبھی ایسا محسوس نہ کرتی تھی جس طرح اِس رفاقت میں کرتی ہوں۔

ندیم: خُدا کی حمد ہو۔ خُدا چاہتا ہے کہ ہم اکھٹے ہوں۔ ایک دوسرے کا حال احوال جانیں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ اور ایک سبق نمبر9 صفحہ نمبر3

دوسرے کے لیے دُعا کریں۔

زیدی: پچھلے ہفتے جب آپ میرا حال پوچھنے میرے گھر آئے تو مُجھے بہت اچھا لگا۔ میری بیوی نائیلہ پر اِس کا بہت اثر ہُوا۔ جب پروین بہن دوسرے دِن مِلنے آئیں۔نائیلہ بہت خوش ہوئیں ۔وہ پروین بہن سے بہت پیار کرنے لگی ہیں۔

پروین: ﴿coming﴾زیدی بھائی کیا باتیں ہو رہی ہیں۔ میرا نام کیوں لیا جارہا ہے؟

زیدی: پروین بہن کیا حال ہے آپ کا۔ میں انہیں بتا رہا تھا کہ پچھلے ہفتے جب آپ میری بیوی نائیلہ کا حال احوال پوچھنے آئیں ۔نائیلہ بہت خوش ہوئی تھیں۔

پروین: میں بھی بہت خوش تھی اور دوبارہ اُن سے مِلنے کا وعدہ کر کے آئی تھی۔

شمیم: پروین بہن میں نے سُنا ہے کہ آپ تین گھنٹے سے آج کے مضمون کی تیار کر رہی تھیں۔ لگتا ہے بہت خوبصورت مضمون ہو گا۔

پروین: جی ہاں! یہ ہماری زندگیوں میںاہم ترین مضمونوںمیں سے ایک ہے۔

ندیم: ٹھیک ہے۔چائے تو ہم سب پی چکے ہیں ۔ اِس سے پہلے کہ ہم پروین بہن کی بات چیت سنیں ۔آئو ہم خُداوند اپنے خُدا کے حضور گیت گائیں۔

تمام: ٹھیک ہے۔کیوں نہیں۔ضرور ضرور

ندیم: زیدی صاحب کیا آپ تیار ہیں۔

زیدی: جی ہاں ۔ میں تیار ہوں۔ میں آج دُعا کر رہا تھااورمیں نے محسوس کیا کہ ہمیں بہت زیادہ خدا کی تعریف کرنی چاہئے اور اُس کے نام کو سر بلند کرنا چاہئے۔ آئو ہم گائیں۔حمد تیری خداوند۔ناصر آپ ہارمونیم بجائیں۔

﴿گیت:حمد تیری خداوند ﴾

پروین: سچ مچ کوئی ہمارے خُد ا کی طرح نہیں ۔ وہ عظیم ہے اور معجزات کرتا ہے ۔

ندیم: ساری زمین پر صرف وہی اکیلا خُدا ہے ۔اُس کی مانند کوئی دوسرا نہیں۔

زیدی: آمین۔

ندیم: آج ہم اپنی زندگیوں کے لیے بہت اہم باتیںسکھیں گے۔

زیدی: آپ نے اِس مضمون کو سُننے کے لیے بے تاب کر دیاہے۔ یہ مضمون کیا ہے؟

ندیم: پروین اِس کے بارے میں ہمیں بتائیں گی۔ پروین مہربانی کر کے شروع کریں۔

پروین: ندیم شکریہ۔ آج کا مضمون خُدا کی تعریف کرنے کے بارے میں ہے۔ کیا کوئی اِس لفظ تعریف کے معانی جانتا ہے ۔

سبق نمبر9 صفحہ نمبر3

ناصر:جی ہاں ! میں بتاتا ہوں۔ رعیف کے معنی ہیں۔ستا ئش کرنا، گیت گانا۔

زیدی: اورمیرا خیال ہے خُدا کی تعریف کرنے کے معانی ہیں، خُدا کی شخصیت کے بارے میں خوبصورت الفاظ کہنا۔

پروین: یہ صحیح ہے۔ تعریف کرنا ۔ خُدا تعالیٰ کے بارے میں کوئی اچھی بات کہنا یا اعلان کرنا ۔ خُدا پسند کرتا ہے کہ اُس کی تعریف کی جائے ۔ وہ اپنے لوگوںکو اپنی تعریف کرتے سُننا پسند کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بائبل کہتی ہے،"میں نے اِن لوگوںکو اپنی حمد کرنے کے لیے بنایا ہے "۔پطرس رسول اُن لوگوں کے بارے میں جو خُدا کی تعریف کرتے ہیں کہتے ہیںکہ وہ پاک قوم ہیں جو خُدا کی ملکیت ہیں۔ پس تعریف کا مطلب ہے خُد ا کے بارے میں اچھی بات کہنا ۔ میں اِس میں اضافہ کرونگی جہا ں کہیں خُداوند کے نام کی تعریف ہوتی ہے خُداوند خود وہاںموجود ہے ۔ کیا کِسی کو اُس آیت کا علم ہے جو اِس کی حمایت کرتی ہے جو میں نے کہا ہے۔

شمیم: ہاں پروین۔ میں نے زبور22 اور 3آیت میں پڑھا ہے۔ بائبل کہتی ہے ،"تو قدوس کی طرح تخت نشین ہے ۔ تو اسرائیل کی ستائش ہے"۔ اِس کا مطلب ہے کہ جب کبھی ہم خُدا کی ستائش کرنا شروع کرتے ہیں خُدا خود ہماری ستایش سُننے آ جاتاہے۔

زیدی: مُجھے بائبل مقدس سے ابھی ایک خوبصورت کہانی یاد آ گئی ہے۔ یہ تواریخ کی دوسری کتاب میں مِلتی ہے۔ یہ سلیمان بادشاہ ابنِ دائود کے متعلق بتاتی ہے ۔ عظیم ہیکل کی تعمیر ختم کرنے کے بعد تمام بزرگ اور لوگ خُدا کی تعریف کرنے کے لئے جمع ہوئے ۔ جب اُنہوں نے خُدا کی تمجید کرنا شروع کی تو ہیکل ابر سے معمور ہو گئی اور کاہن اپنی خدمت کرنے کے لئے وہاں ٹھہر نہ سکے۔ خدا کے جلال نے اُس جگہ کو بھر دیا۔

پروین: بھائیو، بہنو۔ آپ نے سُن لیا ہے۔ جب اُنہوںنے خُدا کی تعریف کرناشروع کیا ۔ خُدا کی حضوری نے اُس جگہ کو بھر دیا۔

تمام: خُداوند تیرا شکر۔ خُدا کی حمد ہو۔خداوند تیری ستائش ہو۔

ناصر: اِس کا مطلب ہے کہ جب ہم خُد ا کی تعریف شروع کرتے ہیں ۔ وہ ہمار ے درمیان آ موجود ہوتا ہے۔

پروین: بیشک ایسا ہی ہے۔ جو بائبل کہتی ہے۔

ناصر: اوہ یہ کیسا جلال ہے !

پروین: خُدا کو اپنے درمیان پانا بڑا اعزاز ہے ۔ میں اِس میں کُچھ اضافہ کرنا چاہونگی وہ یہ کہ تعریف ایک ہتھیار ہے جِس کے ساتھ ہم ابلیس کا مقابلہ کرتے ہیں۔

زیدی: پر وین بہن ،ہماری تعریف کِس طرح ابلیس کے خلاف ہتھیار ہو سکتی ہے؟

پروین: زیدی بھائی ہم نے اِس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خُدا چاہتا ہے کہ اُس کی تعریف ہو۔ جب کبھی ہم خدا کے نام کی تعریف کریں گے خدا حاضر ہوگا۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اُس وقت شیطان کی کیا حالت ہوگی۔

سبق نمبر9 صفحہ نمبر4

شمیم: وہ ڈر جائے گا۔

پروین: ہاںبیشک۔ نہ صرف وہ ڈر جائے گا بلکہ بھاگ جائے گا ۔

ندیم: یسعیاہ نبی کے صحیفے میں ایک آیت ہے ۔ جو اِس کے بارے میں کہتی ہے ۔ جب شیطان ہمیں خُدا کے نام کی تعریف کرتے سُنتا ہے تو وہ دِل میں کہتا ہے،"میں برباد ہُوا، میں بربادہُوا"۔

شمیم: اوہ۔ اِس کا مطلب ہے کہ شیطان اپنے دِل میں کہتا ہے،"مُجھ پر افسوس "۔

ناصر: میں تو یہ کہوں گا جہاں لوگ خُدا کی ستائش کر رہے ہوتے ہیں۔ وہاں شیطان ٹھہر ہی نہیں سکتا۔

شمیم: آپ نے کہا کہ خُدا کی تعریف کرنا شیطان کے خلاف ہتھیار ہے۔ مُجھے ایک قوم کی کہانی یاد آ گئی ہے۔ جنہوں نے اِس ہتھیار کو استعمال کیا اور لڑائی جیت لی۔ کہانی یہوسفط بادشاہ کے بارے میں ہے۔ کُچھ بادشاہ اُس کے خلاف متحد ہو گئے اور اُسے شکست دینے کا فیصلہ کیا ۔ اُس کے ساتھیوں کی تعداد کم تھی لیکن خُدا اُن کے ساتھ تھا۔ خُدا نے اُن سے کہا کہ وہ ستائش شروع کریںکیونکہ وہ اُن کے لیے لڑے گا۔ جب اُنہوں نے اُس کی تعریف کرناشروع کی ، خدا نے اُن کے دشمنوں کو شکست دی۔

ناصر: میںابھی تک عملی طور پر اِس ہتھیار کو استعمال کرنا نہیں جانتا۔

پروین: شیطان کئی موقعوں پر ہمیں تھکا دیتا ہے۔ وہ ہمیں فکروں اور دوسروں معلوں میں الجھا دیتا ہے تب ہمارا دم گھٹنے لگتا ہے۔ لیکن جب ہم حمد کرناشروع کرتے ہیں خُدا آ کر موجود ہوتا ہے اور جہاں خُد ا رہ رہا ہو وہاں شیطان نہیں ٹھہر سکتا۔ وہ بھاگ جاتا ہے۔ اِس بات پر مجھے خدا سے تسلی ملتی ہے۔

ناصر: لیکن جب میں تھکا ہوتا ہوں۔ میں حمد نہیں کر سکتا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ میں دِل سے اُس کی تعریف نہیں کر رہا۔

زیدی: در حقیقت یہ ہم میں سے کِسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ میں کچھ موقعوں پر خُدا کی تعریف نہیں کر سکتا۔

پروین: آئیں زبور 9اُس کی پہلی دو آیات پڑھیں شمیم آپ پڑھنے میں مدد کریں۔

شمیم: ہ﴿صفحہ الٹتے ہوئے﴾ یہاں لکھا ہے ،"میں تیری ستائش کرونگا ۔ اے خُداوند پورے دِل سے میں تیرے عجائبات کا بیان کرونگا۔ میں خوش ہونگا اور تُجھ میں خوشی منائونگا۔ اے حق تعالیٰ میں تیری ستائش کرونگا"۔

پروین: کیا آپ کوپتہ ہے۔ یہ الفاظ کِس نے کہے ،

ناصر: جی!دائود نبی نے ۔

پروین: بالکل صحیح کیا آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ کس موقعے پر اُنہوں نے یہ الفاظ کہے۔

زیدی: جی ہاں!وہ خُداوندمیں خوش ہو رہے تھے ۔اِس کا مطلب ہے کہ وہ کِسی خاص لڑئی میں اپنے سارے دشمنوں کو شکست دینے کے بعد واپس آ رہے تھے ۔

سبق نمبر9 صفحہ نمبر5

شمیم: کیا یہ اُس وقت کی بات ہے جب وہ بادشاہ بن گئے ۔

پروین: جی نہیںاِن دونوںمیں سے کوئی بات نہیں۔ حضرت دائود نے یہ الفاظ اُس وقت کہے جب ان کااپنا بیٹا مر گیا ۔

زیدی: بہت خوب۔ جب اُن کا بیٹا مر گیا۔ مُجھے یقین ہے وہ بہت غمگین تھے۔ وہ ستائش کیسے کر سکتے تھے ۔

پروین: حضرت دائود اپنے غم کے باوجود خُداوند میں خوش تھے۔ لہذا انہوں نے اُس کی ستائش کی اور اُس کے حضور اُس کے لیے گیت گایا۔

ندیم: پروین کیا میں یہ بات واضح کرنے میں آپ کی مدد کروں؟

پروین: جی ندیم! کیوں نہیں۔

ندیم: بات یہ ہے خُدا کی ستائش کرنا ، مرضی کا ایک عمل ہے۔ اِس کا انحصار ہمارے احساسات پر ہے۔ میںیہ نہیںکہہ سکتا کہ جب میں غمگین ہونگا میں گیت نہیں گائونگا یاجب میں خوش ہونگاگیت گائوں گا۔ اور پھر خواہ مُجھے مسائل کا سامنا ہو یا نہ ہو۔ میں ہر وقت خدا کی ستائش کروں گا۔یہاںمیں آپ کو ایک مثال دونگا۔ حضرت پولوس اورحضرت سیلاس دونوںقید میں تھے ۔ اُن کی حالت بہت خراب تھی ۔اُنہیں پیٹا گیا اُن کے ہاتھ اور پائوں زنجیروں سے بندھے تھے لیکن اِس کے باوجود اُنہوںنے خُداوند کی تعریف کی۔ قید خانے کی دیواریں ہل گئیں۔ اور اُن کی زنجیریں کھل گئیں۔

تمام: خُدا کی تعریف ہو۔خدا کا شکر ہو۔

پروین: کیا آپکو پتہ ہے کہ زنجیریں کیسے ٹوٹیں؟ محض خُدا کی تعریف کرنے سے ۔ ایک واقعہ میرے ساتھ بھی ہوا۔میں اُس میں بھی آپ کو شریک کرنا چاہتی ہوں۔ گھر میں مُجھے بہت سے مسائل درپیش تھے۔ شیطان مُجھ پر بڑا دبائو ڈال رہا تھا۔اور جب میں خداوند کی ستائش کرنے یا دُعا کرنے کی کوشش کرتی تھی تو میں نہیں کر سکتی تھی۔ ایک ہفتہ میں اِسی حالت میںرہی میرے رشتہ داروں نینے بھی محسوس کیا کہ میں خوش نہیں ہوں۔ ایک دِن میں نے محسوس کیا کہ شیطان نے مُجھ پر غلبہ پا لیا ہے اور پورا ہفتہ ایک مصیبت میں زندگیگزارنے پر مجبور کردیا ہے۔ یہ سوچ کر میں نے نہ کہ اپنے جذبات کو استعمال کرتے ہوئے بلکہ اپنی مرضی کو استعمال کرتے ہوئے خُدا کے نام کی ستائش کرنا شروع کر دی۔ فوراََ اپنے دِل میں مُجھے اطمینان اور خوشی محسوس ہونے لگی۔اور اگلے دِن میںاپنے دوسرے کام کرنے والوں کے ساتھ مسکرا رہی تھی۔ جنہیں مجھ میں اس تبدیلی کا یقین نہیں آرہا تھا۔میں نے دیکھا خُدا نے میری فکروں اور مسائل کو اپنے اوپر لے لیا تھا ۔

ناصر: میں نہیں جانتا تھا کہ ستائش میں اتنی قوت ہے۔

پروین: یہی وجہ ہے میں آپ کو بتا رہی تھی کہ ستائش ہماری روحانی بہتری میں نہایت ہی اہم ہتھیاروںمیںسے ایک ہے۔

سبق نمبر9 صفحہ نمبر6

ندیم: کیا ہم ستائش کاایک گیت گا سکتے ہیں؟

پروین: کیوں نہیں۔

ندیم: آئیں ہم سب مل کر خداوند کی ستائش میں گیت گائیں ،ناصر آپ ہارمونیم بجائیں۔

ناصر: ٹھیک ہے ابو۔

تمام: ﴿گیت گاتے ہیں﴾

ناصر: لیکن امی میرا ایک سوال ہے ۔

پروین: ناصر بولو۔

ناصر: خُدا کیوں چاہتا ہے کہ ہم اُس کی ستائش کریں اور اُس کے نام کو سربلند کریں۔ناصر فرشتے آسمان پر اور زمین پر اُس کی مخلوق اُس کی ستائش کر رہے ہیں۔ ایک آیت ہے جو کہتی ہے، "ساری زمین خُداوندکی ستائش کرے"۔لیکن سب سے اہم تعریف وہ ہے جواُس کی کلیسیائ کرتی ہے یعنی ہم لوگ جو اُس کے لوگ ہیں۔ زبور 102میں لِکھاہے،"ایک قوم جو ابھی خلق نہیں ہوئی اُس کی تعریف کرے گی"۔

ناصر: یہ تو خدانے ہمیں بہت بڑا حق دیا ہے۔ خدا کی تعریف ہو۔

ندیم: خُدا کی کلیسیائ یعنی میں اور آپ جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں۔ بائبل مقدس ہمیں سِکھاتی ہے کہ ہم اُس کی دلہن ہیں۔ غزل الغزلات کی کتاب میں لکھا ہے ،"مُجھے اپنی آواز سُننے دو کیونکہ یہ خوبصورت ہے"۔ہمارا خداوند اپنی کلیسیائ یعنی جماعت کی آواز سُننا چاہتا ہے ۔ خُدا ہماری ستائش سے لطفاندوز ہوتا ہے جیسا کہ ایک آیت میں لکھا ہے،" وہ میرے گیت سے لطف اندوز ہو گا"َ

پروین: آخری بات جِس کا میں ذِکرکرنا چاہتی ہوں۔ وہ یہ ہے کہ خدا کی ستائش کرنے کے لیے بہت سے طریقے ہیں۔ اُن میں سے پہلاگیت گائے بغیر ہمارے منہ کا کلام ہے۔ زبور45پہلی آیت میںلکھا ہے، "میرے دِل میں ایک نفیس مضمون جوش مار رہا ہے۔ میں وہی مضمون سنائونگا جو میں نے بادشاہ کے حق میں قلمبند کئے ہیں۔ میری زبان ماہر کاتب کا قلم ہے"۔ اِس کا مطلب ہے ہم خُدا کی تعریف اپنے الفاظ سے کر سکتے ہیں جب ہم مِلے تھے ہم نے کہا ، "تو بارعب بادشاہ ہے۔صرف تو ہی اکیلا خُدا ہے " اچھا ،کیا آپ میں سے کوئی جانتا ہے کہ خدا کی عبادت کا دوسرا طریقہ کیا ہے۔

ناصر: میں جانتا ہوں ۔

پروین: جی بتائیں۔

ناصر: جو میں کہنے والا ہوں شاید آپکو عجیب لگے لیکن خُدا کی تعریف کرنے کا ایک طریقہ تالی بجاناہے۔ بائبل مقدس میں لکھا ہے، "سبق سبق نمبر9 صفحہ نمبر7

ساری قومیں اپنے ہاتھوں سے تالی بجائیں"۔ یہ الفاظ ساری قوموں کے لیے ہیں۔

شمیم: اور پروین بہن ،ہم اپنے ہاتھ اُٹھا کر بھی خُدا کی عبادت کر سکتے ہیں۔ ایک آیت بتاتی ہے، "اپنے ہاتھ یروشلیم کی طرف اُٹھائو اور خُداوند کو مبارک کہو"۔

زیدی: میں خداوند کی ستائش کرنے کا یک اور طریقہ بتانا چاہتا ہوں۔

پروین: زیدی بھائی ،وہ کیا ہے؟

زیدی: ہم خداوند کے حضور خوشی کرتے ہوئے اُس کی تعریف کر سکتے ہیں۔ زبور68میں لکھا ہے ،"خُدا کے لیے گائو۔ اُس کے نام کی تعریف گا کر کرو۔ اُس کی تمجید کرو جو بادلوں پر سوار ہے۔ اُس کا نام خُداوند ہے۔ اُس کے سامنے خوشی کرو" ۔خوشی منانے کا مطلب ہے کہ بلند آواز سے اُس کی تعریف کرنی چاہیے ۔

ندیم: اور خداوند کی تعریف کرنے کے لیے کیا آپ کوئی اور طریقے سوچ سکتے ہیں۔بائبل مقدس ہمیں سُر سے گانے کے متعلق بتاتی ہے۔ لکھاہے، "آئو ہم گائیں اور شیریں آواز سے نغمے گائیں۔

پروین: بیشک۔ ہم زبور150میں ایک اور طریقے سے خُدا کی تعریف کرنے کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ ہم موسیقی کے سازوں سے اُس کی حمد کر سکتے ہیں۔ آئوہم اکٹھے مِل کر یہ زبور پڑھیں۔

پروین اور سب لوگ: خُداوند کی حمد کرو۔ تم خُداوند کے مقدس میں اُس کی حمدکرو۔ اُس کی قدرت کے فلک پر اُس کی حمد کرو۔ اُس کی قدرت کے کاموں کے سبب سے اُس کی حمد کرو۔ اُس کی بڑی عظمت کے مطابق اُس کی حمد کرو۔ نرسنگے کی آواز کے ساتھ اُس کی حمد کرو۔ بربط اور ستار پر اُس کی حمد کرو۔ دف بجاتے اور نا چتے ہوئے اُس کی حمد کرو۔ تار دار سازوں اور بانسلی کے ساتھ اُس کی حمد کرو۔ بلند آواز جھانجھ کے ساتھ اُس کی حمد کرو۔ ہر متنفس اُس کی حمد کرے۔ خُداوند کی حمد کرو۔

پروین: اور بائبل مقدس یہ بھی فرماتی ہے کہ تمام قسم کے سازوں کے ساتھ اُس کی حمد کرنی چاہیے۔

زیدی: میں پورے دِ ل سے محسوس کرتا ہوں کہ ہمیں اُس کی حمدکرنی چاہیے۔

ناصر: میں بھی یہی محسوس کرتا ہوں۔

ندیم: آپ کا شکریہ۔پروین آپ کے مطالعے سے ہم نے بہت کُچھ سیکھا ہے۔ میں بھی زیدی صاحب کی طرح محسوس کرتا ہوں کہ ہمیں خُدا کی حمد کرنی چاہیے۔ کیا آپ ہماری رہنمائی کریں گے۔ اور مجدی آپ گِٹار بجا کر۔زیدی صاحب ،کیا آکر میں آپ دعا میں ہماری راہنمائی کریں گے۔

زیدی: کیوں نہیں ، آئیں ہم دعا کریں۔ اور آپ سب میرے پیچھے یہ دعا کریں۔

سبق نمبر9 صفحہ نمبر8

اے خداوند ہم تیرے لوگ ہیں۔ ہم تیرے نام کو اونچا کرتے ہیں۔ تیرے نام کو جلال ملے۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں آمین۔