Hear Fellowship With My Family Episode 10 (Audio MP3)

View FWMF episode 10 as a PDF file

سبق نمبر10 صفحہ نمبر1

"خوف"

﴿ یہ فیملی واقعہ ایک گیت کے ساتھ شروع ہوتا ہے جو خوف اور اُس پر غالب آنے کے بارے میںبتا تا ہے﴾﴿گیت جو امن کے بارے میںبتاتا ہے﴾

ندیم: پروین یہ گیت کون سُن رہا ہے؟ کیا یہ ناصر ہے؟

پروین: نہیں ندیم ۔یہ شمیم ہے۔یہ گیت اُسے بہت پسند ہے۔۔ ناصرتو ابھی سو رہا ہے۔

ندیم: کیا وہ سو رہا ہے؟

پروین: ہاں ۔وہ ساری رات جاگتا رہاہے کامتحان کی تیاری کررہا ہے۔مجھے بتا رہا تھا۔ ہ امی مُجھے امتحان سے ڈر لگتا ہے۔ وہ بہت تھک گیاتھاایک گھنٹہ پہلے سو یا ہے۔

﴿دوازے کی گھنٹی بجتی ہے﴾

ندیم: ضروریہ زیدی صاحب ہونگے۔ میں دروازہ کھولتا ہوں۔﴿pauseدروازہ کھلتا ہے﴾آئیے آئیے زیدی صاحب تشریف لائیں۔

زیدی: شکر یہ ندیم۔ آپ کیسے ہیں ۔مجھے دیر تو نہیں ہوئی؟

ندیم: نہیں نہیں ۔بیٹھیں تشریف رکھیں۔

زیدی: پروین بہن آپ کا کیا حال ہے۔

پروین: خدا کی حمد ہو۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔میں نے آپ سب کے لئے چائے تیار کی ہے۔مد د آپ کیجئے۔

ندیم/زیدی: شکریہ۔مہربانی﴿چائے بنانے،پینے کی آوازیں﴾

ندیم: زیدی صاحب آپ کی قمیض کا جواب نہینںبہت خوبصورت ہے۔

زیدی: ندیم بھائی شکریہ۔ یقین جانو ،خدا نے دی ہے۔

پروین: اچھا، وہ کیسے ؟۔

زیدی: پچھلی بار میں نے آپ کو بتا یا تھاکہ قرض چکانے کے لئے مُجھے کچھ پیسوں کی ضرورت تھی۔جس سے مجھے کافی رقم مل گئی۔ میں نے قرض بھی ادا کر دیااور بچی ہوئی رقم سے یہ قمیض بھی خرید لی۔

ندیم: خداوند کا شکر ہو۔وہ بہت فیا ض ہے۔

شمیم: ﴿مائیک کی طرف آتے ہوئے﴾زیدی بھائی کیا حال ہے،ندیم بھائی آپ کیسے ہیں۔

سبق نمبر10 صفحہ نمبر2

زیدی/ندیم: میں ٹھیک ہوں ۔آپ کیسے ہیں۔

شمیم: شکریہ ،پروین باجی،آپ بھی ٹھیک ہیں؟

پروین: شمیم میں بالکل ٹھیک ہوں۔

ندیم: شمیم جو گیت آپ سُن رہی تھیں بہت خوبصورت تھا۔

شمیم: مجھے یہ گیت بہت پسند ہے ۔اِس سے مجھے حفاظت کا احساس ہوتا ہے۔ جب میں یہ گیت سنتی ہوں ۔عیسیٰ مسیح میرا سارا خوف دور کردیتے ہیں۔

زیدی: بھئی ۔ناصر کہاں ہے۔

ندیم: وہ سو رہا ہے۔شمیم!پلیز اُسے جگا کر لائیں۔

ناصر: ﴿coming﴾مُجھے جگانے کی ضرورت نہیں۔میں آ رہا ہوں۔﴿pause﴾ ہیلو انکل زیدی،آپ کا کیا حال ہے۔

زیدی: ہیلو۔ ناصر۔ تمہاری آنکھیں سرُخ ہو رہی ہیں۔

ناصر: انکل میں تمام رات پڑھتا رہا ہوں۔تھوڑا سویا ہوں ۔

شمیم: کیا تم آج کے مطالعے پر توجہ دے سکو گے؟۔

ناصر: ایک گھنٹہ میں نے سوا لیا ہے۔چائے پی لوں گا۔ہشاش شباش ہوجائوں گا۔﴿چائے کے برتنوں کی آواز﴾

ندیم: ٹھیک ہے۔ توآئو اپنی کلیسیائی عبادت شروع کریں۔ عبادت کے شروع میں ہم عیسیٰ مسیح پر بھروسے کا گیت گائیں گے اور گیت گانے میں ہماری پروین ہماری رہنمائی کریں گی۔

پروین: آئیے ہم گیت شروع کریں۔ناصر، آپ ہارمونیم بجائیں۔﴿گیت﴾

ندیم: دوستو پچھلے ہفتے مُجھے پتہ چلاکہ میرا دوست سمیع بیمار ہے۔یہ سن کر مجھے بہت دکھ ہوا پچھلے دو سالوں سے سمیع کو ڈر تھا کہیں اُسے یہ بیماری نہ لگ جائے۔ پوچھا کرتا تھا کہ اگر یہ بیماری اُسے لگ گئی تو وہ کیا کرے گا۔ وہ اپنے بچوں کوکیسے پالے گا۔ بچے کیا کریں گے۔ اُس کی بیوی کیا کرے گی۔ کاش میں اِس حالت میں اُسے دیکھنے نہ جاتا ۔

ناصر: ابو یقیناً سمیع انکل رو رہے ہونگے۔

شمیم: و تو بہت پریشان ہوں گے۔

ندیم: نہیں شمیم، نہ تو وہ رو رہے تھے اور نہ ہی پر یشان تھے۔وہ اپنے بستر پر بیٹھے گیت گا رہے تھے ۔

سبق نمبر10 صفحہ نمبر3

پروین: ندیم ۔وہ ضرور وجد میں ہوںگے۔

ندیم: ۔ میرا بھی یہی خیال تھا۔ لیکن جب میں نے اُس سے پوچھا، تم تو سخت بیمار ہو۔ اس کے باوجود خوش ہو اور گیت گا رہے ہو۔ جبکہ چند سال پہلے تم بہت غمگین تھے اور فکر مند تھے کہ کیں تمہیں یہ بیماری نہ لگ جائے۔ آخر تمہیں ہو اکیا ہے۔اُس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔میں بیماری سے بہت ڈرتا اور خوف کھاتا تھا۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ اس بیماری سے بٹرھ کر بیماری کا خوف میرے لئے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ میں نہ تو کچھ کھاتا پیتا تھا اور نہ ہی سو سکتا تھا۔ مگر اب میں نے فکر کرنا اور خوف کھا نا چھوڑ دیا ہے۔سمیع کی یہ باتیں سن کر میں نے فصیلہ کیا کہ ہم اکٹھے اِس مضمون کا مطالعہ کریں گے۔

زیدی: ندیم بھائی مجھے اس مضمون کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔ میں اکثر خوف میں متبلا ہو جاتا ہوں۔

ناصر: ابومُجھے بھی اِس مضمون کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔ میںبھی اکثر ڈرتا ہوں۔

ندیم: خدا کی حمد ہوجِس نے ٹھیک سمت میں ہماری راہنمائی کی ہے۔ آئیے! اِس سے پہلے کہ اِس مضمون کے بارے میں گفتگوشروع کریں تھوڑی دُعا کریں۔پروین آپ دعا مین راہنمائی کریں۔

پروین: ہمارے آسمانی باپ۔ ہم تیرے نام کو جلال دیتے ہیں ۔ اے خُداوند ہم اِس عبادت کے لیے تیر ا شکر کرتے ہیں ہم تیرے نام میں جمع ہیں۔ آج کا مضمون تیرے حوالے کرتے ہیں۔ آ اور ہمارے دِلوں سے ہمکلام ہو۔ ہم میں سے ہر ایک کو سِکھا کہ کِس طرح خوف پر غالب آئیں جو ابلیس ہمارے اندر ڈالنے کی کوشش کر تا ہے۔ہم عیسیٰ مسیح کے نام میںیہ دُعا مانگتے ہیں۔ آمین۔

سب لوگ: آمین

ندیم: خوف ایک خاص چیز کا ردِعمل ہے جو ہماری زندگیوں میں بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ اورخوف کی بہت سی قسمیں ہیں ۔ مثال کے طور پر قدرتی خوف۔ جب ہمیں خطرہ درپیش ہوتا ہے۔تو ہم اس قسم کا خوف محسوس کرتے ہیں۔

شمیم: ایک بچے کی طرح جو تاریکی سے ڈرتا ہے اور روشنی کے نزدیک ترین مقام کی طرف بھاگتا ہے۔کیا ایسا نہیں؟

ندیم: ہاںشمیم۔ قدرتی خوف محفوظ رہنے کیلئے ہماری مدد کرتا ہے۔ دوسری قسم کاخوف وہ خوف ہے جب ہم کِسی ایسی چیز سے ڈرتے ہیں جو مستقبل میں ہونے والی ہوتی ہے۔

زیدی: ندیم بھائی، ناصر کی طرح جو اپنے امتحان کے ڈر کی وجہ سے خوف کی حالت میں ہے۔

ندیم: بالکل۔ حالانک امتحانات ابھی شروع نہیںہوئے ۔ ناصر کا خیال ہے کہ وہ بہت محنت کرنے کے باوجود بھی فیل ہوجائے گا۔ اور ب و ہ مسلسل خوف کی حالت میں ہے۔ اور تیسری قسم کا خوف وہ خوف ہے جو قدرتی نہیں ہوتا ۔یہ اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی شخص اُن چیزوں سے خوف کھاتا ہے جو نقصان نہیں پہنچاتی۔

سبق نمبر10 صفحہ نمبر4

پروین: مثال کے طور پرجیسے کوئی شخص جو سرخ رنگ سے ڈرتا ہے یا کوئی جو شادی کرانے سے ڈرتا ہے۔

ناصر: امی،کم از کم مین شادی کرانے سے نہیں ڈرتا۔﴿قہقے﴾

ندیم: اگر ہم اِن تین طرح کے خوف کو دیکھیںتو پہلا جوقدرتی خوف ہے ہمینںفوری ردِعمل کی طرف لے جاتا ہے ۔ دوسری اور تیسری قسم کا خوف جو قدرتی نہیں ہے انسانی نظام پر بہت اثر ڈالتے ہیں۔خدا کے کسی بند نے کہا، "مستقبل کاخوف ہمارے حال پربدامنی اور بے خوشی چھوڑ جاتا ہے"۔

پروین: میں نے خوف کے بارے میں ایک کتاب پڑھی تھی ۔ جس میں لکھا تھاکہ خوف تھکاوٹ کی بہ نسبت زیادہ لوگوں کو ہلاک کرتا ہے۔ کیونکہ خوف اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے۔

زیدی: پروین بہن آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ میں آپ کو ایک کہانی سُناتا ہوں کہ خوف ہمارے ساتھ کیا کر سکتا ہے۔ ایک شخص تھا جسے سزائے موت مل چکی تھی۔سائنسدان اُس آدمی میں خوف کے نتائج دیکھنا چاہتے تھے ۔ اُنہوں نے اُسے کہا ، "ہم تُجھے اِس طرح ماریں گے کہ تمہیں تکلیف نہ ہو ۔ ہم تمہارے ہاتھ کی نسیں کاٹ دیں گے تمہارا خون نکل جائے گا اور تم بغیر درد کے مر جائوگے۔ چنانچہ اُنہوںنے اُسے بستر پر باندھ دیا اور اُس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی ۔ اُنہوںنے کوئی نس نہ کاٹی ۔ اُنہوںنے صرف نسوں پر جو اُس کے بازومیں تھیں ، گرم پانی ڈال دیا۔ اور بتایا کہ اُس کی نسیں کاٹ ڈالی ہیں اور اُس کا خون نکل رہا ہے۔ یہ شخص ٹھیک پانچ منٹو ں کے بعد مرگیا ۔ وہ اِس لئے مر گیاکیونکہ اُسے اس خوف نے آدبایا کہ اُس کے جسم سے خون بہہ رہا ہے۔

ناصر: زیدی انکل میں نے کبھی سوچا نہ تھا کہ خوف اتنا خطرناک ہے لیکن ہم خوف پر کیسے قابو پاسکتے ہیں۔

ندیم: ناصر،خوف پر قابو پانے کے لئے ہمیں مومنین سے سیکھنا چاہیے جو ہم سے پہلے آئے۔ کیا تمہیں دانی ایل نبی یادہیں ۔ جب بادشاہ نے اُن سے کہا ۔کہ وہ خدا سے نہ تو کوئی چیز مانگیں اور نہ ہی دعا کریں۔ اگر اُنہیں کِسی چیز کی ضرورت ہو تو صرف بادشاہ سے مانگیں۔ آپ کے خیال میں حضرت دانی ایل کا ردِ عمل کیا تھا؟

شمیم: میرا خیال ہے وہ اپنی کھڑکی کھول کر دُعا کیا کرتے تھے جیسے وہ ہمیشہ کرتے تھے ۔

زیدی: اورجب بادشاہ کو علم ہُوا تو اُس نے اُنہیں شیروں کی ماند میں ڈال دیا۔

ندیم: بالکل اور اُنہیں کوئی خوف نہیں تھا ۔اور بہت سی مثالیں ہیں جن سے ہتہ چلتا ہے کہ کِس طرح پرانے مقدسین اور خُدا کے لوگ خوف پر غا لب آتے رہے۔ کوئی بتائے گا کہ وہ ڈرتے کیوں نہیں تھے؟

پروین: ندیم اس لئے کہ وہ پورے دِل سے خدا باپ سے ڈرتے تھے؟

ندیم: ہاں پروین۔ اُن مومنین کی زندگی اُن کے خُدا پر ایمان اور تعلق پر مبنی تھی۔ اور یہ وہ بات تھی جس سے وہ اپنے زندگی میں خوف پر سبق نمبر10 صفحہ نمبر5

غالب آئے۔وہ ہماری ہی طرح کی دنیا میں رہ رہے تھے۔ہمارے جسے احساسات رکھتے تھیلیکن اُن کی زندگی میں کچھ ایسی لاثانی چیزیں تھیں جن سے ہیں سبق سیکھنا چاہیے۔ وہ جانتے تھے کہ خدا نے دُنیا کو خلق کیا اوراُس پر اُسی کا حُکم چلتا ہے۔ خُدا کی اجازت کے بغیر دنیا میں کُچھ نہیں ہو سکتا ۔ اِس لئے جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تھا وہ محسوس کرتے تھے کہ خُدا کی قوت اور اخیتار اُن کے ساتھ ہے ۔ خدا محبت کرنے والا خُدا ہے۔ اور نہیں چاہتا کہ ہمیںکوئی نقصان پہنچے۔ جب اُنہوں نے حضرت دانی ایل کو بھوکے شیروں کی ماند میں ڈال دیا۔ اُن شیروں نے تین دِن سے کُچھ نہ کھایا تھااس کے باوجود اُنہیںنقصان نہ پہنچایا۔ خدا کے لوگ اِس قسم کا ایمان رکھتے تھے اور خوف اُن کی زندگیوں میں داخل نہیں ہو تا تھا۔

پروین: ابھی ابھی مُجھے حضرت یوحنا کے پہلے خط اس کے چوتھے باب کی اٹھاریں آیت سے ایک خوبصورت بات یاد آئی ہے۔ وہاں لکھا ہے، "کامل محبت خوف کو دور کرتی ہے"۔اس کا مطلب ہے کہ خُدا کی محبت پرمیرا بھروسہ اور ایمان ہے جومُجھ میں سے خوف کو نکال دیتا ہے۔ اور وہ پھر کبھی واپس نہ آئے گا۔

ناصر: ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی ،جب ہم ہر چیز خُداوند پر چھوڑ دیتے ہیں اور اُس پر بھروسہ کرتے ہیں تو موجودہ وقت میں اپنے آپ کومحفوظ محسوس کرتے ہیںلیکن جب ہمیںعلم نہیں ہوتا کہ مستقبل میں کیا ہوگا۔ اُس وقت ہمیں کیا کرنا ہے۔

شمیم: میں آپکو بتاتی ہوں۔ بہت سے لوگ ڈر جاتے ہیں۔کہ مستبقل میں کیا ہوگا مگرجب وہ دِن آتا ہیتو پتہ چلتا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوا۔پھر وہ محسوس کرتے ہیں کہ ماضی کے دِنوں کی طرح خُدا اُن کی حفاظت کر رہا ہے۔

ندیم: اِس لئے ہمیں مستقبل سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ ہم خدا پر بھروسہ رکھتے ہوئے اُس وقت کا سامنا کر سکتے ہیں کیونکہ خدا سب کچھ جانتا ہے اور ہمارے مستقبل کی ضمانت دیتا ہے ۔ جب ہمار ا ایمان اِس پر ہو گا تو ہم سکون میں ہوں گے اور محفوط ہونگے۔ مثال کے طو ر پر ناصر امتحانوں سے خوف زدہ ہے اور وہ فکر مند بھی ہے۔ اگر اس کا بھروسہ ہو کہ امتحانات اور نتائج خُدا کے ہاتھ میں ہیں تویہ بغیر

خو ف امتحان دینے جائے گا۔ آئیں میں آپ کو کچھ اور بتا تا ہوں۔ اِس حقیقت کے باوجود کہ بہت سی چیزیں ہیں جِس کے بارے میں ہمیں فِکر کرنی چاہیے اور ڈرنا چاہیے۔ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ آسمانی خُدا ہم سے محبت کرتا ہے اور ہماری پرواہ کرتا ہے ۔ وہ ہماری زندگی اور مستقبل کی ضمانت دیتا ہے۔ آئیں ہم پورے طور پر اپنی زندگیاں اُس کے ہاتھوں میں دے دیں۔ اُسے بتائیں ہم کِسی چیز سے نہ ڈریں گے اور ہم اُس پر بھروسہ رکھیں گے ۔ آئیے خُدا سے دُعا کریں ۔ کہ ہم اُس پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اور اُس کے نام کی تعریف کریں۔

زیدی: ﴿دعا کرتے ہوئے﴾اے خُداوند میں پورے دِل سے تیرا شکر کرتا ہوں۔ خُداوند تیرا شکرہو تو قادرِ مطلق ہے۔ توہر وقت ہماری زندگیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ میں تجھے جلال دیتا ہوںکیونکہ ہماری زندگیوں کی ضمانت تجھ میں ہے۔ ہماری زندگیاں کھلی کتاب سبق نمبر10 صفحہ نمبر6

کی طرح ہیں تُو دیکھتا ہے اور ہماری نگہداشت کرتا ہے ۔ آج ہم تُجھ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیوں سے سارا خوف نکالتے ہیںاوربھروسہ کرتے ہیں کہ موت بھی ہمیں تُجھ سے جُدا نہیں کرسکتی۔عیسیٰ مسیح کے نام میں۔ آمین۔

سب: آمین

ندیم: آپ میں سے کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے۔

ناصر: ابو میں کہنا چاہتا ہوں۔ آج جو کُچھ ڈر کے متعلق ہم نے سیکھا ہے اس کے بعد مُجھے میرے امتحانات کے بارے میں اطمینان مِلنا شروع ہو گیا ہے۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ ہم دُعا بھی کریں گے کہ خُدا آپ کو اپنے سکون سے بھر دے اور آپ اِن امتحانات سے کبھی نہ ڈریں۔ شمیم مہربانی کر کے ناصر کے لیے دُعا کریں۔

شمیم: اے خدا، تیرا شکر ہو۔ ہمارا مستبقل تیرے ہاتھ میں ہے۔ ہم ناصر اور اُس کے امتحانات کے لیے دُعا کرتے ہیں۔ خُداوند اور اُس کے دِل میں سکون ڈال دے ۔اسے سِکھا یہ تُجھ پر بھروسہ کرے۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں آمین۔

سب: آمین

ندیم: کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے؟

زیدی: میںکہنا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی کہیے۔

زیدی: ایک بڑی کمپنی میں مُجھے ایک اکائنٹنٹ کے طورپر کام کرنے کا موقع مِلا ہے ۔تنخواہ بہت اچھی ہے لیکن ابھی مُجھے ایک اور کام بھی ختم کرنا ہے ۔ میںنہیں جانتا کہ کیا کروں۔ کیا آپ میرے لیے دُعا کریں گے کہ خدا میری راہمنائی کرے۔

ندیم: آپ کے لیے دُعا کرنے سے پہلے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس چنائو میں کون کون سی مثبت اور منفی باتیں ہوسکتی ہیں۔

زیدی: مثبت نکتہ یہ ہے کہ بطور اکا ئنٹنٹ میری تنخواہ مقرر ہوگی اور۔ میں ایک بڑی کمپنی میں کام کرونگا۔ منفینکتہ یہ ہے کہ میں ایک خاص وقت تک کام کروں گا اور دوسری ملازمت سے آمدنی بہت کم ہوگی۔

ناصر: ٹھیک ہے۔ آزاد کام کے مثبت نقات کیا ہیں ۔

زیدی: آمدنی ماہانہ تنخواہ سے زیادہ ہے۔ لیکن آمدنی مستحکم نہیں اور صرف اُس وقت کام کرونگا جب کام ہو گا۔

پروین: میرا خیال ہے آپ کوپتہ ہونا چاہیے کہ اِس سب میں خُدا کی کیا مرضی ہے؟

زیدی: میں نے اِس کے بارے میںکچھ نہیںسوچا۔

سبق نمبر10 صفحہ نمبر7

پروین: خُدا کی مرضی کو جاننا بہت ضروری ہے۔ خُدا کا ہماری زندگیوں کے لیے اپنا منصوبہ ہے او ر اُس کا منصوبہ ہم میںسے ہر ایک کے لیے موزوں کام ڈھونڈنا ہے۔ فکر مت کریں کہ آمدنی مستحکم ہے یا نہیں خُدا آپ کی نگہداشت کرے گا۔ مستقبل کے بارے میں فکر نہ کریں۔

زیدی: پروین آپ نے ٹھیک کہا ۔ کیا آپ اِس میںخُدا کی مرضی جاننے کے لئے میرے لیے دُعا کریں گی۔

پروین: کیوں نہیں۔ ہمارے اچھے باپ۔ ہم تیری نعمتوں کے لیے اور ملازمت کے موقعوں کے لیے جو ہمارے بھائی زیدی کے لیے دستیاب ہیں ۔ خُداوند ہم تیری راہنمائی چاہتے ہیں ہم خود چُنائو نہ کریں کہ کیاکرنا ہے یا کیا نہیں کرنا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ تُو ہمارے لیے چُنائو کر کیونکہ صرف تُو ہی اکیلا ہے جو سب سے بہتر جانتا ہے ۔

سب: آمین۔

ناصر: میں خداوند کا شکر ادا کرتا ہوں کہامتحانوں کے بارے میں مُجھے اطمینان مِل گیا ہے۔ اور اپنی زندگی میں خُدا کی حضوری کے بارے میں مطمٔین ہو گیاہوں۔

سب: خداوند تیرا شکر ہو۔ تیری تعریف ہو۔ تو ہی عزت اور حمد کے لائق ہے۔

سب: آمین۔