Hear Fellowship With My Family Episode 11 (Audio MP3)

View FWMF episode 11 as a PDF file

سبق نمبر11 صفحہ نمبر1

"شکر گزار زندگی"

﴿یہ زیدی کا جنم دِن ۔ اور یہ فیملی قصہ زیدی کے لیے سالگرہ کے گیت سے شروع ہوتا ہے﴾

Song: Happy Birth Day To You

تمام: سالگرہ مبارک ۔ تمہیںسالگرہ مبارک ہو۔ تمہیں سالگرہ مبارک ہو۔

ندیم: زیدی صاحب سالگرہ مبارک ہو۔

زیدی: ندیم بھائی، شکریہ

پروین: یہ ندیم اور میری طرف سے تحفہ ہے۔

زیدی: بہت خوبصورت ٹائی ہے! شکریہ۔

ناصر: انکل زیدی ،میں بھی آپ کے لیے ایک تحفہ لایا ہوں ۔ اُمید ہے آپ کو پسند آئے گا ۔یہ پن ہے۔

زیدی: شکریہ ناصر۔مجھے اچھے پن کی ضرورت تھی۔

شمیم: زیدی بھائی ،میں آپ کیلئے پر فیوم لے کر آئی ہوں۔ اُمید ہے اس کی خوشبو آپ کو اچھی لگے گی۔

زیدی: شمیم بہن ﴿سونگھتے ہوئے﴾ہوں،بہت اچھی خوشبو ہے۔ اِن سب خوبصورت تحفوں کیلئے شکریہ۔

ندیم: پروین کیک کہاں رکھا ہے۔ زیدی صاحب کے سامنے رکھیں ۔ تاکہ وہ سالگرہ کا کیک کاٹیں۔

پروین: ٹھیک ہے ندیم شمیم۔ کیا آپ میری مدد کریں گی؟

شمیم: کیوں نہیں۔

ناصر: میں چائے لے کر آتا ہوں۔

ندیم: زیدی کو بُلاتے ہوئے۔ زیدی بھائی ۔زیدی بھائی ۔زیدی بھائی

زیدی: ﴿بو کھلا کر﴾کیا آپ مُجھے بُلا رہے ہیں۔

ندیم: ہاں۔ میںنے تین بار بُلایا مگر آپ نے جواب نہیں دیا ۔ خیر تو ہے؟

زیدی: ہاں ہاں سب ٹھیک ہے۔

ندیم: کیا کوئی پر یشانی ہے۔

پروین: زیدی بھائی ﴿کیک رکھتے ہوئے﴾لجیئے کیک کاٹیے۔

زیدی: شکریہ۔ میں کیک کا ٹنانہیں چاہتا۔

ناصر: انکل۔ آپ پریشان کیوںہیں؟

سبق نمبر11 صفحہ نمبر2

شمیم: اور وہ بھی سالگرہ والے دن۔

ندیم: زیدی یہ صرف میں ہی نہیں ۔بلکہ ہر ایک محسوس کر رہا ہے کہ آپ پر یشان ہیں۔

زیدی: ہاں پچھلا سال میری زندگی میںبہت ہی حیران کُن تھاکہ اِس کا آخر اچھا نہ تھا۔

پروین: اوہو۔ بھائی ہوا کیا؟

زیدی: خیراپنی عبادت میں میں آپ کے ساتھ بات کرونگا۔

ندیم: ٹھیک ہے چلو کیک کا ٹو۔﴿ کیک کٹتا ہے، بر تنوں اور چائے کی آوازیں ۔کچھ گفتگو﴾ آئو پلیٹیں اور کیک اُٹھائیں۔ عبادت شروع کرنے کے لیے جگہ کو بھی صاف کریں۔ ﴿ پلیٹوں کی آواز﴾

پروین: شمیم برتن اٹھا لو۔

ندیم: زیدی صاحب۔ جوبات آپ کو پریشان کر رہی ہے اُسے بھول جانے کی کوشش کریںاور اپنا دھیان ہماری طرف لگائیں۔

زیدی: کوشش کرتا ہوں۔

ندیم: اگر آپ سب تیار ہیں تو ہم اپنی عبادت شروع کریں؟

سب: جی جی۔کیوں نہیں ۔ہم تیار ہیں۔

ندیم: آئیں خُداوند کی حمد کرتے ہوئے اپنی عبادت شروع کریں۔ شمیم آپ ہماری راہنمائی کریں۔

شمیم: ٹھیک ہے ۔آئیے ! اپنے خُداوند خُدا کے نام کو بلند کریں اُس کے بڑے رحم کے لئے جو ساری دُنیا کے لیے کافی ہے۔ اُس کا شکر کریں۔ ہم سب مل کر گیت گائیں گے۔ناصر ہارمونیم بجائیں۔

ناصر: ٹھیک ہے شمیم انٹی

تمام: ستائش کے بارے میں گیت۔

ندیم: آج ہم شکر گزار زندگی کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ میرا ایمان ہے کہ آج کا موضوع ہماری زندگیوںکو تبدیل کر دے گا۔ ناصر کیا آپ بائبل مقدس میں سے حبقوق کی کتاب اُس کے تیسرے باب کی 17سے19آیات پڑھیں گے؟

ناصر: جی،کیوں نہیں ۔﴿صفحات اُلٹنے کی آواز﴾ ٹھیک ہے۔ یہاں لکھا ہے۔ "اگرچہ انجیر کا درخت نہ پھولے ۱ور تاک میںپھل نہ لگے اور زیتون کاحاصل ضائع ہو جائے اور کھیتوں میں کُچھ پیداوار نہ ہو اور بھیڑ خانہ سے بھیڑیں جاتی رہیں اور طویلوں میںمویشی نہ ہوں تو بھی میں خُداوند سے خوش رہونگا۔ اور اپنے نجات بخش خُدا سے خوشوقت ہونگا۔ خداوند خُدا میری توانائی ہے۔وہ میرے پائوں ہرنی کے سے بنا دیتا ہے اور مُجھے میری اونچی جگہوں میں چلاتا ہے۔

سبق نمبر11 صفحہ نمبر3

ندیم: ناصر شکریہ۔دوستو نہ روٹی ، نہ سبز یاں اور نہ ہی کوئی اور خوراک ۔ اگر آپ حضرت حبقو ق کی جگہ ہوتے تو کیا کرتے ؟

ناصر: ہم بہت پر یشان ہوتے۔

پروین: ہم شاید بڑ بڑ انا شروع کر دیتے۔

ندیم: مگر حضرت حبقوق خُداوندمیں بہت خو ش تھے ۔ وہ خُداوند اپنے خُدا کا شکر کرتے تھے او ر ستائش کرتا تھا جیسے کِسی اور مُلک میں رہ رہے ہوں۔ کہ جب اُ ن کے ار د گر د کے لوگ اُنہیں گیت گاتے اور خدا کی شکر گزاری کرتے سنتے ، وہ حیران ہوتے تھے۔ وہ کیوںفکر مند نہیں ہیں او ر نہ ہی دوسرے لوگوںکی طرح غمگین ہیں جومشکلات سامناکررہے ہیں۔

پروین: شاید اِس لئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ خُدا کے ہاتھوں میںہیں۔ وہ جانتے تھے کہ خُدا اُن کی بھلائی چاہتاتھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اُنہیں ان مشکلات سے گزارنا ہے اوروہ ہمیشہ بُرے حالات کے لیے بھی خُدا کا شکر کرتے تھے۔

شمیم: ایک مرد ِ خُدا نے کہا،"شکرگزاری ہماری زندگیوںمیں لعنت کو برکت میں تبدیل کردیتی ہے "۔جب میں اپنے ساتھ کوئی غلط کام ہوتے دیکھتی ہوں اور میں خُدا کی شکر گزاری کرنا شروع کردیتی ہوں تو یہ چیزیں میری زندگی میں اچھی اور حیران کُن باتوں میں تبدیل ہو جاتی ہوں۔ بہرحال شکرگزاری اور ایمان ایک سکے کے دو رُخ ہیں۔ جب ہم یقین کرتے ہیں کہ خدامیںہمارا ایمان مضبوط ہے اورہمیں برکت دینا چاہتا ہے۔ہم برے حلات مین بھی اُس کی شکرگزاری کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

ندیم: شمیم نے جو کچھ کہا ہے وہ صحیح ہے ۔ شکرگزاری لعنتوں کو برکتوں میں تبدیل کر دیتی ہے شکر گزاری کرنے کے لیے ہمیں بُرے حالات کے ختم ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ہمیں اِن بُرے حالات سے گزرتے ہوئے بھی خُدا کی ستائش اور شکر گزاری کرنی چاہیے ۔

زیدی: بھائیو اور بہنو! میں معافی چاہتا ہوں ۔ میرا خیال ہے جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں یہ سب نظر یاتی ہے۔ میں کس طرح بری چیزکے لئے خدا کا شکر کر سکتا ہوں۔ اور کس طوح کسی برائی سے اچھائی نکل سکتے ہے۔

پروین: مجھے ایک واقع یاد آگیا ہے جو کچھ میرے ساتھ ہوا شاید اُس سے آپ کے سوال کا جواب مل جائے۔ میں کئی سال پہلے فصیل آباد اپنے والدین سے ملنے گئی اپنے کام کی وجہ سے مجھے اگلیے دن واپس آنا تھا۔میںنے واپسی کے لئے شام کوآٹھ بجیوالی بس کے لئے ٹکٹ خریدا ۔ جب میںشام کو بس اسٹینڈ پر گئی تو مُجھے پتہ چلا کہمیں دیر سے پہچنی ہوں اور بس جا چکی ہے۔

زیدی: خوب ۔ پروین بہن ،کیا یہ اُس رات آخری بس تھی؟

پروین: جی ہاں یہ آخر ی بس تھی۔ میں بہت پر یشان ہو ئی کیونکہ مجھے اگلی صبح کام پر پہچنا تھا۔خیر، میں گھر واپس آگئی۔ میرے والدین نے مُجھے خُدا کا شکر کرنے کو کہا اور بتا یا ، ساری چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلا ئی پیدا کرتی ہیں۔ میں نے خُدا کا

سبق نمبر11 صفحہ نمبر4

شکر کرنا شروع کر دیا جس سے اور میرے دِل کو اطمینان اور خوشی حاصل ہوگئی۔ اگلے دِنجب گھر پہچنی تو ندیم نے مُجھے بتایاکہ جس آخری بس پر میں نے سفر کرنا تھا۔ اُس کا ایکسیڈ نٹ ہو گیا اور کافی حا ضر مر گئے۔

ناصر: اور آپ کے اُس اہم کام کا کیاہُوا۔جو آپ نے واپس پہنچ کر کرنا تھا؟

پروین: ناصر جب میں کام پر گئی تو پتہ چلا کہ اُس کام کو اگلے ہفتے میں ڈال دیا گیا تھا۔

شمیم: کیسی بات ہے۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔آئیں ہم شکرگزاری کی اِس عبادت کو جاری رکھتے ہوئے ایک گیت گائیں ۔ناصر آپ ہا رمونیم بجائیں

ناصر: ٹھیک ہے۔

﴿گیت ۔یہ آندھیا ں اور ظلمیتں﴾

ناصر: میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ 1تھسلنیکیوں 5بابدیکھیں ﴿ صفحہ الٹنے کی آواز﴾ لکھا ہے،"ہر ایک بات میں خُدا کی شکرگزاری کرو کیونکہ مسیح میں تمہاری بابت خُدا کی یہی مرضی ہے"۔ اِس کامطلب ہے کہ مجھے ہر چیز کے لیے خُدا کا شکر کرنا چاہئے کیونکہ میرے لیے خُدا کی ہی مرضی ہے ۔

ندیم: جو کچھ ناصر نے ابھی ابھی کہا ہے میں اِسے مزید تقویت دینا چاہتا ہوں۔ہاں ہمارے لیے خداکی یہی مرضی ہے کہ تمام حالات میںاُس کا شکر کریں۔

شمیم: میں اِسے تھوڑا اور واضح کر نا چاہتی ہوں۔ شکر گزاری خوشی سے بھر جانے کے لئے میری مدد کرتی ہے اور ابلیس اِسے مُجھ سے چھین نہیں سکتا ۔ جب میں مشکل حالات میں شکر گزاری کرتی ہوں تو اپنی مشکل پر نظریں لگانے کی بجائے خدا پر اپنی نظر لگاتی ہوں۔اِس سے مجھے آرام ملتا ہے اور خدا کا اطمینا ن مُجھے حا صل ہوتا ہے۔ بالکل یہی کچھ حبقوق نبی کے ساتھ ہُوا ۔

ندیم: میں شکر گزاری کے موضوع پر کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔ شکرگزاری کرنے سے مُجھے ہر ایک کے سامنے عیسیٰ مسیح کی گواہی دینے کی اجازت مل جاتی ہے۔

ناصر: وہ کیسے۔ ابو کیا آپ اِس کی وضاحت کر سکتے ہیں؟

ندیم: ناصر میں ایک تمثیل سے اِس کی وضاحت کرونگا۔ کِسی شخص کی ایک جنگ میں دونوں ٹانگیں اور ایک بازو جاتا رہا ۔وہ اندھا بھی ہو گیاوہ شخص ایماندار تھا ۔ وہ خُدا کا شکر کرتا رہا وہ ہسپتال میںتھا اُس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ اور وہ خداوند کی شکر گزاری کر رہا تھا۔اُسے دیکھ کر کہا اگرچہ میںصحت مند ہوں۔ مگر یہ بیمار اور لا چار شخص مجھ سے زیادہ خو ش ہے ۔بعد میں اُس شخص کی وجہ سے بہت سے ڈاکٹروں اور مریضوں نے خُدا کو اپنی زندگیاں دے دیں۔

سبق نمبر11 صفحہ نمبر5

تمام: خداوند کی تعریف ہو۔ اُس کی ستائش ہو۔

ندیم: آئیں، جو کچھ اب تک ہم نے شکر گزاری کے متعلق کیا اور سنا ہے، دیکھیں کہ ہم کس طرح اِن باتوں سے فائدہ حا صل کر سکتے ہیں۔ باری باری سب بتائیں۔

پروین: شکرگزاری لعنتوں کو برکتوںمیں تبد یل کر دیتی ہے۔

شمیم: مُجھے تمام حالات میں خُدا کا شکر کرنا چاہیے۔ کیونکہ میرے لیے خُدا کی یہی مرضی ہے ۔

ناصر: شکر گزاری مُجھے خوشی اور اطمینان سے بھر دیتی ہے۔

پروین: یہ ہر ایک کوعیسیٰ مسیح کی گواہی دینے میں میری مدد کرتی ہے۔

شمیم: ندیم بھائی، کیا میں اِس سلسلے میں کوئی اور بات کر سکتی ہوں۔

ندیم: ہاں ہاں، شمیم کیوں نہیں۔

شمیم: شکر گزاری کرنا مُجھے شیطان کے حملوں سے بچاتا ہے۔ ابلیس کامقصد مُجھے خُدا سے جُدا کرنا ہے۔ جب میں مشکل کا سامنا کرتی ہوں شیطان مُجھے بڑبڑ انے کو کہتا ہے جس سے خدا سے میرا تعلق ٹوٹ جاتا ہے ۔ لیکن جب میں شکر گزاری کرتی ہوں ، میں شیطان کے حملوں سے بچ جاتی ہوں بلکہ میں اُس پر غالب بھی آتی ہوں کیونکہ میں اُس کے لیے اپنی زندگی کے ایک دروازے کو بند کردیتی ہوں۔ اور وہ مجھ پر حملہ کرنے میں نا کام ہو جاتا ہے۔

ندیم: شمیم جو تم نے کہا وہ سچ ہے۔ ابلیس اُس وقت کا انتظا ر کرتا ہے جب ہم مصیبت میں پھنس جاتے ہین اور پھر کہتا ہے۔ ، دیکھو خُدا تم سے محبت نہیں کرتا ، وہ تمہارے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ کیا تم اُس کے فرزند نہیں ہو ۔ مُجھے سارے حالات کے لیے خدا کا شکر کرنا چاہیے۔ آئیںاپنی زندگی میں ہر بات کے لیے خُدا کا شکر کریں۔ اُن باتوں کے لیے جو ہمارے خیال میں اچھی نہیں۔ انتظار کریں اور دیکھیں کہ وہ اِنہیں کِس طرح اچھی چیزوں میں تبدیل کر تا ہے۔

تمام: یسوع تیرا شکر، تمام حالات کے لیے تیرا شکر۔

ندیم: آمین۔کیا آپ مین سے کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے؟

زیدی: میں کہنا چاہتا ہوں ۔

ندیم: ٹھیک ہے زیدی بھائی۔ کہیے۔ آپ کافی دیر سے خاموش ہیں۔

زیدی: اگرچہ میں نے شکرگزاری کے بارے میں سُنا ۔ میں محسو س کرتا ہوں کہ وہ مسئلہ جو میرے سامنے ہے۔ اُس کا کوئی حل نہیں ہے۔

ندیم: آپ ہمیں اِس کے بارے میں کیوں نہیںبتاتے۔ اور ہم آپ کی مدد کرنے کی کوشش کریں گے۔

سبق نمبر11 صفحہ نمبر6

زیدی: ندیم بھائی ،اَِس ہفتے میری بہت سی نقدی کھو گئی تھی ۔ میرا دوست اور میں ایک منصوبے پر کام کر رہے تھے۔کا م بہت بڑا تھا لیکن اچانک ہم نے سب کچھ کھو دیا۔

پروین: یہ کیسے ہُوا۔

زیدی: ہمارا منصوبہ کاغذ درآمد کرنے اور اِنہیں بیچنے کا تھا ۔ ہم نے اعلیٰ کوالٹی کے کا کاغذ منگوایا لیکن اچانک قیمت گِر گئی ۔ پچھلے بیس سالوںمیں کبھی ایسا نہ ہُوا تھا۔ میں اپنامال بیچ نہیں رہا کہ شاید قیمت دوبارہ اوپر چلی جائے ۔ میں بہت پر یشان ہوں اور مجھے کوئی امید نظر نہیں آتی ۔

ندیم: لوگ کہتے ہیںکہ کا روبار میں یا نفع ہوتا ہے یا نقصان ۔لیکن ہم وہ کہیں گے جو بائبل کہتی ہے، بائبل مقدس میں لکھا ہے"اور ساری چیزیں مِل کر خُدا سے محبت رکھنے والوںکے لیے بھلائی پیدا کرتی ہیں"۔زیدی بھائی ، شکر گزاری کے تعلق سے اتنے اچھے خیالات نہ رکھتے ہوئے بھی ، آپ خدا پر بھروسہ رکھیں ،کہ جو کچھ ہوا ہے۔ آپ کے بھلے میں ہے۔

زیدی: میں یہ کیسے کر سکتا ہوں۔ مجھے بہت نقصان ہوا ہے۔

ندیم: جسے ہم نقصان سمجھتے ہیں خدا اِسے ہمارے فائدے میں تبدیل کر سکتا ہے۔

پروین: زیدی بھائی سنئے ، ایک شخص تھا جِس کے سات بیٹے ، تین بیٹیاں، سات ہزار بھیڑیں اور تین ہزار اونٹ مر گئے۔

زیدی: یقیناًاُسے بہت دکھ ہو اہوگا۔

پروین: اگر اُس کی ساری بھیڑیں ، اونٹ اور گائیں مر جائیں۔آپ اُس شخص کے بارے میں کیا کہیں گے۔

زیدی: وہ اور بھی دکھی ہوگا۔

پروین: کیا ہو گا اگراُس کے سارے بچے بھی جائین اور وہ خود بھی بیمار ہوجائے۔

زیدی: میںیقین سے کہتا ہوں وہ خود کشی کرے گا۔

پروین: کتابِ مقدس بائبل ہمیں ایوب نبی کے بارے میںبتاتی ہے جنہیں اِن ساری مصیبتوں کا تجربہ ہُوا ۔ لیکن اِس سب کے باوجود اُنہوں نے شکایت نہ کی۔ اُنہوں نے اپنی بیوی سے کہا، "کیا ہم خدا کے ہاتھ سے سُکھ اُٹھائیںلیکن دُکھ نہ اُٹھائیں"۔ وہ خُدا کا شکر کرتے رہے اور دوستوںکے ساتھ منادی کرتے رہے ، نتیجہ یہ ہُوا کہ خُدا نے اُنہیں بڑی برکت

دی ۔

زیدی: لیکن جب میں اِس کے بارے میںسوچتا ہوں ۔میں محسوس کر تا ہوں کہ حالات اچھے نہیں ہونگے۔

شمیم: زیدی بھائی ،میں آپ سے کُچھ پوچھنا چاہتی ہوں۔ کیا آپ کو بھروسہ ہے کہ آپ کے سارے معاملات خُدا کے ہاتھوں میں سبق نمبر11 صفحہ نمبر7

ہیں۔

زیدی: بے شک۔

شمیم: ٹھیک ہے۔ تو یقین کریں کہ خُدا آپ کے حالات کو بھلائی میں بدل دے گا جِس طرح اُس نے آپ کا نقصا ن ہونے دیا ۔وہ اس کاحل بھی نکالے گا۔

ندیم: یہ سچ ہے ۔ ہمیں خُداوند کا انتظار کرنے اور اُس کے ہاتھوں کے کام کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

زیدی: ٹھیک ہے۔ کیا آپ ملوگ میری مشکل کے لئے دعا کریں گے کہ خدا اس کا کوئی حل نکا لے ۔

ندیم: نہیں۔ ہم دُعا نہیںکریں گے کہ مسئلہ حل ہو جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جو کُچھ آپ کے ساتھ ہُوا ۔ اُس کے لیے پورے دِل سے خدا کا شکر کریں۔ میں آپ کو وہ آیت یاد دلاتا ہوںجِس کا ابھی ذِکر کیا تھا،"ہر بات میں خدا کی شکرگزاری کرو کیونکہ تمہاری بابت خُدا کی یہی مرضی ہے"۔ خُدا ہم سے چاہتا ہے کہ اُس کاشکر کریں کیونکہ یہی اُس کی مرضی ہے۔ پھر آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

زیدی: ﴿مشکل سے دُعا کرتے ہوئے﴾ٹھیک ہے، میںدعا کر تا ہوں۔ اے خُدا میں تیرا شکر کرتا ہوں کیونکہ تو حکمت سے بھرا ہے۔ اِن مشکلات سے گزارنے کے لئے میں تیرا شکر کرتا ہوں۔ میرا ایمان ہے کہ تو اِنہیں میری بھلائی میں بدل دے گا۔ اور اگر تُو نہ بھی بدلے پھر بھی میں تیرا شکر کرتاہوںکیونکہ تُو نے مُجھے سِکھایا کہ مشکل وقتوں میںکِس طرح شکر کرنا ہے۔خُداوند تیرا شکر۔

ندیم: آئیں ،اب ہم سب مل کر زیدی بھائی کے لئے دعا کریں۔اے خُداوند ہم اپنے بھائی زیدی کے لیے شکر کرتے ہیں اور سارے مشکل وقت کے لیے جِس میں سے وہ گزر رہے ہیں۔ اے خُدا ہم تُجھے جلال دیتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اِ س میںضرور کوئی بھلائی ہے۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں ہماری شکرگزاری قبول فرما۔ آمین۔

سب: آمین!

زیدی: کیا کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے۔

زیدی: ندیم بھائی،مُجھے سچ مچ آرام محسوس ہورہا ہے۔ خُداکی حمد ہو۔

ندیم: خدا کا شکر ہو وہ آپ کے مسلئے کے حل سے پہلے ہی آپ کو شادمان کر رہا ہے۔

سب: خدا کا شکر ہو، اُس کی تمجید ہو، اُس کی تعریف ہو۔

ندیم: ہماری اگلی عبادت اِسی وقت یہاں ہمارے گھر پر ہی ہوگی۔

سب: شکر یہ، مہربانی ، خداوند آپ کو بر کت دے۔