Hear Fellowship With My Family Episode 12 (Audio MP3)

View FWMF episode 12 as a PDF file

سبق نمبر12 صفحہ نمبر1

"حصہ داری"

﴿کائنات میںپرندوں کی آواز﴾

ندیم: زیدی بھائی اِس جگہ کے بارے میں آپ کا کیاخیال ہے۔

زیدی: ندیم بھائی یہ بہت خو بصورت جگہ ہے۔

پروین: ندیم ،میری شروع سے یہ خواہش رہی ہے کہ کسی ایسی جگہ اکٹھے جائیں۔

ندیم: پروین ، ہم ضرور جائیں گے اور اپنے وقت سے لطف اٹھائیں گے۔

ناصر: لیکن امی اِس طرح ہم ایک کلیسیائ کی طرح نہیں مِل سکیں گے۔

ندیم: کون کہتا ہے ناصر ، کیا آپ کو یاد ہے کہ ہم نے کلیسیائ کی کیا تعریف کی تھی۔ ہم نے کہاتھا یہ اُن لوگوںکا گروہ ہوتا ہے جو عیسیٰ مسیح کے نام میں مِلتے رہتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی کہاتھا کہ کلیسیائ کے مِلنے کے لئے کوئی خاص جگہ مقر ر نہیں ہوتی۔ ہم کہیں بھی مِل سکتے ہیں ۔ اِس خوبصورت جگہ پر بھی مِل سکتے ہیں۔

پروین: یاد ہے خداوند عیسیٰ مسیح اپنے شاگردوں کو سِکھانے اور اُن کے ساتھ دُعا مانگنیکے لئے اُنہیں خاموش جگہوں پر لے جاتے تھے۔ جب عیسیٰ مسیح آسمان پر صعود فرما گئے ، شاگردوں کے پاس کوئی خاص جگہ نہ تھی۔ وہ بالا خانے پر یا پطرس کے گھر یا ہیکل میںملتے تھے۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ کہیں بھی جہاں وہ چاہتے مِل سکتے تھے اور کلیسیائ شروع کر سکتے تھے۔

شمیم: پر وین بہن کلیسیائ کی عبادت کھلی جگہ میں کرنا ایک حیران کُن خیال ہے۔ کیونکہ یہ خدا کی قوت اور دوسری تمام چیزوں پر جو خدا نے پیدا کی ہیں اور ہمیں حیران کرتی ہیں، دھیان کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔

ندیم: شمیم بیشک۔ یہ بات بہت خوبصورت ہے۔ پرندوں کا چہچہا نا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ یہ مجھے راغب کر تا ہے کہ میں زیادہ سے زیادہ خداوند کو جلال دوں۔

زیدی: لگتا ہے آج خالی پیٹ ہی بات چیت ہوگی۔

پروین: زیدی صاحب فکر نہ کریں۔ میں کُچھ سینڈوچ اور چائے ہوں شمیم آئو میری مدد کرو۔

شمیم: میںٹھیک ہے باجی پروین۔

﴿چائے کے پیالوں کی آواز﴾

ندیم: دوستو۔ آج ہم کُچھ مختلف کام کریں گے۔کِسی خاص موضوع کے بارے میں بات چیت نہیں ہوگی ۔آج ہم ایک دوسرے کو اپنی اپنی خبریںسُنائیں گے۔ ہر کوئی اپنی مشکل بتائے تاکہ ہم اُس کی مددکریں۔ یا اپنی کامیابی بتائے تا کہ ہم اُس کے ساتھ شکر گزاری سبق نمبر12 صفحہ نمبر2

کریں۔ یا کِسی بات کے لیے دُعا کریں۔ ہم یہ سب کچھ اِس لیے کریں گے کیونکہ ہم ایک بدن ہیں۔ دکھ اور سکھ تو ہمیں ایک ہونا چاہیے۔ کیونکہ ہم ایک کلیسیائ ہیں۔ کون شروع کرے گا۔

پروین: وہ بات جو مجھے تکلیف دے رہی ہے آپ کو بتا نا چاہتی ہوں۔

ندیم : جی ، کہیے۔

پروین: ہمارے دفتر کے مینیجر نے جہاں میں کام کرتی ہوں ، کام چھوڑ دیا ہے اور میری بجائے کوئی اور شخص اُس کی جگہ آئے گا۔ میں وہاں ہر شخص سے عمر میںبڑھی ہوں۔ میں حیران ہوئی جب اُنہوںنے میری بجائے کِسی اور کورکھ لیا۔ جو عمر میں مُجھ سے چھوٹی ہے اور مجھ سے جو نیئر بھی ہے۔ وہ میری افسربن گئی ہے ۔ میں نے احتجاج کیا مگر کِسی نے نہ سُنا۔ دُعا کریں خُدا مُجھے کِسی اور جگہ لے جائے ورنہ میں کام چھوڑ دوں گی۔

ندیم: پروین ہم آپ کے لیے دُعا کریںگے لیکن میں دُعا کے بارے میں آپ سے اتفاق نہیںکرتا ۔ میرا نہیں خیال کہ ہمیں خُدا سے کہنا چاہیے کہ آپ کو دوسری جگہ بھیج دے یا آپ ملازمت چھوڑ دیں۔

پروین: کیوں؟ کیا مُجھے ایسا کرنے کا حق نہیں؟

ندیم: پروین جب خُدا کِسی کو کِسی مرتبے پر رکھتا ہے تو ایسا کرنے کا اُس کا کُچھ مقصد ہوتا ہے ۔ اگرخُدا مُجھے کہیں رکھتا ہے اِ س کا مطلب ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میں آس پاس کے لوگوں کو خُدا کی محبت دِکھائوں ۔

شمیم: ایک آیت ہے جو کہتی ہے کہ،"ساری چیزیں مِل کر خُدا سے محبت رکھنے والوں کے لیے بھلائی پیدا کرتی ہیں"۔ میں جانتی ہوںہر چیز جو میری زندگی میں واقع ہوتی ہے میری بھلائی کے لیے ہے۔ بے شک وہ مجھے بری بھی کیوں نہیں لگتی۔

پروین: لیکن ہر روز میں پہلے کی نسبت زیادہ کوفت محسوس کرتی ہوں۔

ندیم: آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ آپ اس لئے کو فت محسوس کرتی ہیں کیونکہ آپ خُدا کا مقصد نہیں سمجھتیں۔ اگر آپ کو معلوم ہوجائے کہ خُدا کیا چاہتا ہے آپ آرام محسوس کریں گی تھکاوٹ محسوس نہیں کریں گی۔ کیونکہ آپ خُدا کی فرمانبرداری کر رہیںہونگی۔ ہم دُعا مانگیں گے کہ خُدا آپ کو اطمینان دے۔

ناصر: ابو،کیا یہ ممکن نہیںکہ خُدا چاہتا ہے کہ امی اپنی موجودہ ملازمت چھوڑدیں اور کسی دوسری جگہ چلی جائیں۔

ندیم: نہیںناصر۔ اگر خُدا کی مرضی ہے کہ کہیں اور جائیں تو کِسی الجھن کے بغیر یہ ہونے دے گا۔

پروین: اگر خُد مُجھے ٹھہرنے کو کہے اور مُجھے اُس سے آرام نہ مِلے ۔کیا مجھے ٹھہرنا چاہئے؟

ندیم: جب خُدا چاہتا ہے کہ آپ کُچھ کریں تو آپ کو آرام بھی دے گا۔ کیونکہ آپ کا آرام اُس کی مرضی اور مقصد کی فرمانبرداری میں سبق نمبر12 صفحہ نمبر3

ہوگا۔

شمیم: پروین بہن ،آپ نے مُجھے اُن سالوں کے بارے میں سوچنے کاموقع دیا ہے جب میں لندن میںیونیورسٹی میں واپس چلی گئی تھی۔ میرے کمرے کی ساتھی مُجھ سے حسد کرتی تھی کیونکہ میںاُس سے زیادہ محنتی تھی۔ وہ سارا وقت میرے لیے مشکلات پیدا کرتی تھی۔ بعض اوقات وہ کیسٹ لگا دیتی تھی کہ میں اچھی طرح مطالعہ نہ کرسکوں۔ وہ اپنے ساتھ سہیلیوں کو ساری رات پارٹی میں لے آئی۔ پھر میں نے خُدا سے دُعا کی کہ یا مُجھے وہاں سے ہٹا دے یا اُسے۔ میں نے محسوس کیا کہ خُدا کی مرضی تھی کہ میں وہاں اُس کو خُدا کی محبت دِکھانے کے لیے رہوں۔ میں نے خُدا کا حُکم مانا اور اُس سے محبت کی۔ میں پہلی لڑکی تھی جو اُس کی سہیلی بن گئی اور اُس کے ساتھ مطالعہ کرنااور کھانا پینا شروع کر دیا ۔ جب اُس کے امتحانات ہوئے میں نے ساری رات اُس کی مدد کی۔ اُس میں

تبد یلی آنا شروع ہوگئی اُس نے مجھے سے کہا اُسے کبھی توقع نہ تھی کہ میں اُس کی مدد کرونگی۔ یہ وہ موقع تھاجب میں نے اُسے عیسیٰ مسیح کے بارے میں بتانا شروع کیا۔میں نے اُسے بتایا کہ کِس طرح میرے مسلسل گناہوں کے باوجود عیسیٰ مسیح نے مُجھے معاف کیا۔ میرے الفاظ کا اُس کے دِل پر اثر ہُوا اور اُس نے عیسیٰ مسیح کے بارے میں اور سوالات پوچھناشروع کر دئے۔ آخر کار اُس نے عیسیٰ مسیح کو اپنا نجات دہندہ قبول کر لیا۔

ندیم: شمیم خُد ا کی حمد ہو۔ دیکھو پروین خُدا چاہتا تھا کہ وہ لڑکی اُس پر ایمان لائے اور اُسے اپنا بادشاہ مانے۔ وہ چاہتا تھا کہ شمیم وہاںہو۔ اگرچہ اُس لڑکی کا سلوک اُس کے ساتھ ٹھیک نہ تھا۔ جب شمیم خُدا کا مقصد سمجھ گئی اُسے اطمینان ہوا اور وہ خُدا کا حکم ماننے کے قابل ہو گئی۔

پروین: سچ مچ میں محسوس کر رہی ہوں کہ خدا مجھے کچھ بتا رہا ہے۔

ندیم: آمین۔ پروین اب ہم آپ کے لیے دُعا کریں گے۔شمیم! کیا آپ ہم سب کے لیے دُعا کریں گی۔

شمیم: ضرور۔خُداوند سارے حالات کے لیے جِن کا پروین کو سامنا ہے اگرچہ وہ بُرے دِکھائی دیتے ہیں۔ ہم تیرا شکر کرتے ہیں کیونکہ ساری چیزیں مِل کرتجھ سے محبت رکھنے والوں کے لیے بھلائی پید ا کرتی ہیں۔ پروین بہن پر اپنی مرضی ظاہر کر اور اُس کی مدد کر کہ تیرا حُکم مانے۔ میں یہ بھی دُعا کرتی ہوں کہ تُو اُسے سِکھا کہ اِن حالات میںکیسے خوش رہنا ہے۔ ہم عیسیٰ مسیح کے نام میں دُعا مانگتے ہیں۔ آمین۔

سب: آمین

ندیم: اب کون اپنی بات بتائے گا۔۔

زیدی: ندیم بھائی، میں بتائوں گا۔

سبق نمبر12 صفحہ نمبر4

ندیم: جی زیدی بھائی۔

زیدی: آپ سب جانتے ہیں کہ میری بیوی نائیلہ ایماندار نہیں اور میںچاہتا ہوں کہ اُسے عیسیٰ مسیح کی قربت حاصل ہوجائے۔ اور وہ اُس کی محبت سے بھر جائے اُسی طرح جِس طرح مین عیسیٰ مسیح کی محبت سے بھر گیا ہوں۔ مہربانی کر کے دُعا کریں کہ وہ عیسیٰ مسیح پر ایمان لے آئے ۔

ندیم: آمین۔ زیدی بھائی۔ ایک رول ہمیںادا کرنا ہے اور دوسرا رول آپ کو۔

زیدی: وہ کیا؟ کیا آپ مہربانی کر کے اِس کی وضاحت کریں گے۔

ندیم: ہم نائیلہ بہن کے لیے دُعا مانگیں گے اور پروین اُن سے مِلیں گی اور اُن سے بات کریں گی مگر آپ کو بھی اُن سے گفتگو کرنا ہو گی۔

زیدی: میں ہمیشہ انہیں بتانے کی کوشش کرتا ہوں لیکن وہ میری بات ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتیں۔

پروین: مُجھے یاد ہے جب پچھلے مہینے میں اُن سے مِلی تھی ۔ میں اُن کے پاس بیٹھی تھی اورمیں نے محسوس کیا کہ میری باتوں کا اُن پر اثر ہُواہے۔

زیدی: ہاں بیشک۔ جب آپ اُن سے مِلیں تو وہ بہت خوش ہوئیں اور اُنہوں نے محسوس کیا کہ آپ کی باتیں فرق ہیں۔

پروین: اُن سے مِلنے سے پہلے میں نے دُعا کی تھی اور خدا سے وہ الفاظ مانگے تھے جو میں انہیں بتائوں۔یہی وجہ ہے کہ میرے الفاظ نے اُن پر اثر کیا۔

زیدی: اوہو۔ میںتو ہمیشہ ایک ہی الفاظ اُنہیں بتا تا ہوں۔

ندیم: زیدی شایدیہی وجہ ہے کہ وہ آپ کو جواب نہیں دیتیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم اُن کی ضرورتوں کو محسوس کریں۔اور اُن کی ضرورت کے مطابق بات چیت کریں ۔اِس لئے ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ دراصل اُن کی ضرورت کیا ہے۔ صرف خدا ہے جو ہماری راہمنائی کر سکتا ہے کیونکہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔

ناصر: مُجھے ابھی یاد آیا ایک پادری صاحب نے ایک بار کہا، خُدا کے بارے میں لوگوںسے باتیں کرنے سے پہلے لوگوں کے بارے میںخدا سے باتیں کرنی چاہئے ۔ اِس کا مطلب ہے کہ مُجھے خُدا کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے اور اُس سے باتیں کرنی چاہیں تا کہ لوگوں کی ضرورتوں کے بارے میں جان سکوں اور بتا سکوں کہ خدا کیا چاہتا ہے۔ اِس کا اُن کے دلوں پر اثر ہوگا۔

زیدی: اِن سچائیوں ککے بارے میں میری آنکھیں کھولنے کے لئے شکریہ۔ میں آج یہ جاننے کے لیے کہ نائیلہ سے کیا بات کرنی ہے۔ دعا کروں گا۔

ندیم: ہم آپ کے لیے دُعا کریں گے کہ خُدا آپ کی مدد کرے۔

سبق نمبر12 صفحہ نمبر5

زیدی: آمین۔ مُجھے یقین ہے کہ اگلے ہفتے آپ کو اچھی خبر سُنائوں گا۔

ندیم: آمین۔ آئیں زیدی صاحب کے لئے دُعا کریں کیونکہ یہ موضوع بہت اہم ہے۔پروین آپ دعا میں راہنمائی کریں۔

پروین: خُداوند عیسیٰ مسیح ہم زیدی بھائی کے لیے دُعا کرتے ہیں۔ اُن کی خواہش پوری کر تاکہ اُن کی بیوی تُجھے جانے ۔ زیدی بھائی کو وہ الفاظ دے جِن کی نائیلہ کو سُننے کی ضرورت ہے۔ منت کرتے ہیں اِن الفاظ کا اُس کے دِل پر اثر ہو۔ نائیلہ کی آنکھیں کھول وہ تُجھے دیکھے، تجھے جانے ، تیرے ساتھ آرام کرے اور باقی زندگی تیرے ساتھ رہے۔ میں عیسیٰ مسیح کے نام میں دُعا مانگتی ہوں۔ آمین۔

سب: آمین۔

ندیم: اب کون اپنی بات بتانا چاہتا ہے۔

ناصر: ابو میں بتاتا ہوں۔

ندیم: جی ناصر۔

ناصر:ابوجب سے ہم نے اپنے گھر میں کلیسیائی عبادت شروع کی ہے میرے دوستوںنے دیکھا ہے کہ میںبہت بدل گیا ہوں۔ اُنہوںنے مجھ میں اِس تبدیلی کے بارے میں سوال پوچھنے شروع کئے ہیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ میں لوگوںکوعیسیٰ مسیح کے بارے میں بتانے کے لیے ابہت چھو ٹا ہوں۔ مُجھے زیادہ تجربے کی ضرورت ہے ۔ میں نہیں جانتا ہوں کہ کیا کروں ۔

ندیم: ناصر دو طرح کے لوگ ہیں جوعیسیی مسیح کے بارے میںبات کرتے ہیں۔ ایک وہ جو تجربے سے اور دوسرے وہ جوروحِ پاک کی رہنمائی سے۔با ت کرتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب کوئی روحِ پاک کی رہنمائی سے بولتا ہے اُس کے الفاظ پُر تا ثیر ہوتے ہیں۔ پس جب آپ عیسیٰ مسیح کے بارے میں بات کریں ، اپنی کمزوری کو نہ دیکھیں اور مت خیال کریں کہ آپ چھوٹے لڑکے ہیں۔صرف عیسیٰ مسیح کو دیکھیںوہ آپ میں سے ہو کر بولے گا۔

زیدی: میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آ پ کو سچ مچ پتہ ہے کہ خُداوندعیسیٰ مسیح کے بارے میں کیسے بات کرنی ہے۔

ناصر: انکل زیدی، وہ کیسے ؟

زیدی: بائبل مقدس میں لکھا ہے، "تمہاری روشنی آدمیوں کے سامنے چمکے تا کہ وہ تمہارے اچھے کاموں کو دیکھیںاور تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تمجید کریں "۔ بہت سے لوگ خُدا کے بارے میں بتاتے ہیں لیکن وہ مکمل طور پر جو کہتے ہیں اُس کے خلاف زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ وہ لوگ نہیں جانتے کہ عیسیٰ مسیح کے بارے میںکیا کہنا ہے لیکن تم جانتے ہو کہ اپنی زندگی سے عیسیٰ مسیح کے بارے میں کیسے گواہی دینی ہے۔

سبق نمبر12 صفحہ نمبر6

ندیم: ہاں بیشک۔ عیسیٰ مسیح کے بارے میں گفتگو کرنے کا ایک نہایت موثر طریقہ اپنی زندگی کی گواہی دیناہے۔جو کچھ تمہارے دوستوں نے دیکھا یہ تمہاری زندگی میں واضح تھا ۔ آپ کو بھروسہ رکھنا چاہیے کہ خُدا آپ کے وسیلے کام کر رہا ہے۔ زیدی صاحب ہم آپ کے لیے بھی دُعا کریں گے۔ مہربانی کر کے آپ ناصر کے لیے دُعا کریں۔

زیدی: خُداوند ہم تیری تمجید کرتے ہیں کیونکہ ہمیں تیرے بارے میں بات کرنے کا حق ہے۔ ہم ناصر کی زندگی کے لیے شکر گزار ہیں ۔ مہربانی کر کے ایسے سِکھا کہ اپنے او پر کِس طرح بھروسہ رکھنا ہے ایسا نہ ہو کہ شیطان اِسے اُکسائے کہ وہ نااہل ہے۔عیسیٰ مسیح کے نام میں۔آمین۔

سب: آمین۔

ندیم: شمیم کیا آپ کشھ کہنا چاہتی ہیں۔

شمیم: ﴿شرم محسوس کرتے اور نارضامند﴾ کسی نے دیر سے مجھ سے شادی کرنے کا اظہار کیا ہے۔

تمام: ﴿مختلف قسم کا بیان﴾ خوب ۔مبارک۔خوشی کی بات ہے۔

پروین: شمیم ہمیں بتائو کہ وہ کون ہے اور کیاکرتا ہے ؟

ناصر: انٹی کیا ہم اُس شخص کو جانتے ہیں یا نہیں؟

زیدی: شمیم بتائیے پلیز ۔

ندیم: دوستو! اطمینان رکھیں ۔شمیم ضرور بتائے گی۔جی شمیم۔

شمیم: نوہ کراچی کا رہنے والا ہے لمری اُس سے ملاقات انگلینڈ مین ہوئی تھی جب ہم اکٹھے پڑھ رہے تھے ۔ پڑھائی ختم کر کے ہم اکٹھے پاکستان واپس اائے ہیں ۔ اُس نے چند دِن پہلے مُجھے بُلایا اورشادی کا پیغا م دیا۔

ندیم: آپ نے کیا کہا؟

شمیم: میں نے اُسے کہا، مجھے سوچنے کا موقع دیں۔

پروین: یہ بہت اچھی بات ہے ۔ آپ کو جلدی میں جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ نہ صرف اِس کے بارے میں سوچو بلکہ دُعا بھی کرو اور دیکھو عیسیٰ مسیح اِس کے بارے میں کیا جواب دیتے ہیں۔شاید خُداوند کِسی اور کو تمہارے لیے تیار کر رہاہو۔

ندیم: ہاںشمیم۔ جو ابھی پروین نے کہا ہے۔ صحیح ہے۔ میرے ساتھ بھی ایساواقع ہواتھا ۔ ایک مرتبہ میں نے سکول کی ایک ساتھی سے شادی کرنے کا خیال کیا اور میں نے اُسے شادی کی تجویز پیش کی ۔ لیکن بعد میں خداوند نے مُجھے بتایا کہ وہ میرے لیے صحیح نہیں۔ شروع میں میں افسردہ ہوا لیکن ڈیڑھ سال بعد میںپروین سے مِلا۔ میں نے محسوس کیا کہ خُدا مُجھے اس کی طرف لے جا رہا ہے کہ سبق نمبر12 صفحہ نمبر7

میری بیوی بنے۔ میں خوش ہُوا۔ کیوں پر وین ایسا ہی ہے نہ ؟

پروین: جی ندیم، آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔

شمیم: میں اِس کے متعلق دُعا کرونگی۔

ندیم: آپ اُنہیںہمارے گھر چائے پر کیوں دعوت نہیںدیتیں؟

شمیم: ٹھیک ہے۔ میں اُسے بلائوں گی۔

ندیم: آئیے۔ ہم شمیم کے لیے دُعا کریں۔زیدی صاحب آپ دعا میں راہنمائی کریں۔

زیدی: خُدا وند میں اپنی بہن شمیم کے لیے دُعا کرتا ہوں ۔ صحیح شخص چُننے میں اُس کی مدد کرعیسیٰ مسیح کے نام میں آمین۔

سب: آمین

ندیم: اب وہ وقت ہے کہ میں اپنی بات آپ کو سُنائوں۔ پچھلے ہفتے مُجھے زیادہ تنخواہ والی ملازمت کی پیشکش ہوئی۔ لیکن اِس میں مجھے زیادہ سفر کر نا پڑتا ہے۔

زیدی: اِس کا مطلب ہے جب ہم عبادت کریں گے تو آپ سفر میں ہوں گے اور ہم سے نہ مِل سکیں گے۔

ندیم: ہاں یہی بات ہے جو مُجھے زیادہ تنگ کرتی ہے۔میںاِس کلیسیائ کو چھوڑنے کا خیال بھی نہیں کر سکتا۔ اِس وجہ سے میں نے یہ نئی ملازمت لینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ میری دُعا کا وقت ہی بدل جائے گا۔

شمیم: میں بھی اِس فیصلے کے لیے خوش ہوں ندیم بھائی! اور میں محسوس کرتی ہوں کہ خُدا یقیناََ آپ کو برکت دے گا۔

ندیم: مُجھے یقین ہے کہ خُدا ہمارا باپ ہے اور وہ ہمارے سارے حالات کا خیال رکھے گا۔یہی وجہ ہے منال میں آپ کو بتاسکتا ہوں کہ ہمارا خُدا ہمارے کام کی نگرانی کرے گا اور زیدی بھائی آپ ! خُدا آپ کو خاص فضل دے گا جب آپ اپنی بیوی سے بات کریں گے۔ اور ناصر تم ! خُدا تمہاری نگہداشت کرے گا جب تم اُس کی خِدمت کروگے۔ ہاں مُجھے یقین ہے کہ خُدا شمیم پر ظاہر کرے گا کہ کِسے چُننا ہے ۔ہاں خُدا ہمار ا باپ ہے اور وہ ہمیں ہرگز نہیں بھولے گا۔ اگلے ہفتے اِسی وقت پھرمِلیں گے۔ اورکُچھ نیاکام کریں گے۔ ہم بائبل مقدس کے سورمائوں میںسے کسی ایک کی زندگی کا مطالعہ شروع کریں گے۔ آپ اُس کے بارے میں پڑھ کر آئیں اور نوٹ لکھ کرلائین تاکہ ہم ایکدوسرے کو سِکھا سکیں۔ ہمیں کس کے بارے میں اگلے ہفتے مطالعہ کرنا چاہئے۔

شمیم: حضرت ابراہم کی زندگی کا۔

پروین: بالکل ٹھیک۔

زیدی: میںبھی حضرت ابراہم کی زندگی کا مطالعہ کرنا چاہوں گا۔

سبق نمبر12 صفحہ نمبر8

ناصر: میں اپنی امی اور انٹی شمیم سے اتفاق کرتا ہوں۔ہم حضرت ابراہم کی زندگی کا مطالعہ کریں گے۔

ندیم: اِس کا مطلب ہے کہ ہم سب اگلے ہفتے حضرت ابراہم کے بارے میںجاننا چاہیں گے ۔ تیاری کر کے آئیے گا۔