Hear Fellowship With My Family Episode 13 (Audio MP3)

View FWMF episode 13 as a PDF file

سبق نمبر13 صفحہ نمبر1

"حضرت ابراہم"

(music)

ندیم: پروین کیا آپ اندازہ کر سکتی ہیں کہ یہ ہماری تیرھویںکلیسیائی عبادت ہے جو ہم اِس گھر میں کر رہے ہیں۔

پروین: ندیم میں بہت خوش ہوں جب مُجھے پتہ چلا ہے کہ کلیسیائ لوگ ہوتے ہیں نہ کہ عمارت۔ مجھے اپنی کلیسیائی عبادت میں بہت مزہ آتا ہے۔

ندیم: سب سے خوبصورت چیز یہ ہے کہ ہم نے کوئی بھی کلیسیائی عبادت نہیں چھوڑی اور ہم ہمیشہ وقت پر آتے رہے ہیں۔ ہم کبھی سُست یا لیٹ نہیں ہوئے۔ ہم میںسے ہر ایک کلیسیائ کے لیے خود کوذمہ دار سمجھتا ہے اور وقت پر آتا ہے۔

پروین: ہاں ندیم ،خُد ا کی حمد ہو۔ اور اِس کے علاوہ کچھ اور بھی تو ہو رہا ہے۔

ندیم: وہ کیا ہے؟

پروین: ہم محسوس کرتے ہیں کہ جب سے ہم نے کلیسیا ئی عبادت شر وع کی ہے۔ خُداوند کی برکت ہمارے گھر میں کثرت سے رہی ہے۔

ندیم: سچ مچ ،خُداوندتیراشکر ۔ اور خُدا کے پاس ہمیں بر کت دینے کے لیے ابھی اور بہت کُچھ ہے۔ مُجھے خواب آیا ہے کہ چھ ماہ بعد ہماری تعداد دس ہو جائے گی اور شاید اِس سے بھی زیادہ ہو۔

پروین: آمین۔ خُدا آپ کے خواب کو پورا کرے۔

﴿دروازے پر دستک ہوتی ہے﴾

ندیم: کون ہے؟

ناصر: ابو میں ہوں۔ انکل زیدی بھی ہیں اور انٹی شمیم بھی۔

ندیم: ٹھیک ہے ناصر۔ ہم آرہے ہیں۔

﴿دروازہ کھلتا ہے﴾

ندیم: زیدی بھائی خوش آمدید۔ آپ کیسے ہیں۔

زیدی: ندیم بھائی میں ٹھیک ہوں۔ پروین بہن آپ کا کیا حال ہے؟

پروین: میں ٹھیک ہوں۔ زیدی بھائی ،آپ کی بیگم نائلہ کا کیا حال ہے۔

زیدی: وہ ٹھیک ہے۔ گز شتہ ہفتے آپ اُسے مل کر آئیں تھیں ، وہ بہت خوش ہے۔

پروین : میں بھی اُن سے مِل کربہت خو ش تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ اُنہوںنے میرے ساتھ دِل کھول کر باتیں کیںہیں۔ یہاں تک کہ سبق نمبر13 صفحہ نمبر2

اُنہوں نے مُجھے دوبارہ آنے اور مزید گفتگو کرنے کو بھی کہا تھا۔

زیدی: نہ صرف یہ، بلکہ اُس نے اگلے ہفتے عبادت میں آنے کا فصیلہ بھی کر لیا ہے۔

پروین: بہت اچھا۔

ندیم: خُدا کی حمد ہو۔ زیدی صاحب یہ ہمار ا خواب تھا۔

زیدی: اور خُدا خواب پورے کرتا ہے۔

پروین: میں چائے بناتی ہوں۔

شمیم: پر وین باجی ، چائے میں بناتی ہوں۔

پروین: ٹھیک ہے شمیم۔

ندیم: زیدی جب آپ نے مُجھے بتایا کہ نائلہ اگلی بار ہماری کلیسیائی عبادت میں شریک ہوگی۔آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ مجھے کس قدر خوشی ہوئی۔

زیدی: جب نائلہ نے مُجھے بتایا ۔ مجھے بھی یقین نہیں آرہا تھا۔ میں محسوس کر تا ہوں کہ پچھلے چند ماہ بہت با بر کت رہے ہیں۔

شمیم: زیدی بھائی ، چائے لیں۔

زیدی: شمیم شکریہ۔پروین بہن ، نائلہ آپ کی مہمان نوازی سے بہت خوش ہوگی۔

پروین: جب وہ آئیں گی میں اُن کے لیے خاص چیز تیار کرونگی۔ندیم چائے لیں۔ ناصر آپ بھی لیں۔

ندیم: شکر یہ پروین۔

ناصر اور شمیم: امی شکریہ۔باجی شکریہ۔

زیدی: پروین بہن ، آپ کا کام کیسا جارہا ہے۔ آپ کے نئے باس کا رویہ ٹھیک ہوا کہ نہیں ۔

پروین: پچھلی بار جب آپ نے میرے لیے دُعا کی ۔ تومیں نے اُن سے بات چیت کرنا شروع کی ۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ خُدا چاہتا ہے کہ میں وہاںٹھہروں اور اپنے اردگرد کے لوگوںکو خدا کی محبت دِکھائوں۔

شمیم: باجی خُدا کا شکر۔ خدا نے سچ مچ ہماری دُعائوں کا جواب دیا ہے۔

ندیم: ہاں بیشک۔ خدا نے ہماری دُعائوں کا جواب دیاہے۔چائے تو ہم پی چکے ۔آئیے اب اپنی کلیسیائی عبادت شروع کرتے ہیں۔ زیدی بھائی ، آپ کو یاد ہے نا، آج کی عبادت میں راہنمائی آپ کر رہے ہیں؟

سبق نمبر13 صفحہ نمبر3

زیدی: ہاں مُجھے یاد ہے۔ آئیں خُدا کی حمد شروع کریں۔ہم گائیں گے’’ یسوع میرا چر واہا میں اُس کے گن گاتا ہوں۔‘‘

تمام: ﴿گیت: یسوع میرا چر واہا ﴾

زیدی: آ ئیں، خداوند سے کہیں، ہم تجھے پیار کرتے ہیں۔ تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے ۔ہم تجھے سر بلند کرتے ہیں۔

تمام: خداوند ہم تیری تعظیم کرتے ہیں۔ خُداوند ہم تجھ سے پیار کرتے ہیں۔ ہم تیرے پاس آتے ہیں۔خُداوند ہماری رہنمائی کر۔آمین

ندیم: پچھلی مرتبہ ہم نے بائبل مقدس میں سے حضرت ابراہم خلیل اﷲکی شخصیت کا مطالعہ کرنے پر اتفاق کیا تھا ۔ ہم نے یہ بھی کہاتھا کہ اُن کی زندگی سے سیکھیں گے۔

زیدی: اِس سے پہلے کہ ہم شروع کریں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب میں اِس سبق کی تیاری کر ر ہا تھا۔ مُجھ میںبہت سی تبدیلی رونما ہوئی اور میں نے بہت کچھ حضرت ابراہم کی زندگی سے سیکھا۔

ندیم: اِن عظیم سورمائوں کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے کا جو فائدہ بائبل مقدس میںمذکور ہے۔ وہ اُن کی پیروی کرنا ہے۔شمیم اور ناصر نے ہاتھ میں کا غذ پکڑے ہوئے ہیں کیا یہ حضرت ابراہم کی زندگی کے بارے میں تحقیق ہے یا کچھ اور۔

شمیم: میں نے اُن چیزوں کو جنہوںنے حضرت ابراہم کی کہانی سے میری زندگی بدل دی اور جو کچھ میںنے سیکھا ، لکھنے کا فیصلہ کیاہے۔

ندیم: شمیم یہ بہت بڑا کام ہے۔ آمین۔ خدا آج حضرت ابراہم کے بارے میںہمیں بہت باتیں سِکھائے گا۔ کیا کوئی ہمیں اُن کی بلاہٹ اور زندگی سے متعارف کرائے گا۔

شمیم: جی میں بتائوں گی۔

ندیم: بتائیے شمیم۔

شمیم: اُن کا نام حضرت ابراہم تھا۔وہ تارح کے بیٹے تھے۔ ابنِ سم اور ابنِ نوح تھے۔ اُن کی بیوی کا نام سارہ تھا۔ وہ بانجھ تھیں ۔ وہ ملک جہاںحضرت ابراہم پیدا ہُوئے،بے دین ملک تھا۔ پیدائش کی کتاب 12باب پہلی آیت میں۔ خدا نے حضرت ابراہم سے کہا،"اپنے ملک اور ناتے داروں اور اپنے باپ کے گھر سے اُس ملک کی طرف نکل جا جومیں تُجھے دِکھائوں گا"۔خُدا دیکھنا چاہتا تھا کہ حضرت ابراہم اُس کی کتنی بات مانتے ہیں۔

ندیم: ہم اِس سے خدا کی فرمانبرداری سیکھتے ہیں۔ حضرت ابراہم اپنے مُلک سے نکل گئے یہ جانے بغیر کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ اُنہوں نے خُدا کی فرمانبرداری کی کیونکہ خدا نے انہیں حُکم دیا تھا ۔ اگر یہی بات میرے ساتھ واقع ہو، مجھے مشکل لگے گی میرے لیے گھر چھوڑناخاندا ن اور لوگوںکو جنہیں میں جانتا ہوںچھوڑ کر ایسی جگہ جانا جِسے میں نہیںجانتامشکل ہوگا۔ لیکن حضرت ابراہم نے اِن سب کے بارے میںنہ سوچا ۔اُنہوں نے صرف ایک بات کے بارے میںسوچا کہ خُدا کی فرمانبرداری کیسے کرنی ہے۔

سبق نمبر13 صفحہ نمبر4

پروین: بہرحال خدا کی فرمانبرداری کا نتیجہ مثبت برکتوںمیں نکلتا ہے۔ اگر حضرت ابراہم خدا کا حُکم نہ مانتے تو وہ عام شخص بن جاتے اور وہ گمنامی میں مرجاتے لیکن اُنہوں نے فرمانبرداری کر کے تاریخ بدل دی اور عیسیٰ مسیح کے لیے اُن کی نسل سے آنے کا راستہ تیارکر دیا۔

ندیم: پروین آپ نے ٹھیک کہا۔ پس پہلا سبق جو ہم حضرت ابراہم سے سیکھتے ہیں وہ فرمانبرداری ہے۔ اِس کے بعد حضرت ابراہم کی زندگی میں کیا ہُوا۔کیا اُنہوں نے کسی محل میں رہنا شروع کر دیا یا کہیں اور۔

زیدی: وہ ہمیشہ خیموں میں رہتے تھے۔ جب اُنہوں نے اپنے وطن کو چھوڑا اُن کی عمر ستر سال تھی۔ جب فوت ہوئے تو ایک سو پچھتر سال کے تھے ۔ وہ سو سال خیموں میں رہے ۔ خیمے کا مطلب ہے کہ ہمیں زمینی چیزوں سے نہیں چمٹے رہنا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہم کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا آسان تھا۔

پروین: حضرت ابراہم جہاں جاتے وہاں خُداوند کے لیے مذبح بنا لیتے۔ میںحضرت ابراہم کے بارے میں ایک کتاب پڑھ رہی تھی۔ اُس میں لکھا تھا کہ مذبح اور خیمہ اکٹھے حضرت ابراہم کی زندگی میں گئے۔ جیسے زیدی صاحب نے کہا خیمے کا مطلب ہے کہ وہ زمینی چیزوں سے نہ چمٹے رہے اور مذبح ،قربانی کی اور خودانکاری کی علامت ہے۔ خُداوند ہمیں بتانا چاہتا ہے کہ خود انکاری اور قربانی کے بغیر ہم زمینی چیزوں سے خلاصی نہیں پا سکتے ۔خُد انے ہمیں بہت بڑے مقصد کے لیے پیدا کیاہے ۔

ندیم: اِس عظیم مطالعے کے لیے شکریہ۔ایک اور سبق جوہم حضرت ابراہم کی زندگی سے سیکھتے ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اگر ہم پورے دِل سے خُدا کی پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیںساری زندگی قربانی کرنی ہے اور دنیاوی خواہشوںکو خدا کی راہ میں قر بان کر نا ہے۔ جو کچھ ہم حضرت ابراہم کی زندگی سے اِس کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ کون کچھ کہے گا۔

ناصر: کتا ب ِ مقدس بائبل میں پیدائش کی کتاب اُس کے بارہویں باب کی دسویں آیت میں یوں لکھا ہے ، ’’ اور ملک میں کال پڑا اور ابرہام مصر میں قیام کے لیے گیا ۔ کیونکہ ملک میںشدید قحط تھا۔‘‘ جب قحط پڑتا حضرت ابراہم کُچھ خوراک لانے کو مصر کو چلے جاتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت ابراہم خُدا کے حُکم کے بغیر مصر کوچلے گئے اُنہوں نے خدا سے مشورہ کیے بغیر جس نے اُن سے مہیا کرنے کا وعدہ فرمایا تھا،اپنی عقل استعمال کی ۔ ہم بھی اُسی جال میں پھنستے ہیں ۔ ہم خُدا کے لیے جینے کا فیصلہ کرتے ہیں اور اُس کی اجازت کے بغیر کُچھ نہ کرنے کا وعدہ کرتے ہیں لیکن کُچھ مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔ ہم اپنی حفا ظت کے بارے سو چنا شروع کر دیتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہماری راہیںاور ہمارے ارد گر د کے لوگ ہمیں نقصان پہنچاتے ہیںبا لکل ایسا ہی حضرت ابراہم کے ساتھ ہوا۔

ندیم: ناصر بالکل ٹھیک، جب ہم کسی راہ پر خُدا کی ہدایت کے بغیر چلتے ہیں تو ہم انسانی حکمت استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ یوں ہمیں سبق نمبر13 صفحہ نمبر5

بہت سے مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور ہم اپنے آپ کو، اپنے گردو نواح کے لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

شمیم: یہ بھی واضح ہے کہ جب حضرت لوط اور حضرت ابراہم علاقے چن رہے تھے ۔ حضرت لوط اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اُنہوں نے نہایت خوبصورت علاقہ چُنا۔ یہ اُن کا اپنا چُنائو تھا نہ کہ خُدا کا۔ اِس وجہ سے وہ علاقہ جہاں حضرت لوط رہتے تھے، جلا دیا گیا۔اور اُنہوں نے ہر چیز گنوا دی۔یہاں تک کہ اپنی بیوی بھی۔ اُن کے پاس اب صرف اپنی دو بیٹیاں تھیں۔

ندیم: اس لئے کوئی بھی کام کرنے سے پہلے ہمیں خُداوندسے مشور ہ کرنا چاہیے تاکہ وہ ہمیں صحیح راہ دِکھائے۔ ہم حضرت ابراہم کی زندگی سے ایمان کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ کیا کوئی جانتا ہے کہ خدا نے کب اُن کا نام حضرت ابرام سے حضرت ابراہم میں تبدیل کر دیا۔

پروین: جی مجھے معلوم ہے ،جب حضرت ابراہم نوے برس کے تھے۔ خُدا اُن پر ظاہر ہُوا اور وعدہ کیا کہ اُن کی نسل سمندر کی ریت کی مانند ہو گی ۔ یہ وہ وقت ہے جب خدا نے اُن کا نام بدل کر حضرت ابراہم رکھا ۔ جِس کے معنی ہیں قوموں کا باپ۔ اُس وقت حضرت ابراہم کے لیے ناممکن تھا کہ اُن کے بچے ہوں کیونکہ وہ 99برس کے تھے اور سارہ بی بی 89برس کی تھیں۔ لیکن حضرت ابراہم خُدا پر ایمان لائے اور اُس کے وعدے پر یقین رکھا ۔

ندیم: اور چونکہ حضرت ابراہم ایمان لائے ۔ اپنا مُلک چھوڑنے کے پچیس سال بعد اُنہیں حضرت اسحاق ملے ۔ یہاں ہم یہ سبق سیکھتے ہیں ، اگرچہ خدا کے وعدے پر یقین کرنا ناممکن ہوجب تک یہ پورا نہ ہو۔ ہمیں انتظار کرنا چاہیے ۔ خواہ کتنے سال لگ جائیں۔ اوراب ہم اُس بڑی آزمائش کی طرف آتے ہیںجو حضرت ابراہم کے ایمان اور فرمانبرداری کوظاہر کرتی ہے۔

زیدی: آپ کا مطلب ہے جب خُدا نے اُنہیں اپنا بیٹا حضرت اسحاق قربان کرنے کا کہا۔

ندیم: بالکل ٹھیک۔ہم پیدائش 22باب اُس کی پہلی اور دوسری آیت میں پڑھتے ہیں،"کچھ عر صے بعد خدا نے ابرہام کو آزمایا۔ اُس نے اُس سے کہا۔ ابرہام۔اُس نے جواب دیا۔ میں حاضر ہوں۔ تب خدا نے کہا۔اپنے اکلوتے بیٹے اسحاق کو جسے تو پیار کرتا ہے۔ ساتھ لے کر موریاہ کے علاقے میں جا اور وہاں کے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتائوں گا، اُسے قر بانی کے طور پر نذر کر۔"

ناصر: یہ تو بڑا مشکل کام تھا ۔

ندیم: اگرچہ یہ مشکل تھا ۔ حضرت ابراہم نے خُدا کی فرمانبرداری کی ۔ بائبل مقدس تیسری آیت میں کہتی ہے، " حضرت ابراہم صبح سویرے اُٹھے۔ اپنے گدھے پر زین کسا اور اپنے جوانوں کو اور اپنے بیٹے اسحا ق کو اور سوختنی قربانی کے لیے لکڑی۔ لے کراُس جگہ کو چل دئیے جِس کے بارے میںخُدانے انہیں کہا تھا۔

پروین: میںمحسوس کرتی ہوں کہ خُدا نے حضرت ابراہم کی صرف فرمانبرداری کا ہی امتحان نہیں لیا۔ بلکہ خدا اُن کی محبت کو بھی آزما رہا تھا۔ سبق نمبر13 صفحہ نمبر6

اُس نے اُنہیں اُن کے اپنے بیٹے حضرت اسحا ق کے ذریعے آزمایا جِس کا انہیں مدتوں سے انتظار تھا۔ حضرت ابراہم نے ثابت کیا کہ وہ دنیا میںسب سے زیادہ اپنے بیٹے سے بھی زیادہ۔خدا سے محبت کرتے ہیں۔

شمیم: خدا اُن کے ایمان کو بھی آزما رہا تھا۔ خُدا نے حضرت ابراہم سے وعدہ کیاکہ ان کی نسل حضرت اسحاق سے کہلائے گی۔ اگرحضرت اسحاق اُن کا بیٹا مارا جائے تو خدا کس طرح اُنہیںنسل دے گا۔ جب میں اِ س پیرا گراف کا مطالعہ کر رہی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ حضرت ابراہم نے خُدا پر بھروسہ کیا۔ اُنہوں نے اپنے جوان آدمیوں سے کہا،" تم یہیں گدھے کے پاس ٹھہرو ۔میںاور یہ لڑکا آگے جائیں گے اور عبادت کریں گے اور پھر ہم تمہارے پاس آ جائیںگے"۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہم کا یہ ایمان تھا کہ وہ اکیلے واپس نہیں آئیں گے ۔ ان کا بیٹا اُن کے ساتھ آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے کہا،"ہم پھر تمہارے پاس آئیں گے"۔

زیدی: اجازت ہو تو میں کچھ اور کہوں۔

ندیم: جی جی۔

زیدی :وہ اُس جگہ پہنچنے کے لیے اپنے بیٹے کے ساتھ تین دِن چلے جہاں خُدا قربانی چاہتا تھا۔ مُجھے یقین ہے کہ حضرت ابراہم خُدا سے توقع کررہے تھے کہ خداانہیں واپس جانے کو کہے گا ۔ لیکن ایسا نہ ہُوا ۔ جب بیٹے کو ذبح کرنیکا وقت آیا۔ خُد ا نے اُنہیںآواز دی اور کہا،" ایسا مت کر"۔ ہم یہاں سیکھتے ہیں کہ اگرچہ خُدا کے وعدے میںدیر ہوپھر بھی ہمیں انتظار کرنا چاہئے ۔ خُدا بالآخر قدرت اور جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا ۔

ندیم: ہاں بیشک۔ خُدا وقت پرحضرت اسحاق کو چھڑانے آ گیا۔ حضرت ابراہم مایوس نہ تھے۔ میںمحسوس کرتا ہوں ، حضرت ابراہم کے بارے میں ہماری باتیں نہیں ہو سکیتں ۔ کیونکہ وہ بنی نوع انسان کی تاریخ میں بڑے لوگوں میںسے ایک ہیں۔ لیکن آئیں اب مختصر طور پر خلاصہ بیان کریںجو ہم نے سیکھا ہے۔ پروین آپ شروع کریں۔

پروین: 1۔ خُدا کی آواز کی فرمانبرداری کرناخواہ قیمت کُچھ بھی ہو۔

زیدی: 2۔ اگر میں خُدا کا حُکم ماننا چاہوں تو مُجھے قربانی کی ضرورت ہے۔

شمیم: 3۔ ہر بار جب میں زندگی میں قدم اُٹھائوںمُجھے اِس کے بارے خُدا کی رائے جاننے کا انتظار کرنا چاہیے کیونکہ جب میں اپنی راہ پر چلونگا تو مسائل سامنے آئیں گے۔

ناصر: 4۔ خُدا کے وعدوں کا انتظار کرنا چاہئے۔ اگرچہ اُن کے پورا ہونے میں دیر ہو۔

ندیم: آخری سبق ہے ۔ مُجھے خُدا پر ایمان رکھنا چاہیے۔ اگرچہ میرے اردگرد تاریخی واقعات ظاہر کریں کہ یہ وعدے بدل جائیں گے ۔ سبق نمبر13 صفحہ نمبر7

مُجھے ہمیشہ خدا کے کلام پر ایمان رکھنا چاہیے۔ آئیں اپنے دِلوںکو بلندکریں اور خُد سے کہیں وہ اِن تعلیمات کو ہمارے دِلوں پر نقش کر دے۔آمین

سب: آمین

ندیم: کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے۔

پروین: جی ! میں کہوں گی۔پچھلے ہفتے جب میںنائلہ بہن سے مِلی۔ مجھے یقین تھا کہ خُدائے عظیم اُن کی زندگی میں کام کرے گا۔ جب میں نے گفتگو شروع کی میں نے محسوس کیا کہ وہ آرام محسوس کر رہی تھیں کیونکہ اُنہوں نے میرے سامنے اپنا دِل کھول دیا۔ ہم نے عیسیٰ مسیح کے بارے میں اور صلیب کے بارے میں بہت سی باتیں کیں۔ آنے سے پہلے وہ رو رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں،"کیا یہ ممکن ہے کہ یہ سب کُچھ عیسیٰ مسیح نے میرے لیے کیا"۔اُنہوں نے میرے ساتھ وعدہ کیا وہ بائبل مقدس پڑھیں گی ۔ وہ بات چیت کرنے کے لیے مُجھے منگل کو مِلنا چاہتی تھیں۔ مہربانی کر کے ہمارے لئے دعا کریں۔ خدا میری ملاقات کو مبارک کرے۔

زیدی: ہاں بیشک۔ وہ بہت خوشی محسوس کر رہی تھی۔ جیسے میں نے آپ کو پہلے بتایا۔ اُس نے ہماری اگلی عبادت میںآئے کا وعدہ کیا ہے۔

ندیم: خداوند تیرا شکر ہو۔ آئیں آخر میں دعا کریں۔خُداوند ہمارے ساتھ تونے جو کُچھ کیا ہے ہم ہر ایک چیز کے لیے تُجھے جلال دیتے ہیں۔ ہم تیرا شکر کرتے ہیں کیونکہ نائیلہ تیری بیٹی ہے اور تُو اُس سے پیار کرتا ہے ۔ جو کُچھ تُو نے اُس کی زندگی میں کیا ہے ہم تیرا شکر کرتے ہیں۔ ہماری دُعائوں کا اب جواب دینے کے لیے تیرا شکر ہو۔ خُداوند مہربانی کرکے اگلے ہفتے میں پروین کی مُلاقات کو برکت دینا۔ یسوع کے نام میں آمین۔

تمام: آمین۔