Hear Fellowship With My Family Episode 14 (Audio MP3)

View FWMF episode 14 as a PDF file

سبق نمبر14 صفحہ نمبر1

"وہ خُدا ہے"

(Music)

ندیم: پروین۔ میں بہت خوش ہوں ۔ آج ایک نیا ممبر ہماری جماعت میں شامل ہو رہا ہے۔اِ سکا مطلب ہے کہ خُداوند ہماری دُعائوںکا جواب دے رہا ہے اور کلیسیا ئ بڑ ھ رہی ہے۔

پروین: میں بھی بہت خوش ہوں کیونکہ ہم لوگوں کو اپنی آنکھوں سے عیسیٰ مسیح کے پاس آتے دیکھ رہے ہیں جو اُس سے بہت دور تھے۔ کُچھ عرصہ پہلے زیدی بھائی کی بیوی نائیلہ کواپنے میں شامل ہوتے دیکھنا ایک خواب تھا آج یہ خواب حقیقت بن گیا ہے۔

ندیم: زیدی بہت خوش ہے۔آپ کو پتہ ہے اُس نے مجھے کیا کہا؟

پروین: کیا کہا؟

ندیم: اُس نے کہا’’مجھے ایسا محسوس ہو تا ہے گو یا میرا گھر پھر سے آباد ہوا ہے اور میری بیوی نائیلہ ایک نئی شخصیت بن گئی ہے۔

شمیم: (Coming)بھئی آپ نائیلہ باجی کے بارے میں کیا باتیں کر رہے ہیں۔

پروین: آئیے شمیم بیٹھے ۔ ہمارے دِل خوشی سے بھرے ہوئے ہیں کیونکہ زیدی بھائی کی بیوی نائیلہ آج کلیسیائ میں شریک ہو گی۔

شمیم: پروین باجی، یہ سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی ہے۔میں بھی آپ کے ساتھ مل کر نائیلہ باجی کے لئے دعا کرتی رہی ہوں۔مجھے یقین نہ تھا کہ ایسا ہوگا۔ مگر خدا ہماری دعائوں کا جواب دیتا ہے۔

ناصر: ہیلو امی ، ہیلو ابو۔

پروین: ناصرتم کہاںتھے۔

ناصر: میں اندر اپنے کمرے میں تھا۔

ندیم: بیٹھو، آج مسز نائیلہ بھی ہماری جماعت میں شریک ہو رہی ہیں۔

ناصر: سچ مچ ابو؟

ندیم: ہاں ناصر۔کیا تمہیں یقین نہیں۔

ناصر: کیوں نہیں۔ اور آج ہم انٹی نائیلہ کی جماعت میں آمد کا جشن منائیں گے۔

پروین: ﴿مسکراتے ﴾فی الحال جائو اور فرج میں سے کیک نکال کر لائو۔ ہم عبادت کی تیاری کر رہے ہیں۔

ندیم: پتہ نہیں وہ لیٹ کیوں ہو گئے ہیں۔﴿دروازے کی گھنٹی بجتی ہے﴾

ناصر: یقیناََ یہ وہی ہیں ۔ میں دروازہ کھو لتا ہوں۔﴿دروازہ کھلتا ہے﴾

سبق نمبر14 صفحہ نمبر2

ناصر: خوش آمدید انکل زیدی،خوش آمدید انٹی نائیلہ ۔ آئیں اندر آئیں۔﴿دروازہ بند ہوتا ہے﴾

زیدی: ہیلو ناصر۔

نائیلہ: ناصر آپ کیسے ہیں۔

ناصر: انٹی شکر یہ، میں ٹھیک ہوں۔

پروین: نائیلہ آپ کیسی ہیں۔ خوش آمدید۔ آپ نے تو ہمارے گھر کو چار چاند لگا دئیے ہیں ۔﴿بوسہ لینے کی آواز﴾

نائیلہ: پروین بہن شکر یہ، یہ تو عیسیٰ مسیح کانورہے جو اِس گھر کو منور کیے ہوئے ہے۔

شمیم: کیا ہم کھڑ ے کھڑے ہی گفتگو جاری رکھیںگے ۔ تشر یف رکھیں۔

نائیلہ/زیدی: شکریہ، مہربانی

ناصر: امی میں چائے لے آئوں؟

پروین: ہاں ناصر۔ کیک بھی لے آنا۔

ندیم: پھر ہم عبادت شروع کریںگے۔

زیدی: دوستو! کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہر بار جب ہم جماعت کے طور پر اکٹھے چائے پیتے تھے ، میں اپنے دِل میں سوچتا تھا کہ میری بیوی نائیلہ کب ہمار ے ساتھ شریک ہو گی۔

ندیم: خدا کا شکر ہو۔اُس نے آپ کے دِل کی خواہش پوری کر دی ہے۔

پروین: نائیلہ آج ہم آپ کو اپنے ساتھ پا کر بہت خوش ہیں۔ میں آپکو یقین دِلاتی ہوں کہ آپ اپنے گھراور خاندان میں ہیں۔ہم سب عیسیٰ مسیح کا خاندان ہیں۔

نائیلہ: پروین بہن سچ مچ میں ایسا ہی محسوس کررہی ہوں۔

ندیم: زیدی آپ کو دیر کیوں ہوئی۔

نائیلہ: ندیم بھائی زیدی سارا راستہ فکر مند تھے۔ وہ مُجھے عبادت کے لیے وقت کا خیال رکھنے کو کہہ رہے تھے ۔اُنہوںنے یہ بھی کہا کہ عبادت کے وقت کا پابند ہوناعیسیٰ مسیح کی عزت کرنا ہے۔

ندیم: بے شک

زیدی: ندیم صاحب۔ آج رش بہت تھا۔

ناصر: یہ رہی آپ کی چائے۔ ﴿چائے کی پیالیوں کی آواز﴾اور یہ رہا کیک ﴿رکھنے کی آواز﴾ مزے اُڑائیں۔﴿سب قہقہے لگاتے ہیں﴾

سبق نمبر14 صفحہ نمبر3

پروین: نائیلہ کیک لیں۔

نائیلہ: پروین شکریہ۔﴿کھاتے ہوئے﴾بہت مزیدار ہے۔

ناصر: مجھے اپنی امی کے بنائے ہوئے کیک بہت پسند ہیں ۔

شمیم: ناصرکہیں سارا کیک تم ہی ہڑپ نہ کر جا نا﴿قہقہ﴾چلو جب تک چائے پی رہے ہیں۔ کیسٹ پر کوئی گیت ہی لگا دو۔

ناصر: ٹھیک ہے انٹی

گیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ندیم: کیا ہم سب نے چائے پی لی ہے۔؟

زیدی: ہاںندیم۔

ندیم: خدا کی حمد ہو، آج شمیم عبادت میں ہماری راہنمائی کریں گی۔ جی شمیم۔

شمیم: میں محسوس کرتی ہوں کہ آج ایک عظیم دِن ہے۔ آج جب ہم یہاں عبادت کر رہے ہیں ،آسمان پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔

آ پ کو معلوم ہے کیوں ؟کیونکہ خُدائی عظیم بائبل مقدس کے وعدوں کے مطابق ہمارے درمیان ہے۔ "جہاں دو یا تین میرے نام سے اکٹھے ہیں وہاں میںحاضر ہوں"۔آئیں اِس گیت سے اپنی عبادت شروع کریں۔ناصر پلیز ہار مونیم بجائیں۔

﴿گیت:۔ جہاں بھی دو یا تین۔۔۔۔۔۔۔۔﴾

ندیم: آمین۔ ہم نے اپنی پچھلی عبادتوںمیں مختلف موضوعات پرگفتگو کی ہے جوعیسیٰ مسیح کے ساتھ ہمارے رشتے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ہمارا آج کا موضوع خود عیسیٰ مسیح کی شخصیت ہے۔

زیدی: ندیم میں جانتا ہوں کہ عیسیٰ مسیح کیوں آئے۔ بیشک وہ ہمیں چھڑانے کیلئے آئے ۔ لیکن خُداوند عیسیٰ مسیح کی شخصیت کِسی بھی دوسرے انسان یا نبی سے جو اُن سے پہلے آئے عظیم اور منفرد ہے۔ یہی وجہ ہے ہمیں اُن کے بارے میں زیادہ جاننے کی ضرورت ہے۔

نائیلہ: ہاں زیدی ،عیسیٰ مسیح کی پیدائش عجیب ہے۔ ہم نے کبھی کِسی کے بارے میں نہیں سُنا کہ وہ کنواری سے پیدا ہُواہو۔ یہ ایک معجزہ ہے جو خُدا نے یہ بتانے کے لیے کیا ہے کہ یہ ایک نومولود بچہ ایک عام بچہ نہیں ہے ۔

پروین: نا ئیلہ، نہ صرف اُن کی پیدائش عجیب تھی بلکہ اُن کی ساری زندگی عظیم اور حیران کر دینے والی باتوں سے بھری ہوئی ہے۔

نائیلہ: پروین وہ کس طرح؟

زیدی: پہلے میں آپ کو بتاتا ہوں۔ مثال کے طور پر جب عیسیٰ مسیح اپنے شاگردوںکو چُن رہے تھے تو اُنہوں نے ایک نتن ایل نامی شخص سبق نمبر14 صفحہ نمبر4

سے کہا ، "اِس سے پیشتر کہ فلپس نے تُجھے بُلایا جب تم انجیر کے درخت کے نیچے تھے۔ میںنے تمہیں دیکھا "۔کوئی بھی شخص نتن ایل کی زندگی کے اِس واقعہ کو نہیں جانتا تھا۔مگر عیسیٰ مسیح جانتے تھے۔

پروین: اور مُجھے سامری عورت کی کہانی یاد آتی ہے۔ جب عیسیٰ مسیح نے اُس کی زندگی کے وہ سارے راز کھول دئیے۔ جنہیں کوئی آدمی نہ جانتا تھا۔ اُنہوں نے اُسے اُس کے سب گناہوں کے بارے میںبتادیا۔ اوریہ بھی بتایا کہ وہ کِس طرح اپنی جسمانی خواہش اور ناپاکی کی پیروی کر رہی تھی ۔

زیدی: شمیم۔ مُجھے بھی یہ کہانی یاد ہے ۔عیسیٰ مسیح نے اُسے زندگی کے پانی کے متعلق بھی بتایا۔ اور کہا جو پانی میں تجھے دوں گا۔ اُس سے تمہیں ہمیشہ کی زندگی ملے گی اور تم کبھی پیاسی نہ ہوگی۔

ناصر: میں ایک اور بات کا بھی اضافہ کرنا چاہتا ہوں نہ صرف عیسیٰ مسیح کی پیدائش عجیب تھی۔اور نہ صرف اُن کے الفاظ بلکہ اُن کی تعلیم بھی عجیب تھی اور لوگوں کے دِلوں پر اثر کرتی تھی۔

شمیم: ہاں ۔ مُجھے یاد ہے جب فقہیوں میں سے ایک فقہیہ نے جِس کا نام نیکدیمس تھا، اُن کے پاس آکر کافی طویل گفتگو کی ۔ عیسیٰ مسیح نے اُس سے کہا،"نیکدیمس تمہیں نئے سرے سے پیدا ہونا ضروری ہے ''یہ بات نیکد یمس کیلئے عجیب تھی۔

ناصر: ہاں انٹی نیکدیمس بالکل نہ سمجھا کہ نئے سرے سے پیدا ہونا کیا ہے۔

ندیم: دوستو، یہ بات سچ ہے، عیسیٰ مسیح ایک عام شخص نہ تھے۔وہ اپنی معجزاتی پیدائش میں، اپنے الفاظ میں،اور یہاں تک کہ اپنی تعلیم اور نظریات میں م،افوق الفطرت تھے۔ ہم یہ بات بھی نہ بھولیں کہ عیسیٰ مسیح ایک لا ثانی شخص تھے۔ اور ساری دنیا میں اُن جیسا کوئی نہیں۔

نائیلہ: سچ مچ۔ اُن کے معجزات بتاتے ہیں کہ وہ لاثانی شخص تھے۔ وہ عام شخص نہ تھے۔

ندیم: ہاں نائیلہ۔ ہم اُس معجزے کے متعلق اکٹھے کیوں نہیں پڑھتے جِس کا ذِکرحضرت یوحنا کی معر فت لکھی گئی انجیل اُس کے نویں باب کی پہلی سات آیات میں ملتا ہے۔ کون پڑھے گا۔

ناصر اورپروین: میں ﴿ بیک وقت﴾

ندیم: ٹھیک ہے۔ آپ دونوں پڑھیں گے۔ پروین پہلی چار آیات پڑھیں گی ۔ اور ناصر پانچویں سے ساتویںآیت تک پڑھے گا ۔

پروین: ﴿ورق اُلٹنے کی آواز﴾ پھر اُس نے جاتے وقت ایک شخص کو دیکھا جو جنم کا اندھا تھا او ر اُس کے شاگردوں نے اُس سے پوچھا ، اے ربی! کہ کِس نے گناہ کیا تھا جو یہ اندھا پیدا ہُوا۔اِس شخص نے یا اِس کے ماں باپ نے؟ یسوع نے جواب دیا کہ نہ اِس نے گناہ کیا تھا نہ اِس کے ماں باپ نے بلکہ یہ اِس لئے ہُوا کہ خُدا کے کام اُس میں ظاہر ہوں جِس نے مُجھے بھیجا ہے۔ ہمیں اُس سبق نمبر14 صفحہ نمبر5

کے کام دِن ہی دِن کو کرنا ضرور ہے۔ وہ رات آنے والی ہے جِس میں کوئی شخص کام نہیں کر سکتا۔

ندیم: ناصر ! آگے تم پڑھو۔

ناصر: جب تک میں دنیا میںہوں دنیا کانور ہوں۔ یہ کہہ کر اُس نے زمین پر تھوکا اور تھوک سے مٹی سانی اور وہ مٹی اندھے کی آنکھوں پر لگا کر اُس سے کہا ،جا شیلوخ﴿ جِس کا ترجمہ "بھیجا ہُوا" ہے﴾ کے حوض میں دھو لے ۔ پس اُس نے جا کر دھویا اور بینا ہو کر واپس آگیا۔

نائیلہ: میں نے کبھی اِس معجزہ کے بارے میں زیادہ نہیں سوچا تھالیکن دراصل یہ ایک لاثانی اور عجیب معجزہ ہے۔

زیدی: نائیلہ عجیب سے آپ کا کیا مطلب ہے۔

نائیلہ: میرا مطلب ہے عیسیٰ مسیح نے کیوں مٹی بنائی اور اندھے آدمی کی آنکھوں پر لگائی۔ اُنہوں نے کیوں سیدھا سیدھا یہ نہ کہاکہ جا بینا ہو جا۔

ندیم: یہ بات بھی ثابت کرتی ہے کہ وہ ایک لاثانی شخص تھے ۔ اوروہ محض انسان نہ تھے۔ وہ شخص پیدائش سے اندھا تھا۔ اُس کی آنکھیں نہ تھیں ۔ عیسیٰ مسیح نے مٹی سے اُس کی آنکیھں خلق کیں۔ بالکل ایسے جیسے پہلا انسان خلق ہوا۔

پروین: جی ہاں۔عیسیٰ مسیح نے اندھے آدمی کی نئی آنکھیں خلق کیں جو ایک عام آدمی نہیں کر سکتا۔ یہاں تک کہ سب سے بڑا ڈاکٹربھی نہیں کر سکتا۔

زیدی: یہ معجزہ نہ صرف یہ بتاتا ہے کہ عیسیٰ مسیح خالق ہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ اُس اندھے آدمی کے بارے میں جانتے تھے۔ اُنہوں نے شاگردوں کو بتایا کہ اِس میں نہ تو اِس بندے کا قصور ہے اور نہ اِس کے والدین کا۔

شمیم: زیدی بھائی جو آپ کہتے ہیںصحیح ہے۔ وہ اُس آدمی کے ماضی کو جانتے تھے ۔ اور وہ اُس کے مستقبل سے بھی واقف تھے۔ پس جب انہوں نے اندھے آدمی سے کہا ، جا اور شیلوخ کے حوض میں دھولے، وہ جانتے تھے کہ وہ اندھا شخص کھلی آنکھوں کے ساتھ واپس آئے گا۔

ناصر: میںنے آپ کو بتایا تھا کہ عیسیٰ مسیح ایک عام انسان نہیںتھے۔ وہ خالق ہیں۔ وہ ماضی اور مستقبل کے بارے میں جانتے تھے اُن کے سامنے وقت کی کوئی قید نہیں تھی۔

ندیم: عیسیٰ مسیح نہ صرف وقت کی حدود سے باہر تھے بلکہ وہ ہر چیز کی حدود سے باہر تھے۔ ایک دفعہ کوئی شخص عیسیٰ مسیح کے پاس کہتاہُوا آیا کہ اُس کا بیٹا بیمار ہے اور تقریباََ مر رہا ہے لیکن عیسیٰ مسیح نے اُس کے بیٹے کے پاس جائے بغیر کہا،"جا تیرا بیٹا جیتا ہے"۔ اور اُسی لمحے اُس آدمی کا بیٹا مکمل طور پر شفائ پا گیا۔ کیونکہ جب وہ آدمی گھرپہنچا لوگ بھاگتے ہوئے آئے اور بتا یا کہ اُس کا بیٹا شفائ پا گیا ہے۔ سبق نمبر14 صفحہ نمبر6

اُنہوں نے یہ بھی بتا یاکہ یہ بالکل اُسی وقت ہُوا جب عیسیٰ مسیح نے اُسے کہا" تیرا بیٹا جیتا ہے" ۔

زیدی: آپ کو معلوم ہے، عیسیٰ مسیح نے کہا’’دنیا کا نور میں ہوں‘‘ اس کو مطلب ہے کہ عیسیٰ مسیح تا ریکی کو نور میں بدل دیتے ہیں اور پہلی بات جو اُن کی پیدائش کے وقت کہی گئی یہ تھی، ’’نور تا ریکی میں چمکا۔‘‘

ندیم: جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ عیسیٰ مسیح خُدا ہیں ۔اور وہ لا محدود ہیں۔

نائیلہ: لیکن اگرعیسیٰ مسیح خُدا ہیں تو جب وہ زمین پر تھے تو کائنات کو کون کنٹرول کر رہے تھے ۔ بے شک عیسیٰ مسیح خدا ہیں۔ مگر میں اس کی وضاحت چاہتی ہوں۔

ندیم: چلئے میں آپ سے سے ایک سوال پو چھتا ہوں ۔

نائیلہ: جی پوچھیں۔

ندیم: کیا آپ خیال کرتی ہیں کہ خُدا ہر جگہ موجود ہے۔

نائیلہ: کیوں نہیں۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ پھر وہ کِس طرح ایک ہی وقت میں ہر جگہ موجود ہو سکتا ہے۔ میرا مطلب ہے مثال کے طور پر وہ کِس طرح پاکستان میں ہند و ستان میں امریکہ میں اور زمین کی دوسری حدوں میں ایک ساتھ موجود ہو سکتا ہے۔

ناصر: ابووہ اس لئے کہ خدا بہت عظیم ہے۔ وہ ساری کائنات کو معمور کرتا ہے۔جِس کا ہم حصہ ہیں۔

ندیم: ناصر تم ٹھیک کہتے ہو۔ مگر تمہیں اور وضاحت کی ضرورت ہے۔

زیدی: آپ کا کیا مطلب ہے۔ خُدا ہر جگہ موجود ہے کیونکہ وہ حقیقت میں پوری کائنات سے بڑاہے۔

ندیم: صحیح لیکن جب آپ کہتے ہیں کہ وہ اتنا عظیم ہے کہ پوری کائنات کو معمور کر سکتا ہے۔ اِس کایہ مطلب نہیں کہ اُس کا کُچھ حصہ پاکستان میں موجود ہے اور کچھ حصہ امریکہ میں۔ ایسا ہر گز نہیں ہے۔

پروین: میں جانتی ہوں ندیم! آپ کا مطلب ہے کہ خُدا اپنی ساری معموری کے ساتھ ہر جگہ موجود ہے۔

ندیم: درست۔ اور اِس سے نائیلہ کے سوال کاجواب مِلتا ہے۔ کہ خُدا اپنی ساری معموری کے ساتھ عیسیٰ مسیح میں ہے اور ساری کائنات میں ہر جگہ موجود ہے۔

نائیلہ: تو یہ بات ہے ۔ میں نے ہمیشہ یہی سمجھا ہے کہ عیسیٰ مسیح خُدا ہے لیکن کبھی اِس طرح نہیں سمجھا۔

زیدی: یہ بات اُس بات کو واضح کر تی ہے جو عیسیٰ مسیح نے حضرت یوحنا کی انجیل اُس کے آٹھویں باب میں کہی، 58آیت میں ہم نے پڑھا ہے کہ عیسیٰ مسیح نے کہا،’’ اس سے پہلے کہ ابرہام تھا۔ میں ہوں۔‘‘

سبق نمبر14 صفحہ نمبر7

پروین: درست ۔ میںاس میں اضافہ کرنا چا ہتی ہوں ۔عیسیٰ مسیح کا مطلب تھا کہ میں خُدا ہوں۔ کیونکہ لفظ "میں ہوں" وہی ہے جو خُدانے حضرت موسیٰ سے بات کرتے ہوئے پرانے عہد نامے میں کہا۔

ندیم: جی پروین ۔ بالکل یہی ہیاور یہ وہ الفاظ ہیں جو خدا نے حضرت موسیٰ سے باتیں کرتے ہوئے کہے۔ خروج کی کتاب 3باب 14 آیت۔ میں لکھا ہے " میں جو ہوں سو ہوں"۔

شمیم: ایک سوال میرے ذہن میں آتا ہے۔ کیا ہمار اخُدا کھاتا پیتا یا سوتاتھا۔جب کہ عیسیٰ مسیح کھا تے پیتے اور سو تے بھی تھے۔

ندیم: شمیم یہ تو سادہ سی بات ہے عیسیٰ مسیح خُدا تھے ۔لیکن وہ مکمل انسان بھی تھے۔ وہ انسانی شکل میں ہماری مدد کے لیے آئے اور ہمارے لیے مثال بنے۔

زیدی: ندیم کیا آپ کا مطلب ہے کہ مسیح بیک وقت انسان اور خُدا تھے۔

ندیم: بالکل ۔اِس سے وضاحت ہوجاتی ہے کہ وہ انسانی عادات کیوں رکھتے تھے۔ مثلاََ سونا اور کھاناوغیرہ۔ اور اُسی وقت اُن میں خُدا کی قدرت بھی ظاہر ہوتی تھی۔

ناصر: اب میری سمجھ میں بات آ رہی ہے۔ اسی لئے بعض اوقات وہ انسان کی طرح بات کرتے تھے اور بعض اوقات اپنے آپ کو خدا کہتے تھے۔

نائیلہ: لیکن ہم یہ بھی تو کہتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح خدا کے بیٹے ہیں اور پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ خدا ہیں۔

ندیم: نائیلہ لفظ "ابن"کے بہت سے معانی ہیں۔ جسمانی بیٹا جِس کے معنی ہیں کہ افراد نرو مادہ شادی کرتے ہیں اور بچہ پیدا ہوتا ہے جو اُن کا بیٹا کہلا تا ہے۔ اور اِس طرح بنت کا رشتہ بنتا ہے۔

ناصر: یقیناََ یہ عیسیٰ مسیح کی بنت سے فرق ہے۔

ندیم: لازماََ خُدا سے عیسیٰ مسیح کی فرزندیت ایک روحانی فرزندیت ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ خُدا سے ایک ہے۔جب کہ وہ خود خداہے۔

زیدی: ہم یہ حضرت یوحنا کی معر فت لکھی گئی انجیل اُس کے 5باب کی18آیت میں دیکھ سکتے ہیں۔

شمیم: میں اِس آیت کو پڑھنا چاہتی ہوں۔

پروین: جی پڑھیے شمیم۔

﴿کتاب کھولنے کی آواز﴾

شمیم: لکھا ہے،اِس سبب سے یہودی اور بھی زیادہ اُسے قتل کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ وہ نہ صرف سبت کا حُکم توڑتا بلکہ خُدا کو اپنا سبق نمبر14 صفحہ نمبر8

خاص باپ کہہ کر اپنے آپ کو خُد ا کے برابر بتاتا تھا۔

پروین: اِس کامطلب ہے کہ جب عیسیٰ مسیح نے اُنہیں بتایا کہ خُدا اُن کا باپ ہے ۔ اُن کا مطلب خُدا کی فرزندیت سے یہ تھا کہ وہ اُس کے برابر ہیں۔ اور وہ حقیقی طو ر پر خُدا ہیں۔

نائیلہ: اچھا،تو۔ اب مُجھے یقین ہے کہ عیسیٰ مسیح خُد ا ہیں۔ اُن کی پیدائش ، معجزات، الفاظ اور زندگی اِس بات کو ثابت کرتے ہیں۔

ندیم: جی ہاں ۔اور پھر عیسیٰ مسیح وہ واحد شخص ہیں جو انسانوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ انہیں سجدہ کریںاور اُن کی عبادت کریں۔

زیدی: یقیناََ اگرچہ یہ لِکھا ہے کہ تو صرف خُداوند اپنے خُدا کو سجدہ کر اور صرف اُسی کی عبادت کر۔ عیسیٰ مسیح اِس حُکم پر زور دیا کرتے تھے۔ لیکن پھر بھی وہ دوسروں کااپنے آگے جھکنا اور اپنی عبادت کر واناقبول کرتے تھے۔

ناصر: ابو عیسیٰ مسیح کے آگے لوگوں کے جھکنے اور اُن کی عبادت کرنے کے بارے میں بائبل مقدس میں کہاں لکھا ہے۔

ندیم: ناصر بائبل مقدس میں کئی جگہوں پر اِس کاذِکر ہے۔ مثال کے طو ر پر اندھے آدمی کی شفائ کے معجزے میں ہم دیکھتے ہیں۔ وہ شفائ پانے کے بعدعیسیٰ مسیح کے سامنے کھڑے ہو کر یہ الفاظ کہتا ہے۔

نائیلہ: میں یہ آیت پڑ ھتی ہوں۔

نائیلہ: ﴿صفحے ﴾پھر اُس نے کہا ، خُداوندمیں ایمان لاتا ہوں اوراُس نے اُسے سجدہ کیا۔

ندیم: اِس کا مطلب ہے کہ عیسیٰ مسیح سجدہ قبول کرتے تھے۔ اور ماسوائے خُدا کے ہم کِسی کو سجدہ نہیں کرسکتے۔

پروین: یہ سچ ہے اور اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسیٰ مسیح خُدا ہیں۔ ورنہ وہ لوگوں سے سجدہ قبول نہ کرتے ۔

شمیم: اوہ۔عیسیٰ مسیح درحقیقت خُدا ہیں۔ وہ عظیم ترین خُدا ہیں۔ نہایت ہی لائق۔ ہر طرح کے سجدہ کے لائق۔

زیدی: ندیم بھائی ،ہمیں اپنی کسی ایک جماعت میں سجدے اور عبادت کے بارے میں بات کرنی چاہے ۔

ندیم: ضرور، کیوں نہیں۔لیکن اب ہماری عبادت کا وقت ختم ہو تا ہے ہماری اگلی عبادت آنے والے ہفتے اِسی جگہ اور اسی وقت ہوگی۔ آئیں،سب مل کر اِس بات کا اقرار کریں کہ عیسیٰ مسیح خدا ہے۔ آمین۔

سب: آمین۔