Hear Fellowship With My Family Episode 15 (Audio MP3)

View FWMF episode 15 as a PDF file

سبق نمبر15 صفحہ نمبر1

"جھکنا اور عبادت"

Music)﴾

نائیلہ: زیدی جلدی کرو ہمیں عبادت سے دیر ہورہی ہے۔

زیدی: ٹھیک ہے نائیلہ۔ میںتقریباََ تیار ہوں۔

نائیلہ: زیدی مُجھے جماعت سے پیا ر ہو گیا ہے ۔خا ص طور پر پچھلے ہفتے جب میں پہلی بار آپ کے ساتھ جماعت میں شریک ہوئی۔ آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ میں کیا محسوس کر رہی ہوں۔ ایسا لگتا ہے میں نے ایک خاندا ن میںجنم لیا ہے جو میرا اپنا خاندان ہے، میرے خونی رشتوں سے مختلف۔

زیدی: نائیلہ ،جو کچھ تم کہہ رہی ہو،یہ سن کر میں بہت خوش ہوں۔بہت عر صے سے میں اِس کے انتظار میں تھا ۔خدا کی تعریف ہو۔جماعت میںخاندانی ماحول جو آپ نے محسوس کیایہ ایک سچا احساس ہے۔عیسیٰ مسیح کے رسول حضرت پولوس افسیوں کی جماعت کے نام اپنے خط میں یوںکہتے ہیں ۔ ﴿افسیوں2باب﴾اب تم مسافر اور پردیسی نہیں رہے بلکہ خُدا کے لوگوں کے ہم وطن اور خُدا کے گھرانے کے فرد بن گئے ہو جِس کا مطلب ہے بطور جماعت ہم ایک گھرانے کے فرد ہیں۔ اور اِس گھرانے کاخُداوند ہمارا خُدا ہے۔

نائیلہ: بالکل ایساہی ہے۔ میں محسوس کرتی ہوں ۔ ہم ایک خاندان ہیں اور جیسا آپ نے کہا،اِس گھر کے مالک عیسیٰ مسیح ہیں۔﴿Pause﴾اے خدا!ہم اپنی جماعت اور اس میں شامل اپنے سارے بہن بھائیوں کیلئے تیرا شکر کرتے ہیں۔

زیدی: نائیلہ! آئو چلیں دیر ہورہی ہے۔

﴿ موسیقی کی آواز پھر ندیم اور پروین کے گھر پر﴾

پروین: ندیم ! میںبہت خوش ہوں۔ جماعت بڑھ رہی ہے۔ نائیلہ بھی اس میں شامل ہو گئی ہیں۔میں محسوس کر تی ہوں کہ جتنے بھی عزیز رشتے داروں کیلئے ہم نے دعائیں کی ہیں ۔خدا اُنہیں اِس جماعت میں شامل کرے گا۔

ندیم: ہاں پروین۔ میں آپ سے متفق ہوں اور مُجھے یقین ہے کہ اِس سال کے ا ٓخر تک ہماری جماعت اتنی بڑی ہو جائے گی کہ ہمیں اِسے دو گھر وں میں تقسیم کر نا پڑے گا۔

پروین: بہت خوب ، آپ کا ایما ن اتنا بڑا ہے۔

ندیم: پروین یہ محض ایمان کی بات نہیں بلکہ یہ تو بائبل مقد س کا وعدہ ہے کہ عیسیٰ مسیح کے امن اور حکومت کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔اور جیسے ہی وہ زیادہ لو گوں پر حکومت کریں گے۔ اُن کی حکومت بڑھے گی اور کلیسیا ئیں یعنی جماعتیں پیدا ہوں گی۔

سبق نمبر15 صفحہ نمبر2

ناصر: (coming)ابو جو بات آپ کر رہے ہیں۔میں نے بھی سن لی ہے۔ آپ کا یہی مطلب ہے نا، کہ عیسیٰ مسیح کی بادشاہت کے پھیلائو اور جو اِس بادشاہت میں شامل ہو رہے ہیں۔اُنہیں آرام اور راحت ملے گی۔

ندیم: ناصر بالکل صحیح ہے اور عیسیٰ مسیح کی جماعتیں جو اُس کی عبادت کرتی ہیں۔اُن میں یہ باتیں ضرور عمل میں لائی جائیں گی۔ سارا ٍ جلال اُس کو مِلے۔

پروین: میں اِس میں اضافہ کرنا چاہتی ہوں ۔جو آپ نے کہا اِس سے مُراد ہے کہ دِن بدن عیسیٰ مسیح کی عملی بادشاہت کی منادی میں اضافہ ہوگا۔ جب تک کہ وہ دِن نہیں آتا جس کے متعلق بائبل مقدس میں لکھا ہے۔عیسیٰ مسیح کے نام پر ہر گُٹنا جھکے گا"۔ اور آسمان پر اور زمین کے نیچے ہر زبان اقرار کریگی کہ عیسیٰ مسیح خُداوند ہیں۔

ندیم: پروین ،جب تک زیدی اور نائیلہ نہیں آتے ہم گفتگو جاری رکھتے ہیں۔

پروین: شمیم کہاں ہے؟

شمیم: (coming) باجی میں آرہی ہوں۔(Pause)جی تو کیا باتیں ہو رہی ہیں۔

ناصر: شمیم آنٹی آپ کے آنے سے پہلے امی ہمیں اُس آیت کے متعلق بتا رہی تھیں۔ جو کہتی ہے کہ ہر زبان اقرار کرے گی کہ عیسیٰ مسیح خُداوند ہیں اور ہرگُٹنا عیسیٰ مسیح کے آگے جھکے گا۔

ندیم: ہم حضرت یسعیاہ کی کتاب کے نویںباب کی اُس آیت کے بارے میںبھی بات کر رہے تھے جوکہتی ہے، اُس کی سلطنت اور امن کی انتہا نہ ہو گی اور اِس کا مطلب ہے کہ عیسیٰ مسیح کا راج دن بدن بڑ ھتا جائے گا۔ یعنی ہر روز عیسیٰ مسیح کی عبادت کرنے والوں کی تعدادمیں اضافہ ہو تا جائے گا۔ کیا آپ کو پتہ ہے اُس آیت کے آخر میں کیا لکھا ہے۔

شمیم: کیا لکھا ہے؟

ندیم: لکھا ہے کہ خُدا تعالیٰ کی غیوری یہ کر ے گی۔ مطلب ہوا کہ عیسیٰ مسیح کی حکومت اور سلطنت کی وسعت یقینی ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی غیوری یہ کرے گی ۔

﴿دروازے کی گھنٹی کی آواز﴾

پروین: یہ ضرور زیدی بھائی اور نائیلہ ہونگے۔

ناصر: میں دروازہ کھولتا ہوں۔(Pause)﴿دروازہ کُھلنے کی آواز﴾۔

زیدی انکل۔ خوش آمدید ۔ انٹی نائیلہ خوش آمدید۔ آئیں آئیں ۔اندر آئیں۔

زیدی/نائیلہ: شکر یہ ، مہربانی ﴿دروازہ بند ہوتا ہے﴾ (Coming)ہیلو، آپ سب کیسے ہیں۔

سبق نمبر15 صفحہ نمبر3

پروین: نائیلہ ٹھیک ہیں،آپ کیسی ہیں۔ہم آپ کی کمی محسوس کر رہے تھے۔

نائیلہ: شکر یہ پر وین، میرا بھی آپ سب کو ملنے کو بہت دل کر رہا تھا۔

ندیم: زیدی آپ کیسے ہیں۔یہ تو حسب ِ معمول اپنی باتوں میں لگ گئی ہیں۔

زیدی: میں ٹھیک ہوں۔شمیم آپ کا کیا حال ہے؟

شمیم: میں بھی ٹھیک ہوں۔ نائیلہ میں اس ہفتے میں آپ کو بہت یاد کر تی رہی ہوں۔ کیونکہ آپ اِس جماعت میں بالکل نئی ہیں

نائیلہ: شمیم ایسی بات نہیں ہے۔میں اپنے آپ کو نیا محسوس نہیں کر تی۔ میں تو زیدی سے بات کر رہی تھی کہ مجھے ایسا محسوس ہو تا ہے جیسے ہم ایک خاندان ہیں اور ہم رشتے داروں اور عزیزوں سے بھی زیادہ ایک دوسرے کے قریب ہیں۔

شمیم: ﴿مسکراتے ہوئے ﴾نائیلہ میں آپ سے اتفاق کرتی ہوں۔ میں بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہوں ۔ میں تو مذاق کر رہی تھی۔

ناصر: ﴿برتنوں کی آواز﴾یہ رہی چائے۔ مہربانی سے اپنی مدد آپ کریں۔اور یہ کچھ چاکلیٹ بسکٹ ہیں۔ مجھے پتہ ہے انٹی شمیم کو بہت پسند ہیں۔

شمیم: شکریہ ناصر۔

زیدی: ناصراکھٹے بیٹھنا، چائے پینا، یہ بھی بہت ضروری ہو تا ہے۔ اِس سے یہ احساس اور بھی گہرا ہو تا ہے کہ ہم ایک بدن اور ایک خاندان ہیں۔

پروین: زیدی بھائی، میں آپ سے اتفاق کرتی ہوں۔اور محسوس کر تی ہوں کہ ہم ایک بدن اور ایک خا ندان ہیں اور عیسیٰ مسیح ہمارا سر ہیں۔

ندیم: اور بائبل مقدس میں ہم اِس کا ذکر دیکھتے ہیں۔رسولوں کے اعمال اُس کے دوسرے باب کی چھیالیس آیت میں لکھا ہے۔’’اور ہر روز ایک دل ہو کر ہیکل میں جمع ہوا کرتے اور گھروں میں روٹی توڑ کر خوشی اور سادہ ِ دلی سے کھانا کھایا کرتے تھے۔

نائیلہ: جی ہاں،جماعت کی زندگی خوبصورت زندگی ہے۔ خداوند میں تیری شکر گزار ہوں۔ تو مجھے اپنے خاندان میں لے کر آیا۔

ندیم: زیدی بھائی۔ آپ کے آنے سے پہلے ہم بات کررہے تھے کہ ہر ایک گھٹنا عیسیٰ مسیح کے آگے جُکھے گا اور یہ ایسا ہو گا ۔ دِن بدن عیسیٰ مسیح کی عبادت کرنے والوں اور اُس کی بادشاہی کی منادی کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

زیدی: آپ تو پہلے ہی عبادت کے مضمون پر بات کر رہے ہیں۔ آپ کو یاد ہے کہ ہم نے اِس بات پر اتفاق کیا تھاکہ آج ہم عبادت کے مضمون پر بات چیت کر یں گے۔

ندیم: زیدی بھائی، سچی بات ہے ، ہمیں نہیں معلوم کہ کس طرح ہماری یہ گفتگو چل پڑی لیکن یہ ٹھیک ہے کہ وہی مضمون ہے جِس کے بارے میں خُداوند چاہتا ہے کہ ہم اُس سے سیکھیں۔ تو آئیے، ہم اپنی عبادت شروع کرتے ہیں اور جس طرح ہم نے پچھلے ہفتے سبق نمبر15 صفحہ نمبر4

اتفاق کیا تھا۔ آپ ہماری راہنمائی کریں۔

زیدی: شکر یہ ندیم، آئیں ہم خاموش ہو جائیں اور اپنا دھیان عیسیٰ مسیح کی طرف لگائیں تا کہ سارا جلال اُسی کو ملے۔جِس طرح مکاشفہ کی کتاب میں لِکھا ہے کہ وہ ساری قوت اور حکمت اور طاقت اور جلال کے لائق ہیں۔عیسیٰ مسیح عزت اور تمجید کے لائق ہیں۔ آئو ہم اکٹھے گائیں۔ "ہمارے خداوند خدا تو ہی تمجید ، عزت اور قدرت کے لائق ہے۔

تمام: گیت:۔﴿ہمارے خداوند ہمارے خدا﴾

ندیم: آمین ۔ آمین، بھائیو بہنو، آج کا مضمون ہے، جھکنا اور سجدہ کرنا۔

ناصر: ابو میں اِس کے بارے میں کچھ کہنا چا ہتا ہوں۔

ندیم: ہاں ناصر۔ کہو۔

ناصر: بائبل مقدس کی ایک ڈکشزی میں میں نے پڑھا کہ لفظ سجدہ کے معنی ہیں، جھکنا، گھٹنوں کے بل ہو نا یا زمین پر ماتھا ٹیک کر عزت اور احترام کا اظہار کر نا۔

شمیم: جی ہاں! سجدے کیلئے یہ نہایت عمدہ وضاحت ہے۔ ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح چاہتے ہیں کہ ہم زمین پر اپنا ماتھا ٹیک کر اُنہیں سجدہ کریں۔

نائیلہ: میرا خیال ہے کہ عیسیٰ مسیح کو سجدہ کر ناہمارے لئے بہت ضروری ہے۔ کیونکہ وہ ہمارے خالق ہیں اور ہم اُن کی مخلوق۔

پروین: نائیلہ بالکل ٹھیک۔ جب خداوند عیسیٰ مسیح اس زمین پر تھے۔ایک دن ایک جوان دولت مند آیا اور اُس نے اُنہیں سجدہ کیا۔عیسیٰ مسیح نے اُنہیں نہ روکا، بلکہ اُسے سجدہ کرنے دیا۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ عیسیٰ مسیح سجدہ قبول کر تے تھے۔

زیدی: جی، پروین بہن مجھے یاد ہے،جب عیسیٰ مسیح نے دس کوڑھیوں کو شفائ دی ایک بلند آواز سے خُدا کی حمد کرتا ہُوا واپس آیا۔ اور عیسیٰ مسیح کے قدموں پر اپنے منہ کے بل گرِ پڑا۔عیسیٰ مسیح نے کہا،"کیا دسوں شفائ نہیں پاگئے ؟ دوسرے لوگ کہاں ہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ عیسیٰ مسیح چاہتے تھے کہ دس کے دس واپس آتے اور اُنہیں سجد ہ کر کے خدا کے نام کو جلال دیتے۔

شمیم: یہ باتیں جان کر مجھے گہرا احساس ہو رہا ہے کہ سچ مچ عیسیٰ مسیح یہ چاہتے ہیں کہ ہم اُن کے قدموں میں اپنا سر رکھ کر اُنہیں سجدہ کریں۔

ندیم: حضرت یوحنا کی معر فت لکھی گئی انجیل اُس کے چوتھے باب میں عیسیٰ مسیح سامری عورت سے کہتے ہیں۔ وہ وقت آتا ہے۔ بلکہ اب ہی ہے کہ سچے پر ستار باپ کی پر ستش روح اور سچائی سے کریں گے کیو نکہ باپ اپنے لئے ایسے ہی پر ستار ڈھو نڈتا ہے۔

زیدی: ندیم بھائی ،پہلی بار مجھے احساس ہو اہے کہ خدا ایسے لو گوں کا متلاشی ہے۔جو اُس کی پر ستش کریں۔میں محسوس کر تا ہوں ،یہ بلاہٹ سبق نمبر15 صفحہ نمبر5

میرے لئے ہے۔

نائیلہ: زیدی میں بھی ایسا ہی محسوس کر تی ہوں۔ میںاپنی باقی زندگی عیسیٰ مسیح کی عبادت کرنے اور اُس کے حضور جھکنے میں گزارنا چاہتی ہوں۔

پروین: نائیلہ ،جوں ہی ہم عیسیٰ مسیح کے آگے جھکتے ہیں۔ ہم اِس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ وہ خدا ہیں اور جیسا ہم نے پچھلے ہفتے کہا، صرف خدا ہی سجدے کے لائق ہے۔

ناصر: امی بالکل ۔جس طرح جب شیطان نے عیسیٰ مسیح سے کہا کہ گرِ کر مجھے سجدہ کر ، تو عیسیٰ مسیح نے کہا، لکھا ہے، خداوند اپنے خدا ہی کو سجدہ کر اور صرف اُسی کی عبادت کر۔ اصل میں عیسیٰ مسیح کو سجدہ کرنا ایک اعلان ہے کہ یسوع مسیح خُدا ہے۔

ندیم: ناصر،واقعی شیطان چاہتاہے کہ مختلف طریقوں سے اُسے سجدہ کیا جائے ۔ مثال کے طور پر دانی ایل نبی کے صحیفے میں تیسرے باب میں، بنو کد نضر بادشاہ نے سونے کا ایک بڑا مجسمہ بنایا اور لوگوں کو حُکم دیا کہ جھکیں اور اُسے سجدہ کریں۔ اورجو کوئی ایسا کرنے سے انکار کرے گاآگ کی بھٹی میں ڈال دیا جائے گا۔ آپ کے خیال میں کون یہ چاہتا تھا کہ لوگ مجسمے کو سجدہ کریں ۔ شیطان یا بادشاہ؟

شمیم: یقیناََ شیطان۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ لوگ خُدا کی عبادت کریں۔

ندیم: شمیم بالکل صحیح ۔ اور ایسی صورت میں جو مجسمے کی پوجا کرتے ہیں دراصل شیطان کی پوجا کر رہے ہوتے ہیں۔اور اپنے اِس عمل سے وہ اس بات کا اعلان کر رہے ہو تے ہیں کہ مجسمہ خدا ہے۔

نائیلہ: یہ تو پرانے زمانے کی بات ہے کہ لوگ بت کے آگے جھکنے کیلئے تیار ہو گئے۔ کیا کوئی اِس زمانے میں بھی شیطان کی پوجا کر ے گا؟

پروین: شمیم خدا کے سوا کسی بھی چیز کے آگے جھکنا، اُس کی عبادت یا پو جا کر نا ہے۔اس لئے جو کوئی بھی خدا کے سوا کسی اور چیز مثلاًروپے پیسے یا خود غرض خواہشات کی پوجا کرتا ہے وہ شیطان کی پوجا کر تا ہے۔

ندیم: بالکل ،براہِ مہربانی آپ سب میرے پیچھے پیچھے کہیں۔ اے عیسیٰ مسیح ہم صرف آپ کی عبادت کر تے اور آپ کو سجدہ کر تے ہیں۔آمین۔

ناصر: ابو ، میں اِس میں تھوڑا اضافہ کر نا چا ہتا ہوں۔ عیسیٰ مسیح کو سجدہ کر نا نہ صرف اِس بات کا اعلان ہے کہ وہ خدا ہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ بادشاہ ہیں اور بادشاہوں کے بادشاہ ہیں۔

شمیم: بالکل ، اور ہماری پر ستش سے ظاہر ہو تا ہے کہ دراصل عیسیٰ مسیح خدا ہیں۔ اور ہم صرف اُسی کی عبادت کر تے ہیں۔

پروین: ندیم ،کیا ہم تھوڑی دیر کیلئے جماعتی طور پر عیسیٰ مسیح کے آگے جھک سکتے ہیں۔ آئیں ہم اس گھر میں اور اِس علاقے میں جہاں ہم رہتے ہیں اِس بات کا اعلان کر یں کہ عیسیٰ مسیح ہی خداوند ہیں۔

سبق نمبر15 صفحہ نمبر6

ندیم: آئو ہم، خداوند کے حضور جھکیں اور اپنی زبان سے اقرار کریں کہ عیسیٰ مسیح خداوند ہیں۔

زیدی: خُداوندعیسیٰ مسیح۔ میرے بھائی اور میں اعلان کرتا ہوں کہ صرف تُو ہی خُدا ہے ۔ تیر ے سامنے جھکتے ہیں۔ ہم تیری عبادت کرتے ہیں کیونکہ تو ہی اِس کے لائق ہے۔

پروین: اے عیسیٰ مسیح جب ہم تیری حضوری میں جھکتے ہیں۔ ہم اپنے گھر میں اور اِس سارے علاقے میںاعلان کرتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح خدا ہیں اور ساری پرستش اور تعریف کے لائق ہیں۔

نائیلہ: عیسیٰ مسیح ،جب میں تیری حضوری میں جھکی ہوئی ہوں ۔ میں اعتراف کرتی ہوںکہ صرف آپ خُداہیں جو ساری پرستش کے لائق ہیں ۔

ناصر: خُداوند عیسیٰ مسیح ہم سب اکٹھے آپ کے سامنے جھکے اِس بات کا، اعلان کرتے ہیں کہ صرف آپ ہی بادشاہ ہیں۔ بادشاہوں کا بادشاہ۔

شمیم: خُداوند عیسیٰ مسیح میںآپ کے سامنے جھکتی ہوں اور اعتراف کرتی ہوں کہ صرف آپ ہی خداوند ہیں۔

ندیم: بھائیو بہنو! تھوڑی دیر پہلے میں نے بتا یا کہ بنو کد نضر بادشاہ نے سونے کا ایک مجسمہ بنایا اور لوگوں کو اُس کے آگے گرِِ کر سجدہ کرنے کو کہا۔ اس واقعے میں ایک بہت اہم چیز نظر آتی ہے ۔ وہ یہ کہ یہ واقعہ اُس قوت کو ظاہر کر تا ہے جو خدا کو سجدہ کر نے اور شیطان کو سجدہ کر نے کے انکار کے نتیجے میں ہمیں ملتی ہے۔

شمیم: ندیم بھائی، میں سمجھی نہیں ۔ آپ کا اُس قوت سے کیا مطلب ہے جو شیطان کو سجدہ کرنے کے انکار کے نتیجے میں ملتی ہے۔

ندیم: شمیم ،یہ کہانی دانی ایل کی کتاب کے تیسرے باب میں مِلتی ہے۔ ، کیا آپ چوتھی آیت سے بارھویںآیت تک پڑھیں گی۔

شمیم: جی،﴿صفحوں کی آواز ﴾ لکھا ہے ۔تب ایک مناد نے بلند آواز سے پکار کر کہا۔ اے لوگو! اے اُمتو! اور اے مختلف زبانیں بولنے والو! تمہارے لیے یہ حُکم ہے کہ جِس وقت قرنا اور نے اورستار اور رباب اور بربط اور چغانہ اور ہر طرح کے ساز کی آواز سُنیں تو اُس سونے کی مورت کے سامنے جِس کو بنو کد نضر بادشاہ نے نصب کیا ہے، گِر کر سجدہ کرے۔ اور جوکوئی گِر کر سجدہ نہ کرے اُسی وقت آگ کی جلتی بھٹی میں ڈالا جائے گا۔ اِس لیے جِس وقت سب لوگوں نے قرنا اور نے اور ستا ر اور رباب او ر بربط اور چغانہ اور ہر طرح کے ساز کی آواز سُنی تو سب لوگوں نے اور مختلف زبانیں بولنے والوںنے اُس مورت کے سامنے جِس کوبنو کد نضر بادشاہ نے نصب کیا تھا ، گِر کر سجدہ کیا۔

ندیم: ہاں،لیکن بعض نے سونے کی مورتی کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ پس دوسرے لوگ بادشاہ کے پاس گئے اور اُسے بتایا ۔شمیم! کیا آپ مہربانی کر کے بارھویں آیت پڑھوگی۔

سبق نمبر15 صفحہ نمبر7

شمیم: جی،لکھا ہے اب چند یہودی ہیں جِن کو تُو نے بابل کے صوبہ کی کار پردازی پر معین کیا ہے یعنی سدرک اور میسک اورعبدنجو۔ اِن

آدمیوں نے اے بادشاہ تیری تعظیم نہیں کی ۔ وہ تیرے معبودوں کی عبادت نہیں کرتے اور اُس سونے کی مورت کو جِسے تُو نے نصب کیا سجدہ نہیںکرتے۔

ناصر: ابو،کیا یہ وہ ہیں جنہیں ہم تین جوان آدمی کہتے ہیں؟

ندیم: بالکل ٹھیک ناصر ۔ کیونکہ وہ سچ مچ جوان عمرکے تھے۔

ناصر: اوربادشاہ نے اُنہیں بھٹی میںپھینکنے کا حُکم دیا۔ اور جب وہ نہ ڈرے اور مورت کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تو بادشاہ نے بھٹی کو سات گنا معمول سے زیادہ گرم کرنے کا حُکم دیا۔ اور اپنے آدمیوںکواُنہیں اُس میں پھینکنے کا حُکم دیا۔اندازہ کریں آگ کے شعلوںنے اُن سپاہیوںکو مار دیا جنہوں نے سدرک ، میسک اور عبدنجو کو پھینکاکیونکہ بھٹی بہت گرم تھی۔ لیکن اِس سب کے باوجود وہ تین جوان آگ میں اِس طرح چل رہے تھے جیسے باغ میں ٹیل رہے ہوں اور اُن کی سب زنجیریں کٹ گئیں تھیں اور اُن کے کپڑوں میں کوئی بو نہ تھی۔

زیدی: اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ خُداوند عیسیٰ مسیح خود آئے اور آگ کی بھٹی میں چلنے لگے۔ یہاں تک کہ بادشاہ نے کہا ، میں بھٹی میں تین آدمیوںکو نہیں چار کو دیکھتا ہوں۔

شمیم: ندیم بھائی، میری سمجھ مین ابھی تک کچھ نہیں آیا۔ یہ شیطان کو سجدہ کر نے سے انکار کر نے والی طاقت کیا ہے۔کیا آپ کا مطلب عیسیٰ مسیح سے ہے کہ اُنہوں نے عیسیٰ مسیح کو دیکھا؟

ندیم: جی ہاں! جِس تجربے سے وہ تین جوان گُزرے، عظیم تجربہ ہے۔ وہ جانتے تک نہ تھے کہ اُن کے ساتھ ایسا معجزہ ہو گا۔ لیکن وہاں بڑی عظیم قوت نازل ہو ئی جس نے ساری بادشاہت کو تبدیل کر دیا۔

ناصر: ابو یہ کیسی قوت تھی۔

ندیم: ہاں ناصر،اُس حقیقی قوت نے بادشاہ کے تمام لوگوں اور وہاں کی قوموں کوہلا کر رکھ دیا۔اور وہ اپنے منہ سے اعتراف کرنے پر مجبو ر ہوگئے کہ سدرک، میسک اور عبدنجو کا خُدا حقیقی زندہ خُدا ہے۔ اُن جوانوںکے، مجسمے کو سجدہ کرنے کے انکار نے اُس بادشاہت میں حقیقی اعلان کر دیا کہ خُداوند، خُدا ہے نہ کہ مجسمہ۔ پس اِس طرح شیطان کی بادشاہت کو شکست ہوئی۔ جیسے ہی اُن جوانوں نے خُدا کو سجدہ کیا اور اُس کے سامنے جھکے اُنہوںنے ساری بادشاہت اور قوموں اور سلطنتوں کو خدا کی طرف راغب کر نے اور اُسے سجدہ کرنے کیلئے مائل کر دیا۔ اور ثابت کر دیا کہ خدا کو سجدہ کر نے میں عظیم قوت ہے۔

ناصر: ابو مُجھے یاد آیا جو میں نے ایک کتاب میں پڑھاتھا۔ ’’ کہ جھکنے والے گھٹنے ، حملہ آور فوجیوں سے زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں۔ ‘‘

سبق نمبر15 صفحہ نمبر8

شمیم: توکیا بادشاہ اور سب لوگوں نے اعتراف کیا کہ سدرک، میسک اور عبدنجو کا خُدا حقیقی خُدا ہے۔

ندیم: ہاں شمیم! آپ دانی ایل نبی کی کتاب اُس کے تیسرے باب کی 24سے29آیت پڑھ کر دیکھ لیں۔

شمیم: ٹھیک ہے۔﴿ورق اُلٹنے کی آواز﴾ تب نبوکدنضر بادشاہ سراسیمہ ہو کر جلد اُٹھا اور ارکانِ دولت سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔کیا ہم نے تین شخصوںکو بندھوا کر آگ میں نہیں ڈلوایا؟ اُنہوںنے جوابدیا کہ بادشاہ نے سچ فرمایا ہے ۔اُس نے کہا دیکھو میں چار شخص آگ میں کھلے پھرتے دیکھتا ہوںاور اُن کو کُچھ ضرر نہیں پہنچا ۔ اورچوتھے کی صورت الہٰ زادہ کی سی ہے۔ تب نبو کد نضر نے آگ کی جلتی بھٹی کے دروازہ پر آکر کہا، اے سدرک اور میسک اور عبدنجو، خُدا تعالیٰ کے بندو! باہر نکلواور اِدھر آئو۔ پس سدرک اور

میسک اور عبدنجو آگ سے نکل آئے۔

ندیم: کیا آپ نے دیکھا کہ خود بادشاہ اِنہیں پکارتا ہے کہ خُدا تعالیٰ کے بندو۔ نائیلہ، آپ اٹھا ئیسیویںآیت سے پڑھیں۔

نائیلہ: ٹھیک ہے۔لکھا ہے ،پس نبو کد نضر نے پکار کر کہا کہ سدرک اور میسک اور عبدنجو کا خُدا مبارک ہو۔جِس نے اپنا فرشتہ بھیج کر اپنے بندوں کو رہائی بخشی جنہوںنے اُس پر توکل کر کے بادشاہ کے حُکم کو ٹال دیا اور اپنے بدنوں کونثار کیا کہ اپنے خُدا کے سوا کِسی دوسرے معبود کی عبادت اور بندگی نہ کریں۔ اِس لیے میںیہ فرمان جاری کرتا ہوں کہ جو قوم یا اُمت یا اہلِ لغت سدر ک اور میسک اور عبدنجو کے خُد ا کے حق میں کوئی نامناسب بات کرے اُن کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں گے اور اُن کے گھر مزبلہ ہو جائیں گے۔ کیونکہ کوئی دوسرا معبود نہیں جو اِس طرح رہائی دے سکے۔

ندیم: خدا کی حمد ہو۔ میں چا ہتا ہوں کہ ہماری زندگیاں خدا کی حقیقی محبت سے بھر جائیں ۔ جب ہم ایسا کر یں گے تو،خدا ہماری عبادت اور بندگی سے بادشاہت کو پھیلانے کیلئے عظیم حرکت میں آئے گا۔ آئیں ہم اپنی آج کی عبادت کو عیسیٰ مسیح کے نام کو جلال دیتے ہوئے ختم کر یں۔

تمام: آمین۔