Hear Fellowship With My Family Episode 16 (Audio MP3)

View FWMF episode 16 as a PDF file

سبق نمبر16 صفحہ نمبر1

"یسوع کی پیروی کرنا "

﴿ایک ٹیپ سے گیت۔ اے میرے رب جب حیرت میں میں دیکھتا۔ پھر پرندوں کے چہچہانے کی آواز﴾

نائیلہ: ﴿پکار کر﴾زیدی ، زیدی

زیدی: ﴿اندر سے آواز آ رہی ہے﴾۔ نائیلہ کیا بات ہے؟

نائیلہ: با ہرآئیں۔یہ خو بصورت نظارہ دیکھیں۔

زیدی: ﴿پرندوں کی آوازیں﴾ ۔ کِیا با ت ہے ،کتنا خوبصورت منظر ہے۔۔

نائیلہ: آسمان کو دیکھو ۔ دیکھو پر ندے کس طرح اُڑ رہے ہیں۔

زیدی: واہ، خوبصورت ۔

نائیلہ: دیکھو ،وہ اکٹھے انگریزی حرف"V" کی شکل میں اُڑ رہے ہیں۔

زیدی: سب سے آگے اُن کا لیڈر لگتا ہے۔

نائیلہ: زیدی دیکھو دو پر ندے اُس درخت کی طرف جا رہے ہیں۔

زیدی: تھک گئے ہوں گے۔

نائیلہ: وہ اُن کے ساتھ چلے کیوں تھے۔

زیدی: اُنہیں پتہ نہیں تھا کہ تھک جائیں گے۔جب وہ تھک گئے اور اُنہیں آرام کر نے کی جگہ مل گئی وہ رک گئے۔

نائیلہ: کیسی بات ہے۔

زیدی: نائیلہ اِس منظر نے مُجھے عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کی یاد دِلادی ہے۔

نائیلہ: پیچھے چلنا یعنی پیروی کرنا ۔

زیدی: ہاں!اور ہماری جماعت کا آج کا مضمون بھی یہی ہے۔عیسیٰ مسیح کی پیروی کرنا۔ ندیم بھائی نے مجھے مضمون تیار کر نے کو کہا تھا۔ نائیلہ: ٹھیک ہے زیدی۔میرے پاس کچھ کھانے پینے کی چیزیں ہیں وہ بھی ساتھ لے لیتے ہیں۔

زیدی: اچھی بات ہے لے لو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔Music TEA Pots۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیدی: پروین بہن چائے کے لئے شکریہ۔

پروین: زیدی بھائی ، آپ کا تشریف لانے کے لئے شکریہ۔

سبق نمبر16 صفحہ نمبر2

ندیم: اور نائیلہ بہن،اتنی ساری کھانے پینے کی چیزیں آپ لے کر آئی ہیں شکریہ۔

ناصر : مٹھائی بہت اچھی تھی۔

شمیم: ناصر تم تو کھانے پینے کے چکر میں ہی رہتے ہو۔﴿قہقہیہ﴾

نائیلہ: ﴿مسکراتے ہوئے﴾ شکریہ۔

ندیم: تو آئیں، آج کی عبادت شروع کریں۔پروین ! عبادت میں ہماری رہنمائی کریں گی۔

پروین: ہم اپنی عبادت اِس گیت سے شروع کریںگے۔جس میں بتایا گیا ہے عیسٰی مسیح کے نام میں قدرت پائی جاتی ہے جو نا ممکنات کا خدا ہے۔ شروع کریں۔

تمام: گاتے ہوئے۔ ﴿گیت: یسوع نام میں قدرت﴾

پروین: جی ہاں!عیسیٰ مسیح کے لئے کچھ بھی ناممکن نہیں۔ کل ناصر کو سخت بخار تھا۔

شمیم: کیونکہ ہم اپنی ایک عبادت میں روحانی شفا پر بات چیت کر چکے ہیں ۔اس لئے ندیم بھائی اور میں اس کے پلنگ کے نزدیک بیٹھے اِس کیلئے دعا کر رہے تھے کہ اے عیسیٰ میسح ،ناصر کو شفا دے۔

ناصر: امی میں کُچھ کہنا چا ہتا ہوں۔

پروین: جی ناصر۔

ناصر: جب عام طور پر مُجھے ایسا بخار ہوتا ہے میں پانچ دِن سے کم بستر پر نہیں رہتا۔ لیکن کل جب آپ نے میرے لئے دعا کی۔مجھے فوراً نیند آگئی۔ صبح جب میں اٹھا، بدن میں نہ بخار تھا اور نہ درد۔

نائیلہ: خُدا کا شکر ہو۔عیسیٰ مسیح سچ مچ تمام بیماریوں سے شفائ دے سکتے ہیں۔

پروین: سچ مچ! اور یہ بات ہم دل سے کہتے ہیں۔یہ محض کہا نیا ں یا من گھڑت قصے نہیں جو ماضی میں ہوئے اور اب نہیں ہوتے۔ہمارا خدا آج اور کل بلکہ ابد تک یکساں ہے۔آئیں !ہم پھرسے گائیں ۔یسوع نام میں قدرت پائی جاتی ہے۔

تمام: گاتے ہوئے۔﴿گیت :یسوع نام میںقدرت﴾

پروین: آمین۔

ندیم: آمین۔ خُداوند کی حمد ہو۔ آج ہم جس مضمون پر بات کر یں گے۔ زیدی صاحب نے تیار کیا ہے۔جی زیدی صاحب شروع کریں۔

زیدی: شکر یہ ندیم ،یہ مضمون بہت ضروری ہے اور اس پر ہم نے پہلے بات نہیں کی۔ مضمون ہے، عیسیٰ مسیح کی پیروی۔ تقر یباً دو گھنٹے پہلے سبق نمبر16 صفحہ نمبر3

میں نے اور نائیلہ نے پر ندوں کے ایک گروہ کو اکھٹے اڑتے دیکھا۔ وہ اپنے لیڈر کی راہنمائی میں اُڑ رہے تھے۔ پھر اچانک اُن میں سے دو پرندے دوسری طرف چلے گئے اور ایک درخت پر بیٹھ گئے۔ شاید تھک گئے تھے۔ ہم بھی جب عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنا شروع کر تے ہیں ۔ تھک جاتے ہیں۔اور پھر رِک جاتے ہیں میں چاہتا ہوں کہ ہم آج اپنے اپنے کاموں کا جائز ہ لیں ۔ جب ہم ٍٍ خُداوند عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہم جانیں کہ کِس طرح اُن کے پیچھے چلنا ہے۔آئیں خداوند سے دعا کریں کہ وہ ہمیں سکھائیں کہ کس طرح ہمیں اُن کی پیروی کر نی ہے۔

شمیم: آئیں ہم دعا کر یں۔خُداوند آج ہم سے بول۔ اپنے کلام کو سُننے کے لے ہمارے دِلوںکو کھول۔ اور ہمیں سِکھا کہ کس طرح اپنے پورے دِل سے تیرے پیچھے چلیں۔ آمین۔

زیدی: اے خُداوندمیں دُعا کرتا ہوں کہ جب میں آج کا موضوع پیش کروں۔ تو مجھے خاص فضل دے۔ خُداوند تُو جانتا ہے مُجھے تیری کتنی ضرورت ہے۔ خداوند مُجھ سے اور اس جماعت سے کلام کر۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔ آمین۔ بھائیوبہنو!پہلی بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کے دو پہلو ہیں۔ پہلا اُس کی شخصیت کے پیچھے چلنا ہے۔ اور دوسرااُس کی بادشاہت کی پیروی کرنا ہے۔آئیںپہلے اُس کی شخصیت کی پیروی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ہم حضرت متی رسول کی معرفت لکھی گئی انجیل اُس کے چوتھے باب کی پندرھویں آیت پڑھیں گے۔شمیم آپ پڑھئے۔

شمیم: ﴿ورق اُلٹنے کی آواز﴾ یسوع نے گلیل کی جھیل کے کنارے چلتے ہوئے دو بھائیوں شمعون پطرس اور اُس کے بھائی اندریاس کو دیکھا۔ جو گلیل میں جال ڈال رہے تھے۔ کیونکہ وہ ماہی گیر تھے۔ اوراُس نے اُن سے کہا، "میرے پیچھے چلو اور میں تمہیں آدم گیر بنائوں گا"۔وہ فوراََ اپنے جالوں کو چھوڑ کر اُس کے پیچھے ہو لئے۔

زیدی: شمیم۔ شکریہ۔ کیا آپ نے غور کیا ہے کہ اِس کہانی میں تمام کرداروں میں مشترک بات کیا ہے؟

پروین: زیدی بھائی ،اُن سبوں نے ہر چیز چھوڑدی اور خُداوند عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے لگے۔ سار ا جلال اُسی کو مِلے۔

زیدی: پروین بہن۔ بالکل ٹھیک۔ یہاں عیسیٰ مسیح نے اپنے شاگردوں کو یہ کہتے ہوئے بُلایا، "میرے پیچھے چلو" جِس کا مطلب ہے

میر ے پیچھے آئو۔ وہ انہیں پیچھے چلنے کو بُلاتے ہیں، اپنی شخصیت کے پیچھے۔ اور شاگرد اپنا سب کچھ چھوڑ کر ان کے پیچھے ہولئے۔عیسیٰ مسیح ہم سے بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہم اُن کی پوری پیروی کریں۔جونہی اُن کی بُلاہٹ کو سُنیں ہر چیز پیچھے چھوڑ

دیں ۔میں سوچتا ہوںکیا ہم سچ مچ ایسا کرتے ہیں یا ابھی کُچھ چیزیں ہیں جنہیں ہم پکڑے ہوئے ہیں ۔

شمیم: زیدی بھائی!آپ کااِس سے کیا مطلب ہے کہ ہم کُچھ چیزیںپکڑے ہوئے ہیں۔

زیدی: میرا مطلب ہے کہ عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے والے کچھ لوگوں نے اپنے پہلے سے مقرر کیے ہوئے وقار،منصوبوں اور کاموں کو تھام رکھا سبق نمبر16 صفحہ نمبر4

ہے اور کہتے ہیں۔اے عیسیٰ مسیح ہم ان چیزوں کو ساتھ لے کر تیرے پیچھے چلیں گے۔ ہم انہیں چھوڑ نہیں سکتے ۔

نائیلہ: زیدی وہ اُس دولت مند جوان کی طرح ہیں جو عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے آیا لیکن خُداوند نے اُس سے کہا،"جا اور جو کُچھ تیرا ہے بیچ ٍ دے اورمیرے پیچھے ہو لے۔ اور بائبل مقدس فرماتی ہے ،وہ جوان آدمی مایوس ہو کر چلا گیا۔ وہ عیسیٰ مسیح کے پیچھے تو چلنا چاہتا تھا لیکن اپنی دولت چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اور جب اُس نے محسوس کیا کہ عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کے لیے اُسے اِسے چھوڑنا ہے ، وہ چلا گیا ۔

زیدی: بالکل ٹھیک نائیلہ۔ اِس جوان آدمی کے لئے دولت نہایت قیمتی چیز تھی۔ وہ دولت کا غلام تھا کیونکہ وہ اِسے چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ اوردولت کی محبت ایک دیوتا ہے جو انسانوں کو جکڑ لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ مسیح نے اُسے جو کُچھ اُس کے پاس تھابیچ دینے کو کہا۔ وہ ایک ہی وقت میں عیسیٰ مسیح اور دولت کی پیروی نہیں کر سکتاتھا۔ وہ عیسیٰ مسیح سے نہیں کہہ سکتاتھا"تُو میرا خُداوند اور خُدا

ہے ۔"

ناصر: جب میںعیسیٰ مسیح کے پیچھے چل رہاہوں تو کیا دولت رکھنا غلط بات ہے۔ یا اپنے منصوبے رکھنا غلط ہے۔

ندیم: نہیں ناصر! ہمارا یہ مطلب نہیں۔ لیکن جب یہ چیزیںہمیں خُداوند سے دور لے جاناچاہیںیا ہمارے دماغ اور خیالات پر قابض ہونا چاہیں اورہم اِس حد تک چلے جائیں کہ ہم عیسیٰ مسیح کی خاطر اِسے چھوڑ نہ سکیں پھر ہمیں سب کُچھ چھوڑنا ہے ۔ جوان امیر آدمی اپنی دولت کو نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ اِس کے برعکس جب عیسیٰ مسیح نے حضرت متی کو بلایا اُس نے ویسا ہی کیا جیسا عیسیٰ مسیح نے کہا۔ اگرچہ وہ محصول لینے والا تھا اور اُس کے پاس بہت دولت تھی۔ اُس نے عیسیٰ مسیح کی پیروی کیلئے پیچھے مُڑے بغیر ہر چیز چھوڑ دی۔ اس سے ثابت ہو تا کہ عیسیٰ مسیح اُس کے لئے سب سے زیادہ قیمتی تھے۔

زیدی: پس سب سے پہلے عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنا ہے۔جو کچھ بھی میرے پاس ہے۔ عیسیی مسیح کی شخصیت سے بڑھ کر نہیں۔

ناصر: انکل، میں نے خُداوند کی طرف سے محسوس کیا ہے کہ بہت سی چیزیں میرلئے بہت قیمتی ہیں۔ اور میرے وقت پر قابض ہیں اور میں اُن سے خلاصی نہیں پاسکتا۔ لیکن آج میں مکمل طور پر اِنہیں چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہوں۔

زیدی: ناصر۔ خُداوند کی حمد ہو۔اب بھائیو بہنو! عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے میں دوسری بات یہ ہے، کہ اُس کے پیچھے ہماراچلنا غیرمشروط ہو۔ میرا مطلب ہے کہ اُس کے پیچھے چلنے کے لئے ہمیں کُچھ پابندیاں نہیں رکھنی چاہیں۔جیسے اِس کہانی میں، جو حضرت لوقا کی معرفت انجیل اُس کے نویں باب کی ستاون سے باسٹھ آیت میں درج ہے ۔نائیلہ پہلی دو آیات پڑھ دیں۔

نائیلہ: ﴿ورقوں کے پلٹنے کی آواز﴾ ۔ جب وہ راہ میںچلتے جاتے تھے تو کِسی نے اُس سے کہا ۔ جہاںکہیں تُو جائے میں تیرے ساتھ چلونگا۔ یسوع نے اُس سے کہا لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر ابنِ آدم کے لئے سر دھرنے کی سبق نمبر16 صفحہ نمبر5

بھی جگہ نہیں۔

زیدی: اُس نوجوان کی جِس نے عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کو کہا، آپ کے خیال میں کیا حالت تھی؟

شمیم: خُداوندعیسیٰ مسیح دِلوں کو جانتے ہیں اور اُنہوں نے ہمیں وہ شرط دِکھائی جو عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کے لئے اُس نو جوان نے رکھی۔

ناصر: انٹی شمیم وہ شرط کیا ہے۔میری سمجھ میں نہیں آرہی۔۔

شمیم: وہ عیسیٰ مسیح کے جواب میں نظر آتی ہے ،"لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہواکے پرندوں کے گھونسلے "۔ جِس کا مطلب ہے کہ آرام کے لئے اُن کے گھرہوتے ہیں جبکہ خُداوند کے پاس خود اپنا سر دھرنے کی جگہ نہ تھی۔یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیںکہ جوان آدمی سونے ، آرام کرنے اور کھانے پینے کے لئے عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنا چاہتا تھا۔ اُس کی یہ حالت تھی۔

زیدی: شمیم۔ بالکل ٹھیک ۔ بہت سے لوگ خُداوند سے یقین دلانے کو کہتے ہیں وہ کہاں سوئیںگے یا جائیں گے۔ یا کیسے چلیںگے۔ ہم یونہی تیرے پیچھے نہیں آ سکتے۔یہ بات با لکل ا ِس کے الٹ ہے جو حضرت پطرس رسول نے اُس وقت کہی جب اُنہوں نے سب کچھ چھوڑ کر عیسٰی مسیح کے پیچھے چلنے کا فصیلہ کر لیا۔

پروین: کیا میں کُچھ اضافہ کرسکتی ہوں؟

زیدی: پروین بہن کیوں نہیں۔۔

پروین: خُدا ہمارے باپ حضرت ابراہم سے ہم کلام ہُوا ،"اپنے ملک اور اپنے ناطے داروں کو چھوڑ اور اُس ملک میں جا جو میں تجھے دِکھائونگا"۔ اُنہوں نے فوراََ مان لیا اور نہ پوچھاکہ وہ کہاںجارہے ہیں اور اُنہیں کیا کرنا ہے۔

زیدی: بالکل ٹھیک ۔ آئیں دیکھیں کہ عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کیلئے دوسرے آدمی کی کیاحالت تھی۔ ناصر! مہربانی کر کے آیت نمبر60اور 61پڑھیں۔

ناصر: پھر اُس نے دوسرے سے کہا، "میر ے پیچھے ہو لے"۔لیکن اُس نے کہا ۔ خُداوند پہلے مُجھے جانے دے کہ اپنے باپ کو دفن کروں۔ یسوع نے اُس سے کہا،مُردوں کو اپنے مُردے دفن کرنے دے مگر تُو جا اور خُدا کی بادشاہی کی منادی کر۔

زیدی: اِن آیات سے آپ کے خیال میں اُس آدمی کی کیا شرط تھی؟

ندیم: اُس آدمی نے دوسرے کام کرنے تھے اور اُس کی شرط دوسرے کاموں کو ختم کرنے کی تھی اور بعد میںعیسیٰ مسیح کی پیروی کرناتھا۔

نائیلہ: ندیم بھائی، دوسرے کاموں سے آپ کا کیامطلب ہے۔ کیا اِس آدمی کو جا کر اپنے باپ کو دفن نہیںکرنا تھا۔

ندیم: بہرحال۔ یہاں ایک نکتہ ہے جِس کے بارے میں ہمیں محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔ا ِس آدمی کا باپ اُس وقت مرا نہیں تھا کیونکہ اگر وہ مرا ہوتا تو اُس وقت وہ عیسیٰ مسیح کے پاس کھڑا نہ ہوتا بلکہ جنازے میں ہوتا۔

سبق نمبر16 صفحہ نمبر6

نائیلہ: پھر جو آیتیں ہم نے پڑھی ہیں اُن کا کیا مطلب ہے؟

ندیم: یہ کہنے سے اُس کا مطلب یہ تھا۔خداوند جب تک میرا باپ زندہ ہے کچھ اور سال اُس کے ساتھ گزار کر تیرے پیچھے ہو لوں گا۔

پروین: بالکل میری طرح جس طرح میں کہتی تھی کہ ناصر کی شادی کے بعد عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلوں گی۔ جب میں کہتی ہوں ناصرکی شادی کے بعد ۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ناصر کل شادی کر رہا ہے۔ بلکہ میرا مطلب ہے کہ ناصرکی کالج میںپڑھائی کے بعد وہ کام شروع کرے گا ، دلہن ڈھونڈے گا ۔ پھر فلیٹ تلاش کرے گا اور پھر شادی کرے گا۔

زیدی: دوستو! آپ صحیح کہتے ہیں۔اِس آدمی نے عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کے لئے ایک شرط رکھی تھی ۔اُس کی شرط تھی اُن تمام کاموںکو ختم کرنا جو اُس کے دماغ میں تھے اور پھر وہ یسوع کے پیچھے چلے گا۔

نائیلہ: لیکن ایسے لوگ کبھی خداوندکے پیچھے نہیں چلتے ۔وہ ایک کامیابی حاصل کر نے کے بعد دوسری کا میابی حاصل کر نے میں لگ جاتے ہیں اور عیسیٰ مسیح کے پیچھے نہیں چل پاتے۔

زیدی: بالکل درست عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کے لئے ہمیںکاموںکو ختم کرنے کی شرط نہیں رکھنی چاہیے۔ ہمیں فوراََ اُس کے پیچھے چل پڑنا چاہیے۔اب کون پڑھے گا کہ تیسرے آدمی کی کیا شرط ہے۔

ند یم: زیدی صاحب میں پڑھتاہوں۔

زیدی: جی ندیم صاحب۔

ندیم: ایک اور نے بھی کہا، "اے خُداوند میں تیرے پیچھے چلونگا لیکن پہلے مجھے اجازت دے کہ اپنے گھر والوں سے رخصت ہو آئوں "۔ یسوع نے اُس سے کہا، "جو کوئی ہل پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دیکھتا ہے و ہ خُدا کی بادشاہت کے لائق نہیں"۔

زیدی: آپ کے خیال میں تیسرے آدمی کی کیا شرط تھی؟

پروین: کُچھ لوگ اُس کے لیے خُداوند سے زیادہ اہم تھے ۔ وہ اُن سے اتنا جذباتی لگائو رکھتا تھا کہ وہ انہیں چھوڑ نہیں سکتا تھا۔ بعض اوقات خداوند کی بہ نسبت ہمارا لگائو ہمارے خاندان والوں کے ساتھ مثلاََ خاوند ، بیٹے، ماں یا باپ سے زیادہ ہوتا ہے۔اور یہ لگائو عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کیلئے ایک شرط بن جاتا ہے۔

زیدی: پروین بہن بالکل ٹھیک ۔ جیسے ہم خُداوند کے پیچھے چلتے ہیں۔ خداوند فرماتے ہیں۔" جوکوئی مُجھ سے زیادہ اپنے ماںباپ سے محبت کرتا ہے وہ میرے لائق نہیں"۔اس لئے خاندان ، دوستوں ، خاوند یا بیوی سے میری محبت، خُداوند سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے ورنہ یہ اُن سے دور لے جائے گی۔

ندیم: عیسیٰ مسیح نے اُس سے یہ بھی کہا ، جو آدمی ہل پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دیکھتا ہے وہ خُدا کی بادشاہی کے لائق نہیں"۔ یہ بات مُجھے اُس سبق نمبر16 صفحہ نمبر7

بات کی یاد دِلاتی ہے جوحضرت لوط کی بیوی کے ساتھ ہُوا۔ اورآپ کو یاد ہوگا جب وہ شہر چھو ڑ کر بھاگ رہے تھے تو فر شتے نے اُن سے کہا،پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا ۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اُنہوں نے پیچھے دیکھا تو اُن کے دل میں پھر سے شہر کیلئے محبت پیدا ہو جائے گی ۔ اور وہ واپس مڑیں گے اور مر جائیں گے۔ لوط کی بیوی کے ساتھ ایسا ہی ہُوا۔ جب اُس نے پیچھے دیکھا تو فوراََ نمک کا ستون بن گئی۔

زیدی: ۔ اِس کامطلب ہے کہ ہمیں عیسیٰ مسیح کی پیروی پر نظریں گاڑنااور ماضی کوبھولنا ہے۔

نائیلہ: زیدی۔ ماضی سے آپ کا کیا مطلب ہے؟

زیدی : میرا مطلب ہے کہ جب ہم عیسیٰ مسیح کے پیچھے چل رہے ہوتے ہیں اور اُن کی خاطر بہت سی چیزیں چھوڑ دیتے ہیں ۔ ہمیںاُن چیزوں کونہیں دیکھنا چاہیے جن کے ساتھ ہمارا جذ باتی یا خاندانی لگائو ہو تا ہے ۔ جی توہم نے اپنی عبادت کے شروع میں کہا کہ عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کے دو رُخ ہیں ۔ کِسے یاد ہے کہ وہ کیا ہیں۔

ناصر اور شمیم: مُجھے یاد ہے زیدی صاحب۔

زیدی: ٹھیک ہے۔ ناصر ایک آپ بتائیں اور دوسری شمیم آپ۔

ناصر: پہلا رُخ اُس کی شخصیت کے پیچھے جانا ہے ۔

شمیم: اوردوسرا ،اُس کی بادشاہت اور اُس کے اصولوں کی پیروی کرناہے۔

زیدی: شاباش۔ جِس طرح عیسیٰ مسیح نے ہمیں ااُن کی اپنی شخصیت کی پیروی کرنے کو کہا۔ہمیں اُن کی بادشاہت کی پیروی بھی کرنی چاہئے۔خیر یہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں کہ گھر جا کر اِس مضمون پر سوچیں۔اس آیت کو بھی اپنے سامنے رکھیں۔ "پہلے خُدا کی بادشاہت اوراُس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ ساری چیزیں بھی تمہیں مِل جائیںگی۔

نائیلہ: میراخیال ہے خُداوند چاہتا ہے ہم دونوںکام کریں۔ اپنے دِل سے اُن کی شخصیت کی پیروی کریں اور پورے دِل سے اُن کی بادشاہت پھیلانے کیلئے کام کریں۔

ندیم: نائیلہ آپ بالکل صحیح کہتی ہیں۔میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری عبادت اگلے ہفتے پھر اس وقت اور اِسی جگہ پر ہوگی۔ عیسیٰ مسیح آپ کو برکت بخشے۔آمین۔

سب: آمین۔