Hear Fellowship With My Family Episode 17 (Audio MP3)

View FWMF episode 17 as a PDF file

سبق نمبر17 صفحہ نمبر1

" یوسف کا کردار"

﴿دروازے کی گھنٹی﴾

پروین: ﴿پکار کر﴾آرہی ہوں۔ ﴿دروازے کے کھُلنے کی آواز﴾ ہیلو ناصر۔

ناصر: ہیلو امی

پروین: ہیلو ناصر امتحان کیسا رہا؟

ناصر: امی جی بہت اچھا۔ ہیلو ابو!آپ کیسے ہیں؟

ندیم: میں ٹھیک ہوں۔پیپر کیسے ہوئے ناصر۔

ناصر: ابو بہت اچھے۔ ایک امتحان میں پاس ہو گیاہوں۔

پروین: ایک امتحان ،کیا مطلب ،کیا آج کوئی اور امتحان بھی تھا؟

ناصر: امتحان نہیں، بس ایک ٹیسٹ تھا جو خاصہ مشکل تھا۔

پروین: پھر تم نے کیا کِیا؟

ناصر: صاف بتا ئوں؟ میں نے نقل کرنے کی کوشش کی جب میں شیطان کی آزمائش میں پڑنے وا لا تھا ۔ خُد ا نے مُجھے حضرت یوسف کے بارے میں یاد دِلایاکہ وہ فو طیفار کی بیوی سے بدی کر سکتے تھے۔ اُنہیں کوئی بھی نہیں دیکھ رہا تھا۔ مگر اُنہوں نے خدا کا گناہ کر نے کی بہ نسبت جیل جانے کو تر جیح دی۔ میں نے بھی فصیلہ کیا کہ میں نقل کر کے خدا کا گناہ کرنے کی بہ نسبت فیل ہو نے کو تر جیح دوں گا۔

ندیم: شاباش۔ ناصر! تم نے شیطان کو شکست دی ہے ۔کیونکہ تمہارے پاس نقل کرکے پاس ہونے کا موقع تھا لیکن تم نے خُدا کو ناراض کرنے سے انکار کیاہے۔

ناصر: ابو۔ خُدا عجیب اور وفادار ہے۔ اُس نے مُجھے فیل نہیں ہونے دیا۔ آخری دس منٹوںمیں خُداوند نے مُجھے اُس سوال کا جواب یاد دِلادیا اور میں اُن چند طالب علموں میں سے ایک تھا جنہوں نے وہ ٹیسٹ پاس کیا ہے۔

پروین: خُدا کی تعریف ہو۔ ناصر ابھی کل ہی تو تم نے خدا کے خوف کے بارے میں پڑھا تھا اور آج مشکل وقت میں خدا کا خوف تم پر ظاہر ہوا۔

ندیم: خدا کا شکر ہے۔ جائو اب جا کر کپڑے تبدیل کر لو۔ عبادت کا وقت ہو نے والا ہے ۔

ناصر: ٹھیک ہے ابو۔

﴿دروازے کی گھنٹی بجتی ہے﴾

سبق نمبر17 صفحہ نمبر2

ندیم: پروین مہربانی کر کے دروازہ کھولو۔

پروین: میں جاتی ہوں۔﴿دروازہ کھلنے کی آواز﴾آئیے !خوش آمدیدزیدی بھائی ،خوش آمدید نائیلہ۔

زیدی: پروین بہن کیسی ہیں آپ۔

پروین: میں ٹھیک ہوں بھائی۔

زیدی: اور ندیم بھائی آپ کیسے ہیں۔

ندیم: میں بھی ٹھیک ہوں۔

زیدی: شمیم بہن آپ کا کیا حال ہے۔

شمیم: میں ٹھیک ہوں شکر یہ۔

ناصر: خدا کا شکر ہو۔ میں بھی بالکل ٹھیک ہوں۔

زیدی: ناصر آپ

ناصر: خدا کا شکر ہو۔ میں بھی بالکل ٹھیک ہوں۔

ندیم: بھائیو بہنو! آئیے عبادت شروع کریں۔ اور جیسے ہمار ادستور ہے اپنے خُداوند کی ستائش کرتے ہوئے آج کی عبادت شروع کریں گے۔ستائش اور عبادت میں ہماری راہنمائی شمیم کریں گی ۔جی شمیم۔

شمیم: آئیں اپنی آنکھیں بند کریں اور روحِ پاک سے کہیںکہ آج کی عبادت پر حُکمرانی کرے۔ اے عیسیٰ مسیح آج ہماری آنکھیں کھول دیجئے تاکہ ہم آپ کو دیکھ سکیں۔اپنے لئے ہمیں بھوک پیاس بخش دیں۔ ہم چاہتے ہیں آج آپ کو دیکھیں اور روح اور سچائی سے آپ کی عبادت کریں۔ہم ساراجلال اور عزت ہمیشہ کے لئے آپ کو دیتے ہیں۔ آمین۔

تمام : آمین۔

شمیم: آ ئیںہم مل کر وہ گیت گائیں ’’تو میری خوشی ہے۔‘‘ناصر پلیز ہا ر مونیم بجائیں۔

ناصر: ٹھیک ہے آنٹی

گیت:۔﴿تو میری خوشی ہے﴾

شمیم: آمین۔

ندیم: آمین۔آپ کو یاد ہے نا۔پچھلے ہفتے ہم نے اتفاق کیا تھا کہ آج ہم حضرت یوسف کے کردار کا مطالعہ کریں گے۔

زیدی: بالکل ہمیں یاد ہے۔

سبق نمبر17 صفحہ نمبر3

ناصر: ابو میرے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ میں مطالعہ کر سکوں۔ میں نے کل ہی اِسے تھوڑا پڑھا ہے۔

ندیم: ناصر میں سمجھتا ہوں امتحانوں کی وجہ سے آپ پر کافی دبائو ہے۔لیکن آپ کو ہر روز کچھ نہ کچھ وقت ضرور نکا لنا چاہئے کیونکہ شیطان کی سازش ہے کہ وہ ہمیں امتحانوں اور دوسرے کاموں میں مصروف رکھے۔

ناصر: ابو آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ شیطان نے اِس بار مجھے چکمہ دیا ہے۔ آیندہ میں ایسے نہیں ہو نے دوں گا۔

ندیم: آمین ۔آئیں اب حضرت یوسف کے بارے گفتگو کرتے ہیں۔ کون ہمیں اُن کے بارے میں مختصر بتائے گا؟

نائیلہ: ندیم بھائی! میں بتائوں گی۔

ندیم: نائیلہ بہن شروع کریں۔

نائیلہ: حضرت یوسف،ابنِ حضرت یقعوب،ابنِ حضرت اسحاق اور ابنِ حضرت ابراہم تھے۔اُن کی ماں کا نام بی بی راخل تھا جنہیں حضرت یقعوب بہت چاہتے تھے۔ حضرت یوسف کا باپ اُنہیں دوسرے بھائیوں سے زیادہ پیار کرتے تھے۔ اِس لئے اُن کے بھائی اُن سے حسد کر تے تھے۔ ہم پیدائش کی کتاب اُس کے 39 باب کی دوسری آیت میں اُن کی زندگی کو مخصتر طور پر دیکھتے ہیں۔ خدا حضرت یوسف کے ساتھ تھا۔اور وہ بہت خوشحال تھے۔ تیسری آیت میں لکھا ہے۔ خدا اُن کے ہاتھ کے کام میں برکت دیتا تھا۔جب ہم اُن کی زندگی کا مطالعہ کریں گے۔ہم دیکھیں گے کہ یہ آیت کس طرح اُن پر لاگو ہوتی ہے اور وہ کس طرح خوشحال تھے۔

ندیم: نائیلہ بہن، اِس عمدہ تعارف کے لئے شکریہ۔ اب آئیں ہم اُن مختلف اسباق کے بارے میں بات چیت کریں جو حضرت یوسف کی زندگی سے ہم سیکھتے ہیں۔پہلا سبق کون بیان کرئے گا۔

زیدی: ندیم بھائی!میں کرتا ہوں۔

ندیم: جی زیدی بھائی۔

زیدی: پہلا سبق جو ہم حضرت یوسف کی زندگی سے سیکھتے ہیں وہ محبت اور معافی ہے۔ اگر ہم اُسے دیکھیں جو اُن کے بھائیوںنے اُن کے ساتھ کیا۔ اور پھر کِس طرح حضرت یوسف نے اُن کے ساتھ ویسا برتائو نہ کیا ۔ جیسا اُنہوں نے کیا تھا۔ تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ حضرت یوسف بہت رحیم اور معاف کرنے والے تھے۔ ایک دِن وہ اپنے بھائیوں کے لئے کھانا لے جا رہے تھے جہا ں وہ مویشیوں کو چرا رہے تھے۔ وہ راستہ بھول گئے اور اُس وقت تک اُنہیں ڈھونڈ تے رہے جب تک وہ مل نہ گئے ۔ لیکن شکر گزار ہونے کی بجائے اُنہوں نے اُنہیں ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا۔ کیونکہ اُن کے دِلوںمیں اُن کے لیے نفرت تھی۔ اُنہوںنے کھانا لے لیا مگرحضرت یوسف کوکنویں میں ڈال دیا۔ بالآخر اُنہوںنے اُنہیں غلام کی طرح بیچنے کا فیصلہ کیا۔اورپھر بہت ہی تھوڑی

سبق نمبر17 صفحہ نمبر4

قیمت پر اُنہیں بیچ دیا۔دن گزرتے گئے ، حضرت یوسف مصر میں ایک بڑے آدمی بن گئے ۔پھر سارے مُلک میں قحط پڑ گیا۔ حضرت یوسف کے بھائی مصر کے حکمران کے پاس خوراک حاصل کرنے آئے جو اُس وقت حضرت یوسف تھے۔لیکن بھائی نہ جانتے تھے ۔وہ انہیں خوراک دینے سے انکار کر سکتے تھے۔ اوروہ قحط سے مرجاتے۔لیکن چونکہ اُن کا دِل رحم سے بھرا تھا۔ اُنہوں نے شیطان کو نفرت کا بیچ نہ بونے دیا۔ اُنہوں نے اُنہیں خوش آمدید کہا اور انہیں بڑی محبت دِکھائی۔

ندیم: زیدی صاحب آپ نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔ اگر ہم حضرت یوسف کی جگہ ہوتے تو اُن سے بدلہ لینے کی بابت سو چتے ۔آئیں ہم پیدائش کی کتاب اُس کے 45باب کی4آیت پڑھیں ۔جہاں ہم دیکھتے ہیں، حضرت یوسف جب اپنے بھائیوں سے ملے۔ اُنہیں کیا جواب دیا۔شمیم پلیز آپ پڑھیں۔

شمیم: ٹھیک ہے۔ ﴿ ورق اُلٹنے کی آواز﴾اور یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا، ذرا نزدیک آ جائو اور وہ نزدیک آئے۔ تب اُس نے کہا مےَںتمہارا بھائی یوسف ہوں۔ جِس کو تم نے بیچ کر مصر پہنچو ایا۔ فکر نہ کرواور نہ اپنے اپنے دل میں پر یشان ہو کیونکہ خدا نے جانوں کو بچانے کے لئے مجھے تم سے آگے بھیجا۔

ندیم: جی ہاں اور پھر اُنہوں نے فرعو ن سے کہا کہ وہ مصر میں اُن کے ساتھ رہیں گے اور فرعون نے جواب دیا۔ وہ اپنی پسند کی کِسی جگہ پر رہ سکتے ہیں ۔ پچاسویں باب میں لکھا ہے ، یوسف نے اپنے بھائیوںاور اُن کے بچوں کی نگہداشت کی۔

پروین: ندیم میں چاہوں گی کہ ہم حضرت یوسف اور اُن کے بھائیوں میں موازنہ کریں۔حضرت یوسف نے شیطا ن کو اجازت نہ دی کہ وہ اُن کے بھائیوں کے لئے اُن کے دِل میں نفرت پیدا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جو کُچھ اُنہوںنے اُن کے ساتھ کیا۔ اِس کے باوجود اُنہوں نے اُن سے محبت کی۔ لیکن اُن کے بھائیوں نے نفرت کے بیج کو اپنے دِلوں میں بڑھنے دیا ۔ یہاں تک کہ نفرت نے اُن کے دلوں پر قبضہ کر لیا۔اور اُنہوں نے حضرت یو سف کو قتل کر ڈالنے کا منصوبہ بنایا۔جو میں کہنا چاہتی ہوں یہ ہے کہ اگر میں نفرت کے چھوٹے سے احساس کو اپنی زندگی میں داخل ہونے دوں، تووہ دشمنی میںتبد یل ہو جاتا ہے اور پھر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتا ہے۔

ندیم: اِس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو اچھی طرح جانچیں کیونکہ ممکن ہے کہ نفرت کا یہ بیج جانے بغیر بو دیا گیا ہو۔لہذا پہلا سبق جو ہم حضرت یو سف کی زندگی سے سیکھتے ہیں ۔معافی ہے۔جسے ہم بُرا سمجھتے ہیں ،اُس سے نفرت کرتے ہیں۔اُس سے بھی ہمیں محبت کر نا ہے۔ اب کو ن ہمیں اُس دوسرے سبق کے بارے میں بتائے گا جو ہم حضرت یوسف کی زندگی سے سیکھتے ہیں۔

شمیم: میںبتائوں گی۔

ندیم: جی شمیم شروع کرو۔

سبق نمبر17 صفحہ نمبر5

شمیم: میں نے دیکھا کہ حضرت یوسف کی زندگی کِسی قسم کی شکایت سے مُبرا تھی۔ بلکہ اُن کی زندگی سے ہمیشہ اطاعت اور فرمانبرداری ظاہر ہوتی تھی۔ باوجود اِس کے کہ اُن کے بھائی اُن سے بُرا سلوک کرتے تھے۔ اور اُنہیں غلام کے طور پر بیچ دیا۔ اُنہوں نے نہ ہی خُدا سے شکایت کی اور نہ ہی دوسروں کے ساتھ اُن کا رویہ تبدیل ہُوا۔ ایک اور موقعے پر جب اُنہوں نے فو طیفار کی بیوی سے بدی کرنے سے انکار کر دیا۔ اُنہیں قید میں ڈال دیا گیا۔ یہ قید خدا کو خوش کر نے کے لئے اُن کے لئے ایک انعام تھا۔ بائبل مقدس ذِکر نہیں کرتی کہ حضرت یوسف نے کبھی شکایت کی۔ اُن کی کہانی پڑھتے ہوئے میں توقع کرتی تھی کہ حضرت یوسف کہیں گے ،" کیا خُداوند راستی سے چلنے کا یہی انعام ہے؟

ندیم: شمیم تم ٹھیک کہتی ہو۔ یہ ایک خوبصورت سوچ ہے۔ چار سال پہلے مُجھ سے بھی ناانصافی ہو ئی۔ میں کِسی عمارتی منصوبے کی نگرانی کر رہاتھا ۔ مجھے پتہ چلا کہ سیمنٹ جو استعمال کیاجا رہا ہے وہ نہ تھا جِس پر اتفاق کیا گیا تھا۔ جب میں نے فورمین کو بتایا کہ میں انتظامیہ کو بتائوں گا ۔ اس نے مُجھے خاموش رکھنے کے لئے ایک بہت بڑی رقم کی پیشکش کی۔میں نے انکار کر دیا۔ اگلے دِن جب میں انتظامیہ کے پاس جا رہا تھا تو مینیجنگ ڈائریکٹر نے مُجھے حیران کر دیا ۔اُس نے مجھے بتا یا کہ میری انکو ائری ہو رہی ہے اُس انکوائری میں فورمین کو نہیں بلکہ مُجھے مجرم ٹھہرایا گیا ۔ مُجھے بہت دُکھ ہُوا ۔ میںنے خداوند سے کہا،"کیا یہ میرا انعام ہے؟میں دو دِن بہت افسردہ رہا ۔ نہ کھانا کھا سکتا تھا اور نہ دعا کر سکتا تھا ۔ پھر پروین نے مجھے یہ کہتے ہوئے تسلی دی کہ اِس میںضرور خدا کا اچھا مقصد ہے۔اگرچہ یقین کر نا مشکل تھا میں نے خداوند پر بھروسہ اور اُس کا شکر کرنا شروع کر دیا۔ایک ہفتے کے بعد ڈائریکٹر نے مُجھے بُلایااور کہا کہ اِنہیں پتہ چل گیاہے کہ میں بے گناہ ہوں۔اُنہوں نے مُجھے ترقی دی۔ اور میری تنخواہ اتنی بڑھا دی کہ میںخواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا۔ خُداوند نے حالات کو میرے فائدے کے لیے استعمال کیا۔

تمام: بہت خوب۔ خُداوند کی تعریف ہو۔

ناصر: ابو میں کُچھ کہنا چاہتا ہوں۔

ندیم: کہو ناصر۔

ناصر: جب حضرت یوسف فرعون کے سامنے کھڑے ہوتے تھے وہ ہمیشہ خُدا کے بارے باتیں کرتے تھے۔ پیدائش کی کتاب اُس کے 41باب، کی15اور 16آیت میں فرعون حضرت یو سف سے کہتا ہے۔ میں نے سُنا ہے کہ تُوخوابوں کی تعبیر کرتا ہے۔ حضرت یوسف نے جوابدیا۔ "یہ مُجھ میں نہیں۔ خُدا فرعون کو اطمینان کا جواب دے گا۔ اور آیت نمبر25میں وہ اُس سے کہتے ہیں ،"خُدا نے فرعون کو دِکھایا ہے کہ وہ کیا کرنے ولاہے"۔ اور آیت نمبر28میں لکھا ہے "جو خُدا کرنے ولاہے خُدا نے فرعون کو دِکھایا ہے " بعض اوقات ہم ایسے حالات میں ہوتے ہیں جن میں خُدا ہمیں ایک عجیب طور پر استعمال کرتا ہے۔پھر ہم اپنے آپ میں شیخی مارنا سبق نمبر17 صفحہ نمبر6

شروع کردیتے ہیں۔ یا خُدا کا ذِکر کرنا یا اُسے جلال دینا بھول جاتے ہیں۔ لیکن چونکہ حضرت یوسف کی زندگی عبادت اور خُدا کی

تعظیم سے بھری ہوئی تھی ۔ اور اِس قدرقدرتی تھی کہ اُن کے الفاظ خُدا کی حمایت کی گواہی دیتے تھے۔

زیدی: بالکل ٹھیک ناصر ۔ درحقیقت ہم بہت شیخی مارتے ہیں اور ساری عزت خود لینا چاہتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ساری چیزوں کا عطا کر نے والا خود خداوند ہے۔

شمیم: میں بھی کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی شمیم کہئے۔

شمیم: میںنے دیکھا ہے کہ حضرت یوسف اپنی زندگی کے تمام حالات میں ہمیشہ خُدا پر بھروسہ کرتے تھے ۔ وہ خود اپنی مرضی سے کام کرنے کی کوشش نہیںکرتے تھے۔ کیونکہ اُنہیں یقین تھا کہ یہ بے فائدہ ہو گا۔ مثال کے طو ر پر جب ناانصافی سے اُنہیں قید کر دیا گیا تو اُنہوں نے جیل کے داروغہ کی محبت کا فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہ کی۔اور جیل سے نہ بھاگے۔ بلکہ خُدا کی وفاداری میںخُدا کی نجات کی توقع کے ساتھ انتظار کرتے رہے ۔

ندیم: بالکل درست شمیم! اور پھر پیدائش کی کتاب اُس کے چالیسویں باب میں ذکر ملتا ہے۔ "جب تُو خوشحال ہو جائے تو مُجھے یاد کرنا اور ذرا مُجھ سے مہربانی سے پیش آنا اور فرعون سے میرا ذکرکرنا اور مُجھے اِس گھر سے چھڑانا ۔ وہ بادشاہ کے ساقی سے کہہ رہے تھے کہ اُسے اُن کے بارے میں بتائے اوراُنہیں جیل سے چھڑائے لیکن ساقی دو سال تک بھولا رہا جب تک خُدا نے اُسے ایک دِن یاد نہ دِلایا۔ یہاں میں چاہتا ہو ں کہ آدمی پر اور خُدا پر بھروسہ کرنے کا موازنہ کیا جائے۔ حضرت یوسف نے ساقی سے کہا کہ اُسے یاد کرے۔ اور ساقی نے ایسا کرنے کا وعدہ کیا لیکن بدقسمتی سے وہ بھول گیا۔ دِن ہفتے مہینے اور سال گزر گئے۔ اور حضرت یوسف کو اُس آدمی نے بالکل بھلا دیا۔ لیکن خُدا نہ بھولا۔ خُدا نے صحیح وقت پر مسئلے کا حل نکا لا ۔ خُدا اور انسان پر انحصار کرنے میں یہ فرق ہے۔ اگر ہم خُدا پر انحصار کریں۔ ہم زیادہ مضبوط اور مستحکم ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر انسانوں پر انحصار کریں تو ہم کمزور ہو جاتے اور تھک جاتے ہیں۔

زیدی: یہ ہے وہ بات جو حضرت دائود زبور62کی 5اور 6آیت میں کرتے ہیں۔"اے میری جان ! خُدا ہی کی آس رکھ۔ کیونکہ اُسی سے مُجھے اُمید ہے۔وہی اکیلا میری چٹا ن ہے اور میری نجات ہے۔ وہی میرا اونچا بُرج ہے مُجھے جنبش نہ ہو گی۔

ندیم: دراصل سب سے اہم چیز جو ہمیں سیکھنی چاہیے وہ خُدا پر انحصار ہے۔ ہمیں اُس کی نجات کا انتظار کرنا اور اُس کے آگے بھاگنا نہیںچاہیے۔ ورنہ ہم مصیبت میں پڑیں گے اور تھک جائیں گے۔حضرت یوسف نے جیل میں دو سال انتظار کیا۔ جب تک خُدا نے صحیح وقت پر اپنی نجات کا بندوبست نہ کیا۔ وہ بہت پہلے بھی آزاد ہو سکتے تھے۔ اور دوسروں کی طرح عام شہری بن سکتے تھے۔

سبق نمبر17 صفحہ نمبر7

لیکن وہ صحیح وقت پر قید سے باہر آئے۔ اور اعلیٰ عہدے پر فائز ہُوئے اور اُنہوں نے پوری قوم کو موت سے بچالیا۔

نائیلہ: خوب ۔ میں کِسی کمپنی میں کام کرنے کو بیتا ب ہوں۔ اِس لیے میںنے اپنی دوست سے اُس کے مینجر سے بات کرنے کو کہاہے ، ابھی اُس نے مُجھے جواب نہیں دیا۔ آج میںخُداوند سے دُعا کرنا اور صرف اُسی پر بھروسہ کرنا شروع کر دوں گی۔

ندیم: آ مین۔ نائیلہ بہن وہ اپنے ارادے کے مطابق آپ کے دِل کی خواہش پوری کرے گا۔ کیا کوئی اور کُچھ کہنا چاہتا ہے۔

نائیلہ: میں اُس فضل اور بخشش کے متعلق سوچتی ہوں جو خدا نے فوطیفار اور فرعون کی نگاہ میں حضرت یوسف کو دی۔ میں پیدائش کی کتاب اُس کے 39 باب کی 3سے 6آیت پڑ ھنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی پڑھیے۔

نائیلہ: اور اُس کے آقا نے دیکھا کہ خُداوند اُس کے ساتھ ہے اور جِس کام کو وہ ہاتھ لگاتا ہے خُداوند اُس میں اُسے اقبال مندکرتا ہے۔ چنانچہ یوسف اُس کی نظر میں مقبول ٹھہرا اور وہی اُس کی خِدمت کرتا تھا اور اُس نے اُسے اپنے گھر کا مختار بنا کر اپنا سب کُچھ اُسے سونپ دیا اور جب اُس نے اُس گھر کا اور سارے مال کا مختار بنا یا تو خُداوند نے اُس مصری کے گھر میں یوسف کی خاطر برکت بخشی اور اُس کی سب چیزوں پر جو گھر پر اور کھیت میں تھیں خُداوند کی برکت ہونے لگی۔اور اُس نے اپنا سب کُچھ یوسف کے ہاتھ میں چھوڑ دیا اور سوا روٹی کے جِسے وہ کھا لیتا تھا اُسے اپنی کِسی چیز کاہوش نہ تھااور یوسف خوبصورت اور حسین تھا۔

زیدی: نائیلہ کیا آپ جانتی ہیں کہ میں اِس بات پر حیران نہیںہوں۔کیونکہ جب میں قریب سے حضرت یوسف کی زندگی کو دیکھتا ہوں اور خُدا کے ساتھ اِس طرح راستی سے چلتے دیکھتا ہوں ۔وہ جو خدا کے ساتھ رہتا ہے اور اُسے اپنی زندگی میں حکمرانی کرنے دیتا ہوں، قدرتی طور پر توقع کرتا ہے کہ خُدا اُس کی زندگی کو برکت دے نہ صرف اُس کی اپنی زندگی بلکہ ہر چیز پر جہاں وہ رہتا ہے ۔ فوطیفار اور فرعون کے گھرانوں کی طرح برکت دے۔

ندیم: آمین۔ پہلا سبق جو ہم حضرت یوسف کی زندگی سے سیکھتے ہیںیہ ہے کہ ہمیں جو ہمارے ساتھ بُرا سلوک کر تے ہیں محبت کر نی چاہئے اور اُنہیں معاف کر نا چاہئے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ ہمیں نفرت کے بیجوں کو اپنے اندر بڑھنے نہیں دینا چاہئے ورنہ یہ انتقام کے عمل میں تبدیل ہو تے ہیں۔ایک اور چیز جو ہمیں خداوند کو دینی چاہیے وہ یہ ہے کہ حالات کی شکایت کئے بغیر جِس کا ہمیں سامنا ہے ۔ہمیں خُداوند کو جلال دینا چاہیے ۔جب کبھی وہ بڑے کاموںکے لئے ہمیں استعمال کرتا ہے۔ ہمیں اُس پر فخر کر نا چاہئے اور سارا جلال خدا کو دینا چاہئے۔

نائیلہ: ندیم بھائی ،آپ ایک بات بھول گئے ہیں۔

ندیم : وہ کیا ہے؟

سبق نمبر17 صفحہ نمبر8

نائیلہ: ہمیں انسانوں پر انحصا ر نہیں کر نا چاہئے بلکہ پورے طور پر خدا پر انحصارکر نا چاہئے ۔

ندیم: نائیلہ بہن، آپ نے ٹھیک کہا ہے۔آئیں ،جو کچھ ہم نے آج سیکھا ہے۔ اس کے لئے خدا کا شکر یہ ادا کریں۔ اُس سے منت

کر یں کہ وہ ہمیں اِس پر عمل کر نے کی تو فیق عطا فرمائے۔

پروین: خُداوند ۔ میں ہر چیز کے لیے جو آج ہم نے تُجھ سے حاصل کی تیری تعریف کرتی ہوں۔ میں حضرت یوسف کے لئے اور اُن سب کرداروں کے لئے جِن کا بائبل میں ذِکر ہے جو ہمارے لیے مثال ہیں، تیرا شکر کرتی ہوں۔ اے خُداوند مدد کر کہ جوکچھ ہم نے سیکھا ہے اپنی روزمرہ زندگی میں اُس پر عمل کریں ۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔ آمین۔

نائیلہ: خُداوند ہر چیز کیلئے جو اس جماعت میں ہم سیکھتے ہیں میں تیرا شکر کرتی ہوں ۔ مُجھے اے خداوند سکھا کہ تُجھ پر انحصار کروں۔ صرف تُجھ پر اورانسانوں پر تو کل نہ کروں۔ سارا جلال تُجھے مِلے۔ آمین۔

ندیم: آمین۔﴿خاموشی﴾ کیا کوئی اور کُچھ کہناچاہتا ہے۔ ﴿خاموشی﴾ کُچھ نہیں۔ ہماری اگلی عبادت ہمارے گھر میں اِسی وقت ہوگی ۔

نائیلہ: ندیم بھائی ، کیا خیال ہے۔ اگلی عبادت ہمارے گھر نہ کریں؟

زیدی: ندیم بھائی،میری بھی خواہش ہے ۔

ندیم: لوگو! آپ کا کیا خیال ہے۔آپ سب کیا کہتے ہیں۔

تمام: بہت خوب۔ ہم متفق ہیں۔ ﴿تائید کے مختلف اظہار﴾

ندیم: آمین۔ توپھر ہماری اگلی عبادت زیدی بھائی کے گھرمیں ہوگی۔ اِسی وقت ۔خدا وند آپ کے ساتھ ہو۔

تمام: آمین۔