Hear Fellowship With My Family Episode 18 (Audio MP3)

View FWMF episode 18 as a PDF file

سبق نمبر18 صفحہ نمبر1

"خُدا سے ڈرنا"

﴿گیت:۔ دل میں میرے آمسیحا﴾

نائیلہ: زیدی۔ زیدی

زیدی: نائیلہ آرہا ہوں ۔ دو منٹ نظر نہ آئوں تو پر یشان ہو جاتی ہو۔﴿Pause﴾ جی فرمائیں۔

نائیلہ: زیدی پر یشان نہیں، میںبہت خوش ہوں۔ عیسیٰ مسیح نے ہمیںاپنے لئے چُن لیا ہے ۔ میں اُن سے کس قدردور تھی۔ اُنہیں جاننا میرے لیے ناممکن تھا۔ میں بہت تھکی ہوئی تھی اور تاریکی میں رہ رہی تھی۔ اب میں خُداوند کا بہت شکر کرنا چاہتی ہوں زیدی میں آپ کی محبت کے لئے عیسیٰ مسیح کا شکر کرنا چاہتی ہوں ۔ مُجھے یقین ہے کہ خُدا نے آپ کی دُعائوں کے جواب میں میرے دل ودماغ کو روشن کر دیا ہے۔

زیدی: شکر یہ نائیلہ۔ میںبھی بہت خوش ہوں۔ میں خوش ہوں کہ ہمارے بھائی بہن آج ہمارے گھر آ رہے ہیں۔وہ بہت عرصے سے ہمارے گھر کے لئے دُعا کرتے رہے ہیں ۔ آپ کے لیے اور میرے لیے۔ آج ہمارے گھر میںیہ دوسری کلیسیائی عبادت ہوگی۔

نائیلہ: خداوند ہم تیرا شکر کرتے ہیں ۔

زیدی: خُداوند ہمارے گھر کو برکت دے۔ جو کوئی ہمارے گھر میں آئے ،آپ کے بارے میں جانے اور آپ سے محبت کرے۔عیسیٰ مسیح کے نام میں آمین ۔

نائیلہ: آمین﴿دروازے کی گھنٹی﴾

زیدی: نائیلہ، میں دیکھتا ہوں ۔ اتنی دیر میں آپ چائے وائے لے آئیں۔

﴿دروازہ کھلتا ہے﴾ خوش آمدید، آئیے آئیے اندر آئیے۔

ندیم: شکر یہ زیدی بھائی ﴿دروازہ بند﴾۔

زیدی: ندیم بھائی آپ کیسے ہیں۔

ندیم: میں ٹھیک ہوں۔

زیدی: پروین بہن آپ۔

پروین: بھائی میں بھی ٹھیک ہوں۔

زیدی: شمیم آپ اور ناصر آپ۔

شمیم،ناصر: جی ٹھیک ہوں۔شکریہ۔

زیدی: تشریف رکھیں۔ آج عظیم دِن ہے کیونکہ ہمارے گھر میں جماعت آئی ہے۔

سبق نمبر18 صفحہ نمبر2

ناصر: انکل زیدی۔ مُجھے یاد ہے کہ ہم ایک بار آپ سے مِلنے آئے اورنائیلہ آنٹی گھر پر نہیں تھیں۔یہ اُس وقت کی بات ہے جب آپ بیمارتھے۔ اور ہم نے یہاں عبادت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

زیدی: جی جی، مجھے یاد ہے۔

نائیلہ: ہیلو آپ سب کیسے ہیں؟ چائے پیئں یہ۔بسکٹ میں نے خود بنائے ہیں۔

ندیم: نائیلہ بہن شکریہ،ہم سب ٹھیک ہیں۔

پروین: نائیلہ، بسکٹ بہت مزیدار ہیں۔

نائیلہ: شکریہ ۔

ندیم: اگر ہم سب نے چائے پی لی ہے تو عبادت شروع کریں؟۔

زیدی: جی جی ،کیوں نہیں۔

ندیم: ناصر کیا آپ ہماری عبادت کے دوران رہنمائی کریں گے۔

ناصر: جی ابو! آئیے ہم زبور 33اُس کی پہلی 9آیات پڑھتے ہیں۔میں آگے آگے پڑھوںگا اور آپ میرے پیچھے پڑھیے۔

﴿ورق اُلٹنے کی آواز﴾

تمام : "اے صادقو! خداوندمیں شادمان رہو۔ حمد کرنا راستبازوں کو زیبا ہے۔سِتارکے ساتھ خداوند کاشکر کرو۔ دس تار کی بربط کے ساتھ اُس کی ستائش کرو۔ اُس کے لئے نیا گیت گائو ۔ بلند آواز کے ساتھ اچھی طرح بجائوکیونکہ خداوند کا کلام راست ہے۔ اور اُس کے سب کام با وفا ہیں۔ وہ صداقت اور اِنصاف کو پسند کرتا ہے ۔ زمین خُداوند کی شفقت سے معمور ہے۔ آسمان خُداوند کے کلام سے اور اُسکا سارا لشکر اُس کے منہ کے دم سے بنا۔ وہ سمند ر کا پانی تودے کی مانند جمع کرتا ہے ۔ وہ گہرے سمندروں کو مخزنوں میں رکھتاہے۔ ساری زمین خُداوند سے ڈرے۔ جہان کے سب باشندے اُس کا خوف رکھیں کیونکہ اُس نے فرمایا اور ہو گیا ۔اُس نے حُکم دیااور واقع ہُوا"۔ آمین۔

ناصر: آئیں ہم گیت گاتے ہوئے عیسیی مسیح کی حمد کریں۔

تمام: گاتے ہوئے۔﴿حمد تیری اے عیسیٰ ﴾

پروین: آمین،میں یہاں خدا کی زبردست حضوری محسوس کر رہی ہوں۔آئیں ہم پورے دل سے اپنے خُداوند کے آگے جھکیں اور اُس کی تعظیم میں سب چھوٹی چھوٹی دعا کریں۔

زیدی: خُداوند! تیری محبت لا محدودہے۔ تیری عظمت نے ہمیںگھیر رکھاہے۔

سبق نمبر18 صفحہ نمبر3

شمیم: خداوند ہم تیری تعظیم کرتے ہیں اور تیری بڑائی کا اقرار کرتے ہیں۔ ہم تُجھے مبارک کہتے ہیں کیونکہ آج کو ئی روکاوٹ تیرے پاک روح کو ہمیں برکت دینے سے نہیں روک سکتی۔

نائیلہ: اے خُداوند ، ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہمیں تُجھے اور زیادہ جاننے کی ضرورت ہے۔

ندیم: اے خُداوند ۔ تُو اپنی سب راہوںمیں راست ہے۔ اپنے سب کاموں میں رحیم ہے ہر چیزجِس کی ہمیں ضرور ت ہے تُوہمیں دے گا۔

ناصر: اے خداوند تُو ہماری چٹان ہے۔ تُو ہماری طاقت اور پناہ ہے۔ ہم اپنے پورے دِل سے تجھ پر بھروسہ کرتے اور خوش ہیں۔ آمین۔

تمام: آمین۔

ندیم: خداوند کی تعریف ہو ۔جس نے مُجھے آج آپ کے ساتھ کلام ِخدا میں سے ایک مضمون پر بات چیت کر نے کا بوجھ دیا ہے۔یہ خدا کے خوف کے بارے میں ہے۔ دُعا اور ستائش کے دوران پاک روح سچ مچ ہماری رہنمائی کر رہاتھا۔ اور مُجھے یقین ہے کہ وہ آج ہمیں سِکھائے گا۔ اور خدا کے خوف کو گہرے طور پر ہماری زندگیوں میں آنے دے گا۔ آئیں ہم مل کرسوچیں کہ خُدا کے خوف کا مطلب کیا ہے۔کون اِس کی وضاحت کر ے گا کہ اس کے معنی کیا ہیں۔

شمیم: میں کروںگی۔

ندیم: جی شمیم، بتائیں خوف کے معنی کیا ہیں؟

شمیم: ندیم بھائی، بعض لوگ سوچتے ہیں کہ خدا کے خوف کے معنی ہیں کہ ہمیںخُدا سے ڈرنا چاہیے۔ یہ سچ نہیں کیونکہ خدا نے ہمیں اِسلئے پیدا کیا کہ ہم اُس کے ساتھ مضبوط تعلق سے لطف اندوز ہوںجبکہ نافرمانی سے ڈر پیدا ہوتا ہے۔

پروین: ندیم، میں ایک اور چیز کا اضافہ کرنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی پروین فرمائیے۔

پروین: حضرت سلیمان نبی کی لکھی ہوئی کتاب امثال میں ہمیں بہت سی آیات ملتی ہیں جو خُدا کے خوف کے معانی کو واضح کرتی ہیں۔ امثال 8باب13آیت میںہم پڑھتے ہیں ،"خُدا کا خوف بدی سے نفرت ہے" اور امثال 16باب6آیت میں ہم پڑھتے ہیں

"خُداکے خوف کے وسیلے سے انسان بدی سے دور ہوتے ہیں"۔ان آیات سے ہم سمجھتے ہیں کہ خدا کا خوف ہمیں اِس قابل بناتا ہے کہ گناہ اور بدی کے بارے میں ہمارا رویہ خدا کا سا ہو۔اور گناہ کو ہم اِس طرح دیکھیں جس طرح خدا دیکھتا ہے۔

نائیلہ: خدا کے خوف کے متعلق آپ کی وضاحت نے مجھے حضرت یوسف کی یاد دلادی ہے۔ جب فوطیفار کی بیوی نے اُسے ورغلانے کی کوشش کی تو اُنہوں نے زوردار طریقے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا۔ "میں کِس طرح خُدا کے خلاف یہ بڑا گناہ اور شرارت کر سبق نمبر18 صفحہ نمبر4

سکتاہوں"۔ اُن کا دِل خُدا کے خوف سے بھرا ہوا تھا۔ وہ گناہ سے اِس طرح نفرت کرتے تھے جِسطرح خُدا ۔ اِسی لیے اُنہوںنے اِسے بڑی شرارت کہا۔ اور پھر جب حضرت یوسف نے دیکھا کہ وہ خدا کی حضوری میں کھڑے ہیں۔اُنہوں نے محسوس کیا اور کہا۔"یہ خدا کے خلاف گناہ ہے"۔

ندیم: جی ہاں۔ حضرت یوسف اپنے خاندان سے دور بہت دور ایک ملک میں تھے اور اُن کے مالک نے اُنہیں روپے دے کر خریداتھا۔ اور وہ اُس گھر میں ایک غلام تھے ۔ اور پھر وہ اُن لوگوں میں رہ رہے تھے جو خُدا کے بارے میں کُچھ نہ جانتے تھے ۔ نہ ہی خدا کی بندگی کے بارے میں جانتے تھے۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ کِسی پر الزام لگائے بغیر اور قائل کئے بغیر گناہ کر سکتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے انکار کر دیاکیونکہ انہیں گناہ سے نفرت تھی ۔پر خُدا کے خوف کے درست معنی یہی ہیں جیسا پروین نے بھی ذِکر کیا تھا۔

زیدی: کتاب ِ مقدس بائبل میںاحبار کی کتاب کے انیسویں باب کی دوسری آیت میں لِکھاہے ،"پاک بنو کیونکہ میں پاک ہوں"۔اِس کے معنی ہیں کہ مُجھے گناہ سے اتنی زیادہ نفرت کرنی چاہیے جتنی نفرت ہمارے خُدا کو ہے۔ جب ہم اپنی زندگیاں مسیح کے حوالے کرتے ہیں اور روز بروزاُس کا حکم مانتے ہیںاور خُدا کے خوف کو الفاظ اور کاموں میں اپنی زندگیوں کے ہر پہلو پر کنٹرول کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ تب خدا کی پاکیزگی ہماری زندگیوں میں نظر آتی ہے۔

ندیم: زیدی ،آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دِلوں سے گناہ کو دور رکھنے کے لئے پاک روح اور خُدا کے کلام سے رفاقت رکھیں۔خُدا کے خوف کی ایک آخری تعریف امثال14باب27آیت میںملتی ہے۔ " خُدا کا خوف زندگی کا چشمہ ہے"۔ خدا کا خوف ہمیں زندگی کی طرف لے جاتا ہے اور ہمیں نافرمانی اور گناہ سے بچاتا ہے جِس کی مزدوری موت ہے۔

شمیم: آپ کا مطلب ہے، کہ خدا کا خوف مُجھے نافرمانی سے بچاتا اور خُدا کا حُکم ماننے میں رہنمائی کرتا ہے؟

پروین: جی ہاں شمیم، حضرت ابراہیم نے ایسا ہی کیا۔ خدا نے اُنہیں کہا،اپنے پیارے بیٹے حضرت اسحاق کو قربان کر دو جو سارے وعدوں کافرزند ہے۔ جِس کے لئے اُس نے ساری زندگی انتظار کیا تھا۔حضرت ابر اہیم نے فوراََ حُکم مانا۔ لیکن جوں ہی اُنہوں نے چھرُی اٹھائی ،خدا نے اُنہیں یہ کہہ کر بلایا۔"اب میں جان گیا کہ تُو خُدا سے ڈرتاہے۔ حضرت ابراہیم کی خُدا کے حُکم کی فوری تعمیل نے ثابت کر دیاکہ وہ خدا سے ڈرتے تھے۔

ندیم: جی پروین۔خُدا نے حضرت ابراہم کے بارے میں کہا،"وہ خدا سے ڈرتا ہے"۔ یہ خدا کے حُکم کی بلاواسطہ مکمل تعمیل ہے۔ یہ خُدا کے کلام کے مطابق فرمانبرداری ہے۔ اِس کے برعکس جو بھی ہے وہ نافرمانی ہے۔ مُجھے ابھی ابھی ایک بیان یاد آیا ہے جو میں نے پڑھا تھا ۔ وہ یہ ہے،"دیر کی فرمانبرداری نافرمانی کے برابر ہے"۔اِسکا مطلب ہے کہ ایک بار جب میں فوری طور پر فرمانبرداری

سبق نمبر18 صفحہ نمبر5

نہیں کرتا تو میں نافرمانی کر رہا ہوتا ہوں۔ مصنف اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے،"جزوی فرمانبرداری مکمل مافرمانی ہے"۔اِسکا مطلب ہے کہ مجبوری سے اور ناخوشی سے خدا کا حکم ماننا نافرمانی ہے۔

زیدی: میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ حضرت ابراہم خدا کو جانتے تھے ۔اور اُن کا دل اُس کے خوف سے بھرا تھا۔یہ دو باتیں خُدا کی فرمانبرداری کر نے میں میری حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

ناصر: لیکن میراایک سوال ہے۔

ندیم: وہ کیا ہے؟

ناصر: اگر میں اُس شخص کا بیان کروں جو خُدا سے ڈرتا ہے۔ کیا میں کہہ سکتا ہوں کہ وہ شخص گناہ نہیں کرتا ۔اور خُدا کے سب حُکوں کومانتا ہے۔

نائیلہ: میرا خیال ہے کہ گناہ نہ کرنا ناممکن ہے۔ اگرچہ کوئی شخص بدنی گناہ نہیں کرتا پھر بھی وہ اپنے خیالوں میں گناہ کرتا ہے۔

شمیم: آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ شاید کوئی دوسرے سے نفرت کرتا ہو اور چاہتا ہو کہ وہ مر جائے پھر بھی وہ اُسے جان سے نہیں مارسکتا۔ کیونکہ وہ سزاسے ڈرتا ہے۔ اِس صورت میں یہ شخص خُدا سے نہیں ڈرتا ۔

زیدی: ہو سکتا ہے کوئی شخص ہو جو سب حُکموں کو مانتا ہے۔ عبادت بھی کرتا ہے۔ دسواں حصہ بھی دیتا ہے اور اور بہت سے اچھے کام بھی کر تا ہے ۔ لیکن خود انکاری نہیں کر تا۔ وہ اُن اچھے کاموں سے جو وہ کرتا ہے اپنے آپ کو بہت مگن اور خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے آپ میںتوراستباز ہے۔ اگرچہ وہ کوئی دیدہ گناہ نہیں کرتا۔ مگر اپنے دِل میں گناہ سے نفرت نہیں کرتا۔ ایسا شخص خُدا سے نہیں ڈرتا۔

ندیم: صحیح ۔ پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ جِس کا دِل خدا کے خوف سے بھرا ہے ، گناہ سے نفرت کرتا ہے۔ اور اگر وہ گناہ کرے وہ جلد ہی توبہ کرے گا ۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے عاجز کرتا ہے اور اپنے گناہ کا جلد ہی اعتراف کرلیتا ہے۔ وہ قول و فعل میں گناہ سے نفرت کرتا ہے ۔یہاں تک کہ خیالوں میں بھی ۔کیونکہ وہ گناہ کو اِس طرح دیکھتا ہے جِسطرح خُدا دیکھتا ہے۔ اور اِس قدر گناہ سے نفرت کرتاہے جس قدر خُدا نفرت کرتا ہے۔پس وہ سچی توبہ والی زندگی بسر کرتا ہے۔

پروین: میں توبہ کے بارے کُچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: پروین کہئیے۔

پروین: توبہ دماغ کے اند رایک تبدیلی ہوتی ہے۔ دِل کے اندر ایک تبدیلی اور اِس طرح پوری زندگی میں ایک تبدیلی ۔ کیونکہ ہر گناہ دماغ سے شروع ہوتا ہے ۔پس گناہوں سے توبہ ہی کافی نہیں بلکہ بُرے خیالات سے بھی توبہ کرنی چاہیے۔

سبق نمبر18 صفحہ نمبر6

شمیم: یہی وجہ ہے کہ حضرت دائود نے زبور19اُس کی آیت 14میں اس طرح دُعا کی،"میرے منہ کا کلام اور میرے دِل کا خیال تیرے حضور مقبول ٹھہرے۔اے خداوند ! اے میری چٹان اور میرے فدیہ دینے والے ۔

پروین: ندیم، کیا میں کچھ اور کہہ سکتی ہوں؟

ندیم: کیوں نہیں۔ََ

پروین: خُدا کے سامنے اپنے گناہ کا اقرار آد ھی تو بہ ہے۔مکمل توبہ کر نے کے لئے گناہ اور بُری رائیں چھوڑ دینی چاہئیں۔ جِس طرح اِس آیت میں لکھا ہے، "وہ جو اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے کامیاب نہ ہوگا لیکن جواعتراف کرتا اور انہیں ترک کرتا ہے اُس پر رحم کیا جائے گا۔ مُجھے نہ صرف اپنے گناہوں کا اعتراف کرناچاہیے بلکہ خُدا کا رحم حاصل کرنے کے لئے انہیں ترک بھی کرنا چاہیے۔ اگرکوئی گناہ یا رحجان مجھ پر غالب آتا ہے۔ جِس سے خدا ناراض ہو ۔ مُجھے انکساری سے خُدا سے کہنا چاہیے کہ اے خدا، مجھے اپنے خوف سے بھر دے۔اے روحِ پاک اِس گناہ پر غالب آنے میں میری مدد کر۔

ناصر: امی ابھی آپ نے مُجھے ایک کہانی یاد دلائی ہے جو میں نے ایک خاتون کے بارے میں پڑھی تھی۔ وہ خاتون ایک کیسٹ پر "خُدا کو جاننے"کے بارے میں منادی سُن رہی تھی۔ اُس نے ایک زبردست خواہش محسوس کی کہ وہ ایک بہتر طریقے سے خُدا کو جان سکتی ہے۔ اُس نے مستقل مزاجی سے دُعا شروع کی۔ "خُداوند مُجھے اپنی راہیں دِکھا تاکہ تُجھے جانوں"۔ چند دِنوں کے بعددُعا میں خداوند نے اُسے یاد دِلایا کہ 35سال پہلے جب وہ ابھی طالب علم تھی وہ یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں کام کرتی تھی۔ اپنی ٹیوشن فیس ٍ دینے کے لئے وہ کچھ رقم ضد وقچی میں سے نکال لیا کرتی ہے۔ روح ِ پاک نے اُسے ملامت کرنا شروع کر دی اور اُس نے دُعا کی ’’اے خدا! میرے چوری کے گناہ کو معاف فرما۔‘‘پھر اُس نے محسوس کیا کہ خُداوند چاہتا ہے کہ وہ رقم واپس کرے جو اُس نے کیفے ٹیریا سے چوری کی تھی۔ اُس نے دوبارہ دُعا کی اور محسوس کیا کہ خُدا صرف یہی نہیں چاہتا تھا کہ وہ چوری شدہ رقم واپس کر دے بلکہ 35سال کا منافع بھی ادا کرے۔ اُس نے دُعا جاری رکھی ۔ اگرچہ رقم بڑی تھی اُس نے وہ رقم جمع کرنے کا انتطام کر لیا اور کالج کے پر نسیل کے نام ایک چیک اور خط بھیج دیا۔ایسا کرنے کے بعد اُس کو سکون مل گیا اوروہ آزادی سے دُعاکرنے کے قابل ہوگئی۔ اُس نے محسوس کیا کہ خُدا بڑی قدرت کے ساتھ اُس کے ساتھ ہے ۔

نائیلہ: بہت خوب۔مُجھے ایک خوبصورت آیت یاد آ گئی ہے جو مُجھے بہت پسند ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ امثال کی کتاب میںہے۔ وہاں لکھا ہے، "خُدا کا خوف دانائی کا شروع ہے"۔ جو اُس کے حکموں کومانتے ہیں اُن کے پاس بہت سی دانائی ہے۔ میری آرزو ہے کہ میںخُدا کے خوف سے بھر جائوں۔

شمیم: نائیلہ میری بھی یہی آرزو ہے۔ ہمیں متواتر دُعا کی ضرورت ہے کہ خداوند اپنا خوف اور علم ہمارے دِلوں بھرے دے۔مجھے سبق نمبر18 صفحہ نمبر7

بائبل مقدس کا ایک حصہ بہت پسند ہے۔ زبور34اُس کی 11سے14آیات میں لکھا ہے۔

’’اے بچو! آئومیری سُنو۔ میں تمکو خُدا ترسی سِکھائوں گا۔ وہ کون آدمی ہے جو زندگی کا مشتاق اوربڑی عمر چاہتا ہے تاکہ بھلائی دیکھے۔ اپنی زبان کوبدی سے باز رکھ اور اپنے ہونٹوں کو دغا کی بات سے۔‘‘

ناصر: مُجھے سچ مچ خُدا کا خوف رکھنے کی ضرورت ہے ۔ جو کُچھ میں کہتا ہوں ۔ اُس میںکوئی مبالغہ نہیں ہو نا چاہئے۔ میں نیکی سے پیار کرنا چاہتا ہوں ۔ خاص طور پر مسیح میں اپنے بھائیوں کے بارے میں مثبت گفتگو کر نا چاہتا ہوں۔

ندیم: آئیں،ہم سب دُعا کریں ۔ ہر ایک اپنی چھوٹی بڑی ضرورت کا اعتراف کرے ۔دعاکریں کہ ہمارا دل خدا کے خوف سے بھر جائے۔

شمیم: اے خدا! میں تیری منت کرتی ہوں میری زندگی میں اپنے خوف کو گہرا کر۔

زیدی: خُداوند ہم دِل سے چاہتے ہیں کہ ہمارے دِل تبدیل ہوں۔نائیلہ اور میں چاہتے ہیں کہ اُس سچائی کے مطابق جئیں جو تُو نے ہمیںدِکھائی ہے ۔ خُداوند تیرا شکرہو کیونکہ تُو نے خلاصی دی تاکہ ہماری تیرے ساتھ گہری رفاقت ہو۔

نائیلہ: خُداوند میں زیدی کی دُعا سے اتفاق کرتی ہوں اور منت کرتی ہوں کہ ہماری زندگیاں تیرے خوف سے بھر جائیں۔ میں منت کرتی ہوں تو ہمیں اپنی راہیں سِکھا۔

پروین: خُداوند مُجھے اپنی راہ سِکھا۔ مددکر کہ تیری سچائی میں چلوں۔ میرے دل کی رہنمائی کر کہ میں تیرے نام کا خوف مانوں۔

ندیم: آمین۔ کیا کوئی کُچھ اور کہنا چاہتا ہے۔

زیدی: جی ہاں! میں کہنا چا ہتا ہوں۔

ندیم: زیدی بھائی ،کہئیے۔

زیدی: خدا کے کلام میں لکھا ہے ، "خُدا کا بھید اُن کے پاس ہے جو اُس سے ڈرتے ہیںاوروہ اپنا عہد اُنہیں دِکھائے گا"۔یہ آیت بتاتی ہے کہ اُن کے لئے بڑا انعام ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں۔ خُدا نے خود اپنے بھیدبتانے کے لئے۔اُن سے وعدہ کیا ہے۔

شمیم: زیدی بھائی ، مجھے حضرت ابراہم کے بارے میں پھر یاد آیا ہے۔ جن کے بارے میں ہم نے شروع میں بات چیت کی ۔ ہم نے کہا کہ خُدا نے اُنہیں بتایا ،"میں جانتا ہوں کہ تُو خُدا سے ڈرتا ہے"اور کیونکہ حضرت ابراہیم کا دِل خُدا کے خوف سے بھرا ہوا تھا۔ اس لئے خُدا نے انہیں اپنے راز بتائے ۔

ناصر: جی ہاں۔ مُجھے یاد ہے ۔ جب خُداوند نے حضرت ابراہیم کو بتایا کہ وہ سدوم اور عمورہ کو آگ سے تباہ کرے گا۔

شمیم: جی ہاں،اور حضرت ابراہیم نے تین چار بار خدا سے اپنا خیال بدلنے کو کہا۔اور منت کی کہ وہ سدوم اور عمورہ کو تباہ نہ کرے۔

سبق نمبر18 صفحہ نمبر8

زیدی: ہاںشمیم۔ یہ عجیب چیز نہیں،حضرت ابراہم خدا کے دوست کہلائے۔وہ خدا سے متواتر باتیں کر تے تھے۔ میںنے آپ سے کہا تھاکہ جو خُدا سے باتیں کرتا ہے اُس کے لئے بڑا انعام ہے۔

پروین: زیدی صاحب جو آیت آپ نے بتائی ہے۔ نہ صرف یہ کہتی ہے کہ خُدا کاراز اُن کے لئے ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتی ہے کہ وہ انہیںسِکھانے کے لئے عہد کرتا ہے ۔ اِس کا مطلب ہے کہ خُدا خود اُنکو سِکھانے کا ذمہ دار ہے ۔جو اُس سے ڈرتے ہیں۔ اِسلئے میں آپ سے اتفاق کرتی ہوں کہ ۔جِن کے دِل خُدا کے ۔خوف سے بھرے ہوتے ہیں۔اُن کے لئے بڑا اجر ہے۔

نائیلہ: میری بڑی خواہش ہے میرا دِل خدا کے خوف سے بھرا ہو خُدا اوپر سے میری زندگی اور راہوں کو دیکھے اور اِسے اپنے ارادے کے مطابق بنائے۔ کیا ہم پھر دُعا مانگیں۔

ندیم: ہاں ہم سب کو اپنے دِلوں کو جانچنے کی ضرورت ہے ۔ آئیں خُدا کے خوف سے اپنے دِلوںکو متحد کریں۔ آئیں دُعا کریں۔

نائیلہ: خداوند میرے دِل میں دیکھ اور اندیکھے گناہوں کے لئے نفرت پیدا کر۔ میں نے آج سیکھا ہے کہ تیرا خوف بدی سے نفرت میںہے۔ مجھے بدی سے نفرت کرناسِکھا ۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔آمین۔

ندیم: خُداوند میری خواہش ہے کہ تُو زندگی بھر میرا خُداوند ہو۔ میںزندگی کی ساری باتوں میںتیرا حُکم مانوں۔ اور جو تُجھے پسند ہو وہی کروں۔ آمین۔

تمام: آمین۔

ندیم: بات چیت تو ہم نے ختم کر لی ہے،لیکن مجھے لگتا ہے کہ شمیم کچھ کہنا چاہتی ہے۔

شمیم: یقیناََ ۔ جی ہاں!میں آپ کوبتانا چاہتی ہوں کہ عادل اگلے ہفتے آرہے ہیں اور ہماری منگنی ہوگی۔

نائیلہ: شمیم۔مبارک ہو۔

زیدی: شمیم مبارک ہو۔ لگتا ہے اگلے ہفتے آپ عبادت میں نہیں آئیں گئی۔

شمیم: کیوں نہیں،زیدی بھائی ،عادل اور میں اکٹھے عبادت میں آئیںگے۔ میں نے اُنہیں ہر بات بتا دی ہے۔ اور وہ ہمارے ساتھ عبادت میں ہوں گے۔

ندیم: پروین! اگلے ہفتے ہم ایک بہت بڑا کیک لائیں گے۔ عادل کے آنے کی خوشی میں۔

پروین: نہ صرف کیک بلکہ عبادت کے بعد رات کا کھانا بھی ہم کھائیں گے۔

تمام: واہ،مزہ آئے گا۔

شمیم: عادل بہت خوش ہوں گے۔ آپ سب کا شکریہ۔

سبق نمبر18 صفحہ نمبر9

ندیم: دوستو! اگلے ہفتے ہماری عبادت ہمارے گھر میں اسی وقت ہوگی۔