Hear Fellowship With My Family Episode 19 (Audio MP3)

View FWMF episode 19 as a PDF file

سبق نمبر 19 صفحہ نمبر1

"ایک بدن"

﴿شور اور زور سے دروازے کا بند ہونا﴾

پروین: ﴿پکار کر﴾ ندیم کیک کہاں رکھا ہے۔

ندیم: پروین فرج میں پڑا ہے۔

شمیم: باجی ! استری کہاں ہے؟

پروین: شمیم ساتھ والے کمرے میں پڑی ہے۔

ناصر: امی میں کون سی ٹائی لگائوں۔

پروین: ناصر یہ ٹھیک رہے گی۔سرخ والی۔

ندیم: ناصر ڈرائی کلین والے سے میرا سوٹ لے آئے ہو۔

ناصر: جی ابو! آپ کے کمرے میں رکھا ہے۔

پروین : اوہ میرے خدایا یہ کیا گڑبڑ ی مچی ہے؟

نائیلہ: میں نے میز لگا دیا ہے اور سینڈوچ اور کیک اِس پر رکھ دئیے ہیں۔

پروین: نائیلہ شکریہ۔ آپ کو زحمت ہوئی ہوگی۔۔

نائیلہ: پروین بہن ایسا مت کہیں۔ میں بہت خوش ہوں آج شمیم کا منگیتر ہمارے ساتھ ہو گا۔

﴿دروازے کی گھنٹی﴾

نائیلہ: یہ ضرور زیدی ہوں گے۔ میں دیکھتی ہوں۔﴿ Pause۔دروازہ کھلتا ہے﴾ ہیلو زیدی شکر ہے آپ پہنچ گئے۔

زیدی: ﴿دروازہ بند ہوتا ہے﴾ نائیلہ خدا کا شکر ہے۔

پروین: زیدی بھائی کیسے ہیں آپ۔

زیدی: پروین بہن شکریہ۔میں ٹھیک ہوں۔ شمیم ہماری بہن ہیں۔میں کچھ شربت لایا ہوں۔

پروین: شکریہ بھائی۔

زیدی: شمیم ہے کہاں۔

پروین: وہ اندر تیار ہو رہی ہے۔

ندیم: بھئی کیا آپ سب لوگ تیار ہیں۔عادل آنے والا ہے۔

سبق نمبر 19 صفحہ نمبر2

تمام : جی ہم تیار ہیں۔اُسی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر چیز ٹھیک ہے۔

شمیم: ﴿آتے ہوئے﴾ اور فکر نہ کریں ندیم بھائی، میں بھی تیار ہوں۔

ناصر: بہت خوب،آنٹی بہت پیاری لگ رہی ہیں۔

شمیم: چلو چلومسکہ نہ لگائو﴿قہقہہ﴾

زیدی: کتنی خوشی کی بات ہے شمیم۔ کل آپ کی منگنی ہو ئی ہے اور آج عادل ہمارے ساتھ عبادت میں شریک ہوں گے۔

شمیم: انہوں نے ہماری جماعت کے بارے میں بہت کچھ سناہے۔

﴿دروازے کی گھنٹی﴾

ندیم: ضرور یہ عادل صاحب ہوں گے۔ناصر دروازہ کھو لو۔

ناصر: میں کھو لتا ہوں﴿Pauseدروازہ کھلتا ہے﴾ہیلو عادل صاحب،خوش آمدید۔

عادل : شکریہ ناصر۔

ناصر: ﴿دروازہ بند ہوتا ہے﴾ آئیں آئیں، سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ خاص کر آنٹی شمیم ﴿قہقہہ﴾

شمیم: ناصر بہت شریر ہوتے جا رہے ہو۔

عادل: آپ سب کیسے ہیں۔

تمام: ٹھیک ہیں۔ خدا کا شکر ہے۔خدا کا کرم ہے۔

زیدی: عادل آپ کیسے ہیں۔

عادل: میں بھی ٹھیک ہوں۔عبادت کے وقت کا انتظار کرتا رہا ہوں۔

پروین: عادل، وہاں بیھٹو شمیم کے ساتھ۔

عادل: شکریہ۔

پروین: پلیز آپ سب لوگ چائے پیئں۔کیک بھی کھائیں۔کھانا عبادت کے بعد ہوگا۔

ندیم: عادل ،جب ہم چائے پی رہے ہیں،آپ کیوں اپنا تعارف نہیں کرواتے۔زیدی اورنائیلہ آپ کے بارے میں جاننے کو بیتاب ہیں۔

عادل: جی کیوں نہیں۔میرا نام عادل واجدی ہے۔ میںانگلینڈ میں سیاحت اور ہوٹل مینجمنٹ کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ میری وہاں ملاقات شمیم سے ہوئی۔

سبق نمبر 19 صفحہ نمبر3

مناسب وقت پر مَیں نے شادی کی تجویز پیش کی۔ اور جسے شمیم نے قبول کر لیا۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔ کل ہماری منگنی ہو ئی ہے۔ فی الحال میں ایک اچھے ہوٹل میں کام کررہا ہوں اور شادی کی تیاری کر رہا ہوں۔

ندیم: شکر یہ عادل ، ہم سب آپ سے مل کر بہت خوش ہیں۔

عادل: میں بھی بہت خوش ہوں۔ شکریہ

ندیم: آئیں،اب خداوند کے نام کی حمد کرتے ہوئے عباد ت شروع کریں۔ آج شمیم ستا یش میں ہماری راہنمائی کریں گی۔

شمیم: آئیں ہم عبادت کے شروع میں گیت گائیں،’’حمد تیری اے عیسیٰ گاتے ہیں ہم سب‘‘۔ ناصر پلیز ہار مو نیم بجائیں۔

ناصر: ٹھیک ہے آنٹی۔

تمام: گاتے ہوئے۔﴿گیت:حمد تیری اے عیسیٰ گاتے ہیں ہم سب﴾

شمیم: آمین۔

سب: آمین۔

ندیم: آپ اندازہ نہیں کرسکتے کہ میں عادل کو اپنے درمیان پا کر کتنا خوش ہوں۔

عادل: میں بھی بہت خوش ہوں۔

پروین: جب کبھی کوئی نیا ممبر ہماری جماعت میں شامل ہوتا ہے تو بڑی خوشی ہوتی ہے۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ خُداوند اپنی کلیسیائ بڑھارہا ہے۔ ہم نے اتنی دیر سے خواب دیکھے ہیںکہ ہماری کلیسیائ بڑھے اور یہ عیسیٰ مسیح کے فضل سے آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔

زیدی: مُجھے یاد ہے جب ہم چار نے۔ یعنی آپ اور میں ، اور پروین اور ناصر نے یہ کلیسیائ شروع کی۔ ہم بہت خوش تھے جب شمیم شامل ہوئی۔ ہم بہت خوش ہوئے پھر نائیلہ آئیںاور اب عادل ۔ اِس طرح ہم سات ہو گئے ہیں۔ میرا ایمان ہے، اور لوگ بھی آئیں گے ۔

تمام: خُداوند کی تعریف ہو۔اُس کا شکر ہو، اُس کی بڑھائی ہو۔

عادل: آپ کے ساتھ ہونا کتنے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میں محسوس کرتا ہوں جیسے میں اپنے خاندان میں ہوں۔

ندیم: یہ ہم سب کے لئے بڑا اعزاز ہے کہ خداوند نے ہمیں مخلتف جگہوں سے اکٹھا کر کے اِس جماعت میں شامل کیا ہے۔ زیدی بھائی کسی اور جگہ سے ، عادل آپ کسی دوسری جگہ سے اور ہم کہیں اور سے۔اور خداوند ہمیں ہر ہفتے اکٹھا کر تے ہیں۔

پروین: کیا آپ جانتے ہیں۔ خُداوند ہمارے اتحاد کو کیا کہتا ہے۔

ناصر: کیاکہتا ہے؟

سبق نمبر 19 صفحہ نمبر4

پروین: عیسیٰ مسیح کا بدن۔ جی ہاںکلیسیائ مسیح کا بدن ہے۔ انجیل ِ پاک میں رومیوں 12باب5آیت میں لِکھا ہے ، "پس ہم بھی جو بہت سے ہیں مسیح میں شامل ہو کر ایک بدن ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے اعضائ ۔

ناصر: خُداوند نے ہمیںایک بدن یامسیح کابدن کیوں کہا؟

ندیم: سادہ سی بات ہے ناصر ۔جِس طرح آپ کا بدن بہت سے اعضائ سے بناہے ۔ مثلاًہاتھ ٹانگیں ، آنکھیں ، کان وغیرہ ۔ اور اگرچہ وہ حصے اس قدر مختلف ہیں پھر بھی مِل کر ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ آخر میں سارے اعضائ سر کے تابع ہیں جو سارے بدن کی حرکت کو چلاتا ہے۔ ہم سب سر کی رہنمائی میںچلتے ہیں یعنی خداوندعیسیٰ مسیح کی راہنمائی اور اُن کے سب حکموں کو مانتے ہیں۔ اِس طرح ہم سرکی تابعداری کرنے والے ایک بدن بن جاتے ہیں جو عیسیٰ مسیح ہیں۔ افسیوں پہلاباب22آیت میں لکھا ہے،

"اور سب کُچھ اُس کے پائوں تلے کر دیا اور اُس کو سب چیزوں کا سردار بنا کر کلیسیائ کو دے دیا ۔یہ اُس کا بدن ہے اور اُس کی معموری جو ہر طرح سے سب کا معمور کرنے والا ہے"۔ اِس لئے کِسی بھی کلیسیائ میں جو ایمانداروں کا گروہ ہے۔ اگر ہر کوئی اپنی خواہشوں کے مطابق دوسرں سے مختلف سمت میں زندگی گزارتا ہے تووہ عیسیٰ مسیح کے بدن کی قوت کو روکتا ہے اور اگر ایمانداروں کا یہ گروہ اپنے سر کے تابع نہیں جو عیسیٰ مسیح ہیں۔وہ ہرگز ایک بدن نہیں ہو سکتے۔

نائیلہ: اور ندیم بھائی، خداوند ہمیں ایک بدن اور ایک دوسرے کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ عیسیٰ مسیح کی خواہش تھی۔ جب یوحنا17باب20آیت کے مطابق اُنہوں نے باپ سے دُعا کی،"میں صرف اُن کے لے دُعا نہیں کرتا بلکہ اُن کے لیے بھی جو اُن کے کلام کے وسیلے سے مُجھ پر ایمان لائیں گے۔ تا کہ وہ سب ایک ہوں جیسے باپ تُو مُجھ میں ہے اور میں تجھ میں ہوں تا کہ وہ بھی ہم میں ایک ہوں۔ تا کہ دنیا مانے کہ تُو نے مُجھے بھیجا ہے اور وہ جلال جو تُو نے مُجھے دیاتھا میں نے انہیں دے دیاہے۔ تاکہ وہ ایک ہوں جیسے ہم ایک ہیں۔کیا آپ نے دیکھاکتنی بار عیسیٰ مسیح نے کہا کہ ہم ایک ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ شاگرد اِس بات کوبہت اچھی طرح سمجھ گئے اور اعمال کی کتاب میں لکھا ہے ۔ "وہ ہیکل میںمتفق ہو کر مِل رہے تھے"۔اوریہ پہلی کلیسیائ کی سب سے اہم خاصیت تھی۔

شمیم: یہ ایک عجیب مثال ہے کہ خُداوند نے ہمیں ایک بدن کیا۔ بدن کے حصے ایک دوسرے کا احساس رکھتے اور ایک دوسرے کی مددکرتے ہیں۔ اگر میرے ہاتھ کو تکلیف پہنچتی ہے تو میرا پورا جسم درد محسوس کرنے لگتا ہے اور علاج کے لئے دکھی حصے کی مدد کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جب میرا ہاتھ زخمی ہوتا ہے ، میری آنکھیں زخم کو دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ میرا دوسرا ہاتھ پٹی باندھنے میں مدد کرتا ہے۔ اور میری زبان شفائ کے لئے دُعا کرتی ہے۔

ندیم: شمیم واقعی یہ بہت عجیب تمثیل ہے۔ بائبل مقدس میں 1کرنتھیوں12باب26آیت میں لِکھا ہے۔عادل آپ پڑھیں گے؟

سبق نمبر 19 صفحہ نمبر5

عادل: ضرور مجھے ڈھونڈ لینے دیں۔ ﴿ورق اُلٹنے کی آواز﴾ لکھا ہے۔ پس اگر ایک عضو دُکھ پاتا ہے ۔ تو سب اعضائ اِس کے ساتھ دُکھ پاتے ہیں اور اگر ایک عضو عزت پاتا ہے تو سب اعضائ اُس کے ساتھ خوش ہوتے ہیں۔

پروین: دراصل ۔ ایک بدن کے طور پر ہمیں ایک دوسرے کا احساس ہونا چاہیے اور ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔ اگر ہم میںسے ایک روحانی طور پر کمزور ہو تو ہمیں اُسے مضبوط بنانا چاہیے۔ اُس کی مدد کر نی چاہئے۔ اگر کوئی کِسی مصیبت میں سے گزر رہاہے تو ہمیں اُسے اُس میں سے نکالنے میں مدد کرنی چاہیے کیونکہ وہ شخص میرا حصہ ہے۔ مسیح کے بدن کا حصہ ۔

ندیم: ہم اُس تمثیل کو یاد رکھیں جو شمیم نے دی ہے۔ کیا صحت مند ہاتھ زخمی ہاتھ پر پٹی رکھنے سے انکار کرے گا۔ اور کیا آنکھ دوسری اپنا رخ موڑے گی۔ زبان خوشی کے گیت گائے گی۔ یقیناََ نہیں۔ سب اکٹھے کام کریں گے۔ جِسطرح شمیم نے بتا یا۔ سب زخمی حصے کی مدد کرنے میں جلدی کریں گے۔ کیونکہ وہ اِسی بدن کا حصہ ہے۔ ہمیں بھی اُن سب کی مدد کیلئے جلدی کرنا چاہیے۔ جو مشکل حالات میں سے گزر رہے ہیں کیونکہ وہ ہمارا حصہ ہیں۔

زیدی: ایک بدن ہونے کا احساس ہی عجیب ہے اور بدن کے سب اعضائ پر اثر ڈالتا ہے ۔مُجھے یاد ہے کُچھ عرصہ گزرا جب میں بیمار تھا ۔ کِس طرح آپ لوگ مُجھے دیکھنے دوڑے آئے۔ آپ نے دعا کی، سارا ہفتہ میری خیریت دریافت کرتے رہے ۔ اور ناصر کئی بار ہسپتال میں میرے پاس آیا۔ اِس سب کُچھ نے مُجھے تاثر دیاکہ میں اپنے جسم کے ساتھ رہ رہا ہوںجو میری خبر گیری کر تا ہے۔

ندیم: ہمیں اِس راہ پر لانے کے لیے خُداکا شکر کرنا چاہئے۔

عادل: بے شک جو آپ نے کہا وہ خوبصورت ہے لیکن آئیں ہم اِس پر عمل بھی کریں ۔ جو کچھ آپ نے ابھی کہا ہم کِس طرح اِس کے مطابق ز ند گی گزارسکتے ہیں۔

ندیم: عادل ایک بدن کی سی زندگی گزارنے کے لئے کئی شرائط ہیں۔ سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ہمارے درمیان محبت ہونی چاہیے۔شیطان کامقابلہ کرنے کے لئے بہت مضبوط محبت ہونی چاہیے۔ اور فتح مندی بھی۔ شیطان کو ہمارے درمیان محبت سے بہت تکلیف ہوتی ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ جب ہم میں اتحاد ہوتا ہے ہم ایک بڑی قوت بن کر اُس کے سامنے کھڑے ہو تے ہیں۔ اور وہ ہم پرغالب نہیں آ سکتا۔ بائبل مقدس متحد کلیسیائ کے بارے میں یوں فرماتی ہے ’’دوزخ کے دروازے اِس پر غالب نہ آئیں گے‘‘۔ یہی وجہ ہے شیطان ہر وقت اِس اتحادکو برباد کرنے کی کوشش میں رہتا ہے ۔ ہمارے درمیان نفر ت پیدا کرتا ہے۔ اور ہر کوئی اپنی رائے ٹھو نسنے کی کوشش کر تا ہے۔ پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جھگڑ ے شروع ہو تے ہیں اور ہم اپنے مقصد سے دور ہٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی لئے حضرت پطرس رسول انجیل ِ پاک میں یوں فر ماتے ہیں۔’’ سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ آپس میں بڑی محبت رکھو۔ کیونکہ محبت بہت سے گناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔‘‘

سبق نمبر 19 صفحہ نمبر6

پروین: ندیم یہ محبت ہمیشہ بڑھنے والی ہونی چاہئے۔ دِن بدن ہماری ایک دوسرے کے لئے محبت میں اضافہ ہونا چاہئے۔ یہ کبھی کم نہیں

ہو نی چاہئے۔

ناصر: اور یہ خالص ہونی چاہیے بغیر کِسی شخصی مفادات کے مُجھے زیدی انکل سے ایسی محبت ہو جِس طرح عیسیٰ مسیح نے مُجھ سے کی۔ عیسیٰ مسیح نے مجھ سے کسی شخصی مفاد کے بغیر محبت کی۔ اُنہوں نے بس مُجھ سے محبت کی کیونکہ میں اُن کی مخلو ق تھا۔ مُجھے بھی زیدی انکل اورعادل اور آنٹی شمیم سے دِل سے ایسی ہی محبت کرنی چاہیے کیونکہ ہم ایک بدن ہیں ۔ ہم عیسیٰ مسیح کے بدن کے اعضائ ہیں۔

زیدی: ندیم بھائی ، اِس کے علاوہ یہ محبت صابر ہونی چاہئے۔ یہ دوسروں کی غلطیاں برداشت کرنے کے قابل ہونی چاہئے ۔ مُجھے اِس بات کاانتظار نہیں کرنا چاہیے کہ میرا بھائی غلطی کرے تا کہ میں اُسے ڈانٹ سکوں۔ یا اگرکوئی غیر ارادی طور پر ایسا کام کر تا ہے جس سے مجھے دکھ ہوتا ہے ۔ مُجھے اُس کو سخت طریقے سے الزام نہیںدینا چاہیے ، یہ جانے بغیر کہ اُس نے ایساکیوں کیا۔ہو سکتا ہے وہ مایوس ، جسمانی طور پر ماندہ یا نفسیاتی طور پر کمزور ہو گیا ہو یا کام میں دبائو میں آ گیا ہو۔ مُجھے اُس مد کرنی چاہیے اوربعد میں اُس کے ساتھ اِس کے متعلق گفتگو کرنی چاہیے۔

ندیم: مطلب یہ ہے کہ ایک بدن کی طرح رہنے کے لئے سب سے پہلے ہم میں مضبوط محبت ہونی چاہیے۔ سدا بڑھنے والی محبت۔ جِس میں ذاتی مفادات نہ ہوں۔ہمارے سامنے ایک منزل یا ایک رویا ہو جو ہمیں باہم اکٹھا کرتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر میں یہ قلم اُٹھا لوں اور آپ سب سے اِس کی طرف دیکھنے کو کہوں آپ سب ایسا کریں گے اور رویا میں متحد ہوں گے۔ یہ ہے جو عیسیٰ مسیح چاہتے ہیں۔ہمارا نشان واضح ہو۔ جِس کے لئے ہم زندہ ہیں۔ بائبل مقدس ہمیں رویا یا نشان کی اہمیت کے بارے میںسِکھاتی ہے۔ لکھا ہے، "جہاں رویا نہیں وہاں لوگ برباد ہو جاتے ہیں"۔کیا آپ نے دیکھا کہ سب لوگوں کے قلم کو دیکھنے سے پہلے ہم میںسے ہر ایک مختلف سمت میں دیکھ رہا تھا۔ اور ہم میں اتحاد نہ تھا؟

شمیم: اب میںسمجھی کہ بائبل مقدس شاگردوں کے بارے میں کہتی ہے کہ وہ ا یک دِل ہو کر رہ رہے تھے۔ کیونکہ جب عیسیٰ مسیح نے اُن سے روحِ پا ک بھیجنے کا وعدہ کیا۔ وہ ا یک دِل ہو کر انتظار کررہے تھے۔ اور پھرہر ایک روحِ پاک سے بھر گیا۔ اور اُس کے بعد شاگرد نشان اور رویا میںمتحد ہو گئے۔

عادل: ٹھیک ہے۔ مگر ندیم صاحب ۔ آپ کے خیال میں وہ نشان کیا ہے جو ہمیں اکٹھا کرتا ہے۔

ندیم: عادل بہت خوبصورت سوال ہے۔ مگر اِس کا جواب دینے سے پہلے میرا بھی ایک سوال ہے ۔وہ یہ کہ خُدا نے زمین پر اپنے لئے کلیسیائ بنانے کا کیوں خیال کیا۔ اور کیوں عیسیٰ مسیح یہ دعا کر رہے تھے کہ ہم متحد ہوں۔

عادل: وہ اِس لئے کہ ہم سب اکٹھے کلیسیائی زندگی سے لطف اندوز ہوں۔

سبق نمبر 19 صفحہ نمبر7

ندیم: عادل، نہ صرف یہ۔ بلکہ خُدا کا مقصد زمین پر اپنی بادشاہت کو پھیلانا ہے۔ یعنی شیطان کے چنگل سے لو گوں کو نکال کر اپنی بادشاہت میں شامل کر نا ہے۔ اور یہ کلیسیائ ہی ہے جو اِس مقصد کو پورا کرسکتی ہے۔

عادل: کیاآپ کا مطلب ہے کہ کلیسیائ کی منزل زمین پر خُدا کی بادشاہت کو پھیلاناہے۔

ندیم: ہاںعادل کیونکہ عیسیٰ مسیح کے بارے میں کون لوگوں سے بات کرے گا۔ یہ کلیسیائ کے فرد ہی تو ہیں۔ کیا ہم اِس بات کی توقع کریں کہ خداوند اِس کام کے لئے فرشتے بھیجے گا؟ یقیناََ نہیں۔اِس کام کے لیے عیسیٰ مسیح نے ہمیں چنا ہے۔

عادل: خوب۔ کلیسیائ کی منزل عجیب ہے۔ اچھا ہے کہ ہم اِسی مقصد کے لئے زندہ ہیں۔

ندیم: ایک اور اہم چیز ۔ کلیسیا کے کسی بھی فرد کو منفرد نہیں ہونا چاہئے۔

ناصر: منفرد سے آپ کی کیا مراد ہے؟

ندیم: اِس کا مطلب ہے کہ ایک بھائی اپنے آپ کو دوسرے بھائیوں سے بہتر سمجھتا ہے۔ اور اُن کے ساتھ مل کر نہیں چلتا۔ ایسا بھائی ایک بدن نہیں ہو سکتا۔ ایک بدن کی زندگی میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر فرد پوری برادری میںپیو ست ہو جائے۔ اور اُن سے متحد ہو جائے تاکہ سب مِل کر ایک ہوں۔

پر وین: ندیم ،آپ نے جو کچھ کہا۔میں اُسے ایک تمثیل سے واضح کر نا چاہتی ہوں۔چائے کے ایک پیالے میں کیا کیا ہوتا ہے۔

شمیم: چینی۔ چائے اور پانی

پر وین : صحیح ۔ جب ہم چائے کا پیالہ تیار کر لیتے ہیں۔تو کیا چینی چائے اور پانی میں کوئی فرق رہ جاتا ہے۔

تمام : نہیں۔

پروین: اب سوال ہے کہ اگر چینی یہ کہے کہ میں پتی اور پانی سے بہتر ہوں اور گھلنے سے انکار کر دے تو کیا چائے کا ذائقہ میٹھا ہو گا؟

تمام: نہیں۔

پروین: کیونکہ ایک نے پور ے میں گھُلنے سے انکار کردیا۔ پوراجسم بد مزہ ہو گیا۔اِس لئے جس طرح ندیم نے کہا ہمیں ایک بدن کی فطرت حاصل کر نے کے لئے ایک دوسرے میں گھل مل جانا چاہئے۔

زیدی: پر وین بہن، آپ کی مثال میںسب سے خوبصورت چیز یہ ہے کہ چینی گھُلنے اور غائب ہونے کے لئے تیار ہے تاکہ چائے کے پیالے کا ذائقہ اچھا ہو۔ ہمیں کتنا زیادہ اپنا انکار کرنا سیکھنا چاہیے اور اپنے بھائیوں کے لئے قربانی کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

ندیم: بہت اچھی مثال ہے، آپ کی تنقید بھی اچھی ہے۔ خُداوند چاہتا ہے ہم سیکھیں کہ ہمیں کِس طرح ایک دوسرے میں گھلنا مِلنا اور اپنا انکارکرنا ہے۔ تاکہ بدن کی صورت مکمل ہو اور ہم ایک ہو جائیں۔

سبق نمبر 19 صفحہ نمبر8

نائیلہ: ندیم بھائی ، جب کو ئی شخص گناہ میں زندگی بسر کر رہا ہو تا اور تاریکی میں چل رہا ہوتا ہے۔۔ یہ چیز اُسے بدن سے الگ کر دیتی ہے ۔ یوحنا رسول اپنے پہلے خط کے پہلے باب کی چھٹی اور ساتویں آیت میں کہتے ہیں،"اگر ہم کہیں کہ ہماری اُس کے ساتھ شراکت ہے اور پھر تاریکی میں چلیں تو ہم جھوٹے ہیں اور حق پر عمل نہیں کرتے ۔ لیکن اگر ہم نو ر میں چلیں جِس طرح وہ نور میں ہے تو ہماری آپس میں شراکت ہے۔ اور اُس کے بیٹے یسوع کا خون ہمیںتمام گناہ سے پاک کرتا ہے"۔

ندیم: نائیلہ بہن،آپ ٹھیک کہتی ہیں ، آئیں کُچھ وقت دُعا میں گزاریں ۔ خُداوندسے منت کر یں کہ ہمیں اُس نشان کو حاصل کر نے کے لئے جو کلیسیا کے طور پر ہمیں دیا گیا ہے، ایک بدن کی طرح زندہ رہنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

زیدی: خداوند ہمیں ایک جگہ اکٹھا کر نے کے لئے تا کہ ہمارا تیرے ساتھ تعلق قائم رہے۔ ہم تیرا شکر کر تے ہیں۔ آاور ہمیں آپس میں محبت کر نا اور ایک دوسرے سے رفاقت رکھنا سکھا۔ ہمیں سکھا کہ کس طرح ہمیں اپنے بھائیوں کے لئے زندہ رہنا ہے۔ خداوند میں اعلان کر تا ہوں کہ اپنے سارے بہن بھائیوں سے پیار کر وں گااور اپنے آپ کو اُن کے لئے قربان کر نے کو تیار رہوں گا عیسیٰ مسیح کے نام میں۔ آمین۔

عادل: خُداوند تیری کلیسیائ۔ تیرے بدن کے لیے میں تیرا شکر کرتا ہوں ۔ مُجھے اِن کے پاس یہاں لانے کے لئے تیرا شکرہو۔ مُجھے سچ مچ زندگی میں اِن کی ضرورت ہے اور میںاپنے بھائیوں کے ساتھ تیرے لئے مکمل طور پر جینے کی خواہش کرتاہوں۔سارا جلال تُجھے مِلے۔ آمین۔

تمام: آمین۔

ندیم: کیا کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے؟

زیدی: ندیم بھائی میں کہنا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی زیدی۔

زیدی: میں چاہتا ہوں کہ ہم ایک بار پھر پکنک کے لئے جائیں۔

تمام: اچھا خیال ہے۔ ابو میری بھی بڑی خواہش ہے۔ ہاں ندیم چلنا چاہئے۔﴿مختلف اظہار﴾

نائیلہ: میں نے سُنا ہے پچھلی بار پکنک بہت اچھی رہی تھی ۔ میں بھی لطف اندوز ہو نا چاہتی ہوں ۔

ندیم: ٹھیک ہے ۔ لیکن آپ جانا کہاں چاہتے ہیں۔

تمام: کہیں بھی، تازہ ہوا میں۔ مزہ آئے گا۔

سبق نمبر 19 صفحہ نمبر9

ندیم: کیا ہم نئے منگنی شدہ جوڑے کو موقع دیں کہ وہ فصیلہ کریں کہ کہاں جانا ہے؟

تمام: اچھا خیال ہے ۔ کیوں نہیں۔

ندیم: جی عادل ۔ آپ کہاں چاہیں گے کہ ہم جائیں۔

عادل: کِسی بھی جگہ جو شمیم کو پسند ہو۔

شمیم: ٹھیک ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے۔ اُسی پارک میں نہ جائیں جہاں پہلی بار گئے تھے؟

تمام: بالکل صحیح ۔ وہیں چلتے ہیں۔اچھا رہے گا۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ ہم اگلی بار اُس پار ک میں جائیں گے جہاں پہلے گئے تھے۔ ہم صبح سو یرے نکلیں گے اور پورا دن وہاں گزاریں گے۔