Hear Fellowship With My Family Episode 20 (Audio MP3)

View FWMF episode 20 as a PDF file

سبق نمبر20 صفحہ نمبر1

"حصہ داری"

﴿خانہ داری Music-Sounds﴾

پروین: ناصر چولھا بندکر دو۔

ناصر: ﴿اندر سے آواز﴾ اچھاامی

ندیم: پروین کیا آپ نے کام ختم کر لیا ہے؟

پروین: ندیم،میں ڈبل روٹی کاٹ رہی ہوں۔

ندیم: مجھے بتائو میں کیا کروں؟

پروین: ندیم پلیز چائے بنا کر تھر ماس میں ڈال دیں۔

شمیم: پروین باجی! میں تیار ہو گئی ہوں۔ مجھے بتائیں میں کیاکروں؟

پروین: شمیم آپ نے عادل کو بتا دیا ہے؟

شمیم: جی ہاں ! وہ ہمیں پارک میں ملیں گے۔

پر وین: میں نے انڈے اُبال دئیے ہیں ،انہیں چھیل کر تیار کر لو۔

شمیم: ٹھیک ہے۔

پروین: ناصر، تم وہاں کیا کر رہے ہو۔

ناصر: امی آرہا ہوں۔

پروین: جلدی کرو۔ دیر ہو رہی ہے۔

ناصر: جی امی، چلیں؟

پروین: ٹھیک ہے، سب تیار ہیں ، چلتے ہیں۔

﴿Musicپرندوں کی آوازیں﴾

ندیم: بھئی وہ لوگ یہاں پارک میں نظر نہیں آرہے۔

شمیم: وہ بیٹھے ہیں۔

ناصر: آنٹی شمیم، آپ کو بڑی جلدی نظر آگئے ہیں۔

شمیم: ناصر چپ کرو۔

پروین: آئیں، وہیں چلتے ہیں، اُن کے پاس۔

سبق نمبر20 صفحہ نمبر2

﴿Music﴾

ندیم: ہیلو زیدی بھائی، آپ کیسے ہیں۔

زیدی: ندیم بھائی میں ٹھیک ہوں۔

پروین: نائیلہ بہن،ہم آپ کو بہت یاد کرتے ہیں۔

نائیلہ: پروین بہن،ہم بھی آپ کی باتیں کر تے رہتے ہیں۔

ناصر: انکل عادل آپ کیسے ہیں۔

عادل: ناصر میں ٹھیک ہوں۔

ناصر: آنٹی شمیم ،آپ بھی عادل صاحب کا حال پو چھ لیں۔

شمیم: ناصر تم سے خاموش نہیں رہا جاتا۔

عادل: شمیم بولنے دیں اُسے ۔ پکنک پہ آئے ہیں۔

ندیم: لیکن یہ محض پکنک نہیں ہے۔ہم عبادت بھی کریں گے۔

عادل: عبادت ۔پارک میں ہم کیسے عبادت کر سکتے ہیں۔

ندیم: عادلِ، پچھلی بار ناصر نے یہی سوال پوچھا تھا۔ اُس کے خیال میں یہ عجیب بات تھی۔لیکن اگر ہم کلیسیائ کی تعریف کے بارے میں سوچیں ۔تو یہ اُن ایمانداروں کا گروہ ہوتا ہے جو عیسیٰ مسیح کے نام میں ملتے اور اکٹھے ہوتے ہیں کِسی وقت اور کِسی جگہ۔ اُن کا مقصد خُدا وند کے نام کو بلند کرنا اور اُسے جلال دینا ہوتا ہے۔ خُداوند خود اُن کے درمیان موجود ہوتا ہے۔ اِس تعریف کے مطابق ہم کِسی بھی جگہ عبادت کر سکتے ہیں۔خواہ وہ گھر ہو یا خوبصورت پارک۔آپ کو یاد ہوگا عیسیٰ مسیح نے خود باغ گتسمنی میں اپنے شاگردوں کے ساتھ دُعا کی تھی۔

نائیلہ: جی ندیم بھائی ،زیدی نے مُجھے بتایا کہ عبادت کہیں بھی ہو سکتی ہیں ۔ عیسیٰ مسیح کے شاگرد ہیکل میں مِلتے تھے حضرت پطرس کی ماں کے گھر میںملتے تھے اور بعض اوقات باہر کھلی جگہوں پر۔

عادل: ندیم بھائی، میں پہلی بار ایسی باتیں سن رہا ہوں۔مجھے یقین نہیں آتا۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ آج زیدی صاحب ہماری خوبصورت سیر و تفریح کے انچارج ہیں۔اُنہوں نے ہمارے لئے پروگرام ترتیب دیا ہے۔ زیدی صاحب ،پلیز بتائیں۔آج کا پروگرام کیا ہے۔

زیدی: سب سے پہلے ہم ناشتہ کریں گے۔ جو کہ شروع ہو چکا ہے۔﴿برتنوں کی آوازیں﴾اُس کے بعد اپنی اپنی ضرورتیں اور مشکلات سبق نمبر20 صفحہ نمبر3

ایک دوسرے کو بتائیں گے اور آخر میں اِن کیلئے دعا کریں گے۔

عادل: ضرورتیں اور مشکلات بتانے میں تو کافی وقت ضائع ہوگا۔

زیدی: عادل،وقت کبھی ضائع نہیں ہوتا ۔ شراکت یا باہم گفتگوایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔ جماعت میں کی جانے والی نہایت اہم باتوںمیں سے ایک شراکت بھی ہے۔

شمیم: میں محسوس کرتی ہوں کہ جب ہم باہمی گفتگو میں وقت صرف کرتے ہیں، ہم ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔

زیدی: اگر سب نے ناشتہ کر لیا ہے تو آئیں ہم خداوند کی ستایش کریں۔

عادل: زیدی صاحب میں کُچھ کہنا چاہتا ہوں۔

زیدی: جی عادل کہئے۔

عادل: اِن خوبصورت درختوں ، پھولوں اور صاف آسمان کو دیکھ کر مجھے وہ گیت یاد آرہا ہے،’’تو ہے عظیم کتنا عظیم ‘‘کیا ہم یہ گیت گا سکتے ہیں۔

زیدی: کیوں نہیں۔ناصر ہارمونیم بجائیں،اِس بات کی پرواہ نہ کریں کہ ہم پارک میں ہیں۔ ہم زندہ خداوند کی پر ستش کر نے لگے ہیں۔

ناصر: ٹھیک ہے انکل

تمام: گاتے ہوئے۔﴿گیت:تو ہے عظیم کتنا عظیم﴾

تمام: آمین۔

زیدی: اب کون بات چیت شروع کرے گا۔

شمیم: میں شروع کروں گی۔

زیدی: ٹھیک ہے شمیم۔

شمیم: عادل اورمیںکُچھ عرصے سے فلیٹ کی تلاش کر رہے ہیں۔ ہمارے مالی حالات اتنے اچھے نہیں کہ ہم مہنگا مکان کرائے پر لے سکیں۔ ہم نہیں جانتے کہ کیا کریں۔

عادل: کافی خیال میرے ذہن میں آئے ہیں۔ اُن میں سے ایک یہ ہے کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ رقم اکٹھی کر نے کیلئے شاید مجھے اوور ٹائم لگانا ہے۔

زیدی: بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن کیا آپ کو مناسب کام مِل گیا ہے؟

عادل: مُجھے اچھی آمدنی والی بہت سی ملازمتیں مِل رہی ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میرا سارا وقت وہیں لگ جائے گا۔

سبق نمبر20 صفحہ نمبر4

پروین: عادل آپ نہ تو عبادت میں جاسکیں گے بلکہ دعا اورنہ ہی آپ کو دعا اوربائبل مقدس کے مطالعے کیلئے وقت ملے گا آپ کی روحانی زندگی کمزور ہو جائے گی۔

عادل: پروین باجی آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ایک اور خیال میرے ذہن میں آتا ہے کہ میں اپنے بھائی کے پاس جرمنی چلا جائوں ۔وہاں اگر میں ایک سال کیلئے کام کروں تو کا فی رقم اکٹھی ہو سکتی ہے۔

ندیم: عادل میری بات سنو،بائبل مقدس میں لکھا ہے، "کوئی آدمی جو جنگ میںجاتا ہے اپنے آپ کو زندگی کے معاملات میںنہیں

الجھا تا"۔ کیا آپ کو پتہ ہے اِس آیت کا کیا مطلب ہے۔

شمیم: مجھے پتہ ہے۔سپاہی کا سارا دھیان میدانِ جنگ میں ہو نا چاہئے۔ اُسے کھانے یا پینے یا زندگی کی کِسی دوسری چیز کی فکر نہیں ہونی چاہئے۔

ندیم: بالکل۔ ہم خُداوند کی فوج کے سپاہی ہیں۔ خُداوند ہمارے وسیلے اپنی بادشاہت پھیلانا چاہتا ہے۔ اِس جنگ کے دوران ہم اپنی منزل کو نہیں بھلا سکتے ۔ شیطان آپکو مصروف رکھنا اور فکر مند کرنا چاہتا ہے وہ آپ کو مصیبت میںڈالنا چاہتا ہے ۔ ایسی مصیبت جس میں سے آپ کو نکلنے کی راہ نہیں ملے گی۔

زیدی: عادل،بائبل مقدس میں یہ بھی لکھا ہے،"پہلے خدا کی بادشاہی اور راستبازی کی تلاش کرو تو یہ ساری چیزیں تمہیں مِل جائیں گی"۔پس خُدا چاہتا ہے کہ سب سے پہلے زمین پراُس کی بادشاہی کی فکر کریں اور وہ ہماری ساری ضرورتیںپوری کرے گا۔

عادل: آپ جو کہتے ہیں میں مانتا ہوں لیکن اِن پر عمل کر نا مشکل ہے۔ خُدا میری ساری ضرورتیں کیسے پوری کر سکتا ہے۔

ندیم: آپ اِن باتوں کو مانیں،جونہی آپ اپنا بوجھ خداوند پر ڈال دیں گے۔آپ کی زندگی میں خدا کو جلال ملے گا۔ میںنے ذاتی طور پر اِس کاتجربہ کیا ہے۔ جب میں اور پروین اپنی شادی کی تیاریا ں کر رہے تھے۔ ہم نے ایک فلیٹ ڈھونڈنا شرو ع کیا۔ ہمارے پاس کافی رقم نہ تھی۔ اور شیطان نے ہر طریقہ آزمایا کہ میں اپنی خِدمت چھوڑ دوں لیکن میںنے اورپروین نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنی خِدمت نہیںچھوڑیں گے۔ ہم نے دُعا کرنا اور خُدا پر بھروسہ رکھنا جاری رکھا۔ آخر ایک مہینے بعد ہمیںفلیٹ مِل گیا ۔ جو میر ے ابو کے فلیٹ کے قریب تھا۔اگرچہ میر ے پاس کرایہ کی ساری رقم نہ تھی لیکن زیدی بھائی اورمیرے ابو نے کافی مدد کی۔ سو ہمیں کرائے پر کمرہ مِل گیا جو ہم نے خواب میںبھی نہیں دیکھا تھا۔

پروین: عادل،آپ کو اور شمیم کو اس مسئلے کے حل کیلئے دعا میں ٹھہرنا چاہئے۔خدا پر بھروسہ رکھیں۔ خُدا ہرضرور ت پوری کرے گا ۔

زیدی: آمین۔ آئیں عادل اور شمیم کے لئے دُعا کریںاور خداوند سے منت کریں کہ اِن کی یہ ضرورت پوری کرے اور اِنہیںمناسب جگہ مل جائے۔ناصر آپ دعا کریں۔

سبق نمبر20 صفحہ نمبر5

ناصر: خُداوند میں تیرا شکر کرتا ہوںتو نے ہمیں آج یہاں جمع کیا ہے۔ خداوند میں عادل اور شمیم کے لئے دُعا کرتا ہوں ۔ تُواِن کی آنکھیں کھول دے تاکہ یہ جان سکیں کہ تُو اِن کا چرواہا ہے۔ جو سب ضرورتیں پوری کرسکتاہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ انہیں جلد فلیٹ مل جائے جو تیری پاک مرضی میں ہے۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔ آمین۔

تمام: آمین۔

زیدی: آمین۔ناصر آپ کُچھ کہنا چاہتے تھے۔

ناصر: جی ،میرے امتحان ختم ہو گئے ہیں۔میں کچھ دیر کام کر نا چاہتا ہوں۔میرے لئے دعا کریں کی مجھے کوئی مناسب کام مل جائے۔

زیدی: ناصر۔ میرے دوست کا پر نٹنگ پر یس ہے ۔ میں تمہارے بارے میں اُس سے بات کروں گا۔

عادل: جس ہو ٹل میں میں کام کر تا ہوں۔وہاں میں بھی پتہ کر وں گا۔

زیدی: کوئی اور ہے جو اپنی مشکل یا مسئلہ بتانا چا ہتا ہو۔

نائلہ: جی میں بتانا چاہتی ہوں۔

زیدی: جی نائیلہ۔

نائیلہ: کیونکہ میںاِن دِنوں آپ کے ساتھ عبادت میں شریک ہو رہی ہوں۔ اِس لئے مجھ پر خاندان کی طرف سے کافی دبائو ہے۔ جووہ کہتے ہیں۔اُس سے مجھے بہت دکھ ہو تا ہے اور غصہ آتاہے۔سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں۔

ندیم: نائیلہ بہن،عیسیٰ مسیح کو بھی لوگ دکھ دیتے تھے۔۔ لیکن وہ کبھی غصہ میں نہیں آتے تھے۔ وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے تھے ۔ متی رسول کی معر فت لکھی گئی انجیل اُس کے پانچویں باب کی گیارھویں آیت میں لکھا ہے ،"جب میرے سبب سے لوگ تم کو لعن طعن کریں گے اور ہر طرح کی بُری باتیں تمہاری نسبت ناحق کہیں گے تو تم مبارک ہوگے" نائیلہ بہن ،آپ مبارک ہیں جوکچھ اُن کی خاطر آپ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ آپ غصے میں نہ آئیں بلکہ شادمان ہوں۔

شمیم: آپ نے مُجھے حضرت پولوس رسول کے بارے میں یاد دِلا دیا ہے۔ جو اُنہوں نے ا فسیوں کے نام خط میں لِکھا۔ " جس کی خاطر میں زنجیروں سے بندھا ایلچی ہوں"۔قید میںحضرت پولوس رسو ل اپنے آپ کو عیسیٰ مسیح کا ایلچی سمجھتے تھے۔ اور وہ اِس صورتحال سے خوش تھے کیونکہ خداوند کی خاطر اُن کے ساتھ یہ برتائو کیا جاتا تھا۔

نائیلہ: زیدی اکثر مجھے تسلی دیتے ہیں لیکن میں خاندان والوں سے ڈرتی ہوں۔ میں ڈرتی ہوں کہیں وہ مُجھے دکھ نہ دیں یازیدی کو اذیت نہ دیں ۔ میں اپنے بارے میں بھی محسوس کرتی ہوں۔

پروین: نائیلہ ،فکر نہ کریں، خداوند عیسیٰ مسیح اپنے فرزندوں کو اپنے خون سے بچاتے ہیں اور کوئی انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ عیسیٰ

سبق نمبر20 صفحہ نمبر6

مسیح فرماتے ہیں، "اُن سے نہ ڈرو جو بد ن کو قتل کرتے ہیں"۔دیکھو نا ، ابد یت کھو کر اس زمین پر اپنے بدن کو بچانے کا کیا فائدہ۔ بے شک وہ ہمارے بدن کو قتل کر دیں۔ہمیں خداوند کی تعر یف کر نے چاہئے۔ کیونکہ ہماری روحیں آسمان پر خداوند کے ساتھ رہئیں گی۔

شمیم: شیطان خیالات اور جذ بات کی جنگ آپ سے لڑ تا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر آپ کی قدر ومنز لت کو دکھ پہنچے گا تو آپ تھک جائیں گی۔ مایوس ہو جائیں گی۔ یہی وجہ ہے شیطان اپنی جنگ میں اِس نقطے پر زور دیتا رہتا ہے۔

عادل: شمیم آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ بائبل مقدس میں لکھا ہے ، "اپنی سار ی فکر اُس پر ڈال دو کیونکہ اُس کو تمہاری فِکر ہے "۔یہ بھی لکھا ہے، میں تُجھے نہیں چھوڑونگا۔ نہ تُجھ سے دست بردار ہونگا۔ ہمیں دلیری سے کہنا چاہئے کہ خُداوند میرا مددگار ہے۔میں نہیںڈروں گا۔ انسان میرا کیا بگاڑسکتا ہے۔ نائیلہ بہن اپنی ساری فکریں اُسی پر ڈال دیں۔ کیونکہ اُس نے ہمیںکبھی نہ چھوڑنے یا دستبردار ہونے کا وعدہ کیا ہے۔

نائیلہ: شکر یہ ، جو کچھ آپ لوگوں نے کہا ہے۔اُس سے مُجھے تسلی ہوئی ہے۔ اور میں عجیب سا سکون محسوس کر نے لگی ہوں۔

زیدی: خداوند کا شکر ہو۔

تمام: خداوند تیری تعر یف ہو۔ ہم سارا جلال تجھے دیتے ہیں۔

زیدی: آمین، میں بھی ایک عجیب بات آپ کو بتا نا چاہتا ہوں۔چند دن ہوئے،میں رات کے وقت کچھ چیزیں لینے مارکیٹ گیا۔ گلی میں مُجھے ایک جوان آدمی ملا۔ جِس کی عمر 20سال کے قریب تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ اُسے کوئی تکلیف ہے۔ میں اُس کے پاس گیا اور پوچھا کیا میری مدد کی ضرورت ہے۔ اُس نے بتایا کہ میں بس سے گِرگیا ہوں اور میری ٹانگ بُری طرح زخمی ہے۔ میںنے

پو چھا، تم ہپستال کیوں نہیں گئے اور مرہم پٹی کیوں نہیںکروائی۔ وہ خامو ش رہا اور کوئی جواب نہ دیا۔ میںسمجھ گیا کہ اُس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میرے پاس بھی کافی پیسے نہ تھے ۔ میں نے دُعا کی کہ اے خُدا تو کوئی بندوبست کر۔ ہم قریبی ہپستال گئے اور وہاں ڈاکٹر نے،یہ سُننے کے بعد کہ اُس کے ساتھ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔ پیسے نہ لئے۔ میں بہت خوش ہُوا۔ لیکن میںنے محسوس کیا کہ خُداوندمُجھے کہہ رہا ہے کہ اُسے رات کے کھانے کے لئے پیسے دوں۔ میں نے وہ سب رقم جو میرے پاس تھی اُسے دے دی اور اپنے لئے کچھ نہ خریدا۔ میں نے گھر آکر نائیلہ کو سب کچھ بتا دیا۔ وہ بھی بہت خوش ہوئی۔ اگلے دِن خُد ا نے مُجھے اچھی آمدنی والی ملازمت د ے دی۔

تمام: خوب۔ خُداوند کی حمد ہو۔ عیسیٰ مسیح تیرا شکر ہو ﴿مختلف اظہار﴾

ندیم: آمین،زیدی بھائی ۔ ہمارا خُدا بہت عظیم ہے اور وہ اپنے سب وعدوںمیں وفادار ہے۔ اُس نے کہا،"دو اور تمہیں دیا جائے گا " ہم سبق نمبر20 صفحہ نمبر7

پہلے بھی دیکھ چکے ہیں کہ دینے میں گہری بر کت ہے۔ خاص طور پر جب ہم اپنی ضرورتوںمیں سے دیتے ہیں۔جیسے زیدی نے دیا۔ خُدا کی حمد ہو۔

زیدی: خداوند کی تعر یف ہو۔ جس نے مجھے سیکھا یاکہ بر کت حاصل کرنے کے لئے دینا بہت ضروری ہے۔

نائیلہ: ہر بار جب میں عیسیٰ مسیح کے بارے کوئی نئی بات سیکھتی ہوں ۔میرا دل اُس کی تعر یف سے بھر جا تا ہے۔میں اُن دنوں کے لئے افسوس کر تی ہوں۔ جو میں نے عیسیٰ مسیح کے بغیر گزار دئیے ۔مُجھے یادہے۔جب ہمارے پاس مشکل سے کھانے کو ہوتا تھا اور اور زیدی اپنے کسی دوست کو پیسے دے دیتے تھے اور کہتے تھے۔ جب ہم دیتے ہیں تو خُدا ہمیں برکت دیتا ہے۔ مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔لیکن اب میں نے خود آزما لیا ہے کہ جو کچھ زیدی کہتے تھے سچ ہے اب میں عیسیٰ مسیح پر ایمان لے آئی ہوں۔ خداوند کی

تعر یف ہو۔

ندیم: نائیلہ۔ خُداوند کی حمد ہو۔زیدی صاحب کیا میں کُچھ کہہ سکتا ہوں۔

زیدی: ندیم بھائی، کیوں نہیں؟

ندیم: پچھلے ہفتے میرے ساتھ بھی ایک حیران کُن ماجرا پیش آیا۔کوئی بھی شخص کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کر تا جو اُس کی شکا یت انتظامیہ سے کر تا ہو۔ چند دن ہوئے ایک شخص جو میرے ساتھ کام کر تا ہے۔ میرے پا س آیا۔ وہ بہت اداس تھا۔ اُس کا چہرہ اترا ہوا تھا۔ میںنے اُس سے پوچھا ، کیابات ہے۔ اُس نے مجھے بتایا کہ اُس کا بیٹا بہت بیمار ہے۔ وہ بہت ڈاکٹروں کے پاس جا چُکاہے۔ لیکن آرام نہیں آتا ۔ میں نے اُسے شفائ دینے والے خُدا کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ میں نے بتا یا کہ عیسیٰ مسیح اُسکے بیٹے کو شفائ دے سکتے ہیں۔ اگرچہ وہ بہت قائل نظر نہیں آرہاتھا۔ پھر بھی اُس نے مُجھے اپنے بیٹے کے لئے دُعا کر نے کے لئے اپنے گھرآنے کو کہا۔ میں اُس کے گھر گیا اوراُس لڑکے کے لئے دُعا کی۔اگلے دِن جب میں اُسے کام پر مِلا وہ بہت خوش تھا ۔اُس نے بتایا، جیسے ہی میں اُس کے گھر سے نِکلا ۔ اُس کے بیٹے نے باتیںکرنا شروع کر دیں۔ اُس نے بتایا کہ اُس کے بیٹے نے کِسی کو سفید چوغے میں اُس کے بستر کے قریب دیکھاجس نے اپنا ہاتھ اُس پر رکھا اور کہا، اُٹھ کھڑا ہو۔ تمہیں شفائ مِل گئی ہے۔ پھراُس شخص نے مجھ سے کہا، یہ عیسیٰ مسیح ہیں۔ جومیرے بیٹے پر اُس وقت ظاہر ہُوئے ۔جب آپ نے اُس کے لئے دُعا کی۔اُس نے یہ بھی کہا کہ اب وہ بالکل ٹھیک ہے۔ بھائیو بہنو، اُس شخص نے درخواست کی ہے کہ میں اُسے عیسیٰ مسیح کے متعلق اور بتائوں۔

ناصر: خوب۔ا بو یہ تو خوشی کی بات ہے۔ آپ نے کیا کہا؟

سبق نمبر20 صفحہ نمبر8

ندیم: میرے لئے یہ عجیب بات تھی۔ اور میرے ساتھ کام کر نے والے دوسرے دوست جو اُس سے ناخوش رہتے تھے۔ بہت حیران تھے اورپوچھ رہے تھے کہ میں نے اُس کے ساتھ کیا کیا ہے۔ وہ بالکل بدل گیا ہے۔

تمام: شکر ہو۔خدا کی حمد ہو۔ سارا جلال اُسی کو ملے۔

زیدی: کوئی اور کُچھ کہنا چاہتا ہے۔

عادل: جی ،میں کہنا چا ہتا ہوں۔

زیدی: ہاں عادل

عادل: شمیم نے کئی بار مُجھے بائبل مقدس کے مطالعہ کے بارے میں بتایا جو آپ کرتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میں بھی آپ کے ساتھ مل کر بائبل مقدس کامطالعہ کیاکروں۔

زیدی: خداوند کا شکر ہو۔ دوستو کیا خیال ہے۔ اگلی بار افسیوں کے خط کا مطالعہ نہ کریں؟

تمام: ٹھیک ہے۔کیوں نہیں۔ضرور

زیدی: تو اگلی بار ہم حضرت پو لوس رسول کے افسیوں کے نام خط کا مطالعہ کریں گے۔