Hear Fellowship With My Family Episode 21 (Audio MP3)

View FWMF episode 21 as a PDF file

سبق نمبر21 صفحہ نمبر1

"افسیوں کے نام خط"

﴿ایک ہوٹل سے آواز﴾

شمیم: عادل کیا حال ہے؟ کام ختم کر لیا آپ نے؟

عادل: شمیم۔ آپ یہاںکیا کر رہی ہیں۔

شمیم: میری ایک سہیلی نے مجھے بتایا ہے کہ ایک اچھا مکان مل رہا ہے۔ میں نے سوچا آپ کو بھی ساتھ لے لوں۔

عادل: ٹھیک ہے۔ میں نے کام ختم کر لیا ہے۔ چلتے ہیں۔

﴿گلی کی آوازیں﴾

شمیم: عادل۔ میں خوش ہوں کہ آپ نے کلیسیائ میں ہمارے ساتھ بات کرنے کے بعد جرمنی نہ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

عادل: ہاں شمیم،میں نے محسوس کیا کہ شیطان چاہتا ہے کہ ہم اپنی ضرورتوںکیلئے فکر مند ہوں اور اپنے عظیم مقصد کو بھول جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ایک کمرے کیلئے بھی جو ہمارے بجٹ کے مطابق ہو، خداوند پر بھروسہ کیا ہے۔

شمیم: اچھی بات یہ ہے کہ یہ کمرہ آپ کے کام کے نزدیک ہے۔

عادل: شمیم۔ کیوںنہ ہم خُدا سے دُعا کریں کہ ہمارے فیصلے میں ہماری رہنمائی کرے۔ہم یہ دعا چلتے چلتے کرتے ہیں۔

شمیم: ٹھیک ہے،خداوند ہم تُجھے جلال دیتے ہیں کیونکہ تُو ہمارا اچھا باپ ہے۔ ہم تیرا شکر کرتے ہیں کیونکہ تُو نے ہمارے لئے گھر کا

بندو بست کیا ہے۔ ہم دُعا کرتے ہیں کہ یہ جاننے میں ہماری مدد کر کہ آیا یہ گھر ہمارے لئے ٹھیک ہے یا نہیں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں آمین۔

عادل: اور یہ رہا گھر۔ایڈریس یہی ہے نا۔

شمیم: کمرہ تیسری منزل پر ہے۔آئیں اوپر چلتے ہیں۔

﴿موسیقی﴾

شمیم: عادل۔ یہ بہت خوبصورت کمرہ ہے۔

عادل: ہاں۔ اور مناسب بھی۔

شمیم: عادل کل صبح بنیک سے پیسے نکلواتے ہیں اور خرید لیتے ہیں۔

عادل: شمیم صبر کریں۔ کیاآپ بھول گئی ہیں کہ ہمیں خُدا کی مرضی جاننے کے لئے دُعا کرنے کی ضرورت ہے۔

شمیم: سوری عادل،میںبھول گئی ۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ ہمیں دُعاکرنی چاہیے اور یقین کرلینا چاہئے کہ خدا کی کیامرضی ہے۔

سبق نمبر21 صفحہ نمبر2

عادل: شمیم ایک بات یاد رکھیں کہ وہ کمرہ جو ہم لیں گے ۔ندیم بھائی کے گھر کی طرح کلیسیائ یعنی جماعت کے طور پر استعمال ہو گا۔

شمیم: ٹھیک ہے۔ آج ہم کلیسیائ سے رائے لیں گے۔

عادل: آئو چلتے ہیں۔

﴿موسیقی +ممبران کی گفتگو﴾

ندیم: خُدا کی حمد ہو۔ ہمارا خُداوند بھلا ہے۔ ہم جب بھی اُس کی حضوری میں اکٹھے ہو تے ہیں وہ ہمیں خو شیوں سے بھر دیتا ہے۔اُس کی تعر یف ہو۔پچھلی بار ہم نے کہا تھا کہ آج ہم افسیوں کے خط کا مطالعہ کریں گے۔آپ کو یاد ہے نا؟

تمام: ہاں۔ہمیں یاد ہے۔بالکل یاد ہے۔ ﴿مختلف بیانات﴾

ندیم: تو آئیں سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ افسیوں شہر کہاں پر واقع ہے اور کیوں مشہور ہے۔ کون بتائے گا۔

پروین: ندیم، پچھلی بار نائیلہ نے حضرت یوسف کی زندگی سے ہمیں متعارف کر وایا تھا۔کیوں نہ نائیلہ سے کہیں کہ آج افسیوں شہر کا تعارف پیش کریں؟

تمام: جی۔ کیوںنہیں۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ جی نائیلہ بہن ۔

نائیلہ: آپ نے مجھے اِس قابل سمجھا۔بہت شکریہ۔ پولوس رسول نے سن 62میں یہ خط لِکھا جب وہ روم میں قید تھے۔

ناصر: نائیلہ آنٹی،یہ وہی جگہ تھی ناجہاں اُنہوں نے فلپیوں کے نا م خط لِکھا ۔

نائیلہ: جی ہاں ناصر،یہ وہی جگہ ہے ۔ افسس کاشہر آسیہ کے مغربی کنارے پر تھا۔یہ سیاست، معیشت اور مذہب کے لئے بہت مشہور تھا۔یہاں پر زیادہ یونانی رہتے تھے۔ وہ بُت پرست تھے اور اُن کے پاس ارتمس دیوی کامندر تھا۔ یہ مندر دنیا کے سات عجوبوں میںشامل ہے۔ اُنکا خیال تھا کہ ارتمس دیوی آسمان سے اُترتی تھی۔ ہم یہ سب کُچھ اعمال 19باب35آیت میں پڑھتے ہیں۔ شمیم! کیا آپ مہربانی کرکے یہ آیت پڑھیں گی۔

شمیم: جی ہاں ﴿کتاب کھولتے ہوئے﴾ پھر شہر کے محرر نے لوگوں کو ٹھنڈا کر کے کہا اے افسیو! کون سا آدمی نہیں جانتاکہ افسیوںکاشہربڑی دیوی ارتمس کے مندر اور اُس مورت کا محافظ ہے جو زیوس کی طرف سے گِری تھی؟

نائیلہ: شمیم شکریہ۔اگرچہ یہ شہر بُت پرست تھا اور یہاں لوگوںکو عیسیٰ مسیح کے بارے میں بتانا بہت مشکل تھا ۔ خدا حضرت پولوس کے ساتھ تھااور اُن کی رسالت کامیاب تھی۔ اُنہوں نے وہاں دو سال خِدمت کی۔ آسیہ کے رہنے والے سارے لوگوں نے عیسیٰ مسیح کے بارے میں سُنا اور بہت سے لوگ عیسیٰ مسیح پر ایما ن لائے۔بائبل مقدس اعمال کی کتاب اُس کے 19باب ک

سبق نمبر21 صفحہ نمبر3

19اور20آیت میںذِکر کرتی ہے کہ بہت سے لوگوں نے اپنے عجیب علوم کی کتابیںجلا دیں۔ جب اِن کتابوںکی مالیت کا حساب لگایا گیا تو پچاس ہزار روپے نِکلا۔ بیسویں آیت بتاتی ہے ،"اِس طرح خُدا کا کلام بڑھا اور غالب آیا"۔

ندیم: نائیلہ بہن،اِس خوبصورت تعارف کے لئے شکریہ۔

ناصر: ابویہ بہت ضروری تھا کہ اس خط کی تحریر کے حالات کو جانا جائے۔ کیونکہ اِس سے بہت سی چیزوں کی وضاحت ہوئی ہے۔

ندیم: جی ناصر،آئیں اب خط کا مطالعہ شروع کریں کون شروع کرے گا۔

زیدی: میںشروع کروں گا۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ زیدی بھائی۔

زیدی: نائیلہ نے اپنے تعارف میںکہا کہ ارتمس کا مندر دنیا کے سات عجائبات میں سے تھا لیکن آخر سن262میں تباہ کر دیا گیااور خُدا ہمیں بتانا چاہتا ہے کہ اگرچہ یہ مندر عظیم اور مضبوط تھا۔ وہ آسانی سے تباہ کر دیا گیا۔ لیکن کلیسیائ یعنی جماعت خُدا کی ہیکل ہے جہاں وہ ٍ رہتا اور آرام کرتا ہے۔ کلیسیائ کبھی برباد نہیں ہوگی کیونکہ بائبل مقدس فر ماتی ہے کہ دوزخ کے دروازے اس پر غالب نہ آئیں گے۔

ندیم: خُدا کی حمدہو۔ آپ نے ٹھیک کہا۔ کلیسیائ کے لئے برباد ہونا ناممکن ہے۔ کیونکہ خُداوندعیسیٰ مسیح نے اِسے شروع کیا اور وہ کونے کے سرے کا پتھر ہیں۔ کلیسیائ زمین پرعیسیٰ مسیح کا بدن ہے۔ جِس کے وسیلے وہ شیطان کی بادشاہت کو برباد کر سکتا ہے۔ بہت سی

قو میں عیسیٰ مسیح کے بدن کے وسیلے سے خُدا کی بادشاہت میںآئیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلیسیائ برباد نہیں ہو سکتی۔ ﴿Pause﴾کوئی اور کچھ کہنا چا ہتا ہے۔

شمیم: جی میں کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: شمیم کہیئے۔

شمیم: حضرت پو لوس رسول اپنے افسیوں کے خط کے پہلے باب کی پندرہ آیت میں یوں فرماتے ہیں۔" اِس لئے جب میں نے مسیح یسوع پر تمہارے ایمان اور سب مقدسوں سے محبت کے بارے میں سُنا "۔حضرت پولوس رسول کہہ رہے ہیں کہ اگرچہ وہ قید میں تھے اور زنجیروں سے بندھے تھے۔ کوئی چیز انہیں خِدمت اور نگہداشت اور اُن کے لئے دُعا سے نہیں روک سکتی۔پولوس رسول قید میں اپنا وقت مایوسی میںنہیں گزارتے تھے اور نہ ہی خدا سے کہتے تھے کہ مجھے قید سے چھڑا۔ اِس کے بر عکس وہ بہت سے خط لکھنے میں معر وف رہے۔ جو بات میں یہاںسیکھتی ہوں یہ ہے کہ جب کبھی مصیبت مجھ پر آئے میری خِدمت نہیں رُکنی چاہیے ۔ حا لات کیسے بھی کیوں نہ ہوں۔مجھے عیسیٰ مسیح کے جلال کیلئے استعمال کر نے چاہئے۔

سبق نمبر21 صفحہ نمبر4

ندیم: بالکل ٹھیک۔ کوئی بھی چیزحضرت پولوس کو خِدمت اور دوسروں کے لئے دُعا سے نہ روکتی تھی۔ پولوس رسول کی دُعا میں ایک خوبصورت چیز یہ تھی کہ اُن کی دُعا واضح نشانوں کے ساتھ ہوتی تھی ۔ بعض اوقات ہماری دُعائوں کا جواب نہیں مِلتاکیونکہ وہ واضح نہیں ہوتیں۔آج ہم سیکھیں گے کہ جب دُعا کریں تو ہماری دُعائیں واضح ہوں ۔ اَب کون کُچھ کہے گا؟

زیدی: میں کہوں گا۔

ندیم: جی زیدی بھائی۔

زیدی: افسیوں کے خط کے پا نچویں باب کی پانچویں آیت میں لکھا ہے۔ہمیں ہمیشہ سب چیزوں کے لئے خُدا اور باپ کا ہمارے خُداوندعیسیٰ مسیح کے نام میں شکر کر تے رہنا چاہئے۔ یہ خدا کا حق ہے کہ ہم تمام حالات کے لئے خواہ یہ مشکل ہی کیوں نہ ہوں اُس کا شکر کریں۔

عادل: زیدی بھائی ،میں کچھ کہنا چا ہتا ہوں۔ بعض اوقات میں خُدا کا شکر کرتا ہوں لیکن بعض اوقات نہیں کر سکتا۔ بعض چیزیں ہیں جو میری بھلائی کے لئے نہیں ہوتیں۔اور میں اِس بات کیلئے قا ئل نہیں ہوں کہ ہر بات کیلئے خدا کا شکر کروں۔

زیدی: عادل کیا آپ جانتے ہیں کہ میںنے پانچوں آیت کیوں چُنی ۔

عادل: کیوں؟

زیدی: کیونکہ دو ماہ پہلے میں یہی کیا کرتا تھا ۔ ہر بات کیلئے خدا کا شکر کر تا تھا۔بھائیو بہنو! آپ کو تو یاد ہوگا؟

تمام: جی ہاں۔ ہمیں یاد ہے۔

زیدی: اُس وقت میرا دوست اور میں کُچھ کاغذ باہر سے منگوا رہے تھے۔بعد میں قیمتیں گِر گئیں میں بہت پر یشان ہوا اور آپ سے اپنی

پر یشانی کا ذکر کیا۔ہم نے اپنی زندگیوںمیں خُدا کا شکر کرنے کے بارے میں گفتگوکی کہ خُدا کِس طرح ایک لعنت کو برکت میں بدل دیتا ہے۔ میں نے دُعا کی اور خُدا کا شکر کیامیرے دل میں سکون تھا کہ میرے حالات بدل جائیں گے۔ جب میں گھر واپس آیا میں نے نائیلہ کو اِس کے بارے میں بتایا لیکن نائیلہ میرا مذاق اڑانے لگی۔ نائیلہ آپ کو یاد ہے؟

نائیلہ: جی ہاں،مجھے یاد ہے۔ میں اُس وقت اِن چیزوں کو نہیں جانتی تھی۔

زیدی: مُجھے خداکے وعدے پر بھروسہ تھا میں جانتا تھا کہ ساری چیزیںمِل کرخدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں۔ اورآخر کار ساری چیزیں بھلائی میں تبدیل ہو گئیں۔

عادل: لیکن یہ کِس طرح ہوا۔

زیدی: عادل ،جب قیمتیں گِر گئیں ۔ میںنے کاغذ بیچنے سے انکار کر دیا ۔ جب قیمتیں بڑھ گئیں ۔میں نے کاغذ بیچ دیا۔میرے اندازے سبق نمبر21 صفحہ نمبر5

سے تین گناہ بڑھ کر مجھے منا فع ہوا۔

تمام: خدا کی تعریف ہو۔ اُس کی حمد ہو۔﴿دوسرے کلمات﴾

ندیم: آئیں وہ گیت گائیں۔ ساری چیزیں خداوند سے محبت رکھنے والوں کیلئے بھلائی پیدا کرتی ہیں۔ناصر شروع کریں۔

ناصر: جی ابو۔﴿گیت﴾

ندیم: حضرت پولوس چھٹے باب میں چند ہتھیا روں کا ذکر کر تے ہیں۔ جو شیطان کے خلاف لڑائی میں ہمیںاستعمال کرنے چاہیں۔ آئیں دیکھتے ہیں۔وہ کون سے ہتھیا رہیں۔ ہم باری باری اُن کا ذکر کریں گے۔کون شروع کرے گا۔

پروین: ندیم میں شروع کروں گی۔

ندیم: ٹھیک ہے پروین۔

پروین: ندیم 14آیت میں پہلے ہتھیا ر کا ذکر ہے۔لکھا ہے۔'پس سچای سے اپنی کمر کس کر"۔یہاںپر سچائی خوشخبری میں خدا کا وعدہ ہے۔ مثال کے طور پر خُداوند عیسیٰ مسیح نے کہا، میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔ بعض اوقات جب ہم مشکل میں ہوتے ہیں ، شیطان جھوٹ بولتا ہے کہ خدا نے ہمیں چھوڑ دیا ہے۔بھائیو بہنو، شیطان ہم سے جھوٹ بول رہا ہوتا ہے۔ہمیںکمر کس کر سچائی کو تھام لینا چاہئے۔ اور سچائی یہ ہے کہ عیسیٰ مسیح ہمیشہ ہمارے ساتھ ہیں۔سچائی سے کمر بستہ ہو نے کا یہ مطلب ہے۔

ندیم: بے شک۔ خُدا کے وعدے سچائی ہیں۔ شیطان کے خلاف ہماری لڑائی میں یہ اہم ترین ہتھیار وں میں سے ایک ہے ۔ جب آپ بات کر رہی تھیں۔میرے ذہن میں یہ بات آئی ۔جب سپاہی اپنی بیلٹ لگاتا ہے۔ وہ صرف اُسی وقت اُتارتا ہے جب سوتا ہے۔ کیا آپ کو بائبل مقدس کی کوئی کہانی یاد ہے۔جس میں کوئی فو جی لیڈر جنگ کے دوران سو جاتا ہے۔

ناصر: ابو،میرا خیال ہے یہ سیسرا تھا ۔ قاضیوں کی کتاب میںاِس کا ذِکر ہے۔

ندیم: ناصر بہت اچھا۔ ہمیںاُس کی کہانی بتائیں۔

ناصر: ٹھیک ہے۔ سیسرا ایک فوجی قائد تھا ۔وہ ایک بڑا آدمی تھا۔ خُدا کے لوگ 20سال سے اُس کے غلام تھے۔ ایک دِن اُس کے اور خُدا کے لوگوںکے درمیان جنگ ہوئی ۔ لڑائی اِس قدر شدید تھی کہ وہ ایک عورت کے خیمے میں چھپ گیا ۔ اور اُس سے اجازت لے کر کچھ دیر کیلئے سو گیا۔

نائیلہ: خوب۔ جنگ ہو رہی تھی اور وہ سو گیا۔

ناصر: ہاں وہ سو گیا۔اور اُسے مارنا بہت آسان ہوگیا۔ اُس عورت نے ایک ہاتھ میں خیمے کی میخ لی اور دوسرے ہاتھ میں ہتھوڑا لیا۔ اورجب وہ گہری ننید میں تھا،ہتھوڑے سے اُس کی کنپٹی پر میخ گاڑ دی اور وہ مرگیا۔

سبق نمبر21 صفحہ نمبر6

پروین: جب ہم خُدا کے وعدوں سے دور ہوتے ہیں۔ ہم کمزور ہو جاتے ہیں اور پھر جب شیطان ہم سے جھوٹ بو لتا ہے۔ غالب آجاتا ہے۔

ندیم: پروین،آپ ٹھیک کہتی ہیں۔

زیدی: ندیم،اگلے ہتھیا ر کے بارے میں مےِں بتانا چا ہتا ہوں۔

ندیم: جی زیدی بھائی۔

زیدی: پندرھویں آیت میںلِکھا ہے،" اور پائوںمیں صلح کی تیاری کے جوتے پہن کر''یہاں پر حضرت پو لوس ہمیں اُن لو گوں کے پاس خو شخبری لے جانے کیلئے کہہ رہے ہیں۔جو خدا سے دور ہیں۔ایسا کر نے سے ہم عیسیٰ مسیح کا وہ حکم مانتے ہیں جو ہمیں حضرت مر قس کی معر فت لکھی گئی انجیل ،اُس کے سو لویں باب کی پند رھویں آیت میں ملتا ہے۔"اور اُس نے اُن سے کہا کہ تم تمام دنیا میں جا کر ساری خلق کے سامنے انجیل کی منادی کرو"۔عیسیٰ مسیح ہم سے کہے رہے ہیں کہ دنیا کی تمام قوموں کے پاس جا کر اُنہیں بتائیں کہ اُنہوںنے صلیب پر اُن کے لئے کیاکِیا۔ اور اُن کے خون کے بارے میں بتائیںجو اُن کی خداکے ساتھ صلح کے لیے اُنہوں نے بہایا ۔ ہم اُنہیں یہ بھی بتائیںکہ کوئی بھی شخص اپنے گناہوں اور مسئلوں کو لے کر عیسیٰ مسیح کے پاس آسکتا ہے۔عیسیٰ مسیح ہی حل ِ مشکلات ہیں۔

پروین: سولہویں آیت میںیہ بھی لِکھا ہے،"اور اُن سب کے ساتھ ایمان کی سپر لگا کر قائم رہو جِس سے تم اُس شریر کے سب جلتے ہوئے تیروں کو بجھا سکو" آپ سب جانتے ہیں۔ سپر تحفظ کے لیے ہوتی ہے ۔خدا نے حضرت ابراہیم سے کہا، "ابراہیم مت ڈر میں تیری سپر ہوں"۔اورجِس طرح سپر سپاہی کو دشمنوںکے تیروں سے بچاتی ہے۔ ایمان ہماری زندگیوں کو محفوظ رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے۔حضرت پولوس نے ایمان کو ایک سپر کے طور پر بیان کیا ہے ۔ ایمان تمام حالات میں خُدا پر بھروسہ کر تا ہے۔ ایمان سے ہم شیطان کے تیروں کو روک سکتے ہیں۔

ندیم: پروین آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ ہم اپنی زندگیوں میں حل تلاش کئے بغیر بہت سے مسائل سے دو چار ہوتے ہیں پھر ہم ڈرنا شروع کر دیتے ہیں۔ شیطان ہمیں فکر مند کر نے کیلئے اپنے تیرہماری طرف پھینکنا شروع کردیتا ہے۔ ہماری روحانی زندگی کمزور ہو جاتی ہے اور ہم مسائل سے نِکلنے کے لئے انسانی حل تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں۔ اگرعیسیٰ مسیح پر ہمارا ایمان مضبوط ہو تو شیطان کے حملوں سے خو د کو بچانے کے لئے ہمارے پاس مضبوط سپر ہوگی۔ ہمارا بھروسہ خدا پر ہو گا۔ اور ہم باطنی سکون پانے کیلئے خدا کی طرف دیکھیں گے۔

عادل: ندیم بھائی، میں نجات کے خود کے بار ے گفتگومیں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

سبق نمبر21 صفحہ نمبر7

ندیم: جی عادل۔

عادل: سپاہی اپنے سرکو بچا نے کیلئے اپنے سر پر خود رکھتا ہے ۔ یہ عموماََ مضبوط دھات کا بنا ہوتا ہے۔ نجات کے خود کا مطلب ہے’’ یقین‘‘ شیطان ہمارے ایمان اور نجات کے متعلق اور جوکچھ عیسیٰ مسیح نے صلیب پر ہمارے لئے کیا ہے شک ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم اپنی غلطیوں کو دیکھنا شروع کردیتے ہیں اور مایوسی میں گِر جاتے ہیں۔لیکن نجات کا یقین ہمیںبتا تا ہے کہ ہمارے نام برے کی کتاب میں لکھے ہیں۔اور ہم عیسیٰ مسیح کے خون کی وجہ سے بہت محفو ظ ہیں۔آئیے ہم ہمیشہ نجات کے خود کو پہنے رکھیں۔

شمیم: کیا میںروح کی تلوار کے بارے گفتگو کر سکتی ہوں۔

ندیم: شمیم، کیوں نہیں۔

شمیم: میں نے دیکھا ہے کہ تمام دوسرے ہتھیار دفاع کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن تلوار حملہ کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ تلوار خدا کا کلام ہے ۔ خدا کا کلام و ہ ہتھیار ہے جِسے شیطان شکست نہیں دے سکتا۔ جب عیسیٰ مسیح کو شیطان نے آزمایا۔ اُنہوں نے اِسی ہتھیا ر کو استعمال کیا۔اُنہوں نے فر مایا۔ "یہ لِکھاہے کہ تُو صرف خُدا کی عبادت کر۔یہ لِکھا ہے کہ آدمی صرف روٹی سے نہ جیتا رہے گا۔ یہ لِکھا ہے کہ خُداوند اپنے خدا کی آزمائش نہ کر۔

ندیم: کیا کوئی اور کُچھ کہنا چاہتا ہے۔

نائیلہ: میرا خیال ہے روح کی تلوار آخری ہتھیار ہے۔

عادل: اور جو کچھ ہم کہنا چا ہتے تھے۔کہہ دیا۔

ندیم: جی نہیں؟ آپ نے ایک بہت اہم حصہ کھو دیا ہے۔

ناصر: ابو کیا مطلب؟

ندیم: اگر آپ نے کسی رومی سپاہی کی تصویر دیکھی ہے تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ سب ہتھیار پہنتا ہے جِن کا حضر ت پولوس نے ذِکر کیا ہے ۔لیکن اپنی پشت پر کوئی ہتھیار نہیں پہنتا۔کیوں؟

تمام: پتہ نہیں۔معلوم نہیں۔

ندیم: بات یوں ہے کہ ہر سپاہی کو اپنے ساتھی سپاہی کی پشت کو بچانا چاہیے۔حضرت پولوس رسول فر ماتے ہیں۔پورے استقلال کے ساتھ مقد سیں کیلئے ہمیشہ روح میں دعا اور مناجات کرتے رہو۔

نائیلہ: آپ کا مطلب ہے کہ جب ہم اپنے بہن بھائیوں کیلئے دعا کر رہے ہوتے ہیں۔اُنہیں بچا رہے ہو تے ہیں؟

ندیم: جی ہاں۔ میری دُعا میرے بھائی کی پشت کو بچاتی ہے اور اُس کی دُعا میری پشت کو بچاتی ہے۔ یہی وجہ ہے پولوس رسول سبق نمبر21 صفحہ نمبر8

انیسویں آیت میں اُن سے التجا کر تے ہیں کہ اُن کیلئے دعا کریں کہ خدا گفتگو کر نے کیلئے اپنا کلام دے۔وہ پہلے باب میں خود اُن کیلئے دعا کر تے ہیں اور اب اُن کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔جب ہم آسمان پر جائیں گے ۔ہم دیکھیں گے کہ ہماری

دُعائیںکِس طرح ہمارے بھائیوں ، بہنوں کو آزاد کراتی ر ہی ہیں اور کِس طرح دُعائوں سے معجزات ہوتے تھے۔ اور بہت سے خادموں کو برکت مِلتی تھی۔کیا کوئی اور کچھ کہنا چا ہتا ہے۔

شمیم: جی، عادل اور میں نے آج بہت خوبصورت کمرہ دیکھا اور قیمت اُتنی ہے جتنی ہم ادا کر سکتے ہیں۔

نائیلہ: عادل کیا آپ نے سفر کرنے کا خیال ترک کر دیا ہے؟

عادل: پچھلی بار ہماری آپ کے ساتھ مُلاقات کے بعد میں نے سفر نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور میں نے خداوند پر بھروسہ کیا کہ ہمیں عمدہ سا کمرہ مہیا کرے۔

ندیم: عادل ہم سے مشورہ کرنے کیلئے شکریہ۔

عادل: میں محسوس کرتا ہوں کہ کلیسیائ ایک بدن ہے۔ جب ہم ایسا فیصلہ کرتے ہیں ہمیں کلیسیائ سے مشورہ کر نا چاہیے کیونکہ آپ اپنے خیالوں سے میری بہت مدد کر سکتے ہیں۔

ندیم: آئیں ہم عادل اور شمیم کے لئے دُعا کریں کہ خدا اُن پر اِس کمرے کے بارے میں۔ اپنی مرضی کو ظاہر کرے ۔زیدی صاحب آپ مہربانی کر کے دُعا کریں۔

زیدی: خُداوند ہم تُجھے جلال دیتے ہیں ۔ کیونکہ تُو وفادار ہے۔ خُداوند ہم شمیم اورعادل کے لیے تیرا شکر کرتے ہیں کیونکہ وہ تُجھ پربھروسہ کرتے ہیں۔ ہم اُس کمرے کے لیے شکر کرتے ہیں جو آج اُنہیں مِلا ۔خداوندمہربانی کر کے اُن پر اپنی مرضی ظاہر کر۔ ہم جانتے ہیں کہ تُو چاہتا ہے کہ وہ تیری بادشاہی کو بڑھانے کے لیے آگے بڑ ھیں۔عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔ آمین۔

ندیم: ہماری اگلی میٹنگ اگلے ہفتے اِسی وقت ہو گی۔