Hear Fellowship With My Family Episode 22 (Audio MP3)

View FWMF episode 22 as a PDF file

سبق نمبر22 صفحہ نمبر1

"بیت حسدا کا بیمار"

شمیم: آج میںبہت خوش ہوں ۔

ناصر: آنٹی شمیم،کس بات پر آپ اتنی خوشی ہیں۔

شمیم: خدا نے معجزانہ طور پر کمرے کیلئے رقم مہیا کر دی ہے۔اور ہم نے ایگر سمینٹ کے کا غذات بھی تیار کر لئے ہیں۔

پروین: مبارک ہوشمیم۔

ندیم: مُجھے یقین ہے عادل بہت خوش ہوگا ۔

شمیم: جی ندیم بھائی ۔وہ بہت خوش ہیں۔

ندیم: ہمارا خداوند عظیم خدا ہے۔ وہ ہمارے سب دِنوں کو خوشی کے دِنوںمیں تبدیل کردیتا ہے۔﴿دروازے پر گھنٹی بجتی ہے﴾

پروین: یہ ضرور زیدی بھائی اور نائیلہ ہو نگے۔

ناصر: میں دروازہ کھولتا ہوں۔ ﴿Pauseدروازہ کھلتا ہے ﴾زیدی انکل آپ کیسے ہیں۔آنٹی آپ کیسی ہیں۔

زیدی: شکر یہ ناصر ہم ٹھیک ہیں۔

نائیلہ: آپ سب کیسے ہیں۔

شمیم: نائیلہ باجی،مجھے مبارکباد دیں۔ہم نے کمرہ لے لیا ہے۔

نائیلہ: شمیم مبارک ہو۔

زیدی: عادل کہاں ہے؟

شمیم: وہ مٹھائی لینے گئے ہیں ۔ ﴿دروازے پر گھنٹی بجتی ہے﴾ضرور یہ عادل ہونگے۔ میں دروازہ کھولتی ہوں۔ ﴿Pauseدروازہ کھلتا ہے ﴾عادل سب آپ کا انتظا ر کر رہے ہیں۔

عادل: ہیلو! آپ سب کا کیا حال ہے۔

زیدی: عادل ! آپ کا کیا حال ہے۔

ندیم: مبارک ہو عادل۔

عادل: شکریہ ۔ہمارے لئے آج بڑا خوشی کا دن ہے۔میں آپ کیلئے مٹھائی لے کر آیا ہوں۔

ندیم: عادل عبادت کے بعد ہم خوشی منائیں گے۔

عادل: ٹھیک ہے ندیم بھائی۔

سبق نمبر22 صفحہ نمبر2

ندیم: توآئیے۔ اب اپنے خُداوند کے نام کی تعریف کرتے ہوئے اپنی کلیسیائی عبادت شروع کریں۔شمیم اور عادل نے کہا یہ خوشی کا دِن ہے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ خُداوندکے ساتھ ہمارے سارے دِن خوشی کے دِن ہوتے ہیں۔ آئیں،سارے مل کر وہ گیت گائیں،’’تو میری خوشی ہے۔‘‘ناصر شروع کریں۔

گیت:﴿تو میری خوشی ہے﴾

ندیم: آمین۔

تمام: آمین۔

عادل: میں اِس کمرے کیلئے خداوند کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو ۔ آئیں، عادل کے ساتھ مل کر دُعا کریں اور خداوند کا شکر کریں۔

عادل: خداوند تیرا شکر ۔ تُو ہمیشہ میری سُنتا ہے ۔ میری ضرورتیں پوری کرتا ہے ۔ خُداوند آج ہم تیرے شکر گزارہیں کہ تُو نے کمرہ مہیا کیا اور کاغذات مکمل کر نے میں بری مددکی۔ ہم دِل کی گہرائی سے تیرا شکر کرتے ہیں۔ آمین۔

ندیم: آمین۔ جب شمیم نے کہا کہ آج اُن کے ساتھ ایک معجزہ ہوا ۔ مُجھے ایک معجزے کے بارے بولنے کا خیال آیا ۔ جس کا ذکر بائبل مقدس میں موجود ہے۔آئیں ،حضرت یوحنا رسول کی معر فت انجیل اُس کے پانچویں باب کی پہلی نو آیات پڑھیں۔پر وین،پلیز آپ پڑھیئے گا۔

پروین: ﴿صفحہ الٹنے کی آواز﴾اِن باتو ں کے بعد یہودیوں کی ایک عید ہوئی اور یسوع یروشلیم کو گیا۔ یروشلیم میں بھیڑ دروازہ کے پاس ایک حوض ہے جو عبرانی میں بیت حسدا کہلاتا ہے اور اُس کے پانچ برآمدے ہیں۔ اِن میں بہت سے بیمار اور اندھے اور لنگڑے اور پژمردہ لوگ جو پانی کے ہلنے کے منتظر ہو کر پڑے تھے۔ کیونکہ وقت پر خُداوند کا فرشتہ حوض پر اُتر کر پانی ہلایا کرتا تھا۔ پانی ہلتے ہی جو کوئی پہلے اُترتا سو شفا ئ پاتا اُس کی جو کُچھ بیماری کیوں نہ ہو۔ وہاں ایک شخص تھا جو اڑتیس برس سے بیماری میں مبتلا تھا۔اُس کو یسوع نے پڑا دیکھا اور یہ جان کر کہ وہ بڑی مدت سے اِس حالت میں ہے اُس سے کہا کیا تُو تندرست ہونا چاہتا ہے ؟ اُس بیمار نے اُسے جواب دیا۔ اے خداوند میر ے پاس کوئی آدمی نہیں کہ جب پانی ہلایا جائے تو مُجھے حوض میںاُتار دے بلکہ میرے پہنچتے پہنچتے دوسرا مُجھ سے پہلے اُتر جاتا ہے۔یسوع نے اُس سے کہا اُٹھ اور اپنی چارپائی اُٹھا کر چل پھر۔ وہ شخص فوراََ تندرست ہو گیا اور اپنی چارپائی اُٹھا کر چلنے پھرنے لگا۔

نائیلہ: کیسا خوبصورت معجزہ ہے۔

پروین: خداوند کی تعریف ہو ۔

سبق نمبر22 صفحہ نمبر3

ندیم: آئیں، اکٹھے مل کر اِس پر دھیان کرتے ہیں۔اور اگر خداوند کسی کے دل میں کوئی بات ڈالتا ہے، تو ضرور بتائیں۔

پروین: یہ پہلی بار ہے جب ہم تیاری کے بغیر کِسی بات پر خیال آرائی کر رہے ہیں۔

ندیم: جی ہاں،کون شروع کرئے گا۔

شمیم: میں شروع کر وں گی۔

ندیم: جی شمیم۔

شمیم: جب میں یہ کہانی پڑھ رہی تھی، میں نے غور کیا کہ جس وقت یہ معجزہ رونما ہوا ایک تہوار تھا،جب بھی عیسیٰ مسیح ہمارے لئے کوئی معجزہ ٍ کر تے ہیں۔ہمارے دنوں کو شادمان بنا دیتے ہیں۔

ندیم: بالکل ،بائبل مقدس دوسری آیت میں بیان کرتی ہے کہ یہ معجزہ بیت حسدا کے حوض کے ایک دروازے پر جِسے بھیڑ دروازہ کہتے تھے ، واقع ہُوا۔ بھیڑ قربانی کی علامت ہے۔ یہ ہمیں صلیب کی یاد دِلاتی ہے ۔جس پر عیسیٰ مسیح ہمارے گناہ معاف کرنے کے لئے موئے۔

شمیم: اور بیت حسدا کے کیا معانی ہیں؟

ندیم: بیت حسدا کے معانی ہیں ، رحم کا گھر ۔ خدا ہمیںبتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ اُس کا رحم ہمارے دِنوں کو شادمان بنا دیتا ہے۔ اگرچہ ہم اُس کے رحم کے مستحق نہ بھی ہوںاُس کا رحم بہت بڑا ہے۔ کیونکہ جب ہم گنہگار ہی تھے مسیح ہماری خاطر موا ۔

زیدی: ندیم بھائی،میں آپ کے الفاظ سے یہ نیتجہ اخذ کر رہا ہو ں کہ قربانی ،یعنی عیسیٰ مسیح کی موت ہمارے دنوں کو خوش بناتی ہے۔اور بھیڑ دروازہ قر بانی کی علامت ہے۔ اور بیت حسدا خدا کے رحم کی علامت ہے۔

نائیلہ: اپنی زندگی میں صلیب کے مسلسل کام کے لئے میں بہت خوش ہوں۔ اُس کا رحم میرے لئے جاری ہے۔ میں خُدا سے دور تھی اور میں خداوند کو اذیت دے رہی تھی لیکن وہ مجھے اپنی بادشاہت میں شامل کرنے کے لئے مُجھے ڈھونڈ رہا تھا ۔اے خدا، تو رحیم خدا ہے۔

عادل: یہ بہت عجیب بات ہے ۔ رحم کے دروازے پر بہت سے بیمار لوگ تھے۔

نائیلہ: عادل ،یہ اِس لئے کہ عیسیٰ مسیح ابھی وہاںموجود نہ تھے۔کبھی کبھی فرشتہ پانی ہلانے کو آ جاتا تھا۔لیکن وہ بھی ہمیشہ نہیں آتا تھا ۔

شمیم: اور نائیلہ،اُس بیمار آدمی کی یہ مشکل تھی۔ کہ ہر بار جب پانی میں اُترنے کی کوشش کرتا کوئی اور شخص اُس سے پہلے اُترپڑتا تھا۔ یہی وجہ ہے وہ ا ڑتیس برس رہا۔ برس تک وہاں پڑا رہا اور شفا حاصل نہ کر سکا۔

ندیم: جی ہاں،عیسیٰ مسیح سے ملاقات سے پہلے اُس آدمی کا یہی مسئلہ تھا، اُسے کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو اُسے فر شتے کے پانی ہلانے سبق نمبر22 صفحہ نمبر4

پر سب سے پہلے حوض میں اُتا دے۔

ناصر: لگتا ہے، اُس آدمی نے ایسا کر نے کی کوشش ہی چھوڑ دی تھی۔اِسی لئے تو وہ وہاں اڑتیس بر س سے پڑا تھا۔

پروین: اور ہم بھی یہی کرتے ہیں جب ہمیںمسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ ہم اِس کے حل کے لئے عیسیٰ مسیح کے پاس نہیں جاتے۔ ہم انتظار کرتے رہتے ہیں کہ خود بخودحل ہوجائے۔یا پھر کسی دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم اپنی طاقت سے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہم ناکام ہو جاتے اور مایوس ہوجاتے ہیں۔

عادل: آپ نے مُجھے گزشتہ مہینے کے متعلق یاد دِلادیا۔ جب میں خیال کر رہا تھا کہ کرائے پر کمرہ حاصل کرنے کے لئے رقم کہاں سے آئے گی۔ میں نے بیرونِ ملک سفر کرنیکا خیال کیا، پھر سو چا اور ٹا ئم لگا لوں، یا کسی سے ادھار لے لوں۔ میں رقم حاصل کرنے کیلئے حل ڈھونڈ رہا تھا مگر نام رہا۔ جب تک آپ نے مجھے خداوند کی طرف رجوع کرنے کو نہ کہا۔ میں بے دل تھا۔

ندیم: بالکل یہی کچھ اُس بیمار کے ساتھ ہُوا۔ آئیں ہم اُس کے رویے کو دیکھیں اور عیسیٰ مسیح کے رویے کو۔ اِکو ن اِس کے بارے میں بات کرے گا۔

شمیم: ندیم بھائی ،میں کچھ کہوں گی۔

ندیم: جی شمیم۔

شمیم: چھٹی آیت میںہم دیکھتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح نے اُسے وہاں لیٹے دیکھا او ر معلوم کیا کہ وہ لمبے عرصے سے اِس حالت میں ہے۔خداوند ہمیں دیکھتا اور ہماری نگہداشت کرتا ہے۔

ندیم: بالکل۔ اِس کا مطلب ہے کہ عیسیٰ مسیح نہ صرف ہمیں دیکھتے بلکہ ہمارے بارے میں ساری تفصیلات جانتے ہیں۔وہ اُن تکلیفوں سے بھی واقف ہیں جِن سے ہم لمبے عرصے سے دُکھ اُٹھا رہے ہیں۔

پروین: میں کچھ اور بھی کہنا چاہتی ہوں ۔

ندیم: جی پروین۔

پروین: جب عیسیٰ مسیح نے اُس شخص کو اِس حالت میں دیکھا، اُسے تنہا نہیں چھوڑا۔وہ اُس کے پاس گئے اور باتیں کیں۔

ناصر: لیکن جو سوال عیسیٰ مسیح نے اُس سے پوچھا وہ بہت عجیب تھا ۔ اُنہوں نے اُس سے پوچھا کیا تُو شفائ پانا چاہتا ہے۔ عیسیٰ مسیح جب اُس کی ضرورت کو جانتے تھے، تو یہ سوال کیوں کیا۔

ندیم: یہ بہت اچھا سوال ہے۔ آپ کے خیال میں عیسیٰ مسیح نے یہ سوال کیوں پوچھا جب کہ وہ اُسے شفائ دینے والے تھے۔

نائیلہ: میرا خیال ہے کہ خُداوند عیسیٰ مسیح جانتے تھے کہ بیمار اُن کی طرف توجہ دے اور اُس سے بات کرے۔

سبق نمبر22 صفحہ نمبر5

زیدی: وہ اُس سے یہ بھی چاہتے تھے کہ وہ اپنی ضرورت کا اعتراف کرے۔ یہ کافی نہیں کہ خداوندجانتا ہے کہ ہماری ضروریات کیا ہیں۔ہم اکثر یہ غلطی کرتے ہیں کہ ہم خُدا کو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے نہیں کہتے۔ بائبل مقدس فر ماتی ہے ۔ مانگوتو تم کو دیاجائے گا۔ دروازہ کھٹکھٹائو تو تمہارے واسطے کھولاجائے گا۔ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم خدا سے کس طرح اپنی ضرورت کو پورا کر نے کیلئے منت کر یں۔

ندیم: عیسیٰ مسیح اُس آدمی کی مرضی کے خلاف کُچھ نہیں کر سکتے تھے۔ وہ ہمیں بھی اپنے قریب لانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں

کہ صر ف وہی ہمارے مسائل حل کر سکتے ہیں۔

عادل: میرا خیال ہے کہ بیمار آدمی ایسے مزاج والا آدمی ہے جو کُچھ نہیں کر نا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ دوسرے لوگ اُس کے مسا ئل حل کریں۔وہ چاہتا تھا دوسرے لوگ آئیں اور اُسے پانی کے حوض میں ڈالیں۔ جب عیسیٰ مسیح نے اُس سے پوچھا کہ تُو شفائ پانا چاہتا ہے اُس نے اپنی ضرورت بتانے کی زحمت نہ کی۔ اُس نے فوراََ شکایتیں شروع کر دیں کہ کوئی اُس کی مدد نہیں کر رہا۔ یہی بات بہت مرتبہ ہمارے ساتھ ہوتی ہے جب ہمارے مسائل بڑھ جاتے ہیں۔ اور جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم انہیں حل نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے رشتے داروں اور دوستوںپر الزام لگانا شروع کردیتے ہیں ۔ بعض اوقات ہم خیال کرتے ہیں کہ دوسرے ایماندار ہمارے مسائل کا سبب ہیں۔

نائیلہ: یہ بات واضح ہے کہ اِس آدمی نے ساری اُمید کھو دی کیونکہ وہ کہہ رہا تھا کہ اُس کے مسئلے کا کوئی حل نہیں۔

زیدی: بالکل ایسا ہی ہے جو ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے مسائل حل نہیں کر سکتے۔ ہم نااُمید ہو جاتے ہیں۔حا لانکہ ہمارا خداوندزندہ خدا ہے۔

ناصر: اگر میں اُس کی جگہ ہوتا میں حوض میںبیٹھ جاتااور حوض میں بیٹھ کر فر شتے کی آمد اور پانی کے ہلنے کا انتظار کر تا۔

ندیم: اِسی لئے تو میں نے کہا ہے کہ اِس آدمی نے اُمید کھو دی تھی۔ اور کُچھ کرنے کو تیار نہ تھا۔

عادل: اوہ۔ اِس آدمی نے بہت سی غلطیاں کی تھیں۔

پروین: مگرمیں بہت خوش ہوں کہ اُسکی سب غلطیوں کے باوجود عیسیٰ مسیح نے اُسے جھڑکا نہیں۔ اِس کی بجائے اُسے حل بتایا۔ بالکل یہی عیسیٰ مسیح ہمارے ساتھ کرتے ہیں۔ وہ ہمیں یہ نہیں دکھانا چاہتے کہ ہم غلط ہیں۔بلکہ وہ ہمیں یہ بتاناچاہتے ہیں کہ اُن کے پاس ہمارے سارے مسائل کا حل ہے۔

شمیم: باقی کہانی وہی ہے جو عیسیٰ مسیح نے اُسے بتائی اوراُس کے دِن کو خوش بنا دیا۔ عیسیٰ مسیح نے اُسے اپنی چارپائی اُٹھانے اور چلنے کو کہا۔

ندیم: ہاں بیشک۔ وہ آدمی اُٹھا۔ اپنی چارپائی اُٹھائی اور چل پڑا۔ جب وہ عیسیٰ مسیح سے مِلا تو اُس کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی ۔ وہ سبق نمبر22 صفحہ نمبر6

آدمی38سالوں سے بیمار تھااور یہ بہت لمبا عرصہ ہے۔ یقیناََ اُس کا ایک طرزِ زندگی تھا۔ لیکن عیسیٰ مسیح کے معجزے نے اُس کی زندگی تبدیل کر دی اور اُس کا مسئلہ حل کر دیا۔جب ہم عیسیٰ مسیح کے اور قریب جاتے ہیں اور دُعا میں اُن سے باتیں کرتے ہیںاور اپنے سارے مسائل اُنہیں بتاتے ہیں توہم اُنہیں یہ کہتے سُنتے ہیں ،"اُٹھ کھڑا ہو ،اپنی چارپائی اُٹھا اور چل پھر،کیونکہ میں نے تیرے مسائل حل کردئیے ہیں"۔

پروین: اگلی آیت بڑے خوبصورت لفظ سے شروع ہوتی ہے۔ لکھا ہے ، وہ آدمی فوراََ شفائ پا گیا۔ اُس نے اپنی چارپائی اُٹھائی اور چل پڑا۔ لفظ "فوراََ"صرف وقت کی طرف ہی اشارہ نہیں کر رہا۔ یہ اُس لفظ کا متضاد ہے جِس کے معنی ہیں وقتاََ فوقتاََ ۔ جو فرشتے کے لیے استعمال ہواہے۔فرشتہ وقتاََ فوقتاََ پانی ہلانے آتا تھا۔ لیکن جب ہم مدد کے لئے پکارتے ہیںعیسیٰ مسیح فوراََ آ جاتے ہیں وقتاً

فو قتاًنہیں۔

ندیم: جب زندگی ہم پر دبائو ڈالتی ہے جب ہم مسائل میں گِھر جاتے ہیں۔ہمیں عیسیٰ مسیح کے پاس آنا چاہئے۔ وہ ہماری مدد کے لئے اور ہمارے مسئلوں کے ھل کیلئے ہر وقت تیا ر ہو تے ہیں۔

پروین: بعض اوقات ہم خیال کرتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح صرف چھوٹے مسائل حل ہی کر کرتے ہیں ۔ لیکن جب ہم اُن کے پاس آتے ہیں تو چھوٹا یا بڑا مسئلہ کو ئی اہمیت نہیں رکھتا۔

نائیلہ: میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بائبل مقدس اس بات کا ذکر نہیں کرتی کہ اُس شخص کی بیماری کیا تھی۔ صرف یہ لکھا ہے۔ وہ بیمار تھا۔ خُدا ہمیں سِکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ بیمار ی خواہ کوئی بھی ہویا مسئلہ کوئی بھی ہو خُدا کے پاس حل ہے شفائ ہے۔

ناصر: اِس آیت نے مُجھے بہت متاثر کیا ہے جو کہتی ہے،"اُس نے اپنی چارپائی اُٹھائی اور چل پڑا"میں اِس سے یہ سیکھتا ہوں کہ وہ اپنی زنجیروں سے آزاد ہو گیا۔اب اُسے کسی دوسرے کی مدد کی ضروت نہ تھی۔

ندیم: بالکل۔ چارپائی اُٹھانا ایک علامت ہے اور ہر آدمی کے لئے ایک نشان ہے کہ عیسیٰ مسیح نے اُسے شفائ دی ہے۔

شمیم: جب خُدا ہمارے لئے کوئی بڑا کام کرتا ہے ہمیں اِس کے متعلق دوسرو ں کو بھی بتاناچاہیے اور بتا نا چاہئے کہ اگر وہ اُس کے پاس آئیں۔ تو وہ اُن کیلئے بھی بڑے کام کر سکتا ہے۔

نائیلہ: اے خُدا میں تیری تعریف کرتی ہوں ہم بھی جب ہمیں ضرورت ہو تیرے پاس آ سکتے ہیں۔ اور تو ہماری تو قع سے بڑھ کر ہمارے لئے کرتا ہے۔

عادل: ہمارے ساتھ یہی ہُوا جب ہم فکر مند تھے کہ کرائے پر کمرہ لینے کے لئے رقم کہاں سے آئے گی۔ خُداوند نے ہمیں زیادہ دیا اور وہ کمرہ جو ہم نے آخرکار حاصل کیا بہت ہی اچھی جگہ پر تھا۔

سبق نمبر22 صفحہ نمبر7

پروین: کیا آپ کو یاد ہے ،پچھلے ہفتے جب مجھے ڈر تھاکہ میرے والدین مُجھے دُکھ دیں گے ۔مگرجب میں نے عیسیٰ مسیح کو اپنی فکروں کے بارے میں بتایا اُنہوں نے مُجھے سکون سے بھر دیا۔

ناصر: جو آپ کہہ رہی ہیں بالکل بائبل مقدس کے مطابق ہے، "اور خدا کا اطمینان جو ساری سمجھ سے باہر ہے تمہارے دِلوں اور خیالوں کو یسوع مسیح کے وسیلے محفوظ رکھے"۔

ندیم: بائبل مقد س یہی کُچھ آج ہمیں سِکھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بائبل مقدس ہمیں بتا رہی ہے کہ ہمارے دِل اطمینا ن سے بھرے ہیں اورہمارے دِل خُدا کے ساتھ آرام میں ہیں۔ حالات کُچھ بھی ہوںہم خُداوند عیسیٰ مسیح کے ساتھ اپنے تعلق سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔

عادل: میںآپ سب کو اُس معجز ے کے متعلق بتانا چاہتا ہوں جو آج خُداوند نے ہمارے ساتھ کیا۔

ندیم: اِس کا مطلب ہے کہ آپ بھی اِس آدمی کی طرح کریں گے۔اپنی چار پائی اُٹھائیں گے اور چلیں پھر یں گے۔ اور خدا کے اچھے کاموں کی گواہی دیں گے۔ آئیں ہم اپنے خداوند کے نام کو جلال دیں۔

شمیم: خُداوند ۔ جہاں کہیں ہم جائیں گے تیری گواہی دیںگے۔ ہم ہر جگہ اعلان کریں گے کہ تُو ہی صرف وہ خُدا ہے جو معجزات کرتا ہے۔

ناصر: خُداوند ۔ میں تیرا شکر کرتا ہوں تُو نے میرے مسائل حل کئے۔ میرے زخموں کو شفائ دینے کے لئے تیر اشکر ہو۔ میں اپنے بھائیوں کے سامنے گواہی دیتا ہوں کہ روئے زمین پر تیری طرح کوئی نہیں ہے۔

عادل: خُداوند میرے بھائیوں اور بہنوںکے لئے شکر ہو۔ میں اُن کے بغیر کچھ نہیں۔ میں پورے دِل سے تیرا شکر کرتاہوں۔

نائیلہ: خُداوند تیرا شکرکہ تُو کِسی مسئلے کو بھی جِس کامُجھے سامنا ہو حل کر سکتا ہے خواہ وہ کتنا ہی پراناکیوں نہ ہو۔

زیدی: خداوند عیسیٰ مسیح تُو عظیم ہے تُونہ صرف ہمارے مسائل کو دیکھتا بلکہ ہمارے مسئلے حل کرنے کے لئے ہم میں سے ہر ایک کے پاس آتا ہے۔ تُو نے بیمار آ د می کی ضرورت کو دیکھا اور تُو ہماری ضرورتوں کو بھی دیکھتا ہے۔ ہماری مدد کرنے کے لئے تیرا شکریہ۔

تمام: آمین۔

ندیم: آئیں ہم اپنی میٹنگ ختم کریں۔آخر پہ ہم وہی گیت ایک بار پھر گائیں ۔’’تو میری خوشی ہے۔‘‘ لیکن یاد رکھیں کہ ہماری اگلی میٹنگ اِسی وقت ہمارے گھر پر ہوگی۔گیت شروع کریں۔