Hear Fellowship With My Family Episode 24 (Audio MP3)

View FWMF episode 24 as a PDF file

سبق نمبر24 صفحہ نمبر1

"دائود"

﴿سات لوگوں کی اُن کے چمچوں اور پلیٹوں کی آواز﴾

زیدی: ندیم بھائی،شکریہ۔بہت بھوک لگی تھی۔

ندیم: زیدی بھائی آپ اور کھانا لیں نا۔

زیدی: میں نے پیٹ بھر کر کھا یا ہے۔پروین بہن شکریہ۔

پروین: بھائی ،آپ کا اپناگھر ہے۔ عادل آپ نے بہت تھوڑا کھا یا ہے۔اور لیں۔

عادل: بہن شکریہ۔بہت مزیدارتھا۔شمیم نے پہلے ہی کافی ڈال دیا تھا۔

شمیم: عادل،اتنا اچھا کھا نا آپ کو کہاں ملے گا۔

ندیم: کیا ہم سب کھانا کھاچکے ہیں۔

پروین: جی، شمیم،مہربانی سے برتن اٹھا لیں ۔ناصر آپ شمیم کی مدد کریں۔

ناصر: ٹھیک ہے امی۔

نائیلہ: شمیم میں بھی آپ کی مدد کرتی ہوں۔

شمیم: شکریہ نائیلہ باجی۔

﴿بر تنو ں کی آواز﴾

ندیم: اگر آپ سب نے کام ختم کر لیا ہے تو عبادت شروع کریں؟

پروین: جی ،بالکل

نائیلہ: ندیم بھائی،آج ہم اِس مقصد کے لئے کہ خدا اس ملک میں گواہی دینے کیلئے ہماری مدد کرے، ہم دعا اور روزے میں ٹھہرے۔یہ آپ کی تجویر تھی۔ہم سب نے روزہ رکھا اور اکٹھے کھولا،بہت اچھا لگا۔

زیدی: مُجھے بھی آج روزہ رکھنے میں بڑا سرور آیا۔میں دعا کرتا رہا اور میں نے محسوس کیا کہ آنے والے دِنوں میں خُداہمارے مُلک میں بڑے بڑے کام کرے گا۔

عادل: میں نے بھی اِسی طرح محسوس کیا ہے۔ میں نے عیسیٰ مسیح کے متعلق لوگوں سے گفتگو کرنے کا عہد کیا ہے۔ میں نے اپنے دوستوں سے گفتگو کرنا شروع کردی ہے۔ جب عبادت ختم ہوگی تو میں آپ کو تبائوں گا کہ میرے ساتھ کیا ہُوا؟

ندیم: آمین۔ توآئیے اپنی کلیسیائی عبادت شروع کریں۔ آج عادل عبادت میں راہنمائی کریں گے۔

سبق نمبر24 صفحہ نمبر2

عادل: آئیے! خُداوند کی عبادت یہ گیت گاتے ہوئے شروع کریں۔﴿بادشاہوں کا بادشاہ ہے﴾

﴿گیت:بادشاہوں کا بادشاہ ہے﴾

تمام: اے عیسیٰ مسیح صرف تُو ہی بادشاہ ہے۔ ابنِ خُدا ۔ ہم تیرے نام کو اونچا کرتے ہیں۔ عیسیٰ مسیح تیرے پاس قدرت اور اختیار ہے۔ ہم تیری تعریف کرتے ہیں۔ تیری فتح کا اعلان کرتے ہیں۔

عادل: آمین۔

تمام: آمین۔

ندیم: پچھلی مرتبہ ہم نے حضرت دائود کی زندگی کا مطالعہ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ ہم نے کچھ تحقیق کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔جو کچھ ہم نے سیکھا ہے،اکٹھے مل کر گفتگو کرتے ہیں۔

عادل: ندیم بھائی، ہم نے حضرت دائود کی زندگی سے متعلق کافی کچھ سیکھا ہے۔ آج ہم اُن سب کا ذِکر کریں گے۔

ندیم: ضروری نہیں کہ ہم سب کا ذکر کریں۔آئیں ہم عملی باتوں پر غور کریں۔سب سے پہلے کون بتائیے گاکہ حضرت دائود کون تھے۔

نائیلہ: ندیم بھائی،میں بتائوں گی۔حضرت دائود ،حضرت یسی کے بیٹے تھے۔جن کا تعلق بیت الحم سے تھا۔اُن کے سات بھائی تھے اور وہ سب سے عمر میں چھوٹے تھے۔ ہم پہلا سیموئیل 16باب12آیت میں سے اُن کی کچھ خوبیاں جان سکتے ہیں۔ بائبل مقدس بتاتی ہے کہ اُن کے بال سنہرے تھے اور وہ بہت خوش شکل تھے۔ سائول بادشاہ کے ایک سپاہی نے کہا کہ حضرت دائود ساز بجاتے تھے۔ وہ توانا تھے۔ پُر جوش تھے اور خُداوند اُن کے ساتھ تھا۔ وہ چرواہا تھے ۔ وہ بہادر تھے کیونکہ ایک شیر اور ریچھ کو اُنہوں نے مار ڈالا تھا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خُدا نے انہیں بادشاہ ہونے کے لئے چُنا تھا ۔جب خدا نے حضرت سیمو ئیل نبی کو سائول کی جگہ بادشاہ مقرر کرنے کو کہا،تو اُنہوں نے حضرت دائود کو بادشاہ مقرر کر دیا۔

ندیم: نائیلہ بہن شکریہ۔ آپ کو کوئی بات بھولی نہیں ۔ یہ مکمل تعارف ہے ۔آئیے اُن اسباق پر گفتگو کریں جو ہم حضرت دائود کی زندگی سے سیکھتے ہیں۔

زیدی: ندیم بھائی،آپ ہمیشہ دوسروں کو گفتگو میں شر یک ہو نے کیلئے کہتے ہیں۔اور جب آپ کی باری ہو تی ہے،تو وقت ختم ہو جاتا ہے۔آج آپ ہمیں ان کے بارے میں ایک سبق بتائیں۔

تمام: جی ہاں۔ بیشک۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔

ندیم: ٹھیک ہے۔پہلی چیز جو ہم حضرت دائود کے متعلق سیکھتے ہیں وہ اُن کے اورجاتی جو لیت کے درمیان جنگ میں سے ہے۔ میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سوائے حضرت دائود کے باقی سب لوگ جاتی جولیت سے ڈرتے سبق نمبر24 صفحہ نمبر3

تھے۔حالانکہ حضرت دائود قد میں چھوٹے تھے۔اور جاتی لیت نے ہتھیار بھی پہن رکھے تھے۔

ناصر: ابو،میں نے اِس سوال کے بارے میں بہت سوچا مگر جواب نہ ملاا۔

ندیم: یہ جاننے کیلئے ہم ایک حوالہ پڑھتے ہیں۔پہلا سیموئیل17باب8تا11آیت شمیم پلیز آپ پڑھئیے۔

شمیم: ﴿آیات کو ڈھونڈنے کے لئے ورق پلٹتے ہوئے﴾ وہ کھڑا ہوا اور اِسرائیل کے لشکروں کو پکار کر اُن سے کہنے لگا کہ تم نے آ کر جنگ کے لئے کیوں صف آرائی کی۔ کیا میں فلسطی نہیں اور تم سائول کے خادم نہیں ؟ سو اپنے لئے کِسی شخص کو چنو جو میرے پاس اُتر آئے۔ اگر وہ مُجھ سے لڑ سکے اور مُجھے قتل کر ڈالے تو ہم تمہارے خادم ہو جائیں گے، پر اگر میں اُس پر غالب آئوں اور اُسے قتل کر ڈالوں تو تم ہمارے خادم ہو جانا۔ اور ہماری خِدمت کرنا۔ پھر اُس فلسطی نے کہا کہ میں آج کے دِن اسرائیلی فوجوں کی فضیحت کرتا ہوں ۔ کوئی مرد نکالو تا کہ ہم لڑیں۔ جب سائول اور سب اسرائیلوں نے اُس فلسطی کی باتیں سُنی تو ہراساں ہوئے اور نہایت ڈر گئے۔

ندیم: کیا آپ نے دیکھا کہ جولیت کیا کہہ رہا تھا۔ اُس کے پاس کُچھ تھا جِس سے لوگ ڈرتے تھے۔ وہ نہ صرف اُس کے بڑے قد سے ڈرتے تھے۔ بلکہ جو کُچھ اُس نے کہا اُس کے سبب سے بھی ڈرتے تھے۔ جولیت نے کیا کہا؟ اُس نے جھوٹ بولا اور لوگوں نے مان لیا۔

زیدی: وہ تو کہہ رہا تھا کہ کِسی کو نکالو تا کہ اُس کے ساتھ لڑیں۔ اِس میں جھوٹ کی کون سی بات ہے۔

ندیم: آٹھویں آیت دیکھیں جب اُس نے کہا کیا میں فلسطی نہیں ہوں اور کیا تم سائول کے خادم نہیں ہو۔دراصل لوگ سائو ل کے خادم تو نہیں تھے وہ تو زندہ خدا کے خاد م تھے۔ یہ ہے وہ فرق جو حضرت دائود میں اور لوگوں میں تھا ۔ جب جولیت نے کہا کہ وہ سائول کے خادم ہیں ۔ اُنہوںنے اپنے بادشاہ سائول کی طرف دیکھا جو باحوصلہ اور مضبوط ہونے کی بجائے خوفزدہ تھا۔ پس وہ بھی ڈر گئے تھے مگر حضرت دائود جانتے تھے۔ کہ وہ زندہ خُدا کے خادم ہیں حضرت دائود نے خُدا کو دیکھا جو کِسی سے خوف نہ کھاتا تھا۔ لہذا اُنہوں نے اُس خُدا سے قوت پائی ۔اُنہیں معلوم ہوگیا کہ جولیت کمزور ہے اور وہ جولیت سے زیادہ مضبوط ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے اُس سے کہا آج خُدا تُجھے میرے ہاتھوں میں کردے گا۔ حضرت دائود نے فوج کو واضح طور پر بتادیا تھا۔کہ یہ نامختون فلسطی ہوتا کون ہے جو زندہ خُدا کی فوجوں کی فصیحت کرے۔

عادل: اوہ ہاں۔ لوگ اِس نکتہ سے کیوں آگاہ نہ ہوئے تھے؟ندیم بھائی،لوگ اِس نکتے کو کیوں نہ سمجھ سکے۔

ندیم: عادل بعض اوقات ہم بھی یہی کرتے ہیں۔

شمیم: وہ کیسے؟

سبق نمبر24 صفحہ نمبر4

ندیم: بعض اوقات ہم شیطان کی بات مان لیتے ہیں ۔ہم ڈر جاتے ہیں اور ہماری زندگی میں ابتری آجاتی ہے۔

ناصر: ابو،کیا آپ کوئی مثال دے سکتے ہیں۔

ندیم: ناصر،پچھلے ہفتے آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ آپ کو اِس بات کی کوئی اُمید نہیں کہ آپ کا دوست عیسیٰ مسیح پر ایمان لے آئے گا۔ آپ نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ ایمان لے بھی آئے تو کِسی اور شخص کے وسیلے ہو گا جو آپ سے زیادہ مضبوط اورصحیح ہو گا۔ ناصر،وہ ابلیس کی طرف سے ایک جھوٹ تھااور آپ نے اُسے مان لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے دوست سے عیسیٰ مسیح کے بارے میں بات نہ کر سکے۔ شیطان نے آپ کو مجبور کیا کہ آپ اپنے آپ کو اور اپنی قوت کو دیکھیں۔لہذا آپ اُن لوگوں کی طرح ناکام ہو گئے جنہوں نے صرف سائول کو دیکھا اور ڈر گئے ۔

ناصر: ہاں۔ بیشک۔ یہ شیطان کی طرف سے جھوٹ تھا۔ اِس ہفتے میں نے اُس سے گفتگو کرنا شروع کی اور وہ میری باتیں سُن رہا تھا۔

ندیم: جب آپ نے عیسیٰ مسیح کی طرف دیکھا،تو آپ اُس جھوٹ کی طا قت کو توڑنے کے قابل ہو گئے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شخص

سگر یٹ نوشی نہیں چھوڑ سکتا۔کیونکہ وہ اس کا غلام بن گیا ہے۔یہ ایک جھوٹ ہے۔اُن لوگوں کو عیسیٰ مسیح کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔اُنہیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ زنجیروں سے رہائی حاصل کرنے کیلئے عیسیٰ مسیح اُنہیں قوت دے سکتے ہیں۔پہلا سبق یہاںختم ہو تا ہے۔کون دوسرا سبق شروع کرے گا۔

پروین: میں شروع کروں گی۔

ندیم: جی پروین،شروع کریں۔

پروین: میں حضرت دائود کے ساتھ یونتن کی محبت سے حیران ہوں۔ بائبل مقدس میں 1سیموئیل18باب1آیت میں لکھا ہے، یونتن دائود کے ساتھ روح میں ایک ہوگیا۔ اور آیت نمبر 3اور6بتاتی ہے ، اور یونتن اور دائود نے باہم عہد کیا کیونکہ وہ اُس سے اپنی جان کے برابر محبت رکھتا تھا ۔ تب یونتن نے وہ قبا جو وہ پہنے ہوئے تھا ، اُتار کر دائود کو دی اور اپنی پوشاک بلکہ اپنی تلوار اور اپنی کمان اور اپنا کمر بند تک دے دیا۔ کیا آپ دیکھتے ہیں کہ وہ اُن سے کتنی محبت کرتا تھا ۔ جب یونتن ڈر گیا تو حضرت دائود نے کہا ، اے میرے بھائی یونتن مُجھے تیرا غم ہے۔ تومُجھے بہت مرغوب تھا۔ تیری محبت میرے لئے عجیب تھی عورتوں کی محبت سے زیادہ ۔ یونتن جانتا تھا کہ حضرت دائود اُس کی بجائے بادشاہ بن جائے گا ۔وہ جانتا تھا کہ وہ سب کُچھ کھو دے گا۔ اپنا محل ،خادم اور مقام، سب کچھ۔اِس سب کے باوجود اُس نے حضرت دائود سے نفرت نہ کی۔ وہ اُن سے اپنے جیسا پیار کرتا تھا ۔ وہ اپنی بادشاہت اپنے دوست حضرت دائود کو دینے کو تیار تھا ۔﴿Pause﴾ میں کُچھ دیر رُکی اور اِس کے بارے میں سوچا ۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو ایک دوسرے سے اِس قسم کی محبت کرتے ہیں۔ اگر میرا دوست یا رفیق کارکسی کام میں میری جگہ لگ جائے ۔ میرا ردِ عمل کیا ہوگا۔ کیا مُجھ

سبق نمبر24 صفحہ نمبر5

میں اتنی زیادہ محبت ہو گی کہ اپنا مقام چھوڑ دوں۔

عادل: پروین باجی فرض کریں۔ کوئی میری جگہ لینا چاہتا ہے ۔آپ کہہ رہی ہیں کہ میں یونتن جیسا سلوک کروں۔

پروین: ایک وقت تھا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے ساتھ کام کرنے والی سعدیہ منجیر بن رہی ہے جبکہ منجیر بننے کی باری میری تھی۔مجھے بہت دکھ ہوا۔ لیکن خداوند نے مجھے سکھا نا شروع کیا کہ مجھے اُس کے ساتھ محبت رکھنی چاہئے۔جیسی محبت میں اپنے آپ سے رکھتی ہوں۔جب نے میں اُس سے محبت کر نا شروع کی۔وہ بہت حیران ہوئی اور کہنے لگی۔اگر کوئی اور آپ کی جگہ ہوتا،مجھ سے نفرت کرتا۔میں نے اُسے بتایا کہ میں اُس سے محبت کر تی ہوں اور خدا سے دعا مانگتی ہوں۔کہ خدا ہماری محبت کو روز بروز بڑھاتا چلا جائے۔

ندیم: پروین شکریہ۔ کوئی اور کچھ کہنا چا ہتا ہے۔

شمیم: میںکہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی شمیم کہئے۔

شمیم: میں اُس عزت کے متعلق سوچ ہی تھی جو حضرت دائود اپنے دِل میں خدا کے لئے رکھتے تھے ۔اگرچہ سائول حضرت دائود کو ہلاک کرنا چاہتا تھا۔ اور اُس نے ایک جگہ سے دوسری جگہ تک اُن کا تعاقب کیا۔ لیکن جب حضرت دائود کو سائول کو ہلاک کرنے کا موقع مِلا،اُنہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اُنہوں نے صرف اُس کے جبے کا ایک ٹکڑا کاٹ لیا ۔اورایک دوسرے موقع پر اُس کا نیزہ اٹھالیا۔حضرت دائود نے اپنے دوستوں سے کہا،"خُداوندنہ کرے کہ میں اپنے آقا سے ایسا کروں"۔اور اُس کے خلاف ہاتھ اُٹھائوں۔ کِسی اور نے اُن سے کہا ہو گا ۔ بادشاہ کو ہلاک کرنے اور اُس کی بادشاہت لینے کا اچھاموقع ہے۔ خُدا نے اُسے آپ کے ہاتھوں میں دے دیا ہے ۔ کوئی آپ پر الزام نہیں لگائے گا۔ لیکن حضرت دائود کے دِل میں خدا کے لئے عزت اور خوف تھا۔ وہ جانتے تھے، اگر اُنہوں نے سائول کو مارا تو یہ خُدا کے خلاف گناہ ہو گا۔ جب ہمارے دِل خُدا کے خوف سے بھرے ہوتے ہیں ہم بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں۔

زیدی: دیکھیں نا،جب سائول جنگ میں مارا گیا ۔کوئی شخص حضرت دائود کے پاس آیا اور کہنے لگا، میں نے بادشاہ کو ہلاک کر دیا ہے۔ اُس کا خیال تھا کہ حضرت دائود اُسے انعام دیں گے۔ انعام دینے کی بجائے حضرت دائود ناراض ہوگئے اور کہنے لگے،"تم خُدا کے ممسوح پر ہاتھ اُٹھاتے ہوئے کیوں نہ ڈرے؟پھر اُنہوں نے اپنے سپاہیوں کو حُکم دے کر اُسے ہلاک کروا ڈالا ۔

ندیم: حضرت دائود نہ صرف خدا سے ڈرتے تھے بلکہ وہ اپنے آپ پر ضبط بھی رکھتے تھے۔اگر وہ سائول کو ہلاک کر دیتے ۔ کِسی کو پتہ نہ چلتاکہ اُسے کیا ہُواہے۔ حضرت دائود نے دانائی کا کام کیا۔ جب سائول کو معلوم ہو گیا کہ حضرت دائود نے اُس کے قتل سے انکار کیا ہے ، اُس نے حضرت دائود کو برکت دی۔ بعض اوقات ہم لوگوں کو اِسی طرح دُکھ دیتے ہیں جیسے وہ ہمیں دُکھ دیتے ہیں۔ اس سے سبق نمبر24 صفحہ نمبر6

معاملہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن جب ہم اپنے اوپر قابو پا لیتے ہیں اور دانائی سے عمل کرتے ہیں ہم اُن کی دوستی حاصل کرتے ہیں۔

عادل: ندیم بھائی،میں بھی کچھ کہنا چا ہتا ہوں۔

ندیم: جی عادل کہئے۔

عادل: اُن ساری چیزوں کے بادجود جو حضرت دائود نے کیں اور سارے زبور جو اُنہوں نے لکھے،حضرت دائود نے بڑا گناہ کیا۔اُنہوں نے بیت سبع کے سا تھ حرا مکاری کی۔اُنہوں نے اپنے ساتھیوں کو تو جنگ پر بھیج دیا مگر خود گھر پر ٹھہر گئے۔وہ سست ہو گئے۔اور شیطان کو اُنہیں گناہ میں ڈالنے کا موقع مل گیا۔جب ہمارے پاس بھی کرنے کو کچھ نہیں ہو تا۔شیطان اُس وقت کو ہمارے خالی ذہنوں کو برُے خیالات سے بھر نے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ ہمیں ہر وقت اس بات کیلئے تیار رہنا چاہئے کہ ہم کس طرح اپنے خیالوں کو خدا کے ساتھ مصروف رکھ سکتے ہیں۔

زیدی: جی ہاں ہمیں اپنے پریشان ذہن کے ساتھ اپنے دشمن کو کھیلنے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔ اُس کی خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے ذہنوں میں گڑھا کھودے اور آگ جلا کر اُنہیں فنا کر دے۔ بالکل یہی کچھ حضرت دائود کے ساتھ ہُوا جب اُنہوں نے گناہ کیا۔

شمیم: میں اس میں تھوڑا اضافہ کر نا چاہتی ہوں۔جب حضرت دائود نے اپنے گناہ کو چھپانے کی کوشش کی تو اُنہیں ایک اور گناہ کر نا پڑا۔اُن کا خیال تھا کہ بیت سبع کے خاوند کو مارنے سے اُن کے دماغ کو سکون مِل جائے گا۔ اور کِسی کو اِس بات کا علم نہ ہو گا۔ لیکن جب اُنہوں نے ایسا کیا اُن کامسئلہ اور بھی خراب ہو گیا۔ بائبل مقدس بتاتی ہے کہ خدا اُن سے ناراض ہو گیا۔ جب ہم بھی اپنے مسائل کو اپنی سوچ سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہم اور زیادہ مسائل میں گِھر جاتے ہیں۔ ہم سیکھیں کہ جب ہم مصیبت میں پڑتے ہیں سب سے بہترین چیز جو کرنی چاہئے۔ وہ یہ ہے کہ خُدا کے پاس آئیں۔ وہ ہمیں سِکھائے گا کہ کِس طرح دانائی سے عمل کرنا ہے۔

ندیم: شمیم جو آپ نے کہا وہ سچ ہے۔ شیطان نے حضرت دائود کے فارغ وقت کو اُن پر حملہ کے لئے استعمال کیا۔ لیکن اگر ہم حضرت یوسف کے ساتھ اُن کامقابلہ کریں۔ توکیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت یوسف ابلیس کی آزمائش پر کیوں غالب آئے۔

نائیلہ: حضرت یوسف آزمائش سے بھاگ گئے لیکن حضرت دائود نے آزمائش کو موقع دیا کہ ان کے دماغ اور دِل کو کھا جائے ۔

ندیم: بہت خوب۔ جو کچھ بائبل مقدس کہتی ہے حضرت یوسف نے اُسے مانا۔ وہ اپنی جوانی کی خواہشوں سے بھاگ گئے ۔ یہ ہے جِس طرح اُنہوں نے اپنے آپ کو شیطان کے جال سے بچایا ۔لیکن اِس کے برعکس حضرت دائود نے اُس عورت کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیا اور شہوت بھرے خیال اُس عورت کے بارے میںاپنے دِل میں لانے لگے۔

ناصر: بالکل اُسی طرح جس طرح بی بی حوا نے سانپ سے گفتگو شروع کی ۔ اوربالآخر وہ لڑائی میں ہار گئی۔

ندیم: جی ہاں، بہت سی مثالیں ہیںجہاں خدا کے لوگ آزمائش سے بھاگے نہیں۔ نتیجہ یہ ہُوا کہ وہ ہار گئے۔ ہم شیطان کا غلط اندازہ نہ سبق نمبر24 صفحہ نمبر7

لگائیں کیونکہ وہ اکثر اوقات ہم پر غالب آ سکتا ہے۔ آئیں ہم دُعا کریں اور اپنے دِل خُد ا کی طرف لگائیں۔ آئیں خُدا سے کہیں کہ یہ اسباق ہمارے دِلوں میں قائم رہیں ۔

نائیلہ: خُداوند آج کے اسباق کے لئے تیرا شکر کرتے ہیں۔ میں منت کرتی ہوں مُجھے سِکھا کہ کِس طرح شیطان کے جھوٹ کو معلوم کر نا ہے۔ توفیق دے میں تیری طرف دیکھوں اور تُجھ سے طاقت حاصل کروں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں آمین۔

تمام: آمین۔

شمیم: اے خدامیں دُعا کرتی ہوں۔مجھے بتا کہ میں کِس طرح اپنے بھائیوں بہنوں سے محبت کروں۔ جیسی محبت میں اپنے آپ سے کرتی ہوں۔ میری مدد کر ۔ تاکہ میںاپنے آپ کو اُن کے لئے قربان کرنے کو تیار رہوں۔ آمین۔

تمام: آمین۔

پروین: ندیم۔ اِس سے پہلے کہ ہم دُعا ختم کریں۔میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی پروین۔

پروین: میں حیران تھی کہ کس طرح حضرت دائود جن کے بارے میں خُدا نے کہا ، دائود کا دِل میرے دِل کے مطابق ہے۔ اتنے بڑے گناہ میں گر گئے ۔ لیکن بعد میں مُجھے احساس ہوا کہ گناہ سے زیادہ مضبوط کوئی نہیں۔ آئیں اپنے آپ کو جانچیںاور جب دُعا کرتے ہیں تو خاکسار بن جائیں کہیں ٹھوکر کھا کر گِر نہ پڑیں ۔

ندیم: آمین۔ آئیں دُعا کرنا جاری رکھیں۔ اے خُداوند ہمیں اپنے ساتھ چلتے رہنے کی توفیق عطا کر۔ تیرا چہرہ ہم پر جلوہ گر ہو۔ اپنے روحِ پاک سے ہمیں بھر دے۔ غرور اور گناہ سے ہمیں بچا۔ آمین۔

تمام: آمین۔

ندیم: آپ کو یاد ہوگا، پچھلے ہفتے ہم نے گواہی کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ کیا ہم بتا سکتے ہیں کہ گذرے ہفتے میں ہم نے کسے گواہی دی۔

ناصر: ابو میں شروع کروں۔

ندیم: کیوں نہیں۔

ناصر: میں نے اپنے دوست اکبر سے بات چیت شروع کی ہوئی ہے۔ پچھلی بار میں نے آپ کو بتایا اُس سے کوئی اُمید نہیںلیکن اِس ہفتے خُدا ہمیں ایک دوسرے کے بہت قریب لے آیا۔اُس نے اپنے مسائل کے بارے میں مُجھ سے بات چیت شروع کی اور ہم اچھے دوست بن گئے۔ پچھلی جمعرات کو میں نے عادل کو بُلایا اور اکٹھے اکبر سے ملنے گئے ۔ میں کلیسیائ سے درخواست کر تا ہوں کہ اکبر کیلئے دعا کرے تا کہ خدا اُس کی زندگی میں کام کر ے ۔

سبق نمبر24 صفحہ نمبر8

ندیم: آمین ۔کوئی اور۔

زیدی: میں نے اپنے دوست سہیل سے بات چیت شروع کی ہے۔ یہ وہی شخص ہے جِس کے لئے میں نے پچھلی بار دُعا کی ۔

ندیم: پھر؟

زیدی: میں صرف ایک بار اُسے ملا ہوں۔ اگلی جمعرات پھر جائوں گا۔

پروین: میں نے بھی نگہت کے ساتھ،جو میرے آفس میں ہے۔بات چیت شروع کی ہے۔

ندیم: بہت خوب ۔ معلوم ہوتا ہے جو کچھ ہم سیکھ رہے ہیں اُس پر عمل بھی کر رہے ہیں۔میں نے بھی اپنے دوست عو بید سے گفتگو کی۔ جب میں نے اُس سے بات چیت کی تو اگلے دِن وہ پھر میرے پاس آیا۔ اِس سارے اچھے کام کیلئے ہم عیسیٰ مسیح کا شکرادا کرتے ہیں۔خدا ہماری مدد کرے کہ ہم اُس کے فر مانبردار رہیں۔اگلی دفعہ ہم زیدی اور نائیلہ بہن کے گھر ملیں گے۔خداوند آپ کو برکت دے ۔آمین۔

تمام: آمین۔