Hear Fellowship With My Family Episode 25 (Audio MP3)

View FWMF episode 25 as a PDF file

سبق نمبر25 صفحہ نمبر1

"شفاعت"

پروین: ﴿غصے سے﴾ تو بہ تو بہ ،اتنی گندی حرکت۔

ندیم: پروین کیا ہوا۔کیوں اتنی پریشان ہیں۔

پروین: ندیم،مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ وہ حد سے گزر جائے گی۔

ندیم: بابا کون؟ کس کی بات کر رہی ہیں۔

پروین: وہ حنائ ۔ہمارے پڑوسی کی بیٹی۔

ندیم: کیوں؟ کیا کیا اُس نے ۔

پروین: ندیم،یہ پانچویں بار ہے کہ اُس نے اپنی چھت پر سے پیچھے ہمارے صحن میں کو ڑا پھینکا ہے۔میں ابھی اُس سے بات کر تی ہوں۔

ندیم: پروین اِس بار اُسے معاف کر دو۔

پروین: میں معاف نہیں کر سکتی۔وہ جان بوجھ کر ایسا کر تی ہے۔

ندیم: کوئی بات نہیں ۔ہم پیار سے بات کریں گے۔

پروین: کیوں؟ کو ئی فائدہ نہیں۔

ندیم: پلیز ،میری خاطر اُسے معاف کر دیں۔

پروین: ﴿انرمی سے﴾ٹھیک ہے۔میں آپ کی خاطر اُسے معاف کرتی ہوں۔

ندیم: شکر یہ ،پروین آپ کے ایسا کرنے سے مجھے ایک بات یاد آگئی ہے۔

پروین: وہ کیا؟

ندیم: شفاعت۔

پروین: شفاعت؟

ندیم: ہاں ،شفاعت کی دُعا ۔ بہت سے لوگ گناہ کرتے ہیں اور جب ہم اُن کے لئے دُعا کرتے ہیں خُداوند اُنہیں معاف کرتا

ہے ۔دیکھونا،حنا ہمارے ہمسائے کی بیٹی نے غلطی کی ، میں نے آپ سے اُسے معاف کرنے کو کہا۔ یعنی اُس کا درمیانی بن

گیا اور آپ نے اُسے معاف کر دیا۔

پروین: اِس کے بارے میں تو کبھی میں نے سو چا بھی نہیں۔ کیوں نہ آج اپنی کلیسیائی عبادت میں اِسی موضوع پر بات چیت کریں؟

ندیم: کیوں نہیں،یہ مضمون اچھا رہے گا۔آج اِسی موضوع پر بات کریں گے۔

سبق نمبر25 صفحہ نمبر2

﴿﴿ہلکی سی موسیقی﴾ مکالمہ زیدی اور نائیلہ کے گھر کی طرف بدل جاتا ہے۔﴾

زیدی: نائیلہ ،کیا آپ نے سب کچھ کر لیا ہے؟

نائیلہ: ہاں زیدی ،میں نے کیک وغیرہ رکھ لیا ہے۔میں نے دعا بھی کر لی ہے کیونکہ آج مجھے گیت گانے میں راہنمائی کر نا ہے۔

زیدی: خدا کی تعریف ہو ۔

نائیلہ: آمین۔میں نے خداوند سے التجا کی ہے کہ روحِ پاک کے وسیلے ہماری پرستش کو اپنے کنٹرول میں لے۔

﴿دروازے کی گھنٹی بجتی ہے﴾

نائیلہ: زیدی، پلیز دروازہ کھولیں۔

زیدی: ٹھیک ہے۔ ﴿دروازہ کھُلتا ہے﴾

زیدی: ہیلوندیم۔ پروین بہن ۔ مہربانی کر کے اندر آ جائیں۔ ناصر آپ بھی آئیں۔

تمام: شکریہ۔مہربانی،انکل شکریہ۔ ﴿دروازہ بند ہوتا ہے﴾

پروین: زیدی بھائی آپ کیسے ہیں۔نائیلہ آپ کا کیا حال ہے۔

نائیلہ: ٹھیک ہے۔

ندیم: عادل اور شمیم کہاں ہیں۔ وہ کیوں کیوں نہیں آئے؟

نائیلہ: ابھی آجاتے ہیں۔ ﴿چائے کے پیالوں کی آوازیں﴾ یہ رہی چائے۔ پروین باجی مہربانی کر کے کیک کاٹیں۔

پروین: ٹھیک ہے۔﴿دروازے پر گھنٹی بجتی ہے﴾

ناصر: میں دروازہ کھولتا ہوں۔ ضرور یہ شمیم انٹی اورانکل عادل ہوں گے۔ ﴿دروازہ کھلتا ہے﴾

ناصر: آئیںآئیں انکل عادل،انٹی شمیم۔

شمیم: شکریہ ناصر﴿دروازہ بند ہو تا ہے﴾

عادل: ناصر کیا حال ہے۔

ناصر: انکل عادل میں ٹھیک ہوں۔

عادل: نائیلہ بہن آپ کا کیا حال ہے ۔

نائیلہ: میں ٹھیک ہوں۔بس آپ کا انتظار تھا۔چائے لیں۔کیک بھی ہے۔

عادل: کیک مزیدار ہے۔

سبق نمبر25 صفحہ نمبر3

زیدی: ہاں،نائیلہ نے بنایا ہے۔

ندیم: کیا ہم سب نے کھانا پینا ختم کر لیا ہے۔ اگر ہم سب نے چائے پی لی ہے۔تو ناصر،پلیز برتن اٹھا لیں۔

ناصر: جی ابو۔﴿برتن اٹھانے کی آواز﴾

ندیم: آج ہم ایک بہت ضروری مضمون پر بحث کریں گے۔ ہم شفاعتی دُعا کے بارے میں گفتگو کریں گے۔ لیکن اِس سے

پہلے کہ ہم گفتگو شروع کریں۔ آئیے ہم اپنے خُداوند کے نام کی ستائش کرتے ہوئے کلیسیائی عبادت کو شروع کریں۔

میں نے نائیلہ سے راہنمائی کے لئے کہا تھا ۔ نائیلہ بہن، شروع کریں۔

نائیلہ: گیت گانے سے پہلے آئیں ہم سب ،چھوٹی چھوٹی دعا کریں۔اے خداوند،ہم تیری تعریف کرتے ہیں۔

زیدی: اے خداوندہم تیرے نام کو جلال دیتے ہیں۔

شمیم: اے خُداوند ہم تجھ سے محبت کرتے ہیں۔

ندیم: زمین پر کوئی تیری مانند نہیں۔اے خدا ہم دل سے تجھے پیار کرتے ہیں۔

عادل : جب ہم تیری حضوری میں آتے ہیں۔ہمیں آرام ملتا ہے۔

ناصر: اے خداوند تیری حضوری میں ہمیں سچی خوشی ملتی ہے۔

نائیلہ: آمین ۔آئیں سب مل کر گیت گائیں،تو میری خوشی ہے۔﴿گیت:تو میری خوشی ہے﴾

ندیم: آمین۔اے خداوند ستائیش کے اِس وقت کیلئے تیرا شکر ہو۔اب ہمیں آج کے مضمون کے وسیلے سے سکھا کہ ہم کس

طرح اپنے دوستوں اور ملک کے لئے دعا کریں۔عیسیٰ مسیح کے نام میں آمین۔

تمام: آمین۔

ندیم: جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا تھاکہ آج کا مضمون بہت اہم ہے۔ اس لئے آئیے پوری توجہ دیں۔ شفاعت کے

معانی ہیں۔ دوشخصوں کو مِلانا۔ مثال کے طور پر جب پروین اپنے پڑوسی کی بیٹی سے ناراض ہوئی۔ اوراُسے جھڑکنے کا

فیصلہ کیا۔ میں نے درمیانی کا کردار ادا کیا۔ میں نے پروین سے کہا اُسے معاف کر دے۔ اور پروین نے میری وجہ

سے اُسے معاف کر دیا۔ بالکل ایسا ہی ہماری روحانی زندگی میں ہوتا ہے۔ خُداوند عیسیٰ مسیح ہمارے اور خُدا کے درمیان عظیم

درمیانی ہیں۔ یہ الفاظ ہمیں پہلا یوحنا2باب1تا2آیت میں ملتے ہیں۔ شمیم یہ آیات ہمارے لئے پڑھیں۔

شمیم: ﴿آیات تلاش کرتے ہوئے﴾ اے میرے بچو۔ یہ باتیں میں تمہیں اِس لئے لِکھتا ہوں کہ تم گناہ نہ کرو۔ اور اگر کوئی گناہ

کرے تو باپ کے پاس ہمار اایک مددگار موجود ہے۔ یعنی یسوع مسیح راستباز اور وہی ہمارے گناہوںکا کفارہ ہے۔ اور نہ صرف

سبق نمبر25 صفحہ نمبر4

ہمارے ہی گناہوں کا بلکہ تمام دنیا کے گناہوں کا بھی۔

ندیم: شکریہ شمیم۔

پروین: ندیم۔میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: کہئے پلیز۔

پروین: مردِ خدا حضرت لوقا کی معرفت لکھی گئی انجیل اُس کے تیرھیویں باب میں ایک تمثیل دی گئی ہے۔ جو شفاعت کی وضاحت

کرتی ہے۔ میں چھٹی سے نویں آیت تک پڑھتی ہوں۔ ﴿پڑھنے کے لئے صحیح جگہ تلاش کرتے ہوئے﴾ ’’پھرا ُس نے یہ تمثیل

کہی کہ کِسی نے اپنے تاکستا ن میں ایک انجیر کا درخت لگا یا تھا۔ وہ اُس میں پھل ڈھونڈنے آیا اور نہ پایا ۔ اِ س پر اُس نے باغبان سے کہا کہ دیکھ تین برس سے میں اِس انجیر کے درخت میں پھل ڈھونڈنے آتا ہوںاور نہیں پاتا۔ اِسے کاٹ ڈال۔ یہ زمین کو بھی

کیوں روکے رہے؟۔ اُس نے جواب میں اُس سے کہا ، اے خداوند اِس سال تُو اور بھی اِسے رہنے دے تاکہ میں اُس کے

گِرد تھال کھودوں اور کھاد ڈالوں۔ اگر آگے کوپھلا تو خیر نہیں تو اِس کے بعد کاٹ ڈالنا۔‘‘﴿Pause﴾ وہ آدمی جو درخت کی دیکھ بھال کر رہا تھا، عیسیٰ مسیح ہیں۔ وہ خُدا اور انسانوں کے درمیان درمیانی کا کام کررہے تھے۔ جو خُدا کی بادشاہت کے لئے پھل نہیں

لا رہے، خُداوند عیسیٰ مسیح خُدا باپ سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں پھل لانے کے لئے ایک اور موقع دیا جائے۔

ندیم: بالکل،عیسیٰ مسیح ہمارے درمیانی ہیں۔اور وہ چاہتے ہیں کہ اپنی کلیسیا کے لئے درمیانی کا کردار ادا کریں۔

عادل: ندیم بھائی ۔مجھے ابھی ابھی وہ بات یاد آئی ہے جو عیسیٰ مسیح نے پہاڑی وعظ میں کہی۔اُنہوں نے کہا اپنے ستانے والوں

کے لئے دُعا کرو۔

زیدی: جی ہاں،پولوس رسول پہلا تیمتھیس 2باب میں کہتے ہیں ، پس میں سب سے پہلے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ مناجاتیں اور

دُعائیں اور التجائیں اور شکر گزاریاں سب آدمیوں کے لئے کی جائیں۔

ندیم: بالکل درست۔ میں لوگوں کے ایک سب سے بڑے درمیانی کے بارے بھی ذِکر کرنا چاہوں گا۔

ناصر: کیا آپ کا مطلب حضرت موسیٰ سے ہے۔ کیا وہ ہمیشہ اپنے لوگوں کی شفاعت نہیں کرتے تھے؟

ندیم: بیشک۔ خروج کی کتاب میں موسیٰ نبی اپنے لوگوں کی شفاعت کر رہے تھے۔ جب اُنہوںنے خُدا کے خلاف گناہ کیا۔

ایک دِن خُدا نے سارے لوگوں کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ حضرت موسیٰ نے اُن کے لئے دُعا کی اور خُدا سے اُنہیں معاف کرنے

کی شفاعت کی۔ نائیلہ ! مہربانی کر کے ساتویں اورچودھویں آیت تک پڑھیں۔ خروج 32باب7تا14آیت۔

نائیلہ: ﴿صحیح جگہ کی تلاش کرتے ہوئے﴾ تب خُداوند نے موسیٰ سے کہا ، نیچے جا کیونکہ تیرے لوگ جن کو تو ملک ِمصر سے نکلال لایا

سبق نمبر25 صفحہ نمبر5

بگڑ گئے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے لئے ڈھالاہوا بچھڑا بنایا اور اُسے پوجا اور اُس کے لئے قر بانی چڑھا کر یہ بھی کہا کہ اے اسرائیل

یہ تیرا وہ دیوتا ہے جو تجھ کو ملکِ مصر سے نکالکر لایا۔

ندیم: نائیلہ! میں افسوس کے ساتھ آپ کی بات کاٹ رہا ہوں۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ اُ ن کا گناہ کتنا بڑا تھا ۔ مہربانی کر کے آگے

پڑھیئے۔

نائیلہ: اور خُدا نے موسیٰ سے کہا کہ میں اَس قوم کو دیکھتا ہوں کہ یہ گردن کش قوم ہے۔ اِس لئے تُو مجھے اب چھوڑ دے کہ میرا غضب

اُن پر بھڑکے اور میں اُن کو بھسم کردوں اور میں تجھے ایک بڑی قوم بنائونگا۔

ندیم: حضرت موسیٰ نے خُدا سے کیا کہا۔ شمیم پڑھنا جاری رکھیں۔

شمیم: تب موسیٰ نے خُداوند اپنے خُدا کے آگے منت کر کے کہا ، اے خُداوند کیوں تیرا غضب اپنے لوگوں پر بھڑکتا ہے جِن کو

تُوقوتِ عظیم اور دست ِ قوی سے ملک مصر سے نکال کر لایا ہے۔ مصری لوگ یہ کیوں کہنے پائیں کہ وہ اُن کو برائی کے لئے نکال

لے گیا۔ تا کہ اُن کو پہاڑوں میں مار ڈالے اور اُن کو روئے زمین سے فنا کر دے؟ سو تو اپنے قہرو غضب سے باز رہ اور اپنے

لوگوں سے اِس برائی کرنے کے خیال کو چھوڑ دے۔ تو اپنے بندوں ابرہام اور اضحاق اور یعقوب کو یاد کر جن سے تو نے اپنی ہی

قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ میں تمہاری نسل کو آسمان کے تاروں کی مانند بڑھائوں گا۔ اور یہ سارا ملک جِس کامیں نے ذِکر کیا ہے

تمہاری نسل کو بخشونگاکہ وہ سدا اُس کے مالک رہیں۔ تب خُداوند نے اُس برائی کے خیال کو چھوڑ دیا۔ جواُس نے کہا تھاکہ

میرا غضب اُن کے خلاف بھڑکے گا۔ظاہر ہے کہ اگر حضرت موسیٰ خُدا سے دُعا نہ کرتے۔ خُدا لوگوں کو تباہ کر دیتا۔

ندیم: ہاں۔ بیشک۔ اگر حضرت موسیٰ اُن کے لئے دُعا نہ کرتے ، خُدا اُن کے گناہ کی وجہ سے اُنہیں تباہ کر دیتا۔

زیدی: میں نے شفاعت کے بارے میں ایک کتاب پڑھی ہے اور چاہوں گا کہ اُس کے کُچھ حصوں میں آپ کو شریکِ گفتگو کروں۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ زیدی بھائی۔

زیدی: اُس کتاب کے منصف نے کہا کہ شفاعت تاریخ کو بدل سکتی ہے۔اُس نے بائبل میں سے چند لوگوں کی مثالیں دیں۔

جِن کی شفاعتی دُعائوں نے بہت سی چیزیں بدل دیں۔ اُس نے حضرت موسیٰ کی کہانی کا ذِکر کیا۔ جو ہم نے ابھی پڑھی۔

اُس نے کہا اگر حضرت موسیٰ اپنے لوگوں ک شفاعت نہ کرتے کوئی بھی اندازہ نہ کرسکتا تھا کہ خُدا کِس طرح اپنے لوگوں کو

تباہ کر دیتا۔ لیکن حضرت موسیٰ کی شفاعت سے لوگ بچ گئے۔ اور اُن کے لئے نیا مقدر لِکھ دیا گیا۔

ندیم: بالکل ،بہت سے لوگوں نے شفاعت کی۔ اور اپنے لوگوں کا مقدر اور اُن کے ملک بدلنے کے قابل ہوئے۔

پروین: بائبل مقدس میں ایک اورکہانی ہے جو آپ کے بیان کردہ واقعات کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ کیا اُس کا ذِکر کرنے

سبق نمبر25 صفحہ نمبر6

کی مُجھے اجازت ہے۔

ندیم: پروین بتائیں۔

پروین: بائبل مقدس میں آستر کی کتاب میں بادشاہ نے تمام یہودی لوگوں کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ملکہ آستر نے اپنے لوگوں کی

شفاعت کی اور اُنہیںبچا لیا۔ خُدا کے لوگوں کی تاریخ میں ہمیشہ ایک درمیانی تھا۔ جو اپنے لوگوں کی شفاعت کرتا تھا۔

ندیم: پروین شکریہ ۔ بائبل مقدس یہ بھی ذِکر کرتی ہے کہ ایک خاص نقطے پر خُدا ایک خاص درمیانی کی تلاش میں تھا ۔اور سوائے

عیسیٰ مسیح کے اُسے کوئی نہ ملا۔عیسیٰ مسیح ہمارے اور خُدا کے درمیان ہمارے درمیانی ہے۔ خُداوند عیسیٰ مسیح ساری دنیا کو بچانے کے لئے صلیب پر مُوئے۔ ہم میں سے ہر ایک کے لئے ان کا خون بہایا گیا۔ اور اس طرح خدا کا غضب ہم سے دور ہوگیا۔

اب وہ سب جو اُن کی موت پر ایمان رکھتے ہیں۔ خُدا کے غضب سے بچائے جائیں گے۔ خُدا اپنی کلیسیائ سے کہہ رہا ہے کہ

اٹھ اور ساری دنیا کے ملکوں کے لوگوں کی شفاعت کر۔خدا چاہتا ہے کہ ہم شفاعت کرنے والے ہوں۔

نائیلہ: مگرہم کیسے شفاعت کرنے والے بن سکتے ہیں۔

ندیم: دیکھیں،خُداوند عیسیٰ مسیح کلیسیائ کا سر ہیں۔ کلیسیائ اُن کا بد ن ہے۔ عیسیٰ مسیح چا ہتے ہیں کہ اُن کا بدن شفاعت کے کام میں اُن

کے ساتھ شامل ہو ۔ خُدا چاہتا ہے کہ کلیسیائ کے وسیلے اُس کی بادشاہت زمین پر پھیل جائے۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیںکہ زمین پر خُدا کی بادشاہت کا اعلان کرنے کے لئے حمد کرنا ایک طریقہ ہے، گواہی دینا دوسرا طریقہ ہے۔ یعنی لوگوں سے عیسیٰ مسیح اور اُس کی محبت کی باتیں کرنا ۔لیکن آج ہم سیکھ رہے ہیں کہ دوسروںکے لئے دُعا کرنا اور شفاعت کرنا ایک اور طر یقہ ہے۔ اِس میںہم اُن لوگوں کے لئے دُعا کرتے ہیں جو شیطان کی بادشاہت میں قیدی ہیں۔

پروین: آپ نے مجھے جنگ کی یاد دِلا دی ہے۔ جنگ میں فوج کے پاس ایک جگہ ہوتی ہے۔ جِسے فوجی حرکت کا مرکز کہا جاتا ہے۔

زمین پر کلیسیائ کلیسیا ئی حرکت کا مرکز ہے۔ خُداوند عیسیٰ مسیح نے متی 18باب میں اپنے شاگردوں سے کہا ، جو کُچھ تم زمین

پر باندھوگے وہ آسمان پر بندھے گا اور جو کُچھ زمین پر کھولو گے آسمان پر کھُلے گا۔ یہ واضح ہے کہ کلیسیائ کو، زمین پر باندھنے اور کھولنے کااختیار حاصل ہے۔

ندیم: بالکل، اورکیا آپ کو پتہ ہے کلیسیائ کی شفاعت کیا کر سکتی ہے۔

ناصر: آپ کے لفظوں سے ظاہر ہے کہ کلیسیائ شیطان اور اُس کے خیالوں پر فتح کی راہ تیار کرتی ہے۔ مُجھے یاد ہے جب حضرت موسیٰ

اور اُن کے لوگ اپنے دشمنوں سے لڑ رہے تھے ۔ اورجب حضرت موسیٰ اپنے ہاتھ اوپر اُٹھا تے تھے قوم غالب آتی تھی۔ لیکن جب

وہ اپنے ہاتھ نیچے کرلیتے تھے قوم کو شکست ہوتی تھی۔ لہذاجب لوگوں نے یہ دیکھاتو اُن کے بھائی ہارون اور ایک اور شخص حور

سبق نمبر25 صفحہ نمبر7

پہنچے ۔اُنہوں نے حضرت موسیٰ کی ہاتھ اٹھائے رکھنے میں مدد کی۔ اُن کے ہاتھ اُٹھے رہے ۔ جب تک اُن کے لوگوں نے

دشمنوں پر غلبہ نہ پالیا۔

ندیم: بالکل۔ کیا اِس کہانی میں آپ نے شفاعت کی اہمیت کو دیکھا ہے۔ جب حضرت موسیٰ اپنے ہاتھ اوپر اُٹھا تے تھے لوگ اپنے

دشمنوں پرغالب آتے تھے ۔ لیکن جب وہ ہاتھ نیچے کرلیتے تھے،اُن کے لوگوں کو شکست ہوتی تھی۔ اِسی طرح جب ہم شفاعت

کرتے ہیں اور دنیا کے لئے دُعا کرتے ہیں ہم فتح یاب ہوتے ہیں۔ او ر خُدا کی بادشاہت پھیلتی ہے۔لیکن جب ہم

دنیا کی خواہشوں میں مصروف ۔ اور اپنی زندگیوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ اور ہم دُعا مانگنا اور شفاعت کرنا بند کر دیتے ہیں،

شیطان فتح یاب ہوتا ہے۔﴿Pause﴾اب سوال یہ ہے کہ شفاعت کیا کرسکتی ہے۔

عادل: ایک مرتبہ میں نے ایک کتاب پڑھی جو اُس روحانی بیداری کے بارے میں تھی،جو بہت سے ملکوں میں واقع ہوئی۔ لوگوںکی

بڑی تعداد خُداوند کے پاس آ ئی اور شیطان کی بادشاہت سے بچ گئی۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اِس بیداری میں ایک

چیز مشترک چیز تھی ۔

شمیم: عادل وہ کیا؟

عادل: شمیم یہ دُعا اور شفاعت تھی جو بیداری سے پہلے ہوئی۔

ندیم: ہاں، بیشک۔ جب کلیسیائ شفاعت کرے گی۔ ملک تیار ہو گا۔ اور بہت سے لوگ آزاد ہوں گے۔ اور اپنی زندگیوں میں

خُداوند کے کام کو قبول کریں گے۔ بائبل مقدس یسعیاہ 62باب اور 10 آیت میں فر ماتی ہے۔ گزر جائو ، پھاٹکو میں سے گزر

جائو۔ لوگوں کے لئے راہ درست کرو اور شاہراہ اونچی کرو اور بلند کرو ۔ پتھر چن کر صاف کر دو لوگوں کے لئے جھنڈا کھڑا کرو۔

یہ ہے جو شفاعت کرتی ہے۔ شفاعت خُداوند کے لئے راہ تیار کرتی ہے۔ شفاعت محض ثالثی نہیں ہے ۔ مُجھے اِس کو عمل میں

لانے کی ضرورت ہے۔ مجھے لوگوں کے بوجھ اُٹھانے کی ضرورت ہے اور اُن کے گناہوں کو خُدا کے پاس لانے کی ضرورت

ہے۔ جیسے گویا میں اپنے گناہ لا رہا ہوں۔ اور خدا اُنہیں معاف کر رہا ہے۔﴿Pause﴾ کیا کِسی کو بائبل مقدس سے

اِس کے متعلق کوئی مثال یاد ہے؟

زیدی: جی ،مُجھے ابھی حضرت نحمیاہ کی کہانی یاد آئی ہے۔ آئیے،بائبل مقدس سے نحمیاہ کے پہلے باب کو کھولیں۔

﴿ بائبل کھولنے کی آوازیں﴾ نحمیاہ جلاوطنی میں اپنے لوگوں کے ساتھ تھا ۔ اُس نے کِسی شخص سے جو اُس کے ملک سے آیا تھا

لوگوں کی حالت کے بارے میں پوچھا۔ اُس آدمی نے نحمیاہ کو بتایا کہ وہ ندامت اور بڑی بدی میں رہ رہے تھے۔ اُس نے

یہ بھی بتایا کہ شہر کی دیوار تباہ ہو گئی تھی اور پھاٹک جلے ہوئے تھے۔ ﴿Pause﴾یاد رکھیں، حضرت نحمیاہ نے کوئی ایسا کام نہ کیاتھا سبق نمبر25 صفحہ نمبر8

جِس سے یہ سب بدی پیدا ہوئی۔ لیکن آئیں لوگوں کے آگے مانگی ہوئی دُعا پڑھیں۔ ہمیں ایک بڑی عجیب چیز کا علم ہو گا۔

شمیم! مہربانی سے آیت نمبر4 سے آگے پڑھیں۔

شمیم: جب میں نے یہ باتیں سُنیں تو بیٹھ کر رونے لگا۔اور کئی دِنوں تک ماتم کر تا رہا اورروزہ رکھا ۔ اور آسمان کے خُدا کے

سامنے دُعا کی ۔اور کہا ، اے خُداوند آسمان کے خُدا خدایِ عظیم و مہیب تو جواُن کے ساتھ جو تجھ سے محبت رکھتے اور تیرے حکموں کو مانتے ہیں عہد وفضل کو قائم رکھتا ہے میں تیری نت کر تا ہوں۔کہ تُوکان لگا اور اپنی آنکھیں کھلی رکھ تا کہ تُو اپنے بندہ کی اُس

دعا کو سنے جو میں اب رات دن تیرے حضور تیرے بندوں بنی اسرائیل کے لئے کر تا ہوں اور بنی اسرائیل کی خطائوں کو جو ہم

نے تیرے بر خلاف کیں مان لیتا ہوں اور میں اور میرے آبائی خاندان دونوں نے گناہ کیا ہے ۔ہم نے تیرے خلاف بڑی بدی

کی ہے اور اُن حکموں اور آیئن اور فرمانوں کو جو تُو نے اپنے بندہ موسیٰ کو دئے نہیں مانا۔

زیدی: شمیم۔ شکریہ۔ دیکھیں،حضرت نحمیاہ نے اپنے لوگوں کے ساتھ گناہ نہ کیا تھا۔ لیکن جب اُنہوں نے اُن کے لئے دُعا کی

اُنہوں نے اپنے آپ کو اُن کے ساتھ سمجھا۔ اُنہوں نے خدا سے اُن کے گناہ معاف کرنے کو کہا۔ نہ صرف اپنے لوگوں کے

بلکہ اُنہوں کے اپنے گناہ بھی۔ اُنہوں نے اُن کے بوجھ اور گناہ اِس طرح اُٹھائے۔ گویا وہ اُن کے اپنے گناہ تھے۔ اُنہوں

نے اپنے لوگوں کے لئے دُعا اور شفاعت کی۔

ندیم: بالکل،کیونکہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ آئیے خُداوند کا شکر کریں۔ اپنے ملک ، اپنے دوستوں اور اپنے پڑوسیوں کے

لئے شفاعت کرنے کے کام میں اُس کے ساتھ حصہ دار بننے کے لئے۔ اپنے آپ کو پیش کریں۔ شفاعت ایک بہت بڑی

ذمہ داری ہے۔ حضرت نحمیاہ کی طرح دِن رات دُعا کے لئے تیار رہیں۔ آئیں ہم خُدا سے دُعا کریں اور کہیں کہ ہمیں

اپنے پڑوسیوں ، اپنے ساتھ کام کرنے والوں، رشتے داروں اور اپنے مُلک بھر کے لئے شفاعت کرنے کی توفیق عطا

فر مائے۔

پروین: اے خُداوند ہم اُس ذمہ داری کے لئے جو تُو نے ہمیںدی ہے۔ تُجھے جلال دیتے ہیں ۔ ہم اپنے مُلک کے لئے دُعا

کرتے ہیں۔ اے خُدا ہمارے مُلک کو برکت دے۔ توفیق دے ہمارے ساتھ دوسرے لوگ بھی تُجھے جانیں ۔ہم اپنے

لوگوں کے گناہوں کے لئے افسوس کرتے ہیں۔ مہربانی کر کے اُنہیں معاف فر ما اور ہمارے گناہ ہمیں معاف فرما۔

تمام: آمین۔

ندیم: آمین۔ اگلی مرتبہ ہماری عبادت ہمارے گھر پر ہوگی۔ ضرور آئیے گا۔عیسیٰ مسیح آپ کے ساتھ ہو۔

زیدی: آپ کے ساتھ بھی ہو۔

سبق نمبر25 صفحہ نمبر9

ندیم: آمین۔

تمام: آمین۔