Hear Fellowship With My Family Episode 26 (Audio MP3)

View FWMF episode 26 as a PDF file

سبق نمبر26 صفحہ نمبر1

"زبور نمبر33 "

﴿مارکیٹ:سائونڈز﴾

عادل: شمیم!چل چل کر میرے پائوں سوج گئے ہیں۔

شمیم: عادل۔ میرا بھی یہی حال ہے۔ ہم مسلسل چار گھنٹوں سے دکانوں کے چکر لگا رہے ہیں، مگر ہمیں بیڈ روم کے لئے مناسب چیزیں نہیں مل رہیں ۔ عبادت کا وقت بھی ہو رہا ہے۔

عادل: کیا خیال ہے آج عبادت چھوڑ نہ دیںاور یہ کام کرلیں۔

شمیم: ﴿ناراضگی سے﴾ٹھیک ہے۔عبادت میں نہیں جاتے۔میں دیکھوں گی آپ کو خدا کو کیا جواب دیتے ہیں۔یہی کہیں گے نا،بیڈ روم کیلئے چیزیں نہیں مل رہی تھیں۔

عادل: شمیم تم تو ناراض ہو گئی ہو۔

شمیم: سوری عادل میں نے آپ کو پریشان کیا ہے ۔ میں محسوس کرتی ہوں شیطان اپنا کام کر رہا ہے۔ مُجھے معاف کر دو۔ ﴿Pause﴾ اب مسکرائو نا۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ میرے لیے کتنے قیمتی ہیں۔

عادل: شمیم! مُجھے بھی افسوس ہے میرا رویہ سخت تھا۔آئو عبادت میں چلیں۔

﴿موسیقی﴾

ناصر: امی! آنٹی شمیم کہاں ہیں۔آج اُن کی چھٹی نہیں تھی؟

پروین: ناصر آج عادل کی بھی چھٹی تھی۔وہ دونوں بیڈروم کیلئے چیزیں لینے گئے ہیں۔

ندیم: پروین ،ان دنوں مجھے وہ بوکھلائے ہو ئے اور فکر مند لگتے ہیں۔

پروین: نہیں ندیم ویسے ہی وہ مصروف ہیں۔

﴿دروازے کی گھنٹی بجتی ہے﴾

ناصر: یہ ضرور آنٹی شمیم اور انکل عادل ہونگے۔میں دروازہ کھولتا ہوں۔

﴿دروازہ کھولنے کی آواز﴾

ناصر: ہیلو انکل زیدی،ہیلو آنٹی نائیلہ،تشریف لائیں۔

نائیلہ: شکریہ ناصر۔

زیدی: ناصر آپ کا کیا حال ہے۔

سبق نمبر26 صفحہ نمبر2

ناصر: میں ٹھیک ہوں۔میرا خیال تھا انکل عادل اور آنٹی شمیم آئے ہیں۔

پروین: ناصر دروازہ بند کرو۔ کُھلاکیوں چھوڑ دیا ہے۔

ناصر: ٹھیک ہے امی۔﴿Pause﴾لو انکل عادل اور آنٹی شمیم پہنچ گئے ہیں۔انکل عادل کیا حال ہے آپ کا۔

عادل: ٹھیک ہے۔

ناصر: آنٹی شمیم تھکی تھکی لگ رہیں ہیں۔

شمیم: اندر تو آنے دو۔بیٹھ کر بات کر تے ہیں۔

﴿دروازہ بند ہونے کی آواز﴾

ندیم: آئیں آئیں ،سب تشریف رکھیں۔

زیدی،نائیلہ،عادل،شمیم: شکریہ ،مہربانی،بہت شکریہ۔

پروین: شمیم،بیڈروم کیلئے سامان مل گیا ہے۔

شمیم: باجی اِس کے متعلق بات نہ کریں۔

ناصر: لگتا ہے لڑائی ہو ئی ہے آپ دونوں کی۔

ندیم: نہیں نہیں ناصر،ایسا ممکن نہیں۔

عادل: ندیم بھائی ،کیوں ممکن نہیں۔ ہم نے بہت سی دوکانوں کے چکر لگائے۔تھک کر چورُ ہوگئے۔کچھ نہیں ملا۔ہماری آپس میں کافی بحث و تکرار بھی ہوئی۔

نائیلہ: عادل میرا خیال ہے۔جو کچھ آپ لوگوں کے ساتھ ہوا۔ایک قدرتی عمل ہے۔جب کوئی شخص فکر مند ہو تا ہے،نہیں جانتا،کہ کو ئی کام کیسے کر نا ہے۔

شمیم: نائیلہ باجی، بالکل یہی ہمارے ساتھ ہُوا ہے۔ ہم بیڈ روم کی چیزوں کے بارے میں متفق نہ ہو سکے۔

ندیم: ٹھیک ہے۔پھر بات کریں گے ۔اب آئیں ہم عبادت شروع کریں۔اور اپنے بوجھ عیسیٰ مسیح کے سامنے رکھیں۔وہی حل ِمشکلات ہے۔

پروین: ندیم میں چائے نہ لے آئوں؟

ندیم: پروین،ہم پہلے ہی لیٹ ہیں۔آج چائے ہم عبادت کے بعد پیئں گے۔

تمام: ٹھیک ہے ۔بالکل درست۔

سبق نمبر26 صفحہ نمبر3

ندیم: تو آئو پھر ستا یش کریں۔زیدی بھائی،شروع کریں۔

زیدی: آئیں ہم سب اپنی فکریں اور بوجھ خُدا پر ڈال دیں ۔ نائیلہ اور مجھے ۔ عادل اور شمیم ۔ہم سب کو اپنے بوجھ خُدا پر ڈالنے کی ضرورت ہے ۔ نائیلہ اور میں ابھی کل ہی ڈاکٹر کے ہاں سے ہو کر آئے ہیں اور اُس نے تصدیق کر دی ہے کہ ہمارے ہاں بچے ہونا ناممکن ہے اور اِس بات نے ہمیں سچ مچ پریشان کر دیا ہے۔ لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ خُدا چاہتا ہے کہ ہم اپنے بوجھ خُداوند پر ڈال دیں۔

نائیلہ: اے خُدا تُو ہماری راحت ہے۔ تُو ہے جِس نے فر مایا ۔سب جو بوجھ سے تھکے ماندے ہو میرے پاس آئو میںتمہیں آرام دونگا۔ہاں خُداوند تیری حضوری میں سچی راحت ہے۔ آمین۔

تمام: آمین۔

زیدی: آئیں سب مِل کر وہ گیت گائیں جو کہتا ہے،تُو میری خوشی ہے۔ ﴿تو میری خوشی ہے﴾’’گیت‘‘

زیدی: آمین۔

ندیم: آمین۔ آج ایک عظیم دِن ہے ۔ آئو اکٹھے زبور 33نکالیں۔ ہم بارہویں آیت سے باب کے آخر تک پڑھیں گے۔نائیلہ ،آپ پڑھئے۔

نائیلہ: مبارک ہے وہ قوم جِس کا خُدا خُداوند ہے۔ اور وہ اُمت جِس کو اُس نے اپنی ہی میراث کے لئے برگزیدہ کیا ہے۔ خُداوند آسمان پر سے دیکھتا ہے سب بنی آدم پر اُس کی نگاہ ہے۔ اپنی سکونت گاہ سے وہ زمین کے سب باشندوں کو دیکھتا ہے ۔ وہی ہے جو اُن سب کے دِلوں کو بناتااور اُن کے سب کاموں کا خیال رکھتا ہے۔ کِسی بادشاہ کو فوج کی کثرت نہ بچائیگی اور کِسی زبردست آدمی کو اُس کی بڑی طاقت رہا ئی نہ دے گی۔ بچ نکلنے کے لئے گھوڑا بیکار ہے۔ وہ اپنی شہ زوری سے کِسی کو نہ بچائے گا۔ دیکھو خُداوند کی نگاہ اُن پر ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں۔ جو اُس کی شفقت کے اُمید وار ہیں تاکہ اُن کی جان موت سے بچائے۔ اور قحط میں اُن کو جیتا رکھے۔ ہماری جان کو خُداوند کی آس ہے وہی ہماری کمک اور ہماری سپر ہے۔ ہمارا دِل اُس میں شادمان رہے گا کیونکہ ہم نے اُس کے پاک نام پر توکل کیا ہے۔ اے خُداوند جیسی تُجھ پر ہماری آس ہے ویسی ہی تیری رحمت ہم پر ہو۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ کیا کوئی اِس میں سے کسی خاص نقطے پر اظہارِ خیال کر نا چاہتا ہے۔

پروین: جی میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ آیت نمبر12میں لِکھا ہے ، مبارک ہے وہ قوم جِس کا خُداخُداوند ہے۔ وہ قوم جو اُس نے اپنی میراث کے لئے چُنی ۔اِسکا مطلب ہے کہ خُدا نے خود ہمیں چُنا ۔ یہ سچ مچ کتنی خوشی کی بات ہے کہ ہمارے گناہوں اور قصوروں کے باوجود اُس نے ہمیں اپنی میراث کے لئے چُنا۔ ذرا سوچیں خُداوند تعالیٰ کہتا ہے ہم اُس کی میراث ہیں۔ بہت بڑا حق ہمیں دیا سبق نمبر26 صفحہ نمبر4

گیا ہے۔

ندیم: آپ کے الفاظ نے مُجھے وہ آیت کو یاد دلادی ہے جس میں لکھا ہے، کیونکہ اُس نے ہمیں اُس کی نگاہ میں پاک اور تقدس ہونے کے لئے دنیا کی تخلیق سے پہلے چنا ۔ اِس کا مطلب ہے کہ خُدا نے ہمیں اپنی میراث کے لئے چن لیا ہے۔ اِس کے علاوہ اُس کا روحِ پاک ہمیں مقدس بنانے کے لئے ہم میں کام کر رہا ہے۔

نائیلہ: بہرحال ۔ ہم خُدا سے چُنے جانے کے حقدار نہیں ہیں۔ میںآپ کی موجود گی میں دُعا کرنا چاہتی ہوں۔ اورمیں عیسیٰ مسیح کی موت کے لئے خُدا کا شکر کر نا چاہتی ہوںجِس کے وسیلے اُس نے ہمیں خرید لیا ۔

ندیم: آمین۔ آئو ہم دُعا کریں ۔

نائیلہ: خُداوند عیسیٰ میں آپ کو ساری عزت اور سار ا جلال دیتی ہوں۔ کیونکہ آپ نے ہمیں قصوروں کے باوجود چُن لیا ۔ میں دِل سے شکر کرتی ہوں کیونکہ آپ ہمارے لئے مُوئے۔ آپ کی محبت نے ہمیں قیدی بنا لیا ہے۔ خُداوند ہم آپ سے محبت کرتے ہیں۔ آمین۔

شمیم: ندیم بھائی۔ میں کُچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: شمیم کہئے پلیز۔

شمیم: سولہویں اور سترہویں آیت کہتی ہیں ، کوئی بادشاہ اپنی فوج کی تعداد سے نہیں بچتا۔ کوئی جنگجو اپنی بڑی قوت سے نہیں بچ نکلتا۔ گھوڑا مخلصی کے لئے بے سود اُمید ہے۔ اپنی بڑی طاقت کے باوجود یہ بچا نہیں سکتا۔﴿Pause﴾ جیسے ہی ہم یہ الفاظ پڑھ رہے تھے مُجھے یاد آیا جو میرے اور عادل کے ساتھ پیش آیا۔ میں کتنی فکر مند تھی اور اِس بات نے مجھے عادل کو فکرمند بنانے پر مجبور کیا ۔ ہر بار جب میں نے سوچا کہ ہم اپنے گھر کے لئے فرنیچر خریدنے کے لئے تگوو دو نہیں کر رہے۔ میں نے محسوس کیا کہ ہماری شادی کبھی نہ ہو گی۔ اب جب میں یہ آیت پڑھ رہی تھی ۔ میں نے دیکھا کہ سارا وقت میں اپنی کوششوں اور دانائی پر انحصار کر تی رہی۔ میں خُدا پر اپنا بوجھ ڈالنا بھول گئی۔﴿Pause﴾عادل ! مُجھے افسوس ہے میں نے آپ کو پریشان کیا۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ اگر خُداوند سے ہم نے اپنے فرنیچر کے چنائو کے لئے مددمانگی ہوتی، تو ہم پریشان نہ ہوتے۔

عادل: شمیم،میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں۔ یہ سچ ہے کہ کوئی بادشاہ اپنی قوت سے نہیں بچتا۔ ہم نے اپنی پوری کوشش کی اور ہم ناکام ہوئے۔ لیکن آج سے آپ اور میں اپنی فکریں اور بوجھ عیسیٰ مسیح پر ڈال دیں گے۔

نائیلہ: بائبل مقدس میں ایک خوبصورت آیت ہے۔ جو کہتی ہے، اپنی ساری فکر اُس پر ڈال دے کیو نکہ وہ فکر کرتا ہے۔ ایک اور آیت ہے جو کہتی ہے۔ اپنی ساری فکریں خُداوند پر ڈال دے اور وہ تُجھے قائم رکھے گا۔

سبق نمبر26 صفحہ نمبر5

زیدی: نہ صرف یہ بلکہ وہاں ایک اور آیت ہے جو کہتی ہے جو تُو کرتا ہے خُداوند پر ڈال اور تیرے منصوبے کا میاب ہونگے۔ خُداوند صرف یہ نہیں چاہتا کہ اپنے بوجھ اُس پر ڈال دیں بلکہ چاہتا ہے کہ اپنے منصوبے بھی اُس کے ذمے لگا دیں۔ اِس کا مطلب ہے جو ہمیں کرنا ہے ہم اِسے خُداوند پر ڈال دیں تا کہ کامیاب ہوں۔

ندیم: بہرحال ہمارے لئے کہنا آسان ہے کہ ہم اپنے بوجھ اُس پر ڈال دیںگے۔ لیکن ضرورت کے وقت ہم بے صبرے ہو جاتے ہیں اور فوراََاپنی طاقت پر انحصار کر نا شروع کر دیتے ہیں۔﴿Puase﴾خیر کو ئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے؟

پروین: میں کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی پروین کہئے۔

پروین: میں اِس زبور کی آخری آیت پر بات کرنا چاہتی ہوں۔ جو بتاتی ہے ، ہماری جان کو خُداوند کی آس ہے ۔ وہی ہماری کمک اور ہماری سپر ہے۔ اِس سے پیشتر کہ ہم اِن آیات کو جاری رکھیں۔ میں کہنا چاہتی ہوں کہ اِس زبورکے لِکھنے والے کہہ رہے ہیں ہمیں خُداوند کی آس ہے ۔ خُداوند کا انتظار کرنا سچ مچ بڑی بات ہے۔ ہم ہمیشہ جلدی میں ہوتے ہیں۔ اور بے صبر ہوتے ہیں۔ جب تک خُدا مداخلت نہ کرے۔ اور وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم وہ نہیں دیکھ رہے ہوتے جو زبور نویس دیکھ رہے ہیں۔ زبور نویس نے دیکھا کہ خُدا خود اُن کی مدد اور سپر ہے۔ اُنہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ خُداضرورت کے وقت مدد بھیجے گا یا بچائو کی سپر بھیجے گا۔انہوں نے خُداوندکو خود مدد اور ڈھال کے طور پر دیکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اِس کے بعد کی آیت کہتی ہے ہمارے دِل اُس میں شادمان ہیں۔ خُداوندہمیشہ اُن کے سامنے تھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ، ہمارے دِل اُس میںشادمان ہیں۔ وہ خداوند کے علاوہ کوئی مدد نہیں چاہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے الفاظ بڑے با معنی ہیں۔ کہ اُن کی خوشی خُدا میں ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ ہم اپنی آنکھیں اِس بات پر لگائیں کہ خُدا ہمارے مسائل کیسے حل کرے گا۔ لیکن ہم صرف خُدامیں خوش ہوں اور یقین کریں کہ وہ ہمارا کفیل اور ڈھال ہے۔

زیدی: پروین بہن؟آپ کے لفظوں نے مجھے وہ آیت یاد دلادی ہے جو کہتی ہے، ہم نے اُسے ڈھونڈاا ور اُس نے ہر طرف ہمیں آرام دیا۔ یہ سچ ہے کہ جب ہم خُداوند کو ڈھونڈتے ہیں تو فوراََ ہمیں آرام مِل جاتا ہے۔

عادل: میں بھی اِسی آیت پر کُچھ کہنا چاہتا ہوں۔

ندیم: ضرور ضرور۔

عادل: بائبل مقدس کہتی ہے، ہم اُمید کے ساتھ خُداوند کا انتظار کرتے ہیں۔ بہت دفعہ میں محسوس کرتا ہوں کہ انتظار وقت کا ضیاع ہے۔ لیکن جب ہم ابھی بات کر رہے تھے مُجھے وہ آیت یاد آ گئی جو کہتی ہے میں نے صبر سے خُداوند کی آس رکھی وہ میری طرف متوجہ سبق نمبر26 صفحہ نمبر7

ہُوا۔اور میرا رونا سُنا ۔ خُداوند یقیناََ ہماری سُنے گا اور انتظار کے آخر میں جواب دے گا۔

شمیم: مُجھے بھی وہ الفاظ یاد آگئے جو ایک مناد نے ایک بار کہے ، کہ خُداوند کا انتظار کرنا وقت کا ضیاع نہیں۔ اور اُس نے اِس آیت کا حوالہ دیا جو کہتی ہے ، مگر جِن کو خُداوند کی آس ہے اُن کی قوت بحال ہو گی۔ وہ عقابوں کی طرح پروں پر اُڑیں گے۔ وہ بھاگیں گے مگر تھکیں گے نہیں۔ وہ چلیں گے مگر نڈھال نہ ہونگے۔

ندیم: آمین ۔ اِس سے پہلے کہ اپنی سوچوں کو جاری رکھیں،آئیں کچھ دیر دعا کریں۔

نائیلہ: اے خُداوند میں تیرا شکر کرتی ہوں کہ تُو نے ابھی ابھی مُجھے سِکھایا کہ تیرا انتظار کرنا وقت کو ضائع کرنا نہیں۔ خُداوند میری مدد کر کہ تیرا انتظار کروں اور کبھی مایوس نہ ہوں۔عیسیٰ مسیح کے نام میں آمین۔

تمام: آمین۔

زیدی: خُداوند جِس طرح میں اور نائیلہ عبادت میں آج تیرے حضور میں دُعا کر رہے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ تُو معجزہ کرے گا اور ہمیں اولاد دے گا۔

ناصر: ابو میں محسوس کرتا ہوں کہ ہمیں انکل زیدی اورآنٹی نائیلہ کے ساتھ اُن کی دعا میں متحد ہونا چاہیے ہم زبور کے الفاظ کیساتھ اکٹھے ایمان میں اعلان کریں ۔اے خدا، تیرے لئے کوئی بات ناممکن نہیں۔

پروین: ندیم میں بھی کُچھ کہنا چاہوں گی۔جِس طرح نائیلہ بہن دُعا کر رہی تھیں ، خُدا نے مُجھے بی بی حنا کے بارے یاد دِلایا ۔ جو القانہ کی بیوی تھیں ۔ پہلے سیموائیل کے مطابق وہ بانجھ تھیں اور بچے پیدا نہیں کر سکتی تھیں اور جب انہوں نے خُدا کے سامنے دُعا کی تو کِس طرح خُدا نے اُنہیں ایک عظیم بیٹا دیا یعنی سیموائیل نبی۔﴿Pause﴾ نائیلہ بہن میں آپ کے ساتھ اِس بات کی تصدیق کرنا چاہتی ہوں کہ خُدا نے آپ کی دُعا سُن لی ہے۔

ندیم: آئیں سب ایمان کے ساتھ اپنے یقین کا اعلان کریں کہ خُدا نے ہماری دُعا کو سُن لیا ہے۔

تمام: آمین

شمیم: نائیلہ باجی! کیا آپ رو رہی ہیں؟

نائیلہ: نہیں یہ آنسو غم کے نہیں ۔ جب میں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیںاور میں نے ایک رویا دیکھی۔

ناصر: آنٹی نائیلہ۔ آپ نے کیا دیکھا۔

نائیلہ: میں نے خود کو ایک بستر پر لیٹے دیکھا ۔ ہسپتال کے بستر کی طرح۔ اور میں نے زیدی کو اپنے پاس نہایت خوش کھڑے دیکھاوہ مجھ سے کہہ رہے تھے،نائیلہ مبارک ہو ۔ خُدا وند عیسیٰ مسیح نے ہمیں بیٹا دیا ہے۔ اور اُس کے بعد میں نے کِسی کو جو بہت خوبصورت تھا سبق نمبر26 صفحہ نمبر8

سفید کپڑوں میں ملبوس دیکھا۔ شروع میں میں نے خیال کیا یہ کوئی ڈاکٹر ہے۔ لیکن وہ بہت قریب آیا،مجھ سے باتیں کیں اور مُجھے مبارک باد دے کر کہا ۔میں عیسیٰ مسیح ہوں۔ تمہارا بیٹا میرا خادم ہو گا۔ اور وہ بہت سے لوگوں کے لئے بڑی خوشی کا سبب ہو گا۔

زیدی: خُداوند تیرا شکرہو ۔ خداوندتیرا شکر۔

پروین: ہالیلویاہ۔ خُدا کو جلال مِلے۔

شمیم: اے خُداوند خُدا ۔ تُو نے آسمانوں کواور زمین کو بنایا۔اے خُداوند خُدا تیری قدرت عظیم ہے اور تیرا ہاتھ کامل ہے۔ اے خُدا تیرے لئے کوئی چیز مشکل نہیں۔ عظیم خدا۔ کُچھ بھی تیرے لئے مشکل نہیں۔

ندیم: میںجانتا ہوں کہ آپ زیر نظر آیات پر بہت کُچھ کہہ سکتے ہیں لیکن ہمارا وقت تقریباََ ختم ہو گیا ہے۔ کیاکوئی اور کچھ کہنا کوئی ضروری با ت کر ناچاہتا ہے؟

ناصر: جی،پچھلی دفعہ ہم نے میرے دوست اکبر کیلئے دعا کی تھی ۔کل اُس نے مُجھ سے سوال پوچھا ۔ آپ بُری زبان استعمال نہیں کرتے۔ آپ لڑتے نہیں۔ آپ تمباکو نوشی نہیں کرتے۔ ہماری طرح آپ لڑکیوں کے پیچھے نہیں بھاگتے۔ آپ اتنے مختلف کیوں ہیں۔

پروین: ناصر آپ نے اُسے کیا بتایا۔

ناصر: میں نے اُسے بتایا کہ جِسے آپ مختلف کہتے ہیں ۔ حقیقت میں ایک ایسی چیز ہے جو میری طرف سے یا میری طاقت سے نہیں۔ بلکہ یہ ہمارے خُداوندعیسیٰ مسیح کی کام کرنے والی قوت ہے ۔ جو کِسی کو بھی جواُن سے کہے تبدیل کردیتی ہے۔ پھرہم نے اکٹھے گفتگو کرنا شروع کی اور میں نے خُداوند عیسیٰ مسیح کی موت اور صلیب پر اُس کے عجیب کاموں کی وضاحت کی۔ ہماری گفتگو کے آخر میں اُس نے مجھ سے بائبل مقدس مانگی۔ وہ پڑھنا اور خداوند عیسیٰ مسیح کے بارے جاننا چاہتا ہے۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ خُداوند سچ مچ ہماری دُعائوں کو سُنتا ہے۔

زیدی: میں بھی ایک عظیم خبر آپ کو سُنانا چاہتا ہوں ۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ دو ہفتے پہلے میں نے آپ کو اپنے دوست سہیل کے بارے میں بتایا تھا۔میں نے بتایا کہ میں اُس کے گھر اُسے ملنے کے لئے جا رہا ہوں۔ہو ایوں کہ اُس نے مجھ سے معذرت کر لی۔ کیونکہ جب اُس کا بیٹا اسکول میں کھیل رہا تھا اورکسی دوسرے لڑکے سے پتھر اُس کی آنکھ پر لگ گیا۔کافی نقصان ہوا۔میں نے اُسے فوراً ہپستال جانے کا مشورہ دیا۔اور وعدہ کیا کہ میں ہپستال اُسے ملنے آئوں گا۔ ہپستال میں میں اُس کے ساتھ کھڑاتھا۔ اُس کا بیٹا اپریشن والے کمرے میں تھا ۔ میں نے اُسے بتایا کہ خُداوند عیسیٰ مسیح اُس کے بیٹے کو شفائ دے سکتا ہے اور وہ دوبارہ دیکھنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ اُس نے مُجھ سے کہا، میں پہلے بھی سن چکا ہوں کہ خُداوند عیسیٰ مسیح نے اندھوں کو بینائی دی۔ لیکن کیایہ ممکن ہے کہ اِس قسم کی بات اب بھی ہو سکتی ہے۔ جب میں نے اُسے یقین دِلایا کہ یہ ہوسکتا ہے تو اُس نے آنسوئوں کے ساتھ اپنے بیٹے کے لئے دُعا سبق نمبر26 صفحہ نمبر9

کی،اور معجزہ ہو گیا۔ پرسوں جب ڈاکٹر نے اُسکے بیٹے کی پٹی اُتاری وہ دوبارہ دیکھ سکتا تھا۔ سہیل نے فوراََ مُجھے بُلایا بہت خوش تھا اُس نے مُجھے بتایا کہ معجزہ ظہور میں آ گیا۔ اوراُس کا بیٹا سچ مچ دوبارہ دیکھ سکتا ہے۔ اُس نے مجھے یہ بھی کہا، کہ وہ میرے ساتھ بیٹھنا اور اور زیادہ خداوند عیسیٰ مسیح کے بارے جاننا چاہتا ہے۔

عادل: یہ بہت بڑی خبر ہے۔ خداوند تیرا شکرہو۔

ندیم: خُداوند عظیم ہے ۔ کیا آپ نے دیکھا کہ دعا کرنے سے معجزات رونما ہو تے ہیں؟

تمام: جی ہاں،خداوند کا شکر ہو۔اُس کی تعظیم ہو۔وہ بھلا ہے۔وہ شافی ہے ۔آمین۔

ندیم: آئیں ہم اپنی عبادت ختم کریں۔ میں آپ کو یاد دِلانا چاہتا ہوں کہ اگلے ہفتے اِسی وقت کلیسیائی عبادت ہمارے گھر میں ہوگی۔عیسیٰ مسیح کی بر کت آپ سب پر ہو۔

تمام: آمین۔