Hear Fellowship With My Family Episode 27 (Audio MP3)

View FWMF episode 27 as a PDF file

سبق نمبر27 صفحہ نمبر1

"صلیب"

﴿میوزک:ناچیں جھوئیں گائیں﴾

پروین: خُداوند تیر ا شکرہو ۔ ہمارے سب دِن خوشی سے بھرے ہیں ۔ ہمارے تمام دِن عیسیٰ مسیح کے لئے جشن کے دِن ہیں۔

ناصر: اے خدا تیرا شکر ہو۔تُو ہماری خوشیوں کی ضمانت دیتا ہے ۔

شمیم: تیرا شکر ہو خداوند،تُو نے ہمیں خوشی اور فتح سے ہم کنار کیا ہے۔

ندیم: میں بھی تیرا شکر کر تا ہوں۔خداوند تُو نئے نئے دروازے کھول رہا ہے۔

ناصر: ابو،میں بہت خوش ہوں ، اکبر میرے کا لج کادوست آج ہماری عبادت میں شامل ہوگا۔

زیدی: ناصر کیا تمہیں یاد ہے جب تم نے کہا تھا کہ وہ فضول آدمی ہے اور خدا کے خاندان میں شامل ہونا اُس کے لئے نہایت ہی مشکل ہے۔

ناصر: جی انکل

نائیلہ: زیدی مُجھے بھی یاد ہے کہ جب آپ میرے لیے بھی یہی کہا کرتے تھے۔ میں خدا کا شکر کر تی ہوں میں کلیسیائ میں آپ کے ساتھ ہوں۔

ناصر: آنٹی نائیلہ۔ ہمارا خُدا ناممکنات کا خُدا ہے۔ اُس کے لئے کُچھ بھی ناممکن نہیں۔

پروین: سچ مچ،ہمارا خدا ناممکن کا خُدا ہے۔فتوحات کا خُدا ہے۔ جلال اور قدرت سے بھرا ہے۔ اُس کے وسیلے معجزات ہوتے ہیں۔

زیدی: مُجھے یاد ہے جب خُداوند عیسیٰ مسیح نے کہا کہ امیر آدمی کے لئے خُدا کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے۔اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا،امیر آدمی کے آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو نے سے نسبتاً آسان ہے۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے شاگرد حیران ہو کر اُن سے پو چھنے لگے ۔ پھر کون بچ سکتا ہے،عیسیٰ مسیح نے جواب دیا ، جو آدمی کے لئے ناممکن ہے وہ خُدا کے لئے ممکن ہے۔

شمیم: میں بہت خوش ہوں کہ آج اکبر ہماری جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔

پروین: میں بھی بہت خوش ہوں۔ ہم سب خوش ہیں۔

شمیم: میں حیران ہوں عاد ل ا بھی تک نہیں آئے۔

﴿دروازے پر گھنٹی بجتی ہے﴾

شمیم : دیکھو جو نہی میں نے عادل کا نام لیا،وہ پہنچ گئے۔کاش میں پہلے ہی نام لے لیتی ۔ ﴿دروازہ کھلنے کی آواز﴾

ناصر: ہیلو اکبر خوش آمدید۔ کوئی مشکل تو نہیں ہوئی۔

سبق نمبر27 صفحہ نمبر2

اکبر: ناصر! درحقیقت میں تھوڑا راستہ بھول گیاتھا۔

ناصر: آنٹی شمیم آپ کو غلط فہمی ہو ئی ہے۔انکل عادل ابھی نہیں آئے۔اکبر بھائی آئے ہیں۔

ندیم: آئو آئو اکبر اِدھر آئو۔

اکبر: ہیلو انکل، سب کو میرا سلام۔

تمام: سلام۔

ناصر: لو عادل انکل بھی پہنچ گئے ہیں۔

عادل: معافی چاہتا ہوں۔مجھے کچھ دیر ہوگئی۔

ندیم: عادل کوئی بات نہیں۔آج ہم آپ کو اکبر کی خاطر معاف کر تے ہیں۔

﴿دروازہ بند ہونے کی آواز﴾

عادل: ہیلو اکبر۔

اکبر: ہیلو عادل۔

عادل: یہ شمیم ہیں ۔ میری منگیتر۔

اکبر: شمیم بہن، آپ سے مِل کر خوشی ہوئی۔

شمیم: شکر یہ اکبر بھائی ۔

ناصر: اکبر بھائی،یہ انکل زیدی ہیں اور یہ آنٹی نائیلہ،مسززیدی۔

تمام: خو ش آمدید۔ ویکم۔بہت خوشی ہو ئی آپ سے مل کر۔وغیرہ وغیرہ۔

اکبر: شکریہ۔

ندیم: اکبر جب ہم چائے پی رہے ہیں۔آپ پلیز اپنا تعارف کروادیں۔

اکبر: جی انکل ،میرا نام اکبر ہے۔ ناصر کے ساتھ کالج میں انجنئیرنگ کا طالب علم ہوں۔ ہم ایک ہی جماعت میں ہیں۔ میں ناصر سے آٹھ ماہ پہلے مِلا تھا ۔ایک سال پہلے امتحان میں ناکا م ہو جانے کی وجہ سے میں نفسیاتی طور پر مشکل میں پڑ گیا ۔لیکن ناصر کی مدد سے میں سارے غم اور مصیبت پر غالب آ گیا۔ وہ مُجھے بتایا کرتے تھے کہ مُجھے ہمیشہ خوش رہنا چاہیے۔ خواہ میرے مسلئے کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں۔ جوکچھ اُنہوں نے کہا اُس نے میرے اندر خدا کے متعلق اور زیادہ تجسس پیدا کیا۔ اُنہوںنے مُجھے کلیسیائ اور خاندانی ماحول کے بارے میں بھی بتایا۔ مُجھے ایسی رفاقت کی ضرورت محسوس ہوئی اورمیں یہاں ہوں۔

سبق نمبر27 صفحہ نمبر3

ندیم: اکبر خُداوند کی حمد ہو۔ ہم بہت خوش ہیں آپ ہمارے ساتھ شامل ہو ئے ہیں۔ ہماری کلیسیائ میں شامل ہونے والے آپ چوتھے شخص ہیں۔ یہ جماعت مجھ سے،پروین ،ناصراور زیدی سے شروع ہوئی ۔ پھر ہم نے دُعا کی اور خُدا نے شمیم کو ہمارے ساتھ مِلایا۔ پھر نائیلہ اور عادل بھی شامل ہوگئے۔خدا وند کا شکر ہو آپ بھی اِس کا حصہ بن گئے ہیں۔

اکبر: کیا میںآخری تو نہیں ہوں؟

زیدی: نہیں نہیں،ایسا مت سوچو۔ خُدا ہمیںاور ممبران دیتا رہے گا۔ہم دو کلیسیائیں بن جائیں گے۔ پھر تین اور پھر چار ۔

پروین: آمین،خداوند ضرور ایسا کرے گا۔

ندیم: آمین۔کیا ہم سب نے چائے ختم کر لی ہے۔

تمام: جی ہاں۔ختم کر لی ہے۔

ندیم: تو آئیے ستائش شروع کر تے ہیں۔آج پروین ستا ئش میں ہماری راہنمائی کریں گے۔ شروع کریں

پروین: اِس سے پہلے کہ ہم ستا ئش شروع کریں۔میں چاہتی ہوں کہ انجیل ِپاک میں سے چند آیات کی تلاوت کریں۔افسیوں کے نام پولوس رسول کا خط،پانچواں باب،انیس اور بیس آیت۔ناصر پڑھ دیجئے۔

ناصر: ٹھیک ہے امی۔﴿صفحے الٹنے کی آواز﴾اور آپس میں مزامیر اور گیت اور روحانی غزلیں گایا کرو۔ اور دِل سے خُداوند کے لئے گاتے بجاتے رہا کرو۔ اور سب باتوں میں ہمارے خداوند یسوع مسیح کے نام سے ہمیشہ خُدا باپ کاشکر کرتے رہو۔

پروین: ناصر شکریہ۔ بائبل مقدس ہمیں ہمیشہ خداوند کی حمد کرنا سِکھاتی ہے۔ یہاں تک کہ جب ہم ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں ہمیں ستائش اور شکر گزاری کے الفاظ استعمال کرنے چاہیں۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ ستائش اور گیت گانا آسمان کی زبان ہے۔ آسمان پر ہم ہمیشہ اپنے زندہ خُداوند خُدا کے لئے گاتے رہیں گے۔ آئو ہم اکٹھے مل کر گائیں۔’’تعر یف ہو خدا کے برّے کی۔‘‘

تمام: ﴿گیت:تعر یف ہو خدا کے بّرے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔﴾

پروین: آمین۔

ندیم: آج ہم ایک ایسے مسئلے پرگفتگو کرنے والے ہیں۔ جوانسانیت کے لئے اہم ترین مضامین میں سے ایک ہے۔ یہ اُن برکات کے لئے ہے جوہمیں ہمارے خُداوندعیسیٰ مسیح کی صلیب میں حاصل ہیں۔

زیدی: سچ مچ ندیم۔ یہ سب لوگوں کے لئے ایک بہت اہم مضمون ہے۔ بہت سے لوگوں نے اِسے غلط سمجھا ہے۔ بائبل مقدس میں لِکھا ہے ، کیونکہ صلیب کا پیغام ہلاک ہو نے والوں کے نزدیک تو بیوقوفی ہے مگر ہم نجات پانے والوں کے نزدیک خُدا کی بخشش ہے۔

اکبر: صلیب کِس طرح خُدا کی قدرت ہے۔ میں توسمجھتا تھا کہ صلیب کمزوری ہے ۔

سبق نمبر27 صفحہ نمبر4

نائیلہ: زیدی،ایک آیت بتاتی ہے۔ جو صلیب پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔ پس صلیب نہ صرف کمزوری ہے بلکہ لعنت بھی ہے۔

زیدی: نائیلہ۔ آپ درست کہتی ہیں۔ صلیب پر موت مجرموں کے لئے ایک سزاتھی۔ اور جیسا آپ نے کہا یہ نہ صرف سزا ہے بلکہ لعنت بھی ہے۔ لیکن اِس کے باوجود عیسیٰ مسیح اِس لعنت کو برکت میں ۔ اور کمزوری کو قدرت میں بدل سکتے تھے۔

ندیم: آئیں،ہم تریتب سے صلیب کے معضمون پر گفتگو کریں۔ہم یسعیاہ نبی کی کتاب ،اُس کے 53باب کی پہلی سات آیات

پڑ ھیں گے۔شمیم پلیز آپ پڑھ دیں۔

شمیم: ﴿صفحوں کی آواز﴾ہمارے پیغام پر کون ایمان لایا؟ اور خداوند کا بازو کِس پر ظاہر ہُوا؟ پروہ اُس کے آگے کونپل کی طرح اور خشک زمین سے جڑ کی مانند پھوٹ نکلا ہے ۔ نہ اُس کی کوئی شکل و صورتہے نہ خوبصورتی اور جب ہم اُس پر نگاہ کریں تو کُچھ حسن و جمال نہیںکہ ہم اُس کے مشتاق ہوں۔ وہ آدمیوں میں حقیر اور مردود ۔مردِ غمناک اور رنج کا آشنا تھا ۔ لوگ اُس سے گویا روپوش تھے ۔ اُس کی تحقیر کی گئی اور ہم نے اِسکی کُچھ قدر نہ کی۔ تو بھی اُس نے ہماری مشقتیں اُٹھالیں اور ہمارے غموں کو برداشت کیا۔پر ہم نے اُسے خدا کا مارا کو ٹا اور ستایا ہوا سمجھا۔

ندیم: پروین، آگے آپ پڑھیے پلیز۔

پروین: حالانکہ وہ ہماری خطائوںکے سبب سے گھائل کیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعث کچلا گیا۔ ہماری ہی سلامتی کے لئے اُس پر سیاست ہوئی تا کہ اُس کے مار کھانے سے ہم شفائ پائیں ۔ ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے ۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھرا پر خداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لاد ی ۔ وہ ستایا گیا تو بھی اُس نے برداشت کی۔ اور منہ نہ کھولا جِس طرح برہ جِسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور جِس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زبان ہے اُسی طرح وہ خاموش رہا۔

ندیم: دوستو! صلیب سچ مچ نجات کیلئے خدا کی قدرت ہے۔نجات کا مطلب ہے ہر زنجیر سے آزادی۔ ہر غلامی سے آزادی ۔ مثال کے طور پر اگر کِسی شخص کو رسوں سے باندھا جائے اور وہ حرکت نہ کر سکے۔ پھر کوئی آئے اور اُسے کھول دے۔تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ اُس نے اُسے بندھنوں سے آزاد کر دیا ہے۔

پروین: لیکن اُن مضبوط رسیوں کو کھولنے کے لئے کسی مظبوط آدمی کی ضرورت ہوتی ہے۔

ندیم: بالکل پروین۔ بندھنوں کو کھولنے کے لئے زیادہ طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور جتنے بندھن مضبوط ہونگے اُتنی ہی اُنہیں کھولنے کے لئے زیادہ طاقت کی ضرورت ہوگی۔ صلیب نجات کے لئے خدا کی قدرت ہے۔ جِس کا مطلب ہے بندھن توڑنے کے لئے خُدا کی قوت ۔ کیا کوئی اس قسم کی زنجیروںکے بارے میں کُچھ کہہ سکتا ہے جو آدمی کو جکڑتی ہیں ۔

سبق نمبر27 صفحہ نمبر5

ناصر: میرا خیال ہے کہ سب سے بڑی زنجیر گناہ ہے۔ شیطا ن نے آدمی کو گناہ سے باندھ رکھا ہے۔ اورگناہ کی مزدوری موت ہے۔

پروین: جِس طرح کِسی آدمی کو سزائے موت ہوتی ہے اور پھانسی پر لٹکانے کو بھجوایا جاتا ہے ۔ اِسی طرح گناہ کی زنجیر کرتی ہے ۔

اکبر : کتنے لوگ زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں؟

عادل: بائبل مقدس میں لکھا ہے ، سب اپنی راہ کو پھرے وہ سب ناپاک ہیں۔ کوئی نیکو کار نہیں۔ ایک بھی نہیں۔ پس سب گناہ کرتے ہیں اور تمام لوگ اِس زنجیر سے بندھے ہیں۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ کُچھ لوگ جسمانی خواہشوںاور حرام کاری سے بندھے ہیں اور کچھ دولت کی حوص اور لالچ سے ۔

شمیم: اوربعض لوگ جھوٹ بولنے کے گناہ سے ۔

نائیلہ: لگاتار بدمزاجی ،شکایتں اور جھاڑ جھپٹ کر تے رہنا بھی گناہ کی زنجیر یں ہیں۔

زیدی: اور سب سے سخت زنجیر نفرت کی زنجیر ہے ۔ بعض اوقات شیطان ہمارے سب سے قریبی لوگوں کو نفرت سے باندھ دیتا ہے ۔ ہمارے خاندانوںمیں خاوند بیوی سے ،اور دوست اپنے دوستوں سے نفرت کرتے ہیں۔

ندیم: عیسیٰ مسیح نے صلیب پر ہمارے گناہوں کی اور اُن زنجیروں کی سزا اٹھالی جن کے بارے میں ہم نے ابھی پڑھا ہے۔ ’’وہ ہماری خطائوں کے سبب گھائل کیا گیا اور ہماری بدکرداری کی وجہ سے کچلا گیا۔‘‘ صلیب پرعیسیٰ مسیح کے زخم ہمارے گناہوں کی سزاتھے۔ ہر کیل جو عیسیٰ مسیح کے ہاتھوں میںاور ہر کیل جو اُن کے پائوں میں گاڑھا گیا ۔ اور اُن کے پہلو میں جو بھالا مارا گیا۔یعنی اُن کے سارے زخم ہمارے گناہوں کی سزااُٹھائے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے جو نہی کوئی شخص اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے اور پچھتاتے ہوئے عیسیٰ مسیح کے پاس آتا ہے،عیسیٰ مسیح فوراََ اُس کے گناہوں کو بخش دیتے ہیں۔کیا کوئی بتائے گا کہ گناہ کے علاوہ اور کس چیز سے صلیب کی قوت ہمیں چھڑا سکتی ہے؟

پروین: ندیم،آدمی زمین پر جن مشکل مسائل کا سامنا کر تا ہے۔اُن میں سب سے بڑا مسئلہ بیماری ہے۔ انسان بیماری کے سامنے بے بس ہوتا ہے۔ایک آیت میں لکھا ہے۔ ہم نے اُس کے کوڑوں سے شفائ پائی۔ عیسیٰ مسیح کو لگنے والے کوڑے ہماری بیماریوں کے لئے تھے۔

زیدی: پطرس رسول اِ سی کہاوت کی اپنے خط میں توثیق کرتے ہیں ۔ اُس کے مار کھانے سے ہم نے شفائ پائی۔

اکبر: کیا آپ کا مطلب ہے کہ جیسے عیسیٰ مسیح نے صلیب پر ہمارے گناہ اٹھائے تھے۔ہماری بیماریاں بھی صلیب پر اٹھالی ہیں؟

شمیم: ہاں اکبر،متی رسول کی معرفت لکھی گئی انجیل اُس کے آٹھویں باب کی ستر ھویں آیت میں لکھا ہے۔اُس نے ہماری کمزوریوں کو لے لیا اور ہماری بیماریاں اٹھالیں۔

سبق نمبر27 صفحہ نمبر6

اکبر: یہ بہت بڑی برکت ہے۔ کوئی اور برکت ؟

ناصر: اکبر ،یہ آیت بتاتی ہے کہ اُس نے ہماری بیماریاں اُٹھا لیں یعنی ہر طرح کی بیماریاں ، خواہ چھو ٹی، خواہ بڑی۔ اور عیسیٰ مسیح نے اپنے کوڑوں سے اُن کی قیمت چُکا دی۔

ندیم: بالکل۔ کیا کوئی اور صلیب کی کِسی اور برکت کا اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

زیدی : ندیم بھائی،آپ کو یاد ہوگا، ہم نے خُدا چرواہے کے بارے تبادلۂ خیال کیا تھا۔ اُس وقت خُداوند نے صلیب کی برکات میں سے ایک اور بڑی برکت کا ہم پر مکاشفہ کیاتھا۔

پروین: مُجھے یاد ہے جب ہم نے کانٹوں کے تاج کے متعلق گفتگو کی۔ہم نے دیکھا کہ کس طرح عیسیٰ مسیح نے غربت کی لعنت کو دور کر دیا۔

ناصر: ہم نے دیکھا کہ حضرت آدم اوربی بی حوا کے گناہ کے بعد خُدا نے زمین کو لعنت دی اور حضرت آدم سے کہا ، زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی ۔ مشقت کے ساتھ تُو اپنی عمر بھر اس کی پیداوار کھائے گا اور وہ تیرے لئے کانٹے اور اونٹ کٹارے اُگائے گی۔ اور تُو کھیت کی سبزی کھائے گا۔

پروین: آدمی سخت محنت کرے گا ۔ اور زمین کانٹے اور اونٹ کٹارے اُگائے گی، یہ غربت کی لعنت ہے۔

زیدی: مگر عیسیٰ مسیح نے کانٹوں کا تاج پہن کر ہماری جگہ غر بت کی لعنت کو لے لیا۔

عادل: مُجھے پہلی بار پتہ چلا ہے کہ عیسیٰ مسیح کی موت کی برکات میں سے ایک برکت یہ ہے کہ اُنہوں نے غربت کی لعنت کو اُٹھالیا

نائیلہ: اِسی لئے جب کبھی ہمیں مالی ضرورت ہوتی ہے۔ہم ایمان سے عیسیٰ مسیح کے پاس آتے اور کہتے ہیں۔ہماری ضرورتوں کو پورا کردیں کیونکہ اُنہوں نے غربت کی لعنت کو اُٹھا لیا جو ہم پر تھیں۔خُدا کی حمد ہو۔

ندیم: میں ایک اور بات کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔ جِس کا حوالہ نائیلہ نے پہلے دیا تھا۔ ہر وہ شخص جو صلیب پر لٹکتا ہے لعنتی ہے۔ یہ سچ مچ عیسیٰ مسیح میں پورا ہو گیا ہے، جب وہ صلیب پر لٹکائے گئے ۔ و ہ ہماری خاطر لعنتی ہوئے ۔ آئیں ہم اکٹھے دُعا کریں اور صلیب کی قدرت کے لئے خُداوند کا شکر کریں۔

شمیم: خُداوند عیسیٰ مسیح صلیب پر آپ کی موت کے لئے میں پورے دِل سے آپ کا شکر کرتی ہوں۔

اکبر: عیسیٰ مسیح میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ صلیب پر مار کھانے سے آپ نے میری ساری بیماریاں اُٹھا لیں۔

نائیلہ: خُداوند عیسیٰ مسیح میں کانٹوں کے تاج کے لئے خاص طور پر آپ کا شکر کرتی ہوں ۔جس نے ہماری غربت کی لعت کو اٹھا لیا۔

ندیم: آمین۔ میں ایک اور چیز کے بارے میں آپ کو شریکِ گفتگو کرنا چاہتا ہوں جو اُس وقت واقع ہوئی جب عیسیٰ مسیح صلیب پر مُوئے۔ ایک آیت عیسیٰ مسیح کے بارے میں کہتی ہے کہ وہ موت کے وسیلے اُس کو تباہ کر دے جِسے موت پر اختیار تھا یعنی ابلیس کو ۔ یہ سبق نمبر27 صفحہ نمبر7

آیت بتاتی ہے کہ عیسیٰ مسیح اور شیطان کے درمیان ایک روحانی جنگ تھی اور اِس جنگ میں عیسیٰ مسیح کی موت نے ابلیس کو تباہ کر دیا۔

پروین: جی ندیم بالکل،شیطان سوچتاتھا کہ صلیب پر عیسیٰ مسیح کی موت سے ہر چیز ختم ہو جائے گی اور پوری انسانیت اُس کے اختیار میں آجائے گی۔اِس لئے وہ لڑائی کے لئے تیار ہو گیا اور بذاتِ خود اِس میںرہنمائی کے لیے آیا۔ اِس آیت میںجو عیسیٰ مسیح نے شیطان کے بارے میں کہی۔ صاف ظاہر ہے ۔صلیب کے پاس جانے سے پہلے اُنہوں نے کہا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور اُس کا مُجھ میں کُچھ نہیں۔ پس صلیب سے پہلے شیطان عیسیٰ مسیح کو ہلاک کرنے کیلئے، لڑائی میں رہنمائی کرتا ہوا آیا۔

اکبر: یہ حقیقی لڑائی معلوم ہوتی ہے۔

زیدی: جی اکبر،عیسیٰ مسیح حضرت لوقا کی معر فت لکھی گئی انجیل اُس کے گیارھویں باب کی 21اور22آیت میں یوں فر ماتے ہیں "جب زورآور آدمی ہتھیار باندھے ہوئے اپنی حویلی کی رکھوالی کرتا ہے تو اُس کا مال محفوظ رہتا ہے لیکن جب اُس سے کوئی زورآور حملہ کر کے اُس پر غالب آتا ہے تو اُس کے سب ہتھیار جِن پر اُس کا بھروسہ تھا چھین لیتا اور اُس کا مال لوٹ کر بانٹ دیتا ہے"۔

نائیلہ: خداوند کی تعریف ہو۔عیسیٰ مسیح زور آور ہیں۔اُنہوں نے صلیب کو شکست دے کر ساری انسانیت کو اُس کے قبضے سے چھڑالیا۔

شمیم: خداوند کی حمد ہو۔سارا جلال اُسی کو ملے۔عیسیٰ مسیح نے شیطان کو شکست دے کر ہمیں اُس کے اختیار سے بچا لیا۔اُنہوں نے ہمیں تا ریکی کی بادشاہت میں سے نکال کر اپنی بادشاہت یعنی محبت کی بادشاہت میں شامل کر لیا ہے۔

ندیم: آمین۔خداوند کا شکر ہو۔کیونکہ ہماری عبادت کا وقت ختم ہو نے کو ہے۔میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہم اگلے ہفتے زیدی اور نائیلہ کے گھر اِسی وقت ملیں گے۔

شمیم: ہر بار ہم کسی آدمی کے کردار کا مطالعہ کرتے ہیں ۔کیا اِس بار ہم بائیل مقدس میں سے کسی عورت کے کر دار کا مطالعہ کر سکتے ہیں؟

پروین: ہاں ندیم۔ میری بھی خواہش ہے کہ بائبل مقدس میں سے خواتین کے کرداروں میں سے ایک کا مطالعہ کیا جائے۔

شمیم: اور میری رائے ہے کہ کنواری مریم کے کردار کا مطالعہ کریں۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ آئیے اِس ہفتے کے دوران بی بی مریم کے کردار پر غور کرتے رہیں اور اگلے ہفتے اپنی عبادت کے دوران بی بی مریم کے کردار پر گفتگو کریں گے۔خداوند آپ سب کے ساتھ ہو۔

تمام: آمین۔