Hear Fellowship With My Family Episode 28 (Audio MP3)

View FWMF episode 28 as a PDF file

سبق نمبر 28 صفحہ نمبر 1

"مقدسہ مریم کا کردار"

﴿میوزک﴾

ندیم: پروین آپ کہاں تھیں۔ میں آپ کو ڈھونڈ رہا تھا ۔

پروین: ندیم میں اپنی کلیسیائی عباد ت کے لئے دُعا کر رہی تھی۔

ندیم: سچ مچ ہمیں کلیسیائ اور اِس کے ممبران کے لئے دُعا کی ضرورت ہے۔

پروین: میں محسوس کرتی ہوں کہ ہفتے کے دوران ہماری ایک دوسرے کے لئے دُعائیں ہمارے درمیان اتحاد پیدا کرتی ہیں۔

ندیم: بالکل، یہی وجہ ہے میں ہفتے کے دوران کلیسیائ کے لئے دُعا کرنے کے لئے ایک دِن مخصوص کر رہا ہوں ۔

پروین: اچھا خیال ہے۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ اب تیار ہو جائیں کیونکہ عبادت کا وقت ہو نے والا ہے۔

پروین: میں شمیم کو چائے تیار کر نے کے لئے کہتی ہوں۔

﴿موسیقی بجتی ہے +چائے کے برتن﴾

عادل: چائے بہت اچھی ہے۔

ناصر: جی ہاں،چائے تو اچھی ہوگی۔آنٹی شمیم نے بنائی ہے نا۔

شمیم: ناصر تم نہ پیئو۔تمہیں کو ئی مجبور تو نہیں کر رہا۔

پروین: تم دونوں تو سہیلوں کی طرح لڑتے رہتے ہو۔

تمام: ﴿قہقہہ﴾

زیدی: چائے واقعی اچھی ہے۔

نائیلہ: اور کیک بھی مزیدار ہے۔اکبر بھائی آپ بھی لیں نا۔

اکبر: شکر یہ آنٹی ۔میں نے لیا ہے۔

ندیم: اگر ہم نے چائے ختم کر لی ہے تو عبادت شروع کریں۔میں نے نائبلہ بہن سے کہا ہے کہ وہ پرستش میں ہماری راہنمائی کریں۔جی نائیلہ بہن۔

نائیلہ: اِس سے پہلے کہ ہم پرستش شروع کریں ،میں بتانا چاہتی ہوںکہ بی بی مریم کے کردار کے بارے میں تیاری کرتے ہوئے ایک بات نے میرے دل پر بہت اثر کیا ہے ۔ بی بی مریم نے دُعا کی ، میری روح خُداوند کی بڑائی کرتی ہے اور میری روح میرے منجی سبق نمبر 28 صفحہ نمبر 2

خداوند میں خوش ہے"۔﴿Pause﴾میری خواہش ہے کہ ہمارے منہ بھی ستائش سے بھرجائیں ۔ اور ہمارے دِل اُس میں شادمان ہوجائیں ۔آئیں ہم گیت گائیں ،جہاں بھی دو یا تین میرے نام پہ جمع ہوں۔

تمام: گاتے ہوئے ۔﴿گیت:جہاں بھی دو یا تین﴾

نائیلہ: آمین۔

ندیم: آمین۔کیا آپ کو یاد ہے پچھلی مرتبہ آپ کِس چیز پر متفق ہوئے تھے۔

اکبر: جی ہاں ۔ ہم بی بی مریم کے کردار کا مطالعہ کرنے کے لئے متفق ہوے تھے ۔ میں نے پورا ہفتہ اِس کے مطالعے کی تیاری کی ہے۔

ندیم: شاباش اکبر۔نائیلہ، پلیز جلدی سے ہمیں بی بی مریم کا تعاوف کر وادیں۔

نائیلہ: بی بی مریم یہوداہ کے قبیلہ سے حضرت دائود کی اولاد سے تھیں۔ اُن کی منگنی حضرت یوسف نام کے ایک مرد سے ہوئی تھی جو بڑھئی

تھے ۔ اُن دِنوں رواج تھا کہ منگنی کا عرصہ ایک سال ہوتا تھا۔ منگنی کے عرصہ کے دوران جبرائیل فرشتہ بی بی مریم کے پاس آیا اور اُنہیں بتایا کہ وہ عیسیٰ مسیح کی ماں بنیں گی۔اور یہ اُس وقت ہو گا جب روح القدس اُن پر سایہ ڈالے گا۔

ندیم: بالکل

نائیلہ: اوربی بی مریم کی ایک رشتے داربی بی الیشبع تھیں۔ جو بوڑھی تھیں اور بانجھ تھیں۔ اُن کے شوہر کا نام حضرت زکریا تھا اور وہ کاہن تھے۔ فرشتے نے بی بی مریم سے کہا کہ اُن کی رشتے دار بی بی الیشبع حاملہ ہیں اور اُنہیں چھٹا مہینہ ہے۔ بی بی مریم خوش ہوئیں اور الیشبع بی بی کے پاس گئیں اور اُن کے ہاں اُس وقت تک ٹھہری رہیں جب تک اُنہوں نے اپنے بیٹے یوحنا بپتسمہ دینے والے کو جنم دیا۔

ندیم: نائیلہ ! اِس شاندار تعارف کے لئے شکریہ۔ہم بائبل مقدس میں سے حضرت لوقا کی معر فت انجیل اُس کے پہلے باب کی 26 سے 45 آیت پڑھیں گے۔آئیے! دو دو آیا ت باری باری پڑھتے ہیں ۔شمیم آپ شروع کریں۔

شمیم: چھٹے مہینے میں جبرائیل فرشتہ خُدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جِس کانام ناصرت تھا، ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا جِس کی منگنی دائود کے گھرانے کے ایک مرد یوسف نام سے ہوئی تھی۔ اور اُس کنواری کا نام مریم تھا۔

زیدی: اور فرشتے نے اُس کے پاس اندر آ کر کہا ، سلام تُجھ کوجِس پر فضل ہُوا ہے ۔ خداوند تیرے ساتھ ہے۔ وہ اِس کلام سے بہت گھبراگئی اور سوچنے لگی کہ یہ کیسا سلام ہے۔

نائیلہ: فرشتے نے اُس سے کہا ، اے مریم خوف نہ کر کیونکہ خُد ا کی طرف سے تُجھ پر فضل ہُوا ہے۔ اور دیکھ تُو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا۔ اُس کا نام یسوع رکھنا۔

سبق نمبر 28 صفحہ نمبر 3

عادل: وہ بزرگ ہو گا اور خُداتعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا۔ اور خُداوند خُدا اُس کے باپ دائود کا تخت اُسے دے گا۔ اور وہ یعقوب کے گھرانے پر ابد تک بادشاہی کرے گا۔ اور اُس کی بادشاہی کا آخر نہ ہوگا۔

پروین: مریم نے فرشتے سے کہا، یہ کیونکر ہو گا جبکہ میں مرد کو نہیں جانتی ۔ اور فرشتے نے جواب میں اُس سے کہا، کہ روح القدس تُجھ پر نازل ہو گااور خدا تعالیٰ کی قدرت تُجھ پر سایہ ڈالے گی اوراِس سبب سے وہ مولودِ مقدس خُدا تعالیٰ کا بیٹا کہلائے گا۔

اکبر: او ر دیکھو تیری رشتے دار الیشبع کے بھی بڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے۔ اور اب اُس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے۔ کیونکہ جو قول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگز بے تاثیر نہ ہو گا۔ مریم نے کہا، دیکھ میں خُداوند کی بندی ہوں میرے لئے تیرے قول کے موافق ہو۔ تب فرشتہ اُس کے پاس سے چلا گیا۔

ندیم: اُن ہی دِنوں میں مریم اُٹھی اور جلدی سے پہاڑی ملک میں یہوداہ کے ایک شہر میں گئی اور زکریا کے گھر میں داخل ہو کر الیشبع کو سلام کیا۔

ناصر: اور جونہی الیشبع نے مریم کا سلام سُنا تو ایسا ہُوا کہ بچہ اُس کے رحِم میں اُچھل پڑا اور الیشبع روح القدس سے بھر گئی اور بلند آواز سے پکار کر کہنے لگی ۔ کہ تُو عورتوںمیں مبارک اور تیرے رحِم کا پھل مبارک ہے۔

شمیم: اور مُجھ پر یہ فضل کہاں سے ہُوا کہ میرے خُداوند کی ماں میرے پاس آئی۔ کیونکہ دیکھ جوہنی تیرے سلام کی آواز میرے کان میں پہنچی ۔ بچہ مارے خوشی کے میرے رحِم میں اُچھل پڑاا ور مبارک ہے وہ جو ایمان لائی کیونکہ جو باتیں خُداوند کی طرف سے اُس سے کہی گئی تھیں پوری ہو ں گی۔

ندیم: آمین۔ آمین۔اب دیکھیں،اِن آیات نے بی بی مریم کی زندگی کے بارے میں کس بات کی طرف ہماری توجہ دلائی ہے ۔ کون شروع کرے گا؟

زیدی: میں شروع کر وں ہوں ۔

ندیم: جی زیدی۔

زیدی: بی بی مریم کے کردار میں جس چیز نے میری زیا دہ تو جہ کھینچی،اُ ن کی عاجزی ہے۔ بی بی مریم بہت خاکسار تھیں اورمیرا خیال ہے یہی وجہ تھی کہ خُدا نے اُنہیں عیسیٰ مسیح کی ماں بننے کے لئے چُنا ۔ خاص طور پر اِس لئے کہ اُس زمانے میں ہر لڑکی عیسیٰ مسیح کی ماں ہونے کی توقع کر رہی تھی ۔ اِسلئے ہر لڑکی تیار تھی اور متمنی تھی کہ یہ اُس کے ساتھ واقع ہو۔ لیکن خُدا دِلوں کو ٹٹولتا ہے اور اکیلا وہ جانتا ہے کہ ہمارے دِلوں میں کیا ہے ۔ اِسلئے اُس نے ایک خاکسار دِل چُنا اور یہ دِل بی بی مریم کا تھا ۔

ندیم: درحقیقت خُداوند ہمیشہ سادہ دِلوں کو تلاش کرتا ہے ۔وہ حسن اور دولت اور ذہانت اور پھرتیلے پن کی تلاش نہیں کرتا۔ بائبل مقدس سبق نمبر 28 صفحہ نمبر 4

حضرت یسعیاہ کی کتاب57باب15آیت میںفر ماتی ہے ، ’’ کیونکہ وہ جو عالی اور بلند ہے اور ابدآبادتک قائم ہے۔ جِس کا نام قدوس ہے ، یوں فرماتا ہے کہ میں بلند اورمقدس مقام میں رہتا ہوں اور اُس کے ساتھ بھی جو شکستہ دِل اور فروتن ہے تاکہ فروتنوں کی روح کو زندہ کروں اور شکستہ دِلوں کو حیات بخشوں۔ ﴿Pause﴾خداوند اپنے رہنے کیلئے خاکسار دل کی تلاش کر تا ہے۔جس طرح وہ اپنے مقدس میں رہتا ہے۔

پروین: میں ایک چیز کا اضافہ کرنا چاہتی ہوں ندیم۔بی بی مریم کی انکساری نے اُنہیں اِس قابل بنایا کہ وہ خُدا کے روح کے تابع ہو جائیں ۔ پس جب فرشتے نے اُنہیں بتایا کہ اگرچہ وہ مرد کو نہیںجانتیں وہ عیسیٰ مسیح کو اپنے بطن میں لیں گی۔ بی بی مریم نے انکار نہ کیا ۔ وہ رضامند ہو گئیں۔ اور یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو تابعدار ی میں دے دیا۔ میں خُداوند کی بندی ہوں ۔ پس اُنہوں نے مان لیا کہ اُن پر حرامکاری کا الزام لگ سکتا ہے اور اُن کی شہرت کو داغ لگ سکتا ہے۔ لیکن اُنہوں نے پرواہ نہ کی کیونکہ اُنہوں نے خو د کو خُدا کی بندی کے طور پر دیکھا ۔ اور بندی احتجاج کا حق نہیں رکھتی ۔ پس اُنہوں نے یہ بھی سوچا کہ اُنہیں احتجاج کرنے کا حق نہیں اور اُنہیں خدا کی مرضی کے تابع ہونا ہے۔

ندیم: پروین یہ سچ ہے ۔ ہم بہت مرتبہ اُن چیزوں کی وجہ سے کٹ جاتے ہیں جنہیں ہم خُداوندسے زیادہ قیمتی سمجھتے ہیں۔ یہ بات ہمیں آسانی سے اُس کے حُکم ماننے کے قابل نہیں بننے دیتی۔ کیونکہ ہمارا معیار اور رتبہ ہمارے لئے بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اور اگر خُداوند کبھی ہم سے کُچھ مانگتا ہے جِس سے ہمارے وقار ، رتبے یا شہر ت پر حرف آتا ہو ہم آسانی سے نہیں ما نتے۔ بی بی مریم نے اپنی شہرت کی پرواہ نہ کی ،نہ ہی اِس بات کی پرواہ کی کہ لوگ کیا کہیں گے۔ وہ سب جِس کی اُنہیں پرواہ تھی خُدا کا خوف اور اُس کی فرمانبرداری تھی۔

ناصر: اِسی وجہ سے اُنہوں نے اپنی دُعا میں کہا کہ خُداوند نے اپنی بندی کی پست حالی پر نظر کی۔

ندیم: بالکل ناصر۔ خُداوند نے سچ مچ بی بی مریم کی پست حالی پر نظر کی۔

عادل: کیا میں کُچھ کہہ سکتا ہوں؟

ندیم: عادل کیوں نہیں۔

عادل: ایک وقت تھا، میرے پاس ملازمت تھی جو میرے سارے دِنوں پر قابض تھی اور مُجھے عبادت میں آنے سے روکتی تھی۔ پھر میںنے محسوس کیا کہ خُداوند چاہتا ہے کہ میں ملازمت چھوڑ دوں تا کہ مُجھے اُس کی عبادت میں آنے کا وقت مِل سکے۔ لیکن مُجھے خیال آیا ، میں اپنی ملازمت ، اپنی پوزیشن اور بڑی آمدنی چھوڑ دوں تو لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے۔وہ کہیں گے میں ناکام شخص ہوں۔ اس کے باو جود لوگ کُچھ بھی کہتے رہیں۔ میں نے خدا کی فرمانبرداری کا فصیلہ کیا۔ میں نے وہ ملازمت چھوڑ

سبق نمبر 28 صفحہ نمبر 5

دی ۔اور خدا نے بہتر ملازمت دے دی،جس میں مجھے عبادت میں آنے کیلئے وقت بھی مل جاتا ہے۔

ندیم: خُداوند کی حمد ہو۔ایسا ہی بی بی مریم کے ساتھ پیش آیا۔ خُدا نے اُنہیں بہت عزت دی اور اُن سے کہا ، سب نسلیں تُجھے مبارک کہیں گی۔ اورآخر کار بی بی مریم نے ساری انسانی نسلوں کے لوگوں کی نظر میں عزت حاصل کی۔

زیدی: بی بی مریم کی انکسار ی کا اس بات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ جب اُنہیںپتہ چلا کہ الیشبع بی بی حاملہ ہیں و ہ سیدھی اُن کے پاس گئیں۔ اور جب تک اُن کے بیٹا یوحنا اصطباغی پیدا نہ ہُوا۔اُن کی خدمت کر تی رہیں۔حالانکہ وہ خود عیسیٰ مسیح کی ماں بننے والی تھیں، وہ سوچ سکتی تھیں کہ دوسروں کو اُن کے پاس آنا چاہئے لیکن اُنہوں نے ایسا نہ سوچا۔ اورجب الیشبع بی بی نے انہیں دیکھا ، وہ حیران ہو گئیں اور کہا،" یہ فضل مُجھ پر کیسے ہُوا کہ میرے خُدا وند کی ماں میرے پاس آ گئی ؟"۔

ندیم: زیدی یہ سچ ہے۔ خاکساری بی بی مریم کی ایک بڑی خاصیت تھی۔

نائیلہ: میں بی بی مریم کے کردار میں ایک اور چیز کا اضافہ کرنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی نائیلہ۔

نائیلہ: جب فرشتہ آیا اور بی بی مریم کو بتایا کہ وہ عیسیٰ مسیح کو اپنے بطن میں لیں گی ۔ بی بی مریم فوراََ مان گئیں۔ اُنہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ لوگ کیا کہیں گے اور وہ لوگوں کو کس طرح مائل کریں گی کہ وہ حرام کار نہیں ہیں۔ اُنہوں نے دفاع کے لئے خُداوند پر بھروسہ کیا۔ اور اِس مشکل حالت کو قبول کر لیا۔ اور آخر کار جب حضرت یو سف نے اُنہیں چھوڑ دینے کا فصیلہ کیا،خداوند نے حضرت یو سف کے سامنے اُن کا دفاع کیا۔

ندیم: جی ہاں، جب اُن کے منگیتر حضرت یوسف نے چپکے سے اُنہیں چھوڑ دینے کا ارادہ کیا، خُداوند کا فرشتہ اُن کے پاس آیا اورکہنے لگا کہ وہ روح القدس کی قدرت سے حاملہ ہیں ۔ پس جب بی بی مریم نے فرمانبرداری کی اور خداوند کے تابع ہو گئیں۔ اور خُدا پر پورا بھروسہ کیاتو خُداوند نے خود اُن کا دفاع کیا۔

ناصر: ابو یہ سچ ہے ۔ خُداوند بعض اوقات ہم سے کُچھ مانگتا ہے ۔ جو وہ مانگتا ہے وہ ہماری فرمانبرداری ہے۔ جب ہم اُس کے تابع ہو جاتے ہیں تو پھر وہ ہمیں اُس راہ پر لے چلتا ہے جو اُس نے ہمارے لئے مقرر کی ہے۔ لیکن ہم ہمیشہ خُدا کی مرضی پر نہیں چلتے ۔ بہت دفعہ ہم اپنے منصوبوں کے مطابق چلنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اور یوں خُدا کی نافرمانی کرتے ہیں۔ لیکن بی بی مریم نے فرمانبرداری کی۔ اور خُدا سے بحث کئے بغیر اُس کے تابع ہو گئیں۔ اور یوں خُدا نے اُنہیں برکت دی ۔

ندیم: خُدا کی حمد ہو ۔اپنی زندگی کی سب باتوں میں ہمیںخُدا کے تابع ہونا چاہیے۔(Pause)اب کو ن کچھ کہنا چاہتا ہے۔

پروین: میں کہنا چاہتی ہوں۔

سبق نمبر 28 صفحہ نمبر 6

ندیم: جی پروین۔

پروین: میں نے دیکھا کہ بی بی مریم کا دِل نہ صرف خاکسار تھا بلکہ وہ ایک بہت عام سی لڑکی تھیں ۔ جب خُدا نے انہیں عیسیٰ مسیح کو رَحم میں لینے کے لئے چُنا۔ توقع کی جاتی تھی کہ خُدا کِسی شہزادی یا ملکہ کو بادشاہوں کے بادشاہ یسوع کی ماںہونے کے لئے چُنے گا لیکن خدا نے ایک سادہ لڑکی کو چنا جس نے کہا ،کیونکہ وہ عظیم ہے اُس نے میرے لئے بڑے بڑے کام کئے ۔

عادل: ہم شاید یہ سو چتے رہتے ہیں کہ ہم سادہ اور غریب ہیں ۔خدا ہمیں کبھی نہیں استعمال کرے گا۔ لیکن بی بی مریم کی کہانی سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ خُدا سادہ لوگوں کو استعمال کر سکتا ہے۔ خُدا اِس بات کا انتظار نہیں کر تا کہ میں بڑا ہوجائوں تاکہ وہ مُجھے استعمال کرے۔ جب میں ابھی غریب اور چھوٹا ہوں۔وہ مجھے استعمال کر نا چاہتا ہے۔

اکبر: جو کچھ میں نے مطالعہ کیا ہے،آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی بتائیے اکبر ۔

اکبر: جو کتاب میں نے پڑھی ، ذِکر کرتی ہے کہ بی بی مریم بہت کم عمر تھیں اور بہت کم تجر بہ رکھتی تھیں۔اِس کے باوجود خدا نے انہیں استعمال کیا۔

ناصر: یہ بات اُس کی توثیق کرتی ہے جو پولوس رسول نے کرنتھیوں کے پہلے خط میں کرنتھس کے لوگوں سے کی، "اے بھائیو ! اپنے بُلائے جانے پر تو نظر کرو کہ جِسم کے لحاظ سے بہت سے حکیم ، بہت سے اختیار والے ، بہت سے اشراف نہیںبُلائے جاتے بلکہ خُدا نے دُنیا کے بے وقوفوں کو چُن لیا کہ حکیموں کو شرمندہ کریں۔ اور خُدا نے دُنیا کے کمزوروں کو چُن لیا کہ زورآوروں کو شرمندہ کریں۔ اور خُدا نے دُنیا کے کمینوں اور حقیروںکو بلکہ بے وجودوں کو چُن لیا کہ موجودوں کو نیست کرے۔

ندیم: خُدا کی حمد ہو۔ ناصر یہ سچ ہے کہ خُداوند حقیروںکو چُنتا ہے۔ وہ اُن چیزوں کو چنتا ہے جو معجزات کر نے کے لئے نہیں ہوتیں۔ہمارے خُدا کا فضل اِس قدر کثرت سے ہے ۔مت خیال کریں کہ خُداوند ہمیں استعمال نہیں کرے گا ۔اگر آپ چھوٹے ہیں اور بہت سی خوبیاں نہیں رکھتے۔ پھر بھی وہ آپ کو استمعال کرے گا۔خداوند کمزوروںکو اُن کی کمزوری کی وجہ سے استعمال کرتا ہے تا کہ اُن کے وسیلے اُس کی قدرت ظاہر ہو ۔حضرت پولوس کہتے ہیں ، یہ اِس لئے ہے تاکہ کوئی شیخی نہ مارے بلکہ سارا جلال مسیح کومِلے۔

شمیم: اگرچہ بی بی مریم بہت چھوٹی تھیں۔ وہ اپنے لئے خُدا کے وعدے پر ایمان رکھنے میں کامیاب ہو گئیں۔ جب کہ بی بی الیشبع کا خاوند بڑا کاہن حضرت زکریا ایسا کرنے میں ناکام ہو گیا۔ اُنہیں یقین نہ آیا کہ الیشبع بی بی جو بوڑھی تھیں بانجھ تھیں، حاملہ ہو سکتی ہیں۔ اُن کے ایمان کی کمزوری کے سبب فرشتے نے اُن سے کہا، اور دیکھ تُو گونگا رہے گا اور بول نہ سکے گااُس دِن تک کہ یہ باتیں سبق نمبر 28 صفحہ نمبر 7

انجام کو نہ پہنچیں۔ کیونکہ تُو نے میری باتوں پر یقین نہیں کیا جو اپنے وقت پر پوری ہونگی۔ (Pause) جب تک بی بی الیشبع نے اپنے بیٹے کو جنم نہ دیا،وہ بول نہ سکے۔بی بی مریم ایمان لے آئیں کہ خُدا کے نزدیک کوئی بات ناممکن نہیں جب کہ حضرت زکریا کاہن ایمان نہ لائے ۔

ندیم: شمیم بالکل۔

نائیلہ: اِس نقطے نے زیدی اور مُجھ پر بہت اثر کیاہے ۔ جب آپ نے جماعت کے طور پر ہمارے بچے کے لئے دُعا مانگی۔ ہمارا دِل ایما ن سے بھر گیا ۔ہم نے بھروسہ کیا ہے کہ خُدا کے نزدیک کوئی بات ناممکن نہیں اور کلیسیائ کی دُعائوں اور اُس ایمان کے وسیلے جو خُدا نے ہمارے دِلوں میں ڈال دیا ہے ، ہم یقیناََ ایک معجزے کی توقع کرتے ہیں۔

زیدی: آ پ کو بتانے کیلئے میرے پاس اچھی خبر ہے۔

پروین: زیدی بھائی وہ کیا؟جلدی بتائیے۔

زیدی: ہم پرسوں ڈاکٹر کے پاس گئے اور اُس نے بتا یا کہ خدا نے ہماری دعا سن لی ہے۔

تمام: خُدا کی تعریف ہو ۔اُس کی حمد ہو۔ خدا کا شکر ہو۔وہ بھلا خدا ہے۔

نائیلہ: ہم سچ مچ اقرار کرتے ہیں کہ خُدا بھلا ہے اور اُس کے لئے کُچھ بھی ناممکن نہیں۔ ہمارا بھروسہ اُس پر ہے۔ اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں اولاد دے گا جِس طرح اُس نے بی بی الیشبع کو دی جو بانجھ تھیں۔

ندیم: آمین۔ آئیںہم اِس اچھی خبر کے لئے خدا کا شکر کریں۔ ہم زیدی اور نائیلہ کے لئے دُعا کریں۔

پروین: خُداوند ہم تیراشکر کرتے ہیں کیو نکہ تُو معجزات کرتا ہے اور تُو ہمارا قادرِ مطلق خُدا ہے۔ ہم نائیلہ اور زیدی بھائی کو تیرے ہاتھوںمیں سونپتے ہیں۔ تیری منت کرتے ہیں کہ جو کام تُونے اِن کی زندگیوں میںشروع کیا ہے اُس کومکمل کردے۔ اُن کو اولاد دے ، جِس طرح الیشبع بی بی اور سارہ بی بی کو دی تھی۔عیسیٰ مسیح کے نام میں آمین۔

تمام: آمین۔

ندیم: کوئی اور بی بی مریم کے کردار کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہے۔

ناصر: جی ابو، میں کہنا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی ناصر۔

ناصر: اگرچہ بی بی مریم عیسیٰ مسیح کی ماں تھیں، اُنہوں نے ماں کے طور پر کبھی اپنا اختیار استعمال نہ کیا بلکہ اُنہوں نے ہمیشہ اپنے بیٹے کی پوزیشن کا احترام کیا ۔

سبق نمبر 28 صفحہ نمبر 8

پروین: یہ سچ ہے جب خُداوند عیسیٰ مسیح ہیکل میں گئے اُن کے والدین اُنہیں ڈھونڈرہے تھے اور آخرکار اُنہوںنے اُسے پا لیا۔ بی بی مریم اُن پر چلائی نہیں۔ یا اُنہیںگھر واپس آنے کا حُکم نہیںدیا۔ بلکہ ہیکل میں ٹھہرنے کی اُن کی خواہش کا احترام کیا۔

ندیم: بالکل صحیح ۔ میں بی بی مریم کے کردار کے متعلق ایک اور چیز کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔ بی بی مریم کا منہ ہمیشہ حمد سے بھرا رہتا تھا ۔ یہ بات ہم حضرت لوقا کی معر فت لکھی گئی انجیل اُس کے پہلے باب کی 46تا54 آیات میں دیکھتے ہیں۔آئیں ،اِسے ہم پڑھتے اور خدا کی تعر یف کرتے ہیں۔زیدی بھائی آپ پڑھنے میں راہنمائی کریں۔

زیدی: میری جان خُداوندکی بڑائی کرتی ہے اور میری روح میرے منجی خُدا سے خوش ہوئی۔ کیونکہ اُس نے اپنی بندی کی پست حالی پر نظر کی اور دیکھ اب سے لے کر ہر زمانہ کے لوگ مُجھ کو مبارک کہیں گے۔ کیونکہ اُس قادر نے میرے لئے بڑے بڑے کام کئے ہیں۔ اور اُس کا نام پاک ہے اور اُس کا رحم اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں پشت درپشت رہتا ہے۔ اُس نے اپنے بازو سے زور دِکھایا اور جو اپنی تئیں بڑا سمجھتے تھے اُن کو پراگندہ کیا ۔اُس نے اختیار والوں کو تخت سے گِرا دیا اور پست حالوں کو بلند کیا ۔ اُس نے بھولوں کو اچھی چیزوں سے سیر کر دیا اور دولتمندوں کو خالی ہاتھ لوٹا دیا۔ اُس نے اپنے خادم اسرائیل کو سنبھال لیا تا کہ اپنی اُس رحمت کو یاد فرمائے ۔

ندیم: وہ آیت جس نے مجھے سب سے زیادہ چھوا ہے،یہ ہے ’’اُس نے بھوکوں کو اچھی چیزوں سے سیر کر دیا اور دولت مندوں کو خالی ہاتھ لوٹا دیا۔(Pause)میں سوچ رہا تھا کہ بہت دفعہ ہم اپنی زندگیوں کے منصوبوں سے جو ہمیں تحفظ فر اہم کر تے ہیں۔لدھے ہوئے خدا وند کے پاس آتے ہیں۔اور خالی ہا تھ واپس چلے جاتے ہیں۔خدا چاہتا ہے کہ ہم بی بی مریم کی طرح خاکسار بن کر آئیے۔آخر میں دعا کریں۔اے خدا،تُو ہم سب کو خاکسار دل عطا فر ما۔عیسیٰ مسیح کے نام میں

تمام: آمین۔

ندیم: ہماری عبادت کا وقت اب ختم ہو تا ہے۔میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری اگلی عبادت ہمارے گھر پر اِسی وقت ہو گی۔خدا وند آپ سب کو برکت دے۔

تمام: آمین۔