Hear Fellowship With My Family Episode 29 (Audio MP3)

View FWMF episode 29 as a PDF file

سبق نمبر29 صفحہ نمبر 1

"خاموش عبادتی وقت"

﴿ندیم اورپروین کے مکان کے اندر کامنظر﴾

﴿ دروازے کی گھنٹی ﴾

ندیم: پروین،یہ ضرور زیدی صاحب ہو نگے۔میں دروازہ کھولتا ہوں۔

پروین: ٹھیک ہے ندیم۔ ﴿ دروازہ کھلتا ہے﴾

ندیم: زیدی صاحب خوش آمدید۔ آپ کا کیا حال ہے؟

زیدی: ندیم بھائی،میں بالکل ٹھیک ہوں۔آپ کیسے ہیں۔

ندیم: میں بھی ٹھیک ہوں۔

پروین: زیدی بھائی،آپ ہمیشہ وقت پر آتے ہیں۔

زیدی: شکریہ پروین بہن،(Pause)ندیم بھائی،کل آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ میں آج اپنی کلیسیائی عبادت کے وقت سے ایک گھنٹہ پہلے آپ کے پاس آجائوں۔کوئی بات کرنی ہے۔کیا ہے وہ بات؟

ندیم: زیدی بھائی،میں دراصل آپ سے اور پروین سے اپنی کلیسیائی عبادت کے بارے بات کر نا چاہتا تھا۔

زیدی: کیوں؟کیا ہوا؟مجھے تو سب ٹھیک لگتا ہے۔

پروین: اِسی لئے تو ندیم نے ہمیں ملنے کو کہا ہے۔

ندیم: زیدی آپ دیکھتے ہیں کہ ہماری کلیسیائ مسلسل تعداد میں بڑھ رہی ہے۔

زیدی: خدا کا شکر ہو۔

ندیم: اور یقیناََ ۔ ہمارے خواب 10اور20تک محدود نہ رہیں گے ۔ ہمارے خواب تو خُداوند کے ساتھ بہت بڑے ہیں۔ اور میں محسوس کر تا ہوں کہ ہماری منزل کلیسیائ میں صرف نئے ممبران لانا ہی نہیں بلکہ ایک نسل تیار کرنا ہے جِس نے نئی کلیسیائیں شروع کرنی ہیں۔ کیونکہ اب ہمارے ممبران بڑھ رہے ہیں۔ ہم ایک کلیسیائ میں نہیں رہ سکتے۔ اِس لئے ہمیں اِسے دوکلیسیائوں میں تقسیم کرنا ہوگا۔ پھر تین میں اور یوں یہ تعداد بڑھتی جائے گی۔اب ضروت اِس بات کی ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو تیار کریں جو اُن کلیسیائوں کی رہنمائی کر سکیں۔اور یہ ہمیں اب شروع کرنا ہوگا ۔

پروین: بالکل ندیم۔ اب ضرورت ہے کہ ہم اپنی کلیسیائ میں لوگوں کو شاگرد بنائیں اور بڑھنے میں اُن کی مدد کریں۔ اگر ہم کلیسیائ کے ہر ممبر کو شخصی طور پر مِلیں۔اُس کی نگہداشت کریں اور اُس کی خُداوند کے ساتھ چلنے میں مدد کریں۔تو ضرور ایسا ہی ہوگا۔

سبق نمبر29 صفحہ نمبر 2

زیدی: شاندار خیال ہے۔ اس طرح ہم اپنی کلیسیائ کے ممبران کے لئے چرواہوں کی طرح ہونگے ۔

ندیم: بالکل ۔ ہم میں سے ہر ایک دو یا تین شخصوں کی راہنمائی کرے گا۔اُن کے مسائل حل کرنے میں مدد دیگا ، اُن کی مشکلات میں اُن کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ اُن کے ساتھ دُعا مانگے گا اور خُداوند کی راہ میں چلنے میں اُن کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

پروین: ندیم۔ مُجھے تویہ بہت اچھا لگ رہاہے۔

زیدی: مُجھے بھی۔

ندیم: خُداوند کی تعریف ہو۔ ہم تینوں ہفتہ وار میٹنگ کیاکریں گے او رہم میں سے ہر ایک اُن لوگوں کو الگ الگ ملا کرے گا۔ جِن کی وہ گلہ بانی کر رہا ہوگا۔

زیدی: لیکن مُجھے تو گلہ بانی کی خِدمت کا کوئی تجربہ نہیں۔ ندیم۔

ندیم: ہم اِس ہفتے میں تین مرتبہ مِلیں گے۔ میں کچھ گلہ بانی اور مشاورت کے بارے میں تعلیم دوں گا۔

پروین: بے شک یہ بہت ضروری ہے۔لیکن ندیم، ہمیں خُدا کی رہنمائی پر بھی انحصار کرنا ہوگا۔

ندیم: کیوں نہیں ،ضرور۔

زیدی: ندیم بھائی،کیا ہمارا کام صرف اُن لوگوں کی مشاورت کر نا ہی ہوگا؟

ندیم: نہیں زیدی۔ ہمیں اُ ن کے لئے دُعا کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔اور یہ بہت اہم ہے ۔

پروین: اور جب ہم اُن کیلئے دعا کریں گے۔اُن کی ضروریات بھی خدا کے سامنے رکھیں گے۔

ندیم: اور جس طرح عیسیٰ مسیح لوگوں کو شاگرد بناتے تھے،اُنہیں خدا کی بادشاہت کی رویا کو پھیلانے کیلئے اُنہیں سکھاتے اور مشورے دیتے تھے،ہم بھی ویسا ہی کریں گے۔

زیدی: خُدا کی حمد ہو۔ کاش ہم ایسا کر سکیں۔

ندیم: کیونکہ ہم نے ایک چرواہے کی ذمہ داری لی ہے ۔ اس لئے بہت مرتبہ ہمیں اپنے وقت کی قربانی دینا ہو گی۔پھر جن کی ہم خبر گیری کر رہے ہیں اُن کی خاطر آرام پائیں گے۔

پروین: مثال کے طو ر پر میں تھکی ہوئی کام سے واپس آئی ہوں۔ اور تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتی ہوں۔میں یہ بھی جانتی ہوں کہ مُجھے نائیلہ سے مِلناہے ۔مُجھے سست نہیں ہونا چاہیے اور اگلے دِن پر اِس مُلاقات کو ملتوی نہیں کرنا چاہیے بلکہ مُجھے نائیلہ کے پاس جانا

چاہیے ۔

زیدی: بہت خوب۔ میں محسوس کرتا ہوں یہ مشکل کام ہے اور ایک بڑی ذمہ داری بھی ۔

سبق نمبر29 صفحہ نمبر 3

ندیم: ہم سب کے لئے یہ بڑی ذمہ داری ہے لیکن خُدا ہمیں قوت دے سکتا ہے ۔

زیدی: میں محسوس کرتا ہوں کہ آنے والے دِنوںمیں کلیسیائ بہت ہی اچھی ہو گی ۔

ندیم: آمین۔ آئیے ہم اب اپنی کلیسیائ کے تمام لوگوں کے لئے دُعا کریں۔

﴿موسیقی بجتی ہے+چائے کے برتین وغیرہ﴾

ندیم: اگر ہم سب نے چائے ختم کر لی ہے۔ تو آئیں ہم اپنی کلیسیائی عبادت کو خُداوند کی حمد کرتے ہوئے شروع کریں ۔زیدی ستا ئش میں ہماری راہنمائی کریں گے۔

زیدی: اِس سے پہلے کہ ہم ستائش شروع کریں ۔ آئو ہم دُعا کریں۔اے خُداوند اکیلا صرف تُو ہی ساری تعریف کے لائق ہے ۔ ہم روح اور سچائی سے آپ کی پر ستش کرتے ہیں ۔ خُداوند ہماری رہنمائی فرما ۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔ آمین۔

آج ہم اِس گیت کے ساتھ اپنے خداوندکی تعریف کریں گے۔’’ اے باپ تو برکت دے ۔‘‘آج اکبر بھائی اپنا طبلہ بھی ساتھ لے کر آئے ہیں۔وہ ناصر کے ساتھ طبلہ بجائیں گے۔شروع کریں۔

تمام: گاتے ہوئے۔﴿گیت:اے باپ تو برکت دے۔﴾

ندیم: آمین۔ آج ہم بہت اہم مضمون کے بارے میں بات کریں گے۔ یہ خُداوند کے ساتھ زندگی کی بنیاد ہے ۔ ہم اِسے ذاتی خاموش عبادت کا وقت کہہ سکتے ہیں۔

عادل: ندیم بھائی ،جب دو اشخاص کے پاس خاموشی کا وقت ہوتا ہے تو اِس کامطلب ہوتا ہے کہ وہ اکٹھے اکیلے بیٹھے ہیں، کِسی مداخلت کے بغیر۔

ندیم: بالکل عادل۔ خُداوند کے ساتھ خاموشی کے وقت میں اُس سے زیادہ قر بت حاصل کرنے کیلئے اور اُس کا خیال جاننے کیلئے میں خداوند کے ساتھ اکیلا بیٹھا ہوا ہوں گا۔

ناصر: اور ابو،یہ عبادتی وقت نہ صرف آدھا گھنٹہ یا ایک گھنٹے کا ہوتا ہے ۔ بلکہ میں ہر روز ہر وقت اور ہر لمحہ اُس کو مل سکتا ہوں۔

ندیم: بالکل ناصر۔ خدا کے ساتھ شخصی تعلق رکھنے سے ہمیں خوشی ملتی ہے۔(Pause) اب سوال یہ ہے کہ کیوں خداوند کے ساتھ خاموش عبادتی وقت گزارنا ضروری ہے۔

پروین: ندیم،کیا میں اِس کا جواب دے سکتی ہوں۔

ندیم: پروین،کیوں نہیں۔

پروین: اِس لئے کہ یہ بائبل مقدس کا حکم ہے۔متی رسول کی معر فت لکھی گئی انجیل کے چھٹے باب کی چھٹی آیت میں یوں لکھا ہے۔’’بلکہ

سبق نمبر29 صفحہ نمبر 4

جب تُو دعا کرے تو اپنی کو ٹھری میں جا اور دروازہ بند کرکے اپنے آسمانی باپ سے جو نظر سے پو شیدہ ہے،دعا کر۔تب تیرا باپ جو

پو شیدگی میں دیکھتا ہے تجھے اجردے گا۔‘‘یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ بائبل مقدس ہمیں خدا سے خاموشی سے ملاقات کرنے کی تلقین کرتی ہے۔’’جب تو دعا کرے تو اپنے کوٹھری میں جا۔‘‘

نائیلہ: پروین بہن، ایک اور بات۔ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح جو ہمارے لیڈر اور استاد ہیں، وہ بھی خاموشی میں وقت گزارتے تھے۔ ہم متی رسول کی معرفت لکھی گئی انجیل کے 14باب کی13 آیت میں پڑھتے ہیں ، "جب یسوع نے یہ سُنا تو وہ کشتی کے ذریعہ ایک ویران مقام کی طرف روانہ ہو گیا۔لوگوں کو پتہ چلا تو وہ شہر شہر سے نکل کر پیدل ہی اُس کے پیچھے چل دیئے"۔(Pause) اور حضرت مرقس کی معرفت لکھی گئی انجیل کے چھٹے باب کی اکتیسویں آیت میں لکھاہے، " اُس نے اُن سے کہا:آئو ہم کسی ویران اور الگ جگہ چلیں اور تھوڑی دیر آرام کریں۔بات یہ تھی کہ اُس کے پاس لوگوں کی آمد ورفت لگی رہتی تھی اور اُنہیں کھانے تک کی فرصت نہ ملتی تھی۔‘‘

ناصر: نائیلہ آٹنی،حضرت مرقس کی معرفت لکھی گئی انجیل اُسکے پہلے باب کی پنتیسویں آیت میں لکھا ہے۔ ’’اگلے دن صبح سویرے جب کہ اندھیر ا ہی تھا یسوع اُٹھا اور گھر سے باہر ایک ویران جگہ میں جا کر دعا کر نے لگا۔‘‘یہ بات آپ کی اُس بات کی تو ثیق کرتی ہے کہ ہمارے خداوند عیسیٰ مسیح خود خدا باپ سے خاموشی میں اور گہرے طور پر ملا کرتے تھے۔

عادل: میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ خاموشی کا وقت بہت قیمتی وقت ہوتا ہے۔مجھے اِس بات کا یقین کر لینا چاہئے کہ میرا ایک دن بھی عیسیٰ مسیح سے ملے،اُن سے باتیں کئیے اور اُن کی سنے بغیر نہ گزرے۔

ندیم: چلیں میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں۔ یہ میں نے ایک کتاب میں پڑھی تھی۔ ایک خاتون ایک ٹیلی ویثرن سٹیشن پر کام کرتی تھی۔ وہ بہت مصروف تھی اور تھک جاتی تھی۔ اور ایک مرتبہ وہ کاروباری سلسلے میں دوپہر کے کھانے میں اپنے ایک رفیق کار کے ساتھ

تھی ۔ وہ کہنے لگی، میں صبح سویرے اُٹھتی ہوںاور رات کو دیر سے سوتی ہوں۔ میں ہر روز وہی ایک ہی کام کرتی ہوں اور کِسی قسم کی خوشی محسوس نہیں کرتی ایسے لگتا ہے۔ جیسے دائروںمیں گھوم رہی ہوں۔(Pause) اُس شخص نے کہا، "صبح جلدی اُٹھنے کی کوشش کرواور اپنے خُداوند سے مِلو"۔ تم محسوس کروگی کہ تمہاری بہت سی فکریں غائب ہو گئی ہیں۔

اکبر: ندیم انکل، وہ تو پہلے ہی نیند کی کمی کے سبب تھکی ہوئی ہے ۔ کیوں اُس شخص نے اُسے پہلے سے بھی جلدی جاگنے کا مشورہ دیا۔

عادل: ندیم بھائی۔ آگے کیا ہُوا؟

ندیم: بے شک و جانتی تھی کہ بہت جلدی جاگنا اُس کیلئے مشکل ہے۔مگر اُس نے ایسا کرنے کی کوشش کی۔ وہ کام کرنے والے کمرے میں بیٹھ گئی اور خُدا پر دھیان لگانے لگی۔ اُس کا دماغ مختلف معاملوں سے بھرا پڑا تھا۔ دس منٹ تک اُس نے اپنے آپکو خاموش سبق نمبر29 صفحہ نمبر 5

رکھنے کی کوشش کی۔ پھر اُس نے پرندوں کے چہچہانے کی آوازیںسنیں۔ پھر اُس کا کتا اُس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ آہستہ آہستہ وہ سارے خیال جو اُس کے دماغ میںہلچل مچا رہے تھے،غائب ہو نا شروع ہو گئے۔ اُس نے پرندوں اور کتے کے خالق کے متعلق سوچنا شروع کر دیا۔اُس نے جانا کہ اپنی مصر وفیت کی وجہ سے وہ بہت سی باتوں سے محروم تھی۔اُس نے ارادہ کر لیا کہ وہ صبح

سو یرے جاگا کرے گی اور اپنے خدا سے ملا کرے گی۔

ندیم: آمین۔ اس سے پہلے کہ ہم آگے بڑھیں ۔کوئی سوال کرنا چاہتا ہے۔

اکبر: ندیم انکل،یہ تو میں سمجھتا ہوں کہ خاموش عبادتی وقت کے کیا معنی ہیں لیکن میں ابھی تک یہ نہیں سمجھا کہ اس وقت کے دوران کیا کرنا ہے۔

ندیم: اکبر،بہت سی باتیں ہیں۔میں سب سے پہلے خُدا کی حمد کرتا ہوں اور اُسکی عبادت کرتا ہوں۔

ناصر: میں محسوس کرتا ہوںخُدا کی حمد کرنا اور گیت گانا اہم ترین باتوں میں سے ایک ہے جو میںخاموش وقت کے دوران کر سکتا ہوں۔ بائبل مقدس کہتی ہے ، "شکر گزاری کرتے ہوئے اُس کے پھاٹکوںمیں داخل ہو ۔

ندیم: خدا شکر گزاری پسند کر تا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم اُس کی شکر گزاری کریں۔

زیدی: خدا میرا محبوب ہے، دوست ہے،باپ ہے۔خاموشی کے وقت میں مجھے آزادی سے اپنی زندگی کی ہر بات خدا سے کرنی چاہئے۔

پروین: مُجھے خدا کا انتظار بھی کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے روحِ پاک کے وسیلے مجھ سے بات کرے۔

ندیم: اور مُجھے اپنے خاموش وقت میں بائبل مقدس پڑھنی چاہیے ۔ ہم ایک باب یا باب کے مختلف حصے پڑھ سکتے ہیں اور اُس پر سوچ بچار کر سکتے ہیں۔ خُدا اُس کے وسیلے ہم سے کلام کرتا ہے۔

پروین: ندیم کیا خیال ہے،خاموشی کا وقت گیان دھیان کیلئے نہیں ہوتا؟کیونکہ خُدا کے کلام کا مطالعہ زیادہ وقت لیتا ہے اس لئے مُجھے اِس کے لئے خاص وقت مقرر کرنا چاہیے ۔

ندیم: پروین آپ ٹھیک کہتی ہیں۔

شمیم: اپنے خاموشی کے وقت کے دوران ہمیں اردگرد کے لوگوں کے لئے دعا کرنی چاہیے۔

اکبر: شمیم آٹنی،میں اسی لئے صرف اپنے لئے دعا نہیں کرتا۔

شمیم: اکبر،بہت اچھی بات ہے۔خدا نے ہمیں اپنے ملک میں خدا کی حاکمیت کا اعلان کرنے اور یہاں پر رہنے والے لوگوں کیلئے دعا کرنے کیلئے رکھا ہے۔

ندیم: خُدا کی حمد ہو۔ میں اپنے خاموش وقت کو خُدا کی حمد کرتے ہوئے شروع کرتا ہوں ۔ میں سارے حالات کے لئے اُس کا شکر سبق نمبر29 صفحہ نمبر 6

کرتا ہوں۔ میںخُداوند سے گفتگوکرتا ہوں اور اُس کا انتظار کرتا ہوں ۔اور جب میں بائبل مقدس پڑھتا ہوں ،انتظار کر تا ہوں کہ خدا مجھ سے بات کرے۔میں دوسروں کیلئے دعا کرتا ہوں۔

اکبر: آپ کا مطلب ہے کہ خاموش وقت کے دوران مجھے یہ سب کام کرنے کی ضرورت ہے ۔کیا میں اپنا سارا وقت خُدا کی حمد میں خرچ کر سکتا ہوں؟

پروین: اکبر، خاموش وقت کی کوئی خاص بناوٹ نہیں ۔ خُدا مُجھے کسی بھی وقت اپنی شکر گزاری کی طرف یا اپنی بندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔اور کسی دوسرے وقت میں دوسرے لوگوں کیلئے دعا کرنے یا پھر میری اپنی بائبل سٹڈی پر گیان دھیان کیلئے میری راہنمائی کر سکتا ہے۔لیکن سب صورتوں میں یہ بہت ہی حیران کن وقت ہو گا۔

ندیم: پر وین بالکل۔ہم نے بات کی ہے کہ خاموش عبادتی وقت کیا ہو تا ہے اور ہمیں یہ وقت کیوں رکھنا چاہئے۔اب اِس کی اہمیت پر بات کر تے ہیں۔

زیدی: یہ بہت اہم ہے کیونکہ یہ میری رہنمائی کرتا ہے ۔ میرا مطلب ہے کہ جب میں ہر روز خداوند سے مِلتا ہوں، اُس سے بات کرتا یا اُس کی سنتا ہوں۔تو ہر بات میں مجھے اُس کی راہنمائی حاصل ہوتی ہے۔

نائیلہ: حضرت لوقا کی معرفت انجیل کے4باب 42اور 43آیت میں لکھا ہے،" صبح ہوتے ہی وہ نکل کر کسی ویران جگہ چلا جا تا تھا۔لوگ ہجوم در ہجوم اُسے ڈھونڈتے ہوئے اُس کے پاس آجاتے تھے اور اُسے روکتے تھے کہ ہمارے پاس سے مت جا۔لیکن وہ کہتا تھا:میرا دوسرے شہروں میں بھی خدا کی بادشاہی کی خوشخبری سنانا ضروری ہے کیونکہ میں سی لئے بھیجا گیا ہوں۔‘‘اس کا مطلب ہے، جب خُداوند عیسیٰ مسیح کو باپ سے کُچھ ذاتی راہنمائی لینا ہو تی تھی تو وہ علحیدگی میں چلے جاتے تھے۔ اِسی لئے اُنہوں نے لوگوںکے ساتھ اور زیادہ رہنے سے انکار کر دیا حالانکہ وہ اِس کے لئے اصرار کر رہے تھے۔

ندیم: دراصل اہم باتوں میں سے ایک اہم بات خُداوند کی رہنمائی میں چلنا ہے نہ کہ اپنی مرضی سے۔ جیسے ہم نے پہلے ذِکر کیا کہ ہم سب کیلئے خدا کا ایک خاص منصوبہ ہے اور ہمیں اِس منصوبے کو جاننے اور اِس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

عادل: ایک اوربات جو خاموش عبادت کو اہم بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ میری پرورش کرتا ہے اور روحانی طور پر مُجھے بڑھاتا ہے۔

ندیم: ٹھیک ہے عادل ، ہماری زندگیوں میں خاموش عبادت پانی اور خوراک کی مانند ہے ۔ اگر کوئی آدمی کُچھ نہ کھائے اورنہ پئے تواُس کی کیا حالت ہوگی۔

شمیم: وہ کمزور ہو گا۔

ندیم: بے شک۔ خُداوند کے ساتھ اپنے ذاتی خاموش وقت کے بغیر ہم روحانی طور پر کمزور ہو جائیں گے۔ خاموش وقت ہمیں غذا مہیا سبق نمبر29 صفحہ نمبر 7

کرتا ہے اور شیطان کے خلاف لڑائی میں ہمیں مضبوط بناتا ہے۔

پروین: ایک اور اہم چیز یہ ہے کہ خاموش وقت روحانی گہرائیوں میںجانے میں مدد کرتا ہے اور خُداوند عیسیٰ مسیح کو زیادہ جاننے میں مدد دیتا ہے۔

ندیم: پروین بالکل درست۔

شمیم: رنج کے اوقات میں جوکِسی خاص مسائل یا حالات کے نتائج سے پیدا ہوئے ہوں، خاموشی کاوقت ہمارے لئے بہت اہم ہوتا ہے ۔ جب ہم خُداکی حضوری میںبیٹھتے ہیں ہمیں سچی راحت اور ہمارے تمام مشکل مسائل اور حالات کے لئے حل مِل جاتا

ہے ۔ خُداوند عیسیٰ مسیح کے پاس ہر طرح کی پریشانیوں سے نجات ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں اُن سے مِلنے او راُن کے پاس بیٹھنے کی ضرورت ہے۔

ناصر: اوہ۔ میں نے کبھی نہ سوچا تھا کہ خاموش وقت اور خُداکے ساتھ تعلق اِس قدر عجیب ہے۔

ندیم: ناصر جب آپ اِس پر عمل کرو گے۔آپ کو مزہ آئے گا اور آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ بہت ہی بلکہ بہت زیادہ عجیب ہے۔

اکبر : انکل ندیم،میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہوں گا۔

ندیم: جی اکبر۔

اکبر: یہ خاموش وقت مُجھے کب لینا چاہیے ۔ سب سے مناسب وقت کون سا ہے ۔

ندیم: یہ ایک اہم سوال ہے کیوں نہ ہم سب اِس کا جواب دینے میں حصہ لیں؟

شمیم: میں خیال کرتی ہوں کہ سب سے مناسب وقت صبح سویرے کا ہے۔

اکبر: صبح کیوں؟

شمیم: صبح کے وقت دماغ بہت شفاف ہوتا ہے اور پھر اس سے پہلے کہ ہم دوسرے کاموں میں مصروف ہو جائیں۔ہمیں خاموش وقت لے لینا چاہئے۔

ناصر: زبور کی کتاب اُس کے پانچویں باب کی تیسری آیت میں اِس کی توثیق ہوتی ہے۔ لکھا ہے ، "اے خداوند تُو صبح کو میری آواز سُنے گا۔ کیونکہ میں صبح دم ہی اپنی التجائیں تیرے حضور پیش کر تا ہوں اور امید لگائے بیٹھا رہتا ہوں۔‘‘

پروین: اورزبور 63 اُس کی پہلی آیت ۔کہتی ہے، "اے خُدا ! تُو میر ا خُدا ہے میں تجھے دِل سے ڈھونڈتا ہوں ۔ خشک اور پیاسی زمین میں جہاں پانی نہیں ہے میری جان تیری پیاسی ہے اور میرا جسم تیرا مشتاق ہے"۔

ندیم: اُس آیت میں جو پروین نے ابھی پڑھی ہے۔ یہاں تین عجیب الفاظ ہیں ۔ڈھونڈنا ، پیاس اور خواہش کرنا۔ یہ تینوں الفاظ ایک سبق نمبر29 صفحہ نمبر 8

شخص جِسے آپ بہت پیار کرتے ہیںاُس کے پاس بیٹھنے کی بڑی خواہش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اگر خُدا کی محبت نے میرے دِل کو بھر دیا ہے تو میں اُس کے پاس بیٹھنے کے لئے آرزو اور خواہش کروں گا۔

اکبر: اس کا مطلب ہے، خاموش وقت صبح سویرے کا ہونا چاہیے ۔ (Pause)کیا یہ دِن کا کوئی اور وقت نہیں ہو سکتا۔ شاید دوپہر یا رات کا وقت۔

ندیم: نہیں اکبر ایسی بات نہیں۔ یہ کوئی بھی وقت ہو سکتا ہے ۔ لیکن صبح کا وقت بہتر ہے کیونکہ آپ کا دماغ ابھی روزمرہ کی زندگی کے معاملات میں مصروف نہیں ہوتا۔

زیدی: اور ندیم بھائی، بہترین بات یہ ہے کہ ہر روز کے لئے خداوند عیسیٰ مسیح سے ملاقات کیلئے وقت مقرر ہو۔بجائے اِس کے کہ میں دوسرے کاموں میں اتنا زیادہ مصروف ہو جائوں کہ خداوند عیسیٰ مسیح سے ملاقات کئے بغیر دن گزر جائے۔

پروین: زیدی بھائی۔ نہ صرف وقت بلکہ عیسیٰ مسیح سے ملاقات کیلئے جگہ بھی مقرر ہو نی چاہئے۔یہ نہ ہو کہ جگہ کا انتخاب کرتے کرتے خاموش ملاقات کا وقت ہی گزر جائے۔

ندیم: جی ہاں،وقت او ر جگہ کا تعین کرنا بہت ضروری ہے۔اگر مجھے کسی اہم شخصیت سے ملنا ہو تا ہے،میری کوشش ہو تی ہے۔وقت سے پہلے پہنچوں۔یہاں پر تو ہم خداوند عیسیٰ مسیح جو خداوندوں کے خدا ہیں۔اُن سے ملاقات کی بات کر رہے ہیں۔

اکبر: ٹھیک ہے۔ ایک اور سوال۔ یہ خاموش وقت کِتنا لمبا ہونا چاہیے۔

نائیلہ: اکبر! میرا خیال ہے۔ اِس کا انحصار اُس شخص پر ہے ۔ جو خاموش وقت لے رہا ہے ۔کوئی ایک گھنٹہ بیٹھ سکتا ہے ۔ کو ئی آدھ گھنٹہ ،۔ مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہو سکتی ہے۔

ندیم: میرے خاموش وقت میں سب سے اہم چیز خدا سے ملاقات ہے۔اُس کی حضوری کا احساس کیے بغیر کوئی وقت خاموش وقت نہیں ہوتا یہی وجہ ہے اُس کی حضوری کا احساس میرے صحیح وقت کا تعین کرتاہے۔میں اُس سے بولتا ہوں اور وہ مجھ سے کلام کرتا ہے۔اُس خاموش وقت میں میرا مقصد،بائبل پڑھنا،گیت گانا،شکر گزاری کرنا، اپنے لئے یا دوسروں کیلئے دعا کرنا ہونا چاہئے۔آئیں اب اکٹھے دعا کریں اور میں آپ کو یاد دلا دوں کہ ہماری عبادت اگلی مرتبہ خدا نے چاہا تو ہمارے گھر میں اِسی وقت ہوگی۔عیسیٰ مسیح کی برکت آپ سب پر ہو۔

زیدی: آپ پر بھی ہو۔

تمام: آمین۔