Hear Fellowship With My Family Episode 30 (Audio MP3)

View FWMF episode 30 as a PDF file

سبق نمبر30 صفحہ نمبر 1

"وہ عورت جِس کے خون جاری تھا / جریان ِ خون والی عورت"

(Music)

ندیم: پروین،مین تھوڑی دیر سونا چاہتا ہوں۔

پروین: ٹھیک ہے ندیم۔ ناصر تم بھی آرام کروگے۔

ناصر: نہیں امی۔ اکبر نے مُجھے فون کیا تھا۔ وہ آج جلدی آئیگا ۔ اُس نے میر ے ساتھ کِسی بات میں شراکت کرنی ہے۔

﴿دروازے کی گھنٹی﴾

ناصر: یہ ضرور اکبر ہو گا۔

پروین: ٹھیک ہے۔بلا لو اُسے﴿Pause۔دروازہ کھلتا ہے﴾

ناصر: ہیلو اکبر۔ خوش آمدید۔

اکبر: ہیلو ناصر۔

ناصر: آئو،اندر چل کر بیٹھتے ہیں۔(Pause) کیا حال ہے ۔ فو ن پر آپ کُچھ تھکے تھکے لگ رہے تھے ۔ کیا بات ہے؟

اکبر: ناصر سچ ہے ۔ میں مطمن نہیں ہوں۔میں خداوند کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔مگر سب کچھ الٹ ہو رہا ہے۔دو قدم آگے بڑھتا ہوں اور چار قدم پیچھے آجاتا ہوں۔

ناصر: اکبر تمہیںکون سی چیز روک رہی ہے۔

اکبر: میں بہت کمزور ہوں ۔ بہت مرتبہ میں نے خداوند سے کہا ہے۔خُداوند لوگ پہلے تیری آواز سُنا کرتے تھے۔ میں بھی تیری آواز سُننا چاہتا ہوں ۔ ناصر مسئلہ یہ ہے کہ میں اپنی کمزوری سے شفائ نہیںپا رہا۔ کلیسیائ میں مُجھے بہت حوصلہ مِلتا ہے۔ لیکن جب میں اکیلا ہوتا ہوں ۔ پھر کمزور ہو جاتا ہوں۔ میں حوصلہ مند بننا چاہتا ہوں۔میں خداوند کی حضوری محسوس کرنا چاہتا ہوں۔اِسی لئے میں تمہارے پاس تمہارے ساتھ دعا کرنے آیا ہوں۔

ناصر: آمین ۔اکبر، ہم کُچھ وقت دُعا میں اکٹھے گزار تے ہیں ۔ خُداوند سچ مچ آپ کا حوصلہ بڑھانا چاہتا ہے۔یہ آیت سنو۔"مبارک ہیں وہ جو راستبازی کے بھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ وہ آسودہ ہونگے"۔ آئو اکبر جب تک دوسرے نہیں آتے دُعا کے لئے میرے کمرے میں چلتے ہیں۔

﴿موسیقی بجتی ہے، دروازے کی گھنٹی بجتی ہے﴾

پروین: آتے ہوئے﴿دروازہ کھلتا ہے﴾ نائیلہ خوش آمدید۔ ہزیدی بھائی خوش آمدید۔

سبق نمبر30 صفحہ نمبر 2

نائیلہ/زیدی: شکریہ پروین بہن۔پروین بہن آپ کیسی ہیں۔

پروین: میںٹھیک ہوں۔شمیم ،عادل اندر آئونا،سب باہر کیوں کھڑے ہیں۔﴿دروازہ بند﴾

تمام: شکریہ پروین۔

ندیم: خوش آمدید ۔ دوستو،خوش آمدید۔

تمام: ہیلو ندیم،ندیم بھائی کیا حال ہے۔آپ کیسے ہیں۔

ندیم: ٹھیک ہوں۔شکر ہے خداکا۔

عادل: پروین باجی ،میں اور شمیم کچھ مٹھائی لائے ہیں۔

پروین: شکریہ عادل،شکریہ شمیم۔

نائیلہ: اوہ ۔ یہ تو میری پسندیدہ ہے۔

ناصر: شمیم آنٹی،کچھ چھوڑیں گی تو آپ کھائیں گی نا۔

شمیم: ناصر،کبھی منہ میں لگام بھی دے لیا کرو۔

تمام: قہقہہ۔

اکبر: آنٹی فکر نہ کریں۔میں اِس کو سمجھا لوں گا۔

شمیم: شکر یہ اکبر۔

(Tea Sounds Effects)

پروین: نائیلہ، کیا آپ تیار ہیں؟ ﴿بغلی گفتگو﴾

نائیلہ: ہاں پروین۔ زیدی اور میں نے آج کے مضمون کا اکٹھے مطالعہ کیا ہے۔آج کی تیاری میں اُنہوں نے میری بڑی مدد کی ہے۔

ندیم: میرا خیال ہے ہم سب نے چائے پی لی ہے،عبادت شروع کریں ۔ناصر آج آپ عبادت میں راہنمائی کریں۔

ناصر: ٹھیک ہے ابو،آج میں ابدی شفا کے متعلق ایک گیت گانا چاہتا ہوں۔

ندیم: کیوں نہیں۔آج ہمارے مطالعے کا مضمون بھی شفا ہے۔

ناصر: اکبر بھائی،آج اپنا طبلہ لے کر آئے ہیں۔وہ میرے ساتھ طبلہ بجائیں گے۔اکبر شروع کریں؟

اکبر: ضرور۔

﴿گیت:ابدی شفا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔﴾

سبق نمبر30 صفحہ نمبر 3

ندیم: آمین۔

تمام: بہت اچھا۔زبردست۔بہت خوبصورت گیت ہے۔

ندیم: نائیلہ بہن،آج اُس عورت کی زندگی کے بارے میں ہماری راہنمائی کریں گی جسے بارہ برس سے خون جاری تھا۔ مُجھے یقین ہے ہم بہت کچھ سیکھیں گے اور برکت پائیں گے۔ نائیلہ بہن،شروع کریں۔

نائیلہ: ندیم بھائی شکریہ،آئیں انجیل ِ پاک میں سے اِس معجزے کے بارے میں پڑھتے ہیں۔حضرت متی کی معرفت لکھی گئی انجیل کے نویں باب اور حضرت لوقا کی معر فت لکھی گئی انجیل اُس کے آٹھویں باب میں اس کا ذکر ملتا ہے۔مگر حضرت مرقس کی معر فت لکھی گئی انجیل اُس کے پانچویں باب کی 25تا34آیات میں تفصیل سے لکھا ہے۔ہم دو دو آیات باری باری پڑھیں گے۔پروین بہن آپ شروع کریں۔

پروین: ٹھیک ہے نائیلہ۔ ﴿صفحوں کی آواز﴾ایک عورت تھی جِس کے بارہ برس سے خون جاری تھا او ر وہ کئی حکیموں سے علاج کراتے کراتے پر یشان ہو گئی تھی اور اپنی ساری پو نجی لٹا چکی تھی لیکن تندرست ہو نے کی بجائے پہلے سے بھی زیادہ بیمار ہو گئی تھی۔

ندیم: اُس نے یسوع کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا۔چنانچہ اُس نے ہجوم میں گھس کر پیچھے سے یسوع کی پوشاک کو چھو لیا کیونکہ وہ کہتی تھی کہ اگر میں یسوع کے کپڑوں ہی کو چھولوں گی تو اچھی ہو جائوں گی۔

عادل: اُسی دم اُس کا خون بہنا بند ہو گیا اور اُسے اپنے بدن میں محسوس ہو اکہ اُس کی ساری تکلیف جاتی رہی ہے۔یسوع نے فوراً جان لیا کہ اُس میں سے قوت نکلی ہے لہذا وہ لوگوں کی طرف مڑا اور پوچھنے لگا۔کس نے میرے کپڑوں کو چھوا ہے؟

زیدی: شاگردوں نے اُس سے کہا۔تُو دیکھ رہا ہے کہ لوگ کس طرح تجھ پر گرے پڑتے ہیں اور پھر بھی تُو پو چھتا ہے کہ کس نے مجھے چھوا؟مگر اُس نے چاروں طرف نظر دوڑائی تا کہ دیکھے کہ کس نے ایسا کیا ہے؟

اکبر: لیکن عورت یہ جانتے ہوئے کہ اُس پر﴿یسوع کو چھونے کا﴾کیا اثر ہوا ہے۔ڈرتی اور کاپنتی ہوئی آئی اور اُس کے سامنے گرِ کر اُسے ساری حقیقت بتا دی۔یسوع نے اُس سے کہا۔بیٹی تیرے ایمان نے تجھے اچھا کر دیا ہے۔سلامت چلی جا اور اپنی اِس بیماری سے بچی رہ۔آمین۔

تمام: آمین۔

شمیم: خوب۔ بیچاری عورت۔ بارہ برس سے اُسے خون جاری تھا ۔یقیناََ وہ بڑی تکلیف اور دبائو میں تھی۔ وہ بہت کمزوری محسوس کررہی ہوگی۔ ہو سکتا ہے وہ سوکھ کر کانٹا ہو گئی ہو ۔ غالباََ وہ چاہتی ہوگی کہ اُس بیماری اور دُکھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے مر جائے۔

نائیلہ: شمیم،آپ نے سچ کہا۔ یقیناََ یہ عورت بہت تھک گئی تھی اور نا اُمید تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ اُس کی بیماری سے شفائ کی کوئی اُمید نہیں ،کوئی سبق نمبر30 صفحہ نمبر 4

علاج نہیں۔ کیونکہ وہ ہر کوشش کر چُکی تھی۔ اور بہتر ہونے کی بجائے وہ زیادہ بیمار ہو گئی تھی۔

زیدی: بہت سے لوگ اِیسی ہی صورتحال سے گزر رہے ہیں ۔ شیطان اُن کی زندگی کو چھوت کی بیماری لگانے اُنہیں مایوس اور ناکام کرنے میںکامیاب ہو گیا ہے ۔ شیطا ن اُنہیںبیوقوت بناتا ہے او ر کہتا ہے کہ اُن کے لئے کوئی اُمید نہیں۔ یہی وجہ ہے بہت سے لوگ خود کشی کرتے ہیں۔

پروین: کچھ لوگ شاید اِس لئے مرنا چاہتے ہیں کہ اُن کی مصیبتں ختم ہو جائیں گی۔دراصل شیطان اُنہیں بیوقوف بنا رہا ہو تا ہے۔دن بدن اُن کا غم بڑھتا جاتا ہے۔مگر عیسیٰ مسیح اُنہیں پکارتے ہیں۔’’اے تھکے ماندے اور بوجھ سے دبے لوگو میرے پاس آئو میں تمیں آرام دوں گا۔

ندیم: نائیلہ بہن میں اِس میں کُچھ اضافہ کرنا چاہتا ہوں ۔

نائیلہ: جی ندیم بھائی۔

ندیم: یہ عورت جِس کو خون کے جریان کی بیماری تھی نہ صرف تھکی ہوئی تھی بلکہ مایوس بھی تھی۔ اور غریب بھی ۔ بائبل مقدس بتاتی ہے وہ ڈاکٹروں پر اپنا سب کُچھ خرچ کر چُکی تھی ۔ وہ ضرور امیر ہو گی۔ لیکن اُس نے ڈاکٹروں اور دوائیوں پر اپنا ساراروپیہ خر چ کر دیاہوگا۔ بالکل یہی کچھ شیطان لوگوں کے ساتھ کرتا ہے۔ جو کُچھ اُن کے پاس ہوتا ہے ضائع کر دیتا ہے ۔نہ صرف صحت بلکہ روپیہ پیسہ بھی۔

ناصر: حضرت یوحناکی معر فت لکھی گئی انجیل اُس کے دسویں باب کی دسویں آیت میں یوں لکھا ہے۔’’اوریہ آیت شیطان کے بارے میں کہتی ہے ، ’’چو ر صرف چرانے،ہلاک اور برباد کرنے آتا ہے۔میں آیا ہوں کہ لوگ زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔‘‘

شمیم: یہ بہت ہی عمدہ آیت ہے۔ شیطان لوگوںکو مارنے اور ذلیل کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ مگر عیسیٰ مسیح اُن کو زندگی دینا چاہتے ہیں۔ عام زندگی نہیں بلکہ ابدی زندگی۔

زیدی: میں ایک بات کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔ جِس پر ہم نے غور نہیںکیا۔ یہ عورت حضرت موسیٰ کی شریعت اور انبیائ کے مطابق جریان ِ کے خون کی وجہ سے ناپاک تھی۔ کوئی شخص اُسکے قریب جانے یا اُسے چھونے کا نہیں سوچ سکتا تھا۔ہو سکتا ہے کہ اُس کا خاوند اور اُس کے بچے بھی اُس سے دور رہتے ہوں۔ اِسلئے وہ نہ صر ف غریب ، بیمار اور نا اُمید تھی بلکہ تنہا بھی تھی۔

ندیم: زیدی بھائی ،تنہائی کا احساس بہت جان لیواہوتا ہے ۔لیکن جو اذیت میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔عیسیٰ مسیح کے پاس اِس کا حل ہے۔عیسیٰ مسیح نے کہا ۔" میں دنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں "۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں ، " جب تک وہ یہاں ہے اُسے

سبق نمبر30 صفحہ نمبر 5

پکارو اُسے پکارو کیونکہ نزدیک ہے"۔ مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ مسیح ہم میں سے ہر ایک کے قریب ہیں۔ ہم کِسی بھی وقت اُن کو تلاش کر سکتے ہیں اور ہم اُنہیں اپنے دُکھوں کا احساس کرتے پائیں گے وہ ہماری التجائوں کا جواب دیتے ہیں۔

پروین: ہو سکتا ہے یہ عورت خیال کرتی ہو کہ خُداوند اُس سے ناراض ہیں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ لوگوں کی عادلانہ نگاہوں کی وجہ سے دُکھ اُٹھا رہی ہو۔ کیونکہ لوگ خیال کرتے تھے کہ اُس کی بیماری گناہ کی وجہ سے یا کِسی غلطی کی وجہ سے ہے ۔اور خدا اُسے شفا نہیں دے رہا۔کیونکہ اُس نے اُسے رد کر دیا ہے۔

اکبر: جی ہاں،ہم اکثر لوگوں کو ایسی باتیں کہتے سنتے ہیں۔ اگر خُدا مُجھ سے محبت کرتا ہے تو وہ مُجھے ایسے حالات سے کیوں گزرنے دیتا ہے۔میں نے کون ساایسا جرم کیا ہے ۔جس کی مجھے سزا مل رہی ہے۔

ناصر: جی ہاں اکبر، شیطان ہمارے سا منے خدا کی شبیہ کو بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسا اُس نے میرے ساتھ کیا۔ وہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ہمارے سارے مسائل کی جڑ خُدا ہے۔ حالانکہ خُدا کی محبت ہماری سوچ سے کہیں بڑھ کر ہے۔

عادل: نائیلہ بہن ! میں ایک اور بات کا اضافہ کر سکتا ہوں؟

نائیلہ: کیوں نہیں عادل۔

عادل: جوآیت ہم نے پڑھی کہتی ہے، وہ اپنا سارا روپیہ خرچ کر چکی تھی پھر بھی بہتر ہونے کی بجائے وہ اور زیادہ خراب ہو گئی تھی ۔ وہ بیماری کی قید سے بھاگنے کی تمام ترکوشش کرتی تھی۔پھر بھی بدقسمتی سے ٹھیک نہیں ہوئی تھی اور زیادہ مشکل یہ تھی کہ اُس کی حالت زیادہ خراب ہو رہی تھی ۔یاد رکھیں، اکثر ہمارے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔ہم اپنے مسائل حال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن وہ اور زیادہ پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

زیدی: جی ہاں عادل،ہمیں اُن لوگوں کے پاس خوشخبری لے کر جاناچاہیے۔ حل صرف عیسیٰ مسیح کے پاس ہے۔ صرف عیسیٰ مسیح کے پاس۔

نائیلہ: یہ سچ ہے ۔ میں اپنی سوچ کو آگے بڑھانا چاہتی ہوں۔ وہ دکھ اُٹھا رہی تھی۔ وہ مایوس ، بیمار، کمزور، غریب،اور لوگوں سے رد کی ہوئی تھی۔ وہ محسوس کرتی تھی خدا اُس سے ناراض ہے۔ یہی وجہ ہے جب اُس نے عیسیٰ مسیح کے معجزات کے بارے میں سُنا تو ایک نئی اُمید اُس کی زندگی میں آئی ۔ یقیناََ اُس نے سُنا ہوگاکہ عیسیٰ مسیح سب بیماریوں سے شفائ دیتے ہیں ۔ اُنہوں نے مفلوجوں، کوڑیوں اور اندھو ں کو شفائ دی۔ اور وہ ہر ایک پر جو اُنہیں ڈھونڈتے تھے رحم کرتے تھے۔ اِس بات نے اُسے یقین دِلایا کہ عیسیٰ مسیح اُسے رد نہیں کریں گے۔ اگر وہ اُن کے چوغے کا پلہ بھی چھو لے تو فوراََ شفائ پا جائے گی۔

زیدی: نائیلہ یہی وجہ تھی کہ وہ عیسیٰ مسیح کے پاس جانے پر بضد تھی اور بھیڑ کے باوجود اُس کے چوغے کو چھونا چاہتی تھی ۔ہو سکتا ہے ایسا کرنے سے وہ شاید زمین پر گِری بھی ہو کیونکہ وہ بہت کمزور تھی۔

سبق نمبر30 صفحہ نمبر 6

پروین: زیدی بھائی، شیطان نے اِس عورت کو عیسیٰ مسیح کے پاس آنے سے ضرورروکا ہو گا۔ شیطان نے اُسے ور غلانے کی کوشش کی ہوگی ۔اُس نے کہا ہوگا تم بھیڑ کی وجہ سے اُس تک نہیں پہنچ سکتی ۔ تمہارا عیسیٰ مسیح کو چھونا بے سود ہوگا۔ اِس سے پہلے بھی تم بہت کوشش کر چُکی ہو۔ لیکن کُچھ فائدہ نہ ہُوا۔ لیکن اِس سب کے باوجود وہ بضد تھی ۔اُس کی یہ بات مجھے ایک آیت یاد دِلاتی ہے جوکہتی ہے،"چونکہ اُس نے مُجھے پکڑا اِسلئے میں اُسے چھڑائونگا"۔ اس لئے جوکوئی خُداوند کو پکڑتاہے وہ شفا پاتا ہے۔ خواہ وہ بدنی ہو ، نفسیاتی ہو یا روحانی ہو۔

شمیم: پروین باجی،۔ شیطان ضرور اُسے چیلنج کر رہا ہوگا کہ وہ سب کے سامنے اپنی بیماری کے بارے میں بتاتے ہوئے شرمائے گی۔ لیکن اُس عورت نے دِل میں کہا، اپنی بیماری کے بارے میں بتانا اہم نہیں ہے اگر میں اُس کی پوشاک کو چھو لوں گی میںشفائ پاجائوں گی۔ عیسیٰ مسیح کی قدرت پر اُس کا دِل ایمان سے بھر گیا تھا ۔

نائیلہ: جی ہاں۔ ہمیںیہ نہیں سوچنا چاہیے کہ لو گ ہمارے بارے میں کیا کہیں گے۔ ہمیں عیسیٰ مسیح کے اختیا ر اور اہلیت پر پورا بھروسہ رکھنا چا ہئے۔

ندیم: میں زبور 107کی آیت9 کے بارے سوچ رہا ہوں جو کہتی ہے "وہ ترستی جان کو سیر کرتا ہے اور بھوکی جان کو نعمتو ں سے مالا مال کرتا ہے۔ وہ عورت پورے دِل سے عیسیٰ مسیح کے لئے خواہش کر رہی تھی ۔یہی وجہ ہے خداوند نے اُس کی خواہش پوری کی۔

ناصر: ابو یہ سچ ہے۔ خُداوند عیسیٰ مسیح نے یہ کہتے ہوئے وعدہ کیا،"تم نے ابھی میرے نام سے کُچھ نہیں مانگا ۔ مانگو تو تمہیں دیا جائے گااور تمہاری خوشی مکمل ہو جائے گی۔

اکبر: اور انکل،عیسیٰ مسیح جریانِ خون والی عورت کے دِل کو جانتا تھا۔ اور اُس کے استقلال کو جانتا تھا۔ اوردیکھیں، وہ کتنا زیادہ اُس پر ایمان رکھتی تھی۔ اُس کا ایمان تھا کہ شفا پانے کیلئے یہی اُس کی واحد اُمید ہے۔

نائیلہ: اکبر یہ سچ ہے ۔ میں اِس میں اضافہ کر نا چاہتی ہوں کہ اِس عورت کی حالت شفائ پانے اور اپنی ضرورتیں پوری کرنے میں سب لوگوں کو اُمید دیتی ہے۔ میں ہر ایک کو جسے عیسیٰ مسیح کی ضرورت ہے کہنا چاہونگی۔ خُداوند کو ڈھونڈو وہ ہر ایک کی بات توجہ سے سنتے ہیں ۔ آپ کی آوازیں اُن تک پہنچتی ہیں اوروہ آپ کے دِل کی خواہش کو جانتے ہیں۔

زیدی: اور نائیلہ بائبل مقدس فر ماتی ہے کہ عیسیٰ مسیح نے اردگرد دیکھا اور اُس کے بارے میں پوچھا۔عیسیٰ مسیح رُکے اور بھیڑ میں اُسے دیکھ رہے تھے ۔ گویا وہ کہنا چاہتے تھے۔میں تمہارے دُکھ کو محسوس کر رہا ہوں ۔ میںتمہیں شفائ دینا چاہتا ہوں۔

ندیم: میں محسوس کرتا ہوں کہ خُداوند ارادتاََ رُک گئے ۔ اُنہوں نے فرمایا ، "تیرے ایمان نے تُجھے شفائ دی ہے"۔ انہوں نے ہر ایک کے سامنے اُس کے ایمان کی تعریف کی۔ جیسے وہ اِس عورت سے کہہ رہے ہوںجواپنے جریانِ خون کی وجہ سے رد کی ہوئی ہے۔ سبق نمبر30 صفحہ نمبر 7

جس کے بارے میں ہر کوئی خیال کر رہا ہے کہ اُسے خدا سزادے رہا ہے ۔ اُس کا ایمان کتناعظیم ہے۔

نائیلہ: میں تصور کرسکتی ہوں کہ شفائ پانے کے بعد وہ عورت خود کو خوشی سے اُڑتا ہوا محسوس کرتی ہو گی۔ کیونکہ اُس نے خُداوند کی محبت کو دیکھ لیاتھا۔خاص طور پر جب عیسیٰ مسیح نے اُسے کہا، "بیٹی تیرے ایمان نے تُجھے شفائ دی ہے۔ اُنہوں نے عام عورت کی طرح مخا طب نہ کیا بلکہ اُسے بیٹی کہا۔جب ہر کوئی اُس سے دور بھاگ گیا تھا اُنہوں نے اُسے بیٹی کہا۔ دوسرے لفظوں میں تم میرے قریب ہو ۔ میں تیرا باپ ہوں ۔

زیدی: حقیقت یہ ہے کہ خُداوند عیسیٰ مسیح صرف ایک حصے کو شفائ نہیں دیتے۔ عیسیٰ مسیح نے اُس عورت کی بیماری سے بھی شفا دی اور اُس کی ہر پریشانی ، غم ، مایوسی ، جرم کے احساس اور ناکامی سے بھی اُسے شفائ دی۔ جب اُنہوں نے کہا ۔ بیٹی سلامتی امن سے جا۔ اِس لفظ سے جو خُداوند کے منہ سے نکلے اُسکی زندگی پر امن کی حکمرانی قائم ہو گئی۔ جبکہ خوف، مایوسی، تنہائی اور بیماری ہمیشہ کے لئے دور ہو گئے۔

نائیلہ: حضرت لوقاکی معرفت انجیل اُس کے چھٹے باب کی انیسویں آیت عیسیٰ مسیح کے بارے میں بتاتی ہے، کیونکہ اُس میں سے قوت نکلی اور اُن سب کو شفائ بخشی۔ یہ قوت اُس ہر آرزومند جان کے لئے ہے جو ایمان اور استقلال سے انتظار کرتے ہے۔ (Pause) کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے۔

پروین : نائیلہ میں کہنا چاہتی ہوں۔

نائیلہ: جی۔

پروین: میں نے دونوں صورتوں میں واضح فرق دیکھا ہے ۔ پہلا یہ کہ عورت اپنی کوششوں سے شفائ پانے کے لئے جدوجہد کر رہی تھی اور جو کُچھ اِس کے پاس تھا خر چ ہو گیا۔ اور بارہ سال لگ گئے لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ اِس کے برعکس عیسیٰ مسیح کے پاس آنے کی وجہ سے اُس کے ایمان اور اعتماد میں اضافہ ہوا۔ اُس کا جریانِ خون بھی بند ہو گیا۔اُسے بدن، جان اور روح کے لئے مکمل شفائ مل گئی۔

ندیم: خُداوند کی تعریف ہو ۔ دنیا کے کِسی بھی حصے میں جو کوئی بھی عیسیٰ مسیح کو اپنے مسائل حل کرنے،بیماریوں سے شفا حاصل کرنے یاضرورتیں پوری کرنے کے لئے کہتا ہے۔ اُسے وہی تجربہ ہو گا جو اِس عورت کو ہوا۔آئیں اپنے رشتے داروں اور پڑوسیوں کو عیسیٰ مسیح کے بارے میں بتائیں ۔صرف عیسیٰ مسیح حقیقی آرام کا منبع ہیں۔ آمین۔

تمام: آمین۔

ندیم: خُدا نے چاہا تو ہماری اگلی عبادت اِسی جگہ ہو گی ۔

زیدی: کیا اگلی بار عبادت ہمارے گھر ہو سکتی ہے؟

سبق نمبر30 صفحہ نمبر 8

ندیم: آپ سب کا کیا خیال ہے؟

تمام: یہ بہت اچھا رہے گا۔ کیوں نہیں ۔ٹھیک ہے۔اچھا رہے گا۔

ندیم: تو اگلے ہفتے اِسی وقت ہم زیدی صاحب کے گھر ملیں گے۔ عیسیٰ مسیح کی برکت آپ سب پر ہو۔

زیدی: آپ پر بھی ہو۔

تمام: آمین۔