Hear Fellowship With My Family Episode 31 (Audio MP3)

View FWMF episode 31 as a PDF file

سبق نمبر31 صفحہ نمبر1

"روحِ پاک سے معموری"

(Music)

ناصر: اکبرآپ کا کمرہ بہت پر سکون اور صاف ستھرا ہے۔

اکبر: ناصر،شکریہ۔ امی اِسے صاف ستھرا رکھنے میں میری مدد کرتی ہیں۔ خُدا اِنہیں برکت دے ۔

ناصر: آمین۔ اور اکبر! خدااُنہیں ہمارے ساتھ شراکت کے لئے کلیسیائ میں لائے۔آپ نے مجھے بلایا ہے۔میں کیا مدد کر سکتا ہوں۔

اکبر: دراصل ناصر۔ کوئی چیز مُجھے غصہ دِلا رہی ہے۔ میں افسردہ ہوجاتا ہوں۔

ناصر: وہ کیا چیز ہے؟ آپ سچ مچ پریشان نظر آرہے ہیں۔

اکبر: پتہ نہیں کِس طرح شروع کروں۔ خیر میری زندگی میں ایک گناہ ہے۔ ایک ناپاک عادت جِس سے میں خلاصی نہیں پا رہا۔ کلیسیائ میں شا مل ہونے سے پہلے میں حیوانوں کی سی زندگی گزارتا تھااور جو چاہتا تھا کرتا تھا۔

ناصر: اکبر، آپ کا کیا مطلب ہے۔

اکبر: میرا مطلب ہے ۔ کالج میں،گلیوں میں،میری نگاہیں ناپاک چیز کو دیکھنے میں لگی رہتیں ہیں۔ میری لائبریری ایسی تصویروں سے بھری پڑی ہے جو خُدا کے فرزندوں کے لئے مناسب نہیں۔ میرے خواب بُرے ہیں اور جب کبھی میں اکیلا ہوتا ہوں وہ خیالات مُجھ پر حملہ آور ہو جاتے ہیں اور میں گناہ میں گِر جاتا ہوں۔ ا گرچہ خُدا کے ساتھ میں نے نئی زندگی شروع کر دی ہے اور عبادت کیلئے کلیسیا میں بھی جاتا ہوں۔ پھر بھی میں دوبارہ گناہ میں گر جاتاہوں۔ لگتا ہے میں خدا کیلئے زندگی نہیں گزار سکتا۔ میرے جی میں آتا ہے کہ دوبارہ کلیسیا میں نہ جائوں۔ میں نے خود کو اور نہ آپ کو بیوقوف بنانا چاہتاہوں ۔

ناصر: او اکبر ۔ شیطان آپ پر سخت حملہ کر رہا ہے۔ ایک مایوسی اور ناکامی کی جنگ۔ ایسے وقت میں جب آپ کو خداوند کی سخت ضرورت ہے،شیطان آپ کو خداوند سے دور رکھنا چاہتاہے۔

اکبر: بالکل ، میں محسوس کرتا ہوں کہ میں ناکام ، اور نااُمید شخص ہوں ۔

ناصر: لیکن اکبر، کیا آپ کو پتہ ہے خُداوند آپ سے کِسقدر پیار کرتے ہیں ۔ صلیب پر اُنہوں نے آپ کے سب گناہوں کی قیمت چکا دی ہے ۔ بائبل مقدس بتاتی ہے ، اُس کے بیٹے عیسیٰ مسیح کا خون ہمیں ہر گناہ سے پاک کرتا ہے۔

اکبر: لیکن ناصر، میں تو توبہ کرتا رہتا اور معافی مانگتا رہتا ہوں اور پھر دوبارہ اُسی گناہ میں گِر جاتا ہوں۔

ناصر: اکبر، یہ آیت سُنو۔ یہ حضرت یوحنا کے پہلے خط کے دوسرے باب سے ہے۔ ﴿صفحے الٹنے کی آواز﴾میرے بچو ! یہ باتیں میں سبق نمبر31 صفحہ نمبر2

تمہیں اِس لئے لِکھتا ہوں کہ تم گناہ نہ کرو اور اگر کوئی گناہ کرے تو باپ کے پاس ہمارا ایک مددگار ہے یعنی عیسیٰ مسیح راستباز۔ اور وہی ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے اور نہ صرف ہمارے گناہوں بلکہ تمام دنیا کے گناہوں کا بھی۔

اکبر: ناصر،کیا آپ کا مطلب ہے کہ میں بار بار گناہ کرتا رہوں اور معافی مانگتا رہوں۔اور خدا مجھے معاف کرتا رہے گا۔جو آپ کہتے ہیں،اِس کا مطلب ہے کہ کوئی شخص جیسے چاہے گناہ کر سکتا ہے اور آخر میں خُدا سے معافی مانگ سکتا ہے۔

ناصر: نہیں اکبر۔ ذرا سوچو۔ اگر فائر بر گیڈ اسٹیشن جس عمارت میں آپ رہ رہے ہیں ،اُس کے ایک حصے میں واقع ہو اور ہر وقت آپ کی مدد کیلئے موجود ہو،کیا آپ اپنے گھر کو آگ لگا دیں گے۔اور کہیں گے، کوئی بات نہیں ، آگ بجھانے والے تیزی سے آ جائیں گے۔

اکبر: نہیں۔ بالکل نہیں۔

ناصر: بالکل ۔ہاں، اگر اچانک آگ لگ جائے ۔ آپ فوراََ انہیں بلائیں گے؟

اکبر: جی ہاں۔

ناصر: یہی ہے اِس آیت کا مطلب ۔عیسیٰ مسیح کو اپنا وکیل بنانا۔ جونہی ہم گناہ کرتے ہیں ہم عیسیٰ مسیح کے پاس آ جاتے ہیں اوراپنے گناہوں کا اقرار کر کے مسیح کے خون سے دُھل جاتے ہیں۔ پھرہم خوشی بھی مناتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے ہمیں معاف کر دیا ہے ۔

اکبر: گناہ کرنے کے بعد خوشی مناتے ہیں؟

ناصر: نہیں اکبر۔ گناہ کرنے کے بعد نہیں۔اقرار کرنے اور معافی مانگنے کے بعد خوشی مناتے ہیں۔کیونکہ عیسیٰ مسیح ہمیں دھو کر برف کی مانند سفید بنا دیتے ہیں لیکن یاد رکھیں یہ خُدا کی مرضی ہے کہ ہم گناہ نہ کریں۔ اور اگر ہو جائے تو پھر ہمارے لئے خُدا کی یہ مرضی ہے کہ ہم توبہ کریں اور عیسیٰ مسیح کے خون سے دھل جائیں۔

اکبر: لیکن ناصر۔ میں بہت مرتبہ توبہ کرتا ہوں اور پھر میرے ذہن میں خیالات آتے ہیں کہ اِس بار میں نے بہت ہی زیادہ گناہ کئے ہیں۔

ناصر: یاد رکھیں،عیسیٰ مسیح کبھی ہمارے گناہ یاد نہیں رکھتے۔ایک بار جب ہم اپنے گناہ کی معافی اُن سے مانگ لیتے ہیں ،وہ معاف فرما کر ہمارے گناہوں کو گہرے سمندر میں پھینک دیتے ہیں اور پھر کبھی اُنہیں یاد نہیں کرتے۔

اکبر: بہت شکریہ ناصر،میں بہت خوش ہوں کہ عیسیٰ مسیح نے میرے گناہ معاف کر دئیے ہیں اور اب وہ اُنہیں یاد بھی نہیں کرتے۔

ناصر: بالکل،مگر ہمیں اپنے گناہوں پر پچھتانا اور کچھ عملی قدم اٹھانے چاہئے ۔

اکبر: عملی اقدام سے آپ کا کیا مطلب ہے؟

سبق نمبر31 صفحہ نمبر3

ناصر: میرا مطلب ہے کہ آپ کو سب تصویریں پھاڑنی ہونگی۔ اور رسالے جو آپ کو گناہ کے لئے آزمائش میں ڈالتے ہیں۔ آگ میں جھونکنے ہونگے۔

اکبر: ناصر۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ میںایسا ہی کروں گا۔

ناصر: اکبر، اِس میں ایک بڑا تجربہ بھی ہے جو گناہ پر غالب آنے میں آ پ کو نئی قوت دیتا ہے ۔ یہ روحِ پاک کی معموری ہے جسے روحِ پاک کا بپتسمہ بھی کہا جاتا ہے۔ ابو نے مجھے اِس کے متعلق بتایا تھا اور کل کلیسیا میں اِسی کے متعلق بات چیت ہوگی۔

اکبر: میں اِس کا خواہش مند ہوں ۔

ناصر: بہت اچھا، اب میں جائوں گا۔کل کلیسیائی عبادت میں ملاقات ہوگی۔خدا حافظ۔

اکبر: خدا حافظ۔

------------------------------------Music-------------------------------

ندیم: آئیں ہم اپنی عبادت شروع کریں۔ہم گیت گائیں گے۔’’تیرا کلام زمانے میں اے خداوند۔‘‘ناصر،اکبر شروع کریں۔

تمام: گاتے ہوئے۔ ﴿گیت:تیرا کلام زمانے میں اے خداوند﴾

ندیم: آج میں آپ سب کے سامنے ایک سوال رکھنا چاہتا ہوں۔سوال یہ ہے۔عیسیٰ مسیح زمین پر کیوں آئے؟

شمیم: یہ تو بہت آسان سوال ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح صلیب پر ہمارے گناہوں کی قیمت چُکانے کے لئے تشریف لائے۔

عادل: شمیم صر ف یہی نہیں۔ وہ ہمیں نئی زندگی بھی دینے آئے۔ ہمیں نئی مخلوق بنانے آئے۔جو اپنے ماضی کا انکار کرتی اور خداوند کے ساتھ نئی راہ پر چلنے کا عزم کرتی ہے۔

ناصر: اور عادل ،وہ ہمیں ابدی زندگی دینے آئے ۔ بائبل مقدس فر ماتی ہے،دیکھیں حضرت یوحنا کی معرفت انجیل،تیسرا باب سولویں آیت۔﴿صفحے الٹنے کی آواز﴾ ’’کیونکہ خدا نے دنیا سے اِس قدر محبت کی کہ اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔‘‘

پروین: بالکل ناصر ۔ خُداوند عیسیٰ مسیح ہمیں ابدی زندگی دینے آئے ۔اور جِس طرح عادل نے کہا، نئی زندگی بھی دینے آئے ۔ بائبل مقدس کہتی ہے، اگر کوئی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق ہے دیکھو پرانی چیزیں جاتی رہیں دیکھو سب نئی ہو گئیں۔

اکبر: بہت خوبصورت آیت ہے۔ یہ ہمیں بائبل مقدس میں کہاں ملتی ہے۔

ندیم: یہ حضرت پولوس رسول کے کرنتھیوں کے نام دوسرے خط کے پانچویں باب کی سترہویں آیت ہے۔ (Pause)

اب میں اِس کے علاوہ کچھ اور کہنا چاہتا ہوں۔آئیں اپنی اپنی بائبل مقدس کھولیں۔حضرت متی کی معر فت لکھی گئی انجیل

سبق نمبر31 صفحہ نمبر4

تیسرا باب، گیا رہویں آیت۔کون پڑھے گا؟﴿صفحوں کی آواز﴾

عادل: میںپڑ ھتا ہوں۔ ’’میں تو تمہیں توبہ کے لئے پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن جو میرے بعد آنے والا ہے وہ مجھ سے زیادہ طاقتور ہے۔میں تو اُس کی جوتیاں بھی اُٹھانے کے لائق نہیں ہوں۔وہ تمہیں پاک روح اور آگ سے بپتسمہ دے گا۔

اکبر: یہ کون کہہ رہا ہے۔

نائیلہ: اکبر، یہ یوحنا بپتسمہ دینے والے ہیں ۔ جو لوگ اپنے گناہون سے توبہ کرتے تھے۔وہ اُنہیں پانی سے بپتسمہ یعنی پاک غسل دیتے تھے اور یوںعیسیٰ مسیح کیلئے راہ تیار کررہے تھے۔

زیدی: ندیم بھائی،میں اب سمجھا۔ آپ کہہ رہے تھے عیسیٰ مسیح ہمیں روحِ پاک اورآگ سے بپتسمہ دینے آئے۔

ندیم: جی ہاں، سب سے اہم ترین وجوہات میں سے ایک وجہ کہ عیسیٰ مسیح کیوں آئے،یہ ہے کہ وہ ہمیں روحِ پاک اور آگ سے بپتسمہ دیں۔

اکبر: میرا سوال ہے کہ روح پاک کا بپتسمہ کسے کہتے ہیں؟

ندیم: اکبر، روحِ پاک کے بپتسمہ کا مطلب ہے کہ روح پاک ہم پر اُتر تا ہے ۔ ہمیں معمور کرتا ہے ۔ ہم پر غلبہ پاتا ہے اور ہمارے رویے میں خدا کو ظاہر کرتا ہے۔ جب کِسی کو پانی کا بپتسمہ مِلتا ہے وہ پورے طور پر پانی میں ڈوب جاتا ہے اور اُس کا کُچھ حصہ باہر نہیں رہتا۔ اِسی طرح جب کِسی کو روحِ پاک کا بپتسمہ مِلتا ہے وہ مکمل طور پر غائب ہو جاتا ہے اور خداوند عیسیٰ مسیح کے سوا اُس میں کچھ نظر نہیں آیا۔

اکبر: معاف کیجئے ۔ میرا علم بہت کم ہے۔مجھے بتائیں۔روح پاک کیا ہے؟

زیدی: اکبر،میں آپ کے سوال کو اس طرح دہر اتا ہوں۔ روحِ پاک کو ن ہے؟(Pause) کیونکہ روحِ پاک خُدا کا ایک اقنوم ہے۔ خُدا تین میں ایک ہے۔ باپ بیٹا اور روحِ پاک۔ پرانے عہدنامہ میں لوگ یہوواہ کو جانتے تھے یعنی خدا باپ کولیکن تقریباَ َ دوہزار سال پہلے خدا نے اپنے آپ کو عیسیٰ مسیح میں ظاہر کیا ۔ بائبل مقدس بتاتی ہے ۔خُدا نے اپنی محبت کو اِس طرح ظاہر کیاکہ جب ہم گنہگار ہی تھے مسیح ہماری خاطر موا۔ اور اب ہم ،جیسا کہ علم الہیات والے کہتے ییں ، روح پاک کے زمانے میںرہ رہے ہیں۔

ندیم: جی زیدی بھائی، آئیے یوحنا14باب26آیت دیکھیں۔ یہ کیا کہتی ہے۔شمیم پلیز پڑھ دیں۔

شمیم: ﴿صفحے الٹنے کی آواز﴾لیکن وہ مدد گار یعنی پاک روح جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا،تمہیں ساری باتیں سکھائے گا ۔ہر بات جو میں نے تم سے کہی ہے،یاد دلائے گا۔

ندیم: یہاں عیسیٰ مسیح کہہ رہے ہیں کہ مددگا ر روحِ پاک ہے اور خُدا باپ اُسے بھیجے گا۔ عادل کیا آپ مہربانی کر کے یوحنا 16باب سبق نمبر31 صفحہ نمبر5

7آیت پڑھیں گے۔

عادل: جی،﴿صفحوں کی آواز﴾مگر میں تُم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میرا یہاں سے رخصت ہو جانا تمہارے حق میں بہتر ثابت ہوگا۔کیونکہ اگر میںنہ جائوں گا تو وہ مددگار تمہارے پاس نہیں آئے گا لیکن اگر میں چلا جائوں گا تو اُسے تمہارے پاس بھیج دوں گا۔

ندیم: ا شکریہ۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ عیسیٰ مسیح فرماتے ہین جونہی میں آسمان پر جائوں گا،مدد گار یعنی روحِ پاک زمین پر آئے گا۔ جب عیسیٰ مسیح مردوں میں سے جی اُٹھنے کے چالیس دِن بعد آسمان پر گئے تو دس دن بعدروحِ پاک شاگردوں پر آ گیا۔ یہ پینتیکست کا دِن تھا ۔ پروین کیا آپ مہربانی کر کے اعمال کی کتاب کے دوسرے باب کی پہلی چار آیات پڑھ دیں گی۔

پروین: جی ندیم۔ ﴿کاغذ پلٹنے کی آواز﴾ جب عیدِ پینتیکست کا دِن آیا تو وہ سب ایک جگہ جمع تھے ۔اچانک آسمان سے آواز آئی جیسے بڑی تیز ہوا چلنے لگی ہو اور اُس سے وہ سارا گھر گو نجنے لگا جہاں وہ بیٹھے ہوئے تھے اور اُنہیں آگ کے شعلوں کی سی زبانیں دکھائی دیں جو جدا جدا ہو کر ااُن میں سے ہر ایک پر آٹھہریں۔اور وہ سب پاک روح سے معمور ہوگئے اور روح کی اسطاعت کے موافق طرح طرح کی بولیاں بولنے لگے۔

زیدی: اور اُس وقت سے روحِ پاک کا نزول ہوا ہے ۔ اور یہ کِسی بھی ایماندار کو جو ایمان سے اُسے ڈھونڈتا ہے۔ مل سکتا ہے۔

نائیلہ: آپ کا مطلب ہے کہ روحِ پاک نہ صرف شاگردوں کو بلکہ کسی کو بھی جو اُسے دھونڈے،مل سکتا ہے۔

ندیم: بالکل درست،کتابِ مقدس میں حضرت یوئیل کی کتاب میں لکھا ہے۔ خُداوند فرماتا ہے کہ آخری دِنوںمیںایسا ہوگا

کہ میں اپنے روح میں سے ہر بشر پر ڈالونگا اورتمہارے بیٹے اور تمہاری بیٹیاں نبوت کریں گے۔ جِس کا مطلب ہے کہ نہ صرف شاگرد بلکہ ہر انسان پر روح کا نزول ہوسکتا ہے۔ تاکہ وہ روح کی معموری کا تجربہ حاصل کرے۔

ناصر: میں روحِ پاک کے بپتسمہ کے بارے میں کُچھ اہم بات کہنا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی کہئیے۔

ناصر: آسمان پر اُٹھائے جانے سے پہلے خُداوند عیسیٰ مسیح نے حضرت لوقا کی معرفت انجیل کی آخری آیات میں اپنے شاگردوں سے کہا۔ اور دیکھو جِس کا وعدہ میرے باپ نے کیا ہے میں اُس کو تم پر نازل کرونگا۔ لیکن جب تک عالمِ بالا سے قوت کا لبا س نہ مِلے یروشلیم میں ٹھہرے رہو ۔(Pause)اور اعمال کی کتاب کے پہلے باب میں اُنہوں نے اُنہیں بتایا۔لیکن جب روح القدس تم پر نازل ہو گا تم قوت پائوگے اور میرے گواہ ہو گے ۔

اکبر: ناصر آپ کا مطلب ہے کہ روحِ پاک کا بپتسمہ ہمیں روحانی قوت دیتاہے ۔

سبق نمبر31 صفحہ نمبر6

ناصر: بیشک۔ اکبر۔ یہ ہماری روحانی زندگیوں میں ہمیں قوت دیتا اور گواہی کی طاقت اور یسوع کے نام میںمنادی کرنے کی طاقت دیتاہے۔

ندیم: اچھا اب ،روحِ پاک کی معموری کی اہمیت کے بارے کون دوسری اہمیت کا ذِکر کر ے گا؟

عادل: ندیم بھائی،ہم نے شروع میں ایک آیت پڑھی جو روحِ پاک کے بارے میں بتاتی ہے،"لیکن مددگار جو روحِ پاک ہے جِسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہ تمہیں سب کُچھ سِکھائے گا"۔ اِس آیت سے ہم سیکھتے ہیں کہ روحِ پاک ہمیں ہر بات سمجھاتا ہے اورعیسیٰ مسیح کی باتوں کے بارے ہمیں یاد دِلاتا ہے۔

ندیم: عادل بالکل صحیح ہے۔ کون کُچھ اور کہنا چاہتا ہے۔

شمیم: ندیم بھائی،میں کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی شمیم۔

شمیم: یوحنا16باب13آیت میں لکھا ہے ،" لیکن جب وہ یعنی روحِ حق آئے گا تو تم کوتمام سچائی کی راہ دِکھائے گا۔ اِسلئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا" ۔ پس روحِ پاک ہمیں نہ صرف سِکھاتا ہے اورعیسیٰ مسیح کے الفاظ یاد دِلاتا ہے بلکہ ہماری سچائی کی طرف رہنمائی بھی کرتا ہے۔ جب ہم دنیا کے مسائل اور فریب سے پریشان ہو جاتے ہیں روحِ پاک سچائی کی طرف ہماری رہنمائی کرتا

ہے ۔

زیدی: ندیم بھائی۔ میں کُچھ اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی زیدی۔

زیدی: خُدا کے ساتھ اپنے تعلق میںاِنسان ہمیشہ خُدا کو اپنے آپ سے دور محسو س کرتا ہے ۔ وہ سُنتا ہے کہ خُدا اُس کا باپ ہے ۔لیکن حقیقی طور پر اِسے محسوس نہیں کرتا ۔ روحِ پاک کابپتسمہ اِس احساس کو دور کر دیتا ہے کہ وہ باپ کے بغیر ہے۔ ایک یتیم ہے۔ آئیے حضرت یوحنا کی معرفت لکھی گئی انجیل اُس کے چودھویں باب کی سولہ تا اٹھارہ آیت میں دیکھتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح کیا فر ماتے ہیں۔کون پڑھے گا؟

اکبر: میں پڑھوں گا۔

زیدی: جی اکبر۔

اکبر: ﴿صفحے الٹنے کی آواز﴾"اور میں باپ سے درخواست کرونگا تو وہ تمہیں ایک اور مددگا ربخشے گا تاکہ وہ ہمیشہ تک تمہارے ساتھ رہے۔یعنی روح حق جسے یہ دنیا حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ نہ تو اُسے دیکھتی ہے نہ جانتی ہے۔لیکن تُم اُسے جانتے ہو کیونکہ اُس کی سبق نمبر31 صفحہ نمبر7

سکونت تمہارے ساتھ ہے اوراُس کا قیام تمہارے دلوں میں ہوگا۔میں تمہیں یتیم نہ چھوڑوں گا۔میں تمہارے پاس آئوں گا۔"

زیدی: جی ہاں،عیسیٰ مسیح ہم سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمیں یتیم نہ چھوڑیں گے بلکہ روحِ پاک کو ہمارے پاس بھیجیں گے، جو باپ کی ہدائیت کا احساس ہمیں دِلائے گا۔

اکبر: لیکن روحِ پاک کے بپتسمے کا تجربہ کس طرح ہوتا ہے ۔

ندیم: آئیے حضرت لوقا کی معرفت انجیل 11باب5تا11آیت پڑھتے ہیں۔ ہر کوئی دو آیات باری باری پڑے۔ پروین،آپ شروع کریں۔

پروین: پھر اُس نے اُن سے کہا:فر ض کرو کہ تُم میں سے کسی کاا یک دوست ہے۔وہ آدھی رات کو اُس کے پاس جاکر کہتا ہے کہ اے دوست!مجھے تین روٹیاں دے کیونکہ میرا ایک دوست سفر کر کے میرے پاس آیا ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں کہ اُس کی خاطر تواضع کر سکوں۔

ناصر: اور وہ اندر سے جواب میں کہتا ہے۔مجھے تکلیف نہ دے،دروازہ بندہے اور میں اور میرے بال بچے بستر میں ہیں ،میں اُٹھ کر تجھے دے نہیں سکتا۔میں تم سے کہتا ہوں کہ اگرچہ وہ اُس کا دوست ہے،وہ اُٹھ کر نہ بھی دے تو بھی اُس کے بار بار اصرار کرنے کے باعث ضرور اُٹھے گا اور جتنی روٹیوں کی اُسے ضرورت ہے،دیگا۔

شمیم: پس میں تُم سے کہتا ہوں۔مانگتے رہو گے تو تمہیں دیا جائے گا ڈھونڈتے رہو گے تو پائو گے۔دروازہ کھٹکھٹا تے رہو گے تو تمہارے لئے کھول دیا جائے گا۔کیونکہ جو مانگتا ہے اُسے ملتا ہے،جو ڈھونڈ تا ہے وہ پاتا ہے اور جو کھٹکھٹا تا ہے اُس کیلئے دروازہ کھول دیا جائے گا۔

زیدی: تُم میں سے کون سا باپ ایسا ہے کہ جب اُس کا بیٹا مچھلی مانگے تو اُسے مچھلی نہیں بلکہ سانپ پکڑا دے؟

ندیم: جی ہاں! اِن آیات میں یہ ظاہر ہے کہ روح القدس حاصل کرنے کے لئے سب سے اہم ترین باتوں میں سے ایک بات ایمان اور استقلال سے مانگنا ہے۔ ہمیں سادگی سے خُدا سے مانگتا چاہئے۔ کیونکہ وہ ہمارا باپ ہے۔ اور ہمیں استقلال سے دُعا مانگنا

جار ی رکھنا چاہئے۔

ندیم: مُجھے وہ وقت یاد ہے۔ جب خداوند عیسیٰ مسیح مُجھے اپنے روحِ پاک سے بھرنا چاہتے تھے ۔ مُجھے اِس کی بہت آرزو تھی ۔ میں خُداوند سے کہہ رہا تھا ،خُداوند تیری خِدمت کے لئے مجھے تیری قوت کی ضرورت ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ روحِ پاک اِس قوت کا منبع ہے۔ مہربانی کر کے مُجھے روح پاک کا بپتسمہ دیں ۔

نائیلہ: ندیم بھائی،پھر کیا ہوا؟

سبق نمبر31 صفحہ نمبر8

ندیم: میں مانگتا رہا۔ اور چار دِن تک خداوند کا انتظار کیا۔ پورے دِل سے مُجھے یقین تھا کہ خُداوند عیسیٰ مسیح جواب دیں گے ۔ میںنے اُُنہیں اپنے بہت قریب پایا۔جب میں خُداوند کی تعریف کر رہا تھا۔میں نے اپنے آپ کو ایسے الفاظ کہتے پایا جنہیں میں نہیں سمجھتا تھا۔میں عجیب خوشی سے بھر گیا ۔ اور ابھی بھی اِسی تجربے میں رہ رہا ہوں۔ میں روحِ پاک کی معموری کی تما م برکات سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔

ناصر: ابو کیا ہر ایک کے ساتھ یہی بات ہونی چاہیے جو روحِ پاک سے بپتسمہ چاہتا ہے۔

ندیم: جب روحِ پاک ہم میں انڈیلا جاتا ہے وہ ہماری روحوں میںبہتا ہے اور ہمیں خوشی اور اطمینان سے بھر دیتا ہے۔ وہ ہمارے جسموں میں بھی بہتا ہے۔ اور مختلف چیزیں ہونے دیتا ہے۔ مثلاً بیمار بدنوںکو شفائ اور توانائی دینا۔ وہ ہماری زبانوں کو بھی قابو میں کر لیتا ہے اور ہم مختلف زبانوںمیں خُدا کی تعریف کرنا شروع کرتے ہیں۔

شمیم: ندیم بھائی،روحِ پاک سے بھر جانے کی میری بہت آرزو ہے۔

پروین: میرا خیال ہے کہ ہمیں ہفتے کے دوران مِلنا چاہیے اور کُچھ وقت دعا میں گزارنا چاہئے ۔ہم روحِ پاک سے بھر جانے کے لئے دُعا کرسکتے ہیں۔

تمام: ٹھیک ہے۔اچھا خیال ہے۔میں اتفاق کر تا ہوں۔

نائیلہ: تو کیا خیال ہے،؟پرسوں ہمارے گھر میں یہ دعائیہ عبادت رکھیں؟

تمام: بالکل ، کیوں نہیں،اچھا خیال ہے۔

ندیم: آمین۔ لیکن ہماری اگلی ہفتہ وار کلیسیائی عبادت ہمارے گھر میں اِسی وقت ہو گی۔ خداوند عیسیٰ مسیح آپ سب کو برکت دے۔ تمام: آمین۔