Hear Fellowship With My Family Episode 32 (Audio MP3)

View FWMF episode 32 as a PDF file

سبق نمبر32 صفحہ نمبر1

"گندم کا دانہ"

(Music)

ندیم: خُداوند میں تیری تعظیم کرتا ہوں۔ تُو بھلا ہے اور تیری شفقت ابدی ہے ۔آج ہمیں سِکھاکہ کِس طرح تیرے روحِ پاک کی رہنمائی کے تابع ہوں۔ ہمیں سِکھا کہ ہم سب چیزوں سے زیادہ تُجھے پیارکریں اور اپنی زندگیوں میں تُجھے اول درجہ دیں۔ خُداوند آج ہمارے دِلوں کو سیکھنے کیلئے تیار کر سیکھنے کے لئے ہمیں سکھا کہ تیرے ساتھ کِس طرح فتح مند زندگی گزاریں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔ آمین۔

پروین: (coming)ندیم،آپ ابھی تک یہاں ہیں ۔ سب پہنچ گئے ہیں اور آپ کا ا نتظار کر رہے ہیں۔

ندیم: اوہ مجھے بالکل احساس نہیں ہوا۔اور نہ ہی میں نے کسی کی آواز سنی ہے۔

پروین: لگتا ہے، آپ بہت مصروف تھے۔

ندیم: جی،میں گندم کے بیج کے عنوان پر کُچھ غور کر رہا تھا۔خداوند نے مجھے بہت کچھ سکھا یا ہے ۔ میںنے ایک کتاب بھی پڑھی ہے ۔جِس نے میری بہت مدد کی ہے۔ یہ فتح مند زندگی کے بارے میں ہے۔

پروین: کتاب کا نام کیا ہے۔

ندیم: یہ گندم کا دانہ کہلاتی ہے۔ (Pause) کیا ناصر جاگ رہا ہے۔

پروین: جی ہاں!اُنہی نے تو سب کا استقبال کیا ہے۔چائے بھی بنا لی ہے۔

ندیم: بہت خوب۔ آئو چلیں ۔﴿Music﴾

ندیم: ہیلو! کیا حال ہے آپ سب کا۔

تمام: ہیلو! ہم ٹھیک ہیں۔شکریہ

ناصر: یہ رہی آپ کی چائے ۔ اور آپ کا کیک۔

ندیم: ناصر شکریہ۔(Tea Pots)

تمام: بہت اچھی چائے تھی،خوشبو بہت اچھی تھی،میٹھا بھی مناسب تھا،کیک کا تو جواب نہیں،شکریہ،مہربانی۔

ندیم: میرا خیال ہے،چائے ہم پی چکے ہیں۔آئیے۔ اپنے خُداوند کے نام کی تعریف کرتے ہوئے اپنی کلیسیائی عبادت کا آغاز کریں۔

سبق نمبر32 صفحہ نمبر2

آج عادل عبادت اور ستائش میں ہماری راہنمائی کریں گا۔

عادل: آئیے ہم آج کی عبادت یہ گیت گاتے ہوئے شروع کریں ۔’’اے لشکروں کے رب،اے عہد کے صندوق‘‘ناصر آپ ہارنیم بجائیں اور اکبر آپ طبلہ۔

ناصر،اکبر: ٹھیک ہے۔ضرور۔

تمام: گاتے ہوئے۔﴿اے لشکروں کے رب،اے عہد کے صندوق﴾

ندیم: آمین، آج ہمارا مضمون ہے ، صحت مند زندگی۔ آئیں حضرت یوحنا کی معرفت انجیل اُس کے بارھویں باب کی چو بیسویں آیت پڑھیں۔شمیم آپ پڑھیے۔

شمیم: ﴿ورقوں کے اُلٹنے کی آواز﴾میں تُم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ جب تک گیہوں کا دانہ خاک میں مل کر فنا نہیں ہو جاتا وہ ایک ہی دانہ رہتا ہے لیکن اگر وہ فنا ہو جاتا ہے تو بہت سے دانے پیدا کر تا ہے"۔

ندیم: اِس سے پہلے کہ ہم اِس آیت پر دھیان دیں۔میں بتانا چاہتا ہوں کہ گندم کا دانہ کِس سے مشابہت رکھتاہے۔ گندم کا دانہ ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ گندم کے دانے کے اندر زندگی ہوتی ہے۔ لیکن اندرونی زندگی کو بیرونی تہہ نے ڈھانپا ہوتا ہے۔ یہ چمڑا اندرونی زندگی کو نظر نہیں آنے دیتا ۔ دانے کو اِس چمڑے سے مخلصی حاصل کرنی چاہیے تا کہ زندگی بہہ کر باہر آ جائے۔ اور یہ صرف تب ہی ہوتا ہے جب دانہ زمین پر گِرتا ہے اور مر جاتا ہے۔ صرف اُس وقت کھال ٹوٹتی ہے اور دانہ اُگتا ہے اور بہت سی فصل اُگتی ہے۔

اکبر: خوبصورت تمثیل ہے۔ لیکن ندیم بھائی،گندم کا دانہ ہم سے کیسے مشابہت رکھتا ہے۔ اِس سے آپ کا کیا مطلب ہے۔

ندیم: ہم میںسے ہر ایک گندم کے دانے سے مشابہت رکھتا ہے۔ کیونکہ ہم میں سے ہرایک اپنے اندر زندگی رکھتا ہے ۔ یہ زندگی

خُدا کا روح ہے جو ہمارے اندر رہتا ہے ۔ ہم میںسے ہر ایک بیرونی طرف کھال رکھتا ہے۔ بالکل گندم کے دانے کی طرح۔ یہ کھال وہ جسم ہے جِس میں خواہشیں ہوتی ہیں۔ اور پرانے تجربے ہوتے ہیں۔ جب وہ مسیح سے دور گناہ میں جی رہا تھا ۔ اور یہ موٹی کھال خُدا کے ساتھ پھلدار زندگی گزارنے سے روکتی ہے۔

ناصر: آپ کا مطلب ہے کہ ہمیں اِس چمڑے سے خلاصی حاصل کرنی چاہیے تاکہ خُدا کی زندگی ہمارے اندر سے بہہ کر باہر آئے۔

ندیم: بالکل ناصر۔

پروین: ایک آیت بتاتی ہے کہ زندگی کے پانی کی ندیاں اُس ایماندار کے اندرسے جاری ہو جاتی ہیں ۔ پس جب بیرونی چمڑا ٹوٹ جاتا

سبق نمبر32 صفحہ نمبر3

ہے تو زندگی باہر آ جاتی ہے۔

ندیم: ہاں پروین۔ اور ہماری آیت کا آخری حصہ تھا۔ لیکن جب یہ مر جاتا ہے تو یہ بہت سا پھل لاتا ہے ۔ ہمیں بدن یا جسم کے مطابق زندگی گزارنے سے مرنا ہے۔ اور اِس کی خواہشوں سے انکار کرنا ہے۔ پرانی عادتوں اور تجربے کے مطابق زندگی گزارنے سے انکار کرنا ہے۔ کیونکہ اِن سے روحانی ترقی رکتی ہے۔ جسمانی کاموں کو مرنا ہے تاکہ ہماری اندرونی زندگی پھلدار ہو۔

عادل: ندیم بھائی،ہمیں درحقیقت جسم کی قید سے آزاد ہونا ہے اورراہنمائی کیلئے خُدا کے روح کو اجازت دینی ہے ۔ اِس سے ہماری زندگیوںکو خُدا کے منصوبے کے مطابق چلنے میں مدد مِلتی ہے۔

ندیم: بالکل صحیح۔ ہم میں سے ہر ایک کے لئے خُدا کے پاس ایک منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ پرانے انسان کی موت اور نئے انسان کی ترقی سے پورا ہوتا ہے۔

نائیلہ: اِس سے پہلے کہ ہم آگے چلیں۔ کیا میں ایک سوال پوچھ سکتی ہوں؟

ندیم: نائیلہ بہن کیوں نہیں؟

نائیلہ: پرانا انسان کون ہے اور نیا انسان کون ہے۔ صحت مند زندگی کو پرانی زندگی کومارنے کے لئے کیا کرنا پڑتا ہے۔

ندیم: یہ بہت ضروری سوال ہے۔ جب تک ہمیں معلوم نہ ہو کہ پرانے انسان کے کاموں اور خیالوں اور نئے انسان کے کاموں اور خیالوں میںکیا فرق ہے۔ ہم صحت مند زندگی نہیں گزار سکتے اور نہ ہی اپنے آپ کو خدا کی مرضی کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔آئیے نائیلہ بہن کے سوال کا جواب دیں۔پرانا انسان کون ہے اور نیا انسان کون؟

زیدی: بائبل مقدس پرانے انسان کو گناہ کا انسان کہتی ہے۔ وہ اپنے آپ میں بہت ہی مگن ہوتا ہے۔ جب وہ دُعا مانگتا اور عبادت کرتا ہے تو وہ دوسروں سے تعریف حاصل کرنے کے لئے۔اپنی دعائوں کو لمبا کر دیتا ہے یقینی طور پر یہ انسان خُدا کو خوش نہیں کر سکتا۔ نہ ہی اُس کی قدرت کا تجربہ کر سکتا اور نہ ہی اُس کے ساتھ صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ اُسے ہمیشہ گناہ کے ہاتھوںشکست ہو تی ہے۔

ند یم: زیدی بھائی،بالکل درست(Pause)اور نیا انسان کون ہے؟

زیدی: ندیم بھائی،کیا میں جاری رکھ سکتا ہوں؟

ندیم: کیوں نہیں۔

زیدی: نیا انسان خُدا سے پیدا ہونے والا انسان ہوتا ہے۔ جو توبہ کے ذریعے حاصل ہو تا ہے۔خُدا سے نیا جنم پا کر نیا انسان جسم کی خواہشوں کے مطابق نہیں جیتا بلکہ وہ خُدا کی عقل کے مطابق اور روحِ پاک کی رہنمائی کے مطابق جیتا ہے ۔ وہ روحِ پاک کے سبق نمبر32 صفحہ نمبر4

تابع ہو جاتا ہے اور جسم کی خواہشوں اور جسم کے تابع ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔

ندیم: نائیلہ بہن،کیا آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہے۔

نائیلہ: جی ہاں!اِس کا مطلب ہے۔عیسیٰ مسیح کو قبول کرنے سے پہلے ہم سب میں پرانا انسان زندہ تھا اور جونہی ہم نے خُداوند پر بھروسہ کیا نیا انسان ہمارے اندر پیدا ہو گیا۔

ندیم: یہ بات ہے، نئے انسان کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لئے ہمیں اپنی خواہشوں سے مزاحمت کرنی ہے اور اگر ہمارے پرانے بدن ہمیں خدا سے دور لے جاتے ہیں تو اُن کی مخالفت کرنی ہے ۔ہمیں روحِ پاک کی رہنمائی کے مطابق جینا چاہیے۔ اِس طرح سے ہم فتح مند زندگی گزاریں گے۔ یہ نہیں ہو گاکہ ایک دِن فتح مندی ہو اور دوسرے دِن شکست ۔ بلکہ ہم ہمیشہ فتح مند ہوں گے۔

اکبر: میں آج سے روح کی قیادت میں زندگی گزاروں گا اور ہمیشہ فتح سے لطف اُٹھائوں گا۔

پروین: لیکن اکبر، میں آپ کو بتاتی ہوں کہ یہ اتنا آسان نہیں ۔ اِس میںکُچھ کوشش کی ضرورت ہے۔ بائبل مقدس ہمیںبتاتی ہے کہ ہر شخص کے اندر جدوجہد ہوتی ہے۔

اکبر: جدوجہد۔ کون جدوجہد کرے گا؟

پروین: جِسم اور روح کے درمیان جدوجہد ہوتی ہے۔ بائبل مقدس بتاتی ہے ،کیونکہ روح جسم کے خلاف اور جسم روح کے خلاف خواہش کرتا ہے۔ اور یہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔ تاکہ جو تم چاہتے ہو وہ نہ کر سکو ۔پس بدن اور روح کی خواہشوں کے درمیان ایک کھینچا تانی ہے ۔ جان اِن دونوں یعنی روح اور جسم کے درمیان کھڑی رہتی ہے۔

ناصر: یہ توہم جانتے ہیں کہ جسم اور روح کیا ہیں۔ لیکن جان کیا ہے؟

شمیم: ناصر،جان ، عقل ، جذبات اور رضا ہے۔

پروین: جیسے ہی بدن روح کے خلاف جدوجہد کرتا ہے تو دونوںمیں ایک چیزعمل پیرا ہوتی ہے ۔ جان روح کے خلاف جسم کا ساتھ دیتی ہے اور اِس کو ہم جسمانی انسان کہتے ہیں۔ اِس آدمی کی قیادت، جذبات ، خیالات اور رضا کرتے ہیں۔ اور یوں روح ہم میں رنجیدہ ہوجاتی اورگناہ ہم پر غالب آجاتا ہے۔ دوسری چیز جو عمل پیرا ہو تی ہے یہ ہے، کہ جان جسم کے خلاف روح کا ساتھ دیتی ہے اور اِسے ہم روحانی آدمی کہتے ہیں۔ یہ آدمی روح کے کنٹرول اور قیاد ت کے نیچے ہوتا ہے ۔ روح عیسیٰ مسیح کی فرمانبرداری میں قیادت کرتی ہے اور اُس کے تابع ہوجاتی ہے۔ اور یہ آدمی بالکل ایسے ہو جاتا ہے جیسا اُسے خُدا چاہتا ہے۔

ندیم: اور پروین، جسمانی آدمی وہی کچھ کرتا ہے جو اُس کی خواہش ہوتی ہے۔ جب کہ روحانی آدمی خُدا کے روح کی رہنمائی میں چلتا ہے اور اپنی خواہش کو پورا کرتا ہے۔ ہم جسم اور روح دونوں کی ایک ہی وقت میں مرضی کے مطابق نہیں چل سکتے۔ایک وقت میں سبق نمبر32 صفحہ نمبر5

صرف ایک کی مرضی کے مطابق چل سکتے ہیں۔

شمیم: اِس لئے ہمیں اپنے آپ کو روحِ پاک کے تابع ہونے کی تربیت دینا ہو گی اور اُس کی مرضی پوری کرنا ہو گی ۔ اِسطرح میرے سب احساس، خیالات اور مرضی روح پاک کے کنٹرول میں ہو گی۔

زیدی: بائبل مقدس ہمیں چندشخصوں کے بارے میں بتاتی ہے جِن کی جانوںنے روح کے خلاف بدن کا ساتھ دیا اور اُنہیں شکست ہوئی۔ اور وہ سب کچھ کھو بیٹھے۔بائبل مقدس ہمیں اُن کے بارے میں بھی بتاتی ہے جِن کی جانوں نے روح کا ساتھ دیا اور اُنہوںنے صحت مند زندگی کا لطف اُٹھایا۔

اکبر: زیدی۔ کیا آپ ہمیںکوئی مثال دیں گے۔

زیدی: جی ہاں، کیوں نہیں۔جس طرح حضرت ابراہم اور حضرت لوط نے علحیدہ ہونے کا فصیلہ کیا۔حضرت ابراہم نے حضرت لوط سے اُس جگہ کو چُننے کو کہا جِسے وہ چاہتا تھا ۔ حضرت لوط نے جسم کے مطابق فصیلہ کیا۔ اُنہوں نے آنکھیں اُٹھائیں اور ایک جگہ چُن لی جو خوبصورت دِکھائی دیتی تھی۔ اُنہوں نے وہ چُنا جو اُن کی آنکھوں نے دیکھا مگر اپنی زندگی کے لئے خُدا کے مقصد کو رد کر دیا۔ اُنہوں نے شریروں کے درمیان رہنا پسند کیا۔ اِس کے برعکس حضرت ابراہم روحِ پاک کی رہنمائی میں چلے۔وہ جانتے تھے کہ اُن کی زندگی کے لئے خُدا کے پاس ایک منصوبہ ہے۔وہ چاہتے تھے کہ خُدا اچھا حصہ اُن کے لئے چُنے ۔ اُنہوں نے خُدا کی مرضی کو جانا اور اپنے خیمے اُس علاقے کی طرف لے گئے جو خُدا نے انہیںدِکھایا۔ اپنی پسند کے نتیجہ کے طور پر وہ شہر جِسے حضرت لوط نے چُنا مکمل طور پر جلا دیا گیا۔ کیونکہ اُس میں شریرلوگ رہتے تھے۔مگر حضرت ابراہم ہر چیز میں عظیم بن گئے اور خُد ا نے اُن کے ساتھ وعدہ کیا ۔ اُن کی نسل زمین کو بھر دے گی ۔ خُدانے اُن کا نام بھی بدل دیا۔ ابرام سے ابرہام بنا دیا۔ جِس کا مطلب ہے ، بہت بڑی بھیڑ کا باپ یا قوموںکا باپ۔

ندیم: پس جب ہم اپنی زندگیاں روحِ پاک کے کنٹرول اور تابعداری میں دے دیتے ہیں تو ہم فتح سے ہم کنار ہو جاتے ہیں لیکن جونہی ہم جسم کے مطابق چلنا شروع کر دیتے ہیں،ہم سب کچھ گنوا دیتے ہیں۔

اکبر: اِس کا مطلب ہے کہ یہ اِس قدر آسان نہیں جتنا میں سمجھتا ہوں۔ میں حیران ہوں۔ آیا میں یہ سب کُچھ کر سکتا ہوں۔یا نہیں۔

ندیم: اکبر سُنو۔ انسان خود اکیلا اِس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی خواہشات پر قابو نہیں پا سکتا۔ اِسی وجہ سے اُسے روحِ پاک کی مدد کی ضرورت ہے۔ روحِ پاک خُد ا کی طرف سے اُس کی رہنمائی کر تا ہے۔ روحِ پاک بیرونی کھال کو توڑ دیتاہے ۔ زندگی کو اُس میں سے نکلنے کی اجازت دے دیتا ہے۔ وہ فتح مند زندگی جو پھل دیتی ہے۔ لیکن روحِ پاک کو یہ سب کُچھ کرنے کے لئے ہمیں مسلسل اُس کے تابع ہونے کی ضرورت ہے ۔ یہ فتح مند زندگی کا راز ہے۔اور تمام باتوںمیں خواہ بڑی ہوں خواہ چھوٹی۔ روحِ پاک کی سبق نمبر32 صفحہ نمبر6

قیادت کی تابعداری ضروری ہے۔

پروین: کیا میں وضاحت کر سکتی ہوں کہ چھوٹی یا بڑی باتوں کے کیا معنی ہیں؟

ندیم: جی پروین۔

پروین: فرض کریں ۔ آدھی رات کے بعد تین بجے میں اپنی کار چلا رہی ہوں اور میرے سامنے سُرخ بتی ہے ۔ کوئی ٹریفک پولیس کا سپاہی آس پاس نہیں۔ اِس لئے میں چونکہ مُجھے کوئی دیکھ نہیں رہا سرخ بتی سے آگے گزر جانے کا خیال کرتی ہوں ۔ لیکن روحِ پاک چاہتا ہے کہ میںٹر یفک کی سرخ بتی پر رک جائوں۔ اور اِس چھوٹی بات پر روحِ پاک کی تابعداری کروں۔ وہ مُجھ سے چاہتا ہے کہ

خُدا کی راہوں پر چلوں۔

نائیلہ: پروین باجی،اِس سے آپ کا کیا مطلب ہے؟

ندیم: نائیلہ بہن، میں آپ کو بتا سکتا ہوں ۔ خُدا اپنے مقاصد کے مطابق ہمیں ڈھالتا ہے ۔ وہ ہمیں تبدیل کرنے کے لئے تمام ممکن ذریعے استعمال کرتا ہے۔اپنے منصوبے کے مطابق چلنے کی تربیت دینے کے لئے وہ ہماری زندگی کے حالات کو استعمال کرتا ہے ۔

ہماری راہوںکے مطابق نہیں جیسا ہمارا بدن چاہتا ہے۔

ناصر: ہمیں ڈھالنے کے لئے خُداوند کون سے طریقے استعمال کرتا ہے۔

ندیم: وہ تمام طریقے اور تمام حالات استعمال کرتا ہے ۔ ہمارے والدین ، کام ، مطالعہ وغیرہ۔ وہ شاید اُن خاص حالات میں سے جنہیں ہم نہیں چاہتے ہمیں گزرنے کی اجازت بھی دیتا ہے۔ لیکن اُس کا مقصدہمیںڈھالنا اور تربیت دینا ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو اُس کے حوالے کر نے اور تابع ہونے سے انکار کر تے ہیں،تو ہم اُس کے سارے منصوبوں اور ہماری زندگیوں کے لئے سارے نشانوں کو گنواہ دیتے ہیں۔ اُس کے ڈھالنے کے طریقوں کی تابعداری کرنے سے ہم خُدا کے ساتھ فتح مندی حاصل کرتے ہیں کیونکہ ہم اُسکی فرمانبرداری کرتے اور مسلسل اپنے آپ کو اُس کے حوالے کرتے ہیں۔

زیدی: جب میں نے اُس کے تابع ہونا سیکھا۔میں اپنی زندگی کے ایک بہت ہی اہم دور سے گزرا۔ یہی وجہ ہے خُداوند نے مُجھے فتح مندی بخشی۔ندیم بھائی جانتے ہیں کہ میں کیا بات کر رہاہوں ۔

ندیم: آپ کا مطلب ہے، وہ دور جب آپ فوج میں تھے ۔

زیدی: جی ہاں۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے فوج میں شامل ہونے کے لئے درخواست دی ۔ صرف میری درخواست قبول ہوئی۔ اِس کا مطلب تھا کہ مُجھے فوج میں اپنی زندگی کا ایک لمبا عرصہ گزارنا ہے۔ یہ میرے لئے مشکل تھا لیکن میںنے روحِ پاک کے تابع ہونا سیکھ لیا تھا اور میں تابع ہوا۔ میں نے خُدا کا شکر کرنا شروع کیا ۔ لیکن میں اندر گہرائی میںخُدا کے مقصد کو نہ سمجھتا تھا کہ اِس سبق نمبر32 صفحہ نمبر7

بات میں اُسکی مرضی کیا تھی۔ دِن گزر گئے اور ابھی بھی میں خُدا کے مقصد کوسمجھ نہ پایا ۔

شمیم: پھر کیا ہوا؟

زیدی: اُس عرصے کے دوران میںنے خُدا کے رحم اور نگہداشت کا تجربہ کیا ۔ جو پہلے کبھی نہ کیا تھا ۔ اپنے ساتھ میں نے تمام حالات میں اُس کی حضوری کو محسوس کرنا شروع کیا ۔ خاص طور پر بُرے حالات میں میرا دِل خُدا کے سامنے پہلے سے کہیں زیادہ کھل گیا ۔ میںنے اُس راہ کو قبول کر لیا جِس میں وہ مُجھے ڈھال رہا تھا ۔ میں نے فوجی زندگی کو اِس کی سختی کے باوجود پیار کرنا شروع کر دیا ۔ میں جانتا تھا کہ اگر میں بھاگ گیا تو یہ میرا اُن باتوں سے انکار ہوگا۔ جو خُدا میری زندگی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ میں اپنے لئے اُس کے منصوبے کو رد کر دوں گا۔ میں اپنی ساری زندگی کے لئے خُدا کا قرضدار ہوجائوں گا۔ کیونکہ یہ وہ دور تھا جس میں میں نے اُس کے ساتھ فتح مند زندگی گزارنا سیکھ لیاتھا۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔میں ان ساری باتوں کیلئے خدا کا شکر کر تا ہوں جو آج ہم نے سکھی ہیں۔یاد رکھیں،خدا کے ساتھ ہماری

تابعدار ی ہماری قوت کا راز ہے۔ خُدا کے کلام کو تھامے رہنا ہمیںتابعداری میں مدد دیتا ہے۔ عیسیٰ مسیح نے کہا وہ باتیں جو میں تم سے کہتا ہوں روح بھی ہیں اور زندگی بھی۔ پس خُدا کا کلام ہمیں زندگی دیتا ہے۔ اب آئیے !آج کے سبق کا خلاصہ بیان کریں۔ پہلی بات ،فتح میں رہنے کے لئے ہمیں خود کو روحِ پاک کی قیادت کے حوالہ کرنا چاہیے۔ دوسری بات ،اپنی زندگیوں میں اُن طریقوں کو قبول کرناچاہئے، جِن سے وہ ہمیں ڈھالتا ہے۔ اور تیسری بات ،ہمیںاُس کے کلام کو تھامے رہنا چاہئے۔ آئیں دُعا کریںکہ خُدا ہمیں یہ سب کُچھ کرنا سِکھائے۔

نائیلہ: خُداوند میں تیرے نام کو جلال دیتی ہوں اُن ساری باتوں کے لئے جو تُو نے آج مُجھے سِکھائیں ۔ میں تیری منت کرتی ہوں مُجھے روحِ پاک کی تابعداری کر نا سکھا۔عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔

اکبر: خداوند میری مدد کر کہ میں بدن کی تابعداری نہ کروں۔ نہ ہی جسمانی خواہشوں یا خیالوںکی۔ بلکہ فتح میں تیرے ساتھ رہنے کے لئے تیری راہنمائی میں چلوں۔عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔

تمام: آمین۔

پروین: خُداوند مُجھے سِکھا کہ کِس طرح تیرے کلام کو تھامے رہنا ہے ۔ کیونکہ اِس میں میرے لئے زندگی ہے ۔عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔

ندیم: کیا کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے؟

سبق نمبر32 صفحہ نمبر8

عادل: جی ہاں۔(Pause)شمیم اور میں نے اُس کمرے کو ترتیب دینا شروع کیا ہے جو ہمیںمِلا تھا ۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اور ضرورت کی چیزیں درکار ہیں،مگر ہمارا بجٹ محدود ہے۔کیا کریں؟

ندیم: آئیں ہم عادل اور شمیم کے لئے اوراُن کی سب مالی ضروریات کے لئے دُعا کریں۔ زیدی بھائی،آپ دعا میں راہنمائی کریں۔

زیدی: خُداوند ہم تیرے شکر گزار ہیں تو ساری ضرورتیں پوری کرتا ہے ۔ خُداوند ہم عادل اور شمیم کے لئے اور اُن کے گھر کے لئے دُعا کرتے ہیں جو تُو نے مہیا کیا۔ ہم دُعا کرتے ہیں کہ تُو اُن کی سب دوسری ضرورتوں کو بھی پورا کر جو اُنہیں درکار ہیں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔

تمام: آمین۔

ندیم: میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری اگلی کلیسیائی عبادت اگلے ہفتے ہمارے گھر میں اِسی وقت ہو گی۔خداوند آپ سب کو برکت دے۔

تمام: آمین۔