Hear Fellowship With My Family Episode 33 (Audio MP3)

View FWMF episode 33 as a PDF file

سبق نمبر33 صفحہ نمبر1

"رفاقت نمبر"3

(Door Bell)

عادل: کون ہو سکتا ہے؟مجھے عبادت پر بھی جانا ہے۔خیر

﴿دروازہ کھولنے جاتا ہے﴾

عادل: ندیم بھائی،یہ کیا؟ پروین بہن خریت تو ہے؟کیا آج عبادت نہیں ہوگی؟

پروین: عبادت کیوں نہیں ہوگی،ضرور ہوگی ۔

ندیم: اندر تو آنے دو۔بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

عادل: آئیں آئیں۔سب تشریف لائیں۔﴿دروازہ بند﴾

تمام: عادل آپ کا کیا حال ہے،ہیلو عادل ،کیا حال ہے،آپ کیسے ہیں۔

عادل: میں ٹھیک ہوں۔شکریہ۔

شمیم: عادل،ہم نے آج آپ کے گھر عبادت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

عادل: ویلکم۔ لیکن آپ کو بتانا چاہیے تھا تا کہ میں کچھ کھانے پینے کا بندوبست کر لیتا۔

زیدی: ہم سب کچھ ساتھ لے کر آئے ہیں۔

پروین: آپ کی چہتی منگیتر نے ہمیں بتایا تھا کہ آج آپ کی سالگرہ ہے۔

ندیم: لہذا ہم نے سوچا کہ آپ کی سالگرہ اکٹھے مناتے ہیں۔

عادل: میں آپ کا کیسے شکریہ ادا کروں۔

نائیلہ: ہم بتاتے ہیں ۔

شمیم: کیک پر موم بتیاں لگائو اور کاٹو۔ ﴿موم بتیاں جلانے کی آواز +ہیپی برتھ ڈے ٹو یو+تالیاں﴾

ندیم: آئیے عادل کے لئے دُعا کریں۔ خُداوند ہم اپنے بھائی عادل کے لئے تیرا شکر کرتے ہیں اور اِس لئے بھی کہ وہ ہمارے درمیان ہے۔ خُداوند میں اُس کی پچھلے سال کی زندگی کے لئے تیرا شکر کرتا ہوں کیونکہ یقیناََ پچھلے سال کے دوران تُو نے اپنی نعمتوں سے اُسے لطف اندوز ہونے کا موقع دیا۔ خُداوند ہم دُعا کرتے ہیں کہ جیسے ہی وہ اپنی زندگی کا نیا سال شروع کرتا ہے تُو ہر برکت سے اُسے نواز دے ۔اور ایسا کر کہ وہ تیری رفاقت سے لطف اندوزہو۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔

سبق نمبر33 صفحہ نمبر2

ندیم: اگر آپ کی اجازت ہو تو کیک ہم عبادت کے بعد کھائیں گے۔ آج ہر کوئی اپنی بات بتائے گا اور پھر ہم ہر ایک کیلئے دُعا کریں گے۔

شمیم: اچھا خیال ہے،رفاقت رکھنا مجھے بہت پسند ہے۔ لیکن مُجھے یاد ہے۔پچھلی دونوں مرتبہ جب ہم نے اکٹھے رفاقت کی تھی، ہم پارک میں گئے تھے۔اِس بار ہم نے وہان پروگرام کیوں نہیں رکھا؟

ندیم: آپ کو پتہ ہے ہم ہمیشہ پاک روح کی رہنمائی میں چلتے ہیں۔آج عادل ستائش میں ہماری رہنمائی کریں گے۔ عادل! مہربانی کر کے شروع کریں۔

عادل: آئیں ہم سب یہ گیت گاتے ہوئے خداوند کی ستا یش کریں۔’’آسمان کے تلے زمین کے اوپر ۔۔۔‘‘ناصر آپ ہارمونیم بجائیں اور اکبر بھائی طبلہ بجائیں گے۔اور ہم سب گائیں گے۔

تمام: ﴿گیت:آسمان کے تلے زمین کے اوپر۔۔۔۔۔۔۔﴾

ندیم: آئیں،اب سب ہم حصہ داری میں شریک ہوں ۔

اکبر: ندیم بھائی، ہم سب کیوںحصہ داری میں شریک ہو رہے ہیں ۔ کیا ہمارے لئے کوئی نئی بات سیکھنے کے لئے نہیں۔

ندیم: اکبر کیوں نہیں۔ جونئی بات ہم سیکھیںگے وہ یہ ہے کہ ہم کِس طرح اپنے دِل ایک دوسرے کے لئے کھولیں۔ اور کِس طر ح اپنے مسائل ایک دوسرے کو بتائیں ۔انجیل ِ پاک میں لکھا ہے، ایک دوسرے کا بوجھ اُٹھائو اور اِس طرح مسیح کی شریعت کو پورا کرو۔ اگر ہم اِن الفاظ کو سمجھ لیں۔تو مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں۔

عادل: میں کہنا چاہتا ہوں کہ حصہ داری بہت اہم ہے۔ مُجھے یاد ہے تقریباََ ایک مہینہ پہلے میں اپنے ایک مسئلہ کے بارے میں ،بہت پریشان تھا ۔ میں زیدی بھائی کے پاس گیا اور اپنا مسئلہ اُنہیں بتایا۔۔ اُنہوںنے مُجھے اُمید دلائی اور کئی بار میرے ساتھ دُعا کی۔ مجھے بہت حوصلہ مِلااور ایک ہفتے کے اندر میرا مسئلہ حل ہو گیا ۔تب میں نے محسوس کیا کہ کلیسیا،یعنی ایک بدن ہونے کا کیا مطلب ہے۔اس کا مطلب ہے کہ سب ممبران ایک دوسرے کا احساس کرتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

زیدی: خُدا کی حمد ہو۔ پچھلے دس سال میں جب بھی مجھے اور ندیم بھائی کو کوئی مسئلہ پیش آیا۔ ہم نے ایک دوسرے سے رائے لی ہے اور اکٹھے دُعا کی ہے۔

ندیم: اِسی لئے میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال بہت ضروری ہے ۔ کون شروع کرے گا۔

نائیلہ: میں شروع کروں گی ۔

ندیم: جی نائیلہ بہن۔

سبق نمبر33 صفحہ نمبر3

نائیلہ: میں بتانا چاہتی ہوںکہ اُسی وقت سے جب سے میں نے سُنا۔ کہ ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں میں انجیل کی منادی کرنی چاہیے۔ میںنے اپنے اندر خُدا کے جوش کو محسوس کیا۔ میں نے خُدا سے دُعا کرنی شروع کی کہ مُجھے اُس شخص کے پاس لے جا، جِس سے میں بات کر سکوں۔ خُداوند فوراً مجھے میری پڑوسن فوزیہ کے پاس لے گیا،کیونکہ فوزیہ کا شوہر کام کے سلسلے میں ملک سے باہر ہوتا ہے۔اس لئے وہ بہت تنہائی محسوس کررہی تھی۔

شمیم: نائیلہ آپ نے فوزیہ کی کس طرح مدد کی۔

نائیلہ: شمیم میں نے اُسے خدا کی محبت کے بارے میں بتانا شروع کیا۔لیکن میں جب بھی اُس کے گھر جاتی،محسوس کرتی کہ چونکہ پروین باجی اور شمیم کا زیادہ تجربہ ہے۔اس لئے مجھے اُنہیں ساتھ لے کر آنا چاہئے۔

ندیم: نائیلہ بہن، خدا خود لوگوں سے بولتا ہے نہ کہ ہم۔ ہم تو محض برتن ہیں جنہیں وہ خوشخبری کے ساتھ لوگوں کے پاس بھیجتا ہے۔ یہ کوئی پیچیدہ بات نہیں،ہمیں خُدا کی رہنمائی پر انحصار کرنا چاہئے۔کِسی سے بات کرتے وقت آپ کو بھروسہ کرنا چاہیے کہ خُدا ہے جو کلام کر رہا ہے۔ اور دلوں کو چھُو رہا ہے۔

زیدی: میری اور آپ کی طرح کے بہت سے کمزور لوگوں کو بھی خُدا استعمال کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم حضرت پطرس کو دیکھتے ہیں جنہوں نے ایک وعظ میں تین ہزار سے زیادہ لوگوں کوعیسیٰ مسیح کے لئے جیتا۔ بنیادی طور پر حضرت پطرس ایک ماہی گیر تھے۔اُن کے پاس بہت ہی کم تعلیم تھی۔ لیکن خُدا نے اُنہیں ایک عظیم طریقے سے استعمال کیا۔

شمیم: اِس کا انحصار اِس بات پر بھی نہیں کہ میں کتنا زیادہ بول سکتی ہوں۔خدا ایک دو باتوں میں ہی کسی شخص کی ضرورت کو پورا کر سکتا ہے۔

پروین: شمیم جو آپ کہتی ہیں میں اُس کی کہانی سے تو ثیق کرتی ہوں۔ایک مناد عیسیٰ مسیح کے بارے میں کسی شخص سے گفتگو کرنے کیلئے گیا۔جب وہ دعا کررہاتھا اُس نے محسوس کیا کہ خداوند اُس سے کہہ رہے ہیں۔جائو اور اور اُس شخص کو بتائو کہ میں اُس سے پیار کرتا ہوں۔اس کے علاوہ کچھ نہیں کہنا۔مناد حیران ہو گیا اور اپنے آپ سے کہنے لگا،میں اِس شخص کی حالت کو جانتا ہوں اور میں تو اُسے بہت کچھ کہنے کیلئے آیا ہوں۔لیکن اُس نے محسوس کیا کہ خدا نے اُسے فرق پیغا،م دیا ہے۔پس اُس نے اُس آدمی کو بتایا خداوند آپ سے پیار کرتے ہیں۔ مناد غیر یقینی کیفیت کے ساتھ واپس آگیا۔اُس نے محسوس کیا اُس کی باتوں کا اُس گہنگار انسان پر اثر نہیں ہوا ہوگا۔

اکبر: پروین آنٹی، پھر کیا ہوا؟

پروین: اگلے دن وہ گہنگار شخص روتا ہوا مناد کے پاس آیا۔اور کہنے لگا میری ساری زندگی میں کسی بات کا اتنا اثر نہیں ہوا جتنا آپ کی اِس بات کا ہوا ہے کہ خداتمیں پیار کرتا ہے۔میں اپنے سارے کئے ہوئے گناہوں پر افسوس کرتا ہوں۔آئیں اور مجھے عیسیٰ مسیح کے سبق نمبر33 صفحہ نمبر4

بارے میں بتائیں۔مجھے عیسیٰ مسیح کے بارے میں سننے اور جاننے کی ضرورت یے۔وہ آدمی حقیقی طور پر عیسیٰ مسیح پر ایمان لا چھا تھا۔

ندیم: بالکل پروین، نائیلہ،کیا آپ دیکھتی ہیں محض ایک چھوٹی سی بات نے اُس آدمی کو چھوا۔

نائیلہ: ندیم بھائی،کیا خُدا مُجھے قدرت سے استعمال کر سکتا ہے؟

ندیم: کیوں نہیں۔ جب تک آپ کی نگاہیں اُس پر لگی ہیں وہ آپ کو قدرت سے استعمال کرسکتا ہے۔

ناصر: آنٹی نائیلہ،ایک وقت تھا جب میں بھی نہیں جانتا تھا کہ اپنے دوستوں کو کیا بتائوں یا کیسے بتائوں۔ اور میںاپنے آ پ کو بہت حقیر محسوس کرتا تھا۔ جب کلیسیائکو میں نے یہ بات بتائی۔ انہوںنے میری حوصلہ افزائی کی اور مُجھے بتایا کہ خُدا ہے جو میرے دوستوں کی زندگی میں کام کر ے گا ۔نہ کہ میں ۔جب میں نے حقیقی طور پر خدا پر بھروسہ کیا اُس نے قدرت کے ساتھ مُجھے استعمال کرنا شروع کیا اور میرا پہلا پھل اکبر تھا۔

اکبر: میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے ناصر بھائی کو کبھی حقیر نہ سمجھا تھا۔ جب وہ مُجھ سے گفتگو کررہے ہوتے تھے سچ مچ میرے دِل پر اثرہوتا تھا۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔خُدا نے ہم سب کو بولنے اور اُس کے بارے گواہی دینے کی قوت دی ہے۔ نائیلہ،مت گبھرائیں! اور اپنی پڑوسن سے گفتگو جاری رکھیں ۔ مُجھے یقین ہے کہ چند دِنوں یا ہفتوں کے بعد ہم خوشخبری سُنیںگے اور آپ کی پڑوسن کو اپنی کلیسیائ میںدیکھیں گے۔

نائیلہ: آمین۔

ندیم: آئیے۔ ہم نائیلہ کے لئے دُعا کریں۔ پروین آپ نائیلہ کے لئے دُعاکر یں۔

پروین: خُداوند میں تیری تعظیم کرتی ہوں اپنی بہن نائیلہ کے لئے جسے تُو استعمال کر رہا ہے۔ خداوند جیسے ہی وہ اپنی پڑوسن سے بات کرے وہ فضل ا ور اختیار سے بھر جائے۔ ہم اُس کی پڑوسن فوزیہ کے لئے بھی دُعا کرتے ہیں تُو اُس کا دِل اپنے لئے کھول دے۔عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔

ندیم: اب کون کچھ کہے گا۔

عادل: میں کہونگا۔

ندیم: جی عادل۔

سبق نمبر33 صفحہ نمبر5

عادل: آپ سب جانتے ہیں کہ شمیم اورمیں شادی کی تیاری کر رہے ہیں اور جیسا میںنے پہلے کہا کہ اپنے کمرے کو تیار کرنے کے لئے۔ ہمیں بہت پیسوں کی ضرورت ہے۔میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ خُداوند نہایت عظیم ہے۔ اور رقم کا بندوبست ہو گیا ہے ۔

تمام: خُداوند کی تعریف ہو ۔خدا کا شکر ۔ اُس کے نام کو جلال ملے۔

اکبر: عادل۔ رقم کا بندوبست کیسے ہوا۔

عادل: جب ہم نے کچھ عر صہ پہلے کلیسیا میں اپنی ضرورت کے معتلق بتایا۔ہمیں یقین تھا کہ خداوند جلد مہیا کریگا۔تین دن پہلے صبح سویرے زیدی بھائی اور نائیلہ بہن میرے گھر آئے اور پیسوں کا ایک لفافہ مجھے دے کر کہنے لگے کہ خداوند کی طرف سے ہمیں قائلیت ہوئی ہے۔اُسی دن میں ندیم بھائی کو ملنے اُن کے گھر گیا۔پروین بہن نے پیسوں کا ایک لفافہ میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا،ندیم اور میں نے محسوس کیا ہے کہ آپ کو اِن پیسوں کی ضرورت ہے۔خداوند کا شکر ہو۔

اکبر: عادل دونوں نے ایک ہی دن میں آپ کو رقم دی؟

عادل: جی ہاں۔یہ میری زندگی کا سب سے خوشی کا دِن تھا۔ اگلے دِن مُجھے معلوم ہوا کہ ہوٹل مینیجرنے مُجھے آئیدہ ماہ کے لئے عارضی ملازم رکھ لیا ہے۔ یقیناََ یہ ایک اورمالی مدد تھی۔

ندیم: اِس کا مطلب ہے کہ ساری رقم کا بندوبست ہو گیا ہے۔

عادل: ہم 80فیصد کہہ سکتے ہیں اور مُجھے یقین ہے کہ خُدا باقی رقم بھی مہیا کرے گا۔

ندیم: آمین۔

شمیم: میںخُدا کا شکر کرتی ہوںاِس سارے انتظام کیلئے۔ہم بہت فکر مند تھے۔لیکن جب سے ہم نے خُداوند پر اپنا بوجھ ڈالنا سِکھاہے۔ ہم بڑی راحت محسوس کرتے ہیں۔ میں خوش ہوں خداوند ہماری ضرورتیں پوری کر رہا ہے۔

ندیم: کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے؟

اکبر: ندیم انکل،میں کہنا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی اکبر۔

اکبر: ہر بار جب میں یہاں عبادت کیلئے میں آتا ہوں اور عبادت میں اور دُعا میں حصہ لیتا ہوں، میں بہت خوشی محسوس کرتا ہوں۔ لیکن جونہی میں گھر جاتا ہوں ۔ میں بہت پریشان ہو جاتا ہوں۔آپ سب جانتے ہیں کہ میرے والدین ایماندار نہیں اور ایسے گھر میں رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے جہاں والدین ایماندار نہ ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ کیا کروں۔

ندیم: اکبر ، دیکھو ۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ خُدا نے آپ کو اِس گھر میں اپنے والدین کیلئے ایک برکت کا منبع ہونے کے لئے رکھا ہے۔ تا سبق نمبر33 صفحہ نمبر6

کہ وہ آپ کے وسیلے سے خُداوند عیسیٰ مسیح کو جانیں اور اُن پر ایمان لائیں ۔

زیدی: ندیم ! جو آپ کہتے ہیں میں اُس سے اتفاق کرتا ہوں ۔ اکبر ! میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ بہت سے لوگوں کو آپ جیسے حالات کا سامنا ہے۔ وہ ایماندار ہیں اور اُن کے والدین خُداوند عیسیٰ مسیح کو نہیں جانتے ۔ مگر اُن کے وسیلے اُن کے والدین اور خاندان بہت برکت پاتے ہیں۔

اکبر: میں نے ہر حربہ استعمال کر کے دیکھ لیا ہے۔مگر وہ میری سنتے ہی نہیں۔

پروین: اکبر،اُن کے لئے دُعا کرنا شروع کریں۔خداپربھروسہ رکھیں وہ بند دروازوں کو کھول سکتا ہے۔

اکبر: میںکئی بار ایسا کر کے دیکھ چکا ہوں۔مگر کوئی نیتجہ نہیں نکلا اب میں نے چھوڑ دیاہے۔

شمیم: یہی تو شیطان چاہتا ہے کہآپ کریں۔اکبر، ایک بات بتائو۔ جب کِسان زمین میںبیج بوتا ہے۔ تو کیا اگلے دِن ہی اُسے پھل مل جاتا ہے؟

اکبر: جی نہیں۔

شمیم: آپ کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے۔ بیج بکھیرئو اور پھل کے لئے انتطار کرو۔ جلدی مت کرو۔

ندیم: شمیم بالکل درست،اکبر آپ کو ایمان کی آنکھوں سے اپنے والدین کو دیکھنا ہے۔

ناصر: اے خداوند،ہمارا بھائی اکبر اپنے گھرانے کیلئے نور بن جائے۔ ہم تجھ پربھروسہ کرتے ہیں کہ ایک دِن ہم اُنہیں اپنے ساتھ کلیسیائ میں دیکھیں گے۔ سارا جلال تجھے مِلے۔

تمام: آمین۔

ندیم: کوئی اور کچھ کہنا چاہتاہے۔

زیدی: میں کہناچاہتاہوں۔

ندیم: جی زیدی بھائی۔

زیدی: نائیلہ اور میں اِس ہفتے ڈاکٹر سے مِلنے گئے اور ہم بہت حیران ہو ئے ۔

تمام: کیا؟ کیا مطلب؟کیا ہوا؟

زیدی: وہ خواب جِس کا ہم دس سال سے انتظار کرتے رہے ہیں ۔ پورا ہو گیاہے۔

تمام: سچ مچ۔ یقین نہیں آتا۔ خُدا کی تعریف ہو۔ خداوند کے نام کو جلال ملے۔

پروین: زیدی بھائی مبارک ہو۔ نائیلہ مبارک ہو۔

سبق نمبر33 صفحہ نمبر7

ندیم: سچ مچ، ہمارا خُداوند نا ممکنات کا خُدا ہے۔

زیدی: اور ندیم بھائی،۔ میں نے موقعے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ڈاکٹر کو بتایا کہ خُد ا کے ہاں کوئی بات ناممکن نہیں اور جو اُس پر ایمان لاتا ہے ۔ مایوس نہیں ہو تا۔ ڈاکٹر نے جواب دیا کہ اب میںکبھی کِسی کونہیں کہوں گا کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔

ندیم: آئیے۔ اِس عجیب معجزے کے لئے خُد ا کا شکر کریں۔

شمیم: خُداوند میں تیری تعظیم کرتی ہوں کیونکہ تُو بھلا خُدا ہے ۔ میں تیرا شکر کرتی ہوں کیونکہ تُو ناممکنات کا خُدا ہے۔ اورتُو نے زیدی بھائی اور نائیلہ کو اپنی عظمت دِکھائی ۔ میں تیرا شکر کرتی ہوں ۔ سارا جلال تجھے مِلے۔

تمام: آمین۔

ندیم: آپ سب نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔اب میری باری ہے۔

عادل: ٹھیک ہے۔ہم سب آُ کی بات سننے کو تیار ہیں۔

ندیم: عادل شکریہ۔میں بتانا چاہتا ہوں۔کل ااپ کے ساتھ میری ملاقات تھی۔لیکن جسم درد سے ہماری ملاقات نہ ہوسکی۔آپ سب میرے لئے دعا کریں کہ خدا درد کے احساس کو ختم کرے۔

زیدی: آمین۔آئیے ندیم بھائی کیلئے ایمان کے ساتھ دعا کریں۔یہ بہت ضروری ہے کہ جب دعا کریں تو ایمان رکھیں کہ خدا شفا دے سکتا ہے۔

عادل: خداوند تیرا شکر ہو۔کیونکہ تُو ہمارا شافی ہے۔ہم ندیم بھائی کے جسم میں درد کیلئے دعا کرتے ہیں۔عیسیٰ مسیح کے نام میں شفا بخش۔

تمام: آمین۔

نائیلہ: خداوند بائبل مقدس بتاتی ہے۔ہم نے اُس کے مار کھانے سے شفا پائی۔اِس کا مطلب ہے کہ جو کوڑے تُو نے کھائے۔اُنہوں نے ہماری بیماریاں اٹھا لیں۔اِس لئے ہم اپنے بھائی کی ساری درد کو عیسیٰ مسیح میں چھپا دیتے ہیں۔خداوند اپنا ہاتھ بڑھا اور خداوند عیسیٰ مسیح کے نام میں شفا دے۔

تمام: آمین۔

ندیم: آمین۔جب آپ دعا کررہے تھے۔میں نے محسوس کیا کہ میرا درد ختم ہو رہا ہے۔خداوند کی تعریف ہو۔اپس کے نام کو جلال ملے۔

تمام: آمین۔

ندیم: یاد رکھیں،ہماری اگلی عبادت اِس وقت ہمارے گھر پر ہوگی۔اور ہم حضرت پولوس رسول کے گلیتوں کے نام خط کا مطالعہ کریں گے۔فرداً فرداً سب پرھ کر آئیے گا۔خداوند آپ کو برکت دے۔

تمام: آمین۔