Hear Fellowship With My Family Episode 34 (Audio MP3)

View FWMF episode 34 as a PDF file

سبق نمبر34 صفحہ نمبر1

"گلتیوں کی کلیسیائ کے نام خط"

﴿دروازہ کھلتے ہوئے ﴾

پروین: ہیلو،سب کو سلام

تمام: پروین بہن سلام،کیا حال ہے،کیسی ہیں آپ۔

پروین: شکریہ ،مہربانی

ندیم: پروین،کیا بات ہے،دیر کیوں ہوگئی۔

پروین: ندیم۔ میں نے بتایا تھانا کہ کام ختم کرنے کے بعد میں نگہت سے مِلونگی۔

ندیم: نگہت کے ساتھ ملاقات کیسی رہی۔

پروین: خُدا کی تعریف ہو۔ خُدا نگہت کے دِل میںکام کر رہا ہے۔ وہ خُدا کے لئے زندگی گزارنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور مُجھے یقین ہے کہ وہ جلد ہی کلیسیائ میںہمارے ساتھ شامل ہو گی۔

ندیم: خُداوند کی تعریف ہو۔ پروین،بس اُس کا خیال رکھو۔

زیدی: میں بھی اِس خِدمت کے لئے خدا کا شکر کرتا ہوں۔ جو ہم نے اپنے کلیسیائ کے ممبران کے لئے شروع کی ہے ۔بھیڑوں کی دیکھ بھال کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ یہ پہلی بار آپ نے لوگوں کے ساتھ مشاورت کرنے اور خُداوند کے ساتھ چلنے میں اُن کی حوصلہ افزائی کرنے کی بات کی تھی۔ میں نے محسوس کیاکہ یہ بڑی ذمہ داری ہے۔ خُداوند میرے ہاتھ میں ایک بچے کو سونپ رہا ہے اور مُجھے اِس ذمہ داری کو سنجیدگی سے نبھانا چاہیے۔

ندیم: زیدی بھائی، آپ درست فرماتے ہیں۔ خُداوند نے اپنی کلیسیائ ہمارے ہاتھ میں دی ہے اور ہمیں محنت سے کام کرنا چاہیے۔ نہ صرف لوگوں سے مِلنا اور اُن کی مشاورت کرنا بلکہ ہمیں اُن کے لئے دُعا بھی کرنی چاہیے ۔ خُداوند کے حُکم پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایک نسل پیدا کرنے کے لئے مشاورت بہت اہم ہے۔ اِسی لئے ہم ایک دوسرے کی سُننے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔ زیدی بھائی! اکبرکے ہاں آپ کا جانا کیسا تھا۔

زیدی: بہت اچھا۔ اکبر اور میں ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔

ندیم: اُس کے گھر کے حالات کیسے ہیں۔

زیدی: میں اُس کی حوصلہ افزائی کر رہاہوں کہ وہ اپنے گھر والوں کیلئے دعا کیا کرے۔ میں اُس کی ماں اور باپ سے اِس ہفتے میں مِلا تھا۔ اور ہم نے کُچھ وقت اکٹھے گزارا۔

سبق نمبر34 صفحہ نمبر2

ندیم: اور ناصر کے بارے میں کیا خبر ہے۔

زیدی: یقیناََ ۔ آپ نے دیکھ لیا ہے کہ اِن دِنوں ناصر ذہنی طور پر بہت مصروف ہے کیونکہ یہ کالج میں اُس کا آخری سال ہے۔

(Pause) ندیم بھائی،آپ بتائیں،آپ کی عادل سے ملاقات کیسی رہی۔

ندیم: زیدی بھائی، کل میں عادل سے مِلا۔ وہ اپنا نیا فلیٹ تیار کرنے میں مصروف تھا۔ وہ شمیم کے ساتھ شادی کرنے کیلئے بہت پُر جوش ہے اور میں محسوس کرتا ہے کہ خُداوند ایک جوڑے کے طور پر انہیں استعمال کرے گا۔ (Pause)اوہ،وقت کتنی تیزی سے گزر گیا ہے۔ہم نے بھائیوں کے بارے میں کافی بات چیت کی ہے۔کل ہماری کلیسیائی عبادت ہے۔زیدی بھائی،آپ ستائش میں راہنمائی کریں گے۔

زیدی: ٹھیک ہے ندیم بھائی۔(Music)

ندیم: آئیں ہم اپنی کلیسیائی عبادت شروع کریں۔زیدی بھائی،ستائش میں ہماری راہنمائی کریں۔

زیدی: ٹھیک ہے،آئیے خُدائے قادرِ مطلق کے آگے اپنے سر جھکا ئیں جو ہمارے درمیان موجود ہے۔ساری عزت اور جلال اُسی کو دیں۔

شمیم: خُداوند کوئی بھی تیری مانند نہیں ہے ۔ تُو عجیب ہے اور اپنے سارے کاموں میںعظیم ہے۔

عادل: خداوند تُو واحد بادشاہ ہے جو ساری عظمت اور عزت کے لائق ہے۔

زیدی: خُداوند تُو اپنے سارے کاموں اور اپنی ساری تخلیق میں عظیم ہے۔

تمام: آمین۔

زیدی: آئیں ہم سب مل کر وہ گیت گائیں۔’’تو ہے عظیم کتنا عظیم‘‘

تمام: ﴿گیت:تو ہے عظیم کتنا عظیم﴾

ندیم: آمین۔ خُداوند کی تعریف ہو ۔پچھلے ہفتے ہم نے پولوس رسول کے گلتیوں کے نام خط کا مطالعہ کرنے پر اتفاق کیا تھا ۔ اُمید ہے آپ سب اِسے پڑھ کر آئے ہونگے۔

تمام: نہیں۔ میں پڑھ کر آیا ہوں ۔ میں نہیں ﴿اِس طرح کے مختلف فقرے﴾مجھے وقت نہیں ملا۔میں نے تیاری کی ہے۔

ندیم: بہت خوب۔ میں بہت خوش ہوں جب ہم کِسی بات کی ذمہ داری لیتے ہیں۔اُسے پورا کرتے ہیں۔

پروین: ندیم ہمیں شیطان کو موقع نہیں دینا چاہیے کہ ہمیں بائبل مقدس کے مطالعے سے باز رکھے ۔

سبق نمبر34 صفحہ نمبر3

ندیم: جی ہاں پروین، شیطان بائبل مقدس پڑھنے سے ہماری توجہ ہٹانا چاہتا ہے کیونکہ خُدا کو جاننے اور اُس کے قریب آنے کایہ آسان ترین طریقہ ہے۔

نائیلہ: میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ جتنا کام مجھے پچھلے ہفتے ملا اتنا کبھی نہیں ملا ۔ میری والدہ بھی بیمار ہو گئیں لیکن میںنے محسوس کیا کہ اِس خط کو پڑھنے سے روکنے کے لئے یہ شیطان کی طرف سے ایک حملہ ہے۔ اور میں نے اُسے شکست دے دی۔

ندیم: خُداوند کی تعریف ہو ۔ آئیں ہم اِس خط پر غور کریں۔کون شروع کرے گا۔

شمیم: میں شروع کروں گی۔

ندیم: جی شمیم۔

شمیم: پولوس رسول نے یہ خط گلتیوں کو لِکھا ۔ اور یہ زیادہ تر اُس آزادی کے بارے میں ہے جو عیسیٰ مسیح نے ہمیں دی ۔ آخری دو ابواب میں حضرت پولوس رسول اہلِ گلتیا کے ایمانداروں کو عملی زندگی کے بارے میںلکھتے ہیں۔ جو مسیح کی خوشخبری کے مطابق ہے۔ وہ اُن کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ ایک دوسرے سے خالص محبت کریں۔ خط دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ پہلے حصے میں تعلیم ہے جو چوتھے باب تک جاتی ہے اور آخری دو ابواب میں عملی حصہ ہے۔

ندیم: شمیم، اِس عجیب تعارف کے لئے شکریہ۔ آئیے آج عملی حصے کو دیکھتے ہیں۔ کیونکہ تعلیم والے حصہ پر بہت وقت لگتا ہے۔ اور ہمیںکِسی اور دِن اِس کے مطالعہ کی ضرورت ہوگی۔ لیکن آئیے آخری دو ابواب یعنی عملی حصہ پر توجہ مرکوز کریں، اور دیکھیں ہم اُن سے کیا سبق سیکھتے ہیں۔ کون شروع کرے گا۔

زیدی: میں شروع کرونگا۔

ندیم: جی زیدی بھائی۔

زیدی: میں پانچویں باب سے کُچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ عادل کیا آپ مہربانی کر کے پانچویں باب کی 13تا15آیت پڑھ دیں گے؟

عادل: کیوں نہیں۔﴿صفحوں کی آواز﴾’’ بھائیو ! تم آزاد ہونے کے لئے بُلائے گئے لیکن اِس آزادی کو اپنی نفسانی خواہشات کے لئے استعمال نہ کرو۔ بلکہ محبت سے ایک دوسرے کی خدمت کرتے رہو۔کیونکہ ساری شریعت کا خلاصہ اس ایک حکم میں پایا جاتا ہے کہ تُو اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔اگر تُم ایک دوسرے کو کاٹتے پھاڑتے اور کھاتے ہو تو خبردار رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دوسرے کو ختم کرڈالو۔‘‘

زیدی: شکریہ عادل ۔ اِس بات نے میری توجہ اپنی طرف کھینچی ہے۔ ’’ محبت کی راہ سے ایک دوسرے کی خِدمت کرو۔‘‘ اِس حصے کو پڑھتے ہوئے میں نے محسو س کیا کہ خدا ہمیشہ ہمیں محبت کے لئے پکارتا ہے ۔کیونکہ محبت اکثر مسائل کا حل ہے اور یہ وہ راہ ہے جو ہمیں خدا سبق نمبر34 صفحہ نمبر4

کے گہرے علم کی طرف لے جاتی ہے۔ یہ آیت بالکل عیسیٰ مسیح کے حکم کی طرح پوری شریعت کا خلاصہ چند الفاظ میں بیان کرتی ہے۔ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔ لیکن یہ بہت عجیب بات ہے کہ پولوس رسول گلتیوں سے جو ایماندار ہیں، محبت کی بات کر رہے ہیں۔ پھر مُجھے خیال آیا کہ بعض ایمانداروںمیں کتنی نفرت اور حسد پایا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ محبت اُن کے درمیان سے غائب ہو گئی ہوتی ہے ۔

ندیم: جی زیدی بھائی،میں کہنا چاہتا ہوںکہ انسان سچی محبت کا کبھی بہانہ نہیں کر سکتا ۔ پاک روحِ ہے جو ہمارے دِلوں میں محبت ڈالتا ہے ۔ایک آیت ہے جو کہتی ہے،کیونکہ روحِ پاک کے وسیلے سے خُدا کی محبت ہمارے دِلوںمیں ڈالی گئی ہے۔پس ہم اپنے دِلوںکو اِس محبت سے بھرنے کے لئے خدا کے روح کو اجازت نہین دیتے۔ پھر خود غرضی اور نفرت ہماری زندگیوں کو آلودہ کر دیتی ہے۔مگر جس طرح زیدی بھائی نے کہا۔ وہ محبت جو ِ پاک روح دیتا ہے مضبوط ترین محبت ہوتی ہے کیونکہ یہ خُدا کی طرف سے ہوتی ہے۔ اور یہ روح کے پھلوں میں سب سے اہم ہے۔ اب کون کچھ کہے گا؟

عادل: میں کہوںگا۔

ندیم: جی عادل۔

عادل: آیت نمبر16سے26میں۔ حضرت پولوس رسول بدن کے کاموں اور روح کے کاموںکا مقابلہ کرتے ہیں ۔ وہ اُس شخص کا مقابلہ جو بدن کے قابو میں ہے پاک روحِ کی رہنمائی میں چلنے والے انسان سے کرتے ہیں۔ میںچاہتاہوں ہم روح کے پھلوں پر گفتگو کریں۔

ندیم: کون روح کے پھلوں کو نام بنام بیان کرے گا۔

ناصر: ابو میں کروں گا۔

ندیم: ہاں ناصر۔

ناصر: روح کے پھل 9ہیں ۔محبت ، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی ، نیکی ایمانداری ،حِلم اور پرہیز گاری ۔

شمیم: ہم دیکھتے ہیںکہ وہ شخص جو پاک روحِ کی رہنمائی میں چلتا ہے اپنے اندرایک یا دو نہیں سب خواص رکھتا ہے۔ کیونکہ ایک خصوصیت دوسری کی طرف لے کر جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ شخص جو پاک روحِ کی رہنمائی میں چلتا ہے دوسروں کے لئے خدا کی محبت سے بھرا ہوتا ہے اور یہ بات اُسے شادمان، محبت کرنے والا اور رحمدل بنا دیتی ہے۔

ندیم: شمیم اِس عمدہ وضاحت کے لیے شکریہ۔ اور ان خصوصیات کو حاصل کرنے کے لیے واحد شر ط 25آیت میں لکھی ہے،"اگر ہم روح میں زندہ رہیں تو آئو ہم روح میں چلیں بھی"۔(Pause) جس طرح پھلوں کو اُگنے کے لئے ایک خاص طرح کی آب و سبق نمبر34 صفحہ نمبر5

ہوا کی ضرورت ہوتی ہے اِسی طرح روح کے پھل کی نشوونما کے لئے ہمیں روح میں چلنے کی ضرورت ہے۔

نائیلہ: ندیم بھائی،میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ صرف میں ہی نہیں جو روح کے پھل کامزہ لوں گی بلکہ وہ سب لوگ بھی جو میرے اردگرد ہیں اِس سے لطف اندوز ہوں گے۔ ہمارے اردگرد کے لوگوں کو محبت اور اطمینان کی ضرورت ہے۔ اپنی زندگیوںکومحبت سے بھرنے کے لئے اُنہیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اُن سے شفقت اور صبر سے پیش آئیں ۔ خداوند عیسیٰ مسیح کا مزاج اُن میں ہو۔

ندیم: بالکل صحیح ۔ پس اپنے دِل خُداوند کی طرف لگائیں اور اپنے آپ کو جانچیں کہ آیا ہم بدن کی رہنمائی میں چلتے ہیں یا خُدا کے روح کی رہنمائی میں۔ ہم میں سے کتنوںنے خُداوند کو اپنے دِل دئیے ہیں۔ اورِ پاک روح کو اجازت دی ہے کہ ہماری رہنمائی کرے ۔ آئیں دُعا کریں۔

پروین: خُداوند میں اقرار کرتی ہوں کہ بہت مرتبہ میں بدن کے تابع ہو کر چلتی ہوں لیکن آج میں تیرے پاس آتی ہوں ۔ تُجھ سے درخواست کرتی ہوں۔مجھے سکھا کہ روح کی رہنمائی میں کِس طرح چلا جاتا ہے۔ میری زندگی میں اِس کا پھل ظاہر کر۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔

اکبر: خُداوند بدن کے کاموں سے توبہ کرتا ہوں جومیری زندگی میں ہیں۔ خُداوند میںاقرار کرتا ہوں کہ میں غصے او ر حسد سے بھرا ہوں۔ مجھے سِکھا کہ کِس طرح اِس پر غالب آئوں۔عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔

ندیم: اب کون کچھ کہے گا؟

ناصر: ابو ، میں۔

ندیم: ہاں ناصر۔

ناصر: چھٹے باب کی پہلی آیت مُجھے بہت پسند آئی ہے ۔لکھا ہے۔"اے بھائیو! اگر کوئی آدمی کِسی قصور میں پکڑا بھی جائے تو تم جو روحانی ہو اُس کو حلم مزاجی سے بحال کرو اور اپنا بھی خیال رکھ کہیں تُو بھی آزمائش میں نہ پڑ جائے "۔یہاں عیسیٰ مسیح کے رسول حضرت پولوس ہمیں وضاحت سے بتاتے ہیں۔ کہ اگر ہم میں سے کوئی غلطی کرے تو ہمیں اُس کو سختی سے ملامت نہیں کرناہے بلکہ جِس طرح بائبل مقدس میں لِکھاہے حلم مزاجی سے اُس سے بات کرنی ہے۔ اِس آیت نے مجھے خُداوند عیسیٰ مسیح کی یاد دِلائی ۔جب لوگ ایک حرامکار عورت کو اُن کے پاس لائے تو خُداوند نے حلم مزاجی کی روح میں اور محبت سے اُس صورتحال کو نبھایا۔

سبق نمبر34 صفحہ نمبر6

شمیم: عیسیٰ مسیح کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو اِس طرح عدل کرتا جیسے شریعت کہتی ہے ۔ اُسے سنگسار کرواتا۔ لیکن عیسیٰ مسیح اُس سے پیار کرتے تھے۔ جِس طرح وہ ساری دنیا کے گنہگاروںسے پیار کرتے ہیں۔ پس اُنہوں نے اُسے سنگسارنہیں ہونے دیا بلکہ محبت اور حلم مزاجی سے اُس کے اندر کے گناہ کو مٹادیا۔

ندیم: بالکل صحیح ۔ ہمیں اِس طرح تربیت دینے کی ضروت ہے ۔ جِس طرح اِس آیت کے دوسرے حصے میں لِکھا ہے ، خیال رکھ کہیں تُو بھی آزمائش میں نہ پڑ جائے۔اِس کا مطلب ہے کہ شاید ہم بھی اُس گنہگار کی سی حالت میں نہ پڑ جائیں ۔

اکبر: جِس طرح آپ جانتے ہیں۔ زیدی بھائی میری بہت مدد کرتے ہیں اور میرے ساتھ بہت وقت گزارتے ہیں۔ اور میری مشاورت کرتے ہیں۔ مگر ایک دن میںنے امتحان میں نقل کی اور میرے ضمیر نے میری بڑی ملامت کی۔میں پریشان تھا کہ آیا میںزیدی بھائی کو بتائوں یا نہ بتائوں۔ میں جانتا تھا وہ مجھ پر خفاہو نگے۔

ناصر: تو کیا آپ نے اُنہیں بتایا ؟

اکبر: جب میں زیدی بھائی کے ساتھ بیٹھا تھا ، اُنہوں نے کہا کہ کوئی بات ہے جو آپ مُجھ سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے اُنہیں سب کُچھ بتا دیا ۔ میں حیران تھا کہ زیدی بھائی نے کِس دانائی سے اُس معاملے کو نپٹایا۔ اُنہوں نے مُجھے بتایا کہ کوئی بھی شخص ایسا کرنے کی آزمائش میں گِر سکتا ہے۔

ندیم: خُداوند تیرا شکر ہو ۔ بہت مرتبہ ہم دوسروں پر تنقید کرنے پر بہت توجہ دیتے ہیں۔ اُن کی غلطیاں بتاتے پھرتے ہیں۔ گناہ کے بارے اُنہیں وعظ دیتے ہیں۔ اور ہم بھول جاتے ہیں کہ ہم خود اِسی گناہ میں گر سکتے ہیں۔ اگر ہم اِس طرح گنہگاروں سے برتائو کریں گے اور اُن کے قصوروں پر عدالت لگائیں گے۔ یقین جانیں کوئی بھی عیسیٰ مسیح کے پا س نہیں آئے گا۔آئیں ہم سیکھیں کہ جب ہم کِسی بھائی سے ملتے ہیں جِس نے کوئی قصور کیا ہے یہاں تک کہ بہت بڑی غلطی کی ہے،تو ہمیںاِس صورتحال سے حلم مزاجی سے نپٹنا چاہیے۔ یاد رکھیں،اُسے ہم نے عیسیٰ مسیح کے لئے جتینا ہے۔

پروین: میں کُچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی پروین۔

پروین: دوسری آیت عجیب ہے۔یہ کہتی ہے ، ایک دوسرے کا بوجھ اُٹھائو ۔ ہمیں اپنی فکروں سے بڑھ کر دوسروں کی فکروں کا خیال رکھنا چاہئے۔یہ حقیقی کلیسیا ئی زندگی ہے۔

نائیلہ: بیشک میں کسی کا گناہ نہیں اُٹھا سکتی لیکن جو اُس کے گناہ اُٹھاتا ہے،اُس کی طرف اُس کا دھیان لگا سکتی ہوں۔

سبق نمبر34 صفحہ نمبر7

عادل: بھائیو بہنیو! میں آپ کے سامنے اقرر کرنا چاہتا ہوں ۔ میں اپنے ایک رفیق کار کے ساتھ اِس ہفتے سخت الفاظ میںبولا۔اُس نے ہوٹل سے رقم چرائی تھی۔ اگرچہ اُس نے اپنی غلطی تسلیم کی لیکن میںاُس کے ساتھ نرمی سے بات کرنے کی بجائے سختی سے بولا۔ مجھے اس بات کا بہت افسوس ہے۔دعا کریں کہ میرا یہ رویہ اُس کیلئے ٹھو کر کا باعث نہ ہو۔

زیدی: عادل بھائی،ہم سب گہنگار ہین۔اہم بات یہ ہے کہ ہم سب اپنی غلطیوں کو درست کریں۔

ندیم: آمین۔ اِس کے علاوہ کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے۔

اکبر: جی میں کہنا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی اکبر۔

اکبر: میں آپس میں بات چیت کرنے میں اتنا ماہر نہیں ہوں جتنے آپ ہیں۔ لیکن میں گلتیوں 6باب9اور10آیت کی تشریح کرنا چاہتا ہوں۔ "ہم نیکی کرنے سے بیزار نہ ہوں کیونکہ اگر مایوس نہیں ہوں گے تو عین وقت پر فصل کاٹیں گے۔چنانچہ جہاںتک موقع ملے ہم سب کے ساتھ نیکی کریں، خاص طور پر اہلِ ایمان کے ساتھ"۔(Pause)دوستو،ہم بعض اوقات کِسی کے سات نیکی کر کے افسردہ ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمیں کوئی نتیجہ نہیںمِلتا یا کوئی مثبت ردِعمل نظر نہیں آتا۔یہاں حضرت پولوس ہمیشہ نہ ہارنے کیلئے حوصلہ افزائی کرتے ہیں کیونکہ فصل کی کٹائی کا وقت مناسب موسم میں یقینی طور پر آئے گا۔

ندیم: شاباش اکبر۔ ہمارا ایک پڑوسی اِسی فلیٹ میں رہتا ہے جہان ہم رہ رہے ہیں۔میری یہ خواہش تھی کہ وہ عیسیٰ مسیح کو جانے ۔میںنے اُس کے قریب جانا اور اُسے مِلنا شرو ع کیا۔ اور جب کبھی اُسے ضرورت ہوتی میں اُس کی مدد بھی کرتا تھا ۔ایک دفعہ وہ ہپستال میں داخل ہوا۔میں کافی دفعہ اُسے ملنے گیا اور کچھ مالی مدد بھی کی۔ لیکن اُس کی طرف سے کوئی مثبت جواب نظر نہ آیا ۔میں نے سوچا کہ یہ سب بے سود ہے۔ ایک دِن خُداوند نے مُجھے یہی آیت یاد دِلائی جو ابھی آپ نے پڑھی۔ پس میںنے پھر اُس شخص کو توجہ دینی شروع کی اور بالآخر ایک سال بعد اُس نے میرے پاس آنا شروع کر دیا ۔مجھے کہنے لگا، مجھے عیسیٰ مسیح کے بارے میں بتائیں۔ اور آخر کار اُس نے خداوند عیسیٰ مسیح کواپنا نجات دہندہ مان لیا۔

تمام: خُداوند کی تعریف ہو۔ اُس کا شکر ہو۔سارا جلال عیسیٰ مسیح کو ملے۔

پروین: آمین،مُجھے وہ آیت بہت پسند ہے جو کہتی ہے ، جیسے ہی موقع مِلے سب کے ساتھ نیکی کرو ۔ اکثر یون ہوتا ہے ۔بہت سے لوگ نیکی کے بدلے نیکی کرتے ہیں اور بدی کے عوض بدی۔ لیکن بائبل مقدس ہمیں سِکھاتی ہے ، بدی کے عوض نیکی کرو۔سب کے ساتھ نیکی کرو۔ نہ صرف اُن کے ساتھ جو ہمارے ساتھ اچھے ہیں بلکہ سب کے ساتھ ۔

سبق نمبر34 صفحہ نمبر8

ندیم: جی ہاں۔ اور جب ہم سب کے ساتھ نیکی کریں گے تو پھر ہماری روشنی سب کے سامنے چمکے گی۔ اور وہ اُس خدا کی تعظیم کریں گے جو ہم میں رہتا ہے ۔ جِس طرح یہ آیت کہتی ہے۔تا کہ نیک کاموں کو دیکھیں اور تمہارے باپ کی جو آسمان پر ہے تعظیم کریں۔عیسیٰ مسیح کے بارے میں لوگوں کو بتانے کے لئے صرف ہمارے الفاظ ہی کافی نہیںہوتے بلکہ ہمارے کام زیادہ اہم ہوتے ہیں جو عیسیٰ مسیح کی گواہی دیتے ہیں۔

ناصر: سچی بات تو یہ ہے کہ کُچھ لوگ اِس بات کے مستحق نہیں ہوتے کہ آپ اُن سے بھلائی کریں کیونکہ آپ خواہ کُچھ بھی کریں سب کُچھ بے سود ہوتا ہے۔

شمیم: لیکن ناصر جو کچھ عیسیٰ مسیح نے ہمارے لئے کیا۔کیا ہم سچ مچ اُس کے مستحق ہیں؟

ناصر: نہیںآنٹی شمیم۔

شمیم: اتو اگر عیسیٰ مسیح ہمارا نمونہ ہیں ہمیں ویسا ہی کرنا ہے جیسا وہ کرتے ہیں۔عیسیٰ مسیح ہمیشہ ہمارے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔ ہمیںبھی ہر شخص کے ساتھ بھلائی کرنی چاہیے خواہ وہ مستحق ہوں یا نہ ۔

زیدی: اِس کے علاوہ جب ہم دوسروں سے بھلائی کر تے ہیں ہم نہ صر ف اُنہیں برکت دیتے ہیں۔ بلکہ ہم خود بھی برکت پاتے ہیں۔ وہ آیت یاد کریں جوکہتی ہے، "وہ جو تھوڑا بوتا ہے تھوڑا کاٹے گا اور جو زیادہ بوتا ہے زیادہ کاٹے گا"۔ یقیناََ خُدا کِسی کا قر ضدار نہیں بلکہ وہ ہمیشہ بھلائی سے نوازتا ہے۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ ہم نے آج بہت سے سبق سیکھے ہیں ۔ پہلا سبق ایک دوسرے سے محبت کرنا ہے اور ایک دوسرے کی خِدمت کرنا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ ہم روح میں چلیں تاکہ ہم اپنی زندگیوں میں روح کے پھل پیدا کریں۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ غلط ، اور رد کئے ہوئے لوگوںکے ساتھ حکمت اور حلم مزاجی سے چلیں۔ اور آخری سبق یہ ہے، سب کے ساتھ بلا امتیاز بھلائی کریں۔ یاد رکھیں خدا ہمارے اچھے کاموں اور کوششوں کا صلہ دے گا۔

شمیم: ندیم بھائی، ہم نے یہ بھی سیکھا کہ ہمیںایکدوسرے کا بوجھ اُٹھانا چاہیے ۔

ندیم: جی شمیم ۔ میں یہ نقطہ بھول گیا تھا ۔آئیں ہم خداوند کا شکر کرتے ہوئے آج کی عبادت ختم کریں ۔ میں آپ کو یاد دِلاتا ہوں کہ ہماری اگلی کلیسیائی عبادت اگلے ہفتے ہمارے گھر میںہی ہو گی۔ خداوند عیسیٰ مسیح آپ سب کو برکت دے۔

تمام: آمین۔