Hear Fellowship With My Family Episode 35 (Audio MP3)

View FWMF episode 35 as a PDF file

سبق نمبر35 صفحہ نمبر1

"ایمان"

(Music)

ناصر: ہیلو اکبر۔ رزلٹ کیسا رہا؟

اکبر: خُدا کا شکر ہے ۔ میںپاس ہو گیا ہوں۔آپ سنائیں۔آپ کا کیابنا۔

ناصر: خُدا کی تعریف ہو۔ میںبھی کامیاب ہو گیا ہوں۔ میںنے پڑھائی ختم کر لی ہے اور اب میں اپنی عملی زندگی شروع کر رہا ہوں۔

اکبر: ناصر،مجھے یقین نہیں آرہا کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا۔کیونکہ ہمیں تیاری کیلئے خاص وقت نہیں ملا تھا۔

ناصر: لیکن میرا بڑا ایمان تھا کہ خُداوند کامیاب ہونے میں میری مدد کرے گا۔

اکبر: ناصر ۔ میںتو خُدا کے وعدے کے باوجود بھی خوف میں رہا کہ کیا میں پاس ہو جائوں گا یا نہیں۔

ناصر: اکبر،یہ ایمان کا فائدہ ہے کہ خدا ہمیں اندرونی طور پر مطمن کر دیتا ہے۔وہ ہمیں اِس قابل بنا دیتا ہے کہ ہم اردگرد کے حالاات پر غور نہیں کرتے بلکہ اُس پر بھروسہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

اکبر: ناصر،میری خواہش ہے کہ ایمان کے متعلق سیکھوں۔

ناصر: ہم سب کو اِس کے بارے میں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ مےَں ابو سے بات کروں گا کہ کلیسیائی عبادت میں ہم ایمان کے مضمون پر بات چیت کریں۔

﴿موسیقی بجتی ہے﴾

شمیم: پروین ،! مُجھے مبارکباد دیں۔

پروین :شمیم مبارک ہو۔ مگر یہ تو بتائو،یہ کِس بات کی مبارک ہے۔

شمیم: باجی،آج خدانے باقی کی رقم کا بندوبست بھی کر دیا ہے۔

ندیم: پھر تو بھئی بہت بہت مبارک ہو۔

پروین: عادل،میں نے بتایا تھا نا کہ خدا مہیا کرے گا۔

عادل: جی باجی،میرا بھی یہ ایمان تھا۔

ندیم: جی ہاں!ایمان بند دروازے کھولتا ہے۔

شمیم: یہ سچ ہے ہمارا خُدا عظیم خدا ہے۔ جب میرے آفس والوں کو پتہ چلا کہ میری شادی ہو رہی ہے۔اُنہوں نے مجھے میرج بونس دے دیا جو میری ضرورت سے بھی زیادہ ہے۔

سبق نمبر35 صفحہ نمبر2

ندیم: خدا کی تعریف ہو۔ہمارا آج کا مضمون بھی ایمان ہے۔﴿دروازے کی گھٹی﴾

پروین: یہ ضرور ناصر ہو گا۔ ﴿دروازہ کھلتا ہے﴾

پروین: ہیلو ناصر۔ ہیلو اکبر۔ آپ کیسے ہیں۔

ناصر: امی خُدا کا شکر ہے ۔

اکبر: مہربانی آنٹی،آپ سب کیسے ہیں۔

تمام: خُدا کی تعریف ہو،خدا کا شکر ہو،ہم سب ٹھیک ہیں،آئیں بیٹھیں۔

اکبر: مہربانی

ندیم: آج ہم ایمان کے موضوع پر گفتگو کریں گے۔آئیے عبادت شروع کرتے ہیں۔شمیم ہماری راہنمائی کریں گی۔

شمیم: آج کام کے دوران بھی اِس آیت نے میرے ذہن پر قبضہ کیا ہوا تھا، "تُو قدوس کی طرح تخت نشین ہے ۔ تُو اپنے لوگوں کی ستائش ہے۔ اِس کا مطلب ہے ہمارا پاک خُدا ہماری حمدو ثنا پر تخت نشین ہو تا ہے۔ اس لئے آئیں،اپنے خداوند کی تمجید کرتے ہوئے یہ گیت گائیں۔’’آسمان کے تلے زمین کے اوپر۔‘‘

تمام: ﴿گیت:۔آسمان کے تلے زمین کے اوپر﴾

تمام: خُداوند تیرا شکر ہو۔ تو عظیم خداہے۔ تیری مانند کوئی نہیں۔ تیرا نام عظیم ہے۔تیرے کام عجیب ہیں۔

تمام: آمین۔

ندیم: خُدا کی حمد ہو۔ آج ہم سیکھیں گے ایمان کی زندگی کیسے جینا ہے۔ جب ہم ایمان کی زندگی جیتے ہیں ہمارے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں اور بہت سے بند دروازے کھل جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آج ہم خاص توجہ دیں۔آئیے! عبرانیوںکا خط نکالیں۔ باب11اور پہلی آیت۔ اکبر مہربانی کر کے اِس آیت کو پڑھ دیں۔

اکبر: ٹھیک ہے انکل۔ ﴿ورق اُلٹنے کی آواز﴾ " ایمان اُمید کی ہوئی چیزوں کا یقین اور نادیدہ اشیائ کی موجود گی کا ثبوت ہے "۔

ندیم: بہت شکریہ،یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت پولوس رسول ایمان کی دو تعریفیں کرتے ہیں۔پہلی،اُن چیزوں کا اعتماد جن کی ہمیں اُمید ہے۔اور دوسری،اَن دیکھی چیزوں کا ثبوت ۔اِن دو تعر یفیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے،کیا کوئی ایمان کے معانی بتائے گا۔

پروین: جی ہاں،ایمان دراصل یقین رکھناہے یعنی،جن چیزوں کی ہمیں اُمید ہے مل جائیں گی۔ اگرچہ بے شک ہمارے اردگرد کی ہر چیز اِس کے اُلٹ بات کہے۔

سبق نمبر35 صفحہ نمبر3

ندیم: بالکل پروین،ایمان خدا کے وعدوں پر بھروسہ کرنا ہے۔یقین کرنا ہے کہ جو کچھ ہم نے مانگا ہے،مل گیا ہے۔اِس باب میں ہمیں اُن عظیم کرداروں کے متعلق جو ایمان پر زندہ رہے، بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔

نائیلہ: ندیم بھائی،میں اُن مثالوں میں سے ایک کے بارے بتا سکتی ہوں۔

ندیم: جی نائیلہ بہن۔

نائیلہ: حضرت ابراہیم خدا کے دوست تھے۔ جب خُدانے اُن کے بڑھاپے میںاُن کے ساتھ ایک بیٹے کا وعدہ کیا تو ناممکنات کے باوجودحضرت ابراہیم خُدا پر ایمان لائے اور وعدے کے پورا ہونے کے لئے پچیس سال تک انتظار کیا اور آخر کار یہ وعدہ پورا ہوا۔ حضرت ابراہیم اَن دیکھی چیزوں پرایمان لائے اُن کے ارد گرد کے سب حالات بتاتے تھے کہ اُن کے بیٹا نہیںہو سکتا۔ لیکن حضرت ابراہیم خُدا پر ایمان لائے اور جب تک انہیںبیٹا نہ مِلا اُنہوں نے انتظار کیا ۔

ندیم: بالکل صحیح ۔ کیا کوئی اورکوئی اور مثال دینا چاہتا ہے۔

شمیم: جی میں دینا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی شمیم۔

شمیم: جب حضرت موسیٰ اور خُدا کے لوگ بحر قلزم کو عبور کر رہے تھے، یہی باب اُن کے بارے میں بتاتا ہے۔ ایمان ہی کے وسیلے سے وہ بحیرہ قلزم سے اِس طرح گزر گئے جیسے خشک زمین پر سے ۔ لیکن جب مصریوںنے عبور کرنا چاہا، تو ڈوب گئے۔ بنی اسرائیل کے سامنے سمندر تھا اور پیچھے فرعون کی فوج تھی۔ جہاں تک اُن کی نظر کام کرتی تھی وہاں بچنے کی اُمید کی کوئی اُمید نہ تھی۔ لیکن حضرت موسیٰ کا ایمان تھا کہ خُدا اُنہیں بچائے گا۔ اِسی لئے اُنہوں نے اپنے لوگوںسے اعتماد سے گفتگو کی اوراُنہیں بتایا کہ مت ڈرو ۔ مضبوطی سے کھڑے رہو اور آج اُس مخلصی کو دیکھوگے جو خُدا تمہارے لئے لائے گا۔ حضرت موسیٰ ایمان کے وسیلے خُدا کے کلام پر ایمان لائے ۔ اُنہوں نے اپنی لاٹھی کو پکڑا اور اِس کے ساتھ سمندر کو مارا اور سمندر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا اور خُدا کے سب لوگوں نے سمند ر کو عبور کر لیا۔

ندیم: آپ نے درست فرمایا، خواہ وہ حضرت ابراہیم تھے یا حضرت موسیٰ یا ایمان کے سورمائوں میں سے کوئی اور۔ اُن کا ایمان اُن چیزوں کے وقوع میں آنے سے پہلے تھا ۔ دوستو! ایمان ہماری زندگیوں میں خُدا سے ہمارے تعلق کے لئے بہت ضروری ہے۔ اِسی باب کی چھٹی آیت میں خُدا کے ساتھ ہمارے تعلق کی اہمیت کا ہمیں پتہ چلتا ہے۔ بغیر ایمان کے اُس کو پسند آنا ناممکن ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ خُدا ایسے عبادت گزاروں کو پیار کرتا ہے جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں ۔بہت سی کہانیاں ہیں جہاں ہم خُداوند

عیسیٰ مسیح کو اُن لوگوںکو داد دیتے ہوئے دیکھتے ہیں جو ایما ن رکھتے ہیں۔ اور اُنہیں جو ایمان نہیں لاتے تھے جھڑکتے ہوئے دیکھتے سبق نمبر35 صفحہ نمبر4

ہیں۔ خُداوند عیسیٰ مسیح نہیں چاہتے کہ جو اُن پر ایمان رکھتے ہیں اُن کا ایمان لوگوں سے پوشیدہ ہو۔

ناصر: یہی وجہ ہے۔جب کسی شخص نے عیسیٰ مسیح کے پاس آکر کہا،تیرے شاگرد میرے بیٹے میں سے بدروح نہیں نکال سکے۔ اُنہیں دُکھ پہنچاکیونکہ اُنہیں معلوم ہوا کہ شاگردوںمیں ایمان کی کمی ہے اور وہ بُری روح کو نہ نکال سکے، اُنہوں نے فرمایا،اے نہ ایمان رکھنے والی نسل ۔ میں کب تک تمہارے ساتھ رہوں گا۔ میں کب تک تمہاری برداشت کرونگا۔

شمیم: یہ کام اُس کے الٹ ہے جو اُنہوں نے جریانِ خون والی عورت سے کیا ۔ خُداوند عیسیٰ مسیح کے گرد بہت بڑی بھیڑ تھی۔اُنہوں نے شاگردوں سے کہا ، میری پوشاک کو کِس نے چھوا ۔ شاگردوں نے خُداوند کو بتایا ۔ خُداوند آپ کے گرد تو بہت سارے لوگ ہیں اور پھر بھی کہتے ہیں کہ مجھے کِس نے چھوا۔ یہ ایمان کا چھونا تھا ۔اُس عورت نے اپنی ساری دولت ڈاکٹروں پر خرچ کر دی تھی لیکن کوئی فائدہ نہ ہُوا تھا ۔ اُس نے ایمان پر انحصارکیاکہ عیسیٰ مسیح اُسے شفائ دیں گے۔ پس وہ آئی اور اُن کی پوشاک کا کنارہ چھوا ۔ خُداوند نے محسوس کیا کہ اِس عورت کا ایمان بڑا ہے ۔ یہی وجہ ہے خُداوند نے اُسے داد دی اور کہا، "بیٹی تیرے ایمان نے تجھے شفائ دی۔ سلامت چلی جا"۔ وہ عورت شفائ پاگئی کیونکہ وہ خُداوند پر ایمان لائی اور خُداوند نے اُس کے ایمان کی تعریف کی۔

ندیم: یہ سچ ہے۔جب ہمارا ایمان مضبوط ہوتا ہے۔خداوند اِسے پسند کرتے ہیں۔ خُداوند اِ س بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ سب جو اُن کے پاس آتے ہیں ، ایمان کے ساتھ آئیں۔ اور مانیں کہ خُداوند کچھ بھی کر سکتے ہیں اور اُن کے لیے کُچھ بھی مشکل نہیں ۔

زیدی: ندیم بھائی،کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں۔

ندیم: زیدی بھائی، کیوں نہیں۔

زیدی: اگر ہم اِس سے پہلے باب میں دیکھیں تو ہمیں ایک خوبصورت آیت مِلے گی۔"راستباز ایما ن سے جیتا رہے گا"۔وہ شخص جو خُداوندعیسیٰ مسیح کوجانتا ہے اُسے ساری زندگی ایمان میں گزارنی چاہیے۔اگر اُس کی ضروریات مالی ہوں تو وہ ایمان سے خُداوند کے پاس جائے اور بھروسہ رکھے کہ وہ اُس کی ضروریات پوری کریں گے۔ یااگر اُسے شفائ کی ضرورت ہے تو ایمان سے خُداوند سے دُعا مانگے اور بھروسہ رکھے کہ وہ اُسے شفائ دیں گے۔ یا اگر وہ دبائو میں ہے اور اُسے بہت فکریں ہیں وہ خُداوند کے پاس جائے اورایمان رکھے کہ خداوند اُسے آرام دیں گے۔ میرے دوستو! ایمان بند دروازے کھول دیتا ہے۔اور ہم خداوند سے بڑی بڑی نعمتوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔آپ کیوں ایمان کی قدر جانتے ہوئے بھی ایمان میں زندگی بسر نہیں کرتے۔

پروین: اِس لئے کہ ابلیس ہمیشہ شک کے ساتھ ہم پر حملہ آور ہوتاہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص بیمار ہے۔اور اُس کا یمان اِس بات پر ہے کہ خدا اُسے شفا دے گا۔مگر شیطان آکر اُس کے دل میں شک ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔تمہاری صحت اچھی نہیں ہو رہی۔ تم کبھی شفائ نہیںپائو گے۔ خُدا تم سے پیار نہیںکرتا وغیرہ وغیرہ۔یہ باتیںاُسے شک میں ڈال دیتی ہیں اور وہ خدا کے وعدوں پر سبق نمبر35 صفحہ نمبر5

ایمان رکھنے کی بجائے ان باتوں پر ایمان رکھنا شروع کر دیتا ہے۔

ندیم: شیطان کے اہم ترین ہتھیاروں میں سے ایک ہتھیار شک ہے۔جب شیطان ہمیں شک میں ڈالتا ہے،اُس کا مقصد خدا سے ہماری نظریں ہٹانا ہو تا ہے۔پس ہم خُدا کے کلام کو بھول جاتے ہیں۔اور ڈرنا گبھرانا شروع کر دیتے ہیں۔

عادل: ندیم بھائی،یہی کچھ حضرت پطرس کے ساتھ ہوا جب عیسیٰ مسیح نے اُنہیںپانی پر چلنے کوکہا۔ حضرت پطرس ایمان سے چلے لیکن شک کیا کہ وہ آگے جا سکیں گے یا نہیں ۔ اُنہوں نے اونچی اونچی لہروں کو دیکھا اور طوفانی سمند پر نگاہ کی اور ڈرگئے اور ڈوبنے لگے ۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ یہی لہریں اُنہیں اٹھائے ہوئے ہیں۔

ندیم: عادل، بالکل درست،شیطان حضرت پطرس کے دل میں شک ڈالنے میں کامیاب ہو گیا۔اور حضرت پطرس ڈوبنے لگے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے،ہمارے ارد گرد بہت طوفان اٹھ سکتے ہیں۔اگر رہمارا ایمان خدا پر ہے۔ہم شکست نہیں کھا سکتے ۔ہم ہمیشہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہیں گے۔

ندیم: کیا کوئی شخص کُچھ اور کہنا چاہتا ہے۔

اکبر: جی میںکہناچاہتا ہوں۔

ندیم: اکبر کہئے پلیز۔

اکبر: شیطان بہت دفعہ مُجھے شک سے شکست دیتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ میں اسے کِس طرح شکست دوں۔

زیدی: اکبر کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک بڑا درخت شروع میں کیا ہوتا ہے ؟

اکبر: ایک بیج ۔

زیدی: کیا بیج خود ہی اُگتا ہے یا کِسی کو اِسے پانی دینا پڑتا ہے۔ اوراِس کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے۔

اکبر: بیشک۔ کِسی کو اِس کی دیکھ بھال کرنا پڑتی ہے کیونکہ اگر اِسے اکیلا چھوڑ دیا جائے تو یہ مر جائے گا۔

زیدی: بالکل ۔ شک بھی ایک بیج ہے جو شیطان ہمارے اندر ڈالتا ہے ۔ کئی دِنوں تک یہ بڑھتا رہتا ہے ۔آخر کار یہ درخت بن جاتا ہے۔اِسے کون پانی دیتا ہے۔ہم ہیں جو اپنے خیالوں اور شکوک سے اِسے پانی دیتے ہیں ۔شیطان سے خلاصی پانے کے لئے ہمیں اسے جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا چاہیے ۔خدا پر اپنے اعتبار کا اعلان کر نا چاہئے۔

پروین: زیدی صاحب۔ ہمیں مسلسل بائبل مقدس پڑھنی چاہیے تا کہ جب کوئی بات ہماری راہ میں روکاوٹ ڈالے ہم اپنے اندر خدا کے وعدوں پر کھڑے ہو سکیں۔ مثال کے طور پر اگر میں بیمار ہوں اور شیطان میری شفائ کے بارے میں شک ڈال رہا ہے۔ تومُجھے بائبل مقدس کے وعدوں کا یقین کرنا چاہئے جیسے لکھا ہے ،"میں تیرا شافی خُداوند ہوں"، یا اُس کے مار کھانے سے ہم نے شفائ سبق نمبر35 صفحہ نمبر6

پائی"۔ اور اگر میں تھکی ہوئی اور بوجھ کے نیچے ہوں،تو کلام ِپاک فرماتا ہے ،"اے سب جو تھکے ماندے اور بوجھ سے دبے ہو میرے پاس آئو تو میں تمہیں آرام دونگا" ۔

ندیم: میںبڑی ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔ خداونداپنی ساری باتوںمیںسچے ہیں۔اُنہوں نے کہا "آسمان اور زمین ٹل جائیں گے مگرمیری باتیں نہیں ٹلیں گی"۔ یہی وجہ ہے ہمیں خُدا پر اور اُسکے وعدوں پر بھروسہ رکھ کر شک کے ساتھ لڑنا چاہئے۔

زیدی: ندیم بھائی۔ میں اِس بات پر بھی بھروسہ رکھتا ہوںکہ حقیقی سچائی اہم ترین باتوں میں سے ایک ہے جِن سے شیطان ہم پر حملہ کرتا ہے۔

ناصر: زیدی انکل۔ اصلی حقیقت سے آپ کی کیا مراد ہے۔

زیدی: اصل حقیقت وہ چیزیں ہیں جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ عملی باتیں ۔ مطلب وہ چیزیں جو حقیقی طو ر پر وقوع میں آتی ہیں۔ شیطان ناکامی او ر خوف سے ہمارے ذہنوں کو بھردیتا ہے اور اِسلئے وہ ہماری خوشی اور اطمینان جِن سے ہم لطف انداز رہتے

ہیں چھن لیتا ہے ۔ شیطان خُداوند عیسیٰ مسیح سے ہماری نگاہیں ہٹا کر ہم پر حملہ کرتا ہے۔ اور جو حقیقی طور پر ہو رہاہوتا ہے۔وہ ہمیں دِکھاتا ہے۔

شمیم: زیدی بھائی۔ ایک لکھاری نے کہا ۔" کوئی شخص اُس وقت تک نہیں ڈوب سکتا جب تک اُس کا سر پانی کے نیچے نہ ہو"۔ یہی ہے جو شیطان کرتا ہے۔ جب وہ چاہتا ہے کہ ہم ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو وہ ہمارے ذہنوں کو بُرے خیالوں ، خوف اور ناکامی سے بھر دیتا ہے۔

ندیم: 2کرنتھیوں 11باب 3آیت میں دماغ کے متعلق لکھاہے "لیکن مجھے خد شہ ہے کہ کہیں تمہارے خیالات بھی حوا کی طرح جسے شیطان نے مکاری سے بہکا دیا تھا،اُس خلوص اور عصمت سے جو مسیح کے لائق ہے،دور نہ ہوجائیں"۔شیطان ہمارے ذہنوں کو خراب کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اِس کی پاک دامنی جاتی رہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں ایک چھوٹا بچہ ہر بات کو جو اُس کا باپ کہتا ہے مان لیتا ہے۔

اکبر: کیونکہ بچے کا ذہن سادہ ہوتا ہے ۔

ندیم: بالکل ، بچہ اپنے ذہن سے ہر چیز کا اندازہ نہیں کرسکتا۔ بلکہ وہ چیزوں کو سادگی سے لیتا ہے۔ خُداوند چاہتے ہیں ہمارے ذہن سادہ ہوں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جو الفاظ وہ کہتے ہیں ہم سادگی سے قبول کریں اور اُن پر ایما ن لائیں ۔لیکن اُسی وقت شیطان چاہتا ہے کہ ہم اپنے ذہنوں سے اُس کا اندازہ لگائیں۔ پس ہمارے ذہنوں میں ایک قسم کا جھگڑا شروع ہو جاتا ہے اور مختلف رائے رکھنا شروع کردیتے ہیں ۔حضرت یعقوب رسول اپنے خط میں کہتے ہیں کہ وہ دو دلے آدمی سے اور جو کُچھ وہ کرتا ہے ناپائیدار ہوتا

سبق نمبر35 صفحہ نمبر7

ہے۔ آئیں ہم سیکھیں سادہ ذہین کیسے رکھنا ہے۔

عادل: لیکن حقیقت میں انسان کے لئے سادہ ذہن رکھنا مشکل ہوتا ہے ۔ مثال کے طو ر پر جب میں کِسی خاص مسئلے کے لئے خُداوند سے دُعا مانگتا ہوں ۔توقع کرتا ہوں کہ جِس طرح میں چاہتا ہوں او ر اُسی طرح وہ مسئلہ حل ہو جائے۔ اور جب ایسا نہیں ہو تا ہم ایمان میں ڈانواں ڈال ہو جاتے ہیں۔

پروین: مُجھے یاد ہے جب میری اور ندیم کی شادی ہونے والی تھی۔ہمارے پاس رقم نہ تھی کہ کرائے پر گھر لے سکیں۔ہم نے خدا سے دعا کی کہ کسی اچھے علاقے میں ہمیں اچھا سا گھر دے دے۔بے شک ذہنی طور پر یہ نا ممکن تھا مگر ہم نے خدا پر بھروسہ کیا۔

ندیم: اور چار ماہ سے زیادہ عرصہ نہ گزار تھا۔خدا نے ہمیں یہ خوبصورت گھر دے دیاجِس میں ہم اب رہ رہے ہیں۔ہوا یوں، میں اس عمارت کے پاس سے گزر رہا تھا اور میں نے ایک بورڈ دیکھا جِس پراِس خالی گھر کے بارے لِکھا تھا ۔ میں اِس کے پاس سے

گز رجانے والا تھا کیونکہ یہ بہت مہنگا تھا۔ لیکن خُدا نے مُجھ سے اور پروین سے کیا ہُوا وعدہ یاد دِلایا ۔ میں نے مالک سے بات کی۔ اور وہ تھوڑی رقم لینے پر راضی ہو گیا جومیرے پاس تھی ۔اور باقی رقم قسطوں میں ادا کر نے کو کہا،یہ وہ بات تھی جس نے مجھے اور پروین کو خدا پر بھروسہ کرنا سکھایا۔

زیدی: خُدا کی تعریف ہو۔ دراصل میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم خُدا پر ایمان لاتے ہیں ۔ ہماری نظریں اُس پر بھروسہ کرتی اور عمل کے لئے اُس کا انتظار کرتی ہیں۔ مگر شیطان ہم پر ہماری نگاہیں لگاتا ہے۔اور ہم انسانی تناظرمیں باتوں کو تولنا شروع کرتے ہیں ۔

ندیم: آئیں ہم خُداوند پر اپنی نگاہیں لگاناسیکں ۔کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے۔

نائیلہ: جی،میں کہنا چاہتی ہوں۔

نائیلہ: اُن وجوہات میں سے ایک وجہ جو ہمیں ایمان میں رہنے نہیں دیتیں یہ ہے کہ ہم ہمیشہ جلدی میں ہوتے ہیں اور انتظار کرنا نہیںچاہتے۔

ندیم: نائیلہ،آپ نے درست فرمایا۔

اکبر: انتظار سے آپ کا کیا مطلب ہے؟

ندیم: بہت مرتبہ خُدا ہم سے بڑے بڑے وعدے کرتا ہے لیکن ہم اُن وعدوںکے پورا ہونے کے لئے بڑی جلدی میںہوتے ہیں ۔ اگریہ وعدے ایک دو دِنوںمیں پورے نہیں ہوتے تو ہم اپنے ساتھ خُدا کے وعدوںکی پرواہ نہیںکرتے۔ خدا ہمیں سکھاناچاہتا ہے کہ خواہ کتنے دِن یا سال گزر جائیں ۔ ہمیں وعدے کے پورا ہونے کاا نتظار کرنا چاہیے۔

سبق نمبر35 صفحہ نمبر8

ناصر: کلامِ پاک میں لکھا ہے ، "وہ جو خُداوندکا انتظار کرتے ہیں ازسرِ نو مضبوط ہو نگے"۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہمارا انتظار وقت کا ضیائع نہیں ہے بلکہ ہماری قوت کا ازسرنو مضبوط ہونا ہوتا ہے۔

ندیم: بالکل ،خُدا کی تعریف ہو ۔ ہم خدا کا شکر کرتے ہیں ۔ آج ہمارے پاس دو خوشخبریاں ہیں ۔ پہلی خوشخبری شمیم بتائیں گی ۔

شمیم: میں خدا کا شکر کرتی ہوں کہ اُس نے عادل اور میرے لئے باقی رقم مہیا کر دی ہے ۔

تمام: خُدا کی تعریف ہو۔ شکر ہو۔خداوند کے نام کو جلال ملے۔

ندیم: اکبرآپ کے پاس کونسی خوشی کی خبر ہے۔

اکبر: خدا کا شکر ہو،ناصر اور میںا متحان میںپاس ہو گئے ہیں اور عملی زندگی شروع کر رہے ہیں ۔

تمام: مبارک ہو، خداوند بھلا ہے،اُس کا شکر ہو،اُس کے نام کو جلال ملے۔

پروین: اور اِسی خوشی میں عبادت کے بعد مٹھائی میں کھلائوں گی۔۔

تمام: واہ،پارٹی،مزہ آئے گا،شکریہ۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ میں آپ کو یاد دِلانا چاہتا ہوں کہ ہماری اگلی عبادت اگلے ہفتے ہمارے گھر میں اِسی وقت ہو گی۔خداوند آپ کو برکت دے۔

تمام: آمین۔