Hear Fellowship With My Family Episode 36 (Audio MP3)

View FWMF episode 36 as a PDF file

سبق نمبر36 صفحہ نمبر1

"برتلمائی"

(music)

ندیم: اے خدا!ہم تیرے نام کو سربلند کرتے اور سرفراز کرتے ہیں کیونکہ تُو ہمارا عجیب خُدا ہے ۔ خُداوند ہم اپنی میٹنگ کو تیرے ہاتھوں میں دیتے ہیں۔ اِسے برکت دے ۔ہم وہ کام کریں جِس کے لئے تُونے ہمیں مقرر کیاہے اور اُس طرح سے کریں جیسا تُوچاہتا ہے ۔عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔ آمین۔

پروین او رزیدی: آمین۔

ندیم: پاسبانی نگہداشت کی یہ ہماری چوتھی میٹنگ ہے۔ اِس سے پہلے کہ میں ہماری نگرانی میں آئے ہوئے بھائیوں کے بارے میں پوچھوں ۔ آئیے اِن مشکلوں کی قدوقیمت کا اندازہ لگائیں اور دیکھیں کہ آیا ہم اُس مقصد کو حاصل کر رہے ہیں ۔

زیدی: ندیم بھائی، میں محسوس کرتا ہوں کہ جب سے ہم نے اِن پاسبانی نگہبانی کی میٹنگز کو شروع کیاہے، جماعت ترقی کر رہی ہے۔ اور ہمارے بھائی جو ہمارے ساتھ ہیں ایک غیر معمولی روحانی سرفرازی کا تجربہ حاصل کر رہے ہیں۔

پروین: جہاں تک میرا تعلق ہے۔ اُس وقت سے جب سے میں نے نائیلہ اور شمیم کی نگہداشت شروع کی ہے ، میں محسوس کرتی ہوں کہ اُن کی روحانی زندگی ترقی پرہے اور اِس پاسبانی نگہداشت نے اُن کی زندگیوں کو سچ مچ فائدہ پہنچا یا ہے۔شمیم مُجھے بتا رہی تھیں کہ اُن کی روحانی ز ندگی خُدا کے ساتھ نشیب و فراز سے گزری لیکن اُس وقت سے جب سے میں نے اُن کے ساتھ بیٹھنا شروع کیا ہے۔اُنہیں بہت فائدہ ہوا ہے ۔کیونکہ انہیں ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو اُن کا ساتھ دے اور صحیح فیصلے کرنے میں اُن کی مدد کرے۔

زیدی: نہ صرف یہ بلکہ ناصر نے بھی مُجھے بتایا ۔ کہ اُسے ایسا دوست ملا ہے جس سے وہ بات کر سکتا ہے ۔

ندیم: لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو اقدام ہم نے اٹھانے ہیں بہت مفید ہیں۔

پروین: جی ۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ پاسبانی نگہداشت کلیسیائ میں بہت اہم ہے۔ ایک اچھا پاسبان وہ ہوتا ہے جو اپنی نگرانی میں چلنے والوں کو خُدا کے ساتھ اُن کے تعلق کو آگے بڑھاتا ہے ۔ پاسبانی نگہداشت کوئی عہدہ نہیں جِس سے کلیسیائ میں کوئی خوشی محسوس کرتا ہے بلکہ یہ ایک بڑی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ وہ ذمہ داری جو خُدا نے ہمیں کرنے کو دی ہے۔ اور ہمیں اِس کو اِس طرح کرنا ہے جیسے وہ چاہتا ہے ۔ ہمیں سستی نہیں کرنی چاہیے ۔ آئیے اب بھائیوں کی خبروںپر تبادلۂ خیال کریں۔زیدی! کیا آپ شروع کر یں گے ؟

سبق نمبر36 صفحہ نمبر2

زیدی: ناصر کے بارے میں جیسا میں نے آپ کو پہلے بتایا وہ اپنے کام میں اور شادی میںبہت مصروف تھا۔ میں نے اُس کی نگاہ خُدا کی طرف لگانا شروع کی۔ مجھے اُمید ہے وہ اِن خیالات کو اجازت نہیں دے گا کہ اُسے خُدا سے دور لے جائیں۔ اُسے اِن باتوں کو خُدا کے سامنے رکھنا ہے اور خُدا اُس کیلئے مناسب ملازمت اور لڑکی مہیا کرے گا۔

ندیم: اکبر کے بارے میں کیا خبر ہے۔

زیدی: جہاں تک اکبر کا تعلق ہے وہ اور میں،اُس کے گھر اور اُس کے والدین کے لئے دُعا کر رہے ہیں۔ اُس نے اُن میں تھوڑی سی تبدیلی محسوس کی ہے۔ اور آخری بار جب ہم نے ایمان کے بارے میں گفتگو کی۔ اس نے اُسے اِس قابل بنایا کہ اُن کی تبدیلی پر توجہ دے خواہ اِس کے لئے مہینے لگ جائیں۔

پروین: خُدا کی تعریف ہو۔ لیکن خُداکے ساتھ اُس کے تعلق کی کیا خبر ہے؟

زیدی: بیشک ۔ اُس کی بڑی فکر اُس کا گھر تھا۔ جس کیلئے کہ وہ خُدا کے ساتھ اپنا شخصی تعلق بھول گیالیکن میںنے اُس کے ساتھ خُدا کے ساتھ اُس کے تعلق کی اہمیت کے بارے میں بات کی اوربتایا کہ اُسے کِسی چیز کو اجازت نہیں دینی جو اُسے خُدا سے دور لے

جائے ۔ چار دِن پہلے اُس نے خاموشی میں باقاعدگی سے بائبل مقدس پڑھنااور دُعا کرنا شروع کر دی ہے۔ اور دوسری چیزیں بھی ہیں جِن کیلئے میں ابھی اُس کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔

پروین: کونسی چیزیں۔

ندیم: پروین ہمیں ہر چیز نہیں پوچھنی چاہیے ۔ بعض اوقات ہر شخص کی اپنی کوئی پرائیوٹ بات بھی ہوتی ہے۔ جو وہ صرف اپنے راہنما کے ساتھ کرتا ہے۔ اگر راہنما وہ بات حل نہ کر سکے تو پھر وہ مدد مانگ سکتا ہے۔پروین، شمیم کے بارے میں کیا خبر ہے۔

پروین: جہاں تک شمیم کی بات ہے،اُس کا مجھ سے تعلق بہن سے کہیں بڑھ کر ہے۔ خُدانے مجھے اُس کی نظر میں قابلِ عزت اور اہم دوست بنا دیا ہے۔ یقیناََ خدا جو اُس کے ساتھ کر رہا ہے وہ بہت خوش ہے

ندیم: خوب ۔ نائیلہ کے بارے کیا خیال ہے؟

پروین: مُجھے نائیلہ بہن کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت نہیں کہ خُدا کے ساتھ اپنے عجیب رشتے میں کیسی ہیں۔ اپنی نئی مُلازمت میں انہوں نے لوگوں کے ساتھ مسیح کے بارے میں گفتگو کرنا شروع کر دی ہے۔ اور وہ اِس سے خوش ہیں۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ میں سچ مچ محسوس کرتا ہوں کہ نائیلہ بہن جو کچھ ہم سے کہتی ہیں اُس میں غیر معمولی قوت اور روحانی بلوغت ہوتی ہے۔ جہاں تک عادل کا تعلق ہے وہ بھی شمیم کی طرح خو ش ہیں کہ خُدا نے اُن کی ضرورتیں پوری کر دی ہیں۔ وہ گھر تیار کروا رہے ہیں اور اُن کی روحانی حالت بڑھ رہی ہے۔ خُدا کی تعریف ہو ۔زیدی بھائی ، کیا آپ اپنی دُعا سے اِس رفاقت کو ختم کریں گے۔

سبق نمبر36 صفحہ نمبر3

زیدی: کیوں نہیں۔اے خُدا، ہم اپنے سب بھائیوں کے لئے تیرا شکر کرتے ہیں ۔ تیرے ساتھ اُن کی روحانی زندگی کے لئے شکرکرتے ہیں ۔اُنہیں اپنی ہر طرح کی برکت دے ۔عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔

ندیم: آمین۔ خُدا نے چاہا ہم پرسوں عبادت میں مِلیں گے۔

﴿موسیقی بجتی ہے ﴾

ندیم: چونکہ ہم سب نے چائے ختم کر لی ہے آئیے اپنے خُداوند کی ستائش کرتے ہوئے عبادت شروع کریں۔شمیم ، آج ستائش کے حصے میں ہماری رہنمائی کریں گی۔ شمیم ، مہربانی کر کے شروع کریں۔

شمیم: آئیے! خُدا وند کے نام کی ستائش یہ گیت گاتے ہوئے کریں۔’’بادشاہوں کا بادشاہ ہے‘‘

تمام: ﴿گیت:بادشاہوں کا بادشاہ ہے﴾

ندیم: آمین۔ آج حضرت مرقس کی معرفت انجیل اُس کے 10باب کی 46تا52آیات میں پائی جانے والی کہانی پڑھیں گے اور اُس پر سوچ بچار کریں گے۔

پروین: عبادت کا کوئی خاص دائرہ نہیں کہ وہ اِس کے اندر ہی حرکت کرے۔ لیکن ا۔کرنتیھوں اُس کے چودھویں باب میںبائبل مقدس ہمیںبتاتی ہے، "جب تم جمع ہوتے ہو تو ہر ایک کے دِل میںمزمور یا تعلیم یا مکاشفہ یابیگانہ زبان یا ترجمہ ہوتا ہے۔ سب کُچھ روحانی ترقی کیلئے ہونا چاہیے۔

ناصر: بالکل ۔ اِس کا مطلب ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہم ہر بار کِسی خاص موضوع پر ہی گفتگو کریں یا وعظ سُنیں۔ بلکہ آج کی طرح ہم کِسی خاص کہانی یا زبور پر بھی سوچ سکتے ہیں۔

ندیم: بالکل ناصر۔ یہی وجہ ہے آج ہم اِس خوبصورت کہانی پر سوچ بچار کریں گے ۔ ہر کوئی ایک خیال پیش کرے گا اور پھر ہمیں بتائے گا۔کہ ہم کیا سیکھ یا سمجھ سکے ہیں۔

زیدی: بہت خوب۔

ندیم: ہم باری باری ایک ایک آیت پڑھیں گے۔نائیلہ آپ شروع کریں۔

نائیلہ: ٹھیک ہے۔ ﴿ورق اُلٹنے کی آواز﴾۔ پھر وہ یریحو میں آئے اور جب وہ اور اُس کے شاگردلوگوں کی ایک بڑی بھیڑ کے ساتھ شہر

یر یحو سے باہر نکل رہے تھے تو ایک اندھا بھکاری برتلمائی یعنی تمائی کابیٹا راہ کے کنارے بیٹھا ہواتھا۔

عادل: جوں ہی اُسے پتہ چلا کہ یسوع ناصری وہاں ہے تو وہ چلا چلا کر کہنے لگا:، "اے یسوع ابنِ دائود مُجھ پر رحم کر"۔

شمیم: لوگ اُسے ڈانٹنے لگے کہ چپ ہو جا،شور مت مچا!مگر وہ اور زیادہ چلانے لگا کہ اے ابنِ دائود مُجھ پر رحم کر۔

سبق نمبر36 صفحہ نمبر4

اکبر: یسوع نے رک کر کہا اُسے بُلائو۔چنانچہ اُنہوں نے اندھے کو آوازدی اور کہا:خوش ہو جا، اُٹھ،یسوع تجھے بلا رہا ہے۔

پروین: اُس نے اپنی گدڑی اتار پھینکی اور اچھل کر کھڑا ہو گیا اور یسوع کے پاس آگیا۔

ناصر: یسوع نے اُس سے پوچھا:بتا میں تیرے لیے کیا کروں؟اندھے نے جواب دیا:اے خداوند !میں چاہتا ہوں کہ میں دیکھنے لگوں۔

زیدی: یسوع نے اُس سے کہا، جا تیرے ایمان نے تجھے اچھا کر دیا ہے۔ وہ اُسی دم بینا ہو گیا اور راستے پر یسوع کے پیچھے ہو لیا۔

ندیم: شکریہ۔ جب ہم یہ کہانی پڑھ رہے تھے ۔ تو ہماری توجہ کِس بات کی طرف گئی جو ہمارے ساتھ وہ کرنا چاہتا ہے۔

زیدی: میں شروع کروں۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ زیدی بھائی۔

زیدی: جو کچھ برتلمائی نے کیاہے وہ مُجھے بہت پسند آیاہے ۔ باوجود اِس کے کہ لوگوںنے اُسے چپ رہنے اور کُچھ نہ بولنے کو کہا، وہ چلاتا رہا اور عیسیٰ مسیح کو پکارتا رہا۔

اکبر: زیدی انکل،معاف کیجئے،میں آپ کی بات کاٹ رہا ہوں۔ اِس بات سے مُجھے دُکھ ہُواکہ خُداوند عیسیٰ مسیح اُسے فوراََ جواب نہیں دینا چاہتے تھے ۔اور لوگوں نے اُسے چپ رہنے کو کہا۔ میں نہیںجانتا کہ عیسیٰ مسیح اُسے کیوں جواب دینا نہ چاہتے تھے۔

زیدی: اکبر،میں آپ کو بتاتا ہوں۔عیسیٰ مسیح فوراً اُس کی آنکھیں کھول سکتے تھے۔لیکن اِس بات سے ہمیں سیکھنا ہے کہ ہمیںکِس طرح سرگرمی سے اور روتے ہوئے دعامانگنا ہے۔

پروین: زیدی بھائی،یہ ضروری نہیں کہ جو کچھ ہم مانگتے ہیں۔فوری طور پر مل جائے ۔ عیسیٰ مسیح ہمیںتربیت دینا چاہتے ہیں کہ مسلسل مانگیں اور سرگرمی سے مانگیں۔ جِس طرح آپ ابھی کہہ رہے تھے ۔ خُدا بہت وفادارہے اور وہ اپنے وقت پر جواب دیتا ہے۔

عادل: باجی پروین، جو آپ کہہ رہی ہیں میں اُس میںاضافہ کرنا چاہتا ہوں۔ اُس آدمی نے لوگوں کی کوششوں کے باوجودکہ وہ چپ رہے پکارنا ترک نہ کیا۔ بلکہ وہ پہلے سے زیادہ زور سے چلایا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اُس کی خلاصی صرف خُداوند عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے ہے ۔اُسی کو سارا جلال مِلے۔

شمیم: میں بھی یہی سو چتی ہوں کہ ہر بار جب برتلمائی خُداوند عیسیٰ مسیح کو بُلاتا ہے وہ یسوع ابنِ دائود کہتاہے ۔ برتلمائی جانتا تھا کہ عیسیٰ مسیح متوقع مسیحا ہیں۔ اِسی وجہ سے وہ اپنی درخواست پر اصرار کرتا ہے۔ یہ شخص ایمان لایا کہ صرف خُداوند عیسیٰ مسیح ہی اُس کی بینائی اُسے واپس دے سکتے ہیں۔ دُعا کرتے اور خُداوند سے مانگتے ہوئے ہمیں اِس بات پر ایمان لاناہے۔ کہ جو کچھ ہم مانگ رہے ہیں،عیسیٰ مسیح ہمیں دے سکتے ہیں۔

سبق نمبر36 صفحہ نمبر5

ناصر: جی آنٹی شمیم۔ ہمیں ناصرف خُداوند سے مانگنا ہے بلکہ ایمان بھی لانا ہے ۔ اگر ہم کہانی کے بعد اِس باب پر نگاہ کریں ہم خداوند عیسیٰ مسیح کوآیت نمبر 24میں یہ کہتے ہوئے پاتے ہیں ، "اِسلئے میں تمہیں کہتا ہوں جو دُعامیں تم مانگتے ہو یقین رکھو کہ تمہیں مِل گیا۔اور یہ تمہیں مِل جائے گا"۔

ندیم: پس پہلا سبق جو ہم نے سیکھا ہے وہ یہ ہے کہ جب ہم دُعا کریں ۔ ہمیں اِس ایمان سے مانگنا چاہیے کہ خدا ہمیں دے گا۔ اور ہمیں مسلسل مانگتے رہنا چاہئے ۔خواہ ہمارے اردگردکے لوگ ہمیں چپ رہنے کو بھی کیوں نہ کہیں ۔

نائیلہ: ندیم بھائی، آپ نے مُجھے ہمارا وہ وقت یاد دِلادیا ہے۔ جب ہم اپنے لئے بچے کے لئے دُعا کر رہے تھے ۔ ہم نے خُداوند سے بہت دُعا کی۔ ہم ڈاکٹر کے پاس گئے تو اُس نے کہا ،کوئی اُمید نہیں ۔ ہم نے ایک اور ڈاکٹر کو دِکھانے کا فیصلہ کیا ۔ اُس نے ہمیں بتایا کہ اولاد ہونا ناممکن ہے ۔ اُس وقت کے دوران میں نے اپنا سارا بوجھ خُداوند پر ڈال دیا اورپھر جب آپ سے بات کی تو میں نے محسوس کیا صرف خُدا ہی ہے جو میری درخواست قبول کر سکتا ہے ۔ زیدی اور میں نے دُعا مانگنا شروع کیا اور ہم بالکل اُس اندھے آدمی کی طرح تھے ۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے ڈاکٹر ہمیں کہہ رہے ہوں کہ خاموش رہو ۔ لیکن ہم نے محسوس کیا خُداوند عیسیٰ مسیح اِس قابل ہیں ۔ پس ہم نے زیادہ سے زیادہ دُعا کی اور خدا نے ہماری دعا سن لی۔

ندیم: خدا کی تعریف ہو ۔ لگاتار دُعا کرنے اور ایمان میں قائم رہنے سے آپ وہ چیز حاصل کرنے کے قابل ہوئے جو آپ نے مانگی تھی۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو کُچھ ہم ایمان او ربھروسے سے مانگتے ہیں۔ خداوند ہمیں دیتے ہیں۔پروین،آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں۔

پروین: جی ندیم،جب خداوند عیسیٰ مسیح نے اندھے آدمی کوبُلایا ۔ ہم دیکھتے ہیں، وہ اپنا چوغہ ایک طرف پھینک کر اپنے پائوں پر اچھل کر کھڑا ہو گیا اور عیسیٰ مسیح کے پاس آیا۔ میں سوچتی ہوں کہ وہ چوغہ جو اندھے آدمی نے پہن رکھا تھا وہ اُسے حرکت کرنے سے روک رہا تھا ۔ یعنی یہ صحیح طر ح اُسے چلنے نہیں دیتا تھا ۔اور ہو سکتا ہے ہر بار جب وہ چلنے کی کوشش کرتا تھا گِر جاتا تھا ۔اِسی وجہ سے جو پہلا کام اُس نے کیا چوغہ، ایک طرف پھینکا ۔ میں یہاں کہنا چاہتی ہوں کہ جب عیسیٰ مسیح ہمیں بُلاتے ہیں کہ اُن کے پیچھے چلیں بہت مرتبہ ہمارے پاس بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو ہمیں اُن کے پاس آنے سے روکتی ہیں۔ مثلاً ہماری روپے پیسے سے محبت۔ خاندان کی یا ہماری اپنیخواہشات۔ جب تک ہم انہیں پکڑے رہتے ہیں۔عیسیٰ مسیح تک پہنچنا مشکل ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ ہم ہر اُس چیز کو ایک طرف پھینک دیں جو ہمیں خُداوند عیسیٰ مسیح کے پیچھے جانے سے روکتی ہے۔

نائیلہ: پروین باجی ، جو آپ کہہ رہی ہیں میں اُس میں اضافہ کرنا چاہتی ہوں۔ یہ چوغہ اُس آدمی کو بہت عزیز تھا اور وہ غالباََ نہیں جانتا تھا کہ دوسرا چوغہ وہ کیسے لے گا۔اُسے اُس کی بہت ضرورت تھی۔ لیکن جونہی اُس نے محسو س کیا کہ یہ چوغہ عیسیٰ مسیح کے پاس پہنچنے میں سبق نمبر36 صفحہ نمبر6

اُسے روکے گا اُس نے اُسے ایک طرف پھینک دیا۔

شمیم: مگر نائیلہ،جب اُس کی آنکھیںکھل گیئں،اُسے نے دیکھا کہ جو چوغہ اُس نے پہن رکھا تھا بہت گندہ ہے۔ جب ہم بھی اندھے ہوتے ہیں تو یہی کچھ ہوتا ہے ۔ ہم اُن چیزوںکو جو اصل میںاچھی نہیں ہوتیں اور قیمتی نہیں ہوتیں۔ خیال کرتے ہیں وہ قیمتی ہیں۔لیکن جونہی ہم خداوند عیسیٰ مسیح کے پاس آجاتے ہیں اور ہماری آنکھیں کھل جاتی ہیں،تو پھر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جو چیزیں ہم نے پکڑی ہوئی تھیں وہ کو ئی حیثیت نہیں رکھیتں۔

ندیم: بہرحال ۔ یہ چوغہ ایک خاص چوغہ تھا۔ خاص رنگ والا جو صرف اندھا آدمی پہنتا ہے ۔یہی وجہ ہے جب کوئی اُسے دیکھتا تھا اُس کو پتہ چل جاتا تھا کہ یہ آدمی اندھا ہے۔ اور پھر اُس کی مدد کرتا تھا اور اُس کے لئے راہ صاف کرتا تھا۔ جب اندھے آدمی نے چوغہ پھینک دیا ۔ یوں لگتا ہے جیسے وہ کہہ رہا تھا میرا ایمان ہے کہ میری آنکھیں کھُل جائیں گی تو پھر مُجھے چوغے کی ضرورت نہ ہو

گی۔کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے۔

ناصر: ابو میرا ایک سوال ہے۔

ندیم: جی ناصر۔

ناصر: وہ سوال جو خداوند عیسیٰ مسیح نے اندھے آدمی سے پوچھا ، بہت عجیب تھا۔ عیسیٰ مسیح نے اُس سے پوچھا ، " تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہارے لئے کروں"۔ ایک اندھا آدمی خداوند عیسیٰ مسیح سے نظر کی بخالی کے سوا کیا چاہے گا۔عیسیٰ مسیح نے یہ سوال کیوں پوچھا؟

ندیم: ناصر۔ خُداوند عیسیٰ مسیح چاہتے ہیں کہ ہم اُن سے گفتگو کریں۔ اُنہیں اپنی ضرورت بتائیں۔

ناصر: لیکن ابو۔ خُداوند عیسیٰ مسیح ہماری ساری ضرورتیں جانتے ہیں۔

ندیم: یاد رکھو۔ جب آپ چھوٹے تھے اور بولنا سیکھ رہے تھے ۔ جو چاہتے تھے اُس کی طرف اشارہ کرتے تھے ، کیا میں فوراََ لے آتا تھا۔ یا میں کہتا تھا تم کوشش کرو اور مُجھے بتائو کہ کیا چاہتے ہو۔

ناصر: آپ میری مدد کرتے تھے کہ میںآپ کو بتائوں۔

ندیم: کیوں ۔

ناصر: تا کہ میں باتیں کرنا سیکھ جائوں ۔

ندیم: یہ ہے وہ بات جو خداوند عیسیٰ مسیح ہمیں سِکھانا چاہتے ہیں ۔ہم اُن سے بات کر نا سیکھیں۔

زیدی: یہاں برتلمائی کی درخواست بہت واضح تھی۔ اُس نے خُداوند عیسیٰ مسیح سے کہا، خُداوند میں چاہتا ہوں میں بینا ہوجائوں۔ اِس کا مطلب ہے کہ برتلمائی نے خداوند کو یہ نہیں بتایا کہ وہ بیس سال پہلے اندھا پیدا ہوا تھا ۔ اورپھر اُس کے والدین فوت ہو گئے سبق نمبر36 صفحہ نمبر7

اورپھر اُس نے شادی کر لی وغیر وغیرہ ۔ جو کچھ برتلمائی نے کیا اُس نے اہنی درخواست پر توجہ دی اور وہ اپنی ضرورت عیسیٰ مسیح کے پاس لے جانے میں کامیاب ہوا۔بہت دفعہ ہم سوچتے ہیں کہ جب ہم بہت باتیں کرتے ہیں ۔عیسیٰ مسیح ہمیں جلدی جواب دیتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔

ندیم: جی ہاں۔ خُداوند عیسیٰ مسیح ہمیں متی چھٹے باب میں بتاتے ہیں اور جب تم مانگوتو غیر قوموں کی طرح بک بک نہ کرو کیونکہ وہ خیال کرتے ہیں کہ اُن کے بہت بولنے سے اُن کی سُنی جائے گی۔ اِسی وجہ سے اُنہوں نے خُداوندکی دُعا ہمیںسِکھائی ۔ اُس میں کتنی تفصیل سے تعریف اور مناجات اور معافی پر توجہ دی گئی ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ ہم اپنی ضرورت کو جانیں اور خُداوند کے سامنے اُس کا اظہار کریں ۔کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے۔

نائیلہ: ندیم بھائی، میں کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی نائیلہ بہن۔

نائیلہ: جب میں نے پہلی بار کہانی پڑھی۔ میں اُن لوگوں سے رنجیدہ ہوئی جو برتلمائی کو جھڑک رہے تھے اور اُسے خاموش رہنے کو کہہ رہے تھے وہ کس قدر ظالم تھے۔وہ اُس شخص کی ضرورت کو محسوس نہیں کررہے تھے۔ شاید اِس لئے کہ وہ خداوندعیسیٰ مسیح کو دیکھ سکتے تھے۔مگر برتلمائی کو عیسیٰ مسیح کی ضرورت تھی وہ شفا پانا چاہتا تھا۔ جب میں نے اِن باتوںپر غور کیا، میںنے محسو س کیا کہ جیسے عیسیٰ مسیح مُجھے کہہ رہے ہوں کہ بہت دفعہ ہم ایسا ہی کرتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کو عیسیٰ مسیح کی ضرورت ہے لیکن ہم اُن کی کوئی مدد نہیں کرتے ۔

شمیم: ندیم بھائی،میں بھی کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی شمیم۔

شمیم: مُجھے یاد ہے کہ بہت عرصہ پہلے کالج میں میری ایک دوست نے مجھے خُداوند عیسیٰ مسیح کے بارے گفتگو کرنے کو کہا۔ میں اُسے کہا کرتی تھی کل یا دو دِن بعد یا ایک ہفتے بعد میں بات کروں گی۔ میں اُس سے پیچھا چھڑانا چاہتی تھی ۔ نتیجہ یہ ہُوا کہ وہ خُداوند کو جانے بغیر کسی دوسرے ملک کو چلی گئی۔ مُجھے اُس کے لئے بڑا افسوس ہے میں خیال کرتی ہوں ہمیں سچ مچ لوگوں کوعیسیٰ مسیح کی طرف لے جانے کی ضرورت کو سیکھنا چاہیے۔ ہمیں اُنہیں خاموش نہیں کرنا چاہئے۔

ندیم: شمیم۔ بالکل۔بھائیو بہنو،ہماری آج کی عبادت کا وقت ختم ہونے والا ہے۔آئیے آخر میں دعا کریں۔اے خُداوند عیسیٰ مسیح میںدعا کرتا ہوں کہ ِپاک روح میرے اندر کام کرے اور میرے بھائیوں کے اندر کام کرے۔ہماری رہنمائی فرما کہ اپنے اردگرد کے محتاج لوگوں کے ساتھ گفتگو کریں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

سبق نمبر36 صفحہ نمبر8

تمام: آمین۔

ندیم: میں آپ کو یاد دلاتا ہوں کہ ہماری اگلی عبادت اِسی جگہ ہوگی۔خداوند عیسیٰ مسیح آپ کو برکت دے۔

تمام: آمین۔