Hear Fellowship With My Family Episode 37 (Audio MP3)

View FWMF episode 37 as a PDF file

سبق نمبر37 صفحہ نمبر 1

"جلد آ رہا ہے"

ندیم: خُدا آپ کو تسلی دے عادل ۔

عادل: ندیم بھائی۔ معافی چاہتا ہوں۔آپ کو کافی زحمت ہوئی۔

ندیم: نہیں نہیں عادل،ہم ایک خاندان ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہیں۔

پروین: آپ کی آنٹی بہت حوصلہ مند ہیں۔

عادل: پروین باجی یہ اس لئے ہے کہ وہ کافی سالوں سے شخصی طور پر عیسیٰ مسیح کو جانتی ہیں ۔

شمیم: اِسی لئے اُنہیں یقین ہے کہ آپ کے انکل آسمان پر گئے ہیں کیونکہ وہ بھی عیسیٰ مسیح کے خون سے خریدے ہوئے ایماندار تھے۔

عادل: شمیم یہ سچ ہے۔اُنہوں نے اپنی ساری ذمہ داریوں کے باوجود دیانتداری سے خُداوند کی خِدمت کی ہے۔

نائیلہ: جب ہم جنازے کے پاس بیٹھے تھے۔کچھ عورتیں رو رہی تھیں۔آنٹی کہنے لگیں،ایسا مت کرو میرا خاوند آسمان پر عیسیٰ مسیح کے پاس گیا ہے۔اُنہوں نے اپنی گواہی بھی دی اور اُنہیں عیسیٰ مسیح پر ایمان لانے کو کہا۔

عادل: جی ۔میں بہت حیران تھا۔

ناصر: عادل،آپ کافی دیر سے ہمارے پاس کھڑے ہیں۔آپ نے جنازہ لے کر اپنے انکل کے آبائی گائوں بھی جانا ہے۔آپ کو اب جانا چاہئے۔

ندیم: اگر میری گاڑی کی ضرورت ہے تو حاضر ہے۔

عادل: ندیم بھائی شکریہ،میرے پاس انکل والی گاڑی ہے۔اب اجازت چاہتا ہوں۔خدا حافظ ۔

تمام: گاڑی احیتاط سے چلانا،خدا حافظ۔خدا آپ کے ساتھ ہو۔

﴿موسیقی ﴾

ندیم: عادل شکریہ،آپ آگئے ہیں۔ابھی کل ہی تو اپنے انکل کے جنازے پر گئے تھے۔

عادل: ندیم بھائی، آپ جانتے ہیں کلیسیائ وہ جگہ ہے جہاں آدمی کو سہارا اور سکون مِلتا ہے۔میں سکون کیلئے واپس آگیا ہوں۔

پروین: آپ کی آنٹی کا کیا حال ہے۔

عادل: وہ بہت حوصلہ مند ہیں۔آپ کی محبت کا اُن پر بہت اثر ہوا ہے اور خاص طور پر جنازہ میں ندیم بھائی کے وعظ کا۔

اکبر: مجھے بھی ان کا وعظ بہت اچھا لگا۔خاص طور پر ندیم بھائی عیسیٰ مسیح کی واپسی کا ذکر کر رہے تھے ۔

نائیلہ: اکبر۔ سچ مچ یہ بڑی حوصلہ بڑھانے والی بات ہے۔

سبق نمبر37 صفحہ نمبر 2

ندیم: بھائیو بہنو! کیوں نہ ہم آج خداوند عیسیٰ مسیح کے واپس آنے کے مسئلے پر اکٹھے گفتگو کر یں۔

شمیم: ندیم بھائی،اچھا خیال ہے۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ لیکن اِس سے پہلے آئیں ہم خُداوند کی ستائش کریں اور زیدی بھائی ستائش میںہماری رہنمائی کریں گے۔

زیدی: آئیں ہم خداوند کی ستائش کریں اورہر اُس بات کو بھول جائیں جو ہماری توجہ ستائش سے ہٹاتی ہے۔ہم گیت گائیں گے۔اے باپ تو برکت دے۔

تمام: ﴿گیت:اے باپ تو برکت دے﴾

زیدی: آمین۔ آئیے،کتابِ مقدس بائبل میں سے عیسیٰ مسیح کی دوسری آمد کے تعلق سے کچھ حوالے پڑھتے ہیں۔نائیلہ پہلا حوالہ آپ پڑھیں گی۔اعمال کی کتاب پہلا باب،نویں سے گیارھویں آیت تک۔

نائیلہ: ﴿صفحات کے پلٹنے کی آواز﴾ اِن باتوں کے بعد وہ اُن کے دیکھتے دیکھتے اُوپر اُٹھا لیا گیا اور بدلی نے اُسے اُن کی نظروں سے چھپا لیا۔جب وہ ٹکٹکی باندھے اُسے آسمان کی طرف جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے تو دیکھو دو مرد سفید لباس میں اُن کے پاس آکھڑے ہوئے اور کہنے لگے:اے گلیلی آدمیو!تُم کھڑے کھڑے آسمان کی طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟یہی یسوع جو تمہارے پاس سے آسمان پر اُٹھایا گیا ہے،اِسی طرح پھر آئے گا جس طرح تم لوگوں نے اُسے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔

ندیم: شکریہ نائیلہ بہن۔ کلامِ پاک کے باقی حصوں کوپڑھنے سے پہلے۔ آئیے، اِن آیتوں پر غور کریں۔ کون شروع کرے گا؟

پروین: ندیم میں شروع کروں گی۔

ندیم: جی پروین۔

پروین: اِن آیات میں دو خاص با توں پر زور دیا گیا ہے ۔ پہلی یہ کہ ہمارے خُداوند عیسیٰ مسیح ساری ستائش اُن کے نام کو مِلے۔ موت سے جی اُٹھے ۔ سارے شاگردوں نے اُنہیں آسمان کی طرف جاتے دیکھا۔ وہ زندہ ہیں۔ دوسری بات وہ جِس طرح آسمان پرگئے اُسی طرح واپس آئیں گے۔

ندیم: بیشک ۔ خُداوند عیسیٰ مسیح آسمان سے واپس آئیں گے۔ یہ صرف آرزو ہی نہیں ۔وہ ضرور واپس آئیں گے۔

ناصر: ابو کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں۔

ندیم: ناصر کیوں نہیں۔

ناصر: کلامِ پاک میں لکھا ہے۔جب وہ آسمان کی طرف جا رہے تھے،شاگرد اُنہیں غور سے دیکھ رہے تھے۔پھر ایک بدلی نے اُنہیں چھپا لیا۔ میرا خیال ہے وہ اُن سالوں کو یادکر رہے تھے جو اُنہوںنے عیسیٰ مسیح کے ساتھ گزارے تھے ۔بڑے بڑے واقعات،عیسیٰ مسیح سبق نمبر37 صفحہ نمبر 3

کی موت، اُن کے خوابوں کا اختتام ، عیسیٰ مسیح کی فوری قیامت ۔ اُن کے آقا اور قائد عیسیٰ مسیح کا غائب ہو جانا،یہ سب اُن کے سامنے بخا رات کی طرح اڑ رہے تھے۔

شمیم: اور میں محسوس کرتی ہوں کہ اُس لمحے اُنہیں اپنے بہترین دوست کی جدائی کا احساس ہوا۔ پس وہ غور سے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔وہ ایک سیکنڈ بھی عیسیٰ مسیح سے اپنی نظریں ہٹا نا نہیں چاہتے تھے۔

نائیلہ: ندیم بھائی،میرا خیال ہے،کیا میں اِس سلسلے میں کچھ کہہ سکتی ہوں۔

ندیم: نائیلہ بہن کیوں نہیں۔

نائیلہ: اِن آیات کو پرھتے ہوئے میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ عیسیٰ مسیح نے اپنے شاگردوں کو اِن احسات میں نہیں چھوڑابلکہ اُن کی حوصلہ افزائی کے لئے دو فرشتے بھیجے ۔اور حقیقت بیان کی کہ جس طرح تم نے مجھے آسمان پر جاتے دیکھا ہے۔اُسی طرح واپس آتے دیکھو گے۔

ندیم: بیشک عیسیٰ مسیح واپس آئیں گے۔ ہم اُنہیں دیکھیں گے ۔ اُنہیںچھوئیں گے ۔ خداوند کے نام کی تعریف ہو۔

عادل: اوہ میرا دل خوشی سے بھرا ہوا ہے۔میں عیسیٰ مسیح کو آتے دیکھنا چاہتا ہوں۔وہ اتنی دیر کیوں کر رہے ہیں۔

اکبر: اگرچہ کُچھ عرصہ پہلے ہی میری نئی پیدائش ہوئی ہے ۔ میں سچ مچ عیسیٰ مسیح کو دیکھنے کاخواہش مند ہوں۔اِس طرح جیسے بیٹا باپ کو اور دلہن دولہا کو دیکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔

پروین: اکبر آپ سچ کہتے ہیں۔حضرت یوحنا رسول کتابِ مقدس بائبل کے آخر میں لکھتے ہیں۔اے خداوند عیسیٰ مسیح آ۔ہم بھی کہیں۔ آ۔

ندیم: آمین۔ بھائیو بہنو،آپ سب میرے پیچھے پیچھے کہیے۔

تمام: اے خُداوند عیسیٰ مسیح ہم آپ کو دیکھنے کی خواہش کرتے ہیں۔آپ کی محبوب کلیسیائ آپ کا انتظار کرتی ہے۔ آئیں،اور ہمارے آنسو پونچھ ڈالیں۔آمین۔

زیدی: بھائیو میں اس میںکُچھ اضافہ کرنا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی زیدی بھائی۔

زیدی: درحقیقت عیسیٰ مسیح جیسے ہم خیال کرتے ہیں ،دیر نہیں کرتے۔اُنہوں نے تو مکاسفہ کی کتاب میں صاف فرمایا ہے۔ دیکھو میںجلد آ رہا ہوں ۔ اجر میرے پاس ہے اور میں ہر ایک کو اُس کے کام کے موافق اجر دونگا۔

نائیلہ: جب عیسیٰ مسیح نے فرمایا،میں جلد آرہا ہوں۔ اُس کے سو یاایک سو بیس سال بعد یہ الفاظلِکھے گئے۔عیسیٰ مسیح کے آنے میں ابھی اور

کتنی دیر باقی ہے۔

سبق نمبر37 صفحہ نمبر 4

ندیم: آئو ہم دیکھیں،کتابِ مقدس بائبل اِس کے متعلق کیا بتاتی ہے۔ناصر پلیز ایک حوالہ پڑھیں۔2پطرس3:9سے11آیت اور پھر اگلی دو آیات شمیم آپ پڑھیے گا۔

ناصر: خُداوند اپنا وعدہ پورا کرنے میں دیر نہیں لگاتا جیسی دیر بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ وہ تمہارے لیے صبر کرتا ہے اور نہیں چاہتا کہ کوئی شخص ہلاک ہو بلکہ چاہتا ہے کہ سب لوگوں کو توبہ کرنے کا موقع ملے۔ لیکن خدا کا دن چور کی طرح آجائے گا۔اُس دن آسمان بڑے شور وغل کے ساتھ غائب ہو جائیں گے اور زمین اور اُس کی پر کی تمام چیزیں جل جائیں گے۔جب تمام اشیائ اس طرح تباہ و برباد ہونے والی ہیں تو تمہیں کیسا ہونا چاہیے؟ تمہیں تو نہایت ہی پاکیز گی اور خدا ترسی کی زندگی گزارنا چاہیے۔ْْ‘‘

شمیم: اور خدا کے اُس دن کا نہایت مشتاق اور منتظر رہنا چاہیے جس کے باعث افلاک جل کر تباہ ہو جائیں گے اور اجرامِ فلکی شدید حرارت سے پگھل کر رہ جائیں گے۔لیکن ہم خدا کے وعدوں کے مطابق نئے آسمان اور نئی زمین کے انتظار میں ہیں جن میں راستبازی سکونت کرتی ہے۔

ندیم: آمین۔ کیا آپ اِس پر کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں۔

شمیم: ندیم بھائی،میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی کہئے۔

شمیم: جو ابھی ہم نے پڑھا ہے ۔ اُس سے یہ ظاہر ہے کہ لوگ خیال کرتے تھے کہ عیسیٰ مسیح کے آنے میں ابھی دیر ہے۔اس لئے حضرت پولوس رسول نے اُن کو یاد دِلانے کے لئے لِکھا کہ ہمارے خُداوند اپنے وعدے میں ایسی دیر نہیں کرتے جیسی بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ درحقیقت وہ لوگوں کے لئے وقت دے رہے ہیں کہ اپنے گناہوں کو چھوڑ دیں اور توبہ کریں۔

ندیم: آپ نے ٹھیک کہا ۔ خُدا کا صبر ہمیں توبہ کیلئے ایک کے بعد دوسرا موقع دیتا ہے ۔ جِسطرح کلامِ پاک رومیوں تیرھویں باب میں کہتا ہے ، اِس لئے کہ اب وہ گھڑی آ پہنچی کہ تم نیند سے جاگو۔ کیونکہ جِس وقت ہم ایمان لائے تھے اُس وقت کی نسبت اب ہماری نجات نزدیک ہے۔ رات بہت گزر گئی اور دِن نکلنے والا ہے ۔ پس ہم تاریکی کے کاموں کو ترک کر کے روشنی کے ہتھیار باندھ لیں۔

زیدی: کیا میں کُچھ کہہ سکتا ہوں۔

ندیم: زیدی بھائی،کیوں نہیں۔

زیدی: وہ حصہ جو ہم نے حضرت پطرس کے دوسرے خط سے پڑھا ہے واضح کرتا ہے کہ کوئی شخص خُداوند عیسیٰ مسیح کی دوسری آمد کی تاریخ کو ٹھیک طرح سے نہیں جانتا۔ کیونکہ خُداوند کا دِن چور کی طرح آئے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ عیسیٰ مسیح جلد دوبارہ آئیں گے۔ وہ شاید سبق نمبر37 صفحہ نمبر 5

ابھی جب ہم باتیں کر رہے ہیںآ جائیں۔

ندیم: یہ سچ ہے زیدی! پس کلام ِپاک کہتا ہے۔ تمہیں پاک اور پارسائی کی زندگی گزارنی چاہیے۔کیونکہ اِس سے عیسیٰ مسیح کے پاک نام کو جلال مِلتا ہے۔

عادل: اور ندیم بھائی،کلامِ پاک میں لکھا ہے۔تم خدا کے دن کی طرف دیکھتے ہو اور اُس کے منتظر ہو۔اِس کامطلب ہے کہ نہ صرف ہمیں ہمیشہ عیسیٰ مسیح کی آمد کی توقع کرنی چاہیے بلکہ مسلسل اُنہیں جلد آنے کیلئے درخواست کرنی چاہیے ۔

ندیم: جی ہاں،اس لئے آئیے مکاشفہ 22باب20آیت کو میرے پیچھے دھرآئیں۔آمین۔ اے خُداوند یسوع آ۔ آمین اے خُداوند یسوع آ۔

تمام: آمین۔ اے خُداوند یسوع آ۔ آمین اے خُداوند یسوع آ۔

نائیلہ: کیا میں 2پطرس 3باب13آیت پر تبصرہ کرسکتی ہوں۔

ندیم: نائیلہ بہن ضرور۔

نائیلہ: مُجھے سچ مچ یہ محسوس کر کے خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے خُداوند عیسیٰ مسیح ہمارے لئے نئی زمین اور نیا آسمان بنائیں گے۔ جہاںکوئی تباہی ، جنگیں، قتل، حسد ، بضض،اور کینہ نہ ہونگے ۔ گناہ اور نفرت سب ختم ہو جائیںگے ۔ اور وہاں صرف راستبازی ہوگی۔

ندیم: جی ہاں،نائیلہ بہن آپ جانتی ہیں ، حضرت یوحنا رسول نے بائبل مقدس کے آخر میں کیا کہا ۔آئیے مکاشفہ اکیس باب ، پہلی سے چھٹی آیت تک بار ی باری پڑھتے ہیں۔ ناصر مہربانی کر کے آپ شروع کریں۔

ناصر: ﴿صفحات اُلٹنے کی آواز﴾ پھر میں نے ایک نئا آسمان او ر ایک نئی زمین کو دیکھی کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی موجود نہ تھا۔

پروین: پھرمیں نے شہرِ مقدس یعنی نئے یروشلیم کو خُدا کے پاس سے آسمان سے اُترتے دیکھا جواُس دلہن کی طرح آراستہ تھا جِس نے اپنے شوہر کے لئے سنگار کیا ہو۔

ندیم: یہاں مذکورہ دلہن ہم ایماندار ہیں۔ ہم عیسیٰ مسیح کی دُلہن ہیں۔ شمیم مہربانی کر کے اگلی آیت پڑھیں۔

شمیم: اور میں نے تخت پر سے کِسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سُنا کہ اب خُدا کا مسکن آدمیوں کے درمیان ہے ا ور وہ اُن کے ساتھ سکونت کرے گا۔وہ اُس کے لوگ ہوں گے اور خُدا خود اُن کے ساتھ رہے گا۔ اور اُن کا خُدا ہو گا۔

زیدی: وہ اُن کی آنکھوں کے سارے آنسو پونچھ دے گا ۔ پھر نہ موت باقی رہے گی نہ ماتم نہ آہ و نالہ ۔نہ کوئی درد باقی رہے گا۔ کیونکہ پہلی چیزیں جاتی رہیں ۔

سبق نمبر37 صفحہ نمبر 6

نائیلہ: تب اُس نے جو تخت پر بیٹھا ہواتھا کہاکہ دیکھ!میںسب چیزوںکو نیا بنا رہا ہو ں ۔ پھر کہاکہ لِکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔

عادل: پھر اُس نے مُجھ سے کہا کہ ساری باتیں پوری ہوگئیں۔ میں الفا اور اومیگا یعنی ابتدائ اور انتہا ہوں۔ میں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مفت پلائوںگا۔

ندیم: آمین۔ اے خُدا تیرا شکر کیونکہ تیرا دروازہ ہر ایک کے لئے جوعیسیٰ مسیح کی کلیسیائ کا ممبر بننا چاہتا ہے ابھی کھلا ہے۔عیسیٰ مسیح کا بدن اورعیسیٰ مسیح خود ہر پیاسے کو زندگی کا پانی مفت پلانے کو بُلا رہے ہیں۔آپ اُس سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ آپ کو زندگی کا پانی دے دیں۔

اکبر: ندیم انکل،میں ایک سوال پو چھنا چاہتا ہوں۔

ندیم: پو چھیئے اکبر۔

اکبر: جب عیسیٰ مسیح آئیں گے کیا ہم اِ ن بدنوں کے ساتھ اُن کے ساتھ جائیں گے۔یا کیا ہو گا۔

ندیم: عیسیٰ مسیح کے رسول،حضرت پولوس نے آپ کے سوال کا جواب 1کرنتھیوں 15باب میں دے دیاہے۔پروین مہربانی کر کے آیت نمبر51سے آیت نمبر54تک پڑھ دیں

پروین: "دیکھو میں تہیں راز کی بات بتا تا ہوں ہم سب موت کی نیند نہیں سوئیںگے لیکن بدل ضرورجائیں گے یہ پلک جھپکتے ہی ہو جائے گا یعنی ایک دم جب آخری نر سنگا پھو نگا جائے گا۔کیونکہ سارے مردے نرسنگے کے پھو نکے جانے پر غیر فانی جسم پا کر زندہ ہو جائیں گے اور ہم سب بدل جائیں گے۔کیونکہ ہمارے فانی جسم کو بقا کے لباس کی ضرورت ہے تاکہ اِس مرنے والے جسم کو حیاتِ ابدی مل جائے ۔اور جب فانی جسم بقا کا لباس پہن چکے گا اور یہ مرنے والاجسم حیاتِ ابدی پالے گا تو پاکِ کلام کی یہ بات پوری ہوگی کہ موت فتح کا لقمہ ہوگئی ہے "۔

ندیم: پروین شکریہ۔ یہ آیات واضح کر دیتی ہیں کہ ہمارے بدن بدل جائیں گے ۔

زیدی: حضرت یوحنا کے پہلے خط میں ایک آیت اشارہ کرتی ہے کہ ہمارے بدن خُداوند عیسیٰ مسیح کے بدن کی طرح ہونگے۔ جِس کے ساتھ وہ مردوںمیں سے جی اُٹھے۔ شمیم پلیز آپ پڑھئے۔

شمیم: "پیارے دوستو۔ اب ہم اِس وقت خُدا کے فرزند ہیں اور ابھی یہ ظاہر نہیں ہوا کہ ہم کیا کچھ ہونگے۔ اتنا جانتے ہیں کہ جب وہ ظاہر ہو گا تو ہم بھی اُس کی مانند ہونگے کیونکہ اُس کو ویسا ہی دیکھیں گے جیسا و ہ ہے"۔

زیدی: شکریہ شمیم۔ کلامِ مقدس یہاںکہتا ہے ہم اُن کی مانند ہونگے۔

سبق نمبر37 صفحہ نمبر 7

ندیم: آئیے ہم یہ بھی پڑھیں جو حضرت متی کی انجیل کے چوبیسویں باب کی آیت نمبر35سے آیت نمبر42 میں لکھا ہے ۔ ہم اسے بھی باری باری پڑھیں گے ۔ نائیلہ بہن آپ شروع کریں۔

نائیلہ: ٹھیک ہے ندیم بھائی۔ ﴿صفحات الٹتے ہوئے﴾ آسمان او رزمین ٹل جائیںگے لیکن میری باتیں کبھی نہ ٹلیں گی ۔

ندیم: وہ دِن اور گھڑی کب آئے گی یہ کوئی نہیں جانتا۔ نہ تو آسمان کے فرشتے جانتے ہیںنہ بیٹا،صرف باپ ہی جانتا ہے۔

عادل: جیسا نوح کے دِنوں میں ہُواتھا ویسا ہی ابنِ آدم کی آمد کے وقت ہو گا۔

پروین: کیونکہ طوفان سے پہلے کے دِنوںمیں لوگ کھاتے پیتے او ر بیاہ شادی کرتے کراتے تھے ۔ نوح کے کشتی میں داخل ہونے کے دن تک یہ سب کچھ ہو تا رہا۔

ناصر: اُنہیں خبر تک نہ تھی کہ کیا ہونے والا ہے،یہاں تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو بہا لے گیا۔ابنِ آدم کی آمد بھی ایسی ہی ہوگی۔

شمیم: اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہوں گے ۔ ایک لے لیا جائے گا اوردوسراچھوڑ دیا جائے گا۔

اکبر: دو عورتیں چکی پیستی ہوں گی ۔ ایک لے لی جائے گی اوردوسری چھوڑ دی جائے گی۔

زیدی: پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیںجانتے کہ تمہارا خُداوند کِس دِن آئے گا۔

ندیم: بھائیو بہنو، شکریہ۔ یہاں یہ صاف ظاہر ہے کہ بیشک ہم آخری دِنوںمیں ہیں۔ جو حضرت نوح کے دِنوں کی طرح ہیں۔

پروین: ندیم، آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔حضرت نوح کے دِنوں میں لوگ کھا پی رہے تھے، شادی بیاہ کر رہے تھے ،وہ حضرت نوح کو شیدائی سمجھ کر اُن کی ساری آگاہی کو نظر انداز کررہے تھے۔

شمیم: آج کل بہت سے لوگ خیرات دینے والے سخی توہو سکتے ہیں۔ لیکن ابھی تک وہ نجات کی کشتی میں یعنی خُداوند عیسیٰ مسیح میںداخل نہیں ہوئے ۔ میرا مطلب ہے کہ جب تک وہ عیسیٰ مسیح کو اپنا نجات دہندہ نہ مانیں وہ تباہ ہو جائیں گے بالکل ایسے جیسے حضرت نوح کے زمانہ میںہوا تھا۔

ندیم: یہ سچ ہے شمیم۔ لوگ آج کل دولت میں خوشیوںمیں خواہشات میں اور اپنے خاندانوں کی نگہداشت میں اتنے مصروف ہیں کہ وہ اِس بات کو بھول چکے ہیں کہ عیسیٰ مسیح جلد آنے والے ہیں۔اور وہ صرف اُن کو اپنے ساتھ لے جائیں گے جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اُنہیں اپنا بادشاہ بنایا ہے۔

نائیلہ: مُجھے ایک بچے کی کہانی یاد آگئی ہے جِس نے عیسیٰ مسیح کی دوبارہ آمد کے بارے ایک وعظ سُنا ۔جب وہ گھر واپس آ یا تو اُس نے اپنے باپ سے پوچھا ۔ ابو جب عیسیٰ مسیح آئیں گے تو آپ کہاں ہونگے۔اِن چھوٹے لفظوں نے باپ کو پچھتانے اور عیسیٰ مسیح کو اپنی زندگی کا بادشاہ ہونے پر مجبو ر کر دیا۔

سبق نمبر37 صفحہ نمبر8

ندیم: آمین۔ اب ہماری عبادت کا وقت ختم ہو رہا ہے لیکن میں آ پ کو یاد دِلانا چاہتا ہوں کہ اگلی کلیسیائی عبادت ہمارے گھر میں اِسی وقت ہو گی۔ خداوند آپ کو برکت دے۔

تمام: آمین۔