Hear Fellowship With My Family Episode 38 (Audio MP3)

View FWMF episode 38 as a PDF file

سبق نمبر38 صفحہ نمبر 1

"ایماندارکا اختیار"

﴿دروازے کی گھنٹی بجتی ہے اور دروازہ کھلتا ہے﴾

ندیم: آئیے عادل،آئیے شمیم،کیسے ہیں۔

عادل اور شمیم: ٹھیک ہیں ندیم بھائی۔شکریہ۔﴿دراوزہ بند﴾

شمیم: پروین باجی، آپ کا کیا حال ہے ۔

پروین: میں ٹھیک ہوں۔آپ کی آنٹی اب کیسی ہیں۔

عادل: وہ خیریت سے ہیں۔خداوند سچ مچ اُنہیں آرام دے رہاہے۔

ندیم: خداوند کا شکر ہو۔بھائیو بہنو،آج جس مضمون پر ہم بات چیت کریں گے اُس کا عنوان ہے۔ایماندار کا اخیتار۔

عادل: ایماندار کا اختیار۔

ندیم: جی۔ خُداوند نے ہمیں تاریکی اور ابلیس کی بادشاہت کو خاموش اور بے بس کرنے کا اخیتار دیا ہے۔ لیکن ہم میں سے کوئی اِس اختیار سے آگاہ نہیں۔

شمیم: پھرتویہ بہت اہم موضوع ہے۔

ندیم: اِسی لئے میںنے پروین کو یہ مضمون تیار کرنے کو کہا تھا۔

پروین: اور اِسے تیار کرنے میں ندیم نے بھی میری مدد کی ہے۔

ندیم: یہ بہت اہم مضمون ہے۔مجھے اُمید ہے ہم اِس سے بہت کچھ سیکھیں گے۔آئیں ہم عبادت شروع کریں۔آج نائیلہ بہن پر ستش میں ہماری راہنمائی کریں گی۔جی نائیلہ بہن۔

نائیلہ: آئیں ہم اپنے خدا کو جلال دیتے ہوئے آج کی عبادت شروع کریں۔اور ہم میں سے ہر کوئی کوئی نہ کوئی جملہ خداوند کے جلال کیلئے کہے۔

ناصر: اے خُداوند تیری مانند کوئی نہیں۔ تیرے کاموںکاکوئی مقابلہ نہیں کر سکتا کیونکہ تُو عظیم ہے اور تیرے معجزے عظیم ہیں۔

پروین: اے خدا ہم تجھے سارا جلال دیتے ہیں کیونکہ تُوہماری زندگی کا وفادار چرواہا ہے۔ تیرا شکر ہو،تونے ہمارے نام اپنی پیشانی پر لکھے ہوئے ہیں اور تیری آنکھیں ہم پر لگی ہیں ۔

اکبر: اے خُدا تیرا شکر ہو، کیونکہ تُو پیار کرنے والا خُداہے۔ ہم تیرے بازئوںمیں سکون پاتے ہیں۔

عادل: تیرا شکر کہ تُو ہمارے سارے غم اور اُداسی میں ہمارے ساتھ ہوتا ہے اور تُو ہمارے غم کو خوشی میں بدل دیتا ہے۔

سبق نمبر38 صفحہ نمبر 2

شمیم: تیرا شکر کہ ساری دنیا میں کوئی تجھ سے زیادہ دانا نہیں ہے ۔

تمام: آمین۔

نائیلہ: آئیں اب سب مل کر یہ گیت گائیں۔’’ہمارے خداوند ہمارے خدا۔‘‘

تمام: ﴿گیت:ہمارے خداوند ہمارے خدا﴾

ندیم: آمین۔ نائیلہ بہن، ستائش کے اِس عجیب وقت کے لئے شکریہ۔

نائیلہ: ندیم بھائی،آپ کی حوصلہ افزائی کے لئے شکریہ۔

ندیم: آئیے،اب آج کی گفتگو شروع کریں ۔ جی پروین

پروین: میں سب سے پہلے آپ کو ایک کہانی بتانا اور اِس کے متعلق آپ کی رائے جاننا چاہتی ہوں۔کہانی یوں ہے،ایک بہت غریب آدمی تھا۔وہ بھیک مانگا کرتا تھا۔ایک یا دو دن وہ بھیک مانگتا نظر نہ آیا۔لوگوں کو تشویش ہوئی اور اُسے ڈھونڈ نا شروع کر دیا اور آخر کار اُسے اپنے گندے سے کمرے میں مردہ پایا۔ہوا یوں کہ وہ بھوک کی وجہ سے مرگیا تھا۔مگر حیرانی کی بات یہ تھی کہ اُس کی کمر کے گرد ایک پٹکے میں ہزاروں روپے موجود تھے۔آپ اِس کے بارے میں کیا کہیں گے۔

شمیم: شاید وہ دولت کی قدر نہیں جانتا تھا؟

ناصر: یا شاید ایک اچھی سوچ والاآدمی نہ تھا۔ا ِس دولت سے تو وہ بہترین خوراک کھا سکتا تھااور بہترین ہوٹل میںرہ سکتا تھا۔

پروین: میں آپ کو بتاتی ہوں۔ہم بھی بہت دفعہ اِس بھکاری کی طرح ہوتے ہیں ۔

اکبر: آنٹی پروین وہ کیسے۔

پروین: دیکھیں نا،عیسیٰ مسیح نے ہمیں اختیار دیاہے۔ لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنی عملی زندگی میں شیطان کے خلاف اپنی لڑائی میں اِس اختیار کو استعمال کرتے ہیں۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ آج کا مضمون ایماندار کا اختیار ہے ۔ ہم معلوم کریں گے کہ خُدا نے ہمیںبہت قوت دی ہے لیکن اکثرہم اِسے استعمال نہیں کرتے۔ آئیں ذرا حضرت لوقا کی معرفت انجیل اُس کے دسویں باب کی آیت نمبر19پڑھیں۔ اکبر! کیا آپ ہمارے لئے یہ آیت پڑھ سکتے ہیں۔

اکبر: کیوں نہیں،﴿صفحوں کی آواز﴾دیکھو میںنے تمہیں سانپوں اور بچھوئوں کو کُچلنے کااختیار دیا ہے اور دشمن کی ساری قدرت پر غلبہ عطا کیا ہے تمہیں کسی سے بھی ضرر نہ پہنچے گا۔

پروین: اکبر، شکریہ۔ آپ کے خیال میں یہاں اختیار کے کیا معنی ہے؟

شمیم: اختیار کے معنی ہیں قدرت۔

سبق نمبر38 صفحہ نمبر 3

پروین: صحیح۔ لفظ اختیار کے معنی ہیں دی ہوئی قوت یا کِسی کی جگہ طاقت ۔ کیا کوئی عملی زندگی سے مُجھے کوئی مثال دے سکتا ہے۔

نائیلہ: پروین باجی،یہ ٹریفک کے سپاہی کی طرح ہے۔ اُسے اپنی حکومت کی طرف سے ٹریفک کو کنڑول کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔

پروین: نائیلہ بہن بالکل درست ۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُس حکومت کی طرف سے قوت اُسے دی گئی ہے ۔یہ بالکل اُسی طاقت کی طرح ہے جو ہمیں عیسیٰ مسیح کی طرف سے دی گئی ہے، اور جس کے ذریعے ہمیںدشمن کی ساری قدرت کو تباہ کرنے اوراُس پر غالب آنے کا اختیار ہے۔ بالکل اس آیت کی طرح جو ہم نے ابھی پڑھی ہے۔

زیدی: پروین بہن،جو کچھ آپ کہہ رہی ہیں اور جو کچھ گفتگو کرتے ہوئے عیسیٰ مسیح نے اپنے بارے میں کہا،یہ آیت اُس کی توثیق کرتی ہے " مُجھے زمین اور آسمان پر سارا اختیار دیا گیا ہے"۔ عیسیٰ مسیح نے یہ بھی فرمایا، "جو کوئی مُجھ پر ایمان لاتا ہے وہی کریگا جو میں کرتا رہا ہوں۔بلکہ وہ اِن سے بھی بڑے کام کریگا۔ کیونکہ میں باپ کے پاس جا رہا ہوں ۔

شمیم: اور عیسیٰ مسیح کے شاگردوں نے اِس سچائی کو محسوس کیا۔ اُنہوں نے عیسیٰ مسیح کے دئیے ہوئے اخیتار کو استعمال بھی کیا۔ ہم اعمال کی کتاب میں دیکھتے ہیں کہ حضرت پطرس ایک لنجے آدمی کو جو ہیکل کے دروازے پر بیٹھا بھیک مانگا کرتا تھا۔ شفا دیتے ہیں۔وہ اُس سے کہتے ہیں، سونا چاندی تو میرے پاس نہیںجو میرے پاس ہے وہ تمہیں دیتا ہوں۔یسوع مسیح ناصری کے نام میں چل پھر۔

ناصر: میں اِس معجزے کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔حضرت پطرس نے یہ نہیں کہا، اے خُدا مہربانی کر کے اِس آدمی کو شفائ دے۔ بلکہ اُنہوں نے اُس دئیے گئے اختیار کو محسوس کیا جو خُداوند نے اُنہیں دیا تھا۔ اُن کے پاس اُس آدمی کو دینے کے لئے کوئی دولت تونہ تھی لیکن وہ قوت تھی جو عیسیٰ مسیح نے انہیںدی تھی۔

پروین: وہ اُس وعدے کو بھی جانتے تھے جو کہتا ہے،"جو کُچھ تم میرے نام سے مانگو گے میں کرونگا"۔

زیدی: میںنے ایک مرتبہ ایک مشہور مناد کے بارے میں پڑھا ۔ ایک دِن لوگ اُس کے پاس ایک بیمار عورت کو لائے۔ اُس نے کافی دعا کی مگر شفا نہ ہوئی۔مناد نے خداوند سے پوچھا۔کیوں اُس کی دعا کا جواب نہیںملا۔خداوند نے اُسے جواب بتایا جب تم دعا کر رہے تھے تمہارے دِل میں ڈر تھا۔ اور اُسے اُس قوت کے بارے میں بھی بتایا جو خدا نے اُسے دے رکھی تھی۔ مناد نے اِس سچائی کو محسوس کیا۔ وہ اُسی رات اُس بیمار عورت کے لئے دُعا مانگنے گیا اور اُس نے بیماری کو پوری طاقت سے اُس کے بدن سے نکلنے کو کہا ۔ اور وہ عورت سچ مچ شفائ پاگئی۔

پروین: خُدا کی تعریف ہو ۔ پس ہم بائبل مقدس میں دی گئی مثالوں سے اور اِس کہانی سے جو زیدی بھائی نے ہمیں بتائی ہے سیکھ سکتے ہیںکہ جب ہم خُدا کی طرف سے دی گئی قوت کو محسوس کرتے ہیں ، معجزات رونما ہوتے ہیں۔

اکبر: لیکن میرا خیال ہے کہ یہ قوت خاص لوگوں کو دی جاتی ہے نہ کہ ہمیں۔

سبق نمبر38 صفحہ نمبر 4

پروین: نہیں اکبر۔ یہ قوت سب کیلئے ہے۔ ایک آیت کہتی ہے ، اُن سب کو جنہوں نے اُسے قبول کیا ۔ اُن کو جو اُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں ۔ اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا۔ کیونکہ میںخُدا کا فرزند ہوں ۔میرے پاس بھی وہی اختیار ہے۔

ندیم: حضرت مرقس کی معر فت انجیل 16باب15تا18آیت میں لکھا ہے، "پھر اُس نے اُن سے کہا:ساری دنیا میں جا کر تمام لوگوں میں انجیل کی منادی کرو ۔ جو ایمان لائے اور بپتسمہ لے وہ نجات پائے گا۔ لیکن جو ایمان نہ لائے وہ مجرم قرار دیا جائے جائے گا۔ اورجوایمان لائیں گے اُن کے درمیان یہ معجزے ہوں گے:وہ میرے نام سے بد روحوں کو نکالیں گے، نئی نئی زبانیں بولیں گے۔ اگر وہ ساپنوں کو اٹھالیں گے اور کوئی مہلک چیز پی لیں گے تو اُنہیں کچھ نقصان نہ پہنچے گا۔وہ بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے اور بیمار شفا پائیں گے۔'' عیسیٰ مسیح کہہ رہے ہیں کہ یہ اختیار ایمانداروں کے پاس ہو گا۔ اِس کامطلب ہے سب ایمانداروں کے پاس ۔ اُنہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ خاص ایمانداروں کے پاس ہو گا۔ بلکہ سب ایمانداروں کے پاس۔ یعنی زیدی، آپ ، میں اور ہم سب کے پاس ۔

اکبر: اِس کا مطلب ہے کہ میرے پاس بھی یہ اختیار ہے۔ خداوند کا شکر ہو۔

شمیم: ایک اور آیت خدا کی طرف سے ہم کو دئیے گئے اختیار کی توثیق کرتی ہے۔ حضرت یعقوب کہتے ہیں، "شیطان کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا"۔ اُنہوں نے یہ نہیں کہا کہ عیسیٰ مسیح کو شیطان کا مقابلہ کرنے دواور وہ اُن سے بھاگ جائے گا۔ا ِس کے بجائے اُنہوں نے کہا شیطان کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا ۔ا ِس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس شیطان کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے اور عیسیٰ مسیح کے نام میں اُسے جھڑکنے کا اختیارہے۔

پروین: خُدا کی تعریف ہو۔کیا کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے ۔

عادل: جی میں کہنا چاہتا ہوں۔

پروین: جی عادل۔

عادل: دُعا کرتے ہوئے میں نے بائبل مقدس کھولی ا ور وہ آیتیں پڑھیںجو حضرت پولوس رسول نے افسیوںسے کہیں، "اور خُدا نے ہمیںمسیح کے ساتھ جلایا اور ہمیں آسمانی بادشاہت میں اُس کے ساتھ بٹھایا"۔ اِس کا مطلب ہے ہمارے خُداوند عیسیٰ مسیح وہاں لے گئے جہاں وہ سب سے اونچے مقام اور مرتبے پرہیں۔ اِس سے پہلے باب میں حضرت پولوس عیسیٰ مسیح کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ہر طرح کی حکومت اور اختیار اور قدرت اور ریاست اور ہر نام سے بلند کیاگیا۔ اِس کا مطلب ہے ہم شیطان کی سب قوتوں سے اوپر ہیں۔ اور وہ ہمارے نیچے ہے ، ہمارے پائوں کے نیچے۔

سبق نمبر38 صفحہ نمبر 5

پروین: عادل آپ درست کہتے ہیں۔ جب عیسیٰ مسیح صلیب پر موئے۔انہوں نے قدرت اور اختیارات کو غیر مسلح کر دیا۔ اُنہوں نے اُن کا برملا تماشہ بنایا۔ اِس کا مطلب ہے اُنہوں نے شیطان کو ہمیشہ کے لئے شکست دے دی۔ یہی وجہ ہے ہم شیطان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ہمیںمحسوس کرنا چاہیے ہم شکست خوردہ شخص سے لڑ رہے ہیں ۔ا ور خُدانے ہمیں اختیار دیاہے کہ اُسے اپنے پائو ں تلے کچلیں۔

اکبر: سوال یہ ہے، ہم اِس اختیار کو کِس طرح استعمال کر سکتے ہیں یا قوت کو کس طرح عمل میں لا سکتے ہیں۔

پروین: اِس قوت کو استعمال کرنے کے لئے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ خو د کو ایمان میں رکھیں اور مانیں کہ خُدانے ہمیں یہ قوت دی ہے۔

ناصر: امی ۔ کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں۔

پروین: جی ناصر۔

ناصر: کُچھ لوگ ہیں جو مانتے ہیں کہ خُدا نے انہیں یہ قوت دی ہے لیکن وہ اِسے استعمال کرنے سے درتے ہیں کہیں وہ ذلیل نہ ہوجائیں۔ مثال کے طور پر ہمیں کوئی شخص مِل جاتا ہے جوجانتا ہے کہ خدا نے اُسے یہ قوت دی ہے۔ لیکن وہ کِسی بیمار کیلئے دُعا کرنے سے ڈرتا ہے۔ اُسے اندیشہ ہے کوئی شفائ نہیں ہو گی۔ اُسے چاہئے کہ خُدا پر ایمان رکھے۔ کبھی شکست نہیں کھا ئے گا ۔

ندیم: مُجھے اپنے آپ پر بھی ایمان رکھنا چاہیے۔ مجھے اِس بات پر بھی یقین رکھنا چاہئے کہ خدا نے مُجھے یہ قوت دی ہے۔ میں نااہل انسان نہیں۔ کیونکہ بعض اوقات شیطان ہمیں ڈراتا ہے۔ ایک بار میرا ایک دوست بہت بیمار تھا اور میں نے اپنے راہنما سے آنے اور دُعا کرنے کو کہا۔راہنما کہنے لگا، پہلے تم ایک بچے کی طرح تھے اور ضرورت تھی کہ تمہیں کھانا کھلایا جائے اور تمہارے لئے ہر کام کیا جائے۔ لیکن ا ب تم خُدامیں جوان ہو گئے ہو،تمہارے پاس خدا کا دیا ہوا اخیتار ہے۔میں نے کہا، مُجھے ڈر ہے شاید اُسے شفائ نہ مِلے۔ وہ کہنے لگے، خوف شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ۔ اب کھڑے ہونے اور اُس قوت کو استعمال کرنے کے لئے تمہیں اپنے آپ پر اور خدا پر بھروسہ رکھنے کی ضرورت ہے۔اُن کی باتوں سے مجھے حوصلہ ملا۔ میں اپنے دوست کے پاس گیا اور اُس کیلئے دُعا کی اور بیماری کو جھڑکا۔ اور خُداوند نے اُسے شفائ دی۔

پروین: خُدا کی تعریف ہو۔ یہ سچ ہے، بہت مرتبہ ہم رُک جاتے ہیں، ہمیں یقین نہیں ہوتا کہ خدا ہمیں استعمال کر ے گا۔ ہمیں یقین کرنا ہے کہ وہ شفائ دیتا اور آزاد کرتا ہے۔

ندیم: لیکن پروین، یہ قدرت ہمیںانفرادی طور پر نہیں مِلتی۔ بلکہ کلیسیائ کے طور پرملتی ہے۔ عیسیٰ مسیح کلیسیائ کا سر ہیں اور ہم اُن کا بدن ہیں۔ احکام سر سے جاری ہوتے ہیں۔ یعنی عیسیٰ مسیح سے بدن کو احکام مِلتے ہیں اور وہ ہم ہیں۔ عیسیٰ مسیح زمین پر اپنی کلیسیائ کے ذریعے کام کرتے ہیں ۔

سبق نمبر38 صفحہ نمبر 6

شمیم: یہی وجہ ہے عیسیٰ مسیح نے کہا،"جو کُچھ تم زمین پرباندھوگے آسمان پر بند ھے گا ۔اوروہ سب کُچھ جو تم زمین پر کھولوگے آسمان پر کھلے گا"۔

ندیم: جی شمیم۔ اِس کامطلب ہے جو ہم زمین پر باندھتے ہیں آسمان بھی ہماری مدد اور حمایت کرتا ہے۔ اور عیسیٰ مسیح نے یہ بھی کہا، میں اِس چٹان پر اپنی کلیسیائ بنائونگا اور دوزخ کے دروازے اِس پر غالب نہیں آئیںگے۔ دوزخ کے دروازے ہمارے آگے نہیں ٹھہر سکتے۔ اس لئے ہمیں خدا کی طرف سے دئیے گئے اختیار کو استعمال کرنا چاہئے ۔مثال کے طور پرہمارا ایک پڑوسی ہے۔ جو ایماندار نہیں ۔ ہمیں ایمان سے دُعا مانگنا اور ابلیس کو جھڑکنا چاہیے کیونکہ ا بلیس کے بارے میںلِکھاہے، "اِس زمانے کے خُدا نے بے ایمانوں کے ذہنوں کو اندھا کر دیا ہے تا کہ وہ مسیح کے جلال کی خوشخبری کی روشنی نہ دیکھ سکیں۔

پروین: اور پھر ہمیں اپنے اُن دوستوں اور عزیزوں پر جو بیمار ہیں،ہاتھ رکھ کر دعا کرنی چاہئے اور جیسا بائبل مقدس کہتی ہے،"بیماروں پر ہاتھ رکھیں تو وہ شفائ پا جائیں گے"۔

عادل: کیا ہم اِس دئیے گئے اخیتار سے مردوں کو زندہ کر سکتے ہیں۔

ناصر: میں نے ایک مناد کے بارے میں پڑھا۔جو کسی جوان کے ساتھ خدا کے دئیے ہوئے اُس اخیتار کے بارے میں بات کر رہا تھا جس سے مردے بھی زندہ ہو جاتے ۔جب وہ اُس کے ساتھ گفتگو کر رہا تھا ، اُنہوںنے ایک شخص کو دیکھا جو کِسی حادثے میں ابھی مرا تھا اور اُس کی بیوی اور بچے اُس کے گِرد جمع ہوکر رو اور چلا رہے تھے۔ جوا ن آدمی نے مناد سے کہا، آپ نے ہمیں مردوں کو زندہ کرنے کے اختیار کے بارے میں بتایا ہے۔ آپ کیوں نہیں جاتے اور اِس آدمی کو موت کے منہ سے نکالتے۔

اکبر: کیا وہ اِس بات کیلئے راضی ہوا۔

ناصر: اکبر،پہلے تو مناد کُچھ ہچکچایا اور ڈرا پھر اُس نے خُداپر بھروسہ کیا جِس نے اُسے یہ قوت دی تھی۔ اُس نے مردے کو پکڑا جِس کا چہرہ خون سے لت پت تھا۔اور کہا عیسیٰ مسیح کے نام میں اپنی موت سے نکل کر زندہ ہو جا۔ وہ مردہ شخص زندہ ہو گیا۔سب لوگ حیران ہوگئے۔ مناد نے گلی میں سب لوگوں کے درمیان گواہی دی۔ اور بہت لوگ ایمان لائے۔

تمام: خداوند کا شکر ہو۔اُس کی تعریف ہو۔خداوند کے نام کو جلال ملے۔آمین۔

پروین: آئیں ہم دعا کریں کہ خدا ہمیں وہ قوت اور اخیتار جو اُس نے ہمیں عطا کیا ہے استعمال کرنے کی طاقت دے۔

زیدی: اے خُدا، تیری طرف سے دی گئی طاقت کے لئے ہم تیرا شکر کرتے ہیں ۔ ہمیں سِکھا کہ کِس طرح اُسے تیرے جلال کے لئے استعمال کریں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔ آمین۔

تمام: آمین۔

سبق نمبر38 صفحہ نمبر 7

نائیلہ: خُداوند نے فرمایا، وہ کام جو میں کرتا ہوں تم کر سکتے ہو بلکہ اِس سے بھی بڑے کام۔ آئیں آنے والے دِنوں میں بیماروں کو شفائ دینے کے لئے خدا کی طرف سے دئیے گئے اختیار کو استعمال کریں۔ مردوں کو زندہ کریں۔ لوگوں کوشیطان کے بندھن سے آزاد کریں۔

اکبر: اے خداوند میں اپنی امی اور ابو کے لئے دُعا کرتا ہوں ۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں ، میں ہر بندھن کو توڑتاہوں جو شیطان اُ ن پر رکھتا ہے۔

تمام: آمین۔

ندیم: آج ایک فوج یہاں سے کوچ کرے گی جو اب جانتی ہے کہ اِس قوت کو کِس طرح استعمال کرنا ہے اور خُدا کی بادشاہت کو بڑھانا ہے۔

نائیلہ: ہم اِس زبردست مضمون کے لئے پروین بہن کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔

تمام: جی ہاں ۔بالکل۔بہت زبردست مضمون تھا۔

پروین: بہت شکریہ۔

ندیم: کیا کوئی اور کُچھ کہنا چاہتا ہے۔

پروین: میں کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی پروین۔

پروین: اگلی عبادت میںہم نو ممبران ہونگے۔

تمام: خُدا کی تعریف ہو۔شکر ہو۔اُس کے نام کو جلال ملے۔

نائیلہ: کیا آپ کی سہیلی،نگہت آرہی ہے۔

پروین: جی ہاں، پچھلے ہفتے اُس نے پوچھا تھا کہ آیا وہ عبادت آسکتی ہے۔

ندیم: خدا کی تعریف ہو۔ ہماری تعدار بڑھ رہی ہے۔کیا کوئی اور کُچھ کہنا چاہتاہے؟

اکبر: ندیم انکل ،ہم نے پہلے کُچھ کرداروں کے بارے میںمطالعہ کیا ہے۔کیاہم دوبارہ سے شروع کر سکتے ہیں۔

ندیم: جی ہاں۔کیوں نہیں پچھلی مرتبہ ہم نے گلتیوں کے خط کا مطالعہ کیا تھا۔اگلی بار ہم ایک اور کردار کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ آپ کِس کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔

سبق نمبر38 صفحہ نمبر 8

شمیم: میں کچھ عرصہ اعمال کی کتاب کا مطالعہ کرتی رہی ہوں۔ اور حضرت پطرس کے کردار نے مُجھے بہت متاثر کیاہے۔ میں چاہوں گی اگر ہم اِس کا مطالعہ کریں اور اُن کی زندگی کے کُچھ نکات پر سوچ بچار کریں۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ اگلی بار ہم حضرت پطرس کے کردار کا مطالعہ کریں گے۔ میں آپ کو یاد دِلانا چاہتا ہوںکہ ہماری اگلی عبادت ہمارے گھر میںاِسی وقت ہو گی۔خداوند آپ سب کو برکت دے۔

تمام: آمین۔