Hear Fellowship With My Family Episode 39 (Audio MP3)

View FWMF episode 39 as a PDF file

سبق نمبر39 صفحہ نمبر1

"پطرس رسول کی زندگی"

﴿Music﴾

ندیم: زیدی بھائی،کیا آپ اُس خوشی کو دیکھ سکتے ہیں جو اِن دوستوں کی آنکھوں میں ہے۔

زیدی: جی ندیم،پوری کلیسیائ ایک نئے ممبر کی پیدائش کی وجہ سے خو ش ہے۔ مجھے یقین نہیں آرہا کہ آج نواں ممبر ہماری کلیسیائ میں شامل ہو رہا ہے۔

ندیم: خُدا کا شکر ہے،دس ممبر ہونے میں صرف ایک کی کمی ہے۔

زیدی: اور ایک کلیسیائ دو کلیسیائیں بن جائینگی۔

ندیم: اور دو چار بنیںگی۔

زیدی: اور چار آٹھ بنیں گی۔ میں بہت خوش ہوں۔

﴿Music﴾

نائیلہ: پروین،میری بڑی خواہش تھی کہ ہر کوئی اپنے دو تین دوستوں کو کلیسیا میں لائے اور یوں ممبران کی تعداد اور کلیسیائیں بڑھتی جائیں۔

پروین: نائیلہ،کیا آپ کو پتہ ہے کہ کلیسیائ کی پیدائش کیا ہوتی ہے۔

نائیلہ: کیا ۔

پروین: تاریکی کے بیچ میں روشنی۔ کلیسیائوں کے بڑھنے سے روشی پوری دنیا میں پھیل جائے گی اور خُدا کا نام ہر جگہ ظاہر ہو گا۔

نائیلہ: خُدا کی تعریف ہو۔ ہماری آنکھیں کب ایسا ہوتے دیکھیںگی۔

﴿Music﴾

شمیم: عادل، وہ دِن ضرور آئے گا۔جب ہم کلیسیائیں بڑھتی دیکھیں گے۔

عادل: شمیم کیا ہمارے گھر میں کلیسیا قائم ہوگی ۔

شمیم: آ پکے الفاظ اور حیرانی مُجھے اُس بات کی یاد دِلاتی ہے جو پروین باجی نے ندیم بھائی کے بارے میں بتائی۔ جب ندیم بھائی بھی کلیسیائ شروع کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ اُن کے چہر ے پربھی ایسا ہی نظارہ تھا۔عادل، ندیم بھائی ذکر کر رہے تھے کہ آج نوممبر کے ساتھ کلیسیائ دو کلیسیائیں بن جائے گی۔ اور پھر چار کلیسیائیں بنیں گی۔

سبق نمبر39 صفحہ نمبر2

عادل: آمین۔ شمیم، یقیناََ اُن میں سے ایک کلیسیا ہمارے گھر میں قائم ہو گی۔

شمیم: آمین۔

﴿Music﴾

اکبر: ناصر،میں آپ کی وجہ سے آج یہاں ہوں اورعظیم زندگی اور خوبصورت تعلیم سے لطف اُٹھا رہا ہوں۔

ناصر: خُدا کی تعریف ہو۔ اکبر۔

اکبر: ناصر،میرے کچھ دوست ہیں جن سے میں ملنا چاہتا ہوں۔کیا آپ میرے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں۔

ناصر: کیوں نہیں۔ہم کل سے اپنی میٹنگز شروع کر سکتے ہیں۔

اکبر: ٹھیک ہے۔

﴿دروازے کی گھنٹی بجتی ہے﴾

پروین: ضرور یہ نگہت ہو گی۔﴿دروازہ کھلتا ہے﴾

(off MK)ہیلونگہت۔ کیسی ہیں۔

نگہت: پروین بہن میں ٹھیک ہوں۔ آپ کیسی ہیں۔

تمام: ہیلو نگہت،خوش آمدید،ویلکم،آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔

نگہت: شکریہ آپ سب کا۔

پروین: نگہت، یہ میرے خاوند ندیم ہیں۔یہ زیدی صاحب اور اُن کی بیوی نائیلہ ہیں، یہ میرا بیٹا ناصر اور اُسکا ددست اکبرہے۔ اور یہ میری بہن شمیم اور اُس کا منگیترعادل۔

﴿ہر دو ناموں کے بعد مبارکباد کی آوازیں سُنی جاتی ہیں۔ آپ سے مِل کر خوشی ہوئی اور مبارکباد کے دوسرے اظہار﴾

ندیم: نگہت بہن، ہم خوش ہیں کہ آپ تشریف لائی ہیں۔جب ہم سب چائے پی رہے ہیں ،میں چاہوں گا کہ آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیں۔

نگہت: ندیم بھائی ضرور،میرا نام نگہت ہے۔ میری عمر 22سال ہے۔ میںپروین بہن کے ساتھ کام کرتی ہوں اور اپنی امی ابو کے ساتھ رہتی ہوں ۔

نائیلہ: بہت خوب،نگہت آپ بتائیں خُداوند کو آپ نے کیسے جانا؟

سبق نمبر39 صفحہ نمبر3

نگہت: اِ س سے پہلے کہ پروین بہن مجھے عیسیٰ مسیح کے بارے میں بتاتیں،میں کلب میں اپنا وقت گزارا کرتی تھی۔میںخیال کرتی تھی کہ یہ سب سے بڑی خوشی ہے ۔ اور جب پروین بہن نے مُجھے عیسیٰ مسیح کے بارے میں بتایا ، میں نے اِن کا مذاق اُڑایا۔ لیکن جب میں نے اُن باتوں کے بارے میں سوچا جواِنہوںنے بتائیں میںنے دیکھا کہ وہ درست تھیں۔ میں نے غور سے اِن کی باتیں سُننا شروع کر دیں۔اب میں اِس نیتجے پر پہنچی ہوں کہ میں اپنی باقی زندگی خُداوند کے لئے بسر کروں گی۔ مُجھے آپ سب کی ضرورت ہے۔میں بہت کمزور ہوں

ندیم: خدا کی تعریف ہو۔ آئیے خُدا کے نام کی تعریف کرتے ہوئے اپنی عبادت شروع کریں۔ آج شمیم رہنمائی کریں گی ۔ جی شمیم۔

شمیم: آئیے ہم یہ گیت گاتے ہوئے عبادت شروع کریں۔

ندیم: آمین۔ پچھلی مرتبہ ہم نے پطرس رسول کے کردار کا مطالعہ کر نے پر اتفاق کیا تھا۔ تو آئیے آج کی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں ۔

نگہت: جب پروین بہن اِس ہفتے مجھے ملنے آئیں۔اُنہوں نے مجھے پروگرام کے متعلق بتا دیا تھا اور مطالعے میں میری مدد بھی کی تھی۔

ندیم: بہت خوب ،اِس کا مطلب ہے کہ ہم سب تیار ہیں۔عبادت سے پہلے اکبر نے مجھے بتایا تھا کہ اُنہوں نے حضرت پطرس کے کردار کے متعلق تیاری کی ہوئی ہے۔مگر آئیے،نائیلہ بہن سے تعارف سنتے ہیں۔

نائیلہ: پطرس کے نام کے معنی ہیں۔ چٹان۔ بائبل مقدس سے ہم سیکھتے ہیںکہ حضرت پطرس شادی شدہ تھے۔ اور اُنکا ایک بھائی اندریاس تھا۔ اُن کا اصلی پیشہ ماہی گیری تھااور عیسیٰ مسیح اُنہیں اُن کے بھائی کے ساتھ مِلے جب وہ ساری رات مچھلیاں پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اور کوئی مچھلی نہ پکڑی ۔جب عیسیٰ مسیح اُن سے مِلے ۔ تو اُنہوں نے حضرت پطرس سے کہا، سمندر میں گہرے میں جا اور وہاں جال ڈال اور جب حضرت پطرس نے جال کو گہرے سمندر میں ڈالا ۔ تو اُنہوں نے بہت سی مچھلیاں پکڑیں۔ اور اُسی لمحے عیسیٰ مسیح نے حضرت پطرس اورحضرت اندریاس کو دعوت دی ۔ پس اُنہوں نے سب کُچھ چھوڑ ا اور عیسیٰ مسیح کے پیچھے ہو لئے۔

ندیم: اکبر،کیا آپ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

اکبر: جی ہاں۔حضرت پطرس رسول بہت جذباتی تھے ۔ وہ سب شاگردوںمیں سب سے زیادہ بات چیت کرسکتے تھے۔اُنہوں نے شاندار زندگی گزاری اور عیسیٰ مسیح کے لئے ہزاروں جانوں کوجیتا۔ اُنہوں نے بائبل مقدس میں دو خطوط لکھے۔ کلیسیائی روایت بتاتی ہے کہ وہ شہید ہوئے۔ اُنہیں اُن کے کہنے پرصلیب پر اُلٹا لٹکایا گیا۔ کیونکہ وہ اپنے آقا کی طرح مرنا نہیں چاہتے تھے۔

ندیم: نائیلہ بہن اور اکبر، اِس مکمل اور سالم تعارف کے لئے آپ کا شکریہ۔ آئیے اب حضرت پطرس کی زندگی پر مزید گفتگو کرتے ہیں۔کون شروع کرے گا۔

پروین: ندیم،میں شروع کروں۔

سبق نمبر39 صفحہ نمبر4

ندیم: جی پروین۔

پروین: حضرت پطرس شاگرد کی کامل مثال تھے جو اپنے آقا سے سیکھتا ہو۔ اور اُن کی زندگی سے ظاہر ہے ۔ اور بہت سے اسباق میںسے ایک جو عیسیٰ مسیح نے اُنہیں سِکھایا،دوسروں سے رحمدل ہونا تھا۔ اور بائبل مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ ، "یسوع یعنی عیسیٰ مسیح شہروں اور دیہاتوں میں سے گزرتا اور بیماروں کو ہر طرح کی بیماری سے شفائ دیتا پھرا"۔اور جب وہ بھیڑ کو دیکھتا تو اُسے اُن پر ترس آتا تھا ۔ یہ عیسیٰ مسیح کا دِل تھا۔ اور یہی کچھ حضرت پطرس نے سیکھا۔

اکبر: جب میں نے حضرت پطرس کی زندگی کے بارے میں پڑھا،میں نے دیکھا،کہ ایک لنجا جو ہیکل کے دروازے پر بیٹھا بھیک مانگ رہا تھا۔حضرت پطرس نے اُسے کہا سونا ، چاندی تو میرے پاس نہیں۔ لیکن اُنہوں نے اُسے عیسیٰ مسیح کے نام میں کھڑا ہونے اور چلنے کو کہا۔ اور وہ آدمی فوراََ شفائ پا گیا۔

عادل: ایک اور کہانی میں اُنہیں ایک آدمی اینیانس نامی ملِا جو آٹھ سال سے بستر پر تھا ۔کیونکہ وہ مفلوج تھا۔ اورحضرت پطرس نے اُسے کہا۔ اینیانس یسوع تجھے ابھی شفائ دے اور وہ فوراََ تندرست ہو گیا۔

پروین: حضرت پطرس کے پاس عیسیٰ مسیح کے رحم سے بھرا دِل تھا ۔ ہمارے اردگرد کے لوگوں کو بھی رحم سے بھرے دِل کی ضرورت ہے ۔ اُن کی ضرورتوں کومحسوس کرنے والے دِل کی۔ خُدا ایسے دِل پسند کرتا ہے جو لوگوں کے لئے رحم سے بھرے ہوں۔

ناصر: میں نے ایک بار ایک لڑکی کے بارے میںپڑھا جو اپنی ماں کی قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ کوئی شخص اُس کے پاس آیا اور اُسے بہت سے روپے دے کر چلا گیا۔ لڑکی نے وہ نقدی لی او ر قبر میں پھینک دی،اوررونا جاری رکھا کیونکہ یہ اُس کی ضرورت نہ تھی۔

اُسی وقت ایک خاتون اُس کے قریب آئی اور اُس کو اپنے بازئوں میں لے کر خُدا کے بارے میں بتانے لگی۔ جولوگوں کو تسلی دیتا ہے۔ لڑکی نے تسلی پائی اور رونا بند کر دیا۔ کیونکہ یہ اُس کی ضرورت تھی۔

ندیم: اِسی لئے جو پروین نے کہا وہ بہت اہم ہے۔ میر ی خواہش ہے کہ خُدا ہم میں لوگوں کے لئے رحم بھرے دِل پیدا کرے۔ کون اب کُچھ اور کہنا پسند کرے گا؟

زیدی: ندیم بھائی،میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی زیدی بھائی۔

زیدی : ایک مرتبہ حضرت پطرس سمندر میں شاگردوں کے ساتھ تھے اور اچانک سمندر میں طوفان آگیا۔اُنہوںنے چلانا شروع کر

دیا ۔اچانک اُنہوں نے عیسیٰ مسیح کو پانی پر چلتے اور اپنی طرف آتے دیکھا ۔ اورحضرت پطرس نے اُن سے کہا، اے خُداوند اگر تُو ہے تو اجازت دے کہ میں تیرے پاس آئوں ۔خُداوند نے حقیقتاََ اُنہیں اپنے پاس بُلایا اوروہ پانی پر چلنے لگے۔ کچھ دیر بعد اُنہوں سبق نمبر39 صفحہ نمبر5

نے زبردست لہریں دیکھیںاور ڈوبنے لگے۔کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ حضرت پطرس کے پاس پانی پر چلنے کے لئے ایمان تو تھا اور وہ عیسیٰ مسیح پر نظریں گاڑ کر پانی پر چلے بھی۔ لیکن جِس وقت اُن کی نگاہیں عیسیٰ مسیح سے ہٹ کر مضبوط لہروں پر پڑیں۔ اُنہوں نے چلانا شروع کر دیا اور ڈوبنے لگے۔

نگہت: میں حضرت پطرس پر الزام نہیں لگا رہی،مگر اُنہوں نے اپنی نگاہیں سارا وقت عیسیٰ مسیح پر کیوں نہ گاڑدیں۔میر ا خیال ہے یہ اُن کی غلطی تھی۔

ندیم: نگہت بہن ہم بھی ایسا ہی کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ،جب کوئی شخص بہت بیمار ہوتا ہے اور خُداوند اُسے کہتا ہے نہ ڈر کیونکہ میں تیرا خُداوند شفائ دینے والا ہوں اور یہ شخص خُداوند پر اپنی نگاہیں گاڑ دیتا ہے اور خُداوند کے وعدوںکومان لیتا ہے سچ مچ شفائ پاتاجائے۔ جبکہ دوسرا شخص جو ایک دو دِن ایمان رکھتا ہے۔ لیکن جونہی اُس کی نگاہیں خداوند سے ہٹتی ہیں۔ اور اُسکی صحت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ۔ تو وہ ڈوبنا شروع کردیتا ہے کیونکہ اُس کی نگاہیں خُداوند سے ہٹ جاتی ہیں۔

شمیم: جی ہاں! جب ہم اپنی نظریں خُداوند پر گاڑ دیتے ہیںتو ہمارے حالات کیسے بھی کیوں نہ ہوں۔عیسیٰ مسیح ہماری مدد کو آموجود ہوتے ہیں۔

ندیم: بالکل،کوئی اور کُچھ کہنا چاہتا ہے۔

نائیلہ: جی میں کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی نائیلہ بہن۔

نائیلہ: جس بات پر میری نظر پڑی وہ حضرت پطرس کے ساتھ کلیسیا ئ کا اتحاد ہے۔ جب وہ قید میں تھے تو حضرت پطرس کو بچانے کے لئے کلیسیائ خُدا سے جوش سے دُعا کر رہی تھی اور دُعائوں کے نتیجے میںخُدا نے معجزہ کیا اور اپنے فرشتے کو بھیجا او ر حضرت پطرس کو قید خانے سے نکال دیا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مضبوط دُعائیں ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہیں۔اور اُس سے ہمارے اتحاد کی قوت کا اندازہ ہو تا ہے۔

ندیم: یہ سچ ہے کہ اتحاد میں ایک حقیقی طاقت ہے۔ ہو سکتا ہے جب ہم دُعا کے بارے میں بات کرتے ہیں ہم صرف اپنے لئے ہی دُعا کرتے ہیں۔ آج خُداوند چاہتا ہے کہ ہم دوسروں کیلئے بھی دعا کیا کریں۔

زیدی: میںکبھی نہیں بھولوں گا کِس طرح آپ نائیلہ کے لئے اپنی دُعائوں کے ساتھ میرے ساتھ شامل ہوئے ۔

عادل: آپ میری مالی ضروریات کے لئے دُعا بھی کرتے رہے ۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ اب اور کون کچھ کہئے گا۔

سبق نمبر39 صفحہ نمبر6

عادل: ندیم بھائی،میں کہوں گا۔

ندیم: جی عادل۔

عادل: آخری مرتبہ جب عیسیٰ مسیح حضرت پطرس سے مِلے تو اُنہوں نے پوچھا، یوحنا کے بیٹے شمعون کیا تُو مُجھ سے محبت کرتا ہے اورحضرت پطرس نے جواب دیا ، ہاں اے خُداوند اورعیسیٰ مسیح نے اُن سے کہا، میری بھیڑیں چرا ۔ یہ سوال و جواب تین بار دہرائے گئے ۔ خُداوند عیسیٰ مسیح حضرت پطرس کو بتانا چاہتے تھے کہ اگر وہ اُن سے محبت کرتے ہیں توعملی طور پر دکھانے کی ضرور ت ہے۔ صرف زبانی محبت نہیں کرنی بلکہ میرے لوگوں کی نگہداشت کرنا ہے۔

ندیم: جو عادل بھائی کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے ۔ محبت صرف لفظوں سے نہیں دِکھائی جاتی بلکہ اعمال سے دکھائی جاتی ہے۔مثال کے طور پر، میں ہر روز پروین سے کہتا ہوں ، میں تم سے محبت کرتا ہوں۔کیا یہ کافی ہے۔

تمام: جی نہیں،یقیناََ نہیں،قطاً نہیں۔

ندیم: بالکل، درحقیقت مُجھے ایسے کام کرنے چاہیں جو پروین کے لئے میری محبت کو ثابت کریں۔ پس وہ کام جو خدا چاہتا ہے کہ ہم اپنی محبت دکھانے کیلئے کریں۔یہ ہیں کہ اُس کے لوگوں اور فرزندوں کی نگہداشت کریں اور اُس کے بارے میں اُن سے گفتگو کریں۔ اوراُنہیں اُس کے پاس لائیں۔ ائیںآج سے جب ہم خُداوند کو بتاتے ہیں کہ ہم اُس سے محبت کرتے ہیں اِسے عملی طریقے سے کر کے دکھا ئیں ۔

نگہت: ندیم بھائی،میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: ضرور،کیوں نہیں۔

نگہت: میں حیران ہوں کہ حضرت پطرس جو ایک ماہی گیر تھے ، کس طرح عیسیٰ مسیح کے بارے اتنی بڑی قدرت سے تمام لوگوں کے سامنے بات کر تے تھے۔کہ پینتیکوست کے دِن ایک ہی وعظ میں ہزاروں لوگ عیسیٰ مسیح کو جان گئے۔مجھے تعداد کا اندازہ نہیں۔

ندیم: کم و بیش تین ہزار۔

نگہت: اُنہوں نے اتنی بڑی طاقت کہاں سے حاصل کی۔ اور خُدا نے کیوں نہ کِسی زیادہ طاقتور آدمی کو چُنا۔ اور کیا خدا مجھ جیسی کمزور کو بھی استعمال کر سکتا ہے۔

ندیم: نگہت،خُدا استعمال کرنے کے لئے سادہ اور عام قسم کے لوگوں کو تلاش کرتا ہے ۔ ایک آیت کہتی ہے کہ خُدا نے اِس دُنیا کے کمینوں ، حقیروں اور بے وجودوں کو چن لیا۔ جِس کا مطلب ہے اُس نے بہت سادہ لوگوں کو اپنی قوت دِکھانے کو چُن لیا ہے تاکہ کوئی اُس کے سامنے شیخی نہ مارے۔ بلکہ سارا جلال خُداوند کو مِلے۔

سبق نمبر39 صفحہ نمبر7

زیدی: اگر آپ بائبل مقدس میں دیکھیں ۔آپ کو بہت سے سادہ لوگوں کی مثالیں مِلیں گی جنہیں خُدا نے چُنا ہے۔ مثال کے طور پر کنواری بی بی مریم ، غریب اور کم عمر تھیں، پھر بھی خُدا نے خصوصی طور پر عیسیٰ مسیح کو جنم دینے کیلئے اُنہیں چُنا۔

پروین: خُدا مُجھے میری حالت ، شکل و صورت یا تعلیم کی کمی کے باوجود استعمال کر سکتا ہے۔ اِس سے فرق نہیںپڑتا کہ میں سب کُچھ جانتا ہوں ،ہم میں پاک روح کا کام ہے جو معنی رکھتا ہے ۔ جب پاک روح نے حضرت پطرس رسول کو استعمال کیا وہ تین ہزار آدمیوں کوعیسیٰ مسیح کے لئے جیتنے میں کامیاب ہوگئے۔

ندیم: نگہت یقین کرو، کہ خدا ایک دِن آپ کو استعمال کرے گا جیسے اُس نے اِن بڑے لوگوں کو استعمال کیا۔ آمین۔ کیا اِس کے علاوہ کوئی کُچھ کہنا چاہتا ہے۔

شمیم: ندیم بھائی،میں کہناچاہتی ہوں۔

ندیم: جی شمیم کہئے۔

شمیم: جب حضرت پطرس پہلی بار عیسیٰ مسیح سے ملے اور جو کچھ اُنہوں نے کیا،مجھے بہت پسند ہے۔ وہ فرمانبرداری اور ایثار کا نمونہ تھے۔

ندیم: شمیم،کیا آپ وضاحت کر سکتی ہیں۔

شمیم: جب خُداوندعیسیٰ مسیح نے حضرت پطرس سے گہرے سمندر میں جانے اور جال ڈالنے کو کہا ، اُن کیلئے دلچسپ بات تھی۔ کیونکہ مچھلیاںگہرے پانی میں نہیں ہوتیں۔ لیکن حضرت پطرس نے فرمانبرداری کی ۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ اُنہیں ماہی گیری کا گہرا تجربہ ہے اورمچھلیاں گہرے پانی میں نہیں ٹھہرتیں۔ مگر حضرت پطرس نے ایسا کُچھ نہ کہا۔ اِس کے برعکس وہ اپنے علم اور تجربے کے بارے سب کُچھ بھول گئے اور خُدا کے کلام پر بھروسہ کیا ۔ اور فرمانبرداری کے نتیجے میں جال مچھلیوں سے بھر گیا ۔ اِس حد تک کہ پھٹنے لگا۔

زیدی: اُنہوں نے نہ صرف اپنے آپ کو تابع کر دیابلکہ اپنے تجربے کی بھی پرواہ نہ کی۔اُنہوں نے لوگوں کی رائے کی بھی پرواہ نہ کی اور خُداوند کا حُکم مانا۔

ندیم: یہ سچ ہے ۔ بہت مرتبہ ہم لوگوںکی رائے کو تر جیج دیتے ہیں ۔ ہم اُ ن کے سامنے اپنے آپ کو تر جیج دیتے ہیں۔

نائیلہ: ندیم بھائی،میں بھی کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: نائیلہ بہن، کہئے۔

نائیلہ: حضرت پطرس رسول کی زندگی کے مشہور واقعات میں سے ایک واقعہ اُنکا خُداوندعیسیٰ مسیح کا انکار ہے۔ حضرت پطرس نے عیسیٰ مسیح کو بتایا اگر یہ سب تجھے چھوڑ دیں مگر میں نہیں چھوڑونگا۔ بعض اوقات ہم سوچتے ہیں کہ ہم مضبوطی سے کھڑے ہیں ۔مگر دراصل یہی

وقت ہوتا ہے جب ہم گِرنے کے قریب ہوتے ہیں۔

سبق نمبر39 صفحہ نمبر8

ناصر: نائیلہ آنٹی۔ بالکل صحیح۔ ایک آیت کہتی ہے، غرور سے پہلے تباہی اورمتکبر روح سے پہلے زوال"۔

نائیلہ: ہاں ناصر۔ لیکن وہ چیز جو حضرت پطرس کے کردار میں سچ مچ اثر کرنے والی ہے وہ یہ ہے کہ جب انہوں نے اِس واقعے میں عیسیٰ مسیح کا انکار کیا وہ باہر چلے گئے اور زار زار روئے۔ وہ آنسوئوں کے ساتھ پچھتائے۔ اُنہوں نے عیسیٰ مسیح کے رحم کی بات نہ چھوڑی۔ دوسری بات یہ، کہ اگر ہم گناہ کریں تو ہم کو خُدا کے رحم پر اُمید کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے۔

زیدی: جب عیسیٰ مسیح مردوں میں سے جی اُٹھے اور مریم پر ظاہر ہُوئے۔ اُنہوں نے بی بی مریم کو جا کر بھائیوں کو بتانے کو کہا۔ اور اُنہوں نے حضرت پطرس کا خاص ذِکر کیا ۔ اُنہیں یہ یقین دِلانے کے لئے کہ اگرچہ اُنہوں نے اُن کا انکار کیا تھا پھر بھی وہ اُن سے پیار کرتے ہیں۔ خُدا سچ مچ ہم سے پیار کرتا ہے

ندیم: خدا کی تعریف ہو۔آپ سب کا شکریہ ۔آپ نے پوری توجہ سے بات چیت میں حصہ لیا۔اب ہماری عبادت کا وقت ختم ہو تا ہے۔اگلی عبادت اِسی وقت ہمارے گھر پر ہوگی۔خداوند عیسیٰ مسیح آپ کو برکت دیں۔

تمام: آمین۔