Hear Fellowship With My Family Episode 40 (Audio MP3)

View FWMF episode 40 as a PDF file

سبق نمبر40 صفحہ نمبر1

.Music.

ندیم: ناصر کیا بات ہے ۔ تُم کیوں اِس طرح بیٹھے ہو۔

ناصر: ﴿افسردہ لہجے میں ﴾ ابو کچھ نہیں ۔

ندیم: چند دنوں سے میَں تمہیں اِسی طرح دیکھ رہا ہوں ۔

ناصر: ابو۔ میَں کچھ پریشان ہوں ۔

ندیم: ناصر مجھے بتائو۔ تمہیں کیا پریشانی ہے ۔

ناصر: ابو ، چند دِن پہلے میَں نے کچھ ایسا کیا جو درُست نہیں تھا ۔ اور میَں اپنے آپ سے خوش نہیں۔

ندیم: ناصر ! ایسا کرو تُم خُدا کے حضور جائو اور جو کچھ کیا ہے ، اُس کا اعتراف کرو اور توبہ کرو اور عیسیٰ مسیح کے لہو کو پکارو جیسے بائبل مُقّدس

کہتی ہے ’’ عیسیٰ مسیح کے خُون سے گناہوں کی مُعافی ہے‘‘۔

ناصر: ابو میَں نے ایسا ہی کیا تھا۔

ندیم: پھر! تُم پریشان کیوں ہو؟

ناصر: میَں محسوس کرتا ہُوں کہ خُدا اَبھی بھی مُجھ سے ناخُوش ہے۔

ندیم: یہ سچ نہیں ہے ناصر۔ بائبل مُقّدس فرماتی ہے ، اَگر ہم اپنے گناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کو مُعاف کرنے اور

ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے۔

ناصر: ابو، آپ کے اِلفاظ نے مجھے بہت تسلی دی ہے۔ میَں محسوس کررہا ہُوں کہ خُدا نے سچ مچ مُجھے مُعاف کردیا ہے۔

ندیم: یہ خُدا کا کلام ہے جس نے تمہیں تسلی دی ہے۔ بائبل مُقّدس بتاتی ہے کہ خُدا کا کلام زِندہ اور موثر ہے۔

پروین: ﴿Coming﴾بھئی آپ اِتنی دیر سے کیا باتیں کررہے ہیں ۔ لوگ آنے والے اور آپ اَبھی تک تیار نہیں ہُوئے۔

ندیم: اوہ ! پروین ، باتوں باتوں میں خیال ہی نہیں رہا ۔ ناصر آئو تیار ہوجائیں ۔ ہم عبادت کے دوران اپنی گفتگو جاری رکھیں گے ۔ آج ہم بائبل مُقّدس اور ہماری زِندگیوں میں کلام کی اہمیت کے بارے میں گفتگو کریں گے ۔

ناصر: اور ابو ، آج گفتگو کا آغاز میَں کروں گا۔

.Music.

ندیم: خُدا کا شکر ہے کہ سب پہنچ گئے ہیں ۔آئیے اپنی عبادت شروع کریں ۔ آج اَکبر حمدوستائش میں ہماری رہنمائی کریں گے۔

سبق نمبر40 صفحہ نمبر2

اکبر: آئیے ! آج سارا جلال اپنے خُداوند کو دیں ۔ اُس کی تعریف کریں ۔ اُسے سربلند کرتے ہُوئے اُس کی عبادت شروع کریں۔

آپ سب میرے پیچھے پیچھے کہیں۔ اَے خُدا ، ہم تُجھے سربلند کرتے ہیں ۔ ہم تیرے نام کو اُونچا کرتے ہیں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔ آمین!

تمام: ﴿دہراتے ہیں﴾

ندیم: میَں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب ہم اکٹھے ہوتے ہیں ۔ ہم بے بیان خُوشی سے بھر جاتے ہیں ۔ مُجھے یقین ہے کہ خُدا آج

ہمیں ایک غیر معمولی برکت دے گا۔

نگہت: میَں بھی کہنا چاہتا ہُوں کہ میَں بہت کچھ سیکھ رہی ہوں جو خُداوند ہمیں سکھانا چاہتا ہے۔

شمیم: ندیم بھائی ! آج ہم کس چیز کے بارے میں بات کریں گے ۔

ندیم: آج ہم بہت ہی اہم مضمون کے بارے میں بات کریں گے۔ یہ ایک ایسا مضمون ہے جو براہ ِ راست اَثر کرتا ہے اور خُدا

سے ہمارے تعلق اور چال چلن پر اَثر ڈالتا ہے۔

نائیلہ: ندیم بھائی جلدی بتائیں ، ہم جاننے کے لئے بیتاب ہیں۔

ندیم: ہم خُدا کے کلام کی حضُوری کی اہمیت پر بات کریں گے۔ ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ ہماری زِندگی میں بائبل مُقّدس کی

کیا اہمیت ہے۔

عادل : میَں بھی اِس مضمون کے بارے میں خیال کررہاتھا۔ میَں نے محسوس کیا کہ مُجھے اِس کے بارے میں جاننے کی بہت ضرورت ہے۔

ندیم: آج گفتگو کا آغاز ناصر کرے گا کیونکہ اُس کے ساتھ کچھ واقع ہُوا ہے جس سے ہماری زِندگیوں میں خُد اکے کلام کی اہمیت کا

پتہ چلتا ہے۔ ناصر شروع کریں ۔

ناصر: بائبل مُقّدس میں لکھا ہے ’’ تُم سچائی کو جانو گے اور سچائی تمہیں آزاد کرے گے‘‘۔ چند دِن پہلے مجھ سے غلطی ہُوئی ۔ میَں

نے اعتراف کیا اور توبہ کی لیکن پھر بھی اِس کے بارے میں پریشان تھا ۔ میَں نے محسوس کیا کہ خُدا نے مجھے مُعاف نہیں کیا

لیکن جب ابو نے مُجھے خُدا کی مُعافی اور مُعاف کرنے والے خُون کی یاد دِلائی تو مجھے اُن جُھوٹے خیالات سے آزادی مِل گئی

اور میَں نے راحت محسوس کی۔

زیدی: ناصر! یہ سچ ہے۔ بائبل مُقّدس کے اِلفاظ سچے ہیں۔ یہ خُدا کا کلام ہے جو خُدا نے ہمارے لئے اپنے نبیوں اور رسولوں سے

کیا ۔ خُدا کا کلام ہمیں آزاد کرنے کے لئے قُوت رکھتا ہے۔

ندیم: زیدی بھائی! یہی وجہ ہے جب ہم بائبل مُقّدس پڑھتے ہیں توہم سچائی کو جان سکتے ہیں۔ خُدا کی محبت ، اَبدی مُعافی ، رحم اور اُس

سبق نمبر40 صفحہ نمبر3

اختیار کو جان سکتے ہیں جو خُدا نے ہمیں دیا ہے ۔ ہم اُس کے اختیار اور خُوشی کو جو اُس نے ہماری زِندگیوں میں دی ہے ،

محسوس کرسکتے ہیں۔

پروین: یہی وجہ کہ بائبل مُقّدس کہتی ہے ’’ تُم محنت سے کلام کا مطالعہ کرتے ہو کیونکہ خیال کرتے ہو کہ اُس کے وسیلے تُمہیں اَبدی زِندگی

ملتی ہے ۔ خُدا کہتا ہے کہ کلامِ پاک یعنی بائبل مُقّدس میں زِندگی ہے ۔ اِس میں زِندگی اور آزادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ

بائبل مُقّدس کہتی ہے ’’ میرے لوگ عدم معرفت کی وجہ سے برباد ہوجائیں گے ‘‘۔ عیسیٰ مسیح نے بھی لوگوں سے کہا ’’ تُم غلطی پر

ہو کیونکہ تُم کلا م کو اور خُدا کی قُدرت کو نہیں جانتے ‘‘۔ اِس کا مطلب ہے خُدا کا کلام ہمارے لئے زِندگی اور قُوت سے بھرا ہُوا ہے۔

اکبر: آنٹی پروین! یہ ایک خوبصورت آیت ہے ’’ تُم غلطی پر کیونکہ تُم کلامِ خُدا کی قُوت کو نہیں جانتے ‘‘۔ اِس کا مطلب ہے اَگرہم

خُدا کے کلام کو نہیں جانتے ، ہم بھٹکے ہُوئے ہیں۔

ناصر: یہ آیت یہ بھی کہتی ہے کہ خُدا کا کلام خُدا کی قُدرت رکھتا ہے۔

شمیم : میَں یہ بھی کہنا چاہتی ہُوں کہ خُدا کا کلام ہمیں ہمارے حقوق دِکھاتاہے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص بیرونِ مُلک سفر سے واپسی

پر ایک بہت مہنگا آلہ لے کر واپس آیا۔ ہوائی اَڈے پر کسٹم اَفسران نے یہ آلہ اُس سے لے لیا اور اُسے بتایا کہ مُلک میں اِس

کا داخلہ ممنوع ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہ تھی۔ اَگر وہ آدمی اپنے حقوق کو جانتا تو وہ کسٹم اَفسران کو اِسے نہ لینے دیتا۔

زیدی: شمیم بہن! یہی کچھ ہے جو شیطان ہمارے ساتھ کرتا ہے کیونکہ ہم اپنے حقوق کو نہیں جانتے ۔ وہ ہماری خُوشی اور اَمن کو چھین

لیتا ہے۔ وہ بعض اوقات ہمارے ذہن کو جُھوٹ سے بھر دیتا ہے کہ خُدا ہم سے پیار نہیں کرتا یا یہ کہ خُدا کسی کو دُوسرے سے

زیادہ پیارکرتا ہے یا خُدا کی مُعافی محدود ہے۔ ہم یہ سب کچھ مان لیتے ہیں کیونکہ ہم خُد اکے کلام سے واقف نہیں ہوتے ۔

ندیم: زیدی بھائی ، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ بائبل مُقّدس جو خُدا کا زِندہ کلام ہے ، اُس کے بارے میں پہلی اہم بات یہ ہے کہ مُجھے ی

ہ میرے حقوق سکھاتی ہے ۔ مُجھے اُس سارے جُھوٹ سے آزاد کرتی ہے جو شیطان میری خُوشی اور اَمن کو چھیننے کے لئے مُجھ

میں ڈالتا ہے۔ ہماری زِندگیوں میں بائبل مُقّدس کی اہمیت کے بارے میں اور کون ، کچھ کہنا چاہتاہے۔

نائیلہ: میَں کہنا چاہتی ہُوں۔

ندیم: جی نائیلہ بہن۔

نائیلہ: میَں کہنا چاہتی ہُوں کہ خُدا کا کلام شیطان کے خلاف ہماری لڑائی میں ایک بہت ہی مضبوط ہتھیار ہے۔ بائبل مُقّدس اِفسیوں

کے نام خط کے چھٹے باب میں بتاتی ہے ، ہتھیاروں میں ایک ہتھیار رُوح کی تلوار ہے ۔ جو خُدا کا کلام ہے اور جسے ہم شیطان کے سبق نمبر40 صفحہ نمبر4

خلاف اِستعمال کرسکتے ہیں۔

ناصر: مُجھے یا ہے جب اِفسیوں میں ہم نے خُدا کے پورے ہتھیاروں پر سوچ بچارکی۔ ہم نے کہا کہ چھٹے باب میں سب ہتھیار

دفاع کرنے والے ماسوائے رُوح کی تلوار کے جو خُدا کا کلام ہے۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو حملہ کرنے کے لئے ہے ۔ دُشمن پر حملہ

کرنے کے لئے ہم اِسے اِستعمال کر سکتے ہیں۔

عادل : یہ صحیح ہے ہم حضرت متی کی معرفت انجیل ، اُس کے چوتھے باب میں اپنے خُداوند عیسیٰ مسیح کو شیطان کے خلاف لڑائی میں خُدا

کے کلام کو اِستعمال کرتے ہُوئے دیکھتے ہیں۔ اُنہوں نے لکھے ہُوئے کلام یا کلامِ پاک کی آیات سے شیطان کو جواب دیا۔

اُنہوں نے کہا’’ یہ لکھاہے‘‘۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہم یہ کرتے ہیں تو شیطان کو فوراً شکست ہُوئی ہے کیونکہ وہ بہت اچھی

طرح جانتا ہے کہ خُدا کا کلام ہی سچائی ہے ۔

ندیم: یہ درُست ہے شیطان کے ساتھ ہماری لڑائی میں خُدا کا کلام بہت طاقتور ہے ۔ اور اُس کے خلاف مضبوط ہتھیار ہے ۔ کوئی اور

اِس مضمون کے متعلق کوئی بات کرنا چاہتاہے۔

اکبر: جی میَں کچھ کہناچاہتاہُوں۔

ندیم: جی اکبر۔

اکبر: مُجھے یاد ہے ، اِس ہفتے میَں نے حضرت یسعیاہ کی کتاب اُس کے 55باب میں ایک آیت پڑھی تھی ۔ کیا میَں اِسے بلند آواز

سے پڑھ سکتا ہُوں۔

ندیم: جی جی ،کیوں نہیں۔

﴿ورق اُلٹنے کی آواز سُنی جاتی ہے﴾

اکبر: یہاں دسویں اور گیارہویں آیت میں لکھا ہے ’’ کیونکہ جس طرح آسمان سے بارش ہوتی اور برف پڑتی ہے اور پھر وہ وہاں

واپس نہیں جاتی بلکہ زمین کو سیراب کرتی ہے اور اُس کی شادابی اور روئیدگی کا باعث بنتی ہے تاکہ بونے والے کو بیج اور

کھانے والے کو روٹی دے ، اُسی طرح میرا کلام جو میرے منہ سے نکلتا ہے ، ہوگا۔ وہ بے اَنجام میرے پاس واپس نہ آئے گا

بلکہ جو میری خواہش ہوگی وہ اُسے پورا کرے گا اور اُس کام میں جس کے لئے میَں نے اُسے بھیجا ، موثر ہوگا‘‘۔

ندیم: اکبر! یہ بہت خوبصورت آیات ہیں۔ یہ سچ ہے کہ خُدا کا کلام بارش کے پانی کی طرح ہے جو پیاسی زمین پر پڑتاہے اور پھل

اور روٹی پیدا کرتا ہے۔ یہ کبھی خُدا کے مقصد کو پورا کرنے میں ناکام نہ ہوگا۔

سبق نمبر40 صفحہ نمبر5

زیدی: یہی وجہ ہے کہ جب ہم لوگوں کی خدمت کررہے ہوتے ہیں ہمیشہ اِیمان رکھیں کہ خُدا کا کلام جو وہ ہمارے منہ میں ڈالتا ہے

کبھی بھی اُس کام کو مکمل کئے بغیر واپس نہیں آتا۔ اُس کے اِلفاظ کبھی بھی ضائع نہ ہوں گے بلکہ صحیح طورپر اُس مقصد کو حاصل

کریں گے جو خُدا چاہتا ہے کہ وہ حاصل کریں۔

نگہت: میَں کبھی بھی نہ جانتی تھی کہ خُدا کا کلام اِس قدر طاقت والا ہے ۔ اور ہمارے ساتھ خُدا کا یہ وعدہ ہے کہ ہماری زِندگیوں میں

یا ہماری زِندگیوں کے وسیلے اُس کا کلام ہرگز ضائع نہ ہوگا۔ بلکہ وقت گزر جانے کے بعد بھی اِس میں قُوت ہوگی۔

پروین: مُجھے ایک کہانی یاد آگئی جو میَں نے ایک مبلغ سے سُنی۔ یہ کہانی خُدا کے کلام کی قُدرت اور اَثر کے متعلق ہے۔ مبلغ نے ایک مناد

کے بارے میں بتایا جو قید میں تھا۔ وہاں مختلف طریقے اِستعمال کرتے ہُوئے اُسے اَذیت دینے کی کوشش کی جاتی تھی ۔

آخری اذیت اُسے ایک وحشی آدمی کے ساتھ ایک کوٹھری میں بندکرنا تھا۔ جب وہ کوٹھری میں داخل ہُوا تو وحشی آدمی نے

بہت ڈرائونے اور دہشت زدہ کام شروع کردئیے۔ لیکن مبلغ کوٹھری میں ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ اپنی بائبل مُقّدس کھولی اور

اُونچی آواز سے پڑھنا شروع کیا۔ ایک باب ، دُوسرا باب ۔ ایک کتاب پھر دُوسری کتاب۔ مبلغ کو بائبل مُقّدس کی تلاوت

اُونچی آواز میں کرتے اور وحشی آدمی میں چلا چلا کر بولتے گھنٹوں گزر گئے۔

نائیلہ: پروین باجی، اِس کے بعد کیا ہُوا؟

پروین: جُوں جُوں وقت گزر تا گیا ۔ وحشی آدمی نے خاموش ہونا شروع کردیا۔ اگلے دِن پھر مبلغ نے پہلے دن کی طرح اُونچی آواز میں

بائبل مُقّدس پڑھنا شروع کردی۔

ندیم: پھر کیا ہُوا؟

پروین: اُس نے دیکھا وحشی آدمی پہلے دِن کی نسبت کچھ زیادہ خاموش تھا۔ مبلغ نے تیسرے دِن پھر اِسی طرح کیا۔ اُس نے دیکھا

کہ وحشی آدمی غیرمعمولی طورپر خاموش ہے۔ چوتھے دِن اِسے لگتا تھا جیسے وحشی آدمی سُن رہا ہو۔ساتویں دِن مبلغ اور وحشی آدمی

کو دُعاکرتے ، خُدا کی حمد کرتے اور بلند آواز سے اکٹھے بائبل مُقّدس پڑھتے دیکھ کر گارڈ بہت حیران ہُوئے۔

نائیلہ: یہ کہانی سچ مچ متاثر کرنے والی ہے ۔ خُدا کا کلام اِس قدر طاقتور ہے کہ یہ ایک جنونی آدمی کو شفا دے سکتا ہے۔

ندیم: یہ سچ ہے خُدا کا کلام بہت طاقتور ہے ۔ اور کون بائبل مُقّدس کی اہمیت کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہے۔

شمیم: میَں کہنا چاہتی ہُوں۔

ندیم: جی شمیم۔

سبق نمبر40 صفحہ نمبر6

شمیم: خُدا کا کلام روشنی کی طرح ہے جو خُدا کی طرف جانے والی ہماری راہ کو چمکاتا ہے ۔ جس طرح کہ بائبل مُقّدس

زبور 119،آیت105میں بتاتی ہے’’تیرا کلام میرے قدموں کے لئے چراغ اور میری راہ کے لئے روشنی ہے‘‘۔

اِس کا مطلب ہے خُدا کا کلام میرے قدموں کے لئے چراغ اور روشنی ہے ۔ یہ میری راہ کو میرے آگے چمکاتا ہے۔ اِس

کے بغیر میں گِرسکتی اور تھک سکتی ہُوں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ہماری زِندگیوں میں اِتنا اہم ہے ۔

ندیم: شمیم آپ نے درُست فرمایا۔ میَں یہ بھی کہنا چاہتا ہُوں کہ خُدا کا کلام ہم میں سے ہر ایک کے لئے خُدا کے وعدوں کو چمکاتا ہے ۔

وہ ہمیشہ اُس کے وعدے پورے کرنے کے لئے ہمیں بیتاب کرتاہے۔

پروین: جو آپ نے خُدا کے کلام کے بارے میں کہا کہ وہ روشنی ہے اور چراغ ہے، مُجھے یہ کہنے کے لئے مجبورکرتاہے کہ جب ہم اپنی

راہ کو نہیں جانتے بائبل مُقّدس ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ بالکل اِس آیت کی طرح جو کہتی ہے ’’ میَں تُمہاری ہدایت کروں گا اور

جس راہ پر تُم کو جانا چاہئیے ، سکھائوں گا۔ میَں تُمہاری مشاورت کروں گا اور تُم پر نگاہ رکھوں گا‘‘۔

ناصر: زبور 109میں ایک اور آیت ہے جو کہتی ہے ’’ اُن کے پاس بڑا اطمینان ہے جو تیری شریعت سے پیارکرتے ہیں اور کوئی

چیز اُنہیں گِرا نہیں سکتی۔اس کا مطلب ہے خُدا کا کلام خُدا کے ساتھ ہماری راہ میں سکون لاتا ہے۔ ہم کبھی نہیں گِریں گے یا

ٹھوکر کھائیں گے اورجیسے آنٹی شمیم اور امی کہہ رہی تھیں ، خُدا کاکلام روشنی ہے جو میری راہ کو چمکاتاہے۔

ندیم: میَں آپ کی توجہ زبور 119کی طرف لگانا چاہتا ہُوں کیونکہ بائبل مُقّدس میں یہ سب سے لمبا باب ہے ۔ یہ 176آیات پر

مشتمل ہے ۔ سب آیات بائبل مُقّدس کے بارے میں اور خُدا کے کلام اور اُس کی اہمیت کے بارے میں بتاتی ہیں ۔ لہٰذا خُدا

کا کلام بہت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک رُوح پوری بائبل مُقّدس میں اِسے سب سے لمبے باب میں لکھا۔ کیا کوئی اِس

کے علاوہ کہنا چاہتاہے۔

عادل: جی! میَں چاہتا ہُوں۔

ندیم: جی عادل۔

عادل : میَں عبرانیوں کے خط کے چوتھے باب کی ایک آیت کی طرف اِشارہ کرناچاہتاہوں جو کہتی ہے ’’ کیونکہ خُدا کا کلام زِندہ اور

موثر اور ہرایک دودھاری تلوارسے زیادہ تیز ہے اور یہ رُوح اور جان میں سے گزر جاتاہے ۔ یہ دِل کے خیالوں اور اِرادوں

کو جانچتا ہے۔

اکبر: ہاں یہ بائبل مُقّدس میں اہم ترین آیات میں سے ایک ہے۔

سبق نمبر40 صفحہ نمبر7

عادل: یہ آیات کہتی ہیں کہ خُدا کا کلام زِندہ اور موثر ہے۔ ہم نے پروین بہن کی کہانی میں خُدا کے مقاصد کو پورا کرنا ہے ۔ ہم نے

یہ بھی دیکھا کہ یہ زندہ اور موثر ہے اور ہمیں شیطان کے جُھوٹ سے آزاد کرنے کے قابل ہے اور یہ جلتے چراغ کی طرح خُدا

کے ساتھ ہماری راہ میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ۔ لیکن میَں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ خُدا کا کلام ہماری جانوں کو ہدایت کرتا ہے

اور ہماری سب سے اندرونی ہستی کو جانچتاہے۔

نگہت: میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ کیا کہنے کی کوشش کررہے ہیں۔

زیدی: اِس آیت کا مطلب ہے کہ خُدا کا کلام ہماری جانوں اور اندرون خانوں میں سرایت کرتاہے اور ہمارے ذہنوں اور ہمارے

دِلوں کے خیالوں کو جانچتاہے۔ دُوسرے لفظوں میں خُدا کا کلام ہمیں جانچتا ہے کہ ہمارے اندر کیا ہے۔ یہ ایک شیشے کی طرح

ہے جو ہمارے باطن کو ظاہر کرتاہے۔

ندیم: خُدا کا کلام ہمیں صاف کرتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ عیسیٰ مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا ’’تُم پہلے ہی اُس کلام کے وسیلے

سے صاف ہو جو میَں نے تُم سے کیا ہے ۔ اِس کا مطلب ہے کہ خُدا کا کلام مُجھے اندر سے صاف کرتاہے اور کچھ مختلف چیز مُجھ

میں پیدا کرتاہے۔

زیدی: یہ ہے جو خُدا کا کلام ہم میں کرتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ میَں اِسے نہیں سمجھتا یا اِس کی گہرائی کو نہیں سمجھتا ۔ لیکن میرا اِسے باربار پڑھنا

مُجھے صاف کردیتاہے کیونکہ یہ مُجھے جانچتا ہے کہ خُدا کے کلام کی روشنی میں میرے اندر کیا ہے ۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو ۔ میَں محسوس کرتا ہُوں کہ ہمارے لئے آج خُدا کا کلام بہت قُوت والا تھا اور میَں خیال کرتاہُوں کہ ہم سب

بائبل مُقّدس کو پڑھنے اور اِس کی اہمیت کو جاننے کے لئے بیتاب ہیں ۔

اَب ہماری عبادت کا وقت ختم ہوتاہے ۔ آئندہ ہفتے ہماری یہ عبادت پھر ہمارے گھر پر ہی ہوگی۔خُداوند عیسیٰ مسیح آپ کو

برکت دے۔

تمام: آمین!