Hear Fellowship With My Family Episode 41 (Audio MP3)

View FWMF episode 41 as a PDF file

سبق نمبر41 صفحہ نمبر1

﴿ایک کلب میں پرندوں کے گیت اور بہت شور سے سین شروع ہوتا ہے﴾

پروین: تمہارا کلب سچ مچ بہت اچھا ہے نگہت ۔

نگہت: پروین باجی! جب کبھی میری چھٹی ہوتی ہے ، میَں یہاں کلب میں آجاتی ہُوں۔

پروین: نگہت جب تُم یہاں کلب آتی ہو، کیا تُم دونوں اکٹھے بیٹھتے ہو یا کسی کے ساتھ۔

نگہت: ﴿کانپتی ہُوئی آواز میں﴾کیا مطلب ؟

پروین: میرا مطلب سمیع۔ جس کے بارے میں آپ سوچ رہی تھیں۔ کیا آپ اَبھی بھی ایک دُوسرے سے مِلتے ہیں۔

نگہت: پروین باجی! جب سے میری آپ سے جان پہچان ہُوئی ہے ، میَں اِس تعلق کے معنی جاننے سے قاصر ہُوں۔ اِس وقت میَں

اُسے چھوڑ نہیں سکتی۔ ہم چھ ماہ اِکٹھے رہے ہیں لیکن میَں اَب بھی کہہ رہی ہُوں کہ جب سے میری آپ سے جان پہچان ہُوئی

ہے ، میَں محسوس کرتی ہُوں کہ ہم آگے نہیں جارہے بلکہ ہمارے اختلافات آگے جا رہے ہیں۔

پروین: مثال کے طورپر۔

نگہت: وہ مُجھ سے شادی رَچانے میں سنجیدہ نہیں۔ کیونکہ گزرے مہینوں میں اُس نے کبھی اِس کا ذِکر نہیں کیا۔ اِس سب کے باوجود

میرے دِل میں اُس کے لئے احساسات ہیں۔

پروین: نگہت، اِجازت ہوتو میَں تمہیں بتائوں۔میَں تمہیں یہ نہیں کہوں گی کہ تمہیں محبت کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ یہ تُمہارا حق ہے ۔

لیکن تُم نے ذِکر کیاتھا کہ تُمہاری دِلچسپیاں فرق ہیں اور بائبل مُقّدس میں ایک آیت ہے جو بتاتی ہے ’’نور کا تاریکی سے کیا

میل جول‘‘۔

نگہت: پروین باجی، آپ کا کیا مطلب ہے ؟

پروین: تُم خُدا کو جاننا چاہتی اور مکمل طورپر اُس کے لئے جینا چاہتی ہو۔ کیا سمیع بھی یہی خواہش رکھتا ہے ۔ کیا وہ خُدا کے لئے

ہر چیز چھوڑنے کو تیارہے؟

نگہت: پتہ نیئں ۔ میَں نے اُس کے ساتھ خُدا کے بارے میں گفتگو کرنے اور بتانے کی کوشش کی کہ خُدا اُس سے پیارکرتاہے۔

اور ہمارے لئے خُدا سے کچھ حاصل کرنے کا ایک خاص مقصد ہے۔

پروین : اُس نے کیا جواب دیا؟

نگہت: ﴿افسوس کے ساتھ آہ بھرتے ہُوئے﴾ کچھ نہیں ۔ اُس نے میرے اِلفاظ کا مذاق اُڑایا اور مُجھے ’’حضرت نگہت‘‘ کہہ کر پکارنا شروع سبق نمبر41 صفحہ نمبر2

کردیا۔ لیکن میَں اَب بھی کہتی ہُوں، میَں اُسے چھوڑنا نہیں چاہتی ۔ جب بھی وہ مُجھے بُلاتا ہے میَں اپنا فیصلہ بُھول جاتی ہُوں

اور اُسے مِلنے جاتی ہُوں۔ اور ہر بات ٹھیک ہوجاتی ہے ۔

پروین : تُم کیا سوچتی ہو۔ کیا خُدا کی مَرضی ہے کہ یہ تعلق آگے بڑھے ؟

نگہت : پروین باجی، یہی بات تو مُجھے پریشان کررہی ہے ۔ خُدا نہیں چاہتا کہ یہ تعلق آگے بڑھے۔ لیکن میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا

کہ کیا کروں۔

پروین: نگہت ، تُم حقیقی معموری اور حقیقی تعلق کو جو خُدا چاہتا ہے کہ تُم اُس کے ساتھ رکھو جانتی ہو۔ تُم یہ بھی جانتی ہو کہ سمیع کے ساتھ

وہ تعلقات جو تُم رکھتی ہو خُدا کو پسند نہیں۔ خُدا کی طرف سے پُورا لُطف اُٹھانے ، اُسے اپنا چرواہا، محبت کرنے والا اوردوست

سمجھنے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

نگہت: آپ درُست کہتی ہیں ۔ کاش میَں ایسا کرسکوں۔ لیکن اَبھی بھی سمیع کو چھوڑنا مشکل ہے ۔

پروین: میَں تمہیں پھر بتاناچاہتی ہُوں کہ نور اور تاریکی میں میل جول نہیں ہوسکتا۔ جب تک سمیع تُمہارے ساتھ خُد ا کی راہوں پر نہیں

چلتا ، تُم اُس سے تعلق جاری نہیں رکھ سکتی ۔ مثال کے طور پر تُمہیں بائبل پڑھنے کا وقت ملتا ہے ۔

نگہت : جی نہیں۔

پروین: یہی وجہ ہے کیونکہ تُمہارے خیالات خُدا کی نسبت کسی اور میں ہیں۔ شمیم اور عادل کو دیکھو اُنکے تعلقات اُنہیں خُدا کے زیادہ

قریب لارہے ہیں۔

نگہت : باجی پروین، آپ صحیح کہتی ہیں ۔ میَں کسی ایسے شخص سے شادی کرنا چاہتی ہُوں جو خُدا کو جانتا ہو۔ اور آپ کی طرح اور ندیم بھائی

کی طرح اُس کو اور زیادہ جاننے میں میری مدد کرسکی۔

پروین: توپھر ٹھیک ہے ۔ آئو اِسی وقت ہم اِکٹھے دُعاکریں اور روزہ رکھیں۔ میَں اِس مسئلے کے حل کے لئے تمہیں چند تجاویز دُوں گی۔

تمہیں اِن پر عمل کرنے کے لئے مضبوط اِرادے کی ضرورت ہوگی۔

نگہت: میَں پوری کوشش کروں گی آپ میرے قریب رہنا، میری مددکرنا اور میرے لئے بہت دُعا کرنا۔

پروین: آمین۔

.Music.

ندیم: آئیں! ہم اپنی عبادت اپنے خُداوند کے نام کی تعریف سے شروع کریں۔ نائیلہ بہن، آپ دُعا میں رہنمائی کریں ۔

نائیلہ: خُداوند عیسیٰ مسیح، اِس گھر پر، اِس عمارت پر ، ہماری پوری قوم پر حکومت کر۔ ’’ ہمارے سارے مُلک پر حکمرانی کر‘‘۔ عیسیٰ مسیح کے نام سبق نمبر41 صفحہ نمبر3

میں ۔

تمام: آمین!

ندیم: آئیں اپنی اپنی بائبل مُقّدس کھولیں اور اِس حصّے پر غورکریں۔ حضرت متی کی معرفت انجیل ، پانچواں باب ، پہلی سے بارہ

آیت ۔ پہلی چھ آیات شمیم پڑھیں گی اور دُوسری چھ آیات عادل پڑھیں گے ۔

شمیم: ﴿صفحہ اُلٹنے کی آواز﴾ وہ اُس بھیِڑ کو دیکھ کر پہاڑ پرچڑھ گیا ۔ جب بیٹھ گیا تو اُس کے شاگرد اُس کے پاس آئے ۔ اور وہ اپنی

زبان کھول کر اُن کو یوں تعلیم دینے لگا ۔ مُبارک ہیں وہ جو دِل کے غریب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے ۔ مُبارک

ہیں وہ جو رحمدل ہیں کیونکہ وہ تسلی پائیں گے ۔ مُبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہوں گے ۔ مُبارک ہیں وہ

جو راستبازی کے بُھوکے اور پیاسے ہیں کیونکہ وہ آسودہ ہوں گے۔

ندیم: جی عادل ! اَب آپ پڑھیں۔

عادل : مُبارک ہیں وہ جو رحمدل ہیں کیونکہ اُن پر رحم کیا جائے گا ۔ مُبارک ہیں وہ جو پاک دِل ہیں کیونکہ وہ خُدا کودیکھیں گے۔ مُبارک

ہیں وہ جو صُلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خُدا کے بیٹے کہلائیں گے ۔ مُبارک ہیں وہ جو راستبازی کے سبب سے ستائے گئے ہیں

کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے ۔ جب میرے سبب سے لوگ تُم کو لعن طعن کریں گے اور ستائیں گے اور ہرطرح کی

بُری باتیں تُمہاری نسبت ناحق کہیں گے تو تُم مُبارک ہوگے۔ خُوشی کرنا اور نہایت شادمان ہوناکیونکہ آسمان پر تُمہارا اَجر بڑا

ہے۔ اِس لئے کہ لوگوں نے اُن نبیوں کو بھی جو تُم سے پہلے تھے اِسی طرح ستایاتھا۔

ندیم: شمیم اور عادل ، بہت شکریہ۔ آئیں کچھ دیرکیلئے اِن آیات پر غورکریں۔ دُوسری آیت میں لکھاہے ، مُبارک ہیں وہ جو دِل

کے غریب ہیں کیونکہ آسمان کی بادشاہی اُن ہی کی ہے۔ اِس آیت میں غریب کے معنی کیا ہیں؟

اکبر: ندیم انکل ، ایک ایسا شخص جو غریب ہو۔

پروین: اکبر، ایسا شخص جو کچھ کرنے کے قابل نہ ہو۔

ندیم: جی ہاں۔ غریب وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے خاص حلقے میں کچھ نہیں کرسکتا۔

نگہت : ندیم بھائی، کیا آپ کوئی عملی مثال دے سکتے ہیں۔

ندیم: نگہت بہن کیوں نہیں۔ کوئی شخص بہت امیر ہوسکتاہے اور اُس کے پاس بہت روپیہ بھی ہوسکتاہے لیکن وہ کسی خاص بیماری

میں مبتلا ہوسکتا ہے جو لاعلاج ہو۔ لوگ اُسے غریب کہیں گے ۔ اَگرچہ اُس کے پاس روپیہ پیسہ ہے مگر وہ اپنی بیماری کے

بارے میں کچھ نہیں کرسکتا۔ وہ زندگی سے لطف اُٹھانا چاہتا ہے لیکن اپنی بیماری کی وجہ سے ایسا نہیں کرسکتا۔ کیا کوئی اور کوئی دُوسری سبق نمبر41 صفحہ نمبر4

مثال دینا چاہتا ہے۔

زیدی: جی میَں دیناچاہتاہوں ۔ کسی شخص کے پاس کار، فیکٹری اور بہت سی دولت توہوسکتی ہے لیکن وہ کسی خُوشی کا مزہ نہیں لے سکتا

کیونکہ اُس کے بچے نہیں ۔

ندیم: بالکل ٹھیک ۔ ہم اِس شخص کو بھی غریب کہہ سکتے ہیں جس کے کوئی اولاد نہیں۔ اگرچہ وہ اَمیر ہے مگرآپ فکر نہ کریں، آپ جلد

باپ بنیں گے اور غریب نہیں کہلائیں گے ۔

تمام : ہنستے ہیں۔

ندیم: اچھا، کیا کوئی مُجھے بتاسکتا ہے کہ رُوح میں غریب کون ہے؟

نائیلہ: رُوح میں غریب وہ ہے جو پاک رُوح کے تابع ہے۔

ندیم: بالکل ۔ رُوح میں غریب وہ ہوتاہے جو پاک رُوح کے تابع ہے۔ بیشک پاک رُوح اُسے اُس کی فطرت اور مَرضی کے خلاف

کام کرنے کو بھی کیوں نہ کہے۔ کیا آپ میں سے کسی کو پچھلے دِنوں ایسی صُورتِ حال کا سامنا کرنا پڑاہے؟

اکبر: مُجھے ایسی صُورتِ حال کا سامنا ہُواہے۔ پرسوں کی بات ہے ، ایک پڑوسی آیااورزور زور سے مُجھ سے باتیں کرنی شروع کر

دیں۔ عام طورپر میرے لئے اُسے مارناآسان ہوتا لیکن مُجھے وہ آیت یادآئی جو عیسیٰ مسیح نے کہی’’ اَگر کوئی تیرے دائیں گال

پر تھپڑ مارے تو دُوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے‘‘۔ میَں فوراً خاموش ہوگیا اور مُعافی مانگی اَگرچہ یہ میری غلطی نہ تھی۔

ندیم: اکبر پاک رُوح نے تُمہیں اپنے پڑوسی کو مارنے سے روکا۔ تُم تابع ہوگئے ۔ ہوسکتا ہے لوگوں نے اِس واقعہ کو دیکھا ہو۔ وہ کہتے

ہوں گے ’’بیچارہ اکبر‘‘۔ دَرحقیقت وہ غریب ہے لیکن رُوح میں غریب۔ دُوسرے لفظوں میں پاک رُوح کی تابعداری

کرنے والا۔

نگہت: لیکن بہت مرتبہ میَں تو غصے میں آجاتی ہوں جب لوگ کہتے ہیں میَں غریب ہوں۔ تو میَں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی

ہوں کہ میَں مزاحمت کرسکتی اور اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتی ہوں۔

پروین : اِسی لئے عیسیٰ مسیح صلیب پر آخری مثال تھے۔ لوگ اُنہیں صلیب پر لٹکتا دیکھ کرکہہ رہے تھے کہ اِس نے دُوسروں کو بچایا مگر

اپنے آپ کو نہ بچا سکا۔ اَگر وہ خُدا کا بیٹا ہوتا توو ہ صلیب سے اُتر کر نیچے آجاتا۔ لیکن عیسیٰ مسیح نے لوگوں کی پرواہ نہ کی۔ اُنہوں

نے صرف اُس بات کی پرواہ کی جس سے باپ کو خُوش کرسکتے تھے۔

ندیم: جی پروین! عیسیٰ مسیح ہمارا نمونہ ہیں۔ وہ صلیب سے نیچے آسکتے تھے۔ یا اپنی حفاظت کے لئے باپ سے بارہ تمن فرشتوں کے

لئے درخواست کرسکتے تھے۔ مگر اُنہوں نے اپنے آپ کو پاک رُوح کے تابع ہونے دیا۔ کیاہم رُوح میں غریب ہیں۔ کیا ہم اپنے سبق نمبر41 صفحہ نمبر5

اندر پاک رُوح کے تابع ہوتے ہیں۔آئیں پاک رُوح کے تابع ہونا سیکھیں ۔ کیا کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے۔

نائیلہ : جی، میَں کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی نائیلہ بہن۔

نائیلہ: آٹھویں آیت میں عیسیٰ مسیح فرماتے ہیں ’’ مبارک ہیں وہ جو پاک دِل ہیں کیونکہ وہ خُدا کو دیکھیں گے‘‘۔ پوچھنا میَں یہ چاہتی

ہُوں ، یہ پاک دِل کون ہیں؟

اکبر: نائیلہ آنٹی، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے دِلوں میں گناہ کو نہیں بسنے دیتا۔ کوئی شخص باہر سے تو بہت اچھا نظرآسکتا ہے لیکن اُس کا دِل

گناہ، شہوت ، لوگوں سے نفرت اور حسد سے بھرا ہوسکتا ہے۔

نگہت: اکبر، میَں نے ایک مناد کو یہ کہتے سُنا کہ پاک دِل وہ ہیں جو گناہ کو اُس کے صحیح نام سے پکارتے ہیں ۔ مثال کے طورپر کچھ لوگ

کہتے ہیں یہ سفید جُھوٹ ہے۔ یہ کالا جُھوٹ ہے۔ جُھوٹ تو جُھوٹ ہی ہے اور جُھوٹ بولنا گناہ ہے۔

زیدی : نگہت ، پاک دِل وہ ہیں جو خُدا کو دیکھتے ہیں اور کسی دُوسرے کو اُس کے ساتھ نہیں دیکھتے۔

نائیلہ: زیدی، یہی پاک دِل کی تعریف ہے۔ پاک دِل وہ ہیں جو صرف خُدا کو دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ خُدا کو دیکھیں گے۔ دیکھنے

اور نگاہ کرنے میں فرق ہے ۔ کیا کوئی اِس فرق کو جانتا ہے؟

ناصر: آنٹی نائیلہ!دیکھنے کا مطلب ہے قریب سے معائنہ کرنا ۔ مثال کے طورپر اَگر میَں ایک چیز خریدنا چاہتا ہوں تو اِسے دیکھنے

اور معائنہ کرنے میں فرق ہے ۔ جب میَں محض اِسے دیکھتا ہوں میَں اِس کے بارے میں تھوڑا سا جانتا ہوں۔ لیکن

جب میَں معائنہ کرتا ہوں ۔ میَں اِس کے قریب آتا ہوںاور تفصیل سے اِس میں شامل چیزوں کو دیکھتا ہوں۔

نائیلہ : ناصر، بالکل صحیح۔ پاک دِل والا شخص خُدا کو قریب سے دیکھتا ہے اور اُس کے بہت قریب ہوتا ہے۔ وہ خُدا کو جانتا ہے اوراُس

کے دِل میں خُدا خاص مقام رکھتا ہے ۔

پروین: نائیلہ ، جو کچھ آپ کہہ رہی ہیں وہ صحیح ہے۔ 24زبوراُس کی تیسری اور چوتھی آیت میں ہم دیکھتے ہیں’’ خُدا کے پہاڑ پر کون

چڑھے گا ۔اوراُس کے مُقّدس مقام میں کون کھڑا ہوگا؟ وہی جس کے ہاتھ صاف ہیں اور جس کا دِل پاک ہے ۔ جس نے

بطالت پر دِل نہیں لگایا اورمکر سے قسم نہیں کھائی‘‘۔ اِس کا مطلب ہے کہ پاک آدمی ہمیشہ خُدا کی حضوری میں رہتاہے۔

نگہت: پاک دِل رکھنا کتنی خوبصورت بات ہے۔ میَں خُدا کے قریب ہونے کے لئے بیتاب ہوں اور اُس کے بارے میں زیادہ

جاننے کے لئے بے قرار ہوں ۔ لیکن میرا دِل کس طرح پاک ہوسکتاہے۔

ندیم: ہمیشہ خُدا کی حضوری میں رہنے سے میرا دِل تبدیل ہوتا ہے اور خُدا کے دِل کی طرح ہو جاتا ہے۔

سبق نمبر41 صفحہ نمبر6

شمیم: اِس کا مطلب ہے خُدا کے قریب ہونے سے ہم اُس کی طرح ہوجاتے ہیں۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ کیا کوئی اور کچھ کہنا چاہتاہے۔

زیدی: جی میَں کہنا چاہتاہوں۔

ندیم: جی زیدی بھائی ۔

زیدی : میَں اُس آیت کی تفسیر کرنا چاہتا ہوں جو کہتی ہے ’’ مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خُدا کے بیٹے کہلائیں گے ‘‘۔

یہ اِس طرح ہے جیسے خُدا کہنا چاہتا ہے کہ صلح کرانے والے مُبارک ہیں۔ خُدا ایسے لوگوں کو چاہتا ہے جو صُلح کا ماحول پیدا

کرتے ہیں۔ ناصر کے ساتھ کالج میں ایک واقعہ پیش آیا جس میں صُلح کی بات شامل ہے ۔ناصر کیا آپ وہ واقعہ دُہرا سکتے ہیں؟

ناصر: جب میَں کالج میں تھا۔ میرے دوستوں کے مابین گرما گرم بحث ہوئی۔ اُنہوں نے ایک دُوسرے کو پیٹنا شروع کردیا۔

پھر میَں دُعا کرناشروع کی کہ خُدا اِس لڑائی کی جگہ اُن میں صُلح پیداکر۔ میَں دُعا مانگتا رہا اور پھر اُنہیں ٹھنڈا کیا اور اُن میں صُلح

ہوگئی ۔ اُن میں سے ایک نے مُجھے بتایا ۔ تُم میں کچھ عجیب چیز ہے۔ سب دوستوں نے مُجھے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی لیکن نہ کر

سکے۔ لیکن تُمہارے اِلفاظ نے مُجھے ٹھنڈا کرناشروع کردیا۔

زیدی: تب میَں نے ناصر کو بہت حوصلہ دیا اوراِسے بتایا کہ وہ اُن میں صُلح کرانے والاتھا۔ اِس نے صُلح کا ماحول پیداکیا۔ اور خُداوند

عیسیٰ مسیح کہتے ہیں، صُلح کرانے والے مُبارک ہیں کیونکہ وہ خُدا کے فرزند کہلائیں گے۔ خُدا کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ وہ صُلح

کا شہزادہ ہے اِس لئے اُس کے فرزندوں کو صُلح کرانے والے ہوناچاہئیے۔

نائیلہ: زیدی، صُلح کرانا صرف دوشخصوں میں اچھے حالات پیداکرنا ہی نہیں ہوتا۔ میَں اپنے ساتھ کام کرنے والے شخص میں

اندرونی اَمن بھی پیداکرسکتی ہوں۔

نگہت: میَں اِس بات کو سمجھ نہیں پائی۔

نائیلہ: مثال کے طورپر ، جہاں میَں کام کرتی ہوں ، مُجھے کام میں چار ہفتے گزرے ہوں گے۔ میَں اپنی ایک سہیلی سے مِلی جو بہت

افسردہ تھی ۔ اُس نے مُجھے بتایا کہ اُس کا خاوند آپریشن کے لئے ہسپتال جارہا ہے۔ اُس نے مُجھے یہ بھی بتایا کہ وہ گزشتہ دِنوں

سے فکر کی وجہ سے سوئی نہیں۔ میَں نے اُسے خُدا کے بارے میں بتاناشروع کیا جو اُس کی فکر کرتاہے۔ ایک اندرونی سکون

اُس میں آ گیا اور اُس کی صُورت بدل گئی اور مُسکراہٹ واپس آگئی۔ دودن بعد آپریشن کامیاب ہُوا۔

تمام: خُدا کو جلال ملے ۔خُداوند کی تعریف ہو۔ اُس کا شکرہو۔

ندیم: ہمارے اِردگرد بہت سے لوگ ہیں جو تھکے ہُوئے اور مصیبت زدہ ہیں۔ ابلیس اُنہیں پریشانی، خوف اور فکر سے گھیرے ہُوئے سبق نمبر41 صفحہ نمبر7

ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مسائل اور مصیبتوں کے دوران خُدا کو نہیں دیکھ سکتے ۔ عیسیٰ مسیح چاہتے ہیں کہ ہم اُنہیں اندرونی

اَمن کی راہ دِکھائیں ۔ خُدا چاہتا ہے کہ وہ اُس اَمن سے لُطف اندوز ہوں جو اُنہیں معمور کرے ۔ یہ اَمن نہیں خُداوند عیسیٰ مسیح

کو دیکھنے کے قابل بنائے گا۔

ندیم: کیا کوئی اور کچھ کہنا چاہتاہے۔

نگہت: میَں کہناچاہتی ہوں۔

ندیم: جی نگہت۔

نگہت: میَں آپ لوگوں کو یہ بتاتے ہُوئے خوف نہیں کھائوں گی کہ میَں اِن دِنوں اپنا مزاج کھو دیتی ہُوں اور چھوٹی چھوٹی باتوںپر مُجھے

غصہ آجاتاہے ۔ میَں اپنے آپ سے خُوش نہیں اور میَں خود ضبطی سیکھناچاہتی ہوں۔

زیدی: نگہت بہن، مزاج کھو دینا ایک زنجیربن سکتا ہے جس سے شیطان باندھنا چاہتا ہے۔ پھر ہم اپنا اندرونی اَمن کھو دیتے ہیں

اور غلطیاں کرنا شروع کرتے ہیں۔ جب کبھی آپ ایسی کیفیت میں ہوں خُداوند عیسیٰ کو پکاریں۔ وہ آپ کے اندر کے طوفان

کو خاموش کردیں گے ۔

ندیم: میَں آپ کو رُوح میں غریبوں کے بارے میں یاددِلانا چاہتا ہوں۔ جس لمحے آپ کو اپنا مزاج بگڑتا دِکھائی دے خُدا کی رُوح

کے تابع ہوجائیں ۔ اِ س سے آپ بہت سی غلط باتوں سے بچ جائیں گے۔

نگہت: مہربانی کرکے میرے لئے دُعاکریں۔

ندیم: آئیں ہم سب نگہت کے لئے دُعا مانگیں۔ زیدی بھائی آپ دُعا میں راہنمائی کریں۔

زیدی: اَے خُداوند میَں اپنی بہن نگہت کے لئے تیرا شکر کرتا ہوں ۔ ہم تجھ سے دُعاکرتے ہیں ہر اُس زنجیر کو توڑ جس سے شیطان

اِسے باندھنا چاہتا ہے۔ اِسے صبر اور برداشت دے۔ پاک رُوح کے تابع ہونا سکھا۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔

ندیم: میَں خُوش ہوں اِس اچھے مضمون کے لئے جو ہم نے آج سیکھا ہے۔ اَب ہماری عبادت کا وقت ختم ہوتاہے۔ میَں آپ کو یاد

دِلانا چاہتا ہوں کہ اگلے ہفتے ہماری عبادت اِسی وقت ہمارے گھر پر ہوگی ۔ عیسیٰ مسیح آپ کو برکت دے۔

تمام : آمین۔