Hear Fellowship With My Family Episode 42 (Audio MP3)

View FWMF episode 42 as a PDF file

سبق نمبر42 صفحہ نمبر1

.Music.

زیدی: نائیلہ ، کیا آپ نے کام ختم کرلیاہے۔

نائیلہ: جی زیدی۔

زیدی: توآئوچلیں۔ہمیں دیرہورہی ہے۔

نائیلہ: چلتے ہیں۔مُجھے یاد کہ کل مُجھے حِنا سے مِلنا ہے ۔ جو میرے ساتھ کام کرتی ہے لیکن یہ سوچ کر مُجھے اُلجھن ہورہی ہے کہ اُس کا

گھر بہت دُورہے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگتاہے۔ تاریک گلیوں اور مشکل راستوں میں سے گزرنا پڑتاہے۔ میَں سوچ رہی ہوں

نہ جائوں۔

زیدی: کیوں نائیلہ ۔ کیا تُمہیں یاد نہیں عیسیٰ مسیح میلوں سفر کرتے تھے ۔ایک لمبا سفر کرکے اُنہوں نے سامری عورت سے گفتگو کی اور

اس عورت کی وجہ سے پورا قصبہ بچ گیا۔

نائیلہ: زیدی۔آپ صحیح کہہ رہے ہیں ۔ مُجھے سُستی نہیں کرنی چاہئیے۔ میَں جائوں گی۔ میَں نے کل اُس عورت سے مِلنے کا فیصلہ کرلیاہے۔

زیدی: شکریہ نائیلہ۔ لیکن اَب جلدی کرو ہمیں عبادت میں وقت پر پہنچنا ہے۔

﴿موسیقی، دروازے کی گھنٹی بجتی ہے اور دروازہ کھلتا ہے﴾

ناصر: ہیلو انکل زیدی۔ آنٹی نائیلہ! آپ کا کیا حال ہے۔

نائیلہ : میَں ٹھیک ہوں۔

زیدی: آپ سب کیسے ہیں۔ ہمیں دیر تو نہیں ہُوئی۔

عادل: نہیں۔ ہم عبادت شروع کرنے ہی والے تھے۔

ندیم: خُداوند کا شکر ہو سب خیریت سے پہنچ گئے ہیں۔ آئیں اپنی عبادت شروع کریں۔ میرے ساتھ کتابِ مُقّدس بائبل میں

سے نکالیں۔ اعمال کی کتاب، اُس کا آٹھواں باب اور 26تا 40آیات پڑھیں گے۔ یہ آیات ایک خوجے کے بارے میں

ہیں جو ایتھوپیا کا ایک افسر تھا ۔ یہ آیات ہم باری باری پڑھیں گے ۔ شمیم آپ شروع کریں۔

شمیم: ﴿صفحہ اُلٹنے کی آواز﴾پھر خُداوند کے فرشتہ نے فلپس سے کہا کہ اُٹھ کر دکھن کی طرف اُس راہ تک جا جو یروشلیم سے غزہ کو جاتی

ہے اور جنگل میں ہے۔ وہ اُٹھ کر روانہ ہُوا تو دیکھو ایک حبشی خوجہ آرہاتھا وہ حبشیوں کی ملکہ کندا کے کا ایک وزیر اوراُس کے

سارے خزانے کا مختار تھا اور یروشلیم میں عبادت کے لئے آیاتھا۔

عادل: وہ اپنے رَتھ پر بیٹھا ہُوا اور یسعیاہ نبی کے صحیفہ کو پڑھتا ہُوا واپس جارہا تھا۔ رُوح نے فلپس سے کہا کہ نزدیک جاکر اُس رَتھ کے سبق نمبر42 صفحہ نمبر2

ساتھ ہولے۔

پروین: پس فلپس نے اُس طرف دوڑ کر اُسے یسعیاہ نبی کا صحیفہ پڑھتے سُنا اور کہا کہ جو تُو پڑھتا ہے اُسے سمجھتا بھی ہے؟ اُس نے کہا یہ

مُجھ سے کیوں کرہوسکتا ہے جب تک کوئی مُجھے ہدایت نہ کرے اوراُس نے فلپس سے درخواست کی کہ میرے پاس آبیٹھ۔

زیدی: کتابِ مُقّدس کی جو عبارت وہ پڑھ رہا تھا ، یہ تھی کہ لوگ اُسے بھیڑ کی طرح ذبح کرنے کو لے گئے اورجس طرح برّہ اپنے بال

کُتر نے والوں کے سامنے بے زبان ہوتاہے اُسی طرح وہ اپنا منہ نہیں کھولتا۔اُس کی پست حالی میں اُس کا اِنصاف نہ ہُوا اور

کون اُس کی نسل کا حال بیان کرے گا؟ کیونکہ زمین پر سے اُس کی زندگی مٹائی جاتی ہے۔

نائیلہ: خوجہ نے فلپس سے کہا میَں تیری منت کرکے پوچھتا ہُوں کہ نبی یہ کس کے حق میں کہتا ہے؟ اپنے یا کسی دُوسرے کے ؟ فلپس

نے اپنی زبان کھول کر اُسی نوشتہ سے شروع کیا اور اُسے یسوع کی خوشخبری دی۔

اکبر: اور راہ میں چلتے چلتے کسی پانی کی جگہ پر پہنچے ۔ خوجہ نے کہا دیکھ پانی موجود ہے۔ اَب مُجھے بپتسمہ لینے سے کون سی چیز روکتی ہے؟

نگہت: پس فلپس نے کہا کہ اَگر تُو دِل وجان سے اِیمان لائے تو بپتسمہ لے سکتاہے۔ اُس نے جواب میں کہا میَں اِیمان لاتا ہُوں

کہ یسوع مسیح خُداکا بیٹاہے۔ پس اُس نے رَتھ کو کھڑا کرنے کا حُکم دیا اور فلپس اور خوجہ دونوں پانی میں اُترپڑے اوراُس نے

اُس کو بپتسمہ دیا۔ جب وہ پانی میں سے نکل کر اُوپر اائے تو خُداوند کا رُوح فلپس کو اُٹھا لے گیا اور خوجہ نے اُسے پھر نہ دیکھا۔

کیونکہ وہ خُوشی کرتا ہُوا اپنی راہ میں چلاگیا۔ اور فلپس اشدود میں آنکلااور قیصریہ میں پہنچنے تک سب شہروں میں خُوشخبری سُناتاگیا۔

ندیم: کون اِس حصّے پر جو ہم نے پڑھا ہے، اِظہارِ خیال کرنا شروع کرے گا۔

پروین: میَں کروں گی۔

ندیم: جی پروین۔

پروین: ایتھوپیا کا حبشی خوجہ کنداکے کی ملکہ کا وزیر تھا جو ایتھوپیا پر حکومت کرتی تھی۔ وہ اُس کے خزانے کا ذمہ دارتھا ۔ جس وقت وہ

فلپس سے مِلا وہ یہودی تھی۔ یہی وجہ ہے بائبل مُقّدس بیان کرتی ہے وہ یروشلیم کو عبادت کے لئے جارہاتھا۔ وہ یسعیاہ نبی کی کتاب

سے پڑھ رہاتھا۔ مشرقی اقوام میں بہت سے خوجے اعلیٰ عہدے رکھتے تھے اُن کے پاس اختیار اوردولت ہوتی تھی ۔ بالکل

فرعون کے محل کے محافظوں کی طرح جیسے فوطیفار، ساقی اور نان پز۔

ندیم: کون کچھ اور کہنا پسند کرے گا۔

زیدی: میَں کہوں گا۔

ندیم: جی زیدی۔

سبق نمبر42 صفحہ نمبر3

زیدی: میَں نے مُوسیٰ کی شریعت کی کتاب میں پڑھا تھا فوجوں کے لئے خُدا کے مجمع میں داخل ہونا ممنوع تھا۔ یہ اِستثنا کی کتاب

میں صاف طورپر دیاگیاہے۔ 23باب1آیت میں لکھا ہے’’ جس کے خصئے کُچلے گئے ہوں یا آلت کاٹ ڈالی گئی ہو وہ خُداوند

کی جماعت میں آنے نہ پائے‘‘۔ لیکن خُدا پھر یسعیا ہ نبی کے صحیفے میں اپنے مجمع میں شامل ہونے کی اِجازت دیتا ہے اور

اپنے ساتھ مقام حاصل کرنے کے وعدے کرتا ہے۔ اِسی لئے یسعیاہ 56باب 7آیت میں لکھا ہے۔ کیونکہ یہ ہے جو خُداوند

کہتا ہے اُن خوجوں سے جو میرے سبتوں کو مانتے ہیں اور اُن کاموں کو جو مُجھے پسند ہے اختیار کرتے ہیں اور میرے عہد پر

قائم رہتے ہیں۔ میَں اُن کو اپنے گھر میں اوراپنی چاردیواری کے اَندر ایسا نام ونشان بخشوں گا جو بیٹوں اور بیٹیوں سے

بڑھ کرہوگا۔ میَں ہر ایک کو اَبدی نام دُوں گا جو مٹایا نہ جائے گا۔

ندیم: بالکل یہی ہے جو خُدا نے ہمارے ساتھ اپنے بیٹے عیسیٰ مسیح کے وسیلے سے کیا۔ خُدا کے سامنے ہم گناہوں اور قصوروں کی وجہ

سے رَد کئے جانے کے بعد صلیب پر اپنے خُداوند عیسیٰ مسیح کی موت کے وسیلے بحال ہُوئے۔

نگہت: جی ہاں، میَں بھی اپنے گناہوں کے سبب سے خُود کو رَد کیا ہُوا محسوس کرتی تھی مگر جب میَں نے خُدا کی محبت کو محسوس کیا اورجانا

کہ جیسی میَں ہُوں وہ مُجھے قبول کرتاہے۔ میَں اُس کے پاس آئی۔ اُس نے میری زِندگی کو رَد کرنے کی بجائے قبولیت کی

طرف بدل دیا۔ یہی وجہ ہے میَں آج آپ کے ساتھ ہُوں۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ہمارا خُدا سچ مچ عظیم ہے۔

شمیم: ندیم بھائی، میَں بھی کچھ کہنا چاہتی ہُوں۔

ندیم: جی شمیم۔

شمیم: میَں یہ کہناچاہتی ہوں کہ خُدا کی شریعت نے ایتھوپیا کے خوجہ کو خُدا کے مجمع میں ہونے کا حق نہ دیا مگر خُداوند نے خاص طور

پر اُس کے مشکل گزار جنگل کی طرف یروشلیم سے غزہ جانے کے لئے حضرت فلپس کی رہنمائی کی۔ اِس کا مطلب ہے کہ

خُداوند نے حضرت فلپس کو خاص طور پر اُس ایتھوپیا کے حبشی سے گفتگو کرنے اور بپتسمہ دینے وہاں بھیجا۔ کیونکہ ہم پڑھتے

ہیں کہ ایتھوپیا کے حبشی کو بپتسمہ دینے کے بعد خُداوند کا رُوح حضرت فلپس کو کسی اور جگہ لے گیا اور خوجہ نے پھر دوبارہ اُنہیں

نہ دیکھا۔

ندیم: یہ سچ ہے ۔ خُداوند عیسیٰ مسیح ہم میں سے ہر ایک کو بھی نام لے کر ڈھونڈ رہا ہے۔ ہم اُن کے نزدیک بہت خاص اور قیمتی ہیں۔

اکبر: خُداوند کا شکر ہو۔ ہم اِتنے خاص اور قیمتی ہیں۔ کیونکہ اُسی نے ہم کو پیداکیاہے۔

نائیلہ: ندیم بھائی، کیا میَں کچھ کہہ سکتی ہوں۔

سبق نمبر42 صفحہ نمبر4

ندیم: جی نائیلہ بہن۔

نائیلہ؛ عبادت میں آنے سے پہلے میَں زیدی کو بتارہی تھی کہ کل میَں نے ایک سہیلی کو مُلاقات کا وقت دے رکھا تھا جس کا نام حِنا

ہے۔ اور وہ ہمارے گھر سے بہت دُور تنگ وتاریک گلیوں میں رہتی ہے ۔ میَں وہاں نہیں جانا چاہتی تھی مگر زیدی نے مُجھے

عیسیٰ مسیح کے بارے میں یاد دِلایا جب وہ خاص طورپر سامری عورت سے مِلنے گئے ۔اورپھر ہم نے پڑھا ہے کہ کس طرح

حضرت فلپس خاص طورپر ایتھوپیا کے حبشی سے مِلنے گئے ۔ اَب میَں محسوس کرتی ہوں کہ خُدا نہیں چاہتا کہ ہم کوشش یا اپنے

وقت کے ساتھ خُود غرض ہوں ۔بلکہ آزادی سے وقت دیں اورکوشش کریں کیونکہ وہ خُداوند کو بہت عزیز ہیں۔

اکبر: ندیم انکل ، میَں کچھ کہناچاہتاہوں۔

ندیم: جی اکبر۔

اکبر: یہ واضح ہے کہ ایتھوپیا کا خوجہ خُدا کے لئے متلاشی دِل رکھتا تھا کیونکہ وہ یروشلیم کو عبادت کے لئے جارہاتھا اور وہ اپنے رَتھ

میں یسعیاہ نبی کا صحیفہ پڑھارہاتھا۔ اِس لئے خُدا نے اُس کے ساتھ ایسا سلُوک کیا۔

ندیم؛ اکبر، آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ یہ ہے جو خُدا ہمیشہ ہمارے ساتھ کرتاہے۔ وہ دِل کو جانچتا ہے اور معلُوم کرتاہے کہ آیا ہم سچ مچ

اُسے چاہتے ہیں۔ کیا کوئی اورکچھ کہنا چاہتاہے۔

عادل: جی، میَں کہناچاہتاہوں۔

ندیم: جی عادل۔

عادل؛ جس چیز نے میری توجہ کھینچی وہ یہ تھی کہ کس طرح حضرت فلپس رُوح کی رہنمائی میں تھے جب رُوح نے اُنہیں جنوب کی

طرف جانے کو کہا۔ اورپھر اُس رَتھ کے قریب جانے کو کہا۔ یہی وجہ ہے کہ خُدا نے اُنہیں ایتھوپیا کے خوجہ کے لئے اِستعمال

کیا۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں بھی خُدا کی آواز سُننے کے لئے حساس ہونا اور اپنے آپ کو اُس کی رہنمائی کے تابع کرنا چاہئیے۔

ندیم: عادل۔ یہ سچ ہے ۔ ہم اِس کہانی میں دیکھ سکتے ہیں کہ حضرت فلپس بہت مصروف تھے۔ کیونکہ بہت سے دیہاتیوں میں بشارت

کا کام کررہے تھے لیکن اُنہوں نے خود کو پاک رُوح کی رہنمائی میں دے دیا۔ خواہ وہ صرف ایک آدمی کے لئے تھی نہ کہ دیہات

یا لوگوں کی بڑی تعداد کے لئے۔

پروین: ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بائبل مُقّدس ذِکرکرتی ہے کہ یہ حضرت فلپس ہی تھے جو ایتھوپیا کے حبشی خوجے سے مِلنے کو تیار ہو

گئے اوراُس سے کہا ’’ کیا تُم جو پڑھ رہے ہو اُسے سمجھتے بھی ہو‘‘۔ ہمیں بھی اِردگرد کے لوگوں کی طرف پہلا قدم اُٹھانا

چاہئیے۔ اوراِس بات کا اِنتظار نہیں کرناچاہئیے کہ وہ ہمارے پاس آئیں۔

سبق نمبر42 صفحہ نمبر5

ندیم: پروین بالکل درُست۔

عادل: ندیم بھائی ، کچھ اور بھی ہے جس نے میری توجہ کھینچی اورمیَں اِس کا ذِکر کرنا چاہتا ہُوں۔

ندیم: جی عادل۔

عادل: جب ایتھوپیا کا خوجہ اِیمان لایا تو اُس نے حضرت فلپس سے بپتسمہ دینے کو کہا۔ اِس وجہ سے اُس نے رَتھ کو روکنے کا حُکم دیا اور

وہ اور حضرت فلپس پانی میں اُترے ۔ اوراُس نے بپتسمہ لیا۔

ندیم: عادل یہ صحیح ہے اور میَں کچھ پانی کے بپتسمے کے بارے میں گفتگو کرناچاہتا ہوں ۔ جیسا ہم سب جانتے ہیں کہ خود عیسیٰ مسیح نے

حضرت یوحنا سے بپتسمہ لیا۔ اِس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پانی کا بپتسمہ بہت لازمی ہے اور ہماری زِندگیوں میں خُدا

کے ساتھ ہمارے رشتہ کے لئے بہت اہم ہے۔ بائبل مُقّدس بتاتی ہے ’’ جو اِیمان لاتا ہے اور بپتسمہ لیتا ہے وہ بچ جاتا ہے‘‘۔

اِس کا مطلب ہے کہ بپتسمہ اورخُدا پر اِیمان اہم ہیں ۔ اور یہ دونوں اکٹھے چلتے ہیں۔ یہ ضرور ی ہے کہ خُداوند عیسیٰ مسیح پر

اِیمان لانے کے بعد بپتسمہ لیاجائے ۔ جب ایتھوپیا کے خوجہ نے حضرت فلپس سے کہا’’ میَں بپتسمہ کیوں نہ پائوں‘‘۔

حضرت فلپس نے جواب دیا، اَگر تُو پورے دِل سے اِیمان لائے تو تُو بپتسمہ لے سکتاہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ضرور ی

ہے اِیمان لانے کے بعد بپتسمہ لیں۔

نگہت: لیکن پانی کے بپتسمہ کی اہمیت کیاہے۔

پروین:سب سے پہلے ، یہ ایک فرمانبرداری کا عمل ہے ۔ کیونکہ بائبل مُقّدس کہتی ہے ، جو کوئی اِیمان لاتا ہے اور بپتسمہ لیتا ہے نجات

پاتا ہے۔ جب میَں بپتسمہ لیتی ہُوں میَں فرمانبردار ہورہی ہوتی ہوں اور اپنی زندگی میں نجات کے نظریے کو مکمل کررہی

ہوتی ہوں۔ حضرت یحییٰ یعنی یوحنا بپتسمہ دینے والے نے بھی لوگوں کو بتایا کہ وہ بپتسمہ لیں۔

ناصر: میَں بھی کہناچاہتا ہوں کہ جب عیسیٰ مسیح نے بپتسمہ لیا تو رُوح اُلقدس اُن پرکبوتر کی شکل میں نازل ہُوا اورکہا ’’ یہ میرا پیارا بیٹا

ہے جس سے میَں خُوش ہُوں‘‘۔ یہی وجہ ہے بپتسمہ کے دوران پاک رُوح حاضر ہوتا ہے اور بہت قوت میں ہوتاہے۔

نائیلہ: اور ہم دیکھتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح نے بپتسمہ پانے کے بعد اپنی بہت قوت والی اور ممسوح خدمت شروع کردی ۔ جس نے بہت

سے لوگوں کو بدل دیا اور شفادی۔

ندیم: نائیلہ بہن۔ یہ صحیح ہے۔ پانی میں بپتسمہ لینے والا شخص اعلان کررہا ہوتاہے کہ خُداوند عیسیٰ مسیح اُس کی زِندگی کا بادشاہ ہے ۔

وہ لوگوں کے سامنے کہتا ہے کہ اُس نے خُداوند عیسیٰ مسیح کو اپنا خُدا اور منجی چُن لیا ہے ۔ یہ وہ صرف لوگوں کے سامنے نہیں کہتا

بلکہ آسمان کے فرشتوں کے سامنے بھی کہہ رہاہوتا ہے۔ وہ لوگوں کے سامنے عیسیٰ مسیح کا اِقرار کرتاہے اور پاک رُوح بڑی

سبق نمبر42 صفحہ نمبر6

قوت سے حاضر ہوتا اور بپتسمہ پانے والے کو بھر دیتاہے۔

پروین: ندیم آپ درست کہتے ہیں ۔ کلامِ پاک میں لکھا ہے کہ بپتسمہ پانے کے بعد ایتھوپیا کا خوجہ خُوشی کرتا ہُوا اپنی راہ پر چلاگیا۔

اِس کا مطلب ہے کہ پاک رُوح خُوشی دیتاہے اور بپتسمہ پانے والے کو نئی قُوت عطاکرتاہے۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ کیا کوئی اور کچھ اِس کے علاوہ کہناچاہتاہے۔

شمیم: ندیم بھائی، ایک مرتبہ کوئی شخص کہہ رہاتھا کہ جب ہم بپتسمہ لیتے ہیں ، دفن ہوتے ہیں۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟

ندیم: شمیم میَں بتاتاہوں ۔ رومیوں چھٹا باب تیسری اور چوتھی آیت پڑھیں۔

شمیم: ﴿صفحہ اُلٹنے کی آواز﴾کیا تُم نہیں جانتے کہ ہم جنہوں نے مسیح یسوع میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا تو اُس کی موت میں شامل ہونے

کا بپتسمہ لیا۔ پس موت میں شامل ہونے کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہم اُس کے ساتھ دفن ہُوئے تاکہ جس طرح مسیح باپ کے

جلال کے وسیلہ سے مُردوں سے جلایاگیا اُسی طرح وہ بھی نئی زندگی میں چلیں۔

ندیم: اِس کا مطلب ہے کہ بپتسمہ کے دوران ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم عیسیٰ مسیح کے ساتھ مَرتے ہیں اوراُن کے ساتھ دفن ہوتے

ہیں اور جس طرح عیسیٰ مُردوں میں سے جی اُٹھے ۔ جب ہم بپتسمہ لیتے ہیں ہم بھی اپنی زندگیوں میں نئی قیامت محسوس کرتے

ہیں ۔ بالکل اِس طرح جیسے آیت میں لکھا ہے ہم ایک نئی زندگی جیتے ہیں۔ خُدا ہماری رُوحوں اورجانوں کو پھر سے نیابنا دیتا ہے۔

اکبر: میَں نہیں سمجھتا تھا کہ بپتسمہ اِس قدر اہم ہے ۔ میَں خُوش ہُوں ہم نے اِس کے بارے میں گفتگو کی ۔ اِس نے سچ مچ آنے

والے دِنوں کے دوران اِس قدم کو اُٹھانے کے لئے میرا حوصلہ بڑھایاہے۔ میَں محسوس کرتاہوں کہ خُدا اُس کا حُکم ماننے کے

لئے میرا حوصلہ بڑھارہاہے۔ اور بپتسمہ پانے کے لئے میری حوصلہ افزائی کررہاہے۔

ندیم: خُدا کی حمد ہو ۔ ایتھوپیا کے خوجے کی کہانی کے وسیلے سے اُس نے ہماری مدد کی کہ ہم اِس حقیقت کو جان سکیں کہ وہ بپتسمہ

کے وسیلے سے نہ صرف ہمیں پانے خاندان میں قبول کرتا ہے بلکہ ہمیں نئی فطرت بھی عطاکرتاہے۔ ہمارا خُدا سچ مچ عظیم ہے۔

میَں بتانا چاہتا ہُوں کہ اگلی عبادت ہم پھر پارک میں کریں گے۔

نگہت: کیا مطلب ، ندیم بھائی ، عبادت پارک میں کریں گے۔

ندیم: جی نگہت، ہم پہلے بھی بات کرچکے ہیں کہ کلیسیائ اِیمانداروں کا ایک گروہ ہے جو کسی بھی جگہ خُداوند عیسیٰ مسیح کے نام میں اکٹھی

ہوسکتی ہے ۔ اگلے ہفتے ہم پارک میں ٹکٹوں کی کھڑکی کے پاس مِلیں گے ۔ خُداوند عیسیٰ مسیح آپ سب کو برکت دے۔

تمام: آمین۔