Hear Fellowship With My Family Episode 43 (Audio MP3)

View FWMF episode 43 as a PDF file

سبق نمبر43 صفحہ نمبر1

﴿پرندوں کی آواز﴾

نگہت: پروین باجی، میَں بہت جگہوں کی سیر کرچکی ہوں مگر جتنا مزہ اِس جگہ پر آیا ہے، کہیں نہیں آیا۔

پروین: اِس کا مطلب ہے ، تُم خُوش ہو۔

نگہت: جی ہاں ، بہت خُوش۔ نوجوانوں کے ساتھ سیر پر جانے کا مقصد صرف ہنسنا کھیلنا ہوتا ہے جبکہ اپنی کلیسیائ کے ساتھ سیر پر جانا

مُجھے بہت مختلف لگاہے ۔ کلیسیائ جسے میَں اپنا خاندان سمجھتی ہُوں ، جو میرے لئے احساس رکھتی ہے ، میری خبرگیری کرتی اور

میرے بارے میں سوچتی ہے ۔ میَں بہت خُوش ہُوں۔

پروین: نگہت ، مُجھے یقین ہے خُداوند تُمہیں ہمارے درمیان کثرت سے اِستعمال کرے گا۔ اوہ۔ ہم باتیں کرتے کرتے دُور نکل آئے

ہیں ۔ آئو واپس چلیں۔

﴿موسیقی/کھانے پینے کے برتن﴾

ندیم: دوستو ! ہمیں شمیم کا شکریہ اَداکرنا چاہئیے جس نے ہم سب کے لئے کھانابنایا ہے ۔ آئو شمیم کے لئے تالی بجائیں۔

تمام: ﴿تالی کی آواز﴾

شمیم: شکریہ،بہت شکریہ۔

زیدی: شمیم کھانا بہت مزیدار ہے۔

عادل: منگیتر کس کی ہے ۔

ناصر: عادل انکل ، ہماری بھی کچھ لگتی ہیں۔

تمام: ﴿قہقہہ﴾

ندیم: اکبرکیابات ہے۔ تُم کوئی بات نہیں کررہے۔

اکبر: میرا پیٹ بھرا ہُوا ہے ۔ بات نہیں ہورہی۔

تمام: ﴿ہنستے ہیں﴾

ندیم: ہم سب جی بھر کرکھا چُکے ہیں۔ آئیں اَب عبادت شروع کریں۔

زیدی: نگہت بہن، اَب تو آپ قائل ہُوئی ہیں کہ سیرگاہ میں بھی عبادت ہوسکتی ہے۔

نگہت: بیشک ، کلیسیائ اِیمانداروں کا گروہ ہے وہ کسی بھی جگہ ، کسی بھی وقت خُداوند عیسیٰ مسیح کے نام پر جمع ہوسکتی ہے۔

ندیم: آمین۔ اَے خُدا تیرے نام کو جلال مِلے۔ آج ساری کلیسیائ گفتگو میں حصّہ لے گی ۔ ہم سب بات چیت کریں گے جس سے ہم سبق نمبر43 صفحہ نمبر2

سب خُوشی منا سکتے ہیں یا کوئی ایسا مسئلہ جسے حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ یا کوئی مالی ضرورت ہے جس کے لئے آپ چاہتے ہیں

کہ دُعاکریں مِل کر دُعا کریں گے کیونکہ اِس سے ہم ایک دُوسرے کے قریب آتے ہیں ۔ کون شروع کرے گا۔

نگہت: میَں شروع کروں گی۔

ندیم: جی نگہت۔

نگہت: میَں اِن دِنوں بہت دبائو میں ہُوں۔ میَں چاہتی ہُوں کہ آپ میرے لئے دُعاکریں تاکہ میَں تسلی پائوں اور وہ چیزیں جو مُجھ

پر دبائو ڈال رہی ہیں ، ہٹ جائیں۔

ندیم: نگہت ، ذرا تفصیل سے بتائیں تاکہ ہم آپ کی مدد کرسکیں۔

نگہت: بات یہ ہے ، جس وقت سے میَں نے عبادت کے لئے آپ کے ساتھ جاناشروع کیا ہے اور پروین بہن نے میرے ساتھ

بیٹھنا شروع کیا ہے۔ مُجھ میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اور میَں نے اپنے پُرانے طرزِ زندگی کو چھوڑ دیاہے۔

زیدی: یہاں تک تو ٹھیک ہے۔

نگہت: مسئلہ میرے اِردگرد کے لوگوں میں ہے جو اِس نئی تبدیلی کو قبول نہیں کررہے۔ اَبھی بھی وہ میرے بارے میں یہی خیال کرتے

ہیں کہ میَں وہ نگہت ہُوں جو ہنستی اور فضول باتیں کرتی تھی۔ اُنہوں نے میرا مذاق اُڑانا شروع کردیاہے۔ اُن میں بعض کہتے

ہیں کہ میَں تبدیلی کا ڈھونگ رَچا رہی ہُوں اور کہتے ہیں کہ میَں جلد ہی اِس نئی طرزِزندگی کو چھوڑ دُوں گی۔ میَں اِسے زیادہ

برداشت نہیں کرسکتی۔ میَں ہرروز روتی ہُوں ۔ میَں نہیں جانتی کہ کیا کروں ۔ کیا میَں کام چھوڑ دُوں۔

نائیلہ: نہیں ۔ ایسا مت کرنا۔

نگہت: نائیلہ بہن ، کیا کہہ رہی ہو۔ کام پر میرا اَفسر بھی بعض اوقات مُجھے جُھوٹ بولنے کو کہتا ہے۔ اور جب میَں اِنکار کرتی ہُوں۔

وہ مُجھے ڈانٹتا ہے اور میری تنخواہ کاٹتا ہے۔

ندیم: نگہت ، شروع شروع میں ایسا ہی ہوتاہے اور یہ بہت عام بات ہے کہ شیطان آپ کو تھکانے کی کوشش کرے گا اور ایسا کرے گا

کہ ہر بات آپ کے خلاف ہو۔ لیکن آپ کو مضبوطی سے کھڑے رہنا ہے خُداوند آپ کو طاقت دے گا ۔ اور آپ کے بارے

میں لوگوں کا خیال تبدیل ہونا شروع ہوجائے گا ۔ اور وہ مانیں گے کہ سچ مچ آپ کی زندگی میں تبدیلی آگئی ہے ۔

نگہت: ندیم بھائی، میَں تھک گئی ہُوں ۔ مُجھے توقع ہوتی ہے کہ ہر دِن گزرے ہُوئے دِن سے بہتر ہوگا لیکن کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

میرا مزاج بگڑ چُکا ہے اور ناراض ہوجاتی ہُوں۔

شمیم: نگہت مُجھے یاد ہے کہ جب پولوس رسول نے عیسیٰ مسیح کو اپنا شخصی نجات دہندہ مان لیا ، لوگ یقین نہیں کرتے تھے۔ وہ شخص جو کلیسیائ کو سبق نمبر43 صفحہ نمبر3

تنگ کرتا رہا اور خُدا کے لوگوں کو ہلاک کرتا رہا اَب عیسیٰ مسیح کو جانتا ہے اور اُس کے نام کی گواہی دے رہا ہے ۔ لیکن حضرت

پولوس نے لوگوں کی کچھ پرواہ نہ کی۔ اورجب تک لوگوں کے نظریات تبدیل نہ ہُوئے اپنی خدمت کو جاری رکھا۔

ندیم: بالکل ۔ کیونکہ عیسیٰ مسیح نے کہا ’’ جب لوگ تُمہاری بے عزتی کریں، تُمہیں اَذیت دیں اور میری وجہ سے تُمہاری بابت ناحق

باتیں کہیں تو خُوش ہونا۔

عادل : نگہت بہن! آپ کو بھی دُعاکرنی چاہئیے اور یہ بہت ضرور ی ہے۔ خُدا اِس قابل ہے کہ وہ آپ کے بارے میں اُن کی رائے

تبدیل کردے۔ ہر روز کام پر یا کلب جاتے ہُوئے دُعاکریں کہ خُدا اُن کی نظر میں آپ کی قدر بڑھائے اورآپ کو

اِستعمال کرے کہ وہ عیسیٰ مسیح کو جانیں۔

نائیلہ: اور بدمزاج نہ ہوں۔ کیونکہ جو آپ نے کیا ہے اِس سے سب ضائع ہوجائے گا اور کبھی بھی جُھوٹ بولنے کے لئے راضی نہ

ہوں۔ ایک بار بھی نہیں، کیونکہ ایک مرتبہ جب آپ راضی ہو جائیں گی پھر اِنکار کرنا مُشکل ہوگا۔

ناصر: میَں بھی محسوس کرتا ہُوں جب کبھی کوئی آپ کو اُس تبدیلی کے بارے میں جو آپ میں واقع ہُوئی ہے کہے تو یہ خُداوند کے

بارے میں بات کرنے کا موقع ہوگا۔ جو اِنہیں تبدیل کر سکتاہے۔

ندیم: آئیں ہم سب نگہت کے لئے اوراُس پر دبائو کے لئے دُعاکریں۔

پروین: خُداوند عیسیٰ مسیح میں نگہت کے لئے ، اُس کی زندگی کے لئے اور تیرے لئے جینے کی تڑپ کے لئے جو وہ اپنے دِل میں رکھتی ہے

دُعا کرتی ہُوں ۔ سب لوگوں کی نظر میں اُسے حمایت حاصل ہو۔ جن سے وہ میل جول رکھتی ہے اُنہیں تیرے نام کی گواہی

دے۔ ہمارے خُداوند عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔

ندیم: اِس کے علاوہ اور کون کچھ کہنا چاہتا ہے۔

اکبر؛ میَں کہنا چاہتی ہُوں ۔ آپ اُس چرواہے کے بارے میں جو سب ضرورتیں پوری کرتا ہے بہت کچھ کہتے ہیں ۔ اور میَں نے

دیکھا ہے کس طرح انکل عادل اور آنٹی شمیم کے لئے اُس نے ضرورتیں پوری کی ہیں ۔ خُدا کیوں میرے لئے یہ سب

کچھ نہیں کرتا۔

ندیم: اکبر، آپ کیوں ایسی بات کررہے ہیں۔

اکبر: میَں تین ہفتوں سے اپنی کچھ مالی ضرورت پوری کرنے کے لئے خُداوند سے دُعاکر رہا ہُوں ۔ اور خُداوند نے پور ی نہیں کی۔

پروین: اکبر، میَں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہُوں۔

سبق نمبر43 صفحہ نمبر4

اکبر: جی آنٹی پروین۔

پروین: کیا آپ کا اِیمان ہے کہ خُدا آپ کی ضرورتیں پوری کرتاہے۔ یا کیا خیال کرتے ہیں کہ وہ لوگ جن کی خُدا ضرورتیں پوری

کرتا ہے آپ سے زیادہ رُوحانی طورپر بالغ ہوتے ہیں۔

اکبر: بیشک ۔ یہ ہے جو میَں نے محسوس کیا ہے ۔ میَں محسوس کرتا ہُوں کہ آپ کا رُوحانی معیار میرے معیار سے بلند ہے۔ یہی وجہ ہے

کہ خُدا آپ کی ساری ضرورتیں پوری کرتاہے۔

ندیم: اکبر۔آپ نے خود ہی اِس بات کی نشاندہی کردی ہے کہ خُدا کیوں آپ کی نہیں سُنتا۔ آپ خُدا سے مانگتے ہُوئے خوف

محسوس کرتے ہیں کہ وہ آپ کی نہیں سُنے گا۔ یہ عبرانیوں گیارہ باب کے اِلفاظ کے خلاف ہے۔ وہاں لکھا ہے ’’ اور بغیر اِیمان

کے اُس کو پسند آنا نامُمکن ہے ‘‘۔ کیونکہ اُس کے پاس آنے والوں کو اِیمان لاناچاہئیے کہ وہ موجود ہے اوراپنے طالبوں کو بدلہ

دیتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے جب آپ خُدا سے مانگ رہے ہیں آپ کو اِیمان رکھنا چاہئیے کہ جو آپ اُس سے مانگتے ہیں آپ

کو دے گا۔

زیدی: یعقوب کے پہلے باب میں ایک آیت ہے جو بتاتی ہے جو شک کرتا ہے ،سمندر کی لہر کی طرح ہے جسے ہوا لئے پھرتی ہے۔ اِس

لئے جو شخص مانگتا ہے اُسے اِیمان سے مانگنا چاہئیے اور بھروسہ رکھنا چاہئیے کہ خُدا مہیا کرے گا۔

اکبر : کیا اِس کا مطلب ہے کہ خُدا کا جواب میری وجہ سے رُکا ہُوا ہے۔

ندیم: اکبر! میَں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہُوں کہ خُدا کا مہیا کرنے کا صرف ایک راستہ نہیں ہے بلکہ اُس کی راہیں عجیب ہیں۔

عادل: اکبر مت بُھولیں، کہ آپ خُدا کے فرزند ہیں اور وہ آپ سے پیار کرتا ہے اور آپ کے دِل کی خواہش پوری کرے گا۔

ندیم: آئیے! اکبر کے لئے دُعاکریں۔

ناصر: خُداوند میَں تیراشکرکرتاہُوں کیونکہ تُو وہ خُدا ہے جو ہم سب کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ خُداوند میَں اکبر کے لئے اور اُس کی

مالی ضروریات کے لئے دُعاکرتا ہُوں۔ اُسے یہ بھی سِکھا کہ تُجھ پر اِیمان لائے ، تُجھ سے مانگے اور بھروسہ کرے کہ تُو مہیا

کرے گا۔ میَں ساری عزت اور جلا ل تُجھے دیتا ہُوں۔

تمام: آمین۔

ندیم: کیا کوئی اور کچھ کہنا چاہتا ہے ۔

نائیلہ: میَں کہنا چاہتی ہُوں۔

ندیم: جی نائیلہ بہن۔

سبق نمبر43 صفحہ نمبر5

نائیلہ: میَں اور زیدی پچھلے ہفتے ڈاکٹر کے پاس گئے اور ہم نے اپنے بیٹے کو کمپیوٹر کی سکرین پر دیکھا۔

تمام: خُدا کی تعریف ہو۔ خُداوند تیرا شکر ہو۔ تیرے نام کو جلال مِلے۔

ندیم: زیدی صاحب۔ یقینا آپ بے حد خُوش ہُوئے ہوں گے۔

زیدی : کاش اُس کی پیدائش کا وقت جلد آجائے۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ نائیلہ بہن، میَں آپ کو کچھ بہت اہم بات بتانا چاہتا ہُوں۔ جو آج ہی آپ کو شروع کرنی چاہئیے۔ وہ یہ ہے

کہ اُس آنے والے بچے کے لئے دُعا کریں کہ خُدا اُسے برکت دے اور اُسے اَپنا بنائے۔ اِس وقت بھی جب وہ آپ کے رحم

میں ہے پاک رُوح سے کہیں کہ اُسے بھر دے۔

پروین: نائیلہ ۔ یہ سچ ہے ۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے اور میَں نے ایسا کیا تھا جب ناصر پیدا ہونے والا تھا۔ اِس سے بچے کو بہت فائدہ ہوتا

ہے ۔ جب ہم اُس کے لئے دُعا کرناشروع کرتے ہیں وہ خُدا کے فضل اور قُدرت سے بھرنے کے لئے بڑھتا ہے۔

شمیم: جی ہاں، بچے اِسے محسوس کرتے ہیں اور ثبوت الیشبع بی بی کے اِلفاظ ہیں جو اُنہوں نے اپنے بیٹے حضرت یوحنا کے

لئے کہے۔جب کنواری بی بی مریم اُن سے مِلنے آئیں تو بچہ اُن کے پیٹ میں خُوشی سے اُچھل پڑا۔

ناصر: حضرت سیموئیل نبی کی ماں بی بی حنّا نے بھی اُن کے لئے دُعا کی اور اُنہیں اُن کی پیدائش سے پہلے خُداوند کے لئے مخصوص

کیا۔ پس وہ پاک رُوح کی قُدرت سے بھر گئے۔

ندیم: آمین۔ آئیے ہم نائیلہ بہن اور زیدی بھائی کے لئے اوراُن کے نومولُود بچے کے لئے دُعا کریں۔

شمیم: خُداوند۔ میَں تیرا شکرکرتی ہُوں کیونکہ تُو معجزات کا خُدا ہے ۔ میَں نائیلہ اور زیدی بھائی کے بیٹے کے لئے جو پیدا ہونے کو

ہے دُعاکرتی ہُوں۔ خُداوند اَبھی سے اُسے اپنی قُوت سے بھر دے تاکہ وہ تیرے لئے مخصوص ہوجائے۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔

ندیم: میَں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہُوں۔ کیا آپ کے پاس اپنی بشارت کے منصوبے کے متعلق کوئی خبر ہے۔ کیا نائیلہ

بہن کے علاوہ جو اپنی پڑوسن کے ساتھ بات کرتی ہے کوئی اور اپنے رفیق کار یا پڑوسن یا اپنے خاندان کے کسی فرد کو بشارت

دے رہاہے۔

تمام: نہیں۔ ہم تو ایسا نہیں کررہے۔ یہ بات تو میرے ذہن میں کبھی نہیں آتی۔

شمیم: میرے پاس بھی کوئی ایسا نہیں جس سے بات کروں۔

ندیم: ظاہر ہے ۔ اِس قدر جوش میں ہونے کے بعد جب ہم کلیسیائی بشارت کے بارے میں بات کررہے تھے تو ہم سب اِس کے سبق نمبر43 صفحہ نمبر6

بارے میں بُھول گئے ہیں۔ آئو اِس کے اسباب تلاش کریں۔ مثال کے طورپر ناصر ، تُم کیوں کسی کو بشارت نہیں دے رہے؟

ناصر: میَں اِن گزرے دِنوں میں ملازمت تلاش کرتا رہا ہُوں۔

ندیم: اورعادل آپ۔

عادل: میَں اپنے اپارٹمنٹ پر مصروف تھا اوراِسے تیار کررہاتھا۔

ندیم: زیدی بھائی آپ۔

زیدی: کام اور نئے بچے کے لئے میری فکر میں میرا وقت صَرف ہوجاتا ہے۔

ندیم: اورپروین آپ۔

پروین: حال ہی میں نگہت سے بات کرنا شروع کیا تھا۔

ندیم: ایک بار جب ہم عیسیٰ مسیح کے لئے کوئی رُوح جیت لیتے ہیں تو ہمیں رُک نہیں جانا چاہئیے۔ ظاہر ہے کہ شیطان ہمیں زندگی

کی فکروں میں ڈالنے اورشکست دینے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ ہم اُس مقصد کو بُھول چکے ہیں جس کے لئے خُدا نے ہمیں

پیدا کیاہے ۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم اِقرار کریں اور توبہ کریں اور اُس کے سامنے اپنے وعدے کو نئے سِرے

سے دُہرائیں کہ آنے والے دِنوں میں بڑی قُوت کے ساتھ لوگوں میں بشارت دیں گے۔

زیدی: خُداوند میَں اعتراف کرتا ہُوں کہ زِندگی کی فِکریں میری منزل سے مُجھے دُور لے گئیں جن کے لئے تُو نے مُجھے پیدا کیا۔

خُداوند تیرے سامنے آج وعدہ کرتا ہُوں کہ میَں دوبارہ خِدمت کرنا شروع کروں گا۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔

عادل: اَے خُداوند بہت مصروف ہونے کے لئے مُجھے مُعاف کر۔ لیکن میَں وعدہ کرتا ہُوں کہ اگلے چند دِنوں میں میَں تیرے بارے

میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں کے ساتھ گفتگو کروں گا۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔ میرے دِل پر اپنا لہو چھڑک دے۔ میرے خیالوں پر اپنا لہو چھڑک دے۔ مُجھے اپنے لہو سے ڈھانپ لے۔

یسوع مُجھے مُعاف کر۔

پروین: میَں گزرے ہُوئے ماضی کے دِنوں کے بارے میں اپنی خطا محسوس کرتی ہُوں۔

ندیم: عیسیٰ مسیح کے لئے ایک دو اَشخاص کو جیتنا بڑی بات نہیں۔ ہم ہزاروں کو عیسیٰ مسیح کے لئے جیتنا چاہتے ہیں۔

زیدی: میَں نے بہت مُدت سے کسی سے بات نہیں کی۔ اَے خُدا مُجھے افسوس ہے۔

ندیم: خُدا کو جلال مِلے۔ اور جب ہم نے خُدا کے سامنے ذمہ داری لی ہے ہمیں اِس کا پابند ہونا ہے ۔ میَں اپنی خبر آپ کو بتانا چاہتا ہُوں۔ سبق نمبر43 صفحہ نمبر7

میَں نے اپنے کام میں اپنے ایک رفیق کار جمال سے گفتگو شروع کی تھی ۔ اُس کے دِل میںخُدا کے لئے زندہ رہنے کی

خواہش ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی دولت ، خواہشات اور منصوبے نہیں چھوڑ سکتا۔ اُس کا سارا دِل و دماغ دولت میں ہے ۔

میَں نے خُداوند کے عِلم کے بارے میں اُس سے گفتگو کی ہے۔ اُس نے میرے اِلفاظ کا مثبت جواب دینا شروع کیا ہے اور

مُجھے یقین ہے کہ خُداوند اِسے جاری رکھے گا۔

شمیم: جب ہم دُعاکررہے تھے ۔خُداوند نے اُن لوگوں کے لئے جو میرے ساتھ کام کرتے ہیں ایک رویا دِکھائی۔ رویا میں خُداوند

نے اُن کے دِلوں کو چُھوا اور وہ حقیقی اِیماندار بن گئے اور اُن میں سے بہت سے کلیسیا ئ میں ہمارے ساتھ بیٹھے تھے۔

ندیم: آمین! دوستو کافی دیر ہوگئی ہے۔ کیا خیال ہے ، چلیں۔

تمام: جی چلنا چاہئیے، ضرور۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ اِس ہفتے میں ہم نحمیاہ کی کتاب کا مطالعہ کریں گے اور اگلی بات جب ہم آئیں گے اکٹھے اِس پر سوچیں گے۔

آئو اَب چلتے ہیں ۔ خُداوند عیسیٰ مسیح آپ سب کو برکت دے۔

تمام: آمین۔