Hear Fellowship With My Family Episode 44 (Audio MP3)

View FWMF episode 44 as a PDF file

سبق نمبر44 "نحمیاہ" صفحہ نمبر1

نائیلہ: زیدی۔

زیدی: جی نائیلہ۔

نائیلہ: کیا آپ میرے لئے سُپر مارکیٹ سے جُوس خرید کر لا سکتے ہیں ۔میں آج مہمانوں کو کیک کے ساتھ جوس پیش کرنا چاہتی ہوں۔

زیدی: کیا اِس کے علاوہ آپ کو کِسی چیز کی ضرورت ہے۔

نائیلہ: نہیں۔ جب تک آپ واپس نہیں آتے ، میں نحمیاہ کی کتاب سے کُچھ باتیں لِکھنے لگی ہوں۔ جن پر آج ہم گفتگو کریں گے۔

زیدی: نائیلہ۔ میں وہ باتیں تیار کروں گا جب تک مہمان نہیں آتے، آپ کُچھ وقت پڑھنے اور دُعا کرنے میں صرف کریں۔

نائیلہ: ٹھیک ہے۔

﴿موسیقی﴾

زیدی: ﴿دروازے پر دستک دیتے ہوئے﴾ نائیلہ! مہمان آ چُکے ہیں۔

نائیلہ: ﴿اندر سے﴾ میں آ رہی ہوں۔

﴿دروازہ کھلتا ہے﴾

نائیلہ: خوش آمدید۔

ندیم: نائیلہ بہن۔ آپ کیسی ہیں۔

پروین: اور بچے کا کیا حال ہے۔

نائیلہ: سب ٹھیک ہے۔شکریہ۔

﴿برتنوں کی آواز﴾

عادل: نائیلہ بہن۔ کیک بڑا مزیدار ہے۔

شمیم: واقعی

ناصر: جوس بھی مزیدار ہے۔

نائیلہ: شکریہ۔

پروین: نگہت آپ کا کیا حال ہے۔ کام کیسا جا رہا ہے۔

نگہت: پروین بہن شکریہ۔ آپ کی دُعائوں کے وسیلے سے کافی بہتری آئی ہے۔

ندیم: اور آپ کے باس کا کیا حال ہے۔

سبق نمبر44 "نحمیاہ" صفحہ نمبر2

نگہت: دو دِن پہلے کی بات ہے ۔ اُنہوںنے مُجھے کہا کہ اگر کوئی مُجھے مِلنا چاہے تو کہہ دینا مَیں نہیںہوں، دفتر سے باہر کِسی کام سے گیا ہوا ہوں۔ مَیں نے کہا ، جناب مُجھے افسوس ہے میں جھوٹ نہیں بول سکتی۔ البتہ یہ کہہ سکتی ہوں کہ آپ مصروف ہیں۔

زیدی: پھر کیا ہُوا۔

نگہت: وہ میرے جواب سے حیران ہو گئے۔ پھر، مُجھے موقع مِل گیا کہ اُن سے اپنی تبدیلی کے بارے گفتگو کر سکوں جو میری زندگی میں عیسیٰ مسیح کو قبول کرنے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔

شمیم: نگہت۔یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ خُدا ہماری دُعائوں کا جواب دیتا ہے۔

پروین: مُجھے یقین ہے کہ اُس کی زندگی اور خیالوں میں یہ تبدیلی کا سبب ہو سکتا ہے۔

زیدی: نگہت بہن! جب میںآپ کے لئے دُعا کر رہا تھا ۔ میں نے محسوس کیا کہ خُداآپ کے افسر کی نظروںمیں آپ کو حمایت دے گا۔ جیسے فوطیفار کی نظروں میںحضرت یوسف کو حمایت دی۔

نگہت: آمین۔مَیں نے محسوس کرنا شروع کر دیا ہے کہ خدا میرا بوجھ اُٹھا رہا ہے۔

ندیم: آمین۔ نگہت بہن۔ خُد اآپ کو برکت دے ۔اَب آئیں ہم اپنی عبادت شروع کریں۔

ندیم: آج نائیلہ اورزیدی جِس طرح ہم نے اتفاق کیا تھا نحمیاہ کی کتاب کے مطالعے میں ہماری رہنمائی کریں گے۔

عادل: ٹھیک ہے۔

شمیم: یہ ایک عجیب کتاب ہے۔

زیدی: بیشک۔ ہم سب اِس کا تعارف سننے کے لئے بیتاب ہیں۔

نائیلہ: مَیں شروع کرتی ہوں۔

نحمیاہ کی کتاب اُن وقتوں کی تکمیل ہے۔ جِن کے بارے میں عزرا نے گفتگو کرنا شروع کیا تھا۔ یہ بنی اسرائیل کی جلاوطنی سے واپسی کی زندگی کے بارے میں بیان کرتی ہے۔ عزرا کی کتاب میں ، اُنہوں نے ہیکل کی دوبارہ تعمیر کے بارے میں گفتگو کی۔ لیکن نحمیاہ کی کتاب میں وہ یروشلیم کی گِری ہوئی دیوار وں کی بحالی کے بارے گفتگو کرتے ہیں۔ کتاب دیواروں کو بحال کرنے کی ضرورت سے شروع ہوتی ہے تاکہ رہنے والوں کو تحفظ مہیاہو۔ اِس کے بعد وہ بیان کرتے ہیں کہ بہت سے اندرونی اور بیرونی مسائل کے باوجود دیوار بنائی گئی۔ اور کِس طرح ایک وقت تھا جب لوگ پچھتائے اور خُدا سے معافی مانگی۔

سبق نمبر44 "نحمیاہ" صفحہ نمبر3

زیدی: حضرت نحمیاہ خُدا کے منصوبے کو واضح کرتے ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ گناہ خدا کے مقاصد کی راہ میں کھڑا ہو جاتا ہے۔اور خُدا کِس طرح بحالی اور مخلصی کی راہ تیار کرتا ہے۔ یہ ایک شخص کے وسیلے سے حاصل ہوتی ہے جو دیانتدار اور مخصوص کیا ہوا ہے اور اُس کے پاس رویا ہے اور وہ ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اُٹھانے کے لئے تیار ہے۔ یہ شخص نحمیاہ ہے اور اُن کی ذاتی استعداد نے اُنہیں بحالی کا راہنما بنا دیا۔

نگہت: مُجھے افسوس ہے بائبل مقدس کا مُجھے کُچھ علم نہیں۔ حضرت نحمیاہ کون تھے؟

زیدی : حضرت نحمیاہ بادشاہ کے ساقی تھے اور میرا خیال ہے اُس وقت بادشاہ کا ساقی ہونے کا مطلب تھا کہ بادشاہ کے دربار میںآپ وزیر کی طرح مقام رکھتے تھے۔ بادشاہ کوآپ پر پورا بھروسہ تھا۔

ناصر: یہ بھی واضح ہے کہ بادشاہ اُن سے پیار کرتا تھا ۔ اِسی وجہ سے بادشاہ نے دیکھا کہ وہ افسردہ ہیں۔ لیکن بیمار نہیں۔ جیسا کہ ایک آیت میں لِکھا ہے،"یہ دِل کی افسردگی کے سوا کُچھ نہیں "۔

پروین: میں یہ بھی خیال کرتی ہوں کہ حضرت نحمیاہ معمول کے مطابق ایک شادمان آدمی اور مضبوط زندگی کے مالک تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اُن کے چہرے پر تبدیلی آئی بادشاہ نے صاف طور پریہ دیکھ لی۔

زیدی: ہُوا یوں کہ جب حضرت نحمیاہ ، بادشاہ کے دربار میں تھے، اُنہوں نے یروشلیم جانے کے بارے میں پوچھا۔ وہ پورے دِل سے اُس کے بارے میں فکر مند تھے ۔ ایک آیت بتاتی ہے ، "جب میں نے یہ باتیں سُنیں ، میں بیٹھ گیا اور رویا ۔ کُچھ دِن میں نے ماتم کیا اورروزہ رکھا اورآسمان کے خُدا کے آگے دُعا کی"۔

عادل: ہمیں بھی اپنی ملازمتوں اور دلچسپیوں کو خُدا کے کام کی فکر سے ہمیں دور رکھنے نہ دینا چاہیے۔ بلکہ خُدا ہماری بڑی دلچسپی ہونا چاہیے بالکل اِسی طرح جِس طرح لِکھا ہے، "پہلے خُدا کی بادشاہت اور راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تہیں مِل جائیں گی"۔

نائیلہ: بیشک۔ حضرت نحمیاہ صرف واقفیت اکٹھی کرنے کے لئے نہیں پوچھ رہے تھے بلکہ خُدا کے کام کے بارے میں ذمہ داری محسوس کرتے تھے۔ یہ سچ ہے کہ حضرت نحمیاہ کا دِل کھلا تھا اور وہ خُدا کی بلاہٹ کے لئے حساس تھے۔

ندیم: اور فکر کی وجہ سے اُن کا چہرہ اُداس تھا۔ بادشاہ نے اُنہیں دیکھا اورپوچھا کہ وہ اُداس کیوںہیں۔ حضرت نحمیاہ بہت ڈرے کیونکہ بادشاہ اُن کی موت کا حُکم دے سکتا تھا یا اُن کی ملازمت سے اُنہیں نکال سکتا تھا۔یہی کُچھ ملکہ آستر نے کیا۔اُنہوں نے اپنی ساری قوم سے روز ہ رکھنے اور دُعا کرنے کو کہا تا کہ بادشاہ اپنا فضل کا عصا بڑھائے اور اُنہیں مِلنے کو راضی ہو۔

سبق نمبر44 "نحمیاہ" صفحہ نمبر4

اکبر: لیکن وہ حمایت جو خُدا نے حضرت نحمیاہ کو بادشاہ کی نظروںمیں دے رکھی تھی۔ بادشاہ کی حضوری میں اپنے چہرے پر اُداسی کے سبب اِسے کھوبھی سکتے تھے۔

زیدی: مگرہمیں بھی بھروسہ رکھنا چاہیے کہ جب ہم خُدا کی خِدمت کرتے ہیں ، حالات کیسے بھی ہوں وہ ہمیں اپنا فضل دے گا۔ اور بچائے گا۔

پروین: میں بھی محسوس کرتی ہوں کہ حضرت نحمیاہ کی انکساری ، اپنی قوم کے گناہوں ، اپنے باپ کے گناہوں اور اُن کے اپنے گناہوں کے اعتراف کے نتیجے میں خُداوند نے اُن میں ایک ایساانسان دیکھا جو اپنے لوگوں کی جگہ پیداشدہ خلا میں کھڑا ہو سکتا تھا۔وہ خُدائے قادر کے حضور دُعا مانگتے رہے کہ ویرا ن شہر کی حالت کو بدل دے۔ اور اُن لوگوں کو بدل دے جو خُدا سے دور تھے ۔ خُدا نے اُنہیں بہت ایمان بخشا۔

زیدی: پروین بہن ! جو آپ کہہ رہی ہیں مَیں اس کی توثیق کرتا ہوں۔ میںخیال کرتا ہوں جب حضرت نحمیاہ بادشاہ کے سوال سے جو اُن کے چہرے کی اُداسی کے متعلق تھا ڈر گئے۔ تو اُنہوں نے خُدا سے دُعا کی۔ اور اپنے آپ کو خُدا کے ہاتھوں میں دے دیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ خُدا سے کہہ رہے ہوں خُداوند میں نہیں جانتا کہ میں کیا کروںلیکن میں خود کو تیرے حوالے کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ خُدا نے اُسی لمحے حضرت نحمیاہ کے دِل میں ایمان ڈال دیا اور اِس نے اُنہیں حوصلہ دیا کہ وہ بادشاہ سے اُنہیں جانے اور شہر کی دیواروں کو بنانے کی درخواست کرے۔

شمیم: میں دیکھ سکتی ہوں کہ حضرت نحمیاہ کو جانے اور یروشلیم کی دیواروں کو دوبارہ بنانے ، فرآت کے پار گورنروں کو خطوط دینے کہ وہ اُسے گزر جانے دیں اور خُدا کے گھر کے لئے لکڑی فراہم کرنے اور شہر کی دیواروں کو بنانے کی اجازت ، سب خُدا کی طرف سے معجزات ہیں۔

زیدی: شمیم بہن ۔ آپ درست فرماتی ہیں۔ خُدا ہماری زندگیوں میں حیرت انگیز کام کرنے کے لئے تیار ہے۔ اگر ہم خود کو اُس کی خِدمت کے لئے دے دیں۔ وہ خُدا سچ مچ ہمیں بھی استعمال کر سکتا ہے۔

ندیم: میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ خُدا جب ہمیں حضرت نحمیاہ کی طرح دلیر اور نڈر دیکھتا ہے ہمارے ساتھ بھی عجیب کام کرتا ہے۔حضرت نحمیاہ بادشاہ کو بتانے سے نہیں ڈرے کہ وہ جانا چاہتے ہیں اور اپنے شہر کو دوبارہ تعمیر کرناچاہتے ہیں ۔ بادشاہ سوچ سکتا تھا کہ حضرت نحمیاہ بغاوت کرنا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو اپنے لوگوںکا سردار بنانا چاہتے ہیں۔اُنہوں نے خُدا کے کام کی خاطر اپنی جان جوکھوں میں ڈال دی۔ اور یہی وجہ ہے کہ خُدا نے بادشاہ کو اُس کی بات ماننے پر راضی کردیا۔

سبق نمبر44 "نحمیاہ" صفحہ نمبر5

عادل: ندیم بھائی! ایک آیت فرماتی ہے، "کہ بادشاہ کا دِل خُداوند کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جدھر چاہتا ہے اِسے پانی کے بہائو کی طرح بہاتا ہے"۔ یہ سچ ہے کہ خُدا بادشاہوں کو تبدیل کرنا جانتا ہے اور اُن سے اپنی مرضی پوری کرواتا ہے۔

زیدی: ایک اور بات ، حضرت نحمیاہ عظیم مردِ دُعا تھے۔ جب اُنہیں خطرہ محسوس ہوتا تھا وہ خدا سے دُعا کرتے تھے اور خُدا کی رہنمائی سے لطف اندوزہوتے تھے۔ ہم اِس کتاب کے ہر باب میں اِسے بہت صاف طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ایک آیت میں لِکھا ہے، " میں نے آسمان کے خُدا کے حضور دُعا کی"۔

ندیم: میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ حضرت نحمیاہ نے پیروی کے لئے دو اصول اپنا رکھے تھے ۔ اپنا کام کرتے ہوئے اُن کا پہلا اصول اتحاد تھا۔ جِس کے معنی ہیں کہ ہر ایک نے دیوار کی تعمیر میں حصہ ڈالا۔ اور وہ خود اُن کے ساتھ کام کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ،"ہم نے بنایا"۔ اِس کا مطلب ہے حضرت نحمیاہ محض نگرانی نہیں کر رہے تھے اور نہ محض حُکم دیتے تھے بلکہ خود کام کرتے تھے۔ اُن کا دوسرا اصول ہر ایک کی استعدادکے مطابق کام تقسیم کرنا تھا۔

پروین: نہ صرف یہ بلکہ اُنہوں نے لوگوں کی روحانی زندگی پر بھی کام کیا ۔انہوں نے لوگوں کو خدا کے لئے جیتنے اور سچی توبہ کرنے میںمدد دی ۔

عادل: جب میں حضرت نحمیاہ کی کتاب پڑھ رہا تھا مَیں نے دیکھا جن لوگوں نے اُنہیں بہت دُکھ دیا وہ سنبلط خورونی، طوبیاہ عمونی، جشم عربی تھے ۔وہ بہت ناراض تھے کہ کوئی آدمی لوگوں کی بھلائی چاہنے آ گیا ہے۔ اُنہوں نے کام کو روکنے اور اُن کے خلاف سازش تیارکرنے میں اپنا سارا وقت خر چ کر دیا۔

نائیلہ: عادل بھائی، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ اِس دنیا میں بہت سے لوگ اِس طرح کے ہیں۔ جِس طرح امثال کہتی ہے، "اُن کی منزل اُس سب کوروکنا ہے جو حرکت میں ہے"۔ کاش، ہم اُن طریقوں کو ظاہر کرنے کے لئے تھوڑی سی گفتگو کر سکیںجِن کے ذریعے شیطان خُداکے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔

اکبر: میں خیال کرتا ہوں کہ یہ لوگ تمام مذاہب اور سماج اور زمین پر سارے تمدن کے لئے ایک علامت ہیں۔

ناصر: اہم ہتھیاروں میں سے ایک جو وہ استعمال کرتے ہیں دوسروں کو ذلیل کرنے کا ہتھیار ہے۔

شمیم: ناصر کون سا ہتھیار؟

ناصر: ذلیل کرنے کا ہتھیار۔ جِس طرح دوسرے باب کی انیس آیت میں لِکھا ہے،"پر جب سنبلط خورونی اور عمونی غلام طوبیاہ اور عربی جشم نے یہ سُنا۔ اُنہوںنے ہمارا تمسخر اُڑایا اور تضحیک کی ۔ دوسرے لفظوں میں وہ کہہ رہے تھے ، "وہ کمزور یہودی کیا کر رہے ہیں کیا وہ اپنی دیوار کو بحال کرلیں گے؟ کیا وہ قربانیاں پیش کریں گے۔ کیا وہ ایک دِن میں ختم کر دیں گے؟ کیا وہ اُس ملبے کے ڈھیر سے پتھروں کو زندگی واپس دیں گے۔ وہ کہتے تھے اگر لومڑی بھی اِس پر چڑھ جائے تو اِس کو گرا دے گی۔

سبق نمبر44 "نحمیاہ" صفحہ نمبر6

نائیلہ: اِس میں جھوٹ بھی تھا ۔ یہ طوبیاہ اور اُس کے ساتھیو ں کے سوال سے ظاہر ہے جب اُنہوںنے اُن سے پوچھا ،"کہ تم کیا کر رہے ہو ۔ تم بادشاہ کے خلاف بغاوت کر رہے ہو"۔ جھوٹ کا مطلب ہے کہ ایک شخص کِسی چیز کو ظاہر ہونے دیتا ہے جو حقیقت کے خلاف ہے اور اِسے لوگوں میں پھیلاتاہے۔

زیدی: ایک اور ہتھیار غداری اور بے وفائی ہے۔ہم سنبلط، طوبیاہ اور جشم کو کوشش کرتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ دشمن افواج اُن کے ساتھ شامل ہوکر خُدا کے لوگوں کے ساتھ لڑیں اور اُنہیں نقصان پہنچائیں۔ چھٹے باب میں ہم اُنہیں بڑی دلیری اور بحث کے ذریعے کام کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

شمیم : میں خیال کرتی ہوں کہ آخری ہتھیار حضرت نحمیاہ کو ڈرانے کا ہتھیار تھاکہ وہ بطور لیڈر ڈرا ہوا نظر آئے اور اپنی حیثیت کھو دے۔ لیکن حضرت نحمیاہ کا جواب تھا،"کیا میرے جیسے آدمی کو بھاگ جانا چاہیے"۔

ندیم: جی ہاں حضرت نحمیاہ نے دو نہایت ہی اہم ہتھیار استعمال کئے ۔ اور وہ ہیں ایمان اور دُعا۔ بالکل اُس آیت کی طرح جو کہتی ہے،"اور سب موقعوں پر ہر طرح کی منتوں ، دُعائوں کے ساتھ روح میں دُعا کریں"۔ یہ دُعا کا ہتھیار ہے۔ اور وہ آیت بھی جو کہتی ہے ،"ایمان کی سپر کو جِس سے تم بدی کے جلتے تیروں کو بجھا سکتے ہو"۔ یہ ایمان کا ہتھیار ہے۔

نائیلہ: شیطان آج بھی وہی لڑائیاں استعمال کر رہا ہے جیسی وہ پہلے کرتا تھا ۔ ہم دُعا اور ایمان کے ساتھ اُن پرغالب آ سکتے ہیں۔

پروین: مَیں بتانا چاہتی ہوں کہ اِس گھر میںجب ہم بطور کلیسیائ اکٹھے ہوئے تھے، ہم چار لوگ تھے ۔ ندیم، مَیں، زیدی اور ناصر۔ شیطان نے مجھ پر حملہ کرنا شروع کیا اور مُجھے شک میں ڈالنے کی کوشش کی کہ تم کبھی کلیسیائ نہ بنا سکوگے۔ تم مصروف ہو گے اور ہر ہفتے اکٹھے نہیں ہو سکوگے۔ تمہاری زندگی میں کبھی ترقی نہیں ہوگی۔ تم کبھی روحانی طور پر تابع نہ ہوگے۔

ندیم: پروین آپ درست کہتی ہیں۔ جب میں نے ایمان میں دُعا کرنا شروع کی اور اپنی کلیسیائ کو بڑھتے دیکھا ، شیطا ن آتا تھا اور مُجھے پھر ورغلاتا تھا کہ تمہارے وسیلے کوئی عیسیٰ مسیح کے پاس نہیںآئے گا۔ اگر کوئی ایک بار آئے گا تو وہ دوسری بار نہیں آئے گا۔ اور وہ ہر ہفتے آنے کی ذمہ داری نہ لے گا۔ لیکن میں خُدا کا شکر کر تا ہوں آج ہم کلیسیائ میں نو افراد ہیں۔ اور ہم اور بھی بڑھیں گے۔

شمیم: ندیم بھائی، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ خدا ہے جو کامیابی دیتا ہے ۔ اُس مشہور آیت کی طرح جو حضرت نحمیاہ نے کہی،"آسمان کا خُدا ہمیں کامیابی دے گا۔ ہم اُس کے خادم دوبارہ تعمیر شروع کریں گے"۔

سبق نمبر44 "نحمیاہ" صفحہ نمبر7

زیدی: یہ سچ ہے جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے بالکل اُسی طرح ہے جیسے بائبل مقدس کہتی ہے۔ "آسما ن کی بادشاہت رائی کے دانے کی طرح ہے جِسے ایک آدمی نے لیا اور اپنے کھیت میں بو دیااگرچہ یہ بیجوں میں سب سے چھوٹا ہے پھر بھی یہ باغ کے پودوں میں سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اور درخت بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہوا کے پرندے آتے اور اِس کی شاخوں پر بسیرا کرتے ہے "۔ یہی ہے جوہمارے ساتھ ہوا ۔ کلیسیائ جو ایمانداروں کاگروہ ہے۔ صرف چار اراکین جِس کا مطلب ہے رائی کا دانہ۔ سچ مچ بڑھنا اور پھیلنا شروع ہوا۔

ندیم: میں بھی آپ کے ساتھ اپنے خُدا کا اپنی کلیسیائ کے لئے شکر کرتا ہوں کہ خُدا نے ہمارے ممبربڑھادئیے ہیں ۔اَب ہمارے لئے وقت آگیا ہے کہ ہم دو کلیسیائیں بن جائیں۔

اکبر: یہ ناممکن ہے۔ میں آپ کو ہر ہفتے دیکھنے کا عادی ہوں۔ ہم دو کلیسیائیں نہ بنیں۔ ہم تقسیم نہ ہوں۔

پروین: اکبر، ہم ایک دوسرے کو بھولیں گے نہیں ۔ بعض موقعوں پر ہم ایک دوسرے سے مِلیں گے ۔ کُچھ دیر بعد ہم ایک بار اکٹھے باہر سیر کو جا سکتے ہیں۔ ہم کو چاہیے نئے ممبران کو کلیسیائ میں شامل ہونے کا موقع دیں۔

اکبر: لیکن میں سچ مچ پریشان ہوں۔

ندیم: آپ پریشان نہ ہوں۔کیونکہ کلیسیائ میں شامل ہو نے والا ہر نیا ممبر بڑی خوشی کا باعث ہو گا۔

زیدی: میںآپ کو بتانا چاہتا ہوں۔ جب مَیں نحمیاہ کی کتاب پڑھ رہا تھا اُن الفاظ سے جو نحمیاہ نے کہے، "آئو ہم دوبارہ تعمیر شروع کریں"۔خداوند نے میرا دِل بھر دیا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ میرے لئے ایک دعوت کی مانند ہے۔ ندیم بھائی، آپ کے لئے اورنگہت بہن آپ کے لئے اوراکبرآپ کے لئے بھی۔ ہم سب کے لئے اورہراُس شخص کے لئے جس کے پاس ہم اپنی آوازوں کے ذریعے پہنچ سکتے ہیں ۔ یہ ہر ایک کے لئے دعوت ہے کہ تعمیر شروع کرو ۔ اپنے گھروں میں اپنے خاندانوں ، دوستوں اور پڑوسیوں کے ساتھ خدا کی کلیسیائ بنائو۔

نائیلہ: وہ لوگ جو حضرت نحمیاہ کے ساتھ کام کر رہے تھے میری توجہ اُن پر پڑی۔ ہر کوئی اپنے بھائی کے شانہ بشانہ تعمیر کر رہا تھا ۔ تیسرے باب میں یہ صاف نظر آتا ہے سب لوگ ایک دوسرے کے کام کو مکمل کر رہے تھے۔

ناصر: اِس سے خُدا ہمیں بتانا چاہتا ہے کہ جب وہ اپنی بادشاہت بناتا ہے تو ہم جیسے عام لوگوں کو استعمال کرتا ہے ۔

عادل: مُجھے اَبھی اَبھی رویا مِلی ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑیں ، کھڑے ہو جائیں اور بنائیں۔ میں نے اپنے سامنے ایک دیواردیکھی ہے جِس میں بڑے سوراخ ہیں اور ہم سب وہاںکھڑے ہیں۔ہم اُن سوراخوں کو بھرنے کی کوشش کررہے ہیں جِن میں سے شیطان گزرنا چاہتا ہے۔ ہم خُداوند کے لئے بہت سی کلیسیائیں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

سبق نمبر44 "نحمیاہ" صفحہ نمبر8

پروین: پاک روح نے مُجھے بھی یاد دِلایا ہے جب عیسیٰ مسیح نے اپنے شاگردوں سے گہر ے پانی میں جال ڈالنے کو کہا اور جب اُنہوںنے ایسا کیا۔ تو اُنہوںنے بہت سی مچھلیاں پکڑیں ۔یہاں تک کہ جال پھٹنے لگے ۔اوراُنہوںنے دوسری کشتیوں سے اپنے دوستوں کو آ کر مدد کرنے کوکہا۔

ندیم: عادل کی رویااور پروین بہن کے الفاظ سے جو مچھلیاں پکڑنے کے بارے میں تھے ظاہر ہوتا ہے کہ خُدا ہم سے بڑے پھل کے وعدے کر رہا ہے۔

نائیلہ: ندیم بھائی، مَیں آپ کے الفاظ سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔

پروین: جب ہم حضرت نحمیاہ کے ولولے کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے ، مُجھے یاد آیا کہ بائبل مقدس رومیوں 12باب11 آیت کے مطابق حُکم دے رہی ہے، "روحانی جوش سے بھرے رہو"اِس کا مطلب ہے کہ ہم روح کی آگ میں رہیں۔ یعنی خدا کے روح کی آگ کے بغیر کوئی بڑے کام نہیں ہو سکتے اور کوئی بڑی بیداری نہیں آسکتی۔

زیدی: آمین۔ میرا دِل اُمید سے بھرا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ خُدا کے عرفان کو زمین کو ڈھانپتے دیکھونگا۔ جِس طرح پانی سمندر کو ڈھانپتا ہے ۔

ندیم: آمین۔ سارا جلال ہمارے خداوند کو مِلے۔ دوستو! ہماری عبادت کا وقت ختم ہونے کو ہے۔ اگلے ہفتے پھر مِلیں گے ۔ خداوند عیسیٰ مسیح آپ کو برکت دے۔

تمام: آمین۔