Hear Fellowship With My Family Episode 45 (Audio MP3)

View FWMF episode 45 as a PDF file

سبق نمبر 45 "خُدا کی آواز سُننا" صفحہ نمبر1

(Music)

ندیم: دوستو، آپ کا کیا حال ہے۔

تمام: خُدا کا شکر۔ ہم ٹھیک ہیں۔آپ کیسے ہیں۔

ندیم: میں بہت خوش ہوں ۔ اچھا ہُوا آپ جلدی آ گئے۔ مُجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب ہم خُدا کے وقت کا احترام کرتے ہیں۔

عادل: آج میرے پاس بہت کام تھا لیکن میں نے اپنے افسر سے اجازت لی اور جلدی آ گیا۔

شمیم: پروین باجی! مَیں کُچھ بسکٹ لے کر آئی ہوں۔

اکبر: میں نے بھی آج امی سے کہہ کر کیک بنوایا ہے۔

پروین: اور چائے بھی تیار ہے۔

زیدی: خدا کا شکر ہو کہ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کو حصہ دار بناتے ہیں۔ یہاں تک کہ کھانے پینے میں بھی ۔

نائیلہ: میں بہت خوش ہوں کہ خُداوند نے ہمیں متحد کیا ہے اور ہمیں ایک خاندان بنایا ہے۔

ناصر: کیا ہم عبادت نہیں شروع کر رہے؟

ندیم: ناصر، کیا آپ کومعلوم ہے کہ جو بات چیت ہم کر رہے ہیں بہت ضروری ہے۔ ہمارا گفتگو کرنااور ہمارا کھاناپینا ہمارے درمیان اتحاد کو گہرااور مسائل کو کم کرتا ہے۔

ناصر: ابو، یہ سچ ہے۔ یہ سچی محبت ہے جو خُدا نے ہم میں ڈالی ہے۔

ندیم: آئیے! اَب ہم اپنی عبادت شروع کریں۔ آج خُداوند ایک نہایت ہی اہم اور حیران کُن موضوع کے بارے ہم سے گفتگو کرے گا۔ موضوع ہے ، "خداوند کی آواز کو سُننا"۔

نگہت: یہ بہت ضروری ہے ۔ مَیں جب ایسے حالات سے گزرتی ہوں جہاں فیصلہ نہیں کر سکتی۔ مُجھے سچ مچ خُداکی آواز کو سُننے کی ضرورت ہے۔

ندیم: خُدا کی پیروی کرنے کے لئے ہم سب کو اِ س مضمون کی ضرورت ہے۔ خُداوندعیسیٰ مسیح نے کہا، "میری بھیڑیں میری آواز سُنتی ہیں ۔ میں انہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے چلتی ہیں"۔اچھی زندگی گزارنے اور عیسیٰ مسیح کے پیچھے چلنے کے لئے خدا کی آواز سُننا بہت اہم ہے ۔ اِس سے پہلے کہ ہم بات چیت شروع کریں مَیں چاہتا ہوں کہ ہم اُس فرق کے بارے بات کریں جو ایک روحانی شخص اور جسمانی شخص میں ہوتا ہے۔ کیا کوئی مُجھے بتا سکتا ہے ایک روحانی شخص کیا ہوتاہے۔

سبق نمبر 45 "خُدا کی آواز سُننا" صفحہ نمبر2

زیدی: ندیم بھائی! ایک روحانی شخص وہ ہوتا ہے جو پاک روح کی رہنمائی میں چلتا ہے۔

ندیم: بالکل صحیح۔شمیم۔ کیا آپ ہمارے لئے پیدائش 1باب26اور27آیت پڑھ سکتی ہیں؟

شمیم: کیوں نہیں۔﴿صفحہ اُلٹنے کی آواز﴾

"پھر خُدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اورآسمان کے پرندوں اور چوپایوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اِختیار رکھیں۔اور خُدا نے اِنسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خُداکی صورت پر اُس کو پیدا کیا ۔ نروناری اُن کو پیدا کیا"۔

ندیم: یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ خُدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اور کیونکہ خُدا روح ہے ۔ انسان روحانی ہے اور اُس کے پاس خُدا کی طرف سے اختیار ہے۔ اور یہی وجہ ہے بائبل مقدس کہتی ہے، "خُدا روح ہے اور ضرور ہے کہ اُس کے پرستار روح اور سچائی سے اُس کی پرستش کریں"۔ اچھا، کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ جسمانی شخص کون ہوتا ہے۔

نائیلہ: جسمانی شخص وہ ہوتا ہے جو جسم کی خواہشوں ، خیالوں اور ارادوں کے مطابق چلتا ہے۔ اور خُدا کے روح کے تابع نہیں ہوتا۔

نگہت: مُجھے اِس بات کی بالکل سمجھ نہیں آئی۔

پروین: ندیم ، مَیں اِس بات کی وضاحت کرنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی پروین۔

پروین: خُدا روح کے وسیلے لوگوں سے بولتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب خُدا نے حضرت آدم کو پیدا کیا ۔ وہ خداکی روح کے تابع تھے۔لیکن جب سانپ آیا اور بی بی حوا سے گفتگو کی اور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے اُنہیں قائل کر لیا، اِس کے نتیجے میں بی بی حوا نے اُس درخت سے پھل کھایا اور حضرت آدم کو بھی کھلایا۔ لہٰذا حضرت آدم گِر گئے کیونکہ وہ اپنے احساسات میں بی بی حوا کی طرف مائل ہو گئے ۔

ناصر: اِ س کامطلب ہے ، بی بی حوا گِریں کیونکہ وہ اپنے ذہن کے تابع ہو ئیں اورحضرت آدم گِرے کیونکہ وہ اپنے احساسات کے تابع ہوئے۔

پروین: بالکل صحیح۔ اور اِس طرح سے روح حضرت آدم اوربی بی حوا دونوں میں مر گیا اور اُن دونوں کے اور خُدا کے درمیان کوئی رابطہ نہ رہا

اکبر: ندیم انکل! خُدا پُرانے وقتوں میں لوگوں سے کِس طرح بولتا تھا۔

سبق نمبر 45 "خُدا کی آواز سُننا" صفحہ نمبر3

ندیم: خُدا مختلف طریقے استعمال کرتا تھا۔ بائبل مقدس ہمیں عبرانیوں 1باب1 آیت میں بتاتی ہے، " اگلے زمانے میں خُدا نے ہم سے بہت موقعوں پر نبیوں کی معرفت اور بہت مختلف طریقوں سے کلام کیا۔ خُدا کا یہ روح نبیوں پر نازل ہوتا تھا ۔ اور یہ طریقہ تھا جِس سے وہ اپنا پیغام اُن تک پہنچانے کے لئے اُنہیں استعمال کرتا تھا ۔ حضرت ابراہیم کی طرح جوخدا کے دوت تھے براہِ راست خُدا سے رابطہ رکھتے تھے ۔ یہ انبیائ خُدا اور لوگوں کے درمیان رابطے کی زنجیر تھے۔ اور حضرت موسیٰ روبرو خدا سے بات کرتے تھے۔

ناصر: میں نے عبرانیوں بارہ باب میں پڑھا تھا کہ خُدا رعد اور آگ اور دوسری قوتوں کے وسیلے بولتا تھا۔ "تم اُس پہاڑ کے پاس نہیں آئے جِسے چھونا ناممکن اور آگ سے جلنا تھا۔ اور اُس پر کالی گھٹا اور تاریکی اور طوفان اور نرسنگے کا شور اور کلام کرنے والے کی ایسی آواز تھی جِس کے سُننے والوں نے درخواست کی کہ ہم سے اور کلام نہ کیا جائے "اور اِسی باب کی اکیسویں آیت کہتی ہے،" وہ نظارہ ایسا ڈرائونا تھا کہ موسیٰ نے کہا، میں خوف سے کانپتا ہوں"۔

ندیم: ناصر! بالکل درست۔ یہ اُس وقت تک ہوتا رہا جب تک عیسیٰ مسیح زمین پر نہ آئے۔

نگہت: جب عیسیٰ مسیح زمین پر آئے تو پھر کیا ہُوا؟

ندیم: جب خُداوندعیسیٰ مسیح آئے، وہ خُدا کی آواز کاصاف طور سے اعلان کرنے آئے۔ بائبل مقدس ہمیں عبرانیوں پہلے باب کی پہلی اور دوسری آیت میں ایک بہت اہم بات بتاتی ہے۔ عادل کیا آپ یہ آیات ہمارے لئے پڑھ سکتے ہیں۔

عادل: ﴿صفحہ اُلٹنے کی آواز﴾

اگلے زمانے میں خُدا نے باپ دادا سے بہت مرتبہ نبیوں کی معرفت کلام کیا۔ لیکن اِن آخری دِنو ں میں ہم سے اپنے بیٹے کی معرفت کلام کرتا ہے۔ جِسے اُس نے سب چیزوں کا وارث ٹھہرایا اور جِس کے وسیلے اُس نے عالم بھی پیدا کئے۔

ندیم: پس جب عیسیٰ مسیح آئے۔ وہ خُدا اور انسان کے درمیان درمیانی بنے۔ اور اُنہوں نے انسان کی روح کو دوبارہ بحال کیا۔ اور ہر نئے سِرے سے پیدا ہونے والے ایماندار کیلئے خُدا کی آواز کو بہت صاف طور پر سُننے کے قابل ہونے کے لئے روحانی ہونا ممکن کر دیا۔

نائیلہ: آپ کا مطلب ہے کہ خُدا میں نئے سِرے سے پیدا ہونے سے ہم روحانی لوگ بن جاتے ہیں۔اور ہماری روحیں خُدا سے رابطہ کر سکتی اور اُس سے رشتہ قائم کر سکتی ہیں اور پاک روح بلاواسطہ طور سے ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ خُدا کی تعریف ہو۔

شمیم: میں اِس بات کی توثیق کرنا چاہتی ہوں ۔ رومیوں 8باب14آیت میں لِکھا ہے ،"کیونکہ جتنے خدا کے روح کی ہدایت سے چلتے ہیں وہ خُدا کے فرزند ہیں "۔اور 1کرنتھیوں3باب16آیت میں لِکھا ہے،"کیا تم نہیں جانتے تم خُدا کا مقدس ہو اور خُدا کاروح تم میں بسا ہواہے"۔

سبق نمبر 45 "خُدا کی آواز سُننا" صفحہ نمبر4

ندیم: مَیں اِس بات کے لئے خدا کا شُکر کرنا چاہتا ہوں۔ آئو ہم دُعا مانگیں۔ زیدی بھائی! آپ دُعا میں راہنمائی کریں۔

زیدی: خُداوند ، میں تیرا شکر کرتا ہوں کہ عیسیٰ مسیح زمین پر آئے اور اُن کے وسیلے سے تیرے ساتھ ہمارا دوبارہ رابطہ بحال ہو سکا۔ خُداوند ہمیں سِکھا کہ ہمیشہ کِس طرح تیری آواز سُننی ہے۔ ہم عیسیٰ مسیح کے نام میں یہ دُعا مانگتے ہیں۔

تمام: آمین۔

ندیم: اَب سوال یہ ہے کہ ہم خدا کی آواز کیسے سُنتے ہیں؟

پروین: خُدا کی آواز سُننے کے لئے ہمیں اپنے آپ کو تیار کرنا چاہیے ۔اور خُدا کی پوری تابعداری کا اعلان کرنا اور خود انکاری پہلا قدم ہے۔ ہمیں پورے طور پر خُدا کے سامنے شکستہ ہونااور کہنا چاہیے کہ ہم میں کوئی طاقت نہیں ، ہم کمزور اور ناتواںہیں۔

ناصر: یہ اُس آیت کی طرح ہے جِس میں حضرت دائود کہتے ہیں، "میں احمق اور نادان تھا ، میں تیرے سامنے بے حس جانور تھا"۔حضرت دائود ایک عظیم اور طاقتور بادشاہ نے اپنے آپ کو اتنا چھوٹا بنا دیا اور کہا، میں خدا کے سامنے نادان ہوں اور کُچھ نہیں جانتا۔

ندیم: آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں۔ پس خُدا کو سُننے کے لئے پہلا قدم خود انکاری ہے۔ دوسرا قدم اُس کلام کی تابعداری کا اعلان کرنا جوپاک روح ہمیں بتاتا ہے۔ خواہ وہ ہماری مرضی کے خلاف ہی کیوںنہ ہو۔ مثال کے طور پر میں خُدا کی آواز سُننے کے لئے دُعا کر رہاہوں کہ مُجھے دوائیوں کے شعبے میں داخل ہونا چاہیے ۔ خُدا مُجھے شاید انجنئیرنگ کے لئے کہے۔ مُجھے خُدا کی فرمانبرداری کرنی چاہیے ، خواہ میری خواہش کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

زیدی: خُدا کی آوا ز کو سُننے کے لئے خود کو تیار کرنے میں ایک اور قد م ہے۔ جو شیطان کی مزاحمت کرنا ہے۔ یعقوب کے خط میں بائبل مقدس بتاتی ہے،"پس اپنے آپ کو خُدا کے تابع کر دو۔ ابلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا"۔شیطان مُجھے خُداسے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب کہ میں خُدا کی آوا ز سُننے کی تیاری کر رہاہوں۔ اِس لئے شیطان کو جھڑکنا ضروری ہے۔

ندیم: زیدی بھائی۔ آپ درست فرماتے ہیں ۔ کون اِس کے علاوہ کُچھ اور کہنا چاہتا ہے؟

عادل: ندیم بھائی! مَیں کہنا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی عادل۔

عادل: ایک اور نکتہ ہے اور وہ ہے دِل کی پاکیزگی۔ میںنے سچ مچ اِس کا تجربہ کیا ہے۔ جب میرا دِل پاک نہیں ہوتا میں خود کو خدا کی آواز سُننے کے قابل نہیں پاتا۔ جیسے یہ آیت کہتی ہے،"اگر میرے دِل میں گناہ ہو تو خدا میری کبھی نہ سنے گا"۔ جب میں اپنے دِل کو بدی سے پاک کرتا ہوں ، میں خُدا کی آواز صاف طور پر سُن سکتا ہوں۔

اکبر: زیدی انکل نے مُجھے ایک مرتبہ کُچھ بتایا تھا۔

سبق نمبر 45 "خُدا کی آواز سُننا" صفحہ نمبر5

ندیم: اکبر وہ کیا؟

اکبر: خُدا کی آواز سُننے کے لئے مُجھے اُس کا انتظار کرنا چاہیے۔ بہت مرتبہ ہم اُسے سُننے میں بے صبر ہو جاتے ہیں۔ لیکن انتظار کرنا اہم ہے۔ صبر کرو اوراُس کے سامنے کچھ وقت ٹھہرے رہو۔

نگہت: مَیں نے زبور شریف میں ایک آیت پڑھی تھی جوکہتی ہے، "میں خُداوند کا انتظار کرتا ہوں ۔ میری جان منتظر ہے۔ اور میں اُس کے کلام پر اعتبار کرتا ہوں ۔ میری جان پہرے دار سے زیادہ جو صبح کا انتظار کرتا ہے خُداوند کی منتظر ہے۔ ہاں صبح کا انتظار کرنے والے پہرہ داروں سے زیادہ"۔ جِس بات نے میری توجہ زیادہ کھینچی آیت کا یہ حصہ تھا،"اُس پہرے دار سے زیادہ جو صبح کا انتظار کرتا ہے"۔ایک ہی آیت میں دو بار یہ بات دہرائی جاتی ہے۔ یہ بات ہے جو خُداوند ہمیں بتانا چاہتا ہے۔

اکبر: مُجھے ایمان رکھنا چاہیے اور توقع کرنی چاہیے کہ خُدا بولے گا۔

ندیم: آمین۔ پس خُدا کی آواز سُننے کے لئے مُجھے اپنے آ پ کو تیار کرنا چاہیے۔ اور اپنے آپکو تیار کرنے میں مُجھے چند اقدام کی پیروی کرنی چاہیے۔ کیا کوئی وہ اقدام دہرا سکتا ہے جو ابھی ہم نے سُنے ہیں۔

پروین: میں اپنے آپ کا انکار کرتی ہوں۔ اور خُداکے سامنے مکمل تابعداری کا اعلان کرتی ہوں۔

زیدی: میں اعلان کرتا ہوں میںہر اُس چیز کے تابع ہوں گا جو روحِ پاک مُجھے بتا ئے گا۔ خواہ یہ میری مرضی کے خلاف ہو۔

نگہت: مُجھے شیطان کی مزاحمت کرنی چاہیے۔

ناصر: مُجھے پاک دِل رکھنا چاہیے۔

شمیم: مُجھے خُدا کا انتظار کرنا چاہیے۔

اکبر: مُجھے ایمان رکھنا چاہیے کہ خُدا بولے گا۔

ندیم: آمین۔ کیا کِسی کے پاس کوئی سوال ہے؟

نگہت: میرے پاس ہے۔

ندیم: جی نگہت۔

نگہت: میں کِس طرح یقین کر سکتی ہوں کہ جو میںنے سُنا سچ مچ خُدا کی طرف سے ہے۔

ندیم: بہت سی چیزیں ہیں جو ہمیں یقین دِلا سکتی ہیں کہ وہ الفاظ جو ہم سُنتے ہیں خُدا کی طرف سے ہیں یا نہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ جو ہم نے سُناخُدا کے کلام کے مطابق ہونا چاہیے۔ ہم اِ س بات کو پطرس رسول کے دوسرے خط کے پہلے باب میں دیکھتے ہیں۔جب اُنہوں نے کہا ، "اور ہمارے پاس بنیوں کا وہ کلام ہے جو زیادہ معتبر ٹھہرا ۔ اور تم اِس پر توجہ دے کر اچھا کروگے" ۔

سبق نمبر 45 "خُدا کی آواز سُننا" صفحہ نمبر6

اکبر: کیا آپ کوئی مثال ہمیں دے سکتے ہیں؟

ندیم: مثال کے طور پر شادی کے بارے میں بائبل مقدس ہمیں صاف بتاتی ہے ،"نور کا تاریکی سے کیا میل جول"۔ اگر آپ ایماندار ہیں اور خُدا کے فرزند ہیں تو آپ ایسی لڑکی سے شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے جو ایماندار نہیں۔

ناصر: ایک اور طریقہ ہے جِس کے ذریعے ہم خُدا کی آواز معلوم کر سکتے ہیں۔

ندیم: جی ناصر بتائیں۔

ناصر: خدا کی آواز اُس کی فطرت کے مطابق ہونی چاہیے ۔ مُجھے یونیورسٹی کا ایک واقعہ یاد ہے۔ میرا ایک دوست تھا جوہمیشہ مُجھے دِق کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اُس نے میرے دوستوں کے سامنے میری بہت بے عزتی کی۔ میرے دِل میں آیا کہ اُسے بہت ماروں لیکن پھر مَیں نے محسوس کیا کہ یہ شیطان کی آواز ہے کیونکہ خُدا کی آواز کو اُس کی فطرت کے مطابق ہونا چاہیے۔ خُدا محبت کا خدا ہے۔ صلح اور معافی کا خُدا ہے۔ میں اپنے دوست کی طرف بڑھا اور محبت سے گلے لگا لیا۔ وہ پریشان تھا اوراگلے دِن اُس نے مُجھ سے معافی مانگ لی۔

اکبر: انکل ندیم! خُدا میرے ساتھ کیسے بول سکتا ہے ؟

ندیم: کون اِس سوال کا جواب دے گا؟

عادل: سب سے اہم ترین طریقہ خدا کے زندہ کلام کے وسیلے سے ہوتا ہے۔ 2تیمتھیس 3باب16آیت بتاتی ہے،"پورا کلام خُدا کا الہام ہے اور سِکھانے کے لئے مفید ہے۔ خُد ا کا کلام مفید ہے اور ہماری زندگیوں کی راہوں کو تبدیل کرتا ہے اور ہماری راہ کو روشن کرتا ہے۔

ندیم: عادل جو آپ کہہ رہے ہیںمیں اُس کی توثیق کرتا ہوں۔ کلامِ پاک میں یہ بھی لِکھا ہے ،"تیرا کلام میرے قدموں کے لئے چراغ اورمیری راہ کے لئے روشنی ہے"۔ خُدا کا کلام سچ مچ ہماری راہ کو روشن کرتا ہے۔

پروین: خُدا ہم سے آواز کے وسیلے بھی بول سکتا ہے۔ جِس طرح وہ سائول سے بولا جب وہ دمشق کی راہ پر جا رہا تھا۔ اور اُسے بتایا ،"اے سائو ل، اے سائول تُو مُجھے کیوں ستاتا ہے"۔

نائیلہ: خُدا کے لئے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ خوابوں یا رویا کے ذریعے بولے۔ یہ حضرت پولوس کے ساتھ بھی ہوا جب اُنہوں نے ایک رویا دیکھی ۔رات کو ایک مکدُنی اُس کی منت کر رہا تھا ، مکدُنیہ میں آ کر ہماری مدد کر۔ یہ الفاظ خدا کی طرف سے تھے جو حضرت پولوس سے کہہ رہے تھے کہ جا کر اُس مکدُنی کی مدد کر ۔

ندیم: نائیلہ بہن۔ آپ صحیح کہتی ہیں۔ اِس خواب کے ذریعے حضرت پولوس نے خُدا کی آواز کو پہچانا۔

سبق نمبر 45 "خُدا کی آواز سُننا" صفحہ نمبر7

زیدی: یوائیل 2باب28آیت میں لِکھا ہے ،"اور اِس کے بعد میں اپنا روح ہر فرد و بشر پرانڈیلوں گا ۔ تمہارے بیٹے اور بیٹیاں نبوت کریں گے اور تمہارے بڈھے خواب دیکھیں گے اور تمہارے جوان رویا دیکھیں گے۔

نگہت: خُدا ہم سے وعظ یا تعلیم کے ذریعے بھی کلام کر سکتا ہے ۔ ہو سکتا ہے میں ایک وعظ سُن رہی ہوں اور خُدا اِس کے وسیلے شخصی طور پر مُجھ سے بات کررہا ہو۔

شمیم: ایک اور اہم بات ہے ۔خُدا ہم سے غیر زبانوں کی نعمت کے ذریعے کلام کر سکتا ہے۔ لیکن اِس کا ترجمہ ضروری ہوتا ہے اور پھر نبوت کے وسیلے سے بھی۔

ندیم: پس خدا کئی طریقوں سے کلام کر سکتا ہے۔ کون اِن طریقوں کو دہرائے گا؟

نگہت: مَیں بتاتی ہوں، بائبل مقدس کے ذریعے سُنی جانے والی آواز کے وسیلے سے ، رویا اور خواب کے ذریعے، تعلیم اور وعظ کے وسیلے۔ یا نبوت اور زبانوں کی نعمت کے ذریعے۔

ندیم: بہت خوب۔ آئیں باری باری خدا سے دُعا کریں اور اُس کی منت کریں کہ ہمیں سِکھائے کہ اُس کی آواز کیسے سُننی ہے۔

اکبر: خُداوند مُجھے سِکھا تیری آواز کیسے سُنوں اور اپنے دِل میں صاف طور پر اِسے پہچانوں۔ میں دوسروں پر انحصار نہ کروں۔ لیکن میرا رابطہ تیرے ساتھ بڑھے۔

شمیم: اے خُداوند ایسا کر کہ میں اپنی زندگی کے لئے تجھ پر انحصار کروں اور میری تربیت کر کہ اگلے دِنوں میں تیری آواز سُنوں۔

نگہت: خُداوند میرے دِل کو صاف کر اور میرے سارے گناہ دھو ڈال۔ مدد کر کہ تیری راہ پر چلوں۔

نائیلہ: خُداوندمُجھے سِکھا کہ تیرا انتظارکروں جب تیری آواز سُنوں۔

ندیم: آمین۔ آئیں، اپنی زندگی میں آج سے ہم خُداوند کی آواز سُننے پر بھروسہ کریں۔ زندگی کے پرانے طریقوں کو خُدا حافظ کہیں اور اپنے اندر خُداوند کی آواز کے مطابق جینا سیکھیں۔ اَب ہماری عبادت کا وقت ختم ہوتا ہے۔ اگلے ہفتے پھر مِلیں گے۔ خداوند عیسیٰ مسیح آپ سب کو برکت دے۔

تمام: آمین۔