Hear Fellowship With My Family Episode 46 (Audio MP3)

View FWMF episode 46 as a PDF file

سبق نمبر46 "زکائی" صفحہ نمبر1

Music

ندیم: زیدی بھائی اور پروین ، ہم اِس وقت اپنی کلیسیائ کے بارے میں خبروں پر تبادلۂ خیال کے لئے اکھٹے بیٹھے ہیں۔

پروین: ندیم ، آپ درست کہتے ہیں ۔ ہمیں سچ مچ اپنی کلیسیائ کے لئے اکٹھے دُعا کرنے کی ضرورت ہے۔ یقین کرنے اور یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے بھائیوں بہنوں میں سے ہر ایک ٹھیک جا رہا ہے۔

زیدی: میں اکبر کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ وہ اپنی روحانی زندگی میں بہت ترقی کر رہا ہے۔مَیں اکبر کی روحانی زندگی کی نگہداشت کیلئے ناصر کواپنے ساتھ استعمال کر رہا ہوں۔

پروین: میںنے دیکھا ہے کہ اُس کی روحانی زندگی مسلسل ترقی کر رہی ہے خاص طور پر پاک روح سے بھر جانے کے بعد۔

زیدی: پروین، یہ سچ ہے اور خدا اُسے اُس کے کالج کے پرانے ساتھیوں میں استعمال کرنا شروع کر رہا ہے ۔ مُجھے اُس سے پتہ چلا کہ جلد ہی اُس کے دو دوست آئیں گے اور ہمارے ساتھ کلیسیائ میں شامل ہونگے۔ وہ کہتا ہے کہ اِن دوستوں کا برتائو اور اُن کی زندگیاں بدل گئی ہیں۔

ندیم: زیدی بھائی! خدا کی تعریف ہو۔

پروین: میں نگہت کے بارے میں بھی بتانا چاہتی ہوں ۔ میں محسوس کرتی ہوں خداوند کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ جب میں کام پر جلدی پہنچ جاتی ہوں، مَیں اُسے بھی وہاں بیٹھے اور بائبل مقدس پڑھتے ہوئے دیکھتی ہوں۔ اُس نے مُجھے بتایا کہ وہ ہر روز جلدی آجاتی ہے اور بائبل مقدس پڑھتی ہے۔

ندیم: کیا اُس جوان کے بارے آپ کے پاس کوئی خبر ہے جو اُس میں دلچسپی لے رہا تھا۔

پروین: ندیم، مَیں خدا کا شکر کرنا چاہتی ہوں کیونکہ جب میں نے دو ہفتے پہلے نگہت کے ساتھ بیٹھ کر دُعا کی۔ وہ پورے طور پر قائل ہو گئی تھی کہ وہ اچھا نہیں ہے ۔ اُس نے مکمل طور پر اُس سے تعلق ختم کر لیا ہے۔

زیدی: خداوند تیرا شکر ہو۔

ندیم: میں شمیم کے منگیتر کے بارے میں بھی بتانا چاہتا ہوں ۔ اُس تھوڑے سے وقت سے جو ہم اکٹھے بیٹھ کر اور باتیں کر کے گزارتے ہیں ، میں محسوس کرتا ہوں کہ وہ خُدا کے ساتھ تعلق میں ترقی کر رہا ہے ۔ مُجھے اُس سے پتہ چلا کہ خُدا نے اُس کے ساتھ کام کرنے والے جوان اور اُس کے خاندان کو خدا کے پاس لانے کے لئے اُسے استعمال کیاہے۔ اُس نے مُجھے بتایا کہ اُس کا دوست ، اُس کی بیوی اور بیٹا جلدہی کلیسیائ میں شامل ہو جائیں گے۔

پروین: ندیم، یہ بڑی بات ہے۔ کلیسیا ئ ضرور بڑھے گی۔ اے خُدا تجھے جلال مِلے۔

سبق نمبر46 "زکائی" صفحہ نمبر2

ندیم: زیدی بھائی اور پروین، اَب میں چاہتا ہوں کہ دو کلیسیائیں بنانے کے کام کو شروع کرنے کے لئے بات چیت کی جائے۔ ایک کلیسیائ زیدی بھائی او رنائیلہ بہن کے گھر پر ہو گی او ر دوسری کلیسیائ یہاں ہمارے گھر پر رہے گی۔

پروین: میرا خیال ہے ہمیں یہ کرنا چاہیے ۔ لیکن زیدی بھائی ابھی نہیں ۔ ہم فوزیہ کا اِنتظار کر یںگے۔ نائیلہ کہہ رہی تھی اگلے دو ہفتوں میں وہ عبادت کے لئے آئے گی۔

زیدی: بالکل۔

ندیم: ٹھیک ہے زیدی بھائی۔ آپ کلیسیائ کی رہنمائی کریں گے تاکہ اِس کے عادی ہو جائیں۔

زیدی: ٹھیک ہے ندیم بھائی۔

﴿موسیقی﴾

زیدی: آج ہم زکائی کی کہانی پر جو حضرت لوقا کی معرفت انجیل اُس کے اُنیس باب کی پہلی تا دس آیات میںہے اکٹھے بات چیت کریںگے۔ہر کوئی دو آیات پڑھے گا۔ نگہت بہن آپ پڑھنا شروع کریں۔

نگہت: یسوع یریحو میں داخل ہو کر جا رہا تھا اور دیکھو زکائی نامی ایک آدمی تھا جو محصول لینے والوں کا سردار تھا اور دولتمند تھا۔ وہ یسوع کو دیکھنے کی کوشش کرتا تھا کہ کون سا ہے لیکن بھیڑ کے سبب سے نہ دیکھ سکتا تھا۔ اِس لئے کہ اُس کا قد چھوٹا تھا۔ پس اُسے دیکھنے کے لئے آگے دوڑ کر ایک گُولر کے درخت پر چڑھ گیا کیونکہ وہ اُسی راہ کو جانے کو تھا۔

پروین: جب یسوع اُس جگہ پہنچا اُس نے اوپر دیکھا اور اُسے کہا،"زکائی ، فوراََ نیچے اُتر آ۔مُجھے آج تیرے گھررہنا ضرور ہے۔ پس وہ فوراََ نیچے آگیا۔ اور خوشی سے اُسے خوش آمدید کہا۔

ناصر: سب لوگوں نے یہ دیکھا اور بُڑبڑانا شروع کیا ۔ وہ ایک گنہگار کا مہمان ہونے چلا گیا ہے۔ لیکن زکائی کھڑا ہوا اور خُداوند سے کہا ، دیکھ ، خداوند میں اپنا آدھا مال غریبوں کو دیتا ہوں اور اگر میں نے دھوکے سے کِسی کا کُچھ لیا ہے تو اُسے چار گناہ دیتا ہوں۔

شمیم: یسوع نے اُس سے کہا ، آج اِس گھر میں نجات آئی ہے۔ کیونکہ یہ آدمی بھی ابرہام کا فرزند ہے۔ کیونکہ ابنِ آدم گنہگاروں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے آیا۔

زیدی: آمین۔ آئیے ہم اکٹھے اِس کہانی پر سوچ بچار کریں۔ کون ہے جو کُچھ کہنا چاہتا ہے؟

نائیلہ: زیدی ، مَیں کہنا چاہتی ہوں۔

زیدی: جی نائیلہ۔

سبق نمبر46 "زکائی" صفحہ نمبر3

نائیلہ: میں نے یریحو شہر پر لکھی گئی ایک کتاب پڑ ھی تھی ۔ اور مَیں نے دیکھا کہ یشوع کے زمانے میں لوگوں کی فتح اور یریحو میں اُن کے داخلہ کے بعد یشوع نے کہا ، "وہ آدمی خُدا کی نظر میں ملعون ہو گا جو اِس یریحو شہر کو دوبارہ بنائے گا"۔ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کی موت پر بنیادرکھے گا اور سب سے چھوٹے بیٹے کی موت پر اِس شہر کے پھاٹک لگائے گا۔ اب میں اِس بات کو دیکھ کر حیران ہوں کہ خداوندعیسیٰ مسیح اِس یریحو شہر میں سے گزرے۔ وہ شہر جِس کا بنانے والا ملعون ہے۔ اِس سے مَیں سوچنے پر مجبور ہوں کہ خُداوند عیسیٰ مسیح کے لئے زکائی سے مِلناکِتنی اہم ترین بات تھی۔ اگرچہ اس ملعون شہر میں سے گزرنے کے کُچھ معانی تھے۔

زیدی: نائیلہ، آپ کے الفاظ عیسیٰ مسیح کے بارے میں وہ آیت یاد دِلاتے ہیں جو کہتی ہے۔ وہ ہمارے لئے لعنتی بنا ۔ کیونکہ لِکھا ہے ، ملعون ہے وہ شخص جو لکڑی پر لٹکایا گیا ۔ خداوند عیسیٰ مسیح نے لعنت کو قبول کیا کیونکہ وہ دنیا میں ہر ایک سے پیار کرتے ہیں۔

ندیم: زیدی بھائی، مَیں بھی کُچھ کہنا چاہتاہوں۔

زیدی: جی ندیم بھائی۔

ندیم: زکائی محصول لینے والوں کا سردار تھا۔پرانے وقتوں میں محصول لینے والا وہ ہوتا تھا جو رومیوں کو گائوں والوں کی جگہ محصول ادا کرتا تھا جو قوم پر قابض تھے۔ اِس کے بعد وہ ادا کردہ رقم سے دُگنا لوگوں سے وصول کرتا تھا۔ اِس وجہ سے محصول لینے والوں سے لوگ نفرت کرتے تھے۔ پہلی بات یہ کہ وہ واجب الادا رقم سے زیادہ غریبوں سے وصول کرتا تھا اور دوسری بات کہ وہ رومیوں سے تعاون کرتا تھا۔

پروین: زیدی بھائی، مَیں بھی کُچھ کہنا چاہتی ہوں۔

زیدی: جی پروین بہن۔

پروین: دوسری آیت بتاتی ہے کہ زکائی ایک امیر محصول لینے والوں کا سردار تھا۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ ایک عام محصول لینے والا نہ تھا بلکہ وہ ایک سردار تھا۔ وزیرِ مالیات کے برابر تھا ۔ زکائی کا مرتبہ بلند تھا۔ لیکن اپنے مرتبے کے باوجود وہ اُداس تھاکیونکہ لوگ اُس سے نفرت کرتے تھے۔ جو رتبہ اُس کے پاس تھا وہ لوگوں کے دِلوں میںاُس کی محبت کی تلافی نہ کرتا تھا۔ بیشک اُسے ایک شخص کی ضرورت تھی جو اُس سے محبت کرے۔

عادل: زیدی بھائی، کیا میں کچھ کہہ سکتا ہوں۔

زیدی: جی ضرور کہئے۔

عادل: آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ زکائی امیر تھا۔ اُس کے پاس نہ صرف رتبہ تھا یا لوگوں میں اونچا مقام بلکہ اُس کے پاس بہت دولت تھی۔ اِس سب کے باوجود وہ اُس آدمی کی طرح محسوس کرتا تھا جِس کے پاس کِسی چیز کی کمی ہو ۔

سبق نمبر46 "زکائی" صفحہ نمبر4

زیدی: آپ درست کہتے ہیں۔ وہ محسوس کرتا تھا کہ اُسے سچی محبت کی ضرورت ہے۔

نائیلہ: ہو سکتا ہے اُس نے متی محصول لینے والے سے عیسیٰ مسیح کے بارے میں سُنا ہو کہ وہ گنہگاروں سے پیار کرتے ہیں۔

زیدی: اور جب زکائی نے عیسیٰ مسیح کے بارے میں سُنا کہ وہ اُس جیسے محصول لینے والوں اور گنہگاروں سے کتنا پیار کرتے ہیں ، تیسری آیت میں لِکھا ہے ، وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ عیسیٰ مسیح کون ہیں لیکن وہ دیکھ نہیں سکتا تھا ۔آپ کا کیا خیال ہے وہ عیسیٰ مسیح کو کیوں نہیں دیکھ سکتا تھا۔

شمیم: پہلی بات جو زکائی کوعیسیٰ مسیح کو دیکھنے کے لئے روکتی تھی بھیڑ ہے ۔ جیسے آیت بتاتی ہے وہ بھیڑ کے سبب سے نہ دیکھ سکتا تھا۔ بہت مرتبہ ہم بھی عیسیٰ مسیح کو نہیں دیکھ سکتے اور اُس کی قربت محسوس نہیں کر سکتے کیونکہ بہت بھیڑ ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہمارے دوست خُداوند سے ہماری نظریں ہٹاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر جب ہم خُداوند کی راہوں پر چلتے ہیں تو ہمارا مذاق اُڑاتے ہیں۔اور پھر جب ہم اُن لوگوں کو دیکھتے ہیں جو اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ خُداوند کے ہیں لیکن اُن کا رویہ غلطیوں سے بھرا ہوتا ہے ۔ وہ ہمیں خدا کی قربت میں آنے سے روکتے ہیں۔ اِس طرح بھیڑ کی وجہ سے ہم خُداوند کو نہیں جان سکتے۔

ناصر: زیدی انکل۔ کیا اِس کے علاوہ میں کُچھ کہہ سکتا ہوں۔

زیدی: ناصر۔ مہربانی کر کے کہئے۔

ناصر: آیت یہ بھی بتاتی ہے کہ زکائی عیسیٰ مسیح کو اِس لئے نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ اُس کا قد چھوٹا تھا۔یہ سچ ہے بہت مرتبہ جو بات ہمیں خُدا کے قریب آنے سے روکتی ہے یا اُس کے ساتھ رہنے سے روکتی ہے ہمارے اردگرد کے لوگ ہوتے ہیں۔ لیکن کئی مرتبہ مسئلہ ہمارے اندر ہوتا ہے۔ مثال کے طو رپر اگر کوئی شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں اور اعلیٰ ڈگری نہیں رکھتا تو وہ بڑبڑانا شروع کرتا ہے کہ خُدا نے اُسے ایسا کیوں بنایا اور اِس وجہ سے وہ خُدا کے قریب آنے کے قابل نہیں ہوتا ۔

نگہت: کوئی اور شخص کہتا ہے ، میں خداوند کو نہیں جاننا چاہتا کیونکہ میں خوبصورت نہیں ۔ خُدا نے مُجھے ایسا کیوں بنایا۔

اکبر: اور کوئی کہہ سکتا ہے ، میں سچ مچ خُدا کی باتوں کو نہیں سمجھتا۔ اِس مسئلے کی وجہ سے وہ خُدا کے قریب آنے کے قابل نہیں ہوتا۔

زیدی: ظاہر ہے آپ اُن مسئلوں کے بارے بات کر رہے ہیں جِس سے خود آپ یا آپ کے دوست گزرے ہیں۔

نگہت: نالکل۔

ندیم: زیدی بھائی، کیا میں کُچھ کہہ سکتا ہوں ۔

زیدی: ندیم بھائی ضرور۔

سبق نمبر46 "زکائی" صفحہ نمبر5

ندیم: اِس حقیقت کے باوجود کہ زکائی بھیڑ کے سبب سے اور چھوٹے قد کی وجہ سے عیسیٰ مسیح کو نہ دیکھ سکتا تھا، وہ اِس نکتے پر رُک نہیں گیا اور گھر نہیں چلا گیا ۔ وہ عیسیٰ مسیح کو دیکھنے پر بضد تھا ۔ اُس نے یہ نہیں کہا، اگر خُدا میرے مسائل حل کرے اور مُجھے ذرا لمباکر دے پھر میں اُنہیں دیکھونگا۔ لیکن بائبل مقدس بتاتی ہے ،وہ عیسیٰ مسیح کو دیکھنے کے لئے دوڑ کر آگے گیا اورگولر کے درخت پر چڑھ گیا ۔

وہ بہت دور تک بھاگا جب تک اُسے خالی جگہ نہ مِلی۔ عیسیٰ مسیح کو مِلنے کی خواہش رکھنے والے ہر ایک شخص کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ اُسے ہر طرح سے اُنہیں دیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اُسے اُن رکاوٹوں پر غالب آنا چاہیے جو اُس کو روکتی ہیں ۔

پروین: زیدی بھائی، مَیںکُچھ اور کہنا چاہتی ہوں۔

زیدی: جی پروین بہن۔

پروین: زکائی نہ صرف بہت دور تک بھاگالیکن آیت یہ بھی کہتی ہے ، وہ اُسے دیکھنے کے لئے گولر کے درخت پر چڑھ گیا۔ میںجانتی ہوں کہ گولر کے درخت کی بہت موٹی شاخیں ہوتی ہیں ۔میرے خیال میں زکائی کواُس درخت پرچڑھنے کے لئے بہت سی مشکلات سے گزرنا پڑا ۔ یہ آسان نہیں تھا۔ میرے ساتھ سوچیں کہ ہم وزیرِمالیات کو درخت پر چڑھتے دیکھ رہے ہیں ۔ ہم یقیناََاُس کا مذاق اُڑائیں گے اور کہیں گے وہ پاگل ہو گیا ہے۔ زکائی نے بھی سوچا ہو گا کہ لوگ اُس کا مذاق اُڑائیں گے۔ لیکن اُس نے اِن باتوں کی پرواہ نہ کی کیونکہ وہ سچے دِل سے عیسیٰ مسیح کو دیکھنا چاہتا تھا۔

زیدی: آپ بالکل صحیح کہتی ہیں۔ زکائی سچ مچ عیسیٰ مسیح کو دیکھنا چاہتاتھا کہ عیسیٰ مسیح وہاں سے گُزریں ۔ زکائی عیسیٰ مسیح کو دیکھنے کے لئے بہت بیقرار تھا۔

پروین: پانچویں آیت سے میں بہت متاثر ہوں جو کہتی ہے، جب یسوع اُس جگہ پہنچا اُس نے اوپر دیکھا اور اُس سے کہا ،"زکائی"۔

بائبل مقدس بیان کرتی ہے عیسیٰ مسیح نے اوپر دیکھا۔ جب کوئی زکائی کی طرح عیسیٰ مسیح کو دیکھنے کے لئے اتنا بیقرار ہوتا ہے ،

عیسیٰ مسیح خود اُس کی طرف دیکھتے ہیں۔

ناصر: امی، جب آپ یہ کہہ رہی تھیں میں تمام لوگوں کو تصور میں عیسیٰ مسیح کے گرد چلتے دیکھ رہا تھا۔ وہ اچانک خاص طور پر زکائی کے لئے رُک جاتے اور دیکھتے ہیں۔

شمیم: ناصر۔ یہ سب کُچھ نہیں۔ یہ آیت کہتی ہے کہ یسوع مسیح نے اوپر نگاہ کی اور زکائی کو دیکھا ۔ بعض اوقات ہم خیال کرتے ہیں کہ خدا ہمیں نہیں دیکھتا یا ہماری پرواہ نہیں کرتا۔ اگرچہ ایک آیت ہے جو کہتی ہے ، خداوند تمہارے خدا کی آنکھیں سال کے شروع سے آخر تک اِس پر لگی ہیں۔

اکبر: زیدی انکل۔ میں کُچھ کہنا چاہتا ہوں۔

سبق نمبر46 "زکائی" صفحہ نمبر6

زیدی: جی اکبر۔

اکبر: عیسیٰ مسیح نے نہ صرف زکائی کو دیکھا بلکہ اُسے اُس کے نام سے بُلایا ،"زکائی"۔ خُداوند عیسیٰ مسیح ہم میں سے ہر ایک کا نام جانتے ہیں ۔ وہ ہم میں سے ہر ایک کی ذاتی طور پر نگہداشت کرتے ہیں۔

نگہت: اور پھر خُداوندعیسیٰ مسیح نے زکائی کو نہ صرف نام لے کر بُلایا بلکہ فرمایا ، "زکائی جلد اُتر آ کیونکہ آج مُجھے تیرے گھر رہنا ضرور ہے "۔ زکائی خوش قسمت ہے کہ عیسیٰ مسیح خود اُس کے گھر گئے۔

ندیم: خُداوندعیسیٰ مسیح نے زکائی سے کہا ، جلد اُتر آ، کیونکہ مُجھے آج تیرے گھر رہنا ضرور ہے۔ میں نے اِس لفظ"رہنا ضرور ہے" کے بارے میں سوچا ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ خُداوند عیسیٰ مسیح کا زکائی کے گھر جانا ضرور ی تھا۔ کیوں خُداوند عیسیٰ مسیح کے لئے اُس کے گھر رہنا ضروری تھا۔ یہ زکائی کے لئے عیسیٰ مسیح کی محبت تھی جِس نے اُنہیں جانے پر مجبو ر کیا۔حالانکہ زکائی کتنا گنہگار تھا۔مگر وہ عیسیٰ مسیح کو دیکھنا چاہتا تھا۔ کوئی بھی شخص جِس کا دِل عیسیٰ مسیح کے لئے بیتاب ہے کہ وہ اُس کی زندگی یا گھر میں داخل ہوں ، وہ یقیناََ اُس کے گھرمیں اور زندگی میں داخل ہوں گے۔

نائیلہ: میں بھی کُچھ کہنا چاہتی ہوں۔

زیدی: نائیلہ کہئے پلیز۔

نائیلہ: جیسے آپ ابھی بات کر رہے تھے میں زکائی کے احساسات کا خیال کررہی تھی۔ وہ سب کُچھ جو زکائی چاہتا تھا یہ تھا کہ عیسیٰ مسیح کو دیکھے ۔ لیکن جو ہوا یہ تھا کہ عیسیٰ مسیح خاص طور پر اُس کے لئے آئے اور اوپر دیکھا۔ اور نام لے کر بُلایا۔ جیسے وہ اُسے بتا رہے ہوں کہ میں تجھے جانتا ہوں۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ اُس کے گھر گئے اور وہاں رات گزاری۔ آپ کیا سوچتے ہیں کہ زکائی نے اِن سب باتوں کے واقع ہونے کے بارے توقع کی تھی؟ میرا خیال ہے، نہیں۔ سچائی یہ ہے کہ اگر کوئی عیسیٰ مسیح کو دیکھنا چاہتا ہے، خُدا یقیناََ اُس کی درخواست کاجواب توقع سے بڑھ کر دیتا ہے۔

عادل: میں بھی کُچھ کہنا چاہتا ہوں۔

زیدی: عادل کہئے پلیز۔

عادل: بائبل مقدس زکائی کے بارے میں کہتی ہے، پس وہ فوراََ نیچے اُتر آیااو ر خوشی سے اُسے اپنے گھر لے گیا۔ اِس کا مطلب ہے کہ زکائی کا دِل خوشی سے بھر گیا کیونکہ اُس نے عیسیٰ مسیح کو دیکھ لیا تھا۔کوئی بھی شخص جو عیسیٰ مسیح کو دیکھ لیتا ہے اُس کا دِل خوشی سے بھر جاتا ہے۔ اگر کوئی افسردہ ہے یا تھکا ماندہ ہے اور خُداوند عیسیٰ مسیح سے کہتا ہے کہ اُس کی مصیبتوں سے رہائی دے تو اُس کا دِل خوشی سے بھر جائے گا۔

سبق نمبر46 "زکائی" صفحہ نمبر7

زیدی: لیکن کیا آپ خیال کرتے ہیں کہ جو واقع ہوا اُس سے لوگ خوش تھے؟

پروین: ساتویں آیت سے صاف ظاہر ہے کہ لوگ بُڑبڑانے لگے اور کہا ، وہ تو ایک گنہگار کے ہاں جا ٹھہرا۔

زیدی: لوگ ہمیشہ ایک گنہگار کے بارے میںایسا ہی سوچتے ہیں۔ لیکن خُداوندعیسیٰ مسیح تو خاص طور پر آئے ہی گنہگار وں کے لئے تھے۔ اور بائبل مقدس بتاتی ہے ، میں راستبازوں کو بلانے نہیں بلکہ گنہگاروں کو بُلانے آیا ہوں۔

اکبر: میں کہنا چاہتا ہوں کہ خُدوندعیسیٰ مسیح سب لوگوں سے پیار کرتے ہیں۔ میں اپنے آپ کو جانتا ہوں کہ میں نے کتنے گناہ کئے جِن سے خُدا ناراض ہوا۔ اِس سب کے باوجود وہ مُجھ سے پیار کرتے ہیں ۔ اُنہوں نے میرے لئے اپنا دِل کھول دیا اور مُجھے تبدیل کر دیا۔

شمیم: میں بھی کُچھ کہنا چاہتی ہوں۔

زیدی: جی شمیم۔

شمیم: وہ تبدیلی جو زکائی میں پیدا ہوئی بہت عجیب اور حیران کُن تھی۔ زکائی کو محصول لینے والوں کے سردار کے طور پر تصور میں لائیں۔ لوگوں کی دولت اِس بہانے سے لُوٹنے والاکہ وہ اُن کی جگہ ٹیکس ادا کر دے گا۔اَب یہ کہہ رہا تھا اگر میں نے دھوکے سے کِسی سے کُچھ لے لیا ہے مَیں اُسے چار گنا ادا کرتا ہوں۔ اور یہ بھی کہ مَیںاپنا آدھا مال غریبوں کو دیتا ہوں۔ کیا یہ ممکن ہے ۔ جی ہاں! جب عیسیٰ مسیح کِسی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو یہ ممکن ہے۔

ندیم: شمیم، کوئی بھی شخص جو کِسی بھی جگہ ہماری بات سُن رہا ہے اور مسیح کیلئے بیتاب ہے کہ وہ اُس کے گھرمیں داخل ہوں۔ عیسیٰ مسیح یقیناََ اُس کے گھر میں آئیں گے اور جو زکائی کے ساتھ ہوا اُس کے اور اُسکے گھر میں واقع ہو گا۔" آج نجات اِس گھر میں آئی ہے"۔

نگہت: کیا میں ایک سوال پوچھ سکتی ہوں۔

زیدی: نگہت ضرور۔

نگہت: یہ آیت کہتی ہے،" آج اِس گھر میں نجات آئی ہے"۔ میں جانتی ہوں کہ ایک فردکے ساتھ یہ کِس طرح واقع ہو سکتا ہے۔ لیکن پورے گھر میں نجات کے کیا معنی ہیں ۔

عادل: زیدی بھائی، میں اِس سوال کا جواب دیتا ہوں۔

زیدی: جی عادل۔

سبق نمبر46 "زکائی" صفحہ نمبر8

عادل: اِس کا مطلب ہے کہ زکائی کے گھر میں عیسیٰ مسیح کے داخل ہونے سے پہلے تباہی تھی۔ یقیناََ زکائی اُس کی بیوی اور بچوں میں جھگڑا تھا۔ یقیناََ وہاں بیماری تھی۔ یقیناََ وہ کھوئے ہوئے تھے۔ یقیناََ وہاں نفرت تھی لیکن جب عیسیٰ مسیح یسوع وہاں اُس گھر میں داخل ہوئے، نجات وقوع میں آ گئی۔ ساری تباہی ختم ہو گئی ۔ ساری زنجیریں ٹو ٹ گئیں۔

ندیم: عادل جو آپ کہہ رہے ہیں میں اُس میں تھوڑا سا اضافہ کرنا چاہتا ہوں ۔کوئی گھرانہ جو اِس وقت ہماری باتیں سُن رہا ہے کوئی ماں یا باپ جن کے کُچھ مسائل ہیں ، بیماری ہے یا کوئی اور مشکل ہے۔ وہاں مسیح کی نجات کی ضرورت ہے ۔ جب آپ ہماری گفتگو سُن رہے ہیں ۔جِس طرح زکائی نے کیا ، اپنے گھر کی نجات مانگیں اور اپنے مسائل کا حل مانگیں۔ میرا یقین کریں آپ کو اپنے سارے مسائل کا حل مِل جائے گا۔ آپ کے گھر میں نجات آئے گی جِس طرح زکائی کے گھر میں آئی تھی۔

نگہت: میں چاہتی ہوں آپ میرے گھرانے کے لئے دُعا مانگیں کیونکہ میں سچ مچ چاہتی ہوں کہ خُداوند عیسیٰ مسیح میرے گھر میں داخل ہوں۔ میں محسوس کرتی ہوں میرا گھر بہت حد تک زکائی کے گھر کی طرح ہے۔ میرے ابو بڑے عہدے پر فائز ہیں اور اپنا سارا وقت کام میں گزارتے ہیں۔ ہم سب ایک دوسرے کی پرواہ نہیں کرتے ۔

زیدی: آئیے ہم سب نگہت کے ساتھ اُس کے گھر کے لئے دُعا مانگیں۔ اکبر آپ دُعا میں راہنمائی کریں۔

اکبر: خُداوندعیسیٰ مسیح سارا جلال تجھے مِلے۔نگہت کے گھر میں داخل ہو اور اِسے برکت دے جِس طرح تُو نے زکائی کے گھرانے کو برکت دی۔

تمام: آمین۔

نگہت: خُداوند ، میں بیتاب ہوں کہ تُو میر ے گھر میں داخل ہو۔ کاش کہ ہماری زندگیاں بدل جائیں اور ہم تیری حضوری کو محسوس کریں۔ کاش کہ ہمارا گھرانہ متحد ہو جائے ۔ تُو ہماری خوشی ہو۔ ہماری ساری اُداسی ہم سے دور کر۔ اور ہمارے ساے مسائل حل کر۔

عیسیٰ مسیح کے نام میں۔

تمام: آمین۔

زیدی: اَب ہماری عبادت کا وقت ختم ہوتا ہے۔ میں آپ کو یاد دِلارہا ہوں اگلے ہفتے عبادت ندیم بھائی کے گھر میں اِسی وقت ہو گی ۔

خداوند عیسیٰ مسیح آپ سب کو برکت دے۔

تمام: آمین۔