Hear Fellowship With My Family Episode 47 (Audio MP3)

View FWMF episode 47 as a PDF file

سبق نمبر47 "روح کاپھل" صفحہ نمبر1

Music

پروین: ندیم آئو۔ ہم سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔

ندیم: ٹھیک ہے۔میں آ رہا ہوں۔ (Pause) مستقبل کے شوہرعادِل کیا حال ہے آپ کا؟

عادل: ندیم بھائی ، خُدا کا شکر ہے۔

ندیم: ہر چیز ٹھیک ہے نا؟شمیم آپ کیسی ہیں؟

شمیم: مَیں بھی ٹھیک ہوں ندیم بھائی۔

ندیم: پروین اور میںآپ سے بات کرنا چاہتے تھے کیونکہ چند ہفتوں میںآپ کی شادی ہو جائے گی ۔ اورشمیم آپ کے بغیریہ گھر خالی ہو جائے گا۔

پروین: ہم آیا کریں گے اورآپ کے گھر میں عبادت کیا کریں گے۔

عادل: آمین۔ یہی دِن ہے جِس کا میں خواب دیکھتارہا ہوں۔ کیونکہ ہمارے پاس خُدا کے خاندان کے لئے کھُلا گھرہے اور خُداوند کے لئے ہمارے پاس حقیقی گھرہے۔

ندیم: میں پیدائش کی کتاب میں سے آپ دونوںکے لئے دو تین آیتیں پڑھنا چاہتا ہوں۔ جو دوسرے باب کی اکیسویں آیت سے شروع ہوتی ہیں۔﴿صفحوں کی آواز﴾ یوں لِکھا ہے، " اور خداوند خدا نے آدم پر گہری نیند بھیجی اور وہ سو گیا۔ اور اُس نے اُس کی پسلیوں میں سے ایک کو نکال لیا اور اُس کی جگہ گوشت بھر دیا اور خُداوند خُدا اُس پسلی سے جو اُس نے آدم میں سے نکالی تھی ایک عورت بنا کر اُسے آدم کے پاس لایا"۔ عادل بھائی،23اور24آیت آپ پڑھیں۔

عادل: اورآدم نے کہا کہ یہ تو اب میری ہڈیوں میںسے ہڈی اور میرے گوشت میں سے گوشت ہے اِس لئے وہ ناری کہلائے گی کیونکہ وہ نر سے نکالی گئی ۔ اِس واسطے مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی سے مِلا رہے گا اور وہ ایک تن ہو نگے۔

پروین: کیا آپ نے اُس آیت کی طرف توجہ دی جو کہتی ہے، "مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا "۔

شمیم: جی ہاں۔

ندیم: شمیم، باجی پروین کا مطلب کُچھ یوںہے، اُن کا مطلب ہے خُدا نے حضرت آدم کو کیوں کہا، مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا۔کیا حضرت آدم کے بھی ماں باپ تھے؟

شمیم: آپ کیا کہتے ہیں۔

عادل: میرا خیال ہے ہم خُدا کوحضرت آدم کا باپ خیال کر سکتے ہیں۔

سبق نمبر47 "روح کاپھل" صفحہ نمبر2

پروین: عادل آپ صحیح کہتے ہیں۔حضرت لوقا کی معرفت انجیل میں تیسرے باب کی 38آیت میں خُداوند عیسیٰ مسیح کے نسب نامے میںلِکھا ہے۔ آدم ابنِ خُدا۔

ندیم: لیکن آپ نے اِسے اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔آپ کے کہنے کے مطابق خُدا نے حضرت آدم سے اپنے باپ کو یعنی خدا کوچھوڑنے کو کہا۔

شمیم: کیا سچ مچ اِس کایہی مطلب ہے۔

ندیم: یقیناََ نہیں۔ خُدا کا مطلب شادی کے بارے میں یہ ہے کہ خاوند اور بیوی ایک ہوں ، ایک تن۔ اور یہ ایک بدن یا ایک ہستی ہے جو خُدا کے قریب ہونی چاہیے ۔

پروین: زبور45میں ایک آیت ہے جوکہتی ہے ، سُن اے بیٹی ، سوچ اور کان لگا اپنی قوم اور اپنے باپ کے گھر کو بھول جا۔ بادشاہ تیرے حسن سے گرویدہ ہے اُس کی عزت کر۔ کیونکہ وہ تیرا خُداوند ہے۔

شمیم: یہ آیت کہتی ہے، اُس کی عزت کرو وہ تیرا خُداوند ہے۔ اِن الفاظ کے مطابق ایسا لگتا ہے جیسے میں ایک غلام بن رہی ہوں۔

ندیم: شمیم جوآپ کہہ رہی ہیں ہمیں ایک بہت اہم نکتے کی طرف لے جاتا ہے اور وہ محبت اور اطاعت کرنا ہے۔

پروین: شمیم کے سوال کا جواب دینے کے لئے آئیں ہم اطاعت سے شروع کریں۔

ندیم: افسیوں کے نام پولوس رسول کے خط میںپانچویں باب کی بائیسویں آیت میں لِکھا ہے،" بیویو ، اپنے خاوندوں کی اِس طرح تابعداری کرو جیسی خُداوند کی "۔

شمیم: خواہ وہ غلط بھی ہوں۔

پروین: شمیم غلطیاں اضافی ہیں۔ بعض اوقات مَیں کُچھ ایسی باتیں دیکھتی ہوں جو آج مُجھے غلط نظر آتی ہیں لیکن ایک ہفتے کے بعد میرا ذہن بدل جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اِس تناظر سے کہ ہم ایک ہیں اور ایک تن ہیں جِس میں خاوند سر کا کردار اداکرتا ہے یعنی وہ لیڈر ہے۔ مُجھے اُس کا تابع ہونا چاہیے خواہ میں اِن باتوں کو پسند کروںیا نہ کروں۔

ندیم: نظریہ یہ ہے کہ ہماری تابعداری دراصل خُدا کی تابعداری ہو گی جِس نے گھر کے لئے ترتیب بنائی ۔" آدمی عورت کا سر ہے"۔ جب ہم اِسے اِس طرح سو چیں گے ہم خوشی سے تابعداری کریں گے۔

پروین: ندیم، لیکن یہاں ایک اہم نکتہ ہے جِس کے بارے ہمیں عادل سے بات کرنی چاہیے ۔

ندیم: آپ کا مطلب محبت سے ہے؟

سبق نمبر47 "روح کاپھل" صفحہ نمبر3

پروین: ہاںندیم۔ اِسی باب میں یعنی پانچویں باب میں پچیسویں آیت کہتی ہے،" خاوندو ،اپنی بیویوں سے ایسی محبت رکھو جیسی مسیح نے کلیسیائ سے کی اور اپنے آپ کو اُس کے لئے دید یا"۔

عادل: سچ مچ مُجھے اِس قسم کی تعلیم کی ضرورت ہے۔ مُجھے شمیم سے ایسی محبت رکھنے کی ضرورت ہے جو نہ صرف جذبات سے ہو بلکہ عملی طریقے سے ہو۔ یعنی جِس طرح بائبل مقدس کہتی ہے۔

ندیم: عادل ۔ شاباش۔ اَب آپ اور شمیم کُچھ وقت اکٹھے دُعا کریں۔ خدا نے چاہا تو پرسوں عبادت میں مُلاقات ہو گی۔

﴿موسیقی﴾

شمیم: ناصر چائے لے آئو میز پر پڑی ہے۔

ناصر: ٹھیک ہے انٹی شمیم لے آتا ہوں۔ آپ تو بس حُکم ہی چلاتی رہتی ہیں۔ انکل عادل کے گھر جائیں گی تو جان چھوٹے گی۔

تمام: قہقہ(Teapots. Pause)

نگہت: کیک مزیدار ہے۔ باجی پروین

پروین: نگہت۔ شکریہ۔

ندیم: اگر چائے ہم نے پی لی ہے تو آج کی عبادت شروع کریں۔ آج ہم ایک بہت اہم مضمون پر جو ہماری روحانی زندگیوں کے لئے بہت اہم ہے گفتگو کریں گے۔ لیکن یہ ہماری عملی زندگیوں اور باہمی تعلقات پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

زیدی: اور یہ مضمون کیا ہے۔

ندیم: زیدی بھائی، یہ روح کا پھل ہے۔

عادل: یہ بہت اہم اور دلچسپ موضوع ہے۔ میں بہت عرصے سے چاہ رہاتھا کہ ہم اِس پر گفتگو کریں۔

ندیم: کون ہمیں بتائے گا کہ یہ آیتیں ہمیں کہاں مِلتی ہیںجو روح کے پھل کے بارے میں بتاتی ہیں۔

نائیلہ: گلتیوں کے خط کے پانچویں باب میں۔

ندیم: شاباش نائیلہ ۔ ناصر، آپ ہمارے لئے 22اور 23 آیت پڑھ دیں۔

﴿صفحوں کی آواز﴾

ناصر: لیکن روح کا پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی ، نیکی، ایمانداری، حلم اور پرہیز گاری ہے۔

اکبر: یہ بہت اچھا ہے کہ یہ خوبیاں ہم میں ہوں۔

ندیم: اکبریہ خوبیاں یا پھل ہم میں اُس درخت کے بغیر نہیں ہو سکتیں جو اِن کی پیداواری کے لئے ذمہ دار ہے۔

سبق نمبر47 "روح کاپھل" صفحہ نمبر4

اکبر: اِس کے معنی کیا ہیں۔

ندیم: درخت سے میرا مطلب ہماری زندگیوں میں پاک روح کی حضوری ہے۔ درخت رکھنے کے لئے پہلے بیج ہونا ضروری ہے۔ پھر بیج بڑھتا ہے اور درخت بنتا ہے۔ درخت بڑھتا ہے اور پھل دیتا ہے۔

زیدی: بالکل ٹھیک ۔ سب سے بڑا درخت جو سیب پیدا کرتا ہے محض ایک چھوٹا بیج تھا۔ ایک دِن وہ بویا گیا اور اُسے پانی دیا گیا۔ اُس کی نگہداشت ہوئی اور پھل پیدا ہوا۔

ندیم: یہی ہے جو ہماری زندگیوں میں واقع ہوتا ہے۔ ہماری روحوں میںبیج بویا جاتا ہے ۔ پاک روح کے ذریعے ہم اپنی افزائش کیلئے منبع حاصل کرتے ہیں اور پھر پھل پیدا کرتے ہیں۔

پروین: میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی پروین۔

پروین: روح کا پھل ہمارے خداوندعیسیٰ مسیح کی زندگی میںصاف نظر آتا ہے۔ اُن کا کردار اور زمین پر برتائو پاک روح کا پھل اُٹھائے ہوئے تھے۔ اُنہوں نے مختلف حالات اور صورتوں میں لوگوں کو اپنی محبت دِکھائی ۔ محبت ، اطمینان، صبر، مہربانی اور نیکی بڑے بڑے ہجوموںکے ساتھ ظاہر کی۔ اُن کی وفاداری، حلم اور پرہیز گاری کا بھی چرچا ہوتا تھا۔

شمیم : اور جب وہ آسمان پر گئے ، اُنہوں نے اپنا پاک روح ہمارے پاس بھیجا۔ جو وہی خوبیاں رکھتا ہے جو عیسیٰ مسیح کی ہیں۔ تاکہ خُدا کا کردار ہم میں بڑھے۔

ندیم: اِس لئے اپنے میں پھل رکھنے کے لئے پہلا قدم اپنی زندگیوں میں پاک روح کی حضوری کو قبول کرنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم پاک روح کو اجازت دیں کہ وہ ہم میں سکونت کرے۔

زیدی: ندیم بھائی، کیا مَیں کُچھ اور کہہ سکتا ہوں۔

ندیم: کیوں نئیں زیدی بھائی۔

زیدی: اگر ہم پاک روح کے پھل پر سوچیں۔ ہم دیکھیں گے کہ تمام انسانی رشتوں کو ڈھانپتے ہوئے یہ تین گروہوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ روح کے پھل کا پہلا گروپ محبت ، خوشی اور اطمینان ہے جو خُدا کے ساتھ انسانی رشتے کو اپنی گرفت میں لیتے ہیں۔ دوسرا گروپ، تحمل، مہربانی اور نیکی ہے جو انسانوں کے انسانوں کے ساتھ تعلقات کا احاطہ کرتے ہیں ۔ تیسرا گروپ ایمانداری ، حلم اور پرہیز گاری ہے۔ جو انسان کے اپنے ساتھ تعلق کا احاطہ کرتے ہیں۔

سبق نمبر47 "روح کاپھل" صفحہ نمبر5

ندیم: زیدی بھائی آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ اگر ہم پاک روح کو اپنی زندگیوں پر کنٹرول کرنے کی اجازت دے دیں تو خدا کے ساتھ ہمارا تعلق محبت ، اطمینان اور خوشی سے بھر جائے گا۔ لوگوں کے ساتھ ہمارا تعلق تحمل، مہربانی اور نیکی کا محکوم مثالی تعلق ہو گا۔ ہمارا اپنے آپ سے رشتہ ایمان داری ، حلم اور پرہیز گاری کے اعتماد سے بھر جائے گا۔

عادل: میںکُچھ اُن باتوں کا ذِکر کروں گا جو خُداوند نے مُجھے سِکھائی ہیں۔

ندیم: جی عادل۔

عادل: مُجھے خوبصورت بنانے یا میری خوبیوں کو بہتر بنانے کے لئے پاک روح کے پھل کو کِسی کو شش یا میری جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ پاک روح جِسے وہ کنٹرول کرتا ہے ، اُس کی زندگی میں بیساختہ طریقے سے کام کرتا ہے۔

ندیم: عادل آپ درست کہتے ہیں۔ پہلے پھل کے بارے میں کون بات کرے گا۔

نائیلہ: میں کروں گی۔

ندیم: جی نائیلہ بہن۔

نائیلہ: پہلا پھل محبت ہے۔ خُداوند ہمارے دِلوں کو اپنے لئے اور لوگوں کے لئے ایک غیر معمولی محبت سے بھرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بائبل مقدس کہتی ہے، خداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل ، اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ۔ یہ پہلا اور سب سے بڑا حکم ہے اور دوسر احکم اِس طرح ہے اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔

ناصر: ہم اِس طور پر اپنی زندگیوں میں پاک روح کی حضوری کے وسیلے کے بغیر محبت نہیںکر سکتے۔ یہی وجہ ہے بائبل مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ پاک روح کے وسیلے عیسیٰ مسیح کی محبت ہمارے دِلوں میں ڈالی گئی ہے۔

شمیم: ٹھیک، میں کہنا چاہتی ہوں کہ سب سے اہم پھل جو ہماری زندگیوں میں نظر آتا ہے جب پاک روح ہماری زندگیوںمیں ہوتا ہے وہ خُدا کے لئے ہماری گہری اور مضبوط محبت ہے ۔ وہ نہ صرف خُدا کے لئے بلکہ لوگوں کے لئے بھی ہوتی ہے۔ خاص طور پر ہمارے دشمنوں یا اُن لوگوں کے لئے جنہوں نے ہمیں نقصان پہنچایا ہو۔

زیدی: شمیم، بہت مرتبہ ہمارے دِلوں میں ہمارے اردگرد کے لوگوں کے لئے نفرت اور کڑواہٹ ہوتی ہے ۔ وہ ہمارے والدین اور بھائی بہن بھی ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات اُن کے تعلق سے ہمارے اندر کچھ چیزیں نقش ہوتی ہیں جو ہمیں تھکا رہی اور دُکھ دے رہی ہوتی ہیں اور اِس وجہ سے ہم اُن سے محبت نہیں کر سکتے اور نہ ہی معاف کرسکتے ہیں۔ لیکن بائبل مقدس بتاتی ہے، "دشمنوں سے محبت رکھو"۔ اِس کا مطلب ہے ، کہ خُدا چاہتا ہے کہ ہم نہ صرف انہیں معاف کریں بلکہ پورے دِل سے اُن سے محبت کریں۔

پروین: ندیم۔ میں کُچھ کہنا چاہتی ہوں۔

سبق نمبر47 "روح کاپھل" صفحہ نمبر6

ندیم: جی پروین۔

پروین: جب میرے دِل میں کِسی کے لئے معاف نہ کرنے کی بات ، تلخی یا نفرت ہوتی ہے ۔ یہ بات مُجھے حقیقی اطمینان خوشی یا آرام سے لطف اندوز ہونے سے روک دیتی ہے۔

ندیم: پروین ۔ آپ ٹھیک کہتی ہیں۔

شمیم: مَیں چاہتی ہوں کہ ہم میں سے ہر کوئی کِسی ایسے شخص کے لئے دُعا کرے جِسے ہم معاف کرنے کے قابل نہیں سمجھتے۔

آئیں ہم پاک روح سے منت کریں کہ اُس شخص کے لئے ہمارے دِلوں کو محبت اور معافی سے بھر دے۔ مُجھے یقین ہے کہ

ایساکرنے کے بعد ہم بہت آزادی ، خوشی اور راحت محسوس کریں گے جو ہم نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا۔ ندیم بھائی ، کیا ہم دُعا کر سکتے ہیں۔

ندیم: بیشک۔ لیکن مَیں ہر اُس شخص کو جو یہ باتیں سُن رہا ہے بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کے دِل میں کِسی کے لئے تلخی ، دُکھ ، نفرت یا معاف نہ کرنے کی بات ہے۔ اب میرے ساتھ دُعا کرے اور خُداوند پر بھروسہ رکھے کہ خُداوند آپ کو بدل سکتا ہے، اور روحِ پاک کے وسیلے اُسے معافی اور محبت دے سکتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ ہر مشکل اور دُکھ دینے والی صورتحال سے جِس سے آپ گزر رہے ہیں نجات دے سکتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ آپ کا زخم کتنا گہرا ہے۔آئیں سب باری باری دُعا کریں۔

نگہت: خُداوند، آج سچ مچ تیرے الفاظ نے مُجھے چھوا ہے۔بہت مرتبہ اپنی ماں کے بُرے رویے کی وجہ سے جو تلخی میرے اندر موجود ہے مَیں اُسے معاف کرتی ہوں او ر دُعا کرتی ہوں کہ پاک روح کے وسیلے سے میرے دِل میں اُس کے لئے نئی محبت ڈال دے۔ آمین۔

اکبر: خُداوند، میری ہر نفرت کے لئے جو میں اپنی امی اور ابو کے لئے محسوس کرتا تھا۔ کیونکہ وہ میرے بھائیوں کی نسبت مُجھ سے مختلف طریقے سے سلوک کرتے تھے مُجھے معاف کر۔ خُداوند، میں دُعا کرتا ہوں تو ہر صورتحال کا مداوا کر جو مُجھے دُکھ دیتی تھی۔ خُداوند، توفیق دے میں اُن سے محبت کروں اور اُن کی عزت کروں۔ آمین۔

ناصر: خداوند مَیں دُعا کرتا ہوں اپنے دوست امجد کے لئے جِس نے مُجھے ہر مشکل صورتحال سے دوچار کیا ۔ مَیں اُسے معاف کرتا ہوں۔ مری مدد کر ، مَیں اُس سے وہ محبت کروں جوتیری طرف سے ہے۔

تمام: آمین

ندیم: مُجھے یقین ہے کہ خداوند نے ہماری زندگیو ں میں حقیقی کام کیا ہے۔ہم نے اپنے بھائیوں ، خاندان یا دوستوں کوخداونداپنے خُدا کے سامنے رکھا ہے۔ ہمارا خُدا پیار کرنے والا خُدا ہے۔ ہمیں اَب کون بتائے گا کہ روح کا دوسرا پھل کیا ہے۔

سبق نمبر47 "روح کاپھل" صفحہ نمبر7

عادل: میں بتائوں گا۔

ندیم: جی عادل۔

عادل: دوسرا پھل خوشی ہے ۔جو خوشی پاک روح دیتا ہے کِسی دوسری خوشی سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ وہ خوشی ہے جو خاص اور مختلف ذائقہ رکھتی ہے۔ ایک ایسی خوشی جوآپ سے کوئی نہیں چھین سکتا ۔ نہ حالات نہ بیماری، نہ تھکانے والی صورتحال، نہ ہی کوئی ذمہ داری۔ یہ ہمیشہ دِل کی گہرائیوں سے نکلنے والی خوشی ہے۔

ندیم: عادل، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ یہ خوشی کی وہ قسم ہے جو پاک روح دیتا ہے۔یہ خوشی قوت دیتی ہے ۔ اِسی وجہ سے بائبل مقدس اِس کے بارے میں کہتی ہے، "خُداوند کی شادمانی تمہاری قوت ہے"۔

پروین: اور ندیم یہ نایاب ہوتی ہے ۔ جب ہم پاک روح سے کہتے ہیں کہ ہمیں مسلسل بھرتا رہ۔ اُس کا پھل ہم میں ظاہر ہوتا ہے اور ہمارے ارد گرد کے لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کیوں خوش ہیں۔

نائیلہ: مُجھے ابھی وہ آیت یاد آئی ہے جو کہتی ہے، "اگر کوئی خوش ہے وہ حمد کے گیت گائے"۔ جب حضرت پولوس اورحضرت سیلاس قید خانہ میں تھے ۔ وہ گیت گا رہے تھے جِس کا مطلب ہے وہ خوش تھے ۔ یہ سچ ہے۔ پاک روح ہمیں خوشی دیتا ہے ۔ مسلسل خوشی۔

جو نازک حالات میں بھی ہوتی ہے۔

ندیم: خوب۔ کون اَب ہمیں بتا ئے گا کہ تیسرا پھل کیا ہے؟

اکبر: ندیم انکل۔ مَیںبتائوں گا۔

ندیم: جی اکبر۔

اکبر: تیسرا پھل اطمینان ہے۔ وہ اطمینان جو خُدا دیتا ہے ۔ بائبل مقدس میں اِس کے بارے کہا جاتا ہے "اور خُدا کا اطمینان جو ساری سمجھ سے باہر ہے ۔ تمہارے دِلوں اور مسیح میں تمہارے خیالوں کو محفوظ رکھے"۔ اِس کا مطلب ہے یہ وہ اطمینان ہے جو ہر خیال سے یا فکر سے بالا ہے۔ ایک ایسا اطمینان جو خوف، فکر یا پریشانی کی کوئی جگہ نہ چھوڑتے ہوئے میرے دِل و دماغ پر قابوپاتا ہے۔

زیدی: بالکل ٹھیک۔ یہ وہ اطمینان ہے جو پاک روح دیتا ہے۔ حالات خواہ کتنے مشکل کتنے ہی فکر انگیز کیوں نہ ہوں ، اِس پر اثر انداز نہیں ہوتے۔

ندیم: بہت خوب۔ اگلے پھل کے بارے ہمیںکون بتائے گا۔؟

ناصر: ابو مَیں بتائوں گا۔

ندیم: جی ناصر۔

سبق نمبر47 "روح کاپھل" صفحہ نمبر8

ناصر: میں صبر کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں ۔ پاک روح ہمارے باہمی تعلقات میں ہمیں صبر و تحمل دیتا ہے جِس کامطلب ہے تحمل و برداشت ۔ بہت سے لوگ آپ سے تکلیف دینے والے طریقے سے برتائو کرتے ہیں۔ خُداوند چاہتا ہے کہ ہم اُن سے تحمل سے پیش آئیں۔ بیشک یہ مشکل ہے لیکن چونکہ یہ روح کے پھلوں میں سے ایک ہے، اِس لئے جب پاک روح ہم میں بھرپور طریقے سے کام کر رہا ہوہم آسانی سے ایسا کر سکتے ہیں۔

ندیم: جی ہاں، والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ ، اساتذہ کو طلبائ و طالبات کے ساتھ، تربیت دینے والوں کو اُن کے ساتھ جنہیں وہ تربیت دیتے ہیں، تحمل سے پیش آنا چاہیے۔ پاک روح کی معموری جو ہمارے اندر ہے وہی ہمیںتحمل اور برداشت دے سکتی ہے۔

زیدی: اور ندیم بھائی، روح کا پھل مہربانی بھی ہے۔ ہمیں اپنی زندگی میں اِس کی بھی ا شد ضرورت ہے ۔ خاص طور پر اپنے رشتے داروں اور خاندانوں کے لئے۔ بہت دفعہ ہم غیروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے ہیں۔ لیکن اپنے خاندان والوںاور اُن کے ساتھ جو ہمارے بہت قریبی ہیں ہم مکمل طور پر مہربانی کرنا بھول جاتے ہیں ۔

نگہت: زیدی بھائی، آپ بالکل بجا فرماتے ہیں۔ میری امی ہمیشہ مُجھے کہتی ہیں کہ میں باہر والوں سے شفقت سے پیش آتی ہوں لیکن یہاںگھر میں میرا رویہ مختلف ہوتا ہے۔ کاش کہ پاک روح کا یہ پھل مُجھ میں پورے طور پر ہو۔

ندیم: آمین ۔اوردوسرے پھل نیکی، ایمانداری ، حلم اور پرہیزگاری ہیں۔ کیا کوئی اِن میں سے کِسی پر کُچھ کہنا چاہتا ہے؟

عادل: ندیم بھائی، مَیںکہنا چاہتا ہوں۔

ندیم: جی عادل۔

عادل: پاک روح ایمانداری کا پھل چاہتا ہے ۔ خُدا کی بچانے والی قوت کا ایمان۔ وہ ایمان جِس کا انحصارخُدا کی نگرانی پرہو۔

شمیم: اور ایک پھل حلم ہے۔ یہ خاص خوبی ہے جِس کے بارے میں خُداوند عیسیٰ مسیح نے فرمایا، " مجھ سے سیکھو کیونکہ میں دِل کا حلیم او ر فروتن ہوںاور تمہاری جانیں آرام پائیں گی"۔ جب ہم میں انکساری کا پھل ہوتا ہے ہمیںراحت مِلتی ہے۔

پروین: میں پرہیز گاری کے بارے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ پرہیز گاری ایک ایسی خوبی ہے جو ہمارے خیالات اور جذبات پر قابو رکھتی ہے ۔ ہمیںچاہیے کہ ہم انہیں پاک روح کے طابع کر دیں۔ پاک روح نہ صرف مُجھے اپنے اوپر قابو پانے والے بندھن یا عادت سے آزاد کرتا ہے بلکہ اپنے آپ پر غلبہ پانے کی طاقت بھی دیتا ہے۔پرہیز گاری ہماری زندگیوں کی ہر چیز مثلاََ ہمارے الفاظ، تعلقات، خیالات اور ہمارے احساسات سب کُچھ پر محیط ہے۔

سبق نمبر47 "روح کاپھل" صفحہ نمبر9

ندیم: آمین۔ سچ مچ ضرورت ہے کہ پاک روح ہم پر غلبہ حاصل کرے اور اُس کے پھل ہماری زندگیوں میں ظاہر ہوں اورہم عیسیٰ مسیح جیسے ہوجائیں۔

اَب ہماری عبادت کا وقت ختم ہوتا ہے ۔اگلی دفعہ ہم پھر اِسی جگہ عبادت کریں گے۔خداوند عیسیٰ مسیح آپ کو برکت دے۔

تمام: آمین۔