Hear Fellowship With My Family Episode 48 (Audio MP3)

View FWMF episode 48 as a PDF file

سبق نمبر48 "دُکھ کی برکات" صفحہ نمبر1

Music

نائیلہ: زیدی، مَیں اور زیادہ برداشت نہیں کر سکتی۔ مَیں تھک گئی ہوں۔ مُجھے خوف آنے لگا ہے۔

زیدی: نائیلہ ڈرو مت۔ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ کِسی بھی مصیبت میں جِس سے ہم گُزر رہے ہیں خدا ہمارے ساتھ ہے۔ وہ ہمیں خوف سے رہائی دے گا۔ خداوند عیسیٰ مسیح کی خاطر ہم کِسی بھی مصیبت سے گزریں یہ برکت کی بات ہے۔

نائیلہ: ہاں زیدی۔ جو آپ کہتے ہیں مَیں اُس سے متفق ہوں۔ لیکن ہمارے آنے والے بیٹے یا بیٹی کی وجہ سے میرا خوف بڑ ھ گیا ہے۔

زیدی: نائیلہ مت گھبرائیں۔ خدا ہمارے ساتھ ہے۔

نائیلہ: زیدی مَیں اپنے بارے میں فِکر مند نہیں ۔ مَیںا ِس بات سے فکر مند ہوں کہ آنے والا بچہ ٹھیک ہو گایا نہیں۔

زیدی: نائیلہ مُجھے ایک بات یاد آئی ہے۔ ایک چھوٹی لڑکی ایک چھوٹے سے گائوں میں پانی کے کنویں کے پاس کھڑی تھی۔ اور رو رہی تھی۔ کوئی آدمی سڑک پر سے گُزر رہا تھا اُس نے اُس سے پوچھا ، کیوں رو رہی ہو۔ کیا تمہاری کوئی چیز کنویں میں گِرگئی ہے۔ لڑکی نے جواب دیا میرے باپ نے مُجھے ایک لڑکی کے بارے میں بتایا جو پچھلے ہفتے اِس کنویں میں گِر گئی تھی۔ آدمی نے پوچھا ، کیا وہ تمہاری رشتے دار تھی۔ لڑکی نے کہا، نہیں۔ آدمی نے پوچھا ، پھر روتی کیوں ہو۔ لڑکی کہنے لگی، مُجھے ڈر ہے کہ جب مَیں بڑی ہوں گی اور میری شادی ہو گی اور میری بیٹی پیدا ہو گی ۔ اور وہ لڑی بڑی ہو گی اور یہاں کھیلنے آئے گی تو وہ کنویں میں گِر جائے گی۔نائیلہ! آپ نے بالکل یہی کیا ہے۔

نائیلہ: نہیں زیدی۔ مُجھے اُن دھکمیوں کی وجہ سے ڈر ہے جو ہمیں عیسیٰ مسیح کی پیروی کے نتیجے میں درپیش ہیں۔ مَیں بچے کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوں۔

زیدی: خدا کے کلام میں لِکھا ہے، مَیں جوان اور بوڑھا ہوں لیکن مَیں نے کبھی راستباز کو یا اُن کے بچوں کو بھیک مانگتے نہیں دیکھا۔ خداوندہماری نگہداشت کرتا ہے۔ ہمارے بچوں بلکہ بچوں کے بچوں کی فکر کرتا ہے۔

نائیلہ: زیدی، آپ درست کہتے ہیں۔ مُجھے اطمینان ہو گیا ہے۔ مہربانی کر کے میرے ساتھ دُعا کریں۔

زیدی: خداوند عیسیٰ مسیح صلح کے شہزادے ، آپ نے فرمایا، مَیں اپنا اطمینان تمہیں دیتا ہوں۔ مَیں تمہیں وہ اطمینان نہیں دیتا جو دنیا دیتی ہے۔مہربانی کر کے میرے اور نائیلہ کے دِل کو اپنے اطمینان سے بھر دیں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔آمین۔

نائیلہ: زیدی ، آئو چلیں۔ ہمیں عبادت سے دیر ہو رہی ہے۔

زیدی: چلو چلتے ہیں۔

﴿موسیقی﴾

سبق نمبر48 "دُکھ کی برکات" صفحہ نمبر2

ناصر: انٹی شمیم۔ یہ رہی آپ کی چائے۔

شمیم: ناصر۔ شکریہ۔

﴿دروازے کی گھنٹی کی آواز﴾

پروین: یہ ضرور زیدی بھائی اور نائیلہ ہوں گے۔

﴿دروازہ کھلنے کی آوازOff Mic﴾

پروین: ہیلو زیدی بھائی، نائیلہ آپ کیسی ہیں۔

زیدی: ہم ٹھیک ہیں پروین بہن۔

نائیلہ: ہم آپ سے مِلنے کے بہت مشتاق تھے۔ ﴿دروازہ بند ہونے کی آواز﴾

زیدی: (ON Mic) ندیم بھائی آپ کا کیا حال ہے۔

ندیم: ہم خیریت سے ہیں۔ آئیں تشریف رکھیں۔ ہم اپنی عبادت شروع کریں اور عبادت میں راہنمائی ناصر کریں گے۔ جی ناصر

ناصر: آئیں ہم سب زبور 100مِل کر پڑھتے ہوئے اپنی عبادت کا آغاز کریں۔

﴿ورق اُلٹنے کی آواز﴾ شروع کریں۔

اے اہل زمین ! سب خُداوند کے حضور خوشی کا نعرہ مارو۔ خوشی سے خُداوند کی عبادت کرو۔ گاتے ہوئے اُس کے حضور حاضر ہو۔ جان رکھو کہ خُداوند ہی خُدا ہے۔ اُس نے ہم کو بنایا اور ہم اُسی کے ہیں۔ ہم اُس کے لوگ اور اُس کی چراگاہ کی بھیڑیں ہیں۔ شکرگزاری کرتے ہوئے اُس کے پھاٹکوں میں اور حمد کرتے ہوئے اُس کی بارگاہوں میں داخل ہو۔ اُس کا شکر کرو اور اُس کے نام کو مبارک کہو۔ کیونکہ خُداوند بھلا ہے اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔ اور اُس کی وفاداری پشت درپشت رہتی ہے۔ آمین۔

ناصر: آمین۔ جِس طرح ہم نے ابھی زبور میں پڑھاہے۔ خُداوند خُدا ہے ۔ ہم اُس کے لوگ ہیں اور اُس کی چراگاہ کی بھیڑیں ہیں۔

ندیم: چونکہ مَیں جانتا ہوں کہ اِن دِنوں نائیلہ بہن اپنے خاندان کے بارے میں کُچھ مشکل حالات سے گُزر رہی ہیں۔ میرا خیال ہے آج ہم عیسیٰ مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھانے کے متعلق بات چیت کریں گے۔

نائیلہ: ندیم بھائی! بہت اچھا خیال ہے۔ آنے سے ذرا پہلے زیدی اور مَیں اِسی مضمون کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔

ندیم: ٹھیک ہے۔ آئیں فلپیوں کے نام پولوس رسول کا خط کھولیں۔ اُس کے 1باب کی29آیت میں آج کے مضمون کے بارے میں ذِکر موجود ہے۔

﴿صفحہ اُلٹنے کی آواز﴾

سبق نمبر48 "دُکھ کی برکات" صفحہ نمبر3

"کیونکہ مسیح کی خاطر تم پر فضل ہوا کہ نہ فقط اُس پر ایمان لائو بلکہ اُس کی خاطر دُکھ بھی اُٹھائو"۔

یہاں پر حضرت پولوس ہمیں بتا رہے ہیں کہ خدا نے ہمیں عیسیٰ مسیح کی خاطر دو چیزیں بخشی ہیں۔ اُن پر ایمان لائیں اور اُن کے لئے دُکھ اُٹھائیں۔

نگہت: جِس کا مطلب ہے کہ عیسیٰ مسیح پر ایمان ہمارے لئے خدا کی طرف سے تحفہ ہے۔ اور اُن کے لئے دُکھ اُٹھانا بھی ایک تحفہ ہے۔

ندیم: نگہت بہن بالکل ٹھیک۔ یہی معنی ہیں جِن پر خُدا آج ہماری آنکھیں کھولنا چاہتا ہے ۔عیسیٰ مسیح کے لئے وہ دُکھ ایک برکت ہے جِس سے خُدا ہماری زندگیوں کو برکت دینا چاہتا ہے۔

نائیلہ: یہی الفاظ ہیں جو زیدی گھر پر مُجھے بتا رہے تھے۔ لیکن میں اِ سے تفصیل سے جاننا چاہتی ہوں۔

زیدی: آیت سے یہ واضح ہے کہ خُدا چاہتا ہے کہ ہم عیسیٰ مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھائیں۔ لیکن ہمارا ایمان ہے کہ خُدا ہمارا باپ ہے اور وہ ہماری بھلائی چاہتا ہے اور عیسیٰ مسیح کے لئے دُکھ اُٹھانے میں بہت سی برکتیں ہیں۔ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے۔

ندیم: آئیں ہم دیکھیں کہ عیسیٰ مسیح کے لئے دُکھ اُٹھانے کے کیا معنی ہیں؟

پروین: کیوں نہ ہم اِس کے معنی اکبر اور نائیلہ بہن سے پوچھیں جو اِن دِنوں اِن حالات میں سے گُزر رہے ہیں؟

اکبر: نائیلہ بہن۔ پہلے آپ شروع کریں۔

نائیلہ: ٹھیک ہے اکبر۔ سب سے زیادہ دردناک صورتحال جِس کا مُجھے سامنا تھا میرے خاندان کا میرے ساتھ ردِ عمل تھاجب میں مسیحی ہو گئی۔ میں نے کبھی توقع نہ کی تھی کہ وہ اِس طرح میرے ساتھ برتائو کریں گے۔ بیشک آپ جانتے ہیں کہ میں اُس شفائ سے کس طرح متاثر ہوئی جو خُداوندعیسیٰ نے زیدی کو دی۔ میں اِسے خُدا کی آواز سمجھتی تھی۔ جو میرے لئے اُس کی راہ پر چلنے کے لئے تھی۔

شمیم: نائیلہ بہن۔ مہربانی کرکے جاری رکھیں۔ مَیں اور سُننا چاہتی ہوں۔

نائیلہ: میں بہت خوش تھی ۔ میں نے ایک بار اپنے خاندان کو بتایا کہ خُدا نے زیدی کو شفائ دی ہے کیو ںکہ اُنہوں نے خُداوند عیسیٰ مسیح کے نام میں دُعا کی ہے۔ میں ایک نہایت عجیب ردِ عمل دیکھ کر حیران ہو گئی۔ میرے خاوند کی شفائ سے اُنہیں کوئی تعلق نہ تھا۔ اُن کے لئے اہم یہ تھا کہ میں پرانی راہ سے دور نہ ہٹ جائوں۔ جو ہم نے اپنے باپ دادا سے ورثے میں پائی تھی۔

زیدی: عیسیٰ مسیح کے لئے دُکھ طنز کی طرح کی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں نظر آنے شروع ہو گئے اور دُکھ دینے والی گفتگو میں نظر آنے لگے۔

لیکن بعد میں اور بھی معاملات بڑھ گئے جب انہیں یقین ہو گیا کہ ہم عیسیٰ مسیح پر پختہ ایمان رکھنے والے بن گئے ہیں۔

نائیلہ: اور آخری دِنوں میں تو اُنہوں نے حقیقی طور پر بُرا سلوک شروع کر دیا جب اُنہیں پتہ چلا مَیں حاملہ ہوں۔ میری ماں اور باپ جو چاہتے تھے کہ وہ نانا نانی بن جائیں۔ یہ مضمون اُن کے لئے کچھ اہمیت نہ رکھتا تھا۔

سبق نمبر48 "دُکھ کی برکات" صفحہ نمبر4

زیدی: اُن کا ردِ عمل او ربھی شدید ہو گیا۔ مثال کے طور پر وہ نائیلہ کو اُس کے حقوق سے محروم کرنے کی باتیںکرنے لگے۔

نائیلہ: ﴿ایک جذباتی آواز میں﴾ میرا بڑا بھائی جو تھوڑا دقیانوس ہے ایک بار اُس نے مُجھے دھکمی دی کہ وہ نومولود بچے کو مُجھ سے چھین لے گا کیونکہ وہ اِس بات پر راضی نہ تھا کہ وہ ہماری طرح پرورش پائے۔

زیدی: اِن باتوں نے نائیلہ کو بہت خوفزدہ کر دیا۔ مَیں محسوس کرتا ہوں خوف اچھا نہیں ہوتا۔

ندیم: زیدی بھائی ایک سیکنڈ، ہم جلدی سے فیصلہ نہ کریں۔ خوف عام انسانی جذبہ ہے۔ لیکن سب سے اہم بات اِسے جلدی سے خُدا کے سامنے رکھنا ہے۔ تا کہ ہمیں اپنے قابو میں نہ کرے۔ یا ہم سے غلط فیصلہ نہ کرا دے۔

نگہت: نائیلہ بہن ہم سب آپ کی مدد کریں گے۔ اِس دُکھ میں ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیںگے۔

ناصر: یہ کلیسیائ کا کردار ہے۔ اور جِس طرح حضرت پولوس کرنتھیوں کی کلیسیائ کے نام خط میں کہتے ہیں ، جب ایک عضو دُکھ پاتا ہے تو ہر عضو اُس کے ساتھ دُکھ پاتا ہے۔

اکبر: کیا آپ میری بھی مدد کریں گے کیونکہ مُجھے گھر میں اور کام پربہت مسائل درپیش ہیں۔جب میرے گھر والوں کو پتہ چلا کہ مَیں نے عیسیٰ مسیح کو قبول کر لیا ہے ، اِس سے اُنہیں بہت پریشانی ہوئی۔ یہ بات اُنہیں مجبور کرتی تھی کہ مجھ پر دبائو ڈالیں۔ کیونکہ میرا خاندان بہت دقیانوسی ہے۔ ہر روز میں اُن کی آنکھوں سے غصہ اور بدی نکلتے دیکھتا ہوں اور وہ مُجھ سے لڑائی کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ ﴿آنسو بھری آوازآتی ہے﴾ ۔

ناصر: اکبر مت گھبرائیں ۔ ہم آپ کا خاندان ہیں۔

اکبر: ﴿رونی آواز میں﴾ پندرہ سالوں میں پہلی بار میرے باپ نے مُجھے تھپڑ مار اہے۔ لیکن جِس سے مُجھے زیادہ دکھ ہوا میری امی نے اپنے پورے غصے میں اور اونچی آواز میں کہا، کہ میں آگے کو اُن کا بیٹا نہیں رہا۔ اور وہ چاہتی تھیںکہ میں اگلے روز سے پہلے مر جائوں۔

ناصر: مُجھے اکبر کے قریبی لوگوں سے پتہ چلاہے جو اِس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اِس کے باوجود کہ یہ زیادہ جفاکش ہے اور دوسرے انجنئیروں سے بہتر نتائج حاصل کرتا ہے جو وہ حاصل نہیں کر سکتے۔ وہ اِسے کام سے نکال دینا چاہتے ہیں۔

اکبر: مُجھے پرواہ نہیں کہ وہ مُجھے کام سے نکال دیں یا مُجھے گھر سے باہر نکال دیں۔ مُجھے یقین ہے کہ خُدا میرے لئے مہیا کرے گا۔ میری نگرانی کرے گا اور میری ساری راہوں میں مُجھے بچائے گا، لیکن میں دکھ میں ہوں۔ میں محسوس کرتا ہوںکہ جو میں نے چُنا ٹھیک ہے جِس کے بارے میں عیسیٰ مسیح نے کہا کہ وہ راستہ تنگ اور دکھوں، مصیبتوں سے بھرا ہے۔

سبق نمبر48 "دُکھ کی برکات" صفحہ نمبر5

پروین: اکبر تمہاری باتیں سُنتے ہوئے مُجھے یاد آتا ہے کہ کیوں خداوند عیسیٰ مسیح مرقس 10باب 29 تا30 آیت میں فرماتے ہیں، "میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایسا کوئی نہیں جِس نے گھر یا بھائیوں یا بہنوں یا ماں یا باپ یابچوں یا کھیتوں کو میری خاطر اور انجیل کی خاطر چھوڑ دیا ہو۔ اور اب اِس زمانہ میں سو گنا نہ پائے ۔ گھر اور بھائی اور بہنیں اور مائیںاور بچے اور کھیت مگر ظلم کے ساتھ۔ اور آنے والے عالم میں ہمیشہ کی زندگی "۔

ندیم: پروین، یہ خوبصورت آیات ہیں۔ یہ صاف بیان کرتی ہیں کہ جب ہم عیسیٰ مسیح کی اور خوشخبری کی پیروی کرتے ہیں ۔ ہم بعض

خاندانوں کو چھوڑتے ہیں اور وہ راستہ بھی جِس پر چلتے تھے۔

عادل: عیسیٰ مسیح نے کہا کہ وہ باپ بیٹے اور ماں بیٹی کو الگ کرنے کے لئے آئے۔

ندیم: تقسیم کامطلب دشمن بنانا نہیں۔ لیکن بعض اوقات خُداوند عیسیٰ پر ہمارا ایمان ہمارے اردگرد کے لوگوں سے میل نہیں رکھتا۔ اور ہمارے ایمان کی وجہ سے ہمارے اور اُن کے درمیان اصولوں ، راستوں اور خیالات میں تقسیم ہونی چاہیے۔

زیدی: لیکن ہمارے لئے وعدہ ہے کہ جو کوئی عیسیٰ مسیح کی خاطر کُچھ چھوڑتا ہے اُس کے بجائے سو گنا پائے گا۔

پروین: یہ سچ ہے۔جب ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیںوہ ہمیں سو گنا واپس کرتا ہے۔

ناصر: اُن سب باتوں اور برکتوں کے باوجود جوعیسیٰ مسیح نے ہمیں دیں، اذیت اور دکھ اُن میں سے ایک ہیں جِن کا اُنہوں نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔

اکبر: ناصر تم ٹھیک کہتے ہو۔ لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ دُکھ ہمارے لئے برکت کیسے ہو سکتا ہے ۔

ندیم: اکبر، اِس سوال کا جوب دینے کے لئے ہمیں نئے عہدنامہ کی چند آیات کی طرف جانے کی ضرورت ہے۔

پہلی آیت جِسے ہم دیکھیں گے وہ 1پطرس4 باب1 آیت ہے۔ نگہت ، کیا آپ ہمارے لئے اِسے پڑھ سکتی ہیں؟

نگہت: ٹھیک ہے۔﴿صفحہ اُلٹنے کی آواز﴾ "پس جب کہ مسیح نے جسم کے اعتبار سے دُکھ اُٹھایا تو تم بھی ایسا ہی مزاج اختیار کر کے ہتھیار بند بنو کیونکہ جِس نے جسم کے اعتبار سے دُکھ اُٹھایا اُس نے گناہ سے فراغت پائی"۔

ندیم: اِس کا مطلب ہے کہ خوشخبری کے لئے بدنی دُکھ مسیح کی مانندبننا ہے۔ اور اُس کے دُکھ میں شریک ہونا ہے ۔ یہ ایک برکت ہے جِس میں عیسیٰ مسیح اپنی دُکھ کی راہ میں ہمیں حصہ لینے دے رہے ہیں ۔

زیدی: خاص طور پر رومیوں کے خط کے آٹھویں باب میں ایک آیت کہتی ہے ، "اگر ہم بیشک اُس کے دُکھوں میں شریک ہوں تو ضرور اُس کے جلال میں حصہ دار ہوں گے"۔

نائیلہ: یہ جلال کیساہو سکتا ہے۔

سبق نمبر48 "دُکھ کی برکات" صفحہ نمبر6

ندیم: کیونکہ عیسیٰ مسیح نے دُکھ اُٹھایا ، اُنہوں نے وہ نام حاصل کیا جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے اور وہ آسمانی مقاموں میںباپ کی دہنی بیٹھ گئے اور وہ اپنے دشمنوں پر غالب آئے۔ دُکھ کی راہ چُن کر ہم بھی شیطان اور اُس کی قدرت پر فتح پا سکتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں خُدا کی قوت کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ اور ایسا جلال جیسا آیت بتاتی ہے، "اگر مسیح کے نام کی خاطر تمہاری بے عزتی ہوتی ہے تو تم مبارک ہو کیونکہ خُدا کے جلال کا روح تم پر ٹھہرتا ہے"۔

پروین: یہ اُس جلال میں اضافہ ہے جو آسمان پر ہمارا منتظرہے اور یہ اُس وقت بڑھتا ہے جب زمین پر زندگی میں ہماری مشکلیں بڑھتی ہیں۔

ناصر: امی آپ کے الفاظ مجھے اُس کہانی کی یاد دِلاتے ہیں جو کِسی قوم میں واقع ہوئی ۔ یہ اُن لوگوں کے بارے میں ہے جوعیسیٰ مسیح کے لئے قید کئے گئے۔ کُچھ عرصہ بعد خُدا نے اُس قوم پر نظر کی۔ نئے بادشا ہ نے فرمان جاری کیا کہ وہ اُن زنجیروں کو تولیں جِن سے وہ عیسیٰ مسیح کی خاطر باندھے گئے تھے۔ او ر اُس کے وزن کے برابر اُنہیں سونا دیں۔ پس ہر قیدی جوان زنجیروں کے وزن کی شکایت کر رہا تھا اور دُکھ میں تھا، کہتا تھا کہ کاش میری زنجیریں بہت بھاری ہوں۔

عادل: یہ اُس آیت کی طرح ہے جو کہتی ہے، کیونکہ روشنی اور دم بھر کی مصیبتیں ہمارے لئے ایک ایسا ابدی جلال حاصل کررہی ہیں جو اُن سے زیادہ وزنی ہیں۔

نگہت: او رندیم بھائی حضرت پطرس اپنے پہلے خط کے چوتھے باب میں ایک نئی برکت کا اضافہ کرتے ہیں جو ہم دُکھ سے حاصل کر سکتے ہیں۔

ندیم: نگہت، وہ برکت کیا ہے؟

نگہت: وہ آیت بتاتی ہے، کیو نکہ جِس نے جسم کے اعتبار سے دُکھ اُٹھایا اُس نے گناہ سے فراغت پائی۔ تاکہ آئندہ کو اپنی باقی جسمانی زندگی آدمیوں کی خواہشوں کے مطابق نہ گزارے بلکہ خُدا کی مرضی کے مطابق۔

اکبر: اِ س کامطلب ہے دُکھ ہمیں پاک کرتا ہے اور ہمارے ارد گرد کے گناہ کی طاقت سے آزاد کرتا ہے۔

ندیم: بیشک ۔ کیونکہ دُکھ دِل کو ابدیت کی خواہش دیتا ہے اور دنیا کو اُس کی خواہشوں اور گناہ سمیت اُس کی نظروں میں کم قیمت بناتا ہے۔

زیدی: پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح کی خاطر دُکھ سہنے سے بہت فائدے اور برکتیں مِلتی ہیں۔دُکھ ہمیں مسیح جیسا بناتا ہے۔ اِ س سے ہماری زندگیوں میں مسیح کا جلال ہمیں مِلتا ہے ۔ اور اِس سب کے علاوہ یہ ہماری زندگیوں کو پاک کرتا ہے اور ہمیں گناہ سے پاک کرتا ہے۔

سبق نمبر48 "دُکھ کی برکات" صفحہ نمبر7

پروین: اِسی وجہ سے حضرت متی کی معرفت انجیل میں خُداوند عیسیٰ مسیح نے اپنے پہاڑی وعظ میں کہا، جب میرے سبب سے لوگ تم کو لعن طعن کرینگے اور ستائیں گے اور ہر طرح کی بُری باتیں تمہاری نسبت ناحق کہیں گے تو تم مبارک ہو گے۔ خوشی کرنا اور نیایت شادمان ہونا کیونکہ آسمان پر تمہارا اجر بڑا ہے۔

اکبر: اِس کا مطلب ہے کہ وہ شخص مبارک ہے جو عیسیٰ مسیح پر اپنے ایمان کی وجہ سے دُکھ اُٹھاتا ہے۔

شمیم: وہ سب جوعیسیٰ مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھاتے ہیں وہ غریب کہلاتے تھے اور اُنہیں مدد کی ضرورت تھی۔ بالآخر وہ اب مبارک ہیں جِن کا اجر آسمان پر ہے۔

نائیلہ: یہ سچ ہے۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ خُدا نے میرے دِل و دماغ کو روشن کیا اور اب میری حالت فرق ہے۔ اور اب ایسا ہے جیسے میں عیسیٰ مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھانے کو خوش آمدید کہہ رہی ہوں ۔

زیدی: کیا آپ دوبارہ اپنے بچے کے بارے میں خوف تو نہیں کھائیں گی؟

ندیم: خدا کے کلام نے اِس نکتے کو واضح طور پر حل کرد یاہے ۔ باوجوداِس کے کہ خُدا نے ایسا ہونے دیا کہ عیسیٰ مسیح کے لئے دُکھ اُٹھائیں ، لیکن اُس نے ایک سے زیادہ آیتوں میں وعدہ کیا کہ اِن دُکھوں میں سے ہمیں کُچھ نہیں ہو گا۔

عادل: اِس کا مطلب ہے کہ ہم حالات کے رحم و کرم پر چھوڑے نہیں جاتے۔

ندیم: جی نہیں۔ خُداوند عیسیٰ مسیح نے ہمیں بتایا کہ ہمارے سر کا ایک بال بھی اُن کی اجازت کے بغیر نہیں گرے گا۔ پطرس رسول نے بھی کہا کہ خُدا کی قدرت ہماری حفاظت کرتی ہے۔

نائیلہ: خُدا کی تعریف ہو۔اِس کا مطلب ہے کہ میری ، میرے خاوند کی اور ہمارے ہونے والے بچے کی خدا کی قدرت حفاظت کرتی ہے۔یہ جان کر مُجھے بہت سکون مِلا ہے۔

ندیم: آمین۔ اَب ہماری کلیسیائی عبادت کا وقت ختم ہوتا ہے۔ مَیں آپ کو یاد دِلانا چاہتا ہوں کہ اگلی مرتبہ ہم زیدی اور نائیلہ بہن کے گھر اکھٹے ہوں گے۔ کیو نکہ اُن کی دوست فوزیہ بھی ہمارے ساتھ عبادت میںشریک ہوں گی۔ خدا تعالیٰ آپ سب کو برکت دے۔

تمام: آمین۔