Hear Fellowship With My Family Episode 49 (Audio MP3)

View FWMF episode 49 as a PDF file

سبق نمبر49 "اے میری جان ، خُداوند کو مبارک کہہ" صفحہ نمبر1

﴿گیت : تو ہے عظیم کِتنا عظیم۔ صرف استھائی﴾

اکبر: نائیلہ انٹی، مُجھے یہ گیت بہت پسند ہے۔

نائیلہ: اکبر، میں بھی ، ہر بارجب اِسے سُنتی ہوں۔ میں خُدا کے فضل اور محبت کو محسوس کرتی ہوں جو ہمیں گھیرے ہوئے ہے۔

﴿چائے کے پیالوں کی آواز﴾

زیدی: چائے تیار ہے۔سب آ جائیں۔

ناصر: زیدی انکل۔ بہت شکریہ۔

ندیم: کیا فوزیہ پہنچ چُکی ہے؟

نائیلہ: ندیم بھائی نہیں، وہ عموماََ بہت دیر تک کام کرتی رہتی ہے اور وہ سیدھی ہماری طرف آئے گی۔

پروین: فوزیہ ہماری کلیسیائ کی دسویں ممبر ہے۔ جلد ہی ہم دو کلیسیائیں بن جائیںگے۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو ۔ خُدا نے ایک ہی سال میںہماری کلیسیائ کو دُگنی سے زیادہ کر دیا ہے ۔ ہم چار تھے مگر اب دس ہیں۔

شمیم: اگر ہم اِسی رفتار سے چلیں تو اگلے سال ہم بیس ہو جائیں گے۔

زیدی: آمین۔ شمیم۔میرا خیال ہے کہ خُداوند ہمیں اِس سے بھی زیادہ تعداد دے گا۔ کیونکہ اِس سال کلیسیائ کی بنیاد رکھنا نہایت ہی مشکل مرحلہ تھا۔ اِس کے بعد لوگوں کو دعوت دینا آسان ہو گا۔ کیو نکہ اِس کی بنیاد پہلے ہی پڑ چکی ہے۔

نائیلہ: کلیسیائ میں ایک نہایت ہی خوبصورت بات رفاقت کا ماحول ہے۔ اور چونکہ بڑا گروہ نہیں۔ ہم آزادی سے تبادلۂ خیال کرسکتے ہیں اور اکٹھے آزادی محسوس کرسکتے ہیں۔

﴿دروازے کی گھنٹی کی آواز﴾

نائیلہ: ضرور فوزیہ ہو گی۔ میں دروازہ کھولتی ہوں۔ ﴿دروازہ کھلنے کی آوازOff Mic﴾

ہیلو فوزیہ، اندر آ جائو۔

فوزیہ: ہیلو نائیلہ۔ افسوس، میں تھوڑا لیٹ ہو گئی۔

نائیلہ: نہیں۔ تم بالکل وقت پر آئی ہو۔ندیم بھائی ابھی تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ آئو ، میں اُن سے اور اُن کی بیوی پروین سے تمہارا تعارف کرائوں۔(Pause) یہ ہیں ندیم بھائی اور اُن کی بیگم پروین۔

ندیم: ہیلو، فوزیہ بہن۔ آپ کا کیا حال ہے۔

سبق نمبر49 "اے میری جان ، خُداوند کو مبارک کہہ" صفحہ نمبر2

فوزیہ: ندیم بھائی۔ میں نے نائیلہ بہن سے آپ کے اورپروین بہن کے بارے میں بہت سُنا تھا۔

پروین: ہم نے بھی نائیلہ بہن سے آپ کے بارے میں بہت کُچھ سُنا تھا اور آپ سے مِلنے کے لئے بیتاب تھے۔

فوزیہ: پچھلے ہفتے سے میں آپ سے ملنے کے لئے اور اُس کلیسیائ کے ماحول میںرہنے کے لئے جِس کے بارے میں نائیلہ بہن نے مُجھے بتایا تھا ، شدت سے انتظار کر رہی تھی۔

پروین: ہم بہت خوش ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں۔

نائیلہ: فوزیہ اجازت دو تو میں کلیسیائ کے باقی ممبرا ن سے آپ کا تعارف کرا دوں۔ یقیناََ زیدی کو تو آپ جانتی ہی ہیں۔

فوزیہ: بیشک۔ مہربانی کر کے باقی ممبران خود اپنا تعارف کرائیں۔

اکبر: میرا نام اکبر ہے۔ میں انجنئیرنگ کے شعبہ سے گریجویٹ ہوں ۔ میں انجنئیرنگ کے ایک دفتر میں کام کرتا ہوں۔

ناصر: میرا نام ناصر ہے۔ندیم صاحب میرے والد ہیں۔ میں اکبر کے ساتھ ہی اُس دفتر میں کام کرتا ہوں۔

شمیم: اور میںشمیم ہوں۔باجی پروین کی بہن اور عادل کی منگیتر۔ میں ایک سیاحت کی کمپنی میں کام کرتی ہوں۔

عادل: میں عادل ہوں۔شمیم کا منگیتر اور ایک ہوٹل میں کام کرتا ہوں ۔

نگہت: اور میرا نام نگہت ہے اور پروین بہن کے ساتھ اُسی دفتر میں کام کرتی ہوں ۔

ندیم: فوزیہ بہن۔ اب اپنا تعارف کرانے کی آپ کی باری ہے۔

فوزیہ: میرا نام فوزیہ ہے۔ میں نائیلہ اورزیدی بھائی کی پڑوسن ہوں۔ میرا خاوند ایک بزنس مین ہے۔ نائیلہ بہن کے ذریعے مسیح پر ایمان لائی۔ یہ وہی ہیں جن کے مُجھ میں خداوند عیسیٰ کے لئے جیتنے کی اُمنگ پیدا ہوئی۔ سارا جلال اُس کے نام کو مِلے۔

زیدی: فوزیہ بہن ۔ ہم کلیسیائ میں آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں جو عیسیٰ مسیح میں آپ کا خاندان ہے۔

ندیم: خُدا کی تعریف ہو۔ آئیے خدا کے مبارک نام کی تعریف کرتے ہوئے عبادت شروع کریں ۔ اکبر آج قیادت کر رہے ہیں۔

اکبر: خدا کی تعریف ہو۔ آئیں خدا سے کہیں۔ "معبودوں میں تجھ سا کوئی نہیں۔ اے خداوند تیرے کاموں کا کوئی مقابلہ نہیں"۔

تمام: معبودوں میں تجھ سا کوئی نہیں۔ اے خُداوند ، تیرے کاموں کا کوئی مقابلہ نہیں ۔

ندیم: آمین۔ آئیے آج کے مضمون پر بات چیت شروع کریں۔ آج کا مضمون ہمیں سِکھائے گا کِس طرح اپنے سارے دِل سے خُدا کی حمد کرنی چاہیے۔ اور ہر بات کیلئے اُس کا شکر کرنا چاہیے۔ آج ہم سب زبور103 پر دھیا ن لگائیں گے۔ آئو ہم اپنی اپنی بائبل کھولیں اور زبور کو پڑھنا شروع کریں ۔ پہلی آیت سے شروع کریں گے۔

ہر شخص دو آیات پڑھے گا ۔فوزیہ، پلیزآپ شروع کریں۔

سبق نمبر49 "اے میری جان ، خُداوند کو مبارک کہہ" صفحہ نمبر3

فوزیہ: اے میری جان! خُداوند کو مبارک کہہ اور جو کُچھ مجھ میں ہے اُس کے قدوس نام کو مبارک کہے ۔ اے میری جان خُداوند کو مبارک کہہ اور اُس کی کِسی نعمت کو فراموش نہ کر۔

عادل: وہ تیری ساری بدکار ی کو بخشتا ہے ۔وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفائ دیتا ہے ۔ وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے ۔ وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔

پروین: وہ تجھے عمر بھر اچھی اچھی چیزوں سے آسودہ کرتا ہے ۔ تو عقاب کی مانند ازسرنو جوان ہوتا ہے ۔ خداوند سب مظلوموں کے لئے صداقت اور عدل کے کام کرتا ہے۔

ندیم: اُس نے اپنی راہیں موسیٰ پر اور اپنے کام بنی اسرائیل پر ظاہر کئے ۔ خُداوند رحیم اور کریم ہے۔ قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہے۔

نگہت: وہ سدا جھڑکتا نہ رہے گا ۔ اُس نے ہمارے گناہوں کے موافق ہم سے سلوک نہیں کیا۔ اور ہماری بدکاریوں کے مطابق بدلہ نہیں دیا۔

اکبر: کیونکہ جِس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اُسی قدر اُس کی شفقت اُن پر ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں ۔ جیسے پورب پچھم سے دور ہے ویسے ہی اُس نے ہماری خطائیں ہم سے دور کر دیں۔

نائیلہ: جیسے باپ اپنے بیٹوں پر ترس کھاتا ہے ویسے ہی خُداوند اُن پر جو اُس سے ڈرتے ہیں ترس کھاتا ہے۔ کیونکہ وہ ہماری سرشت سے واقف ہے اُسے یاد ہے کہ ہم خاک ہیں۔

ناصر: انسان کی عمر تو گھاس کی مانند ہے وہ جنگلی پھول کی طرح کھلتا ہے کہ ہوا اُس پر چلی اور وہ نہیں اور اُس کی جگہ پھر اُسے نہ دیکھے گی۔

شمیم: لیکن خُداوند کی شفقت اُس سے ڈرنے والوں پر ازل سے ابد تک ہے اور اُس کی صداقت نسل در نسل ہے یعنی اُن پر جو اُس کے عہد پر قائم رہتے ہیں اور اُس کے قوانین پر عمل کرنا یاد رکھتے ہیں۔

زیدی: خُداوندنے اپنا تخت آسمان پر قائم کیا ہے اور اُس کی سلطنت سب پر مسلط ہے۔ اے خُداوند کے فرشتو! اُس کو مبارک کہو ۔ تم جو زور میں بڑھ کر ہو اور اُس کے کلام کی آواز سُن کر اُس پر عمل کرتے ہو۔

فوزیہ: اے خداوند کے لشکرو! سب اُس کو مبارک کہو۔ تم جو اُس کے خادم ہو اور اُس کی مرضی بجا لاتے ہو۔ اے خُداوند کی مخلوقات ! سب اُس کو مبارک کہو۔ تم جو اُسکے تسلط کے سب مقاموں میں ہو ۔ اے میری جان ! تُو خُداوند کو مبارک کہہ۔

ندیم: اَب کون اِس زبور کے متعلق کُچھ کہنا چاہے گا؟

سبق نمبر49 "اے میری جان ، خُداوند کو مبارک کہہ" صفحہ نمبر4

پروین: میں کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی پروین۔

پروین: میں زبور103کی پہلی آیت پر اپنا خیال پیش کروں گی جو کہتی ہے ، " اے میری جان خُداوند کو مبارک کہہ اور جو کُچھ مُجھ میں ہے اُس کے قدوس نام کو مبارک کہے"۔ یہ ظاہر ہے کہ اِس زبور کے لکھنے والے حضرت دائود محسوس کر رہے تھے کہ خُدا کی برکتیں اُن کی زندگی کو بھر رہی تھیں۔ یہی وجہ ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو یاد دِلا رہے ہیں اور خُدا کے مقدس نام کو مبارک کہنے کے لئے اپنی حوصلہ افزائی کررہے ہیں۔ اپنے منہ سے ہی نہیں بلکہ ہر اُس چیز سے جو اُن کے اندر ہے اور پھر گہرائیوں سے خدا کو مبارک کہہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ کہتے ہیں۔ جو کُچھ مُجھ میں ہے اُس کے قدوس نام کو مبارک کہے۔

عادل: ہمیں بھی خُدا کو مبارک کہنا چاہیے۔ اور اپنے آپ کو خدا کی طرف لاناچاہیے اور اپنے لئے اُس کی کبھی نہ ختم ہونے والی برکات کے لئے اُس کا شکر کرنا چاہیے۔

شمیم: عادل، آپ ٹھیک ہیں۔ خُد ا کی برکتیں کثرت سے ہیں اور اُس کے کام ہمارے ساتھ نہایت عظیم ہیں۔ ہمیں اُس کی شکر گزاری کے لئے اپنے آ پ کو تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ اور جو برکتیں اُس نے ہمیں دی ہیں ۔یاد رکھیں اور اُس کا شکریہ کریں۔

نگہت: مَیں ہمیشہ اپنے لئے خُدا کی عطائ کردہ برکتوں کو یاد کرتی ہوں ۔ میری زندگی کس قدر بدمزہ تھی اور خُد ا نے میرے لئے کیسے عجیب کام کئے ۔ وہ میرے دِل میں ایمان ڈالتا ہے کہ میری مستقبل کی زندگی اُس کے ہاتھوں میںمحفوظ ہے۔ اور وہ پہلے کی طرح میرے ساتھ بھلائی جاری رکھے گا۔

ندیم: جِس نکتے کانگہت نے ذِکر کیاہے سچ مچ اہم ہے۔ میں اِسے ایک بار دہرانا چاہتا ہوں۔ تا کہ یہ میری زندگی کی گہرائیوں میں ڈوب جائے ۔ ہر بار جب ہم خُدا کے عجیب کاموں اور نعمتوں کو یاد کرتے ہیں۔ شیطان ہمارے مستقبل کے بارے ڈر یا فکر سے ہم پر حملہ نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اُس وقت ہمارے دِل خُدا پر اعتقاد کی وجہ سے بھرے ہونگے کہ جِس طرح ماضی میں وہ ہم سے بھلائی کرتا رہا ہے۔ ہماری زندگیوں کے باقی حصوں میںبھی ہمارے ساتھ کھڑا ہو گا۔ اور خداوند کی طرف سے نئی برکات سے ہم لطف اُٹھائیں گے۔ بہرکیف، اُس کی نعمتوں کیلئے خدا کا شکر کرنا ہی وہ بات ہے جو خدا ہمیں کرنے کو کہتا ہے۔

ناصر: ابو، جو آپ کہتے ہیں مَیں بائبل مقدس کی ایک کہانی سے جو اِس بات کو واضح کرتی ہے اِس بات کی توثیق کرنا چاہتا ہوں۔ کہ خدا کی نعمتوں کے لئے اُس کا شکر کرنا ہی وہ بات ہے جو خدا ہمیں کرنے کو کہتا ہے۔

ندیم: ناصر، جاری رکھیں۔

سبق نمبر49 "اے میری جان ، خُداوند کو مبارک کہہ" صفحہ نمبر5

ناصر: حضرت لوقا کی معرفت لکھی گئی انجیل19 باب12 تا17آیات ہمیں بتاتی ہیں جب ایک مرتبہ خُداوند عیسیٰ مسیح یروشلیم کی طرف جا رہے تھے۔ اُنہیں دس کوڑھی مِلے۔ جنہوںنے رحم اور شفائ کی درخواست کی۔عیسیٰ مسیح نے اُنہیں دیکھا ور اُنہیں کہا کہ جائو اپنے آپ کو کاہنوں کودِکھائو ۔ وہ راہ جاتے جاتے اپنے کوڑھ کے مرض سے شفائ پاگئے۔ لیکن اُن میں سے ایک جو شفائ پا چکا تھاخداوند عیسیٰ مسیح کے پاس واپس آیااور "بلند آوا ز سے شکر گزاری کرنے لگا"۔ عیسیٰ مسیح نے پوچھا ، کیا دسوں شفائ نہیں پا گئے۔ پھر وہ نو کہاں ہیں ؟ کیا اُن میں سے کِسی ایک کو واپس آنا اور خُدا کی شکر گزاری کرنا یاد نہ آیا ؟ ہمیں ہمیشہ واپس آنے کی اور شکر کرنے اور اپنے لئے اُس کی نعمتوں کی تعریف کرنے کی ضرورت ہے۔

زیدی: اِن الفاظ کا مُجھ پر بڑا اثر ہواہے۔ اِسی طرح جب عیسیٰ مسیح نے نو کوڑھیوں کے بارے میں پوچھا جنہیں اُس نے شفائ دی تھی اور جو شکر گزاری کئے بغیر چلے گئے ۔ میں محسو س کرتا ہوں کہ خدا مُجھے کہہ رہا ہے کہ اُس کے بڑے فضل کے لئے شکر کروں جو میری زندگی کو بھر رہا ہے اور اُس بڑی نئی زندگی کے لئے جونائیلہ اور میں اُس کی حفاظت اور رہنمائی کے لئے گزار رہے ہیں۔

نائیلہ: زیدی آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ خُداوند مُجھے کہہ رہا ہے کہ آپ کے ساتھ اُس کے بڑے فضل کے لئے اُس کا شکر کروں۔میں دنیا کی فکروں اور آنے والے بچے کی فکر میں اِس قدر مصروف تھی کہ خُدا کا شکر کرنابھول گئی۔

ندیم: حضرت دائود کے بارے جب میں آپ کے خیالات سُن رہا تھا ۔ جب اُنہوں نے کہا "جو کُچھ مُجھ میں ہے اُس کے مقدس نام کو مبارک کہے"۔ میرے ذہن میں آیا کہ حضرت دائود اپنے پورے بدن سے کہہ رہے تھے کہ خُدا کی ستائش کرے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی گانے بجانے کا ماہرلیڈر سازندوں اور لوگوں کو خُدا کی حمد کرنے اور اُس کو جلال دینے کو کہہ رہا ہو۔ ایک اور زبور میں وہ اپنی ساری ہڈیوں سے بھی خُداوند کی حمدکرنے کے لئے کہتے ہیں۔ لِکھا ہے، "میرا سارا بدن ستائش کرے۔ اے خُداوند ! کون تیری مانند ہے؟

پروین: میں تیسری آیت کے ایک حصہ پربات کرنا چاہتی ہوں۔لِکھا ہے، "جو تیرے سارے گناہ معاف کرتا ہے"۔حضرت دائود خُداوند کے سامنے خوشی منا رہے ہیں کیونکہ وہ اُس کے سارے گناہ معاف کرتا ہے۔ نہ صرف وہ گناہ جو اُس نے کئے ہیں بلکہ وہ گناہ بھی جِن میں وہ اپنی زندگی میں گِر سکتے ہیں۔ اِس وجہ سے وہ کہتے ہیں ،"تیرے سارے گناہ "۔

شمیم: اپنے آپ کو یہ الفاظ کہتے ہوئے حضرت دائود اپنے گناہوں کے بارے میں شیطان کے سارے الزامات اور ساری مایوسیوں کو بھی جو گناہوں سے پیدا ہوتی ہیں خاموش کر رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خُدا کی ازلی رحمتوں اور معافی کے لئے خُدا کی حمد کرنا چاہتے ہیں۔

زیدی: کیا آیت کے باقی حصہ پر مُجھے کُچھ کہنے کی اجازت ہے؟

سبق نمبر49 "اے میری جان ، خُداوند کو مبارک کہہ" صفحہ نمبر6

ندیم: ضرور کیوں نئیں۔

زیدی: حضرت دائود کہتے ہیں، "جو تیری ساری بیماریوں سے شفائ دیتا ہے"۔ بیماری ایک ایسی چیز ہے جو لوگوں کو خوفزدہ کرتی ہے اور شیطان ہمیشہ بیماری، خوف اور پریشانی سے حملہ کرتا ہے۔ لیکن یہاں حضرت دائود خُداوند خُدا کے بارے میں کہتے ہیں جو چھوٹی اور بڑی بیماریوں سے شفائ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے وہ کہتے ہیں وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفائ دیتا ہے۔ کِسی خاص بیماری سے نہیں بلکہ سب بیماریوں سے۔

ندیم: خُدا کی حمد ہو۔ یہ وہ وعدہ ہے جو خُدانے اپنے بارے میں کہا، "میں تیرا شافی خُدا ہوں"۔ جب حضرت دائود کہتے ہیں جو کُچھ مُجھ میں ہے وہ اپنے سارے بدن سے خُدا کی تعریف کرنے کو کہتے ہیں۔خواہ اُن کا بدن بیمار ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خُدا اُنہیں کِسی بھی بیماری سے شفائ بخش سکتا ہے۔

فوزیہ: یہ آیت بتاتی ہے وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے۔ وہ تیرے سر پر شفقت و رحمت کا تاج رکھتا ہے۔ اِس آیت نے سچ مچ مُجھے چھوا اور مُجھے خُدا کی رحمت اور محبت کا بہت احساس دِلایا ہے۔ کیونکہ حال ہی میں میں نے خُدا کو جانا ہے۔ میں محسوس کرتی ہوں اُس نے میرے کتنے زیادہ گناہوں کو معاف کیا ہے۔ اپنے دور افتادہ پسِ منظر کے باوجود میں محسوس کرتی ہوں اُس نے مُجھے قبول کیا ہے۔ میں بہت خوش ہوں ۔ میں عیسیٰ مسیح کے لئے جی رہی ہوں اور خوش ہوں کہ آپ لوگوں کے درمیان ہوں۔ خُدا نے میری جان کوبڑی تباہی اور موت سے چھڑا لیا ہے۔ اُس نے میرے لئے عیسیٰ مسیح کی صلیب پر موت سے مُجھے بچا لیاہے۔

پروین: فوزیہ، خُدا کی تعریف ہو۔ آپ کے الفاظ خُدا کی محبت کو جوآپ میں ہے ظاہر کرتے ہیں اور میں اِس میں کُچھ اضافہ کرنا چاہتی ہوں۔ جب حضرت دائود کہہ رہے تھے "وہ تیرے سر پر شفقت اور رحمت کا تاج رکھتا ہے ، اُنہوں نے اپنے سر پر شفقت اور رحمت کا تاج دیکھا اوروہ تاج بادشاہ کے تاج سے بڑا تھا۔ کیونکہ شفقت اور رحمت کا تاج اُن کی زندگی پر ہے۔ اور اُن کا دماغ اور خیالات خُدا کی بڑی رحمت سے گھرے ہوئے ہیں۔

عادل: میں پانچویں آیت کو پسند کرتا ہوں جو کہتی ہے،"وہ تجھے عمر بھر اچھی اچھی چیزوں سے آسودہ کرتا ہے "۔ حضرت دائود اپنے آپ کو یہاں یاد دِلا رہے ہیں کہ خُدا ہے جو آسودہ کرتا ہے ۔ یعنی وہ صرف ضرورتیں پوری نہیں کرتا بلکہ کثرت سے دیتا ہے۔ پولوس رسول کہتے ہیں ،" اور میرا خُدا مسیح یسوع میں اپنی شاندار دولت کے مطابق تمہاری ساری ضرورتیں پوری کرے گا "۔ وہ چیز جِس سے ہم ڈرتے ہیں اور سب سے زیادہ فکرمندہوتے ہیں، ہماری مالی ضرورتیں ہیں۔ ہم فکر کرنا شروع کرتے ہیں کہ کِس طرح ہماری ضرورتیں پوری ہو سکتی ہیں۔ یہاں خُدا چاہتا ہے کہ ہم حضرت دائود سے سیکھیں جو کہتے ہیں کہ خُدانے ساری عمر کِس طرح اُن کی ضرورتیں پوری کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خُدا کے ساتھ اپنی حفاظت محسوس کرتے ہیں۔

سبق نمبر49 "اے میری جان ، خُداوند کو مبارک کہہ" صفحہ نمبر7

نائیلہ: یہ الفاظ مُجھے ایک آیت یاد دِلاتے ہیں جِسے میں بہت پسند کرتی ہوں۔حضرت دائود کہتے ہیں، "میں بچہ تھا اور اب بوڑھا ہوں ۔ ابھی تک میں نے راستباز کو بے کس نہیں دیکھا یا اُنکی اولاد کو بھیک مانگتے نہیں دیکھا"۔حضرت دائود اپنی زندگی کو یہ کہتے ہوئے پیش کرتے ہیں کہ اُن کی جوانی سے بڑھاپے تک اُنہوں نے کبھی کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو خُدا کے لئے جئے اور خُدا نے اُسے ترک کر دیاہو۔ یا کوئی دِن ایسا آیا ہو جِس میں اُنہیںکِسی چیز کی ضرورت تھی جو خدا نے مہیا نہ کی۔

ندیم: یہ بالکل سچ ہے۔ ہمیں بھی خُدا کی تعریف کرنے کی ضرور ت ہے ۔آئیں ہم اپنی آنکھیں بند کریں اور خدا کی شکرگزاری کے لئے آواز بلند کریں۔

شمیم: خُداوند میں تیرا شکر کرتی ہوں کہ تُو نے ہمیں کبھی ترک نہیں کیا بلکہ تُو ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔ اپنی نعمتوں سے ہماری زندگیوں کو آسودہ کرتاہے ۔

نگہت: اے خُداوند میں بھی تیری شکرگزاری کرتی ہوں کیو نکہ میں نے بہت دفعہ تجھے چھوڑا اور دنیا کی چیزوں کا خیال کیا لیکن تُو نے مُجھے کبھی نہیں چھوڑا اور تُو ہمیشہ میرے ساتھ ہے۔

ندیم: آمین۔ کیا کوئی اور اِس میںاضافہ کرنا چاہتا ہے؟

زیدی: میں چاہتا ہوں۔

ندیم: جی زیدی بھائی۔

زیدی: جو کُچھ ہم نے دُعا میں کہا میں اُس کی توثیق کرنا چاہتا ہوں۔ جب سے ہم عیسیٰ مسیح کی پیروی کر رہے ہیں ہم محبت اور رحم کو اپنی پیروی کرتے اوراپنے پیچھے دوڑتے محسوس کرتے ہیں۔ بالکل اُس طرح جِسطرح وہ آیت کہتی ہے،"یقیناََ بھلائی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ رہیں گی اور میں ہمیشہ خُداوند کے گھر میںسکونت کرونگا" ۔ یہی وجہ ہے ہمیں کل کے لئے پریشان اور فکرمند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ ہماری مستقبل کی تمام ضرورتوں کو جانتا ہے اور وہ اُس کے پاس محفوظ ہیں۔

ندیم: پانچویں آیت کا باقی حصہ کہتا ہے، "وہ عقاب کی مانند ازسرنو جوان ہوتا ہے"۔بالکل جیسے عقاب اپنی جوانی بحال کرتا ہے خدا ہماری جوانی کو ازسرنو بحال کرتا ہے۔

اکبر: عقاب اپنی جوانی کِس طرح بحال کرتا ہے ؟

ندیم: عقاب کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب یہ پہاڑ پر جاتا ہے اور وہاں اکیلا رہتا ہے اور اپنی چونچ سے شروع کر کے تما م پر کھینچ نکالتا ہے اور نئے پروں کے اُگنے کا انتظا کرتا ہے جونہی اِس کے بال اُگتے ہیں اُس کی جوانی ازسرنو بحال ہوتی ہے۔ اور اُس کی قوت پھر بڑھ جاتی ہے لیکن یہ بڑے دکھ کے بعد ہوتا ہے۔ جب یہ اپنے پر اُکھاڑتا ہے اور خون نکلتا ہے اور دِن کی گرمی میں اور رات کی سردی میں پہاڑ کی چوٹی پر انتظار کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اُس کے پر دوبارہ اُگتے ہیں۔

سبق نمبر49 "اے میری جان ، خُداوند کو مبارک کہہ" صفحہ نمبر8

خُدا بعض اوقات ہمیں مشکل وقتوں سے گزرنے دیتا ہے جہاں وہ چاہتا ہے کہ ہم عاجز ہوں اور اُس کے سامنے اپنے آپکا انکار کریں اور پھر سے اپنی نگاہیں اُس پر لگا دیں لیکن یہاں صر ف خُدا کا مقصد ہمیں از سرنو بحال کرنا ہوتا ہے اور پاکیزہ خیالات مہیا کرنا ہوتا ہے جِن سے ہم خُدا کا کلام حاصل کرسکتے ہیں۔ اِس لئے آئو ہم مشکل وقتوںمیں خُدا کی تعریف کریں کیونکہ اِس میں ہماری اپنی بھلائی ہے۔

پروین: ندیم، مُجھے ایک آیت یاد آئی ہے جو اس خیال کو مکمل کرتی ہے جو آپ کہہ رہے ہیں۔ یہ رومیوں 8 باب28 آیت ہے اور یہ کہتی ہے ،"اور ہم جانتے ہیں کہ سب چیزیں مِلکر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لئے جو خدا کے ارادہ کے موافق بُلائے گئے ہیں"۔ مطلب ، ہر چیز جو ہمارے اردگرد واقع ہوتی ہے ۔ خداوند ہماری بھلائی کے لئے اُسے استعمال کرتا ہے۔ پس مشکل وقتوں میں بھی ہمیں خُدا کا انتظار کرناچاہیے ، یہ وقت ضائع کرنا نہیں چاہیے کیونکہ انتظارکرنے سے طاقت مِلتی ہے۔

عادل: پروین باجی۔ اُس آیت کی طرح جو کہتی ہے ،"لیکن جو خُدا پر اُمید رکھتے ہیںازسر نو قوت پائیں گے۔ وہ عقابوں کی طرح اُڑیں گے ، وہ بھاگیں گے مگر تھکیں گے نہیں اور چلیں گے اور بے ہوش نہ ہوں گے"۔

نگہت: یہ بہت خوبصورت آیت ہے ۔ میں سچ مچ اِسے سُننا چاہتی تھی۔ بہت مرتبہ میں مشکل وقتوں سے گزرتی ہوں اور اُن وقتوں سے میں خُدا کا مقصد نہیں سمجھتی ۔ اب میںجان گئی ہوں مُجھے خُداوند کا انتظار کرنا سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اُس کی قوت مُجھے بھر دے اور میری اپنی قوت بحال ہو جائے۔

اکبر: میں بھی دسویںآیت کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں جو کہتی ہے، "اُس نے ہمارے گناہوں کے موافق ہم سے سلوک نہیں کیا اور ہماری بدکاریوں کے مطابق ہم کو بدلہ نہیں دیا"۔ ہر بار جب میں اِس آیت کو پڑھتا ہوں میں بہت متاثر ہوتا ہوں کیونکہ اِس سے پہلے کہ میں خُداوند عیسیٰ مسیح کو جان گیا اور اُس پر ایمان لایا۔ میں اُس کے بارے میں سوچتا تھا کہ وہ ظالم ہے اور جوگناہ کرتا ہے اُسے بے رحمی سے سزا دیتا ہے۔ اِن خیالات کی وجہ سے اور اُن بہت سے سالوں کی وجہ سے جب میں خُدا سے دور گناہ میں رہا میںاُس کی سزا سے ڈرتا تھا لیکن جب میں خُداوند عیسیٰ مسیح کو جان گیا اور اُس کے رحم کو محسوس کیا۔ اور جو اُس نے میرے لئے کیا، میرا دِل اُس کے لئے کھل گیا ۔ میں جان گیا وہ رحیم ہے اور معاف کرنے والا ہے اور جب میںاُس کے پاس جائونگامعافی مانگوں گا، میں ساری محبت پا لونگا۔ وہ میرے گناہو ں کے موافق مُجھ سے سلوک نہیںکرے گا۔بلکہ وہ اپنی عظیم محبت سے مُجھے شرابور کر دے گا۔

سبق نمبر49 "اے میری جان ، خُداوند کو مبارک کہہ" صفحہ نمبر9

زیدی: بالکل ایسا ہی ہے اکبر ، خُدا کی رحمتیں ہماری سمجھ سے بہت بڑھ کر ہیں۔لِکھا ہے، "جِس قدر آسمان زمین سے بلندہے اُس قدر اُس کی محبت اُن کے لئے ہے جو اُس کا خوف مانتے ہیں" ۔ خُدا کی محبت ہماری سمجھ سے بالاتر ہے ۔ یہی وجہ ہے کوئی بھی جو اُس کے پاس آتا ہے اور اُسے پکارتا ہے اُسے سزا نہیں دیتا بلکہ اُس پر رحم کرتا ہے۔ اور اُس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔

ندیم: اَب ہماری عبادت کا وقت ختم ہوتا ہے۔ میں آپ کو یاد دِلانا چاہتا ہوں اگلی بار عبادت ہمارے گھر میں اِسی وقت ہو گی۔خداوند آپ کو برکت دے۔

تمام: آمین۔