Hear Fellowship With My Family Episode 50 (Audio MP3)

View FWMF episode 50 as a PDF file

سبق نمبر50 "عطر کا مرتبان" صفحہ نمبر1

(Music)

ندیم: پروین ، مَیں بہت خوش ہوںآج ہماری کلیسیائ میں ایک نئی ممبر شامل ہوئی ہے۔ اور وہ بھی دوسرے ملک سے ۔ اِس کا مطلب ہے ہماری کلیسیائ ملکی طور پر محدود نہیں ہے۔ بلکہ اِس میں دنیا بھر کے لوگ ہوں گے ۔

پروین: ندیم، آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ مَیں فوزیہ سے بہت خوش ہوں۔ آپ کو یاد ہے نہ آج وہ ہمارے گھر آ رہی ہیں۔

ندیم: ہاں ہاں، مُجھے یاد ہے۔ پروین ناصر کہاں ہے۔

پروین: اپنے کمرے میں ہے ۔ اُسے پتہ ہے آج فوزیہ آ رہی ہیں۔

﴿دروازے پر گھنٹی کی آواز﴾

ناصر: (Loud)امی مَیں دیکھتا ہوں۔ انٹی فوزیہ ہوںگی۔

﴿دروازہ کھلنے کی آواز﴾(Off Mic)

ناصر: ہیلو، انٹی فوزیہ۔ مہربانی کر کے اند ر آ جائیں۔

فوزیہ: ہیلو ، ناصر۔ آپ کیسے ہیں ۔﴿دروازہ بند ﴾ON Mic ۔ پروین بہن آپ کیسی ہیں۔ اور ندیم بھائی آپ کا کیا حال ہے۔

پروین: فوزیہ بہن۔ ہم ٹھیک ہیں ، تشریف رکھیں۔

ندیم: فوزیہ بہن ہم بہت خوش ہیں آپ ہمارے گھر تشریف لائی ہیں۔

فوزیہ: میںبھی خوش ہوں کُچھ وقت آپ کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔ نائیلہ نے آپ کے بارے بہت کُچھ بتایا ہے۔

پروین: ندیم ، کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ کیوں نہ کھانا شروع کریں۔ ساتھ ساتھ بات چیت بھی چلتی جائے گی۔

ندیم: کیوں نئیں، ضرور۔ ناصر تم بھی آ جائو۔

ناصر: ٹھیک ہے ابو۔

﴿چمچوں اور پلیٹوں کی آوازیں﴾

ندیم: فوزیہ بہن! آپ کے خاوند مسٹر جمیل کا کیا حال ہے ؟اُن کا کام کیسا جا رہا ہے؟

فوزیہ: وہ تین ماہ بعد آتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ اَب جب وہ آئیں پھر یہیں رہیں۔

پروین: کیا خیال ہے ، آج کی عبادت میں جمیل بھائی کے لئے دُعا کریں۔

سمیر: یہ بہت اچھا خیال ہے ۔ جب کلیسیائ متحد ہو تی ہے اور کسی خاص بات کے لئے دُعا کرتی ہے تو یہ عجیب طریقے سے سُنی جاتی ہے۔

فوزیہ: یہ پہلی بار ہے جب مَیں محسوس کررہی ہوں کہ میرا ایک خاندان ہے جو میری فکر کرتا ہے اور میرے لئے دُعا کرتا ہے۔

سبق نمبر50 "عطر کا مرتبان" صفحہ نمبر2

ناصر: انٹی فوزیہ، ہم خوش ہیں آپ کلیسیائ میں ہمارے ساتھ شامل ہوئی ہیں۔

فادیہ: ناصر، شکریہ۔ میں بھی خوش ہوں اور چاہتی ہوں کہ میرے ملک میںبھی آپکی کلیسیائوں جیسی کلیسیائیں ہوں۔ میری خواہش ہے میرے والدین کے گھر میںکلیسیائ ہو جو رشتہ داروں، دوستوں اور پڑوسیوں پر مشتمل ہو ۔

ندیم: فوزیہ! یہ ہمارا خواب ہے کہ ہر شہر میں ہر گلی میں اور دنیا کی ہر قوم میں کلیسیائیں ہوں۔پروین عبادت کا وقت ہونے والا ہے۔ آئیے، اَب عبادت کی تیاری کریں۔

﴿موسیقی﴾

ندیم: بھائیو بہنو! عبادت کا وقت ہو چُکا ہے۔ آئیے آج کی عبادت شروع کریں۔نگہت بہن حمدوستائش کے وقت میں قیادت کریں گی۔

نگہت: میںچاہوں گی کہ ایک آیت کو پڑھتے ہوئے اپنی ستائش کے وقت کو شروع کریں۔ زبور 145اُس کی 21 آیت ، "میرے منہ سے خُداوند کی ستائش ہو گی اور ہر بشر اُس کے پاک نام کو ابدالآباد مبارک کہے"۔ آج میں اِ س خیال سے معمور ہوں کہ ہم پوری طاقت سے اُس کی ستائش کریں۔ اور ہر سُننے والا بھی خُدا کے پاک نام کو مبارک کہے ۔

ناصر: اے خُداوند، تُو زمین و آسمان پر بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ تو اکیلا صاحبِ اختیار ہے۔

اکبر: تُو اکیلا قادرِ مطلق ہے۔

نائیلہ: تُوخالق و مالک اور معجزات کرنے والا ہے۔

نگہت: آمین۔

ندیم: شکریہ نگہت۔ آج ہم حضرت لوقا کی معرفت لکھی گئی انجیل اُس کے ساتویں باب کی 37تا50آیات پر غور کریں گے۔ہر کوئی ایک ایک آیت پڑھے گا۔ اکبر آپ شروع کریں۔

اکبر: دیکھوایک بدچلن عورت جو اُس شہر کی تھی یہ جان کر کہ اُس فریسی کے گھر میں کھانا کھانے بیٹھا ہے ، سنگِ مرمر کے عطر دان میں عطر لائی ۔

نائیلہ: اور اُس کے پائوں کے پاس روتی ہوئی پیچھے کھڑی ہو کر اُس کے پائوں آنسوئوں سے بھگونے لگی اور اپنے سرکے بالوں سے اُن کوپونچھا اور اُس کے پائوں بہت چومے۔ اور اُن پر عطر ڈالا ۔

زیدی: اُس کی دعوت کرنے والا فریسی یہ دیکھ کر اپنے جی میں کہنے لگا کہ اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جواُسے چھوتی ہے وہ کون ہے اور کیسی عورت ہے کیو نکہ بدچلن ہے۔

سبق نمبر50 "عطر کا مرتبان" صفحہ نمبر3

شمیم: یسوع یعنی عیسیٰ مسیح نے جواب میں اُس سے کہا ، شمعون مُجھے تجھ سے کُچھ کہنا ہے۔ اُس نے کہا اے اُستاد کہہ۔

عادل: کِسی ساہو کار کے دو قرضدار تھے ایک پانچ سو کا دوسرا پچاس کا۔

ناصر: جب اُ ن کے پاس اداکرنے کو کُچھ نہ رہا تو اُس نے دونوںکو بخش دیا ۔ پس اُن میں سے کون اُس سے زیادہ محبت رکھے گا۔

فوزیہ: شمعون نے جواب میں کہا، میری دانست میں وہ جِسے اُس نے زیادہ بخش دیا ۔ اُس نے اُس سے کہا تُو نے ٹھیک فیصلہ کیا ۔

نگہت: اور اُس عورت کی طرف پھر کر اُس نے شمعون سے کہا ۔ کیا تُو اِس عورت کو دیکھتا ہے۔ میںتیرے گھر میں آیا تُو نے میرے پائوں دھونے کو پانی نہ دیا مگر اِس نے میرے پائوں آنسوئوں سے بھگو دیے اور اپنے بالوں سے پونچھے۔

پروین: تُو نے مُجھ کو بوسہ نہ دیا مگر اِس نے جب سے میں آیا میرے پائوں چومنا نہ چھوڑا۔

ندیم: تُو نے میرے سر میں تیل نہ ڈالا مگر اِس نے میرے پائوں میں عطر ڈالا ہے۔

اکبر: اِس لئے میں تجھ سے کہتاہوں کہ اِس کے گناہ جو بہت تھے معاف ہوئے کیونکہ اِس نے بہت محبت کی مگر جِس کے تھوڑے گناہ معاف ہوئے وہ تھوڑی محبت کرتا ہے۔ اور اُس عورت سے کہا تیرے گناہ معاف ہوئے۔

نائیلہ: اِس پر وہ جو اُس کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تھے اپنے جی میں کہنے لگے کہ یہ کون ہے جو گناہ بھی معاف کرتا ہے۔ مگر اُس نے عورت سے کہا تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا ہے ۔ سلامت چلی جا۔

ندیم: اِ س حصہ کوپڑھ لینے کے بعد کیا کوئی کُچھ کہنا پسند کرے گا؟

پروین: ندیم، مَیں کُچھ کہنا چاہتی ہوں۔

ندیم: جی پروین۔

پروین: جب ہم یہ حصہ پڑھ رہے تھے ۔ مُجھے یاد آیا کہ یہ حالت عیسیٰ مسیح کے دِنوں میں دوبار دہرائی گئی ۔ ایک بار مریم لعزر کی بہن تھی اور اُس نے خداوند عیسیٰ مسیح کے سر پر خوشبودار عطر انڈیلا۔ یہ اُن کے مصلوب ہونے سے بالکل پہلے تھا ۔ ہم اِسے بائبل مقدس میں حضرت متی کی معرفت انجیل 26باب میں اورحضرت یوحنا کی معرفت انجیل 12 باب میںپڑھ سکتے ہیں۔

نائیلہ: مُجھے یہ واقع یاد ہے کیو نکہ یہ صرف مریم ہی تھی جِس نے عطر عیسیٰ مسیح کے سر پر اُن کے دفن کی تیاری کے لئے ڈالا۔ کیونکہ جب دوسری عورتیں عیسیٰ مسیح کے بدن پراُن کی موت کے بعد خوشبودار مصالحے لگا ناچاہتی تھیں وہ ایسا نہ کر سکیں۔ کیو نکہ اُنہوں نے دیکھا کہ وہ پہلے ہی زندہ ہو چُکے تھے۔

سبق نمبر50 "عطر کا مرتبان" صفحہ نمبر4

پروین: بالکل ٹھیک ۔ دوسری بار وہ ہے جو ابھی ہم نے پڑھا ہے۔ اِس بار بائبل مقدس اُس عورت کا نام نہیں بتاتی جِس نے خوشبودار عطر عیسیٰ مسیح کے پائوں پر ڈالا۔ لیکن وہ بدکار عورت تھی۔جِس بات نے میری توجہ اپنی طرف مبذول کی وہ یہ تھی کہ اِسکے باوجود کہ وہ گنہگار تھی وہ اُس جگہ کو تلاش کرتی رہی جہاں عیسیٰ مسیح ٹھہرے ہوئے تھے اور اُس نے اُنہیں ایک فریسی کے گھر میں پایا۔

فوزیہ: پروین بہن، کیا مَیں کُچھ کہہ سکتی ہوں۔

پروین: ضرور ضرور۔

فوزیہ: کیا فریسی وہ دقیانوس لوگ نہیں تھے جو گنہگاروںسے نفرت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کوئی اُن سے نہ مِلے ۔

پروین: فوزیہ آپ صحیح کہتی ہیں۔ اُس عورت کے یقین کے باوجود کہ وہ فریسی اُس کی موجودگی کوپسند نہ کرے گا اور امکان تھا کہ وہ اُسے دھکے دے کر باہر نکالے گا یا بے عزت کرے گا۔ وہ صرف ایک چیز کے بارے سوچ رہی تھی اور وہ تھی عیسیٰ مسیح سے مُلاقات۔ مُجھے یاد ہے جب میں خُدا سے مِلنا چاہتی تھی ۔مُجھے کِن رکاوٹوں کا سامنا تھامگر وہ اِس رکاوٹ سے کم تھیں ۔ لیکن میں ہار جاتی تھی اور خُدا سے مِلنے سے رُک جاتی تھی۔

نگہت: پروین باجی، کس قسم کی رکاوٹیں؟

پروین: مثال کے طو ر پرمیں ایک بس میںتھی اور میںبائبل مقدس پڑھنا چاہتی تھی ۔ لیکن میں سوچ رہی تھی کہ لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے۔نتیجہ یہ نکلا کہ میں نہ پڑھ سکی۔ مگر اِس عورت نے اِس بات کو نہ سوچا کہ لو گ فریسی کے گھر میں جانے کے نتیجے میں اِس کے بارے کیا کہیں گے یا ایک بدکار عورت کے طور پراُس سے کیا برتائو کریں گے۔ اُس کے سامنے صرف ایک نشان تھا اوروہ یہ تھا کہ خُداوند عیسیٰ مسیح کو کِس طرح مِلنا ہے۔

عادل: انٹی پروین، جو آپ کہہ رہی ہیں صحیح ہے۔ اِس صورتحال میں اِس کے علاوہ کُچھ اور ہے جو بہت اہم ہے۔

شمیم: عادل وہ کیا ہے؟

عادل: اُس عورت نے نہ صرف اِس بات کی پرواہ کی کہ لوگ کیا کہیں گے بلکہ اُس نے خود اپنے اندر کی رکاوٹوں کی مذاحمت کی۔ مت بھولیں کہ وہ ایک گنہگار تھی ۔ خُدا کو تلاش کرنے کا فیصلہ مشکل ہوتا ہے ۔ جب آپ جانتے ہیں کہ آپ ایک گنہگار ہیں۔ بہت دفعہ جب میں محسوس کرتا ہوں کہ میںنے غلطی کی اور خُدا کا گناہ کیا ۔ میں خُدا کے چہرہ سے بھاگ جاتا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں گنہگار ہوں۔ اورخدا یقیناََ جو میں نے کیا ہے اُس کے لئے ملزم ٹھہرائے گا۔

سبق نمبر50 "عطر کا مرتبان" صفحہ نمبر5

ندیم: ہاں عادل۔ خُدا ہماری وفاداری کے مطابق ہم سے برتائو نہیں کرتا بلکہ اپنی وفاداری کے مطابق ۔ بالکل اِ س طرح جیسے اُس عورت کے ساتھ ہوا خداوندعیسیٰ مسیح نے اُس پر اُس کے گناہوں کا الزام نہ لگایا۔ جیسے ہم نے پڑھا ہے اُنہوں نے اُس کا دفاع کیا اور اُسے بتایا بھی کہ اُس کے گناہ معاف ہوئے۔ یہی ہے جو خُدا ہمیشہ ہمارے ساتھ کرتا ہے وہ ہمارے گناہوں کی معافی ہمیں دیتا ہے۔ شیطان ہمیشہ چاہتا ہے کہ ہم اُس کے جھوٹ کو مانیں۔ تاکہ خُدا کی طرف سے سچی معافی سے لطف اندوز نہ ہوںاور گناہ میں زندہ رہنا جاری رکھیں۔ آج خُداوند ہمیںسِکھانا چاہتا ہے کہ اِس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم کتنے گنہگار ہیں۔ ہمیں اُس کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اُس کے بازوہمارے لئے کھلے ہیں۔ وہ ہمیں محبت سے قبول کرتا ہے۔

نائیلہ: ندیم بھائی، ہمارا خُدا عجیب خُدا ہے۔ اُس کی محبت ہمارے لئے لامحدود ہے۔

زیدی: ندیم بھائی۔ کیا میں کُچھ کہہ سکتا ہوں؟

ندیم: زیدی بھائی ضرور۔

زیدی: جیسے ہی میں نے اِس حصے پر سوچا ، میں نے دیکھا کہ جب عورت اُس فریسی کے گھر آئی ۔ وہ نہ صرف تائب دِل کے ساتھ اور بیتابی سے عیسیٰ مسیح کو دیکھنے کے لئے جارہی تھی بلکہ اُس نے اپنے ساتھ خوشبودار عطر بھی لے لیا۔

فوزیہ: خوشبو کے عطر دان سے کیا مرا دہے؟

نگہت: زیدی بھائی۔ کیا مُجھے کہنے کی اجازت ہے۔

زیدی: جی نگہت بہن۔

نگہت: سنگِ مرمر کا عطردان ایک لڑکی کے لئے نہایت ہی قیمتی چیز سمجھا جاتا تھا کیو نکہ وہ اِسے اپنی شادی کے دِن کیلئے رکھتی تھی۔ اُس زمانے کی سب لڑکیاں نہایت ہی مہنگا اور نہایت ہی خوبصورت عطردان چُنتی تھیں ۔

زیدی: بالکل ٹھیک۔ اِس بات سے مُجھے خیال آیا کہ اِس عورت نے یہ نہایت قیمتی عطر دان کیوں لے لیا تھا۔ جب وہ عیسیٰ مسیح کو دیکھنے جا رہی تھی اُس نے ہر قیمتی چیز جو اُس کے پاس تھی ترک کر دینے کا پکا ارادہ کر لیا تھا اور اُس نے سنگ ِ مر مر کے عطر دان سے یہ کام شروع کیا۔یہی ہے جو خدا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں عیسیٰ مسیح سے زیادہ کِسی چیز کو اہمیت نہ دیں۔

ناصر: میں نے کُچھ عرصہ پہلے ایک تاریخ کی کتاب میںسنگِ مرمر کے عطر دان کے بارے میں پڑھا۔ یہ عطر دان مضبوطی سے بند ہوتا تھا۔ مطلب یہ کہ کھولنے کے لئے اور بند کرنے کے لئے ڈھکنا نہیں ہوتا تھا۔ یہ عطردان اِس طرح تیار کیا جاتا تھا کہ یہ صرف ایک ہی بار کھلتا تھا اور ایک ہی بار انڈیلا جاتا تھا۔ ایک لڑکی عطردان کے اوپر والے حصے کو اپنی شادی والے دِن توڑتی تھی اور اپنے اوپر انڈیلتی تھی اور بعد میں عطردان کو پھینک دیتی تھی۔

سبق نمبر50 "عطر کا مرتبان" صفحہ نمبر6

شمیم: اِس کا مطلب ہے اُس عورت نے وہ عطردان نہ صرف عیسیٰ مسیح کے پائوں پر انڈیلا بلکہ اُس کو توڑ دیا۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ دوبارہ اُسے بھر نہ سکی۔

ناصر: انٹی شمیم۔یہ بالکل صحیح ہے۔ یہ ہے جو خُداوند نے مُجھے سِکھایا کہ میںقیمتی چیزیں ترک کرنے کو تیار ہوجائوں جو میرے پاس ہیں۔ خواہ وہ کتنی ہی قیمتی ہوں ۔

پروین: ناصر نہ صرف یہ بلکہ عطر دان کے توڑنے کا مطلب ہے ، اپنے غرور اور تکبر کو توڑنا۔ عطر دان یہاں ہماری نمائدنگی کرتا ہے۔

اکبر: میں نہیں سمجھا۔

پروین: اکبر، جب عطر دان بند ہوتا ہے۔ یہ خوبصورت خوشبو کے بغیر ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ توڑا جاتا ہے عطر خوبصورت خوشبو کے ساتھ باہر آجاتا ہے۔ بالکل یہی اُس وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے آپ کو توڑتے ہیں اور خُداوند کا عطر ہمیں ڈھانپ لیتا ہے۔

شمیم: یہ اُس آیت کی طرح ہے جو کہتی ہے"مگر خُدا کا شکر ہے کہ مسیح ہم کو ہمیشہ اسیروںکی طرح گشت کراتا ہے اور اپنے علم کی خوشبو ہمارے وسیلے سے ہر جگہ پھیلاتا ہے "۔اِس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ خُدا کا شکر ہو جو ہم پر فتح مندی کے جلوس میں ہماری قیادت کرتا ہے۔

فوزیہ: ہم پر اُس کی فتح کے کیا معنی ہیں؟

شمیم: عیسیٰ مسیح اپنی محبت سے ہم پر فتح مندہیں جو ہمارے اندر کی نفرت پر غالب آتی ہے ۔ وہ اپنی انکساری سے اُس بدمزاجی پر جو ہم میں ہے غالب آتے ہیں اور ہم دھیمے ہو جاتے ہیں۔

ناصر: وہ ہمارے غرور پر بھی غالب آتے ہیں اور ہم عاجز ہو جاتے ہیں۔جیسے اُنہوں نے کہا،"مُجھ سے سیکھو کیونکہ میںحلیم اور دِل کا فروتن ہوں"۔

شمیم: بالکل ٹھیک ناصر۔ جب عیسیٰ مسیح ہم پر فتح پاتے ہیں۔ ہم اُن کی خوبصورت خوشبو سے بھر جاتے ہیں۔ مرتبان ٹوٹ جاتا ہے جب ہم اپنے آپ کو توڑ لیتے ہیں۔ عیسیٰ مسیح کی خوشبو ہر جگہ پھیل جاتی ہے۔

ندیم: میں نے بھی دیکھا کہ آیت کہتی ہے، ہم خُدا کے لئے مسیح کی خوشبو ہیں۔ یہی وجہ ہے میں کہنا چاہتا ہوں کہ جب ہم اپنے آ پ کو توڑتے ہیں توعیسیٰ مسیح کی خوشبو ہم سے پھیلتی ہے۔ جِس طرح بخور خُدا باپ کی طرف اوپر جاتی ہے ۔ جب ہمارے برتن ٹوٹ جاتے ہیں خُدا آسمان سے عیسیٰ مسیح کوبھیجتا ہے جو ہم میں ہیں۔ خُدا کی تعریف ہو۔ آئیں دُعا کریں۔ خُدا سے کہیں ہمیں توڑے تا کہ عیسیٰ مسیح کی خوشبو پھیلے۔

سبق نمبر50 "عطر کا مرتبان" صفحہ نمبر7

زیدی: اَے خُدا مُجھے سِکھا کہ تیرے سامنے اپنے آپ کو توڑوں۔مَیں اعلان کرتا ہوں کہ مُجھ میں کوئی خوبی نہیں۔ میں اعلان کرتا ہوں میں تیرے بغیر کُچھ نہیں۔

اکبر: اَے خدا! مَیں تیرے سامنے سب سے قیمتی چیز رکھتا ہوں۔ میںتجھے جاننے کے لئے سب سے قیمتی چیزیں چھوڑتا ہوں۔

نائیلہ: اَے عیسیٰ مسیح! میں اعلان کرتی ہوں آپ میرے لئے قیمتی ہے۔ دنیا میں کِسی بھی چیز سے زیادہ قیمتی۔

پروین: اَے خدا میں شکر کرتی ہوں تُو ہمارے گناہوں کے موافق ہم سے سلوک نہیں کرتا۔ تُو ہمیشہ ہم سے محبت سے پیش آتا ہے۔

ندیم: آئیں بالکل اِس عورت کی طرح کریں اورعیسیٰ مسیح کے قدموں میں جھکیں اور اپنے عطر دان انڈیلیں۔ آئیں، سب سے قیمتی چیز اُن کے پائوں تلے رکھیں۔جب ہم جھُکے ہوئے ہیں اُنہیں بتائیں ۔اَے عیسیٰ مسیح مَیں آپ کے قدموں میں جھکا ہوا ہوں۔

تمام: اَے عیسیٰ مسیح مَیں آپ کے قدموںمیں جھکا ہُوا ہوں۔ آمین۔

ندیم: اَب آپ سب کے لئے میرے پاس ایک اچھی خبر ہے۔

تمام: وہ کیا۔ ہم سُننا چاہتے ہیں۔ جلدی بتائیں۔

ندیم: اگلی مرتبہ دو کلیسیائیں بننے کے موقع پر ہم جشن منائیںگے ۔

تمام: بہت خوب۔ خدا کی تعریف۔ خدا کا شکر ہو۔

ندیم: اَب ہماری عبادت کا وقت ختم ہوتا ہے۔ اگلی بار اِسی وقت ہمارے گھر پر عبادت ہو گی۔ خداوند عیسیٰ مسیح آپ سب کو برکت دے۔

تمام: آمین۔