Hear Fellowship With My Family Episode 51 (Audio MP3)

View FWMF episode 51 as a PDF file

سبق نمبر51 صفحہ نمبر1

" کھلے دروازے"

ندیم: آئیں آج کے دن کیلئے کُچھ وقت دُعا میں گزاریں۔ جِس کے خواب ہم دیر سے دیکھتے رہے ہیں۔

پروین: ندیم، میں آپ سے اتفاق کرتی ہوں۔۔آج ہم دو کلیسیائوں میںتقسیم ہو جائیںگے۔ ہمیں سچ مچ خُداوند خُدا کے حضور دِلی شکرگزاری پیش کرنی چاہیے۔

ندیم: آئیں ہم باری باری دُعا کریں۔

زیدی: خُداوندعیسیٰ مسیح ۔ ہماری زبانیں تیری شکرگزاری کا اظہار نہیں کرسکتیں۔ تُو ہے جِس نے ہماری کلیسیائ کو بڑھایا۔ ساری شکرگزاری تیرے لئے ہے۔عیسیٰ مسیح کے نام میں۔آمین۔

نائیلہ: خُداوند میں بہت خوش ہوں تُو نے ہمیں برکت دی ہے۔ میں اپنے دِل سے تیرا شکر کرتی ہوں۔ کیونکہ تُو نے میرے بھائیوں کے ساتھ مُجھے اپنی کلیسیائ میں مِلایا ۔ اور ہم ایک نئی کلیسیائ کی پیدائش کی خوشی منا رہے ہیں۔عیسیٰ مسیح کے نام میں۔آمین۔

شمیم: اے خُداوندہم تیرا شکر کرتے ہیں اور تیری عبادت کرتے ہیں۔ فقط تُو ہی ہے جِس نے ہمیں یہاں جمع کیا ہے۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔آمین۔

ندیم: آمین۔ آج ہمارا بڑا جشن ہے۔

ناصر: ابو آ پ ٹھیک کہتے ہیں۔

نگہت: میں بہت متاثر ہوں ۔ میں آپ میں سے ہر ایک سے مِلنے آئی ہوں۔ آپ میرا خاندان بن گئے ہیں۔

اکبر: نگہت۔ آپ درست کہتی ہیں۔ جِس طرح ہم نے اکٹھے سیکھا ہے کہ ہم ایک بدن ہیں اور مسیح ہمارا سر ہے۔

ندیم: بہر کیف۔ جیسا آپ نے کہا ہے، ہم ایک بڑا خاندان رہیں گے لیکن ہم تعداد کے بڑھنے سے مزید مختلف خاندانوں کی صورت میں بڑھتے چلے جائیں۔

عادل: ندیم بھائی، یہی کُچھ ہمارے ساتھ ہوا۔ خاندان بڑا ہو گیاہے ۔یہی وجہ ہے کہ دو چھوٹے چھوٹے خاندان بن جائیں گے۔

نائیلہ: ندیم بھائی۔ میں کچھ کہنا چاہتی ہوں؟

ندیم: جی نائیلہ بہن۔

نائیلہ: کیا ہم ایک دوسرے سے مِلیں گے نہیں؟

ندیم: بیشک۔ نائیلہ، یہ یقینی طور پر ہو گا۔

شمیم: میں اُس دِن کا بھی خواب دیکھ رہی ہوں جب ہماری شادی کے بعد ہمارے گھر میں ایک کلیسیائ ہو گی۔ عادل، کیا یہ ٹھیک ہے۔

سبق نمبر51 صفحہ نمبر2

عادل: بیشک شمیم۔میرے اور تمہارے دِلوں میں یہ خواب بڑھتا رہا ہے۔ خاص طور پر کہ ہماری شادی میں صرف تین ہفتے رہ گئے ہیں۔

نگہت: بہرحال شمیم۔ تمہاری شادی کے انتظامات کیسے جا رہے ہیں؟

شمیم: نگہت، بالکل ٹھیک جا رہے ہیں۔ لیکن ہمیں آپ لوگوں کی دُعائوںکی ضرورت ہے۔

ندیم: شمیم، آج عبادت کے بعد ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں بتائو کہ شادی کی تیاری کیسی جارہی ہے ۔ لیکن اب آئیں ہم بائبل مقدس سے کُچھ سیکھیں۔

زیدی: ندیم بھائی۔ آج ہم کِس بات پر سوچ بچار کریں گے۔

ندیم: زیدی بھائی! میں چاہوںگا کہ ہم حضرت پطرس رسول کی کہانی پر غور کریں۔ جب وہ جیل میں تھے۔ آئیںاعمال کی کتاب کے بارھویں باب کی چوتھی سے سہولویں آیت تک باری باری پڑھیں۔ زیدی بھائی، ہم آ پ سے شروع کریں گے۔

زیدی: اور اُسکو پکڑ کر قید کیا اور نگہبانی کیلئے چار چار سپاہیوں کے چار پہروں میں رکھا اِس ارادہ سے کہ فسح کے بعد اُسکو لوگوں کے سامنے پیش کرے۔

فوزیہ: پس قید خانہ میں تو پطرس کی نگہبانی ہو رہی تھی مگر کلیسیا اُسکے لئے بدل وجان خدا سے دعا کر رہی تھی۔

ناصر: اور جب ہیرودیس اُس پیش کرنے کو تھا تو اُسی رات پطرس دوزنجیروں سے بندھا ہوا دو سپاہیوں کے درمیان سوتا تھا اور پہرے والے دروازہ پر قید خانہ کی نگہبانی کر رہے تھے۔

شمیم: کہ دیکھو خداوند کا ایک فرشتہ آکھڑا ہوا اور اُس کو ٹھٹری میں نور چمک گیا اور اُس نے پطرس کی پسلی پر ہاتھ مار کر اُسے جگایا اور کہا کہ جلد اُٹھ!اور زنجیریں اُسکے ہاتھوں میں سے کھل پڑیں۔

عادل: پھر فرشتہ نے اُس سے کہاکمرباندھ اور اپنی جوتی پہن لے۔اُس نے ایسا ہی کیا۔پھر اُس نے اُس سے کہا اپنا چوغہ پہن کر میرے پیچھے ہولے۔

پروین: وہ نکل کر اُسکے پیچھے ہو لیا اور یہ نہ جانا کہ جو کچھ فرشتہ کی طرف سے ہورہا ہے وہ واقعی ہے بلکہ یہ سمجھا کہ رویا دیکھ رہا ہوں۔

اکبر: پس وہ پہلے اور دوسرے حلقہ میں سے نکل کر اُس لوہے کے پھاٹک پر پہنچے جو شہر کی طرف ہے۔وہ آپ ہی اُن کے لئے کھل گیا۔پس وہ نکل کر کوچہ کے اُس میرے تک گئے اور فوراً فرشتہ اُسکے پاس سے چلا گیا۔

نائیلہ: اور پطرس نے ہوش میں آکر کہا کہ اب میں نے سچ جان لیا کہ خداوند نے اپنا فرشتہ بھیج کر مجھے ہیرودیس کے ہاتھ سے چھڑالیا اور یہودی قوم کی ساری اُمید توڑ دی۔

ندیم: اور اِس پر غور کر کے اُس یوحنا کی ماں مریم کے گھر آیا جو مرقس کہلاتا ہے۔وہاں بہت سے آدمی جمع ہو کر دعا کر رہے تھے ۔

سبق نمبر51 صفحہ نمبر3

نگہت: جب اُس نے پھاٹک کی کھڑکی کھٹکھٹائی تو ردی نام ایک لونڈی آواز سننے آئی۔

زیدی: اور پطرس کی آواز پہچان کر خوشی کے مارے پھاٹک نہ کھولا بلکہ دوڑ کر اندر خبر کی کہ پطرس پھاٹک پر کھڑا ہے ۔

فوزیہ: اُنہوں نے اُس سے کہا تُو دیوانی ہے لیکن وہ یقین سے کہتی رہی کہ یونہی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اُسکا فرشتہ ہوگا۔

ناصر: مگر پطرس کھٹکھٹاتا رہا۔ پس اُنہوں نے کھڑکی کھولی اور اُس کو دیکھ کر حیران ہوگئے۔

ندیم: آمین۔ آپ اِس موضوع کو" کھلے دروازے "کہہ سکتے ہیں۔ اور ہم سب اکٹھے اِس پر سوچ بچار کریں گے۔

ندیم: لیکن بائبل مقدس چوتھی آیت میں کہتی ہے کہ حضرت پطرس رسول پر چار چار سپاہیوں کا پہرہ رہتا تھا ۔ ذہنی طور پر یہ اُس کے لئے مشکل تھا کہ ایک مجرم کے طور پر اُس کے ساتھ سلوک کیا جائے۔

اکبر: ندیم انکل، چھٹی آیت بھی بتاتی ہے ، حضرت پطرس دو سپاہیوں کے درمیان سو رہا تھا اور دو زنجیروں سے بندھا تھا ۔ کہ حقیقی طور پر اُس کے ساتھ ایک مجرم جیسا سلوک کیا گیاکتابِ مقدس بائبل بتاتی ہے کہ وہ سو رہے تھے۔

نگہت: یہ بہت عجیب بات ہے ، حضرت پطرس کِس طرح اِس امکان کے ساتھ سو سکتے تھے کہ اگلے دِن اُن کا سر قلم کر دیا جائے گا۔

عادل: نگہت، غالباََ اُن کا ایمان تھا کہ وہ نہیں مریں گے اور خداوند اُنہیں بچائے گا۔

شمیم: عادل، جو آپ کہہ رہے ہیں شاید صحیح ہو۔ لیکن اگر ایسا ہو تو حضرت پطرس کے ذہن میں یہ بات نہ تھی کہ فرشہ جو آیا اورجس نے اُنہیں باہر نکالا۔

ناصر: انکل عادل، میں آنٹی شمیم کے ساتھ ہوں۔ یہ صرف حضرت پطرس نہ تھے جو ایمان نہ رکھتے تھے کہ خُدا اُنہیں بچائے گا بلکہ کلیسیائ بھی یہ ایمان نہ رکھتی تھی۔ جب حضرت پطرس قید خانہ سے باہر آئے اور اُن کے پاس گئے۔ تو اُنہو ں نے نوکر لڑکی کا یقین نہ کیا جب اُس نے کہا کہ دروازے پر حضرت پطرس کھڑے تھے۔

فوزیہ: یہ بہت عجیب بات ہے ناصر۔ یہ عجیب بات ہے کہ وہ ایمان نہ رکھتے تھے باوجود یہ کہ پانچویں آیت کہتی ہے، لیکن کلیسیائ دِل سے اُس کے لئے خُداوند سے دُعا کر رہی تھی۔

نائیلہ: آپکا مطلب ہے کہ حضرت پطرس کا ایمان نہ تھا کہ خُدا اُنہیں بچائے گا۔ اور کلیسیائ بھی ایمان نہ رکھتی تھی ۔ یہ عجیب بات ہے لیکن حضرت پطرس کو کس بات نے سُلا دیا۔ اگرچہ اُس کا ایمان نہ تھا کہ خُدا اُسے بچائے گا۔ وہ فکرمند کیوں نہ تھے؟

پروین: میرا خیال ہے کہ حضرت پطرس اِس لئے سو رہے تھے کہ اُن کا ایمان تھا ۔ یہ ایمان نہیں کہ وہ اُسے بچائے گا۔ لیکن یہ ایمان کہ جب وہ مر جائیںگے وہ آسمان پر جائیں گے۔ اور خداوند عیسیٰ مسیح سے مِلیں گے۔ وہ یقیناََ اُن سے مِلنے کو بیتاب تھے۔ اِ س سب کُچھ

نے اُن کو سونے پر مجبو ر کیا۔

سبق نمبر51 صفحہ نمبر4

زیدی: پروین بہن، آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ لیکن میں یہ بھی اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت پطرس کا دِل بہت زبردست ایمان اور امن سے بھرا تھا۔ اور یہ بات تھی جِس نے حضرت پطرس کو مجبو ر کیا کہ اُسے جگانے کے لئے اُس کی پسلی پرمارے۔ جِس طرح آیت کہتی ہے، اُس نے اُس کی پسلی پر مارا۔

ندیم: آئیں اکٹھے اُن چیزوں کو دوبارہ دیکھیں جو اُن کے ساتھ واقع ہوئیں۔ ہم میں سے ہر ایک ، ایک بات کا ذِکر کر سکتا ہے۔

فوزیہ: ندیم بھائی، کیا میں شروع کر سکتی ہوں۔

ندیم: فوزیہ، جی ضرور ۔

فوزیہ: پہلی چیز جو وقوع میں آئی جِسطرح آیت میں لِکھا ہے اُنکی کلائیوں سے زنجیریں گِر پڑیں۔ باوجودیہ کہ وہ ابھی خیال کرتے تھے کہ یہ خواب ہے اور حقیقت نہیں ہے ۔

ندیم: فوزیہ، بالکل ٹھیک ہے۔ حقیقی طور پر جب کِسی وقت خدا ہمیںزنجیروں سے آزاد کرتا ہے توہم خیال کرتے ہیں کہ یہ ہمارا تصور ہے یاپھر ہم خواب دیکھ رہے ہیں۔ اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم ا بھی تک زنجیروں سے بندھے ہیںاگرچہ خُدا نے حقیقت میں ہمیں آزاد کر دیا ہے۔

زیدی: ندیم بھائی میں کچھ کہنا چاہتا ہوں؟

ندیم: جی زیدی بھائی۔

زیدی: فرشتے نے حضرت پطرس کو بتایا اپنے کپڑے اور جوتے پہن لے ۔ یہاں کپڑوں سے مراد طاقت ہے ، جوتے پہننے سے مراد خِدمت کے لئے تیاری ہے۔ جِس طرح بائبل مقدس بتاتی ہے اور تیاری کے جوتے پہن کر ۔ تیار ی صلح کی خوشخبری سے مِلتی ہے۔ اِ س کا مطلب ہے اُنہوں نے خِدمت اور بشارت دینے کی قوت لے لی۔ اس کے باوجود وہ ابھی بھی سوچ رہے تھے کہ وہ خواب دیکھ رہے ہیں ۔

ندیم: بالکل یہی ہمارے ساتھ ہوتا ہے زیدی بھائی۔ خُدا نے ہمیںخوشخبری سُنانے کی خِدمت کے لئے قوت دی اور اِسی بات کا آج ہم تجربہ کر رہے ہیں۔ خُداوند سے برکت پا کر اور دو کلیسیائیںبن کر۔ لیکن بعض اوقات شیطان اِ س خیال سے حملہ کرتا ہے کہ ہم خواب میں رہ رہے ہیں۔ اور یہ حقیقت میں نہیں۔

نگہت: ندیم بھائی، کیا میں کُچھ کہہ سکتی ہوں۔

ندیم: جی نگہت ضرور کہئے۔

سبق نمبر51 صفحہ نمبر5

نگہت: اِس کے بعد کی آیت کہتی ہے کہ فرشتے نے حضرت پطرس کو بتایا ، اپنا چوغہ پہن اور میرے پیچھے چل۔ فرشتے نے اُنہیں بتایا اورحضرت پطرس قید خانہ سے نکل کر اُن کے پیچھے چل پڑے۔ لیکن اُنہیں پتہ نہ تھا کہ جو فرشتہ کر رہا تھا حقیقت میں ایسا ہو رہا تھا ۔ اُنہوں نے خیال کیا ہوگا وہ خواب دیکھ رہے تھے۔

ناصر: ابو ۔ کیا میں کچھ اضافہ کر سکتا ہوں۔

ندیم: ناصر ، ضرور کہئے۔

ناصر: حضرت پطرس نہ صرف فرشتے کے پیچھے ہو لیے بلکہ بائبل مقدس کہتی ہے کہ وہ اور فرشتہ دو پہروں سے نکل گئے۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ پہلے گارڈ کے پاس سے گزرے۔ اور کِسی نے اُنہیں نہ روکا۔ اور اسی طرح دوسرے گارڈکے پاس سے بھی گزر گئے ۔ یہ سب کُچھ اُن کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اوروہ خیال کر رہے تھے کہ یہ سب کچھ خواب ہے۔ بہت مرتبہ معجزات کے ذریعے ایک بار یا دوسری بار خُدا ہمارے لئے راہیں کھولتا ہے۔ لیکن ہم سوچتے رہتے ہیں کہ ہم خواب کی حالت میں ہیں ۔

ندیم: ناصر۔ بالکل صحیح۔میں بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اُن کے لوہے کے پھاٹک کے پاس پہنچنے کے بعد جو شہر کو جاتا تھا اور جِسطرح بائبل

مقدس بیان کرتی ہے ،کہ وہ خود ہی اُن کے لئے کھل گیا۔ اور وہ اُس میں سے گزر گئے۔ اور جب وہ ایک گلی پار کر چُکے فرشتہ اُن سے جُدا ہو گیا۔ اِس جگہ حضرت پطرس رسول کو ہوش آیا اور کہا،اب میں جان گیا ہوں کہ خُداوند نے اپنا فرشتہ بھیجا اور مُجھے ہیرودیس کے چنگل سے چھڑا لیا۔

شمیم: ندیم، خُدا کی تعریف ہو۔ ہمارا خُدا ناممکن باتوں کا خُدا ہے۔ لوہے کا پھاٹک خود ہی کھل گیا ۔خُداوند کے لئے کُچھ مشکل نہیں۔ بہت مرتبہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم قید خانے میں ہیں اور نکل نہیں سکتے۔گو ہم عیسیٰ مسیح کی خِدمت کرتے ہیں ۔ پھر بھی ہم سوچتے ہیں کہ ہمارے حالات ایسے ہیں جو ہمیں بشارت دینے سے روکتے ہیں لیکن خُدا ہمارے لئے دروازے کھولتا ہے۔

ندیم: شمیم، آپ درست کہتی ہیں۔ خُداوند عیسیٰ مسیح نے ہمارے لئے سب دروازے کھول دئیے ہیں۔ اُس نے کہا ، فصل پک گئی ہے لیکن مزدور تھوڑ ے ہیں ۔ جیسے کلیسیائ جو آپ کے گھر میں اگلے ہفتے فراہم ہو گی وہ فصل کثرت کی ہے۔ اور خُداوند آپ کو برکت دے گا۔

زیدی: ندیم بھائی، کیا میں کُچھ کہہ سکتا ہوں۔

ندیم: زیدی بھائی، مہربانی فرما کر کہئے۔

زیدی: کلیسیائ جو حضرت پطرس کے لئے دُعا کر رہی تھی ۔ وہ خیال کرتی تھی کہ دروازوں کو تالے لگے ہوئے تھے اور حضرت پطرس قید خانہ سے باہر نہیں نکل سکے گے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوںنے خادمہ لڑکی کا یقین نہ کیا جب اُس نے اُنہیںبتایا کہ حضرت پطرس رسول سبق نمبر51 صفحہ نمبر6

دروازے پر دستک دے رہے تھے۔ بعض اوقات یہ بات ہمارے ساتھ بھی ہوتی ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ حالات ہمارے خلاف ہیں۔ اِس لئے ہم اپنے سامنے اپنی خِدمت کو حالات کے مطابق محدود کر دیتے ہیں۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ سب دروازے کھلے ہیں کیونکہ یہ خود خُداوندعیسیٰ مسیح ہے جو انہیںکھولتا ہے۔

ندیم: زیدی، یہ درست ہے ۔ تما م دروازے کھلے ہیں۔ خُداوند ہمارے سامنے بشارت کے دروازے کھو ل رہا ہے اگرچہ ہماری آنکھیں اُنہیں نہیں دیکھتی ہیں۔

نائیلہ: ندیم بھائی، کیا اب ہم دُعا کر سکتے ہیں۔ اور آنے والے دِنوں کے لئے خُدا سے نئی قوت بشارت دینے اور گواہی دینے کے لئے مانگ سکتے ہیں۔

ندیم: آمین۔ آئیں ہم باری باری دعا کریں۔

اکبر: میں اپنے پورے دِ ل سے خُداوند عیسیٰ مسیح آپ کا شکر کرتا ہوںکیونکہآپ نے یہاں کلیسیائ میں مُجھے اجازت دی کہ اپنے بھائیوں کو جانوں۔ مجھے اپنی طاقت سے بھر دے تاکہ ضرورت مندوں کے سامنے آپ کے نام کی گواہی دوں۔

فوزیہ: خداوندمیں بھی اپنے سارے دِل سے تیرا شکر کرتی ہوں کہ توُ نے اِ س کلیسیائ میںمیرے بہن بھائیوں کو جاننے کی مُجھے اجازت دی اگرچہ میںایک دوسرے ملک سے ہوں ۔ توبھی میں محسوس کرتی ہوں کہ میں ایک خاندان میں ہوں اور وہ خاندان عیسیٰ مسیح کا خاندان ہے۔ خُداوند میں چاہتی ہوں کہ وہ خوشی جِس نے مجھے معمور کیا ہے ۔ میرے پڑوسیوں ، میر ے دوستوں اور خاص طور پر میر ے خاوند کو بھی اُس خوشی سے بھر دے۔اور خُداوند مجھے ہر ایک کے سامنے گواہی دینے کی قوت دے۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔آمین۔

عادل: خداوند، میں دُعا کرتا ہوں کہ مُجھے اور شمیم کوبرکت دے کہ ہمارا نیا گھر ایک کلیسیائ بن جائے ۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔ آمین۔

ندیم: خداوند، میں اپنے لئے ،پروین کے لئے ، ناصر کے لئے اور یہاں موجود ہر شخص کے لئے دُعا کرتا ہوں ۔ خُداوند ہمیں برکت دے اور ہمیں نئی قوت سے بھر دے۔ ہماری آنکھیں کھلے دروازوں پر کھول دے جو ہمارے سامنے ہیں کہ اپنے اردگرد کے لوگوں کے سامنے گواہی دیں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔ آمین۔

تمام: آمین۔

ندیم: کیا اِس کے علاوہ کوئی او رکُچھ کہنا چاہتا ہے ۔

نگہت: ندیم بھائی، میں سوچ رہی تھی کہ آپ اور پروین کے ساتھ اِس کلیسیائ میں کون رہے گا۔ اور کون نئی کلیسیائ میںزیدی بھائی اور نائیلہ کے ساتھ جائے گا۔

سبق نمبر51 صفحہ نمبر7

ندیم: ہمارا خیال تھا کہ یہاں کی کلیسیائ میں ،میں، پروین اور ناصر۔ اکبر اور نگہت کے ساتھ شامل ہوںگے۔ اور یہ اِس لئے کہ نگہت ہمارے قریب رہتی ہے اور اکبر کا لج سے تمہارا پرانا دوست ہے۔ نگہت تمہاری امی کے ساتھ کام کرتی ہے اور اِس

سے یہ آسانی ہو گی کہ سب آسانی سے اکٹھے مل سکیںگے۔ زیدی بھائی، کیا آپ اُس کلیسیائ کے بارے میںبات کریں گے جو آپ کے گھر میں ہو گی۔

زیدی: بیشک۔ باقی ہمارے ساتھ ہونگے۔ یعنی میں اورنائیلہ، عادل اور شمیم کے ساتھ تاکہ عیسیٰ مسیح کے نام میںجب ہماری تعداد بڑھے گی ، میرے گھر میں ایک کلیسیائ ہو گی۔ اور ایک کلیسیائ اُن کے گھر میں ہو گی۔ اُن کا نیا گھر ہمارے قریب ہی ہے۔ مسز فوزیہ بھی ہمارے پاس ہونگی کیونکہ وہ اُسی عمارت میںرہتی ہیں ۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

شمیم: یہ تقسیم عمدہ ہے۔ ندیم بھائی، اگرچہ ہم آپ اور پروین باجی کی بہت کمی محسوس کریں گے۔

عادل: ندیم بھائی، حقیقتاََ یہ تقسیم بہت عمدہ ہے۔

نگہت: لیکن کیا ہم ہمیشہ کی طرح اکٹھے نہیں چلتے رہ سکتے ۔

پروین: بیشک نگہت۔ ہم رہ سکتے ہیں لیکن اب خُدا ہم سے کھلے دروازوں کے بارے میں کلام کر رہا تھا ۔ اِس کا مطلب ہے کہ خُدا ہمیں دوسرے لوگوں کے ساتھ استعمال کرے گا۔اور ہمیں اُن کیلئے جگہ بنانی ہے۔

فوزیہ: بالکل۔ پروین بہن۔ ہمیں دوسروں کے لئے جگہ بنانی چاہیے۔ حقیقت میںمیں چاہتی ہوں کہ میرا خاوند جمیل ہمارے ساتھ شامل ہو۔ اُس خوشی اور اطمینان کو حاصل کرنے کے لئے جو ہمیں عیسیٰ مسیح میں حاصل ہے۔

ندیم: آمین۔ فوزیہ بہن ۔ آئیں ہم فوزیہ بہن کے خاوندجمیل کے لئے دُعاکریں۔ نائیلہ ! آپ دُعاکریں۔

نائیلہ: خداوند عیسیٰ مسیح۔ تھکے ہوئے کو آرام دینے والے آپ ہی اکیلے ہیں جو جمیل بھائی کے تمام حالات کو جانتے ہیں۔ آپ اکیلے ہی اپنے لئے اُن کی ضرورت کو جانتے ہیں آج میں کلیسیائ میں اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ دُعا کر رہی ہوں کہ آپ کو جاننے کے لئے آپ اُنہیںبھوکا اور پیاسا بنائیں۔ خُداوند ، مُجھے بھروسہ ہے کہ آپ نے اِس دُعا کو سُنا ہے ۔اور کہ آپ اِس کا جواب دیں گے۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔ آمین۔

ندیم: آمین۔ اب آئیے آج زیدی ، نائیلہ ، عادل ، شمیم کی نئی کلیسیائ کے لئے دُعا کریں۔

پروین: خُداوند۔ہم اِس نئی کلیسیائ کی پیدائش کے لئے خوش ہیں۔ ایخداوند، میں تیری منت کرتی ہوں کہ اپنے ِ پاک روح سے انہیں بھر دے۔ خُداوند، میں تیری منت کرتی ہوں ساری راہ میںاِن کی رہنمائی کر۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔آمین

ناصر: اے خُداوند، میںمنت کرتا ہوں اِنہیں شیطان کی سلطنت پر فتح دے۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔آمین

سبق نمبر51 صفحہ نمبر8

نگہت: اے خداوند، وہاِس کام سے خوش ہوں اور اُنہیں پھلادار بنا۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔آمین۔

ندیم: آمین۔ زیدی بھائی، کیا آپ بھی ہماری کلیسیائ کے لئے دُعا کریں گے۔ یعنی میرے لئے، پروین، ناصر،نگہت اور اکبر کے لئے۔آپ دُعا کریں گے کہ خُدا ہمیں برکت دے۔

زیدی: آمین۔ اب ہم آپ کیلئے دُعا کریں گے۔

عادل: خُداوند عیسیٰ مسیح، بادشاہوں کے بادشاہ اورزمین کے خُداوند۔ آپ جو کلیسیائ کا سر ہیں۔ میں منت کرتا ہوں کہ ندیم بھائی کے گھر کی کلیسیائ کو برکت دے ۔ ندیم بھائی کوبرکت دے ، پروین بہن کو برکت دے ، اکبر کو برکت دے، نگہت کو برکت عطا فرما۔ ہر ایک کو خُداوند جِن کے نام میں نے لئے ہیں تیرے سامنے ، برکت دے۔عیسیی مسیح کے نام۔آمین

شمیم: ہمارے زندہ خدا۔ تُو ہے جِس نے کلیسیائ کے بارے میں کہا، دوزخ کے دروازے کبھی تیرے خلاف غالب نہ آئیںگے۔ اپنی اِس کلیسیائ کو برکت دے۔ وہ شیطان پر فتح پائیں۔ اور تیرے پیغام کی بشارت دیں جو افسردہ دِلوں کے لئے خوشی کا پیغام ہے ۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں ۔ آمین۔

زیدی: آمین۔

ندیم: خُدا نے چاہا تواگلے ہفتے اِسی وقت ہمارے گھر میں عبادت ہوگی۔ زیدی بھائی آپ کی کلیسیائ میں عبادت کِس وقت ہوگی؟

زیدی: میرا خیا ل ہے کہ اچھا ہو گا اگر ہماری عبادت بھی اِسی وقت ہو ۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

فوزیہ: میرا خیال ہے یہ بہت مفید ہے۔

عادل: شمیم اور میرے لئے بھی یہ مفید ہو گا۔

ندیم: اِ س کا مطلب ہے کہ دونوں کلیسیائیں ایک وقت پر عبادت کریںگی۔ ایک ہمارے گھر میں اور دوسری زیدی بھائی کے گھر میں۔ ہمارے جانے سے پہلے آئیے اِس نئی کلیسیائ کی خوشی میںاکٹھے کھانا کھائیں۔ آمین۔