Hear Fellowship With My Family Episode 52 (Audio MP3)

View FWMF episode 52 as a PDF file

سبق نمبر52 صفحہ نمبر1

"دو کلیسیائیں"

ناصر: امی ، آپ کا کھانا بہت مزیدا ر ہے۔

پروین: ناصر، واقعی

نگہت: عیسیٰ مسیح کے خاندان کا ایک حصہ ہونا سچ مچ بڑی عظیم بات ہے۔

پروین: خاص طور پر اِس لئے کہ ہم یہاں ایک حقیقی خاندان کی طرح بیٹھے اور اکٹھے کھانا کھا رہے ہیں۔

ناصر: اور بہترین حصہ تو یہ ہے کہ عیسیٰ مسیح ہمارے خاندان کا سربراہ ہے جو ہمیں اپنے اردگرد جمع کرتا ہے۔

اکبر: اگرچہ ہم مختلف لوگ ہیں ۔ ہر ایک ایک مختلف جگہ سے آ رہا ہے ۔ خُداوند ہمیں اکٹھا کرتا ہے اور ہمیں اپنا خاندان بناتا ہے۔

ندیم: جس طرح خاندان کا سربراہ اپنے خاندان کے درمیان آرام محسوس کرتا ہے خُداوند یسوع بھی اپنے خاندان میں آرام محسوس کرتا ہے جو کہ کلیسیائ ہے۔

نگہت: سچ مچ پروین بہن۔ آپ کا کھانا بہت عمدہ ہے۔

پروین: آپ کا بیان ہمیں نائیلہ کی یاد دِلاتا ہے۔ جب کبھی وہ میرا بنایا ہوا کھانا کھاتی، وہ کھانے کو بہت پسند کرتی تھی۔

نگہت: اِس کا مطلب ہے کہ وہ نہیں آئیں گے ۔

ندیم: نہیںہم وقتاََ فوقتاََ ایک دوسرے سے مِلیںگے ۔

ناصر: بہرحال۔ ہمیں کوشش کر کے اور لوگوں کو لانا اور بڑھنا ہے۔

ندیم: کیا تمہارا خیال ہے کہ جب ہم دس ممبر ہو جائیں گے توکہانی ختم ہو جائے گی۔نہیں یہ تو ہماری خِدمت کا صرف ا ٓغاز ہے۔

اکبر: انکل ندیم، آپ درست کہتے ہیں۔ بہرحال جب میں نے پہلی بار سُنا ہے کہ ہم دو کلیسیائیں بن جائیں گے ،البتہ میں نے اپنے کُچھ دوستوں کے نام چُنے ان دِنوں میں اُن سے مِلنے کے لئے۔

نگہت: میں بھی آپ کو بتانا چاہتی ہوںکہ کلیسیائ میںہماری دُعائوںکا نتیجہ ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے۔

شمیم: نگہت، وہ کیسے ہے؟

نگہت: ہم نے اپنے گھر کے لئے دُعا کی ہے کہ خُداوند اُس میں داخل ہو۔ ادرحقیقت چند دِن پہلے امی نے کلیسیائ کے بارے مُجھ سے پوچھنا شروع کیا۔ اور وہاں ہم کیا کرتے ہیں ۔ میں نے اُنہیں اس کے بارے میں بتایا اور اُن سے خُدا کی محبت کے بارے میں بات کی جو ہمیں اپنے گرد جمع کرتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ میں نے اُنہیں اُن کے لئے خُداوند عیسیٰ مسیح کی محبت کے بارے میں بتایا۔

پروین: اُن کا ردِ عمل کیا تھا؟

سبق نمبر52 صفحہ نمبر2

نگہت: وہ بہت خوش تھیں۔ اُنہوں نے مُجھے کہا کہ وہ خُداوند عیسیٰ مسیح کے بارے میں زیادہ جاننا چاہتی تھیں۔

تمام: نہایت عمدہ بات ہے۔ خُدا کی تعریف ہو۔

پروین: ٹھیک ہے نگہت، ہم جانے کے لئے مناسب وقت اکٹھے ترتیب دیںگے۔

نگہت: ٹھیک ہے۔

ناصر: کلب میں جو آپ کا دوست ہے اُس کے بارے میں کیا خبر ہے؟ جِس کے ساتھ آپ نے گفتگو کرنا شروع کی ہے۔

نگہت: بہت ہی بڑی خبر۔ اِ س ہفتے میںگھر میں اُس کے ساتھ بیٹھی تھی اور ہم نے اکٹھے دُعا کی۔ اور اُس نے خُداوند عیسیٰ مسیح سے منت کی کہ اُس کی زندگی میں آئے۔

ندیم: نگہت، بہت خوب۔ خُداآپ کو برکت دے۔ کیاکِسی اور کے پاس اچھی خبر ہے؟

پروین: خداوند کا شکر ہو کہ شروع ہی سے ہمار ے پاس ایک مضبوط کلیسیائ ہے۔

ندیم: یہ ظاہر ہے کہ آنے والے دِنوں میں ہم بہت سی کلیسیائیں بن جائیں گے۔

نگہت: میں بہت خوش ہوں۔

پروین: میں بھی۔ خُداوند تیرا شکر ہے۔

تمام: آمین۔

ندیم: آئیں اپنے خُداوند کے نام کی تعریف کرتے ہوئے اپنی عبادت شروع کریں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم خُدا کا اُن ساری چیزوں کے لئے جو گزرے وقت میں اُس نے ہمارے لئے کیں شکرگزاری کریں۔﴿موسیقی﴾

زیدی: خداوند ہم اپنی کلیسائ کیلئے تیری شکر گذاری کرتے ہیں کہ تُو نے اُسے بڑھایا۔اور اب جبکہ اِس کلیسائ سے دوسری کلیسائ قائم ہو رہی ہے تو ہم تیرا فضل دونوں کلیسائوں پر مانگتے ہیں۔خُداوند ہم تیرا شکر کرتے ہیں۔ اُس کلیسیائ کیلئے جو اب ندیم بھائی اور پروین بہن کے گھر میں فراہم ہوئی برکت دے ۔عیسیٰ مسیح کے نام میں۔ آمین۔

زیدی: خُداوند خُدا عظیم ہے۔ میںبہت خوش ہوں آج ہم اپنی نئی کلیسیائ شروع کر رہے ہیں۔

شمیم: ہماری تعداد تھوڑی ہے اور ہم اپنی تعداد بڑھانے کاکام شروع کریں گے۔

زیدی: یہ سچ ہے۔ ہم آنے والے وقت میں لوگوں کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں ۔ جو ہمارے اردگرد ہیں۔ اور خُداوند عیسیٰ مسیح کے بارے میںاُن سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ او رچاہتے ہیں کہ وہ کلیسیائ میں ہمارے ساتھ شا مل ہوں۔

فوزیہ: میںمحسوس کرتی ہوں یہ بڑی عزت کی بات ہے کہ اب میں آپ کے ساتھ ہوں۔

سبق نمبر52 صفحہ نمبر3

زیدی: ہم سب کے لئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ خداوند ہمیں اکٹھا کر رہا ہے اور ہمیں ایک کلیسیائ بنا رہا ہے۔ آپ کے خیال میں وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔

شمیم: زمین پر اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لئے۔

فوزیہ: زمین پر اپنا مقصد؟ کیا اِس جگہ کلیسیائ کا اکٹھا ہونے سے خُدا کا مقصد حاصل ہوتا ہے؟

زیدی: فوزیہ بہن۔ بیشک۔ خُداوند عیسیٰ مسیح زمین پر اپنی کلیسیائ کو بڑھانا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بہت سے لوگ اُس کی بادشاہت میں شامل ہوں۔ وہ اُن پر حکومت کریگا۔اور زمین پر کی کلیسیائ اِس مقصد کو پا لے گی۔ کلیسیائ کے اہم ترین مقاصد میں سے جو زمین پر ہیں۔ ایک مقصدلوگوں کو خداوند عیسیٰ مسیح سے متعارف کرنا اور اُن سے اُس کے بارے میںبات کرنا ہے۔تاکہ اس زمین خداوند کی حکمرانی بڑھے اور پھیلے ۔

فوزیہ: بہت عمدہ۔ پہلی بار مُجھے اِس بات کا پتہ چلاہے۔

زیدی: یہ ہمارے لئے عزت کی بات ہے کہ خُداوند اپنی بادشاہت پھیلانے کے لئے ہمیں استعمال کر رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ایک دوسرے سے متحد ہوں اور ایک جسم کی طرح جئیں۔

عادل: زیدی بھائی، میں تصور میں لا رہا ہوں۔کھیل کے میدان میں ایک فٹبال ٹیم کو ۔ میچ جیتنے کیلئے ٹیم کے سب ممبران کو متحد ہونا چاہیے اورایک دوسرے کی مددکرنی چاہیے۔ اگر ہر کھلاڑی اکیلا کھیلے گا اور دوسروں کے ساتھ متحد نہ ہو گا وہ کبھی میچ نہ جیتیں گے۔

زیدی: عادل۔ بالکل ٹھیک ۔بہرحال، خُدا ہمیں ایک بدن کی طرح دیکھنا چاہتا ہے جو سچ مچ باہم متحد ہوں۔ کیونکہ اتحاد میںبڑی قوت ہوتی ہے۔ یہ خداوند عیسیٰ مسیح کے الفاظ تھے جب اُس نے خُدا باپ سے منت کی ، یوحنا17 باب20تا22آیت کے مطابق ۔ فوزیہ بہن ، مہربانی کر کے آپ ہمارے پڑھیں۔

فوزیہ: میں صرف ان ہی کے لئے درخواست نہیں کرتا بلکہ اُن کے لئے بھی جو ان کے کلام کے وسیلے سے مُجھ پر ایمان لائیںگے۔ تاکہ وہ سب ایک ہوں یعنی جِس طرح اے باپ، تو مُجھ میں ہے اور میں تجھ میںہوں ۔ وہ بھی ہم میںہوں ۔ اور دنیا ایمان لائے کہ تُو ہی نے مُجھے بھیجا اور وہ جلال جو تُو نے مُجھے دیا ہے۔ میں نے اُنہیں دیا ہے تاکہ وہ ایک ہوں۔ جیسے ہم ایک ہیں۔

زیدی: کیا آپ نے دیکھا، کہ کتنی بار یہ بات خُداوند عیسیٰ مسیح کے دِل پرتھی ،خُداوند خُدا سے کہنا کہ ہم ایک ہوں۔ اِسی لئے جب شاگردوں نے یہ الفاظ سمجھ لئے۔ بائبل اُن کے بارے میں اعمال کی کتاب میں کہتی ہے،" اور ہر روز ایک دِل ہو کر ہیکل میں جمع ہوا کرتے تھے"۔

عادل: پہلی کلیسیائ میں یہ سب سے بڑی اور اہم فائدے کی بات تھی ۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنا مقصد حاصل کر سکی۔ اور زمین پر خُداکی سبق نمبر52 صفحہ نمبر4

بادشاہت پھیلا سکی۔

فوزیہ: میں اِسے سمجھ سکتی ہوں۔ لیکن ہم ایک کیسے ہوتے ہیں؟

زیدی: ہمارے ایک ہونے کے لئے ہمیں خُداوند عیسیٰ مسیح کی طرف دیکھنا چاہیے ۔ ہماری نظریں اُس پر لگ جائیں۔ اگر ہم یہ کرسکیں توہم ایک ہو جائیں گے۔ کیو نکہ ہم سب ایک ہی سمت میں دیکھ رہے ہونگے۔

نائیلہ: مُجھے ایک خیال یاد ہے جو ندیم بھائی نے ہمیں دیا۔کہ اگر میں اپنے ہاتھ میں ایک قلم پکڑوں اور آپ سے اِسے دیکھنے کو کہوں۔ آپ سب اِسے دیکھیں گے ۔ اِس کا مطلب ہے ہمارے درمیان اتحاد ہوگا۔ کیو نکہ ہم سب ایک ہی چیز کو دیکھ رہے ہیں۔ ایک ہی سطح پر ہم ایک نہیں ہو سکتے جب تک ہم ایک ہی سمت میں نہ دیکھیں۔ یعنی عیسیٰ مسیح کی طرف۔

زیدی: نائیلہ، بالکل، کیونکہ عیسیٰ مسیح سر ہے جو ہماری رہنمائی کریں گے۔ کلیسیائ عیسیٰ مسیح کا بد ن ہے۔ جو زمین پر خُدا کے منصوبے عمل درآمد کریگا۔ یہی وجہ ہے ہماری آنکھوںکو ہمیشہ اُسے دیکھتے رہناچاہیے ۔

شمیم: لیکن زیدی بھائی، ہمارے ایک بد ن کی طرح رہنے کے لئے ہمارے درمیان بڑی محبت ہونی چاہیے۔ یہ محبت بہت مضبوط ہونی چاہیے اور شیطان کے سب چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتی ہو۔ اور فتح مند ہو سکے۔ شیطان اِ س سے نفرت کرتا ہے کہ ہم میں اتحاد ہو۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جِس دِن کلیسیائ میں اتحاد ہوگا ۔ یہ بڑی قوت بن جائیگی۔اور اِس پر غالب نہیں آ سکے گا۔

عادل: بالکل اُس آیت کی طرح جو کلیسیائ کے بارے میں ایک ہونے کی بات کرتی ہے،"دوزخ کے دروازے اِس کے خلاف غالب نہیں آئیں گے"۔

زیدی: یہ سچ ہے۔ اِسی وجہ سے شیطان اِس اتحاد کو برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے خیالوں میں تقسیم پیدا کر کے۔ تاکہ ہر کوئی اپنی رائے پر قائم رہے ۔ تا کہ ہم ایک دوسرے کو غصہ دِلائیں ۔ جب یہ سب کُچھ ہو گا ہم تفکرات سے مغلوب ہوناشروع ہوجائیں گے۔ اور یوں ناچاکی سے ہم اپنے نشان سے ہٹ جائیں گے۔ اور جھگڑوں میں گھر جائیں گے۔

نائیلہ: یہی وجہ ہے کہ حضرت پطرس رسول اپنے پہلے خط کے چوتھے باب کی آٹھویں آیت میں کہتے ہیں، "سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک دوسرے سے گہری محبت رکھو"۔ کیونکہ محبت بہت سے گناہوں پر پردہ ڈالتی ہے۔

فوزیہ: میرے دِل میںکتنی آرزو ہے کہ خُداوند ہم میں ایک دوسرے کے لئے محبت بڑھائے۔ تاکہ ہم متحد ہوں اور شیطان اور اُس کی چالوں کے خلاف کھڑے ہوں۔

زیدی: آمین۔ آئیں دُعا کریں۔ اور خُداوند سے کہیں کہ وہ ہمیں متحد کرے جب ہم اپنی نئی کلیسیائ شروع کرتے ہیں۔

نائیلہ: خُداوند، میں اپنے بھائیوں سے اتحاد کر رہی ہوں اور اُن کے لئے بڑی محبت کا اعلان کرتی ہوں۔ خُداوند ہمیں سکھا کہ ایک سبق نمبر52 صفحہ نمبر5

دوسرے سے بہت محبت کریں اور اُن سب چالوں کے خلاف جو شیطان ہم میں پیدا کرنا چاہتا ہے ہم متحد ہو جائیں۔

فوزیہ: خُداوند ، مہربانی کرکے آ اور اُس مقصد کو حاصل کر نے کے لئے جو تُو ہم سے چاہتا ہے حاصل کرنے کے لئے ہمیں متحد کر۔

تمام: اے خداوند تو آ۔اور جو تُو نے ہمیں یہاں اکتھا کیا ہے۔ہم اپنی زندگیاں تیرے ہاتھوں میں دیتے ہیں۔آمین۔

عادل: مُجھے بڑی خوشی محسوس ہوئی جب مُجھے پتہ چلا کہ زمین پر کلیسیائ کا مقصد خُدا کی بادشاہت کو وسعت دیناہے۔

زیدی: اِس لئے ضروری ہے کہ ہم آنے والے وقت میں لوگوں کی طرف آگے بڑھیں ، خُداوند عیسیٰ مسیح کے بارے میں اُن سے بات کریں اور اُس کی بادشاہت میں اُنہیں شامل کریں۔ پس آئیں اُن لوگوں سے گفتگو شروع کرنے کیلئے ناموں کی فہرست تیار کریں۔

شمیم: جہاں تک میرا تعلق ہے میرے پاس بہت سے نام ہیں۔ اور میں نے پہلے ہی اُن میں سے بعض کے ساتھ گفتگو شروع کر دی ہے۔

نائیلہ: میں نے بھی

عادل: میرے پاس بھی کُچھ نام ہیں اور میں نے کام شروع کر دیا تھا۔

فوزیہ: میں نے اپنے خاوند جمیل سے گفتگو کا آغاز کر دیا ہے۔

زیدی: کلیسیائ شروع ہی سے روحانی جوش میں ہے۔ خُدا کی حمد ہو۔ ٹھیک ہے۔ آئیں اُن لوگوں کے بارے میںگفتگو کریں جِن سے گفتگو کاآغاز ہو چُکا ہے۔

شمیم: خُداوندعیسیٰ مسیح کے بارے میںدو ہفتے قبل میںنے اپنی ایک دوست سے گفتگو شروع کی تھی ۔ جب میں نے اُس سے بات کی تو مُجھے پتہ چلا کہ اُس کے والدین میںلڑائی ہو گئی ۔ او ر اِس قدر بڑھ گئی کہ باپ نے ماں کو پیٹا۔

نائیلہ: میرے خدا! کیا یہ اُس کے سامنے ہوا۔

شمیم: ہاں، بدقسمتی سے۔ جب اُس نے مداخلت کی کوشش کی تو باپ نے اُسے بھی پیٹا۔اور غالباََ کوئی دِن نہیں گزرتا جب اُن کے درمیان لڑائی نہ ہو۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ اُن کی رائے معلوم کرتے ہیں ۔اگر وہ باپ کی طرف ہو تو اُس کی ماں اُسے پیٹتی ہے اور اگر وہ ماں کی سائیڈ لے تواُس کا باپ مارتا ہے۔

فوزیہ: اوہ۔ بیچاری۔

شمیم: سچ مچ وہ بیچاری ہے۔ جِس چیز نے حالات کو زیادہ خراب کیا وہ یہ تھی کہ اُس کی منگنی ہو گئی تھی ۔ اُس کے منگیتر نے اُن مسائل کے بارے میں سُنا جو اُس کے اور والدین کے درمیان تھے ۔ اُس نے اُس کو چھوڑ دیا اگرچہ وہ اُس سے بہت محبت کرتی تھی۔ اِ س سے

سبق نمبر52 صفحہ نمبر6

اُس نے ہر ایک پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا۔ وہ محسوس کرتی ہے کہ محبت نام کی دنیا میں کوئی چیز نہیں۔ اور ہر چیز پر طاقت کا راج ہے۔

زیدی: آپ کو اُس کے ساتھ خُداوند عیسیٰ مسیح کی محبت کے بارے میں بات کرنی چاہئے تھی۔

شمیم: میں نے حقیقتاََ ایسا ہی کیا تھا۔

نائیلہ: پھرنتیجہ کیا ہوا؟

شمیم: بیشک وہ قائل نہیں ہوئی تھی۔ وہ کہتی تھی چونکہ وہ اپنے والدین سے محبت نہیں دیکھ سکتی جِن سے اُس کے ساتھ سب سے زیادہ محبت کی توقع ہے۔ پس خُدا جو آسمان پر ہے اُسے کیسے پیار کر سکتا ہے۔ اور اگر وہ محبت کرتا ہے تو پھر اُس نے اِن حالات کو کیوں واقع ہونے دیا۔ اور اُس کے منگیتر نے اُسے کیوں چھوڑ دیا۔

زیدی: شمیم بہن ،میں دیکھ سکتا ہوں کہ اِس لڑکی کوکِسی ایسی لڑکی کی ضرورت ہے جو اُس سے محبت کرے۔ سوچوکہ آپ کِس طرح اپنی محبت اُسے دِکھا سکتی ہو۔ مثال کے طور پر اُس کے کام میں اُس کی مدد کرنا۔ اُسکے ساتھ اُس کے والدین کے لئے دُعا کرنا۔ اُس کی سالگرہ میں جاکر۔

شمیم: یہ ایک اچھا خیال ہے۔ اُس کی سالگرہ آج سے چار دِن بعد ہے۔

زیدی: یہ بڑی اچھی بات ہے۔ اُسے گھر سے کِسی عمدہ جگہ میں لے جائیں۔

نائیلہ: سچ مچ، شمیم۔ اِس لئے کہ یہ لڑکی خُداوند عیسیٰ مسیح کو جان جائے۔ جو کہ تمہارے الفاظ اور روپے سے ممکن ہوگا۔

فوزیہ: یہ سچ ہے۔ میں نے سچ مچ خُداوند عیسیٰ مسیح سے زیدی بھائی اور نائیلہ کے وسیلے پیا رکیا۔ میں نے ایک ہی وقت پر اُن میںغیر معمولی محبت محسوس کی جب میں ذہنی طور پر پریشان تھی۔ زیدی بھائی اور نائیلہ نے محبت کے ساتھ مُجھے گھیر لیا اور میرے لئے خُدا کی عظیم محبت جاننے میں میری مدد کی۔ اور خُداوند یسوع کے متعلق مُجھ سے گفتگو شروع کر دی۔

شمیم: ضرورت ہے آپ میرے لئے دُعا کریں۔

زیدی: نائیلہ آپ شمیم کیلئے دُعا کر یں۔

نائیلہ: خُداوند ، میں دُعا کرتی ہوںکہ تُو اُس کے ساتھیوں کی نگاہ میں عزت دے۔اور اُس کے الفاظ کو حکمت سے بھر دے۔ میں اُسکی سہیلی کے لئے بھی دُعا کر تی ہوں۔ کہ تُو اُسے احساس بخشے کہ تُو اُسے پیار کرتا ہے۔ اُس کے والدین کی کھوئی محبت کی کمی پوری کر۔ خُداوند، ہم جلد اُسے کلیسیائ میں اپنے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔ عیسیٰ مسیح کے نام میں۔ آمین۔

زیدی: آمین۔ کیاکوئی اور کُچھ کہنا چاہتا ہے؟

عادل: میں چاہتا ہوں۔

سبق نمبر52 صفحہ نمبر7

زیدی: جی عادل۔

عادل: کُچھ عرصہ پہلے، میںنے کام پرا یک ساتھی کے ساتھ گفتگو شروع کی۔ اور اُس کے خاندان کے لئے بھی جو اُس کی بیوی اور بیٹے پر مشتمل ہے۔ میں گھر پرکئی بار اُس سے مِلا۔ میں ایک دِن شمیم کو اپنے ساتھ لے گیا اور شمیم نے اُس کی بیوی سے مُلاقات کی۔ اور ہم نے کُچھ وقت دُعا میں گزارا اور اکھٹے ستائش کی جوبہت حیران کُن بات تھی۔

زیدی: خُدا کی تعریف ہو۔ نائیلہ اور میں جمیل بھائی ، فوزیہ کے خاوند سے بھی مِلے۔ وہ بہت گرمجوشی سے ہم سے مِلے اور انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فوزیہ کی زندگی میں تبدیلی دیکھی ہے اور ورہ بھی اُس کی طرح تبدیلی کے لئے بے چین تھا۔

شمیم: کلیسیائ کیلئے یہ خبر سب حیران کُن ہے۔

عادل: خُداوند سچ مچ ہمارے لئے عجیب کام کر رہا ہے ۔ خدا کی تعریف ہو۔ جِس طرح ہم بڑے جوش کے ساتھ چل رہے اور لوگوں سے خُداوند عیسیٰ مسیح کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ فلپیوں کے خط میں حضرت پولوس رسول کے الفاظ میرے ذہن میں آئے۔ "

اِسلئے خُدا نے بھی اُسے سب سے بلند مقام تک سرفراز کیا اوروہ نام دیا جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے۔ تاکہ عیسیٰ مسیح کے نام پر ہر گھٹنا جھکے خواہ آسمانیوںکا ہو خواہ زمینوںکا۔ یا زمین کے نیچے اور ہر زبان اقرار کرے کہ عیسیٰ مسیح خُداوند ہے "۔ میں نے محسوس کیا کہ عیسیٰ مسیح کو جاننے کا سب لوگوں کا یہی وقت ہے۔

نائیلہ: اور کل میں نے بہت قوموں کو عسییٰ مسیح کے پاس آنے اور عیسیٰ مسیح کے قدمو ں پرجھکنے کی رویا دیکھی۔ وہ بلند آواز سے نعرہ لگا رہے تھے کہ خُداوند خُدا ہے ، خُداوند خُدا ہے۔

زیدی: نائیلہ، میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ محض آپ کاخواب یا تصور نہیں ہے رویا سچی ہے۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیںگے اور کانوں سے سُنیںگے۔ کہ سب قومیں خُداوند عیسیٰ مسیح کے آگے جھکیں گی ، ہر زبان اُس کا اقرار کرے گی۔ کہ عیسیٰ مسیح خُدا ہے۔

شمیم: میں بیتاب ہوں کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ خوشی کے نعرے لگائیں گے کہ خُداو ند عیسیٰ مسیح خُدا ہے۔

زیدی: آمین۔ آئیں پوری طاقت سے تین بار یہ نعرہ لگائیں۔

تمام: خُداوند یسوع مسیح خُداہے۔ خداوند یسوع مسیح خُدا ہے۔ خُداوندیسوع مسیح خُدا ہے۔

زیدی: میں چاہتا ہوں کہ لوگ ہر جگہ اپنے پڑوسیوں کی طرف چلنا شروع کریں ، اپنے دوستوں کی طرف ، اپنے رشتے داروںکی طرف، اور خاندانوں کی طرف ۔ ہر شخص زمین پر خُداوند کی بادشاہت پھیلانے میںحصہ لے۔ اور کہ ہزاروں اور لاکھوں انسان خُداوند عیسیٰ مسیح کو جانیں۔ ہر کوئی یسوع کے نام کو پھیلانے میں حصہ لے۔

پروین: ایک سال ہم آپ کے ساتھ رہے ہیں۔

سبق نمبر52 صفحہ نمبر8

زیدی: باون ہفتے۔

نائیلہ: ہم نے گیت گایا۔

عادل: ہم نے حصہ لیا۔

نگہت: ہم نے دُعا کی۔

ناصر: ہم نے سیکھا۔

ندیم: ہم ساری محبت میں آپ کے ساتھ تھے۔ ہم چاہتے تھے کہ کلیسیائ کی تعریف آپ تک پہنچے۔یعنی کلیسائ کیا ہوتی ہے۔

زیدی: میرے گھر میں کلیسیائ صرف ایک نئے پروگرام کے خیال سے نہیں بلکہ یہ ایک سچی زندگی ہے ۔ جو سچ مچ دنیا کے گرد بہت سے لوگ گزارتے ہیں۔

نائیلہ: جی ہاں،ہر بار ہم نے ایک موضوع یا تعریف یا حصہ داری کی بات پیش کی جو ہماری حقیقی زندگی سے تھی۔

ندیم: بہت سی گواہیاں حقیقت میں ظہور پذیر ہوئیں جب ہم پروگرام ریکارڈ کر رہے تھے۔ اِس نے کلیسیائی زندگی کی تصدیق کی۔

شمیم: ایک بار مُجھے یاد آیا۔ میںبیمار تھی اور سخت زکام تھا۔ اور ریکارڈنگ کے دوران ٹیم کے ممبران یا کلیسیائ کے ممبران نے ریڈیو پروگرام پر بالکل آپ کے سامنے میرے لئے دُعا کی اور میں سچ مچ شفائ پا گئی۔

﴿موسیقی﴾

ندیم: ہم آپ سے دور نہ تھے۔

پروین: ہم ہر سننے والے کی بیقراری کو کہ اُس کے اپنے گھر میں کلیسیائ ہو ، محسوس کر رہے تھے۔

زیدی: شروع میں، ہر شخص خیال کرتا تھا کہ گھر میں کلیسیائ ہونا بڑا مشکل ہے۔

اکبر: لیکن جنہوںنے اِس تجربے سے گزرنے کا فیصلہ کیا اُنہوںنے خُداوند کے ساتھ اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ حیران کُن زندگی کا لطف اُٹھایا۔ ﴿موسیقی﴾

ندیم: یہ خیال شروع میں عجیب تھا۔ گھرمیںکلیسیائ کے کیا معنی ہیں۔ اِسے سمجھنے میںہمیں مشکل معلوم ہوئی۔

پروین: پس ہم نے اپنی آنکھیں خُداوند کی طرف اُٹھائیں اور ہم نے اُسے پکارا۔

زیدی: اُس نے ہمیں سمبھ دی کہ کلیسائ ایمانداروں کا گروہ ہے جو کسی جگہ عیسیٰ مسیح کے نام میںجمع ہوتے ہیں۔ اور خُدا نے کلیسیائ کو برکت دی ۔

ندیم: کلیسیائوں کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے خداوند کو جانا۔ کئی گھرانے خداوند کے پاس آئے۔ بہت سے لوگوں کو خُداوند عیسیٰ مسیح کے سبق نمبر52 صفحہ نمبر9

ساتھ ابدی زندگی کی ضمانت مِلی۔

پروین: دنیا میں ہر کہیں بہت سی قوموں میں، ہزاروں، لاکھوں بلکہ کڑوڑوں کلیسیائیں ہیں اور گھروں میںہیں۔

نائیلہ: بہت سے لوگ خدا کے جلال کی سربلندی کے لئے ہر روز جمع ہوتے ہیں اور اُس کی بادشاہت کو بڑھاتے ہیں۔ ﴿موسیقی﴾

پروین: آپ بھی اِن میں شامل ہیں۔

ندیم: عزیز سامعین!کیا آپ آج سے شروع کرتے ہوئے اپنے گھر میں کلیسیائ قائم کر سکتے ہیں۔

نائیلہ: اپنے دوستوں کو اکٹھا کریں اور اپنے گھر میں کلیسیائ بنانے کے لئے فیصلہ کریں۔

شمیم: میرا یقین کریں۔ اِس سے آپ کو بڑا لطف آئے گا۔

ناصر: اور خُداوند آپ کو بڑھائے گا اور برکت دے گا۔

زیدی: کِسی بھی رکاوٹ کو جو آپ کے سامنے آئے دُعا سے مقابلہ کریں۔

نگہت: اور بھروسہ کریں کہ خُدا آپ کو فتح دے گا۔

ندیم: شروع کریں۔ اور آپ اپنی آنکھوں سے ساری قوموں کو خُداوند کے پاس آتا دیکھیں گے۔

تمام: آمین۔